Archive for جولائی, 2005

حضرت پیر عادل

Posted on 29/07/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

آپ کا اصل نام سید سلطان غیاث الدین تھا۔ آپ کی ولادت مشہد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مشہد سے حاصل کرنے کے بعد آپ بغداد تشریف لے گئے اور شرف الدین ابو اسحاق شامی کی بیعت کی اور ان سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اپنے مرشد کی ہدایت پر تبلیغ اسلام کے لئے رخے سفر باندھا اور اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان کا سفر کیا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے پہلا پڑاؤ حسن ابدال کے قریب کیا پھر آپ جمن شاہ تحصیل و ضلع لیہ میں وارد ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انہی ایام کے دوران آپ کے فرزند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ شکار کی غرض سے نکلے۔ تواریخ ڈیرہ غازیخان کے مصنف منشی حکیم چند اس واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ سید علی شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جنگل میں شکار کھیلنے گیا اس نے ایک چرواہے سے بکرا مانگا اس نے نہ دیا تو سید علی کے ملازموں نے جبراَ بکرے کو ذبح کر دیا۔ اسی دوران چرواہے نے سید علی پر وار کیا سید علی نے جوابی وار کے کے چرواہے کو مار ڈالا۔ چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر گئی۔ سید سلطان نے سید علی کو چرواہے کی والدہ کے سپرد کر دیا اور کہا کہ خون بہا لیکر سید علی کو چھوڑ دو کیونکہ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کو مارنے سے تیرا بیٹا زندہ نہیں ہو جائےگا لیکن وہ نہ مانی اور وارثان نے سید علی کو قتل کر دیا۔ اس وقت سے سید سلطان پیرعادل کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس واقعہ کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ سید علی شاہ دوستوں کے ہمراہ شکار کے لئے جنگل میں گئے اور شکار کھیلتے ہوئے ایک تیر غلطی سے چرواہے کو جا لگا جو جنگل میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا اور وہ چرواہا اس تیر کے لگنے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا- اس چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر آئی۔ آپ نے بہت افسوس کیا اور بڑھیا نہ مانی اور کہا کہ خون کا بدلہ خون ہونا چاہیے۔ سید سلطان نے اپنے اکلوتے لڑکے کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ حاحبزادہ خوف کے مارے ایک درخت کے کھوکھلے تنے چھپ گیا۔ سید سلطان تلاش کرتے ہوئے اس کے درخت کے قریب سے گزرے۔ ناگہاں قمیض کا ایک ٹکڑا درخت کے تنے سے باہر نظر آیا۔ سید سلطان نے لڑکے کو باہر نکال لیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو گڈریے کے خون بہا میں قتل کرا دیا۔
بیان کرتے ہیں کہ سید سلطان نے اپنے بیٹے کی لاش کو صندوق میں بند کیا اور جمن شاہ سے بھی رخت سفر باندھا اور قصبہ بدھان پور (بعض کتب میں بدھان پور کو برھان پور لکھا گیا ہے جو کہ صیحیح نہیں ہے) کے قریب پڑاؤ ڈالا اور سید علی شاہ کو دفن کیا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ اس علاقے کے سردار بدھان کو یہ بات ناگوار گزری جب حضرت پیرعادل نے بدھان کو قبول اسلام کی دعوت دی تو اس نے نہ صرف حق کو ٹھکرا دیا بلکہ آپ کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو گیا۔ بالآخر آپ کو بدھان سے جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس میں آپ کے تین بھائی شہید ہوئے تاہم بدھان کو شکست فاش ہوئی اور وہ جنگ میں مارا گیا۔ یہ علاقہ جو کبھی بہت سے خداؤں کے ماننے والوں کا گڑھ تھا آپ کی آمد کے بعد اسلام کا مرکز بن گیا۔
میرانی بلوچوں کی تاریخ کے مصنف ارشاد احمد خان عباسی تحریر کرتے ہیں کہ غازی خان دوئم کی یہ خواہش تھی کہ کسی مرشد کامل کی بیعت کی جائے، چنانچہ اس نے چاروں اطراف گھڑسوار روانہ کئے اور انہیں ہدایت کی کہ کسی کامل پیرطریقت کا کھوج لگائیں۔ غازی خان دوئم گھڑسواروں کے پیچھے ہاتھی سوار بھی روانہ کر دیئے اور انہیں حکم دیا کہ جس آستانہ ہر کوئی ہاتھی بیٹھ جائے اس کو فوری طور پر اطلاع دی جائے تاکہ وہ بیعت کے لئے وہاں حاضر ہو۔ بہرحال ایک ہاتھی آستانہ پیرعادل میں جاکر بیٹھ گیا غازی خان دوئم کو اس کی اطلاع دی گئی تو وہ اپنے چند ملازموں کے ہمراہ آستانہ پیرعادل آیا۔ جب غازی خان دوئم حضرت پیرعادل کے حجرے میں داخل ہوا اور سلام عرض کیا تو دفعتاَ حضرت پیرعادل کا ہاتھ مبارک لحد سے باہر نمودار ہوا اور غازی خان دوئم دست بیعت ہوا۔ بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد بہت عرصہ تک آپ اسی طرح ہاتھ مبارک لحد سے نکال کر لوگوں کو بیعت کرتے رہے۔ بالآخر حضرت سلطان سخی سرور نے آپ کے مزار پر حاضر ہر کر درخواست کی کہ آپ قبر مبارک سے ہاتھ باہر نکال کر بیعت کرنا ختم کریں اور پھر یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ آپ کی لحد مبارک میں وہ سوراخ اب تک موجود ہے جہاں سے آپ نے ہاتھ باہر نکالا تھا۔
آپ لاولد فوت ہوئے۔ آپ کا وصال ٤٦٥ھ میں ہوا جبکہ ایک روایت میں ٣٧٠ھ بھی آپ کے وصال کا سال بتایا جاتا ہے۔ آپ کا مزار مبارک ڈیرہ غازی خان کے شمال میں تقریباَ ١٥ میل کے فاصلے پر قصبہ پیرعادل میں مرجع خلائق ہے۔ نواب غازی خان دوئم نے حضرت پیرعادل کا بہت خوبصورت اور شاندار روضہ تعمیر کرایا اور اس کے ساتھ ہی آپ کے فرزندارجمند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ کا بھی پختہ مزار تعمیر کرایا۔
حضرت پیرعادل کے مزار کی تعمیر ٨١٥ھ ماہ رمضان کے آغاز میں شروع ہوئی اور ٨١٩ھ محرم الحرام میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ مزار کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اور دوسرا تعمیراتی سامان کہنہ ڈیرہ غازی خان چھاؤنی سے ہاتھیوں سے اٹھا کر لایا جاتا تھا۔ مقبرہ غازی خان اول اور مقبرہ پیرعادل فن تعمیر کے بہترین شاہکار ہیں اور ان کی طرز تعمیر بھی ایک جیسی ہے۔ نواب غازی خان دوئم کو اس کی وصیت کے مطابق دربار حضرت پیرعادل کے قریب دفن کیا گیا۔ یہ قبر آج بھی دربار کے جنوبی دروازے کے باہر موجود ہے اور قبرستان بھی موجود ہے جبکہ مزار کی مشرقی سمت ایک بڑا سا احاطہ ہے جس میں سیمنٹ کا فرش لگا ہوا ہے اور کچھ کچی قبریں بھی موجود ہیں۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عورت ۔ جفا پیشہ اور فتنہ گر

Posted on 19/07/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

کہتے ہیں، عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے۔
کہتے ہیں، فتنوں میں جب پہلا فتنہ وجود میں آیا تو اس کا سبب بھی ایک عورت ہی تھی۔
جب شیطان کو جنت سے نکالا گیا تو اس نے اپنی شیطانیت کی قسم کھائی کہ جن کی وجہ سے میں جنت سے نکلا ہوں انہیں بھی جنت میں نہیں رہنے دوں گا۔
یہ شیطان کا پہلا کیس بھی تھا، اور اس کی چالاکی، مکاری اور شیطانی چالوں کاامتحان بھی، اس نے اپنے شیطانی ذہن کو استعمال میں لاتے ہوئے ایک چال چلی، اس نے اپنی شیطانی چال کے لئے عورت (حوا) کا ہی انتخاب کیا وہ عورت کی کمزوری جانتا تھا اور سمجھتا تھا کہ اس کی یہ چال عورت (حوا) کی وجہ سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس نے اپنی چال کے تحت وہ دانہ گندم جسے کھانے سے حق تعالٰی نے منع کیا تھا حوا کو لا کر دیا اور اس سے خوب لگی لپٹی باتیں کیں اور حوا سے کہا “ یہ دانہ گندم تم خود بھی کھانا اور آدم کو بھی دینا “ جب آدم آیا تو حوا نے وہ دانہ گندم خود بھی کھایا اور آدم کو بھی دیا۔ یوں یہ فتنہ اپنی انجام کو پہنچا جس کے نتیجے میں آدم و حوا کو جنت سے نکال دیا گیا۔
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں دنیا میں جتنے بھی اونچ نیچ آئے جتنے بھی فتنے برپا ہوئے جتنی بھی سلطنتیں تباہ و برباد ہوئیں ان میں کسی نہ کسی حد تک عورت کا کردار لازماً رہا ہے تاریخ گواہ ہے کہ مسلم سلطنتوں پر جب بھی زوال آیا بہت سی وجوہ میں سے ایک اہم وجہ عورت ہی ہے کیونکہ جب تک مسلم حکمرانوں نے تلوار ہاتھ میں رکھی مجاہد بن کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے میں لگے رہے، سچے دل سے اسلام کی خدمت کرتے رہے، حلال و حرام میں تمیز کرتے رہے، شرک، بدعت، بےایمانی اور بے حیائی سے بچتے رہے کامیابی ان کا مقدر بنتی رہی، سلطنتیں پھیلتی گئییں لیکن اس کے برعکس جب مسلم حکمرانوں نے تلوار ایک طرف رکھ دی حلال کو چھوڑ کر حرام میں لگ گئے، شرک، بدعت، بےایمانی اور بے حیائی کو انہوں نے ترقی کا زینہ سمجھ لیا اور عیاشی میں ڈوب گئے، کینزوں کی صورت میں حسین و جمیل عورتیں جب ان کے ایک اشارے کی منتظر ہوں، جب ان کے حرموں میں قرآن کی بجائے گھنگروں کی جھنکار لگی، جب شراب و کباب کی محفلیں سجنے لگیں، جب جوانی کے الاؤ بھڑکنے لگے، جب ساغر و مینا کھٹکنے لگیں اور جب طبلے کی تھاپ پر اور سر کی لے پر جواں جسم تھرکنت لگے تو زوال ان سلطنتوں کا مقدر بن گیا اسی لئے کہا گیا ہے کہ عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے۔
عورت کا تو خود اپنا وجود ہی نہیں وہ تو مرد کے جسم کا حصہ ہے کیونکہ انسانیت کی ابتدا میں حق تعالٰی نے آدم کا ہی وجود بنایا لیکن جب حق تعالٰی نے آدم کو رنجیدہ دیکھا تو کہا کہ اس کا جوڑا ہونا چاہیے تاکہ یہ اکیلا ہو کر رنجیدہ اور غمگین نہ ہو سو حق تعالٰی نے آدم کی پسلی سے عورت کا وجود بنایا۔ عورت کو مرد کے برابر سمجھنے والے آزادی نسواں کے علمبردار اس بارے میں کیوں نہیں بولتے۔ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دلانے ان علمبرداروں کے مطابق عورت ذہین ہے (کوئی شک نہیں) وہ کسی بھی جگہ اور کہیں بھی مرد کی برابری کر سکتی ہے اگر مرد نے طیارہ چلایا تو عورت نے بھی چلا کر دیکھا دیا اگر مرد نے چاند پر قدم رکھا تو عورت نے بھی چاند پر پہنچ کر اپنی برتری ثابت کر دی عورت مرد کے مقابلے میں ہر کام کر سکتی ہے۔ بجا بلکل سہی کیونکہ یہاں مقصد ہی عورت کی عظمت ثابت کرنا ہے نہ کہ اس کی تذلیل اور نہ اسے کمتر ثابت کرنا یہاں مقصد صرف آزادی نسواں کے ان ٹھکیداروں کو بتانا مقصود ہے کہ خدارا عورت کو عورت ہی رہنے دیں اس کا تقدس پامال نہ کریں، اسے فنکارہ، طوائف، ماڈل گرل، فیشن گرل یا شوپیش نہ بنائیں اسے عورت ہی رہنے دیں اسے ایسے روپ اچھے ہی نہیں لگتے وہ تو صرف ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے روپ میں ہی اچھی لگتی ہے ۔
کہتے ہیں اگر کسی قوم کا مستقبل دیکھنا ہو تو اس قوم کی نوجوان نسل دیکھ لیں لیکن میں یہاں کہنا بجا سمجھتا ہوں کہ اگر کسی قوم کی نوجوان نسل کا مستقبل دیکھنا ہو تو اس قوم کی عورتیں دیکھ لیں کہ اس کی مائیں کتنی اعلٰی کردار کی مالک ہیں وہ کتنی دیندار اور پاکیزہ ہیں کیونکہ مان کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آزادی نسواں کے علمبردار عورت کو کیا بنانا چاہتے ہیں اسے کس راستے پر چلانا چاہتے ہیں لیکن جو بھی راستہ ہے انتہائی غلط ہے یہ راستہ ایک مسلمان اور دیندار عورت کا راستہ قطعی نہیں قرآن و حدیث میں دیندار عورتوں کو بلکل واضح کر کے کہا گیا ہے کہ “ اور دیندار عورتوں سے کہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں “ (النور) اس پر یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ “ عورت جب پنجگانہ نماز پڑھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو وہ جنت میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہو سکتی ہے“ (ابن حبان)

عورت – ایثار و محبت کا لازوال شاہکار

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...