Archive for مئی, 2005

لاٹری

Posted on 13/05/2005. Filed under: رسم و رواج, طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

معلوم نہیں کون سے دشمنوں نے امریکا اور یورپ کے لاٹری والوں کو ہمارا ای میل ایڈریس دیدیا۔ وہاں سے ہر دوسرے تیسرے دن دو چار ای میل آ ہی جاتے ہیں جن میں ہمارے کروڑپتی بننے کی بشارت دی گئی ہوتی ہے ان کی میلز سے ایسا لگتا ہے کہ بس دو چار دنوں میں ہی ہم کروڑپتی بننے والے ہیں، ان میلز میں ہمیں اپنا مالی مشیر مقرر کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا، ان کے خیال میں اتنا مال سنبھالنا ۔۔۔ ہمارے بس کی بات نہیں، کاروں کے جدید ترین ماڈلوں کی تصاویر اور دنیا کے خوبصورت مناظر، ساحلوں کی نقشہ گری کچھ اس انداز میں کی جاتی کہ ہم خوابوں میں اپنے آپ کو محل خریدتے اور پجارو میں سفر کرتے نظر آتے ۔ اسی طرح کی ایک ای میل جو ہمیں تقریبا پانچ ماہ پہلے موصول ہوئی جس نے ہماری نیندیں حرام کر دیں، اس کا تعلق دو کروڑ نوے لاکھ کی لاٹری سے تھا اور اس میں کسی ورلڈ ریسرچ کمیٹی نے ڈیرہ غازیخان کے منیراحمدطاہر کو ضمانت مہیا کر دی تھی کہ وہ امریکن پاور لاٹری میں جس کی رقم دو کروڑ نوے لاکھ کو پہنچ چکی ہے جیتنے کا حقدار قرار دیتی ہے۔ میل میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ جیسا ہیرا موتی ہم نے ہفتوں کی محنت کے بعد دریافت کیا ہے۔ اس فہرست میں متعدد نام تھے مگر پھر یہ مختصر ہوتی گئی اور جب بلکل ہی مختصر ہو گئی تو اس میں آپ کا نام ہیرے کی طرح جگمگا رہا تھا۔ اس میں تحریر تھا کہ منیراحمدطاہر کو کمیٹی اب انعام کی دوڑ میں حصہ لینے کا حق دیتی ہے اور مندرجہ ذیل نمبر الاٹ کرتی ہے جن سے ایک کروڑ ڈالر تک کی جیت تو یقینی ہے بس منظوری فارم پر کر کے اتنے ڈالروں کے ساتھ ارسال کر دیں، یہ سب پڑھ کر ہماری قوت مدافعت جواب دے چکی تھی لیکن ہم اس دوڑ میں چھلانگ لگانے کے سلسلے میں تھوڑے متذبذب بھی تھے مگر میل میں فارم کے ساتھ اس مال و دولت سے کام لینے کے طریقے بھی درج تھے جو ہمیں ملنے والی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے اس دوڑ میں چھلانگ لگا دی اور میل کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ کوئی بیس پچیس دنوں بعد ایک میل موصول ہوئی جس میں تحریر تھا کہ کمیٹی کے پاس ہماری انعامی رقم جمع ہے جو مبلغ نوے امریکی سنیٹ کے برابر ہے۔ کمیٹی نے بڑی سخاوت سے کام لیتے ہوئے اس میں دس سنیٹ اپنی طرف سے شامل کر کے ہم سے پوچھا تھا کہ ایک ڈالر کی یہ رقم ہم تک کیسے پہنچائی جائے، ابھی ہم اس صدمے سے سنھبلنے بھی نہ پائے تھے کہ ان کا دوسرا میل موصول ہوا، یہ ایک دعوت نامے کی شکل میں تھا سب سے اوپر بڑے خوبصورت الفاظ میں لکھا تھا “ ہم ایک پارٹی کا اہتمام کر رہے ہیں۔آپ کو پہلے سے مدعو کرتے ہیں کہ آپ ہمارے گیسٹ آف آنر بنیئے“ نیچے کی تحریر کا ایک ایک لفظ پیار، محبت اور عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا اورکچھ یوں شروع ہوتا تھا“ پیارے منیراحمدطاہر! اس سال کروڑ پتیوں کے لئے ہماری کمیٹی میں مہمان خصوصی بننے کی منظوری دے کر ازرہ کرم ہماری عزت افزائی کریں۔ ہم ہر سال جیتنے والوں کے اعزاز میں اس قسم کی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں اور اس سال اس میں آپ کی موجودگی کے خواہاں ہیں۔ منیراحمدطاہر! 250 خصوصی قسم کے افراد کے اس بین الاقوامی اجتماع میں شامل ہو کر اپنی زندگی کے اہم ترین سال کا لطف اٹھائیے۔ منیراحمدطاہر اس تقریب کا دولہا ہو گا جہاں اسے بہت سے دلچسپ افراد سے ملنے کا موقعہ میسر آئیگا۔“ خیر ہم ایک بار دھوکہ کھا چکے تھے اب ہم نے ان کے چکموں سے محفوظ رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر اب تک قائم ہیں مگر ان کی ای میلز اب بھی برابر آ رہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے آسڑیلیا، ہالینڈ، فرانس اور اٹلی کی لاٹری کمپنیوں تک کو ہمارا ای میل غالبا فروخت کر دیا ہے جن کے ای میلز سے جان چھڑانا ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ ان سے بچنے کا کوئی راستہ کسی کے پاس ہو تو وہ مہربانی کر کے ہمیں ضرور اس سے آگاہ کرے۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...