ایک کام جسے دنیا کے ذہن انجام نہیں دے سکتے

Posted on 30/08/2005. Filed under: ٹیکنالوجی, پاکستان, سیاست |

گزرے پچاس برسوں میں سائنس نے بے انتہا ترقی کی ہے کمپیوٹر کو ہی لے لیں ایک چھوٹے سے ڈبے میں کائنات کو سمو کر رکھ دیا گیا ہے۔ رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے نکال دی، آپ انٹرنیٹ آن کرتے ہیں تو تمام کائنات آپ کی دسترس میں آ جاتی ہے۔ یہ سب بہت آسان دکھائی دیتا ہے مگر اس تک پہنچنے میں لاکھوں دماغوں کی محنت استعمال ہوئی ہے تب جا کر انسانی عقل کو خیرہ کرنے والے اس معجزے نے جنم لیا۔ آج کے جدید دور میں کچھ بھی نا ممکن نظر نہیں آتا لیکن ایک کام ایسا ہے جسے دنیا کے تمام ذہن مل کر بھی انجام نہیں دے سکتے۔
امریکہ کا مجسمہ آزادی، فرانس کا ایفل ٹاور یا تاج محل کو ہی لے لیں، یہ عمارتیں انسانی عقل کا شاہکار ہیں۔ انسان کا چاند پر قدم رکھنا، مصنوعی سیاروں کا بروقت پتا دینا، بلٹ ٹرینوں کی سینکڑوں فی گھنٹہ کی رفتار، ہزاروں میل دور چھپے دشمنوں کو میزائلوں سے تباہ کرنا، لیزر ٹیکنالوجی سے پیجیدہ امراض کا علاج، آسمان کا سینہ چیر کر اور سمندر کی چھاتی پھاڑ کر فاصلوں کو وقت کے تابع کر دینا کوئی معمولی کام نہیں ہیں۔ کائنات کو اپنی مٹھی میں بند کر لینے کے باوجود ایک کام ایسا ہے جسے دس آئن سٹائن مل کر بھی انجام نہیں دے سکتے۔
وہ مشکل ترین کام کون سا ہے ؟ ایک مزدور کی تنخواہ تین ہزار سے چار ہزار تک ہوتی ہے وہ مشکل ترین کام یہ ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ایجاد کرنے والا، امریکہ کا مجسمہ آزادی، فرانس کا ایفل ٹاور یا تاج محل کو حقیقت کا روپ دینے والے، وقت کو اپنی مٹھی میں بند کر دینے والے تمام ذہن، عجوبے تخلیق کرنے والے تمام سائنس دان مل کر بھی ان تین سے چار ہزار روپوں میں پانچ افراد پر مشتمل ایک گھرانے کا بجٹ نہیں بنا سکتے۔ تین سے چار ہزار میں ایک گھرانے کا بجٹ تیار کرنا سینکڑوں عجوبے تخلیق کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے لیکن اس کے باوجود لوگ ہیں کہ جئے جاتے ہیں۔ ایک طرف غربت کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف حکومتی ذہن اسے مزید بڑھاوا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ آئے روز پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سے مہنگائی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
عجیب سادہ لوح عوام ہیں خاموش رہ کر اپنے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہتے ہین نہیں جانتے جب روئے بغیر بچے کو دودھ نہیں ملتا تو عوام خاموش رہ کر خط غربت سے اوپر کیسے آ سکتے ہیں؟ شور مچے گا تو ہی وہ فارمولا ایجاد ہو گا جس سے تین سے چار ہزار میں ایک گھرانے کا بچٹ بنایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ خاموش رہ کر تکلیف برداشت کرتے ہیں یا شور مچا کر حکمرانوں کو اپنی تکلیف بتاتے ہیں۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: