Archive for ستمبر, 2005

کیا رادھا ناچے گی ؟

Posted on 29/09/2005. Filed under: پاکستان |

ہر خزاں اور بہار میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس ہوتے ہیں جن میں دنیا بھر کے معیشتیں چلانے والے واشنگٹن کا طواف کرتے ہیں۔ کچھ سال ادھر بلکہ نائن الیون سے قبل پاکستان کے معاشی شاہ سوار شرمندہ شرمندہ اور گردنیں جھکائے ہوئے ان اجتماعات میں شامل ہوتے تھے لیکن اب تو پاکستان کی معاشی ٹیم دلی سے آنے والے محاورے کے پانچ سواروں جیسے طمطراق سے وائٹ ہاؤس کے پڑوس کی عمارتوں میں داخل ہوتی ہے۔
آج کل اسلام آباد کے پانچوں معاشی سواروں کی گردنیں اور بھی اکڑی ہوئی نظر آتی ہیں کیونکہ ان کے مربی پینٹاگون کے سابقہ ’وزیر جنگ‘ پال ولفووٹز، ورلڈ بینک کے صدر ہو گئے ہیں۔ سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا۔ نیو کان (نئے قدامت پرست) گروہ کے رہنما کو ورلڈ بینک بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ بش کے سجنوں اور سجنیوں کو نواز سکیں۔ اس لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں نو دفعہ پاکستان کا ذکر خیر کیااس بات کو ایک پاکستانی سوار نے اپنی کامیابی کا ثبوت قرار دیا۔
وہ کیا اور ان کی تعریف کیا کہ وہ اس صدر بش کے نمائندے ہیں جو بقول نیویارک ٹائمز کے کالمسٹ تھامس فریڈمین کے اپنے برباد شہروں کو آباد کرنےکے لئے چین سے قرضہ لینے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔
ہم نے سوچا کہ وزیر اعظم کے مشیر سلمان شاہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کی رہنمائی میں آنے والے پانچوں سواروں ِ کے نئے پرانے دعوے سنیں لیکن اس سے بہتر یہ ہوگا کہ پہلے ان سے بات کر لی جائے جن کے ہاتھ میں ان کی کنجی ہے یعنی ورلڈ بینک کے ان لوگوں سے جو پاکستان کی معیشیت کے بین الاقوامی رکھوالے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ کام پردہ نشینی میں ہی ہو سکتا ہے اور پردہ نشین یا نشینوں کا نام نہیں لیا جا سکتا۔
لہذا قارئین ہم اپنی باتیں نام نہاد ماہر کے نام پر لگا کر نہیں کر رہے بلکہ ذیل کی باتیں ایک اصلی اور’وڈھے‘ ماہر کی ہیں۔ ہمارے پردہ نشین ماہر بھی پاکستان کی معاشی ترقی کے معترف ہیں لیکن اس ترقی کو جاری رکھنے کے لئے جو شرائط انہوں نے پیش کیں اس سے ہمیں تو یہی اندازہ ہوا کہ خوشحال مستقبل کے لئے پاکستان نو من تیل کا بندوبست کرے تاکہ معیشت کی رادھا بیگم ناچ سکیں۔ یعنی نہ نو من تیل ہو گا اور نہ ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہم نو من تیل تک پہنچیں پہلے پاکستان میں معیشت کی حالیہ کامیابی پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔ ماہرین سے بات کرنے کے بعد ہمیں جو بات سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے کے لئے جو طریقہ اپنایا گیا وہ یہ تھا کہ کھائی پر ر کرنے کے لئے گڑھا کھودا جائے اور پھر اس گڑھے کو پر کرنے کے لئے ایک اور گڑھا۔۔۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان کسی بھی طرح ترقی کے راستے پر چلنے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے مجبوراً حکومت کو کرنسی چھاپ کر اور لوگوں کو دائیں بائیں ادھار دے کر، کاریں، فرجیں اور رئیل اسٹیٹ خریدوا کر ترقی کی شرح بڑھانا پڑی ۔یہ حکمت عملی کامیاب ہوئی اور حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال ترقی کی شرح سات اعشاریہ چار فیصد ہے۔ چنانچہ معاشی تنزل کی کھائی سے نکلنے کے لئے کرنسی چھاپنے کا گڑھا کھودا گیا۔ حسب توقع یہ گڑھا افراط زر کی صورت میں گہرا ہوتا گیا ہے۔ خود حکومت کے اپنے گھٹائے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق بھی چند ماہ پیشتر افراط زر کی شرح گیارہ فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ اس افراط زر کے گڑھے کو بھرنے کے لئے درآمدات میں اندھا دھند اضافہ کیا گیا تاکہ ملک میں اشیاء وافر ہوں اور قیمتیں اوپر نہ جائیں۔ ہندوستان سے آلو، لہسن، پیاز اور گائیں اسی گڑھے کو پر کرنے کے لئے درآمد کی گئی ہیں۔ اور پھر اور درآمدات کا کھڈا بھرتے بھرتے تجارت کا خسارہ ایک سال میں تین بلین ڈالر سے بڑھ کر چھ بلین ڈالر ہو گیا ہے۔ پاکستان کے لئے چھ بلین سالانہ کا تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے اور حکومت کے نام نہاد فارن کرنسی ریزرو بہت جلدی ختم ہو سکتا ہے۔ ہمارے پردہ نشین ماہر کہتے ہیں کہ ابھی پاکستان کو بہت زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انسانی جنس یعنی تارکین وطن سے چار بلین ڈالر آہی جاتے ہیں۔
امریکہ بھی ہرسال ایک بلین ڈالر سے زیادہ امداد دے رہا ہے اور پھر ادھر ادھر سے ادھار بھی مل رہا ہے۔ لہذا چھ بلین ڈالر کا شاہانہ بل ادا ہو سکتا ہے۔ یقین کیجئے ضیاء الحق کے زمانے میں بھی آئی ایم ایف کےایک رکھوالے نے ہمیں یہی دلیلیں دی تھیں اور جب تک پاکستان کنگلا ہوا تھا وہ صاحب ریٹائر ہو چکے تھے۔ ہمارے پردہ نشین کے ریٹائر ہونے میں بھی زیادہ دیر نہیں ہے۔
ہمارے ماہر یہ بات بھی کہتے ہیں کہ اب پاکستان نے کرنسی چھاپ کر ترقی کرنا بند کردیا ہے اور اب ادھار کی مارکیٹ کی طنابیں کسی جا رہی ہیں، تجارت کا خـسارہ کم کرنے کے لئے بھی کافی دوڑ دھوپ ہو رہی ہے۔ لہذا اب افراط زر گھٹ کر آٹھ فیصد کے قریب آگیا ہے۔ وہ یہ بات بتانا بھول گئے گہ اسی لئے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق اگلے سال ترقی کی رفتار ایک فیصد کم ہو جائے گی۔ گویا کہ مزید گڑھے کھودنے کی گنجائش نہیں بچے گی۔ ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ اس گڑھا کھائی کے پھیر سے کیسے نکلا جائے پردہ نشین ماہر کہتے ہیں کہ پاکستان کو اب کرنسی کے ذریعے ترقی کی بجائے بجٹ کا ہتھیار استعمال کرنا چاہئیے۔ یعنی حکومت معاشی انفراسٹرکچر (ذرائع نقل و حمل، پلوں، ایرپورٹوں، بندرگاہوں بجلی ،ٹیلیفون کا نظام) پر بجٹ کا بہت سا حصہ خرچ کرے تاکہ پاکستان میں پیداوار بڑھے اور افراط زر اور تجارت کے خسارے جیسی وباؤں سے نجات ملے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرنسی کے بل پر ہونے والی معاشی ترقی کا صرف امیروں کو فائدہ ہوا ہے، امیر غریب کا فرق بہت بڑھا ہے ، لہذا حکومت کو اس طرف بھی توجہ کرنا ہوگی۔ ماہر موصوف نے پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے جو نسخہ بتایا ہے وہ نو من تیل والا ہے۔ وہ خود بھی مانتے ہیں کہ ان کو نہیں لگتا کہ پاکستان کے معاشی رکھوالے اس طرح کا نسخہ آزمانے کے لئے تیار ہیں۔ لہذا رادھا کے ناچنے کے امکانات ناپید ہوں گے۔ لیکن ان کو کیا کہ وہ کہیں چین آرام سے پڑے گنگنا رہے ہوں گے ’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک’۔

ذریعہ ۔ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

چاہت جاننے کا سادہ نسخہ

Posted on 24/09/2005. Filed under: طنز و مزاح |

یاہو چیٹ روم میں جائیں تو وہاں کبھی کبھار عجیب و غریب باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں، کافی عرصہ بعد آج چیٹ روم میں جانے کا اتفاق ہوا تو ایسی ہی ایک پوسٹ پڑھنے کو ملی جو کسی نے پرنس کے نک سے بھیجی تھی، چاہت جاننے کا کیا سادہ نسخہ بتایا ہے پرنس صاحب نے، آپ بھی پڑھیے اور داد دیجیئے۔
“ اگر آپ کے گھر چھٹیوں میں آپ کی کوئی کزن چند دن رہنے کو آئے، آپ اسے چاہتے بھی ہوں لیکن اظہار محبت نہ کر سکیں تو ایک منٹ میں پتہ چل سکتا ہے کہ وہ بھی آپ کو چاہتی ہے کہ نہیں۔ باورچی خانے میں میں کھانہ بناتے ہوئے آپ چپکے سے اس کے قریب جائیں اور اس کے شانے پر ہلکی سی چپٹ لگا دیں، آپ کو دیکھ کر اگر وہ مسکرا دے تو سمجھ لیں کہ وہ بھی آپ کو چاہتی ہے اور اگر غصے سے دیکھے تو تالی بجا کر کہیں ۔۔۔ آہا باجی ڈر گئییں باجی ڈر گئییں۔“

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کیا ریپ بطور کاروبار ہو سکتا ہے؟

Posted on 22/09/2005. Filed under: پاکستان |

“آپ کو یہ بات پاکستان میں موجودہ رحجانات کے تناظر میں سمجھنی ہوگی۔ یہ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا آپ کو کیینڈا کا ویزا اور شہریت چاہیے اور آپ کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں تو خود کو ریپ کروالیں‘۔
صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو صدر مشرف نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں خواتین پر ہونے والی زیادتیوں کے موضوع پر علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریپ کی شکار خواتین کا نام لیے بغیر انکی مدد کرنے والی بعض این جی اوز سے یہ شکوہ کیا کہ وہ اس طرح کے معاملات بیرونِ ملک اچھال کر پاکستان کا نام بدنام کررہی ہیں لیکن خود صدر نے خواتین کے بارے میں مذکورہ ریمارکس کسی پاکستانی ٹی وی چینل یا اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے نہیں بلکہ ایک معروف غیرملکی اخبار کو انٹرویو کے دوران دیے۔
اگر ریپ واقعی پاکستان میں پیسہ یا غیرملکی ویزا حاصل کرنے کا کاروبار بن گیا ہے تو اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ مختاراں مائی نے اپنے گاؤں کے کچھ لوگوں کو اکسایا کہ وہ اسکے بھائی کی پٹائی کریں اور جب وہ اسے بچانے جائے تو ایک پنچائت اسے ریپ کرنے کا حکم سنائے ۔ تاکہ اسے نہ صرف امریکی اور کینیڈین شہریت کی پیشکش ہو بلکہ وہ ایک مظلوم کا روپ دھاری ہوئی عالمی ہیروئن بن جائے اور ہر طرف سے اس پر ڈالر برسنے شروع ہوجائیں۔ یا ڈاکٹر شازیہ خالد نے سوئی کے اسپتال میں اپنا ریپ خود پلان کیا تاکہ وہ اس کی آڑ میں برطانیہ جاسکے۔یا سونیا ناز نے فیصل آباد کے ایک تھانے والوں کو پیسے دے کر اپنے کپڑے تار تار کروائے تاکہ عالمی میڈیا اسے بھی ہیروئن بنادے یا شائستہ عالمانی نے جرگے والوں سے التجا کی کہ وہ اسے پسند کی شادی کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں تاکہ سویڈن کی حکومت اسے رحم کھا کر بلوالے۔ کراچی میں گزشتہ ہفتے ایک چار برس کی بچی کو کسی جنونی نے ریپ کیا اور ہاتھ پاؤں بھی توڑ دئے۔اس بچی کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اسکے ساتھ ہوا کیا۔
گزشتہ فروری میں جب پاکستان میں بی بی سی سنگت کا قافلہ چل رہا تھا تو بہاولپور میں ایک شخص اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑے اسٹیج کے سامنے آ گیا۔اس کا کہنا تھا کہ یہ بہری اور گونگی ہے اور تین آدمی اسے اغوا کر کے نہر پر لے گئے اور ریپ کیا۔ مگر پولیس نے ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی۔ اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ اسلام آباد جا کر صدر سے ملنے کی کوشش کرے۔ آپ کسی بھی دن کا کوئی بھی پاکستانی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں۔اس نوعیت کی اوسطاً چار پانچ خبریں آپ کو پڑھنے کے لیے مل جائیں گی۔
صدر مشرف کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ہر ملک میں موجود ہے لیکن اس حوالے سے صرف پاکستان کو ہی ٹارگٹ بنایا جارھا ہے۔ یقیناً یہ مسئلہ ہر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں ہے لیکن کیا صدر مشرف کی نظر سے ایسی خبریں بھی گزریں کہ کوئی سعودی عورت ریپ کا الزام لے کر حکام کے پاس گئی اور حکام نے اسے بھگا دیا یا برطانوی شہر بریڈفورڈ میں کوئی عورت تھانے میں ریپ ہوگئی یا امریکی ریاست پنسلوانیا کے ایک گاؤں میں ایک پنچائت نے عورت کو ریپ کرنے کا فیصلہ کیا۔یا قاہرہ میں کسی عورت نے عدالت کے سامنے یہ بیان دیا کہ چونکہ اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ریپ کیا گیا اس لیے وہ ملزموں کو نہیں پہچان سکتی اور عدالت نے اسے زنا آرڑیننس کے تحت جیل بھیج دیا۔ پاکستان میں ایک مثال ایسی بھی ہے کہ ایک نابینا عورت کو زنا آرڈیننس کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا۔
مشرف حکومت نے کئی بار کہا کہ وہ حدود آرڈیننس کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے اس میں ترامیم کا جائزہ لے رہی ہے لیکن جائزہ ہے کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ جب غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے سخت قوانین پر مبنی بل پارلیمنٹ میں متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تو مذہبی جماعتوں کے علاوہ سب سے زیادہ مخالفت حکمران جماعت کے ارکان کی طرف سے ہوئی۔ سن دو ہزار میں اس بات کی خاصی تشہیر کی گئی کہ پولیس کے فرسودہ ڈھانچے کو یکسر بدلا جا رہا ہے تاکہ لوگ اس سے ڈرنے کے بجائے اسے اپنا دوست سمجھیں۔لیکن پانچ برس کے بعد بھی اس طرح کی خبریں چھپ رہی ہیں کہ لوگوں نے جنازہ تھانے کے سامنے رکھ کے دھرنا دے دیا مگر ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔ فیصل آباد کی سونیا ناز کے ساتھ ریپ ہوا یا نہیں یہ فیصلہ تو عدالت کرے گی لیکن پولیس نے اسکی ایف آئی آر وزیرِاعظم شوکت عزیز کی ذاتی مداخلت کے باوجود درج کرنے میں مسلسل لیت و لعل سے کام لیا۔
سوئی ریپ کیس میں جن ملزموں پر شبہ ظاہر کیا گیا ان میں ایک فوجی افسر کیپٹن حماد کا نام بھی شامل تھا۔اس سے پہلے کہ کوئی عدالت اس الزام کے جھوٹے سچے ہونے کا فیصلہ کرتی۔ صدرِ مملکت نے فیصلہ دے دیا کہ کیپٹن حماد کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور جس وقت شازیہ اور اسکا شوہر اسلام آباد سے جہاز میں سوار ہو رہے تھے کسی حکومتی ایجنسی کو احساس نہ ہوا کہ یہ جوڑا بیرونِ ملک پاکستان کو بدنام کرسکتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ صدر مشرف نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی اور بلدیاتی سطح پر خواتین کی نمائندگی میں اضافے کے اقدامات کیے۔اور وہ متعدد مرتبہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جب تک عورتیں سماجی مساوات حاصل نہیں کرتیں ملک ترقی نہیں کرسکتا لیکن انہی اعتدال پسند اور روشن خیال صدر کی جانب سے ریپ بطور کاروبار جیسے ریمارکس کا چاہے ان کے نزدیک جو بھی مطلب ہو مگر پنچائتی نظام کے حامی، خود کو قانون سے بالا سمجھنے والے پولیس افسر، غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کو جائز قرار دینے والے اور عورتوں کو کمزور سمجھ کر جنسی طور پر ہراساں کرنے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب تک تو ہم ہی کہتے آئے تھے کہ ریپ ریپ کا شور مچانے والی عورتیں چالباز ہوتی ہیں لیکن اب تو خود صدرِ مملکت نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے۔
اس تناظر میں صدر کی جانب سے ریپ بطور بزنس کا تبصرہ پاکستانی عورتوں کی حالت سدھارنے میں کس قدر مددگار ہوسکے گا یہ جاننے کے لیے آئن سٹائن یا ڈارون ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ذریعہ – بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قرآن سے شادی

Posted on 22/09/2005. Filed under: پاکستان, اسلام, رسم و رواج |

’ہوشیار! خبردار! گردنیں نیچی کرو پاک جا رہے ہیں‘

’وہ کہ جنکی جھولی میں قرآن ڈالے
تم نے کہا تھا
قرآن ہی اب تمھاراہے والی و وارث
لیکن قرآن نہ اندھیاری راتوں میں ھمدم بنے گا
اور نہ ھی وہ چوم سکتا ہے
اور ھم جو روٹھیں تو ہم کو نہ منوا سکے گا۔‘

کچھ اسطرح کی نظم برسوں پہلے سندھی شاعر امداد حسینی نے ’قرآن سے شادی‘ کروائی جانیوالی لڑکیوں پر لکھی تھی جو مجھے اب یاد آئی جب قرآن سے شادی پر سزا کا بل پاکستان کی اس اسمبلی میں پیش گیا گیا ہے جسکی نشستوں پر آج بھی ایسے معزز اراکین اور سیاسی و روحانی گدی نشین موجود ہیں جنہوں نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی شادیاں قرآن سے کروائی ہوئی ہیں- قطع نظر اسکے کہ انیس سو بانوے میں ’قرآنی دلہنوں‘ پر بنائی جانیوالی ایک دستاویزی فلم میں ’قرآن سے شادی‘ کی رسم اسکی اصلی تقریب میں پہنچنے کی بجاۓ ڈرامہ کرکے ڈالی گئی تھی لیکن وہ بہت سے بچے اور بچیاں جو سندھ اور پنجاب کی درگاھوں اور حویلیوں کی دیواروں کی مٹی چاٹ چاٹ کر بڑے ھوئے ہیں انکے لیے ’حویلیوں کے راز‘ راز نہیں رہے- ان حویلیوں کے لیے لوگ کہتے ہیں کہ ان پر سے نر پرندہ اڑ کر گذر جانے سے پہلے ہی بھگا دیا جاتا-
ہم نے پاک۔بھارت جنگ کے دنوں میں گاڑیوں کے شیشوں پر ’ملتانی مٹی‘ ملی دیکھی تھی جو کہ ’دشمن ملک‘ کے بمبار طیاروں کے خوف سے بلیک آؤٹ کے طور پر ملی جاتی تھی ۔اسطرح ملتانی مٹی ملے شیشوں اور ڈبل چادروں سے ڈھکی ھوئی پچھلی نشست پر ’پاکوں‘ کو ( سیدوں اور پیروں کی عورتوں اور ’قرآنی دلہنوں‘ کیلیے لفظ ’پاک‘ استعمال کیا جاتا) سفر کرایا جاتا- گویا کہ یہ عورتیں ہر وقت جنگی حالات اور بلیک آؤٹ میں ہوں!
’ہوشیار! خبردار! گردنیں نیچی کرو پاک جا رہے ہیں‘، کچھ برس قبل سندھ کی ایک بہت بڑی صوفیانہ درگاہ کے آنگن میں بیٹھے ہوے ہم سب سے کہا گیا تھا-
فوجی ڈکٹیٹرشپ ہو کہ روحانی ڈکٹیٹرشپ اسکا سب سے بڑا نشانہ عورت ہی بنی ہے- ابھی بچی بلو‏غت کے سنہ یا شادی کی عمر کو نہیں پہنچ پاتی کہ ایک رسم میں انکی شادی قرآن سے کرائی جاتی- نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پھر لڑکی کا باپ یا خاندان کا بڑا (وہ بھائی بھی ھو سکتا ھے) لڑکی سے کہتا ہے ’بیٹی! آج سے آپ ستی ھیں‘۔ اسے حق بخشوانا بھی کہا جاتا ھے- کبھی کبھی کہیں پر خاندان کے قریبی افراد اور کبھی کبھار بہت ہی قریبی مریدنیوں اور انکے چھوٹے بچوں بچیوں کی موجودگی میں انکی جھولی میں قرآن ڈال دیا جاتا ھے- حق بخشی ہوئی عورت اپنے حصے میں آنیوالی والدین کی ملکیت سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہو جاتی ہے-
مسلم قانون وراثت میں اکثریتی فقہوں میں تو عورت کا حق موروثیت (جسے ’اٹھوگ‘ یعنی ’آٹھواں حصہ یا ہشت‘ بھی کہا جاتا ھے) تو ہے ہی بہت تھوڑا سا اور یہ ساری حق بخشوائی ہے ہی اسکے حصے کی ملکیت گھر سے باھر چلے جانے سے روکنے کے لیے- مجھے میرے ایک ایسے دوست جسکے رشتہ داروں میں لڑکیوں کی شادیاں قرآن سے ھوئی تھیں بتایا کہ اصل مسئلہ ملکیت میں حصے کا ھوتا ھے۔ جنوبی پنجاب میں ملتان سے لیکر سندھ میں ہالہ اور مٹیاری تک یہ جو بڑی بڑي جاگییریں اور چھوٹی بڑی درگاہیں اور حویلیاں ہیں انکے مالک اور گدی نشیں خاندانوں میں سے بہت سوں نے اپنی عورتوں اور لڑکیوں کا ’حق بخشوا‘ کر رکھا ھوا ھے۔
حق بخشوائی ھوئی بہت سی عورتیں ایسے ہوجاتی ھیں جیسے کیتھولک عیسائیت میں راہبائيں۔ وہ گنڈے تعویذ کرتی ھیں اور ان کے ارد گرد دم پھونکنے اور دعائیں کروانے والیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے- لیکن میں نے سنا ہے کئی گھروں میں ’قرآنی دلھنوں‘ کو گھر والوں نے ڈش کیبل چینلز، وی سی آر، گیت مالا اور جھنکار کی کسیٹیں بھی دلا رکھی ہیں۔
لیکن اکثر جسے قرآن سے شادی کہا جاتا ہے وہ کوئی باقاعدہ شادی کی تقریب جیسی کوئی رسم کر کے نہیں کی جاتی۔ یہ تو بس ایک سادہ سی رسم ہوتی ھے۔ ملکیتوں کی تقسیم کے خوف سے لڑکیوں کی شادیاں نہ کرنا تو سندھ اور پنجاب کے بہت سے علاقوں اور گھرانوں میں موجود ہے لیکن قرآن سے شادی ’سید اور پیر‘ خاندانوں میں ہوتی ہیں۔ اگرچہ بڑے بڑے پیر اور سید شخصیات اسکی تردید کرتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے- ’قرانی دلہنیں‘ جیسی ڈرامائی دستاویزی فلم میں بھی جب سندھ کا ایک بڑا لیکن خود کو ’ترقی پسند‘ کہلوانے والا سیاستدان اسکی تردید کر رہا تھا تو اسے ڈش پر دیکھ کر ایک مقامی گاؤں والے نے سرگوشی میں کہا: ’انکی اپنی پھوپیوں کی شادیاں قرآن سے ہوئی ہیں‘۔
ایئر ہوسٹسوں، فنکاراؤں اور ایکٹریسوں سے شادیوں کے شوقین ان سیاستدان پیروں اور جاگیرداروں نے اپنی عورتوں کی ’شادیاں قرآن کیساتھ‘ کروائی ہوئی ہیں- اور ان سیاستدان جاگيرداروں میں پاکستان کی حزبِ اقتدار اور حزب اختلاف کے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ اب ان کے ساتھ شادی کرنے والی عورتوں یا انکو اپنی لڑکیاں دینے والوں نے یہ شرائط بھی رکھی ہیں کہ وہ اپنی پیدا ہونیوالی لڑکیوں کی شادیاں قرآن سے نہیں کروائيں گے یا انکا حق نہيں بخشوا دیں گے۔ اب وہاں فوجی ڈکٹیٹرشپ کا تسلسل رکھنے والے جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں ’قرآنی شادیوں‘ کیخلاف بل اور اسکی منظوری کے بعد ایسی روحانی ڈکٹیٹرشپ سے پاکستانی لوگوں اور خاص طور پر عورتوں کو نجات دلوانے کی توقع ایسے فوجی صدر سے باندھنا عبث ہے جسکے اپنے ملک کی عورتوں کے متعلق خیالات سندھ اور پنجاب کے کسی تھانیدار سے قدرے مختلف نہیں۔ (ملاحظہ فرمائیے اس روشن خیال کمانڈو حکمران کا امریکہ میں اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو دیا ہوا انٹرویو جس میں انہوں نے کہا ’اگر آپ لکھ پتی بننا چاھتے ھیں یا آپکو کینیڈا کا ویزا اور شہریت چاہیے تو آپ ریپ کروایے‘۔ یہ بلکل ایسا انداز بیان ہے جو فیصل آباد کے ڈی پی او پولیس نے اپنے ہاتھوں مبینہ طور پر سونیا ناز کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام کے بعد دیا تھا کہ ’وہ فیصل آباد کی مختار مائی بننا چاھتی ھے‘۔ اور پھر فوجی ڈکٹیٹرشپ اور روحانی ڈکٹیٹر شپ والوں کی تو اپنی ایک شادی بنی رچی ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب اور جنوبی سندھ کی جاگیروں اور درگاہوں کے میدانوں میں آپ نے جنرل پرویز مشرف کو کلف لگے کاٹن کی شلوار قمیض میں جلسوں سے خطاب کرتے دیکھا ھوگا۔ یہیں وہ گدیاں ہیں جنکی حویلیوں میں لڑکیاں برھا برس سے قرآن سے بیاھی جاتی رہی ہیں-

ذریعہ – بی بی سی اردو
مصروفیت ختم ہونے تک انہی پوسٹوں پر گزارہ کیجیئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شب برآت

Posted on 20/09/2005. Filed under: اسلام | ٹيگز:, |

کوئی محروم نہ رہ جائے زمین پر سائل
آسمانوں سے یہ آتی ہے صدا آج کی رات
کرم خاص سے مت جاتا ہے کلفت کا نشاں
رحمت عام سےملتی ہے جزا آج کی رات
ہم خطا کاروں پہ لطف اور فراواں کرنے
چرخ اول پہ اتر آیا خدا آج کی رات
آج کی رات نہ غفلت میں گزاری جائے
رب اکبر کی کرو حمد و ثنا آج کی رات
شعبان کی پندرہویں رات “ شب برآت“ گناہ گاروں کی مغفرت و بخشش اور مجرموں کی رہائی کی رات فرشتوں کی “ عید رات “ عظیم راتوں میں سے ایک رات “ شب برآت“
اس عظمت والی رات میں اللہ تبارک و تعالٰی سے دعا ہے کہ “ اے احسان عظیم کرنے والی پاک ذات تو اس قدر بلند و برتر ہے کہ ہم تیری عظمت کے مطابق تیری عبادت کا حق ادا کر سکتے ہیں نہ تیرے کمالات کے مطابق تیرے ذکر کا حق ادا کر سکتے ہیں نہ تیری رحمت کے مطابق تیرا شکر ادا کر سکتے ہیں۔
پروردگار عالم ! مجھے حق و صداقت کی راہ پر چلنے کی ہدایت دے اور اس راہ پر قائم رہنے کی استقامت اور حوصلہ عطا فرما اور گمراہی سے محفوظ رکھ۔
یا اللہ تو میری حفاطت فرما کیونکہ جس چیز کا محافظ تیرے سوا کوئی اور ہوتا ہے وہ ضائع ہو جاتی ہے اور میری پردہ پوشی فرما کیونکہ جس کا پردہ پوش تیرے سوا کوئی اور ہوتا ہے وہ کھل جاتی ہے اور میری فکروں کا بوجھ دور فرما کیونکہ تیرے سوا کوئی اور افکار کا دور کرنے والا نہیں اور مجھ پر اپنا سایہ رحمت ڈال تاکہ جو میرے ساتھ بدی کرنے کا ارادہ کرے یا کوئی جال پھیلائے یا کسی طرح تکلیف دہی پر آمادہ ہو ناکام رہے نہ میرے مقابلے میں کامیاب ہو اور مجھ پہ قابو پا سکے۔ آمین ثم آمین

تو غنی از دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر ثومی بینی حابم ناگریز !
از نگاہ مصطفٰے پنہاں بگیر

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بیس ہزار میں کیا ملا

Posted on 20/09/2005. Filed under: پاکستان |

نہیں معلوم کہ آج کے پاکستانی اسکولوں کے سرکاری نصاب میں انیس سو پینسٹھ کا تذکرہ کتنا اور کس انداز میں کیا جاتا ہے لیکن اب سے چونتیس برس پہلے جب ہم جماعت پنجم میں ٹاٹ پر بیٹھ کر معاشرتی علوم کی کتاب کھولتے تھے تو اس میں سب سے تفصیلی اور باتصویر باب سن پینسٹھ کی لڑائی کے بارے میں ہی تھا۔ اس باب میں ہم بچوں کو بتایا جاتا تھا کہ کس طرح ہم سے پانچ گنا طاقتور عیار دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی اور کس طرح ہماری بہادر مسلح افواج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر صرف سترہ روز میں ہی دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ جن مصنفین نے پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب کا یہ باب لکھا تھا انہیں شائید کامل یقین تھا کہ یہ باب پڑہنے والے بچے نہ تو کبھی بڑے ہوں گے اور نہ ہی انکی رسائی دیگر تاریخی کتابوں، یاداشتوں اور مقالوں تک ہوگی۔ شائد اسی لئے ہم بچوں کو یہ بتانے سے گریز کیا گیا کہ پاکستان نے چھ ستمبر کی جنگ سے چار ماہ پہلے آپریشن جبرالٹر کے نام پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس مفروضے کے تحت سادہ کپڑوں میں فوجی بھیجنے شروع کئے کہ اسکے نتیجے میں کشمیر میں تحریکِ آزادی بھڑک اٹھے گی اور چین سے تین برس پہلے تازہ تازہ شکست کھانے والا بھارت اس تحریک پر قابو نہیں پاسکے گا۔
پاکستان کا یہ بھی خیال تھا کہ انیس سو اڑتالیس کی جنگِ کشمیر کی طرح اس بار بھی لڑائی صرف سیز فائر لائن تک محدود رہے گی اور بھارت اس جنگ کو بین الاقوامی سرحدوں تک نہیں پھیلائے گا۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور جنگ لاہور اور سیالکوٹ کی دھلیز تک پہنچ گئی۔
ریڈیو پاکستان اور آکاش وانی نے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے بڑے بڑے دعوے کئے لیکن صدر ایوب کو عظیم اتحادی کا درجہ دینے والی امریکہ کی جانسن انتظامیہ کے بقول پاکستان نے بھارت کی جانب سے اولین بھرپور حملہ تو روک لیا مگر پاکستان ایک طویل جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ چنانچہ جب سترہ روز بعد اقوامِ متحدہ کے تحت بڑی طاقتوں کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تو اسوقت تک پاکستانی فوج اپنا اسی فیصد ایمونیشن استعمال کرچکی تھی جبکہ بھارت کا صرف چودہ فیصد ایمونیشن استعمال ہوا تھا۔
صدر ایوب کے صاحبزادے گوہر ایوب خان کی اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ پاکستان کو بھارت کا جنگی پلان ایک بھارتی بریگیڈئر نے بیس ہزار روپے میں فروخت کردیا تھا تو اس کا کیا فائدہ ہوا۔
اگر پاکستان نے اس جنگ میں بھارت کے دوسودس مربع میل علاقے پر قبضہ کیا تو بھارت نے پاکستان کے سات سو دس مربع میل علاقے پر قبضہ کر لیا۔اگر پاکستان نے بھارت کے تین ہزار کے لگ بھگ فوجی ہلاک کئے تو اسکے بدلے پاکستان کے اڑتیس سو سے زائد فوجی کام آئے۔
اور اس ساری تگ و دو کے بعد ہاتھ کیا آیا؟ ‘معاہدہ تاشقند‘ جس کے تحت دونوں ملکوں کی فوجیں پندرہ اگست انیس سو پینسٹھ کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

واشنگٹن براستہ تل ابیب

Posted on 16/09/2005. Filed under: پاکستان |

اسرائیلی اور فلسطینی علاقوں کو تقسیم کرنے والی دیوار پر مصوری جنرل مشرف کو ہر دفعہ امریکہ آتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے لیےکوئی نہ کوئی تحفہ تو لانا ہی ہوتا ہے۔ اب یا تو باقی تحفے ختم ہو گئے ہیں اور یا پھر ان کو علم ہو گیا ہے کہ یہ تحفے تحائف کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ واشنگٹن کا راستہ تل ابیب سے ہو کر گزرتا ہے۔
امریکی میڈیا کے منفی رویّے اور امریکہ ہندوستان جوہری رشتے نے تل ابیب کا راستہ اور بھی اہم بنا دیا ہے۔ اب ایک اعتبار سے پاکستان اور اسرائیل کے امریکہ میں مفادات ایک ہو گئے ہیں کیونکہ ہندوستان کے علاوہ یہی دو جوہری طاقتیں ہیں جن کو جوہری کلب تسلیم نہیں کرتا۔ دونوں امریکہ سے وہی رعایت چاہتے ہیں جو ہندوستان کو مل رہی ہے۔
اگر یہ بات دور کی لائی ہوئی کوڑی معلوم پڑتی ہے تو آپ امریکہ کے ایک نائب وزیر خارجہ رابرٹ جی جوزف کا وہ بیان پڑھ لیجئے جو انہوں نے سینٹ کے سامنے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ہندوستان کو ایک بے مثال کیس سمجھتے ہیں اور اس کے سول جوہری پروگرام کو آگے بڑھا کر ہندوستان کے عدم پھیلاؤ کے یقین کو پختہ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کا تعاون اسرائیل اور پاکستان کے ساتھ بھی کیا جائے کیونکہ ہندوستان کے علاوہ یہی دو ریاستیں ہیں جنہوں نے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ہمارے خیال میں ہندوستان، اسرائیل اور پاکستان علیحدہ علیحدہ اپنی طرح کی مثالیں ہیں اور تینوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ رویہ اپنانا پڑے گا۔ پاکستان اور اسرائیل کا سول جوہری توانائی کا پروگرام ہندوستان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ امریکہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان یا اسرائیل کے ساتھ سول جوہری میں پوری طرح تعاون کرے‘۔ اس بیان کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان اور اسرائیلی لابیاں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ جب امریکی کانگریس ہندوستان کے ساتھ جوہری تعاون کا قانون منظور کرے تو وہ اس نوعیت کا ہو کہ پاکستان اور اسرائیل کو بھی فائدہ ہو۔ دونوں ریاستیں ابھی تک چوری چھپے جوہری ٹیکنالوجی خریدتی ہیں۔ اگر امریکہ پاکستان اور اسرائیل کو بھی ہندوستان جیسی سہولت فراہم کردے تو یہ ملک کھلے بندوں کسی بھی ملک سے جوہری ٹیکنالوجی لے سکتی ہیں۔ پھر چین بھی پاکستان کو کھلم کھلا جوہری ٹیکنالوجی فراہم کر سکتا ہے اور یورپ کے وہ ممالک بھی جو اس طرح کی ٹیکنالوجی کی تجارت کی لیے بیتاب ہیں۔ بے مثال ہندوستان پاکستان اور اسرائیل کا سول نیوکلیر توانائی کا پروگرام ہندوستان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ امریکہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان یا اسرائیل کے ساتھ سول نیوکلیر میں پوری طرح تعاون کرے امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ جی جوزف پاکستان کو امریکہ میں اپنی اہمیت قائم رکھنے کے لیے اسرائیلی لابی کی اس لیے بھی ضرورت پیش آرہی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ امریکہ ہندوستان کو وہ ترجیحی مراعات دے رہا ہے جن سے پاکستان محروم رہ جائےگا۔ اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا ہوا نہیں ہے کیونکہ ہندوستان روس کا اتحادی مانا جاتا تھا اور پاکستان کی اہمیت کسی نہ کسی طرح سے ہمیشہ رہتی تھی۔ بلکہ بقول ذوالفقار علی بھٹو مرحوم امریکہ پاکستان سے اس لیے بھی قریبی تعلق رکھتا تھا تاکہ ہندوستان پر دباؤ قائم رکھ سکے اور وہ پوری طرح روس کی گود میں نہ چلا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ پاکستان امریکہ کا ہندوستان کے ساتھ ترجیحی سلوک برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ہندوستان کے ساتھ مسابقت اولین اہمیت کی حامل ہے۔دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ اس کے تضادات نظریاتی تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ اس کی لیے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار نہیں ہے۔ غالباً اسی بنیادی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے یا بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل سے براہ راست فوجی ہتھیار اور دوسری ٹیکنالوجی خریدنا بھی پاکستانی ایجنڈے کا حصہ ہو گا کیونکہ ہندوستان اس میدان میں برتری حاصل کرتا جا رہا ہے اور پاکستان کسی بھی قیمت پر ہندوستان سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا ۔
مشرف کے پاس امکانات جنرل مشرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے ترپ کا پتہ کھیل رہے ہیں بعض حلقے پاکستان کو امریکہ میں اپنا امیج درست کرنے کے لیے بھی اسرائیلی لابی سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان کے سفارتی حلقے یہ صاف کہتے ہیں کہ وہ جتنی بھی کوشش کریں امریکہ میں پاکستان کا امیج بحال نہیں کر پاتے۔ جب وہ کئی مہینوں کی محنت سے پاکستان کا امیج شفاف کر چکے ہوتے ہیں تو اچانک امریکی میڈیا میں کوئی ایسی کہانی چھپتی ہے کہ سب کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے ۔ان سفارت کاروں کو توقع ہے کہ پاک اسرائیل تعلقات معمول پر آنے کے بعد امریکی میڈیا پاکستان کا امیج بہتر بنانے میں مدد گار ہوگا۔
اگر پاکستان کو امریکہ میں اسرائیلی لابی کی ضرورت ہے تو حالات ایسے ہیں کہ امریکہ کی اسرائیلی لابی بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔ صدر مشرف کو دعوت دینے سے پہلے امریکن جیوئش کانگرس کے تین رہنما پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔ وہ اسی ہفتے پاکستان پوسٹ کو ایک انٹرویو میں یہ بھی بتا چکے ہیں کہ پاکستان میں ایم ایم اے کا پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ رابطے قائم کرنے کے خلاف احتجاج کا ناکام ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام روشن خیال ہیں اور وہ مذہبی جنونیت کی حمایت نہیں کرتے۔ اب اگر ان یہودی رہنماؤں کا یہی بیان نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں چھپے تو پاکستان کا امیج خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔
ظاہر بات ہے کہ امریکہ کی اسرائیلی لابی کے اپنے مفادات ہیں۔ وہ پاکستان کو مسلمان دنیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے نقطہ آغاز بنا رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اب جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے یہودی بستیاں ختم کردی ہیں تو اس کا سفارتی سطح پر کوئی نتیجہ نکلنا چاہئیے یعنی اس کے مسلمان دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ اسی لیے اسرائیلی لابی نے پاکستانیوں کو قریب لانے کے لیے کافی محنت اور دوڑ دھوپ کی ہے۔ شاید یہ لابی یہ بھی سوچ رہی ہے کہ امریکہ میں دو اقلیتوں کا ایک دوسرے کا متحارب ہونا دونوں کے لیے خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر مسجدوں پر حملے ہوتے ہیں تو یہودیوں کے کنیساؤں کو بھی کم ہی بخشا جاتا ہے: امریکہ میں اب بھی یہودیوں کے خلاف کافی تعصب پایا جاتا ہے۔ آج کل مسلمان زیر عتاب ہیں اور یہ تعصب دبا ہوا ہے لیکن یہودی اپنی تاریخ سے جانتے ہیں کہ ان کے خلاف تعصب کسی وقت بھی ابھر کر سامنے آسکتا ہے۔ لہذا ایسے برے وقت کے لیے مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتوں کے ساتھ اتحاد اور تعاون ضروری ہے۔ پاکستان کا امیج پاکستان میں ایم ایم اے کا پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ رابطے قائم کرنے کے خلاف احتجاج کا ناکام ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام روشن خیال ہیں اور وہ مذہبی جنونیت کی حمایت نہیں کرتے امریکن جیوئش کانگریس نے سب وجوہات کے ساتھ ساتھ جنرل مشرف کے ذاتی مفادات بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ ہر دفعہ امریکہ آنے سے ایک دو دن پہلے القاعدہ کے کسی چھوٹے موٹے لیڈر کو پکڑوا دیتے تھے اور پھر جب تک وہ نیویارک یا واشنگٹن پہنچتے تھے ان کا نام امریکی میڈیا میں بڑی اپنائیت سے لیا جا رہا ہوتا تھا۔ پچھلی مرتبہ بھی جنرل مشرف کے پاس کوئی خاص تحفہ نہیں تھا لہذا انہوں نےامریکہ کا دورہ شروع کرنے سے پہلے اسرائیل کے ساتھ گفت و شنید کا پتہ پھینک کر امریکی میڈیا کی زمین ہموار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کسی وجہ سے بات بہت آگے نہ بڑھ سکی۔ لگتا ہے کہ اس مرتبہ ان کو امریکہ یا امریکی میڈیا کو بہت بڑا تحفہ دینے کی ضرورت پیش آ گئی ہے جو انہوں نے ایریل شیرون سے ملنے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل مشرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے ترپ کا پتہ کھیل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد جب ان کے پاس کھیلنے کو کچھ نہیں بچے گا تو بازی کہاں اور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ ہمارا خیال ہے کہ پاک اسرائیل پیش رفت میں دونوں ریاستوں کے باہمی مفادات کا زیادہ ہاتھ ہے اور حکمرانوں کی ذاتی پسند نا پسند کا کم ۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے پاکستان ہندوستان کے سامنے سرنگوں ہونے سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تو تاریخ ہی بتائے گی کہ یہ فیصلہ درست تھا یا غلط۔

ذریعہ – بی بی سی اردو

آجکل عمرہ سیزن کی وجہ سے مصروفیت بہت ہی زیادہ ہیں لکھنے کے لئے وقت ہی مل رہا، اس کے ساتھ بلاگ کی نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ اس کی دیکھ بھال کی جائے اور وقت پر اس کے لئے خوراک کا بندوبست کیا جائے۔ اس لئے بی بی سی اردو کے ذریعہ سے ایک بہت ہی اہم پوسٹ حاضر ہے اس پر تبصرہ ضرور کیجیئے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

احتیاط

Posted on 11/09/2005. Filed under: شعروادب |

محبتوں کی منزلیں طے جو کرنا
تو اپنی بے خواب راتیں
سنبھال رکھنا
جو تم نے خوبصورت لمحوں کی آس میں
جاگتے گزاریں ہیں
خوشبوئیں کے سنگ جو رہنا
تو نفرتوں سے مہکتے لمحے
سنبھال رکھنا
اگر جو تم
خوشیوں کے سنگ چلنا
تو دکھوں کی اندھیری راتیں سنبھال رکھنا
جو تم نے سحر کے انتظار میں گزاریں ہیں
مگر اتنا دھیان رکھنا
کہ پھر یہ !!!
محبتیں
یہ خوشبوئیں یہ خوشیاں
صرف چند لمحوں کی ہیں
۔۔۔۔۔ اور پھر
انہیں روٹھنے نہ دینا

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے

Posted on 11/09/2005. Filed under: متفرق |

@ قرآن مجھے جنت کا راستہ دکھاتا ہے۔
@ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔
@ مسلسل رفاقت رومان کا رنگ و روغن لوٹ لیتی ہے۔
@ میرے دامن میں نہ کلیاں ہیں نہ کانٹے نہ غبار۔
@ وہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیات۔
@ جب دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو کم ظرف پتھر اٹھایا کرتے ہیں۔
@ آدمی چاہے کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اس کی کوئی بات نہیں لیکن غلط فہمی اچھی نہیں ہوتی۔
@ رحمت حق بہانہ مے جوید (اللہ تعالٰی کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے)
@ آنکھوں پر رنگین شیشے لگانے سے دنیا رنگین نہیں ہو جاتی۔
@ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دے۔
@ جب دھول اڑتی ہے تو حسین چہرے بھی گرد آلود ہو جاتے ہیں۔
@ غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے۔
@ نکلے ہیں تو خوشبو کا نگر ڈھونڈ ہی لیں گے۔
@ بعض باتوں سے میں یقیناّ ڈرتا ہوں خاص طور پر گھٹیا کام سے میں بہت خوف محسوس کرتا ہوں۔
@ چند لمحوں کی چاشنی کے لئے زندگی داغدار کون کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

احساسات

Posted on 11/09/2005. Filed under: رسم و رواج, طنز و مزاح |

 

ہر انسان کے اپنے اپنے احساسات ہوتے ہیں۔ اپنی نوعیت میں یہ احساسات بڑی متضاد کیفیات رکھتے ہیں۔ کسی کی خوشی کسی دوسرے کا غم بن جاتی ہے۔ کسی کی آبادی کسی کی بربادی بن جاتی ہے۔ کسی کا رونا کسی کی ہنسی بن جاتی ہے۔ کسی کا گھر جلتا ہے اور کسی کے ہاتھ سینکنے کا بہانہ بن جاتا ہے۔ بات صرف احساسات کی ہے میدان جنگ میں قتل کرو تو تمغہ ملے گا، عام زندگی میں قتل کرو تو پھانسی۔ مریض پر نشتر آزماؤ تو مسیحا بنو گے کسی دوسرے پر آزماؤ تو قاتل۔ صرف احساسات بدل جانے سے اعمال و افعال کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔ ان احساسات کو نیت کا نام دیا جاتا ہے اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “ اعمال کا دارمدار نیتوں پر ہے “

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...