Archive for اگست, 2005

ایک کام جسے دنیا کے ذہن انجام نہیں دے سکتے

Posted on 30/08/2005. Filed under: ٹیکنالوجی, پاکستان, سیاست |

گزرے پچاس برسوں میں سائنس نے بے انتہا ترقی کی ہے کمپیوٹر کو ہی لے لیں ایک چھوٹے سے ڈبے میں کائنات کو سمو کر رکھ دیا گیا ہے۔ رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے نکال دی، آپ انٹرنیٹ آن کرتے ہیں تو تمام کائنات آپ کی دسترس میں آ جاتی ہے۔ یہ سب بہت آسان دکھائی دیتا ہے مگر اس تک پہنچنے میں لاکھوں دماغوں کی محنت استعمال ہوئی ہے تب جا کر انسانی عقل کو خیرہ کرنے والے اس معجزے نے جنم لیا۔ آج کے جدید دور میں کچھ بھی نا ممکن نظر نہیں آتا لیکن ایک کام ایسا ہے جسے دنیا کے تمام ذہن مل کر بھی انجام نہیں دے سکتے۔
امریکہ کا مجسمہ آزادی، فرانس کا ایفل ٹاور یا تاج محل کو ہی لے لیں، یہ عمارتیں انسانی عقل کا شاہکار ہیں۔ انسان کا چاند پر قدم رکھنا، مصنوعی سیاروں کا بروقت پتا دینا، بلٹ ٹرینوں کی سینکڑوں فی گھنٹہ کی رفتار، ہزاروں میل دور چھپے دشمنوں کو میزائلوں سے تباہ کرنا، لیزر ٹیکنالوجی سے پیجیدہ امراض کا علاج، آسمان کا سینہ چیر کر اور سمندر کی چھاتی پھاڑ کر فاصلوں کو وقت کے تابع کر دینا کوئی معمولی کام نہیں ہیں۔ کائنات کو اپنی مٹھی میں بند کر لینے کے باوجود ایک کام ایسا ہے جسے دس آئن سٹائن مل کر بھی انجام نہیں دے سکتے۔
وہ مشکل ترین کام کون سا ہے ؟ ایک مزدور کی تنخواہ تین ہزار سے چار ہزار تک ہوتی ہے وہ مشکل ترین کام یہ ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ایجاد کرنے والا، امریکہ کا مجسمہ آزادی، فرانس کا ایفل ٹاور یا تاج محل کو حقیقت کا روپ دینے والے، وقت کو اپنی مٹھی میں بند کر دینے والے تمام ذہن، عجوبے تخلیق کرنے والے تمام سائنس دان مل کر بھی ان تین سے چار ہزار روپوں میں پانچ افراد پر مشتمل ایک گھرانے کا بجٹ نہیں بنا سکتے۔ تین سے چار ہزار میں ایک گھرانے کا بجٹ تیار کرنا سینکڑوں عجوبے تخلیق کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے لیکن اس کے باوجود لوگ ہیں کہ جئے جاتے ہیں۔ ایک طرف غربت کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف حکومتی ذہن اسے مزید بڑھاوا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ آئے روز پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سے مہنگائی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
عجیب سادہ لوح عوام ہیں خاموش رہ کر اپنے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہتے ہین نہیں جانتے جب روئے بغیر بچے کو دودھ نہیں ملتا تو عوام خاموش رہ کر خط غربت سے اوپر کیسے آ سکتے ہیں؟ شور مچے گا تو ہی وہ فارمولا ایجاد ہو گا جس سے تین سے چار ہزار میں ایک گھرانے کا بچٹ بنایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ خاموش رہ کر تکلیف برداشت کرتے ہیں یا شور مچا کر حکمرانوں کو اپنی تکلیف بتاتے ہیں۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سنہرا مستقبل

Posted on 30/08/2005. Filed under: ڈیرہ نامہ |

غازی خان کی دھرتی ڈیرہ غازی خان تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے مشہور رہی ہے، پندرہویں صدی عیسوی میں بلوچ قبائل نے اس دھرتی کو اپنا مستقر بنایا، ایک ممتاز بلوچی سردار میر حاجی خان میرانی نے اپنے لاڈلے بیٹے غازی خان کے نام پر، میں درائے سندھ کے مغربی کنارے پر ڈیرہ غازی خان کی بنیاد رکھی ،1887، میں غازی خان کا یہ ڈیرہ دریائے سندھ کے کٹاوُ کی لپیٹ میں آگیا اور اس وقت کے انگریز حاکموں نے موجودہ ڈیرہ غازی خان جو پرانے ڈیرہ سے تقریباّ 15 کلو میٹر دور مغرب میں واقع ہے بنیاد رکھی ڈیرہ کا لفظ فارسی زبان میں رہائش گاہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، بلوچی ثقافت میں ڈیرہ کو قیام گاہ کے ساتھ مہمان خانہ یا وساخ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، سرائیکی زبان میں لفظ فارسی سے آیا ہے ،
محل و قوع کے لحاظ سے ڈیرہ غازی خان ملک کے چاروں صوبوں کے وسط میں واقع ہے، اس کے مغرب میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا سلسلہ ہے ، شمال میں تھل اور مشرق میں سندھ ٹھاٹھیں مار رہا ہے، روحانی حوالے سے مغرب میں حضرت سخی سرور ، شمال میں خواجہ سلیمان تونسوی اور جنوب سے شاعر حسن و جمال خواجہ غلام فرید کا روحانی فیض جاری ہے، طبقات الارض کے حوالے سے یہ خطہ پہاڑی، دامانی ، میدانی اور دریائی علاقوں پر مشتمل ہے، آب و ہوا کے لحاظ سے سردیوں میں سرد اور گرمیوں میں گرم مربوط خطہ ہے
علاقے کے رہائشیوں کی اکثریت سرائیکی زبان بولتی ہے جبکہ ارد گرد کے کچھ علاقوں میں سرائیکی کے ساتھ ساتھ بلوچی زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے، لغاری ، کھوسہ، مزاری، دریشک ، گورچانی، کیتھران، بزدار اور قیصرانی یہاں کے تمندار ہیں ، بلوچ قبیلوں کی یہ تقسیم انگریز حکمرانوں نے کی ، انہوں نے قبائیلی سرداروں کو اختیارات دئیے ، عدلیہ کا کام جرگے نے سنبھالا جس کی نشتیں ڈیرہ غازی خان کے صحت افزا، مقام( فورٹ منرو ) جو سطع سمندر سے 6470 فٹ بلند ہے منعقد ہوتی تھیں ، انتظامیہ کے لئیے بارڈر ملٹری پولیس بنائی گئی جس کی ملازمتیں انہی نو بااثر خاندانوں میں تقسیم ہوتی ہیں ، 1950، میں ڈیرہ اور راجن پور کے تمنداروں کے مشترکہ فیصلے کے مطابق یہ علا قہ پنجاب میں شامل ہوا، سن انیس سو پچپن میں نواف آف بہاولپور اور گورنر جنرل غلام محمد کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے اضلاع ریاست بہاولپور میں شامل ہوئے لیکن بعد میں ڈیرہ اور مظفرگڑھ کے اضلاع بہاولپور سے علیحدہ کر کے ملتان ڈویژن میں شامل کئے گئے، یکم جولائی 1982،ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، لیہ ،راجن پور کے اضلاع پر مشتمل علاقے کو ڈویژن کا درجہ دیا گیا،
1900، میں بننے والے اس شہر کو منفرد اور ایک خاص نقشے کے مطابق آباد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ، شہر کی تمام سڑکیں ، گلیاں اور چوک شرقاّ ، غرباّ اور شمالاّ جنوباّ بنائے گئے ہیں ، شہر کو 66 مختلف بلاکوں میں تقسیم کیا گیا ہے نقشے کے مطابق ہر مکان کم از کم پانچ مرلے کا رکھا گیا ، ہر بلاک میں تقریباّ 112 پلاٹ رکھے گئے تھے لیکن اولاد اور وارثوں میں تقسیم اور خریدو فروخت کے باعث آج کل صورت حال قدرے مختلف ہے ،
ڈیرہ کی سرزمین معدنی وسائل سے مالا مال ہے ارد گرد کا علاقہ سنگلاخ پہاڑوں کے باعث ناقابل کاشت ہے، علاقے کے نوجوانوں کی اکثریت روزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رُخ کرتی ہے، تونسہ کے علاقے سے گیس اور تیل نکلتا ہے، علاقے میں یورینیم جیسی کے باعث پاکستان آج ایٹمی طاقت بن چکا ہے ، روڑہ بجری ، خاکہ اور پتھر کے تاجر کروڑوں روپے کما رہے ہیں الغازی ٹریکٹرپلانٹ پر تیار کئے گئے فیٹ ٹریکٹراور ڈی جی سیمنٹ اس علاقے کی پہچان ہے، اندرون ملک سفر کےلئے ریل ، بسوں اور ویگنوں سے ملک کے چاروں صوبوں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے چلتن ایکسپریس کوئٹہ سے لاہور، لاہور سے کوئٹہ کےلئے براستہ ڈیرہ غازی خان چلتی ہے ، خوشحال خان خٹک ایکسپریس کراچی سے پشاور اور پشور سے کراچی براستہ ڈیرہ چلتی ہے ،
کوئٹہ روڈ پر سخی سرور سے پہلے جدید ائر پورٹ تعمیر کیا گیا ہے جہاں سے کراچی ، بہاولپور، لاہور اور اسلام آباد کے لئے پروازیں چلتی ہیں کوئٹہ روڈ پر ہی تقریباّ 75 کلو میٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا سرد ترین تفریحی مقام فورٹ منرو ہے، شہر میں تفریحی سہولتوں کےلئے سٹی پارک ،غازی پارک، وائلڈ لائف پارک، چند کھیل کے میدان اور آرٹ کونسل ہے، بلدیہ کی لائبریری میں کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے علاقے کے لوگ بشمول خواتین تعلیم کے حصول میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں،شہر میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ ایلیمنٹری کالجز ہیں ، تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرز کے سخی سرور روڈ پر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنا لوجی قائم ہے، جبکہ لڑکوں اور لڑکیوں کےلئیے علیحدہ علیحدہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں ریلوے روڈ پر واقع گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، گورنمنٹ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین، گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف کامرس برائے خواتین ، ایگریکلچر سکول وغیرہ شامل ہیں شہر میں پرائیوٹ لا، کالجز ،پرائیویٹ ہومیو پیتھک کالج ، درجنوں کمپیوٹر کے تربیتی ادارے اور درجنوں پرائیویٹ سکول ہیں جبکہ ڈویژنل پبلک سکول اور کالج گورنمنٹ کالج انٹر کالج ،سنٹرل ماڈل سکول، گورنمنٹ کمپری ہینسو سکول،اسلامیہ ہائی سکول اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لئیے ، گونمنٹ ہائی سکول نمبر 1،2،3 اور دیگر تمام تعلیمی ادارے شہر میں علم کے فروغ کے لئیے سرگرم عمل ہیں، جامعہ رحمانیہ اسلامیہ اور کلیتہ النبات ، للدراسات الا اسلامیہ ممتاز دینی مدارس ہیں والی بال یہاں کے لوگوں میں مقبول کھیل ہے لیکن اب کرکٹ اس کی جگہ لے رہا۔
مقامی لوگ ناشتہ میں حلوہ پوری، دوپہرکو سری پائے شوق سے کھاتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک گھروں میں ڈرائنگ روم یا بیٹھک نہیں ہوتی تھی بلکہ گھروں کے آگے یا بلاکس کے چوک میں رکھی ہوئی بڑی بڑی چارپائیاں جنہیں مقامی زبان میں ( ہماچہ ) کہتے ہیں، ڈرائنگ روم یا بیٹھک کے نعم البدل کے طور پر استعمال ہوتی تھیں جن پر بیٹھ کر رات گئے تک گپ شپ اور حال احوال کرنا مقامی لوگوں کے مزاج اور ثقافت کا حصہ ہے، مگر اب دور بدل رہا ہے ذہن تبدیل ہو رہے ہیں ثقافت کو بھی نئے دور کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے چارپائی اور ہماچے کی جگہ اب ڈرائنگ رومز اور بیٹھکوں نے لے لی ہے۔
زیر زمین پانی کافی کڑوا ہے پینے کا صاف پانی ڈیرہ غازی خان کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ شہر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے شہر سے کم و بیش دس کلو میٹر دور پمپ لگے ہوئے ہیں جہاں سے پانی پائپوں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ پمپ اکثر خراب رہتے ہیں اور پھر پائپ لائنوں کے پھٹ جانے سے سیوریج ملا پانی پینے کو ملتا ہے۔ شہریوں کی اکثریت گندے پانی کی وجہ سے گردوں اور دیگر امراض میں مبتلا ہے۔ گیارہ اگست ٢٠٠٠ کو چیف ایگزیکٹیو پرویزمشرف نے ہینے کے صاف پانی کی فراہمی کے سلسلے میں لاکھوں روپے کی لاگت سے لگائے گئے واٹر پیور لیفیکیشن پلانٹ کا افتتاح کیا اور اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے بعد تین اور پمپس بھی چالو کئے گئے جنہیں مشرف واٹر پمپس کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مگر سابقہ روایات کے مطابق محکمہ پبلک ہیلتھ، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی عدم توجہی کی بنا پر پانی صاف کرنے کے یہ پلانٹ بے کار ہو رہے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں صفائی ستھرائی کا نظام انتہائی ناقص ہے۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر پڑے نظر آتے ہیں۔ سیوریج یہاں کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے جسے کسی بھی دور میں حل نہیں کیا گیا، اکثر محلوں، بلاکوں اور روڈوں پر سیوریج کا پانی کھڑا ہوتا ہے۔ چوک چورہٹہ، سجاد آباد، غریب آباد، نورنگ شاہ، مستوئی کالونی، بھٹہ کالونی، نیوماڈل ٹاؤن اورگلستان سرور کے مکین سیوریج کی وجہ سے انتہائی بے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ سیوریج کا پانی اب ان کے گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ سابقہ ادوار میں آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے شہر کی سڑکیں تعمیر کی گئیں کچھ ہی عرصے بعد سڑکیں ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئییں، جن کی مرمتی ازحد لازمی ہے ورنہ ایک بار پھر ان کی تعمیرنو کرنی پڑے گی۔
شہر میں سرکاری ہسپتال کے علاوہ درجنوں پرائیویٹ ہسپتال موجود ہیں۔ سرکاری ہسپتال میں سالانہ لاکھوں روپے کی ادویات کی خریداری کے باوجود سر درد کی گولی دستیاب نہیں ہوتی۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا سنہرا خواب اور کروڑوں روپے کی گرانٹس کے باوجود ڈیرہ غازی خان کے عوام کی تقدیر نہیں بدل سکی، اس سب کے باوجود بھی ڈیرہ کے شہری اپنے سنہرے مسقتبل اور اپنی تقدیر بدلنے کا خواب ضرور دیکھتے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

گُلی ڈنڈا

Posted on 29/08/2005. Filed under: ڈیرہ نامہ, رسم و رواج |

کھیل ہر زمانے میں خصوصاً بچوں میں اور جوانوں میں دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ کھیل جسمانی ورزش اور فکری قوت کو بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں۔ کھیل جہاں تفریح اور فارغ اوقات گزارنے کا ذریعہ ہیں وہاں نظم و ضبط قائم رکھنے اور قوانین پر عمل کا درس دیتے ہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کھیل صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جن ممالک میں کھیلوں کی ترقی اور ترویج ہو رہی ہے وہاں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے۔ انہی کھیلوں میں ڈیرہ غازیخان کا ایک قدیمی اور سادہ کھیل گُلی ڈنڈا ہے۔ اس میں زیادہ اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کھیل کھلے میدان میں پلی بنا کر کھیلا جاتا ہے۔ اس میں ایک کھیلنے والا ٹُل لگاتا ہے دوسرا گُلی کو زمین پر گرنے سے پہلے پکڑ لے تو کھیلنے والے کو کھیل ختم کر کے سامنے والے کھلاڑی کو کھیلانا پڑتا ہے۔ بعض مرتبہ اس میں تین تین کھلاڑی یا اس سے بھی زیادہ حصہ لیتے ہیں۔
جب پُلی سے گُلی کو ڈنڈے سے زور لگا کر پھینکا جاتا ہے تو سامنے والا کھلاڑی اگر اسے زمین پر گرنے سے پہلے پکڑ لے تو کھیلنے والا باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد کھلاڑی ڈنڈے کے ایک سرے کو ہاتھ میں پکڑ کر اور ہاتھ کے ساتھ ہی ڈنڈے پر گُلی کو رکھتا ہے، پھر گُلی کو ہوا میں اچھال کر بڑی مہارت سے اس پر ڈنڈے سے چوٹ لگاتا ہے گُلی جتنی دور جاتی ہے کھلاڑی کے جیتنے اور آگے بڑھنے کے امکانات اتنے ہی روشن ہوتے ہیں پھر پُلی اور گُلی کا درمیانی فاصلہ ان لفظوں میں ناپا جاتا ہے، بریکٹ، لائین، نون، آر، وائی، جھگ، اگر بریکٹ کے اوپر گُلی پر ڈنڈا آ جائے تو باری ختم ہو جاتی ہے۔ اگر بریکٹ پر کچھ فاصلہ آ جائے تو کھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اگر جھگ آنے کے بعد بھی تھوڑا سا فاصلہ رہ جائے تو کھلاڑی کو ایک بونس مل جاتا ہے۔ چھٹی کے روز یا میلوں ٹھیلوں پر یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ بچے، جوان اور بوڑھے ان مقابلوں کو بڑے اشتیاق سے دیکھنے آتے ہیں۔ کھیل شروع ہونے سے پہلے قرعہ اندازی کی جاتی ہے کہ کون سی ٹیم پہلے کھیلے گی۔ ہر کھلاڑی جب آؤٹ ہوئے بغیر آگے بڑھتا ہے تو یہ اس کی مہارت کا ثبوت ہوتا ہے۔
گُلی ڈنڈے کے کھیل کو مزید دلچسپ بنانے کے لئے یہ بھی کیا جاتا ہے کہ گُلی کے دونوں سرے باریک کر دیئے جاتے ہیں اور پھر اسے ہموار سطح پر رکھ کر ڈنڈا گُلی کے باریک سرے پر زور سے مارا جاتا ہے جس سے گُلی بہت اوپر تک ہوا میں اچھلتی ہے اس وقت کھلاڑی کی مہارت اور چابکدستی کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ گُلی کو زمین پر گرنے سے پہلے پوری قوت سے ڈندا مار کر دور پھینک دیتا ہے۔ اگر مخالف کھلاڑی گُلی کو ہوا میں نہ پکڑ سکے تو کھلاڑی کو پھر موقع دیا جاتا ہے وہ پھر گُلی کو اچھال کر اپنی قوت کا مظاہرہ کرتا ہے اس میں وقت کا تعین نہیں ہوتا جو کھلاڑی جتنا جم کر کھڑا رہے مخالف ٹیم کو کھلانے پر مجبور رکھتا ہے۔ گُلی ڈنڈے کی جدید شکل میں کرکٹ آجکل مقبول ترین کھیل ہے۔ مختصر یہ کہ دوسرے کھیلوں کی طرح گُلی ڈندا بھی صحت مند مشاغل میں شامل ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور حالت زار

Posted on 28/08/2005. Filed under: سرائیکی وسیب |

جناب ارشاد احمد حقانی ایک معروف پاکستانی کالم نگار ہیں ان کا کالم، حرف تمنا ایک عرصے سے ملک کے سب سے کثیرالاشاعت اخبار جنگ میں باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں سرائیکی وسیب کے مسائل کو اجاگر کیا ہے، انہیں پڑھیے اور اپنی رائے دیجئیے۔

 

١- سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور حالت زار

 

٢- سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور حالت زار

 

٣- سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور حالت زار

 

٤- سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور حالت زار

 

٥- سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور حالت زار

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عورت – ایثار و محبت کا لازوال شاہکار

Posted on 28/08/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , |

کہتے ہیں عورت ایک پہیلی ہے، ایسی پہیلی جسے بوجھنے والا اکثر حیران ہوتا ہے۔ عورت ماں بھی ہے، بیوی بھی، بہن اور بیٹی بھی ہے۔ اپنے ہر کردار میں اس کے جذبات و احساسات ایسے ایسے انوکھے رنگ دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔
کہتے ہیں عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے، یہ سب الزام نسوانی احترام اور فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کی نفی کرتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے۔ وہ عہدوفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے۔ لیکن کیا آج معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صیحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی۔ اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا مسلمانوں نے اسے ملحوظ خاطر نہ رکھا، کہیں تو انہوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیا اور پردے کو اس قدر سخت کر دیا کہ اس کے لئے سانس تک لینا مشکل ہو گیا اور کہیں اتنی چھوٹ دے دی کہ اس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس کھو دیا اور گھر کی چاردیواری پھلانگ کر شرافت و عزت کی تمام سرحدیں پار کر گئی۔
اسلام نے عورت کو جو رتبہ دیا دوسری قوموں نے اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید میں آزادی نسواں کے نام پر اس قدر آگے بڑھیں کہ عورت ہر میدان میں مرد کی ہمسر بن گئی۔ دوسری طرف مغربی معاشرے کے رنگ ڈھنگ کو اکثر مسلمانوں نے ترقی کی علامت سمجھ لیا، جس سے مسلم معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا، ایک وہ جس میں عورت مجبوری و بے بسی کی تصویر ہے اور دوسرا حصہ وہ جس میں عورت مکمل خود مختیار ہے۔ یوں اسلام کا حقیقی نظریہ نظروں سے اوجھل ہو گیا جو متوازن اور قابل عمل ہے۔
کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے معاشرے کی عورت اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آج عورت کی عزت کیوں محفوظ نہیں رہی، علاج کے نام پر مسیحا، انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر اور ملاں، حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بے آبرو کے دیتے ہیں۔ آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چاردیواری تک عورت کی عزت کہیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ خدا جانے مرد کی انفرادی غیرت سو گئی یا اجتماعی غیرت موت کے گھاٹ اتر گئی۔
آخر اس معاشرے کے مرد کا ذہن اتنا چھوٹا کیوں ہے کہ وہ عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ نچلے طبقے کا عورت سے رویہ دیکھ کر شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے آج بھی بہت سے خاندان بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ اس نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، سینا پرونا، کھانا پکانا اور جھاڑو دینا سیکھ جائے تاکہ دوسرے گھر میں جا کر کچھ فائدہ ہو۔ ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سینا پرونا اور کھانا پکانا گو کہ زندگی کے لئے لازمی سہی مگر زندگی کو بنارتی سنوارتی تو تعلیم ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ بیٹیاں اس لئے بھی ماں، باپ کو بوجھ لگتی ہیں کہ ان کو کچھ دینا پڑتا ہے، یہ والدین کا سہارا نہیں بن سکتی، اسی خوش فہمی میں والدین بیٹوں کو سر چڑھا لیتے ہیں کہ یہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے لیکن اکثر لڑکے بعد میں والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو اس کا صیحیح مقام دے دیا ہے لیکن یہ ہم سب کی بہت بڑی بھول ہے۔ عورت باپ کے گھر میں ہو تو شادی تک پابندیوں میں گھری رہتی ہے اور شادی کے بعد سسرال والوں کی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، جہیز کم ملنے یا نا ملنے پر ان کی جلی کٹی باتوں پر ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کبھی سسرال والوں کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو اس کا شوہر طاقت استعمال کر کے اسے مارپیٹ سکتا ہے اور طلاق جیسا گھناؤنا لفظ سنا کر اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ عورت کیا کیا باتیں اور کون کون سے ظلم برداشت نہیں کرتی، اس کے باوجود وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے گھر کو بناتی سنوارتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے ذلت اور رسوائی کا تمغہ۔
عورت کے چار فورس ہیں۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی، ان چاروں رشتوں میں وہ پیار و محبت اور کی سچی تصویر ہے۔ عورت محبت کی دیوی ہے، کیونکہ اس کا ضمیر محبت سے اٹھا ہے۔ وہ جب محبت کرتی ہے تو ٹوٹ کر کرتی ہے اور اس میں کسی کو رتی برابر بھی شریک نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کے سامنے تن جائے تو ٹوٹ سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ عورت زمین پر رینگنے والا کیڑا نہیں، عورت احساسات سے عاری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

عورت ۔ جفا پیشہ اور فتنہ گر

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

میں دہشت گرد ہوں

Posted on 01/08/2005. Filed under: پاکستان |

پاکستان میں آجکل یہ بحث جاری ہے کہ کیوں ہر دہشت گردی کے پیچھے پاکستانیوں کا ہی ہاتھ ثابت ہورہا ہے۔ بم مصر میں پھٹیں یا برطانیہ میں تباہی مچائیں، مجرموں کا کسی نہ کسی طرح کا تعلق پاکستان سے کیوں جوڑ دیا جاتا ہے؟ ایک پاکستانی اگر آجکل میں کہیں سفر کر رہا ہو اور وہ بھی دیارغیر میں تو اس کے کیا احساسات ہوتے ہیں، کیا سوچتا ہے وہ ؟ اسی بارے میں روزنامہ جنگ سے
جناب عطاء الحق قاسمی کا کالم، “میں دہشت گرد ہوں”۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...