Archive for اپریل, 2005

یوم مئی

Posted on 28/04/2005. Filed under: پاکستان, شعروادب | ٹيگز:, , |

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

 

اٹھو زمین سے اے راندگان خاک، اٹھو
خدا نے سر جو دیئے ہیں، انہیں اٹھا کے اٹھو
تمام سجدے بشر پر حرام ہوتے ہیں
( بس ایک سجدہ ہے جائز جو ” اس” کو زیبا ہے)
اٹھو زمیں سے اے کشتگان درد کہ اب
وہ بے کسی کے زمانے تمام ہوتے ہیں !

یہ بے بسی کے وظیفے ۔۔۔۔ یہ عاجزی کے درد
ازل سے آج تک کس کے کام آئے ہیں !
حقوق گرتے نہیں کاسئہ گدائی میں
کبھی نہ بھیک کے ٹکڑوں پہ نام آۓ ہیں
اٹھو زمیں سے، اٹھاؤ سروں کو، دیکھو تو
تمھارے واسطے کیا کیا پیام آۓ ہیں !

 

بھلے دنوں کی توقع میں، جاگتی آنکھیں
بکھر گئیں اس مٹی میں انتظار کے بعد
جو خواب دیکھے ہیں صدیوں تمھارے آبا نے
جو تم بھی دیکھتے جاؤ گے رات دن، یوں ہی
تمھیں بھی خواب ہی واپس ملیں گے اور وہ بھی
بڑی اذیت و ذلت بہت پکار کے بعد !

 

سو اب جو دیکھو تو زندہ حقیقتیں دیکھو
کہ جن کے ساۓ میں تم کو حیات کرنی ہے
گزارنے ہیں یہی پر تمام آۓ دن
یہی تمھارے عزیزوں نے رات کرنی ہے
ہے سر حرمت آدم، زباں کی آزادی
کرو اے بخت گزیدو، جو بات کرنی ہے

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اور بھی غم ہیں زمانے میں

Posted on 19/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اتنا ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں کہ اب خود کو سمیٹنا مشکل ہو گیا ہے جی چاہتا ہے اس دنیا سے کہیں دور چلے جائیں جہاں سکون ہو، جہاں امن کی فاختائیں بولتی ہوں، جہاں لمحے سرگوشیاں کرتے ہوں، جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں، جہاں کسی زنداں کا خوف نہ ہو، جہاں ماتم نہ ہوتے ہوں، جہاں دل نہ روتے ہوں، جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں ہم ہوں صرف ہم ۔۔۔۔۔۔ ! مگر جب خواب آگیں تصورات ٹوٹتے ہیں تو ہم بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ آنکھیں خون اگلنے لگتی ہیں، دل سے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیسی راتیں ہیں کہ نہ نیند اپنی نہ خواب اپنےکوئی چیز بھی تو ہماری اپنی نہیں، سہارے ہیں تو قدم قدم پر گرنے لگتے ہیں اور یہ کیسے اپنے ہیں کہ ہر طرف تنہائیوں کے میلے ہیں ہم خود کو ایک حصار میں قید محسوس کرتے ہیں لوگ حوصلہ دیتے ہیں ہمدردی کرتے ہیں کہتےہیں کہ ہر رات کی سویر ہے لیکن کون انہیں سمجھائے کہ جن کی راتیں ہی اپنی نہ ان کی بھی کبھی سویر آتی ہے۔
یہاں تو جیون روگ ہے، پچھتاؤں کا کھلا سمندر ہے زندہ انسان زندگی کو ترستا ہے نہ جینا اپنا نہ مرنا اپنا کوئی چیز بھی تو اپنے بس میں نہیں، بے بسی اور بے حسی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تم اتنا بتاؤ کہ جنہیں خود سے پیار ہوتا ہے وہ اگر ایک پل بھی خود سے نہ ملیں خود کو آئینے میں نہ دیکھیں تو کیا کیفیت ہوتی ہو گی ان کی ۔۔۔۔ ! اس سال کے ایک ایک مہینے، ایک ایک دن، ایک ایک لمحے کو سوچو ذرا کہ جب ہم نے خود کو نہیں دیکھا خود سے نہیں ملے باوجود اس کے کہ ہمیں خود سے بے انتہا پیار ہےکیونکہ دنیا میں کوئی اپنے جیسا ملا ہی نہیں ” ہاں ” ایک تم میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ تم ہمارا آئینہ ہو، ایک تم ہی تو تھے جسے دیکھ کر ہم زندگی کی سانسیں لیتے تھے مگر جب سے تم روٹھ گئےتب سے ہمارا آئینہ بھی کہیں کھو گیا ” سنو ” جو تم نہیں نا! تو یہ نا سمجھنا کہ کوئی ہمارا نہیں سب کچھ ہمارا ہے مگر صرف تم نہیں ہو۔ اب ہمیں تمھاری ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ فضائیں ہماری ہیں یہ کائنات ہماری ہے اور ہماری دولت جس سے ہمیں بے انتہا پیار ہے تنہائی ہے یہ سب ہمارے دوست ہیں جو کبھی ہم سے بےوفائی نہیں کرتے ہم نے اب جان لیا ہے کہ

اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

تو اتنا بتائیں تم کو کہ اب ہمیں تمھاری محبت کا غم نہیں رہا کتنے دکھ ہمارے معاشرے میں جن پر ہم روتے ہیں کڑھتے رہتے ہیں ان پر، یہاں بھائی بھائی کا دشمن ہے، انسان انسان کی پہچان سے انکاری ہے۔

اگر نقاب الٹ دوں تمام چہروں سے
تو میرے شہر کا اک شخص بھی شریف نہیں

یہاں عزتوں کے لٹیرے ہیں، یہاں چور ڈاکو اور دہشت گرد ہیں، یہاں دھماکے ہوتے ہیں اور پل بھر میں بے گناہ لوگ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، یہاں ہارس ٹریڈنگ ہے، یہاں کرپشن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ ثبوت نہیں ملتے، اب بھلا آنکھوں کے اندھوں کو کیا دکھتا ہے دس ہزار تنخواہ لینے والا ایک آفیسر پچاس لاکھ کی کوٹھی میں رہتا ہے اس کے متعلق اور کس قسم کے ثبوت چائییں کیا یہ ثبوت کافی نہیں لیکن کیا کریں کنویں میں بھنگ پڑی ہے حمام میں سبھی تو ننگے ہیں پھر کون کس کو پکڑے گا۔
یہاں سیاستدان ہیں جو راہنما کم راہزن زیادہ ہیں جو وطن عزیز کا نہیں اپنا مفاد سامنے رکھتے ہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے کروڑوں کی جائدادیں بناتے ہیں اور عیاشی کرتے ہیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، کروڑوں روپے شاہانہ خرچ کرنے والے ان سیاستدانوں کے اگر گوشوارے چیک کریں جو یہ الیکشن کے موقع پر جمع کراتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ سب کے سب بھیک منگے ہیں، سب ہی زکواة کے مستحق ہیں لیکن رہتے عالیشان بنگلوں میں اور گھومتے قیمتی گاڑیوں میں ہیں۔
یہاں فرعون نما جاگیردار ہیں جو کسی خدائی فوجدار کی طرح جاگیر میں اپنا حکم چلاتے ہیں جو غریب کسانوں اور ہاریوں کی جان و مال اور عزتوں کے لٹیرے ہیں۔ یہاں سرمایہ دار ہیں جو غریب کارکنوں کا پیٹ چاک کر کے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ یہاں جوکر نما جعلی پیراور ملاں ہیں جن کی گذربسر عرسوں کی آمدنی اور تعویزگنڈوں پر ہے، بے عملی، جہالت، بدعت ان کا خاصہ، علم و عمل سے بے بہرہ کفر کے فتوؤں پر مہر ثبت کرتے رہنا ان کا کام ہے۔ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر لڑانا ان کا دھرم ہے۔ یہاں قصائی نما ڈاکٹر ہیں جن کو کسی کی غربت، درد، تکلیف اور اذیت کا کوئی احساس نہیں ہوتا انہیں صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا ہے ان کی بلا سے کوئی جئے یا مرے ان کے پانچ سو کھرے! غرض کہاں تک سناؤں ظلم کے یہ فسانے یہاں تو ظلم ہی ظلم ہے، یہاں ایمان بکتے ہیں ضمیر خاموش ہیں، یہاں بےبسی اور بےحسی کی لمبی داستانیں ہیں، یہاں انسان کی قیمت ہی کیا ہے صرف چند کھوٹے سکے۔
یہاں کشمیر ہے جہاں راہ چلتی خواتین، دھول سے اٹی ہوئی ڈارھی والے بزرگوں، سکول جاتے بچوں اور دودھ پیتے نونہالوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو سرعام برہنہ کردیا جاتا ہے اور پھر شیطان کی خوشی میں ڈوبی خوفناک چیخیں سنائی دیتی ہیں اس کے بعد صرف ماتم کرتی آہیں اور سسکیاں رہ جاتی ہیں۔
یہاں فلسطین ہے، یہاں عراق ہے، یہاں افغانستان ہے جہاں ظلم و بربریت کی نئی تاریخیں رقم ہو رہی ہیں اور بھی بہت سے دکھ ہیں جو ہمیں آزردہ کر دیتے ہیں ” پر ” اتنا تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تعصب ہمارا اپنا پھلایا ہوا ہے ہم خود مسلمان ہی بکھر کر رہ گئے ہیں، ہم میں اخلاق اور رواداری نہیں رہی، ہم علاقائی مسئلوں پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں، ہم مذہبی بنیادوں پر جگھڑتے رہتے ہیں ہم آج بھی پہلے پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ یا مہاجر ہیں اور بعد میں پاکستانی، ایک سویا ہوا پاکستانی !
ہم قرآن کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر شیطانیت کے راستے پر چل پڑے، عریانی و فحاشی کو ہم نے ثقافت اور روشن خیالی کا حسین نام دے کر اپنا لیا، بے حیائی کو ترقی کا زینہ بنا لیا، اس کے باوجود ہم مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ حق بات تو یہ کہ ہم اپنے سچے مذہب سے دور ہو گئے اسی لئے آج ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ دنیا میں ہم ایک عرب سے زائد مسلمان ہیں لیکن ہیں ان ریت کے ذروں کی طرح جن کو تیز ہوا کسی بھی لمحے اٹھا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے

Posted on 12/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

بڑا افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ آج ہماری نوجوان نسل کہاں جا رہی ہے آخر انہیں یہ راہ دکھانے والا کون ہے,اس کے کیا اسباب ہیں کہ نوجوان مشرقی روایات کو چھوڑ کر مغربی رسم و رواج اپنا رہے ہیں۔ آج ہمارے نوجوان ایسے لوگوں کو اپنے ہیروزاور آئیڈیل مانتے ہیں جن کے نام بھی ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں لینا باعث شرم ہے، حالانکہ ان کے سامنے خالدبن ولید، طارق بن زیاد، محمدبن قاسم اور غازی علم الدین شہید جیسے عظیم ہیروز موجود ہیں جن کے نقش قدم پر چل کر وہ اقبال کے شاہین بن سکتے ہیں، لیکن وہ تو آوارہ گردیوں میں مشغول ہیں۔ اپنی آوارہ گردیوں سے باہر نکل کر سوچئے کہ آپ کے ملک کو آپ کی کتنی ضرورت ہے، ایک ایسا ملک جن کے دشمن ہر وقت اسے نیست و نابود کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔
غلط حرکتیں کرتے ہوئے، کسی کا دل دکھاتے ہوئے، کسی کا مال کھاتے ہوئے، کسی کو لوٹتے ہوئے، کسی بیگناہ کو ابدی نیند سلاتے ہوئے کبھی آپ نے سوچا، اپنے بارے میں، اپنے والدین کے بارے، اپنے ملک کے بارے جس کی باگ دوڑ کل آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ آپ پر جو ذمہ داریاں ہیں جو آپ کے فرائض ہیں کبھی ان کے بارے میں سوچاہے۔ کبھی اپنے ذاتی مستقبل کے بارے میں سوچا ہے کہ آپ کیا ہیں، کیا کریں گے آگے چل کر؟ کیا ساری زندگی یونہی آوارگیوں میں گذار دیں گے۔؟ کبھی اپنےگریباں میں جھانک کر دیکھا ہے کہ آپ کتنا بڑا دھوکہ دے رہے ہیں اپنے آپکو، اپنے والدین کو، اپنے ملک و قوم کو جو آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔
کسی غریب کا مال کھاتے ہوئے کبھی سوچا کہ ادائیگی کئے بغیر آپ لوگ کتنا بڑا ستم ڈھا رہے ہیں اس کےچھوٹے چھوٹے معصول بچے بھوکے سوئیں گے۔ کسی راہ چلتی لڑکی کو چھیڑتے ہوئے یا سرعام محبت نامہ دیتے ہوئے کبھی دل کانپا؟ کبھی سوچا کہ اس کی جگہ اگر آپ کی بہن ہوتی تو کیا گزرتا آپ پر؟ لوگ اس کے کردار پر کیچڑ اچھالتے تب آپ کو کیسا لگتا؟ باتیں تلخ ضرور ہیں لیکن ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں کہ اس لڑکی کے احساسات کیا ہوں گے جب اسے راہ چلتے سب کے سامنے چھیڑا جائے یا بھرے بازار میں اسے واہیات قسم کا لیٹر دیا جائے، کبھی غور کیا کہ اس شریف لڑکی کا کردار کتنے لوگوں کی نظروں میں مشکوک ہو گا کتنی انگلیاں اٹھیں گی اس پر۔؟ خدارا ۔۔۔ گمراہی کے اندھیروں سےباہر نکل کر اپنے بارے میں سوچیں۔ آپ لوگوں کو احساس نہیں کہ آپ کتنے قیمتی ہیں اپنے لئے، اپنے گھر والوں کے لئے، اپنے ملک و قوم کے لئے۔ سوچئے کہ ہمارا ملک ترقی کی راہ میں پہلے ہی بہت پیچھے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی راہ سے بھٹک گئے ہیں ہمیں حقوق تو یاد ہیں فرائض بھول گئے ہیں، اب بھی وقت ہے بچائیے اپنے آپ کو، اپنے گھر کو، اپنے ملک کو، ان لوفرانہ حرکتوں میں، آوارگیوں میں اپنی ذہانتیں اپنی طاقتیں ضائع نہ کریں، یوں بس اسٹاپ پر یا راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑ کر ان کو تنگ مت کریں بلکہ ان کے محافظ بن جائیں کیونکہ ہمیں آپ لوگوں کو روپ میں لڑکیوں کے پیچھے بھاگنے اور وقت کا ضیاع کرنے والے ہیروز نہیں چاہئیں بلکہ ہمیں قومی ہیروز چاہئیں۔ ہمارے لئے صرف ایک قدیر خان کافی نہیں ہمیں ترقی کے لئے اپنے ملک کی بقا کے لئے ہزاروں کی تعداد میں قدیر خان چاہئیں جن کی ذہانتیں ہمیں اور ہمارے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بہترین مفاد میں

Posted on 04/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

فرض کریں آپ ایک کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں، آپ کے مقابلے میں ایک اور ادارہ بھی ہے،کاروباری مخالفت کے باعث آپ اس کے مالک کو اچھا نہیں سمجھتے
اسے کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا اور وطن دشمن قرار دیتے ہیں اس کی پراڈکٹ کو آپ ناقص اور گھٹیا تصور کرتے ہیں
وہ بھی آپ کو بے ایمان ، چور اور وطن دشمن تصور کرتا ہے ، اور آپ کی پراکٹ کو انتہائی غیر معیاری قرار دیتا ہے، کچھ عرصہ یونہی گزرتا ہے اسی دوران ایک مٹی نیشنل کمپنی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے لگتی ہے جس کی وجہ سے آپ اور آپ کے مخالف کا کاروبار انتہائی متاثر ہوتا ہے ، آرڈر کی شرح میں واضع کمی نوٹ کی گئی ، بزنس دن بہ دن نقصان میں جا رہا ہے ، آپ اپنے کاروبار کو پھر سے پہلی جگہ پر دیکھنا چاہتے ہیں
آپ کسی بھی طرح ملٹی نیشنل کمپنی کو ناک آوٹ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئیے آپ کسی اچھے اور قابل عمل فارمولا کی تلاش میں ہیں ، اسی دوران آپ کے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ کیوں نا ہم دونوں مخالف ایک ہو جائیں، آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کے لیئے یہی بات سود مند ہے
آپ کے دل میں یہ خواہش مچل اٹھتی ہے کہ ” کاش ” ہم دونوں ایک ہو جائیں تو ہی ملٹی نیشنل کمپنی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے کیونکہ دونوں ضرورت مند ہوتے ہیں کسی تقریب میں گلے ملتے ہیں تو سارے گلے شکوے جاتے رہتے ہیں، آپ اسے کہتے ہیں کہ ” مقابلے کے اس دور میں ہمارا ایک ہو جانا ہی بہتر ہے ” اس پر وہ بھی کہتا ہے کہ ”میری دلی خواہش بھی یہی کہ کاروبار کے بہترین مفاد میں ہمارا ایک ہونا ہی بہتر ہے ” پھر اگلے ہی دن وہی کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا ، وطن دشمن اور گھٹیا پراڈکٹ فروخت کرنے والی کمپنی کا مالک آپ کے پہلو میں بطور حصہ دار بیٹھا ہوتا ہے
کسی بھی جگہ کسی بھی کاروبار میں ایک آدھ مرتبہ کسی کے ساتھ اس واقع کا ہیش آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ بعض صورتوں میں انسان کی انائیں چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں کو رائی کا پہاڑ بنا دیتی ہیں ایسی صورت میں جب غلط فہمیوں کے بادل چھٹتے ہیں تو انسان ایک دوسرے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں ، تعلقات اور رشتے اگر خلوص کی بنا، پر قائم ہوں تو پھر وہ تعلقات اور رشتے انتہائی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں اور اگر مفاد پر قائم ہوں چند دنوں بعد ہی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ آپ اسے بار پھر کرپٹ اور جھوٹا قرار دے کر اس سے علیحدہ ہو جائیں گے
کچھ عرصہ گزرنے ےک بعد گلے ملنے پر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہوجائیں پھر علیحدہ ہو جائیں اور پھر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہو جائیں، ادھر آپ کا کاروباری مخالف بھی بخوشی کاروبار کے بہترین مفاد کی خاطر آپ سے مل بیٹھے گا، ایسے تعلقات کو کسی بھی صورت میں پر خلوص تعلقات نہیں کہا جا سکتا
یہ صرف مفادات کے تعلقات ہونگے اور مفادات بھی ایسے جو انتہائی گھٹیا ہونگے
ہماری پاکستانی سیاست بھی کچھ ایسے ہی مفادات سے وابستہ ہے ، میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جو کل تک ایک دوسرے کو غدار ، کرپٹ، بے ایمان اور وطن دشمن کہتے اور سمجھتے تھے اور ایک دوسرے سے ملنا تو دور کی بات ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گناہ عظیم سمجھتے تھے آج جدہ میں ملک کے بہترین مفاد میں اکٹھا ہو گئے ہیں ، بھائی بہن کا رشتہ قائم ہوا تو سارے گلے شکوے بھی جاتے رہے ، ان کے نئے تعلقات نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے لیکن ،، قارئین کرام مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کی انائیں اور ضمیر آخر کس چیز کے بنے ہوئے ہیں ؟ وہ کونسی انائیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں وہ کون سے زریں اور بہترین اصول ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور الزامات لگاتے ہیں
لیکن جب کسی بہترین مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سینکڑوں بازو ان کی گردنوں میں حائل ہونے کےلئیے بے تاب ہوتے ہیں اور اس سارے تماشے کے باوجود ان کے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دماغوں پر کوئی خراش آتی ہے

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

کالی وردی کالا دل

Posted on 04/04/2005. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , |

وزیراعظم محترمہ بینظیر صاحبہ ۔۔۔ آپ ہمیشہ سسٹم بچانے کی بات کرتی ہیں اگر یہی آپ کا سسٹم ہے، اگر یہی آپ کا نظام ہے تو ایسا نظام ایسا سسٹم نہ ہی بچے تو اچھا ایسے سسٹم کو ہم بچانا بھی نہیں چاہتے جس میں پولیس کو اتنا ہینڈ فری دے دیا جائے کہ وہ ایک بے لگام گھوڑے کی طرح کسی کے قابو میں نہ آئے اور کسی مست سانڈ کی طرح جس طرف بھی قدم اٹھ جائیں رونڈھتا ہوا چلا جائے۔
٢٨ ستمبر کی اشاعت میں روزنامہ نوائے وقت نے پولیس مقابلوں کے بارے میں ایک تجزیہ پیش کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مقامی پولیس نے ٩٦ء کے دوران ٥٠ سے زائد افراد کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کر دیا ان پولیس مقابلوں میں ١٣ سال کے بچے سے لیکر ٣٥ سال کے ادھیڑ عمر افراد شامل ہیں۔ دو واقعات میں لواحقین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان سے رشوت طلب کی مطالبہ پورا نہ ہونے پر ان کے پیاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ متعدد مرنیوالوں کے ورثاء نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ذاتی رنجش پر انہیں موت کی اندھیری وادیوں میں بھیج دیا۔ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے بے شمار نوجوانوں کو پولیس مقابلے سے کئی روز پہلے پکڑ لیا گیا تھا لیکن ان کی باضابطہ گرفتاری نہیں ڈالی گئی اور بعد میں انہیں موت کے حوالے کر دیا۔ بےشمار افراد کو پولیس پہلے گرفتار کر چکی تھی لیکن پھر یہ ڈرامہ رچا دیا گیا کہ وہ ہتھکریاں توڑ کر فرار ہو گئے اور کچھ دنوں بعد انہیں پولیس مقابلوں میں پار کر دیا گیا۔ غور کریں محترمہ ۔۔۔۔ یہ کیسا ملک ہے، یہ کیسا نظام ہے، یہ کیسا سسٹم ہے جس میں قانون کے محافظ ہی قانون کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔
محترمہ ۔۔۔۔۔ اگر سسٹم بچانا ہی تھا تو اس وقت بچایا جا سکتا تھا جب اس سسٹم کے تحت پہلی گولی چلی، جب پہلا پولیس مقابلہ ہوا، جب پہلا آدمی پولیس مقابلے میں پار ہوا تو اس وقت ان کا ہاتھ روک کر سسٹم بچایا جا سکتا تھا۔ اگر اس وقت ان کا ہاتھ روک لیا جاتا تو اس وقت ان پولیس مقابلوں کی تعداد ٥٠ نہ ہوتی لیکن اس وقت آپ نے ان کا ہاتھ نہیں روکا، آپ نے کوشش ہی نہیں کی، اور پھر ان پولیس مقابلوں میں جب کسی کا پہلا بھائی مرا، کسی کا بیٹا پار ہوا اور ان کی چیخیں میڈیا کے ذریعے بلند ہوئیں تو اس وقت ان کی آواز پر کوئی کان دھرتا، کوئی توجہ دیتا اور ان پولیس مقابلوں کو رولنے کی کوشش کرتا تو بھی یہ سسٹم بچ سکتا تھا لیکن ان کی چیخیں، صدائیں اور التجائیں دھری کی دھری رہ گئیں کسی نے ان پر توجہ نہیں۔ اس کے برعکس آپ نے ان پولیس مقابلوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہیں بہادر جوان کا لقب دیا، انہیں میڈل،تمغے اور انعامات دئیے۔
محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا سچ کہا گیا ہے کہ جب کوئی اس تکلیف سے گزرتا ہے جس تکلیف سے کوئی دوسرا گزرا ہو تو پھر ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ کتنا درد ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ غور کریں کتنی اذیت ناک گھڑیاں ہوتی ہوں گی جب کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا پولیس مقابلے میں مارا جائے اسے کسی عدالت نے سزا دی ہو، نہ مدعی ہوں نہ گواہ نہ ثبوت۔
محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ تو اس کیفیت سے گزر رہی ہیں، آپ ان دردناک گھڑیوں کو خوب جانتی ہوں گی، کاش محترمہ ۔۔۔ جب پہلی گولی چلی تو اس وقت آپ کوشش کرتی، اس وقت سسٹم بچالیتی تو آج یہ اذیت ناک لمحے نہ ہوتے۔
محترمہ ۔۔۔ نکتہ اعتراض صرف یہ ہے کہ ان کالی وردی والوں کو جن کے دل بھی ان کی وردی کی طرح کالے ہو چکے ہیں کس نے اختیار دیا ہے، کون سا ایسا سسٹم ہے جس کے تحت یہ جب چاہیں جسے چاہیں اندر کر دیں، ننگا کت کے جسم کے نازک حصوں پر تشدد کریں اور اگر زیادہ گڑبر ہو تو پولیس مقابلے میں پار کر دیں۔ پولیس تو کسی بھی مہذب معاشرے میں امن وامان کی ضامن ہوتی ہے، لیکن جب رکھوالے ہی لیٹرے بن جائیں تو ایسے معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اب بھی وقت ہے آپ پولیس کا ہاتھ روک لیں ان سے ایسے اختیارات چھین لیں جس کے تحت وہ جب چاہیں خدائی فوجدار کی طرح کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے بچا لیں اس سسٹم کو، ایسا نہ ہو کہ کل کوئی اور پولیس مقابلہ ہو اور اس میں ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ شاید کوئی اور ہی پار ہو جائے۔

کافی عرصہ پہلے کی لکھی یہ تحریر میری فائل میں رکھی تھی سوچا اسے آپ کی نذر کر دوں، پڑھیے اور رائے دیجئیے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عوام کے تابع نظام

Posted on 04/04/2005. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , |

محترم جناب صدر جنرل پرویز مشرف ! آپ نے جو نظام اس ملک کو دیا ہے آپ اس پر ہمیشہ اپنی ہر بات اور ہر تقریر میں فخر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ محترم صدر ! گستاخی معاف ، آپ نے کبھی اپنے اس نظام پر غور کیا ،کبھی عوام سے پوچھا کہ آپ کے اس نظام کے تحت ان کی عزت و آبرو،جان و مال کس حد تک محفوظ ہیں ؟ نہیں جناب آپ کوتو کچھ بھی معلوم نہیں، آپ کو بس سب اچھا ہے کی روپورٹ مل جاتی ہے۔خدارا آپ ذرا پریذیڈنٹ ہاؤس سے باہر نکل کر دیکھیں یہاں کسی کی بھی عزت و آبرو، جان ومال محفوظ نہیں۔ ہر طرف اندھیر نگری مچی ہوئی ہے، گھر سے باہر نکلو تو واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ انسان واپس گھر پہنچتا بھی ہے یا نہیں، اگر گھر میں بیٹھو تو بھی کچھ معلوم نہیں کہ کس وقت کوئی آفت کہاں سے ٹوٹ پڑے،امجد علی طاہر کے بھائی کا کیا قصور تھا وہ بیچارہ تو ہنسی خوشی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شادی کی تقریب سے واپس آ رہے تھےمگرظالموں نے انہیں گھر تک پہنچنے کی مہلت بھی نہ دی، اس جیسی روزانہ سینکڑوں وارداتیں ہوتی ہیں، صرف ایف آئی آر درج ہوتی مگر کسی بھی واردات میں قاتل آج تک نہیں پکڑےگئے۔ یہ کیسا نظام ہےصدر محترم جو صرف قاتلوں کی پست پناہی کرتا ہے؟ ۔

عورت ہے تو اس کی عزت و آبرو کہیں بھی محفوظ نہیں، علاج کے نام پر مسیحا،انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر،حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بےآبرو کر دیتے ہیں، آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چار دیواری تک کہیں بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی آخر آپ کا یہ نظام کتنی مختیار مائیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔
محترم صدر! آپ اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت عوام کے لئے بھی نکال لیں، مگر آپ کے پاس ان فضولیات کے لئے وقت کہاں، آپ نے ابھی کالا باغ ڈیم کے بارے میں سوچنا ہے، بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا ہے اور سب سے بڑی بات کرکٹ میچ دیکھنے بھارت بھی جانا ہے آپ کے پاس ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے وقت کہاں، آپ بھی اگر ان معمولی کاموں میں لگ گئے تواتنے بڑے بڑے کام بھلا کون کرےگا۔ محترم صدر! اگر آپ کوئی بڑا کام کرنا ہی چاہتے ہیں، کوئی نظام دینا ہی چاہتے ہیں تو اس ملک کی عوام کے لئے صرف ایک معمولی سا کام کر دیں، اس ملک کے اداروں کو مضبوط کر دیں، انہیں عوام کے تابع کر دیں اگر آپ یہ کر دیں تو یہی آپ کا سب سے بڑا کام ہو گا، یہی سب سے بڑا نظام ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

خواجہ سلیمان تونسوی

Posted on 04/04/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , |

برصضیر پاک و ہند میں بارہویں صدی کے آخر میں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصضیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصضیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
ولادت و خاندان ۔
آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو “پیرپٹھان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبدالواہاب اور والدہ کا نام بی بی ذلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت ۔
آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لئے خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں) کے دست مبارک پر بعیت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔
قیام تونسہ ۔
مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ، 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بعیت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔
دینی خدمات ۔
تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علماء و صوفیاء فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈیڈھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علماء و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی ہیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدیں و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفا نے برصضیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجراء کیا لنگر خانے قائم کئے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میراں شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پورہ، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔
تونسہ شریف کی خانقاہ برصضیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علماء و صوفیاء اور روساء بھی شامل ہیں۔
علماء اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمدپوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحدوافغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علماء، صوفیاء اور شعراء نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، منقبتیں، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔
آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

ایک چھوٹا سا بلاگ

Posted on 04/04/2005. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

آج کا مہذب و متمدن ایک عجیب صورتحال سے دوچار ہے۔ اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی کوشش نے انسان کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔ زندگی تمام تر آسائشوں کے باوجود کرب مسلسل کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ نیکیوں کا ثمر تو دور تک نظر نہیں آتا لیکن کی فوری عاقبت راہ کی دیوار بنی ہوئی ہے۔ انسان اپنے علم، اپنے عمل، اپنے حالات، اپنی خواہشات، اپنی عادات غرضیکہ اپنے آپ سے نجات چاہتا ہے، اپنی گرفت سے آزادی چاہتا ہے۔ بےنام اندیشوں کی آندھیاں امیدوآگہی کے چراغوں کو بجھاتی جا رہی ہیں۔ آج کے انسان کی فکری صلاحتیں منتشر ہو کر رہ گئی ہیں۔ قائدین کی بہتات نے قیادت کا فقدان پیدا کر دیا ہے۔ وحدت آدم، جمیت التفریق بن کے رہ گئی ہے۔ کسی کو کسی پر اعتماد نہیں۔ انسان کو اپنے آپ پر اعتماد نہیں، مستقبل واضح نہ ہو تو حال اپنی تمام تر آسودگیوں کے باوجود بے معنی نظر آتا ہے۔ آج مسیحائی کا دعوٰی ایک وباء کی صورت اختیار کر چکا ہے جب ہر آدمی کے سر پر کتبہ گڑا ہوا ہے اور تعزیت کرنے والا اپنے آپ سے تعزیت کر رہا ہے۔ زندگی کے جائز ناجائز تقاضے اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ انسان بے بسی اور بیچارگی کے عالم میں اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ علم بڑھتا جا رہا ہے، پھیلتا جا رہا ہے، لائبریریاں کتابوں سے بھری جا رہی ہیں اور انسان کا دل سکون سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ آسائشوں کے حصول کا جنون آکاس بیل کی طرح انسان کی سوچ اور اس کے احساس کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ آج اگر سقراط دوبارہ پیدا ہو جائے تو اسے دوبارہ مرنا پرے گا۔ آج احساس مر چکا ہے۔ آج کی ٹریجدی یہ ہے کہ ٹریجدی مر چکی ہے اور اس پر ماتم کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں۔ یہ بات انسان کی سمجھ سے باہر ہے کہ زمین کے سفر میں آسمان کے احکام کیوں اور کس لئے ہیں؟ مشینوں نے انسان سے مروت چھین لی ہے، گناہوں نے دعائیں چھین لی ہیں، روشنی نے بینائی چھین لی ہے۔ ایسے عالم میں ایک چھوٹا سا بلاگ کیا دعوٰی کر سکتا ہے؟ لیکن مقام غور ہے کہ انسانوں کے اژدھام اور سیل بے پایاں کے باوجود ایک پیدا ہونے والا بچہ کتنے وثوق اور یقین سے تشریف لاتا ہے اس اعلان کے ساتھ کہ بہت کچھ ہو چکا ہے، لیکن ابھی اور بہت کچھ باقی ہے۔
رات کی تاریکی میں دور سے نظر آنا والا چراغ روشنی تو نہیں دے سکتا لیکن ایسی کیفیات مرتب کرتا ہے کہ مسافر مایوسی سے نکل کر امید تک آ پہنچتا ہے، اور امید سے یقین کی منزل دو قدم پر ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...