Archive for نومبر, 2005

نادرہ کی پھرتیاں

Posted on 29/11/2005. Filed under: پاکستان |

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کزنز میرج

Posted on 24/11/2005. Filed under: رسم و رواج |

برطانیہ میں ایک رکن پارلیمان نے کہا ہے کہ کزنز کے درمیان شادیوں پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں دکھائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھی برطانیہ میں پاکستانی نژاد خاندانوں میں جینیاتی بیماریوں والے بچے پیدا ہونے کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں تیرہ گنا زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً پچپن فیصد پاکستانی نژاد افراد کی شادیاں اپنے کزنز سے ہوتی ہیں۔ برطانوی رکن پارلیمان این کرائیر کہ کہنا ہےکہ برطانیہ میں پاکستانی برداری کو ایک مختلف ترز زندگی اپنانا ہوگا اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی شادیاں اپنے خاندانوں سے باہر کرنا ہوگی۔

خود میری بھی کزن میرج ہے اور میری بیٹی سارہ البینو Albino پیدا ہوئی جسے ڈاکٹر حضرات کزنز میرج کی وجہ بتاتے ہیں، گوری چٹی رنگت، گولڈن بال، اس کی نظر ہلکی سی کمزور ہے کچھ بڑی ہو جائے تو عینک کی ضرورت پڑے گی باقی الحمداللہ جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ ہے، اللہ اسے لمبی عمر اور صحت دے۔ آمین آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا کزنز میرج ٹھیک ہے اور کیا واقعی ایسے بچے کزنز میرج کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور کیا واقعی کزنز کے درمیان شادیوں پر پابندی عائد کر دینی چاہیے؟ کیا اس سے روایتی خاندانی ڈھانچے پر برا اثر پڑے گا یا پھر کیا یہ موقف طبی نقطہ نظر سے صحیح ہے؟ اس بارے میں مزید پڑھیے (کالم ۔ جاویدچوہدری)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زلزلہ بطور پروڈکٹ

Posted on 23/11/2005. Filed under: پاکستان |

ملٹی نیشنل کمپنیوں اور این جی اوز کی زبان میں ہر بحران ایک اپرچونٹی کو جنم دیتا ہے اور ہر کرائسس اپنا برانڈ بیچنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اس فلسفے کو جیتا جاگتا دیکھنا ہو تو ان دنوں مظفر آباد تشریف لائیے۔جہاں زلزلے نے اشتہاربازوں اور بینر سازوں کے دن پھیر دئیے ہیں۔ہر ملبے کے ڈھیر پر ایک پیغام ہے۔ہر سلامت دیوار پر ایک پوسٹر۔ کشمیر کی حکومت جو ویسے تو خال خال نظر آتی ہے مگر بڑے بڑے ہورڈنگز پر بین الاقوامی برادری کا شکریہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ اگرآپ کو کہیں یہ نعرہ اسپرے سے لکھا نظر آجائے کہ ہم نہ رہیں گے مگر الطاف رہے گا۔تو سمجھ لیجئے کہ آس پاس قائدِ تحریک کی خصوصی ہدایت پر کوئی خیمہ بستی ہے یا پھر کیمپ لگا ہوا ہے۔ اریب قریب ہی اسلامی جمیعت طلبہ کا کوئی بینر لگا ہوگا۔یااللہ زلزلہ نہیں رحمت بھیج۔ پلاؤکباب کے نام سے دھندا کرنے والی ایک فوڈ کمپنی کا جگہ جگہ یہ پیغام ہے کہ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے گا۔سنگریزوں کی صورت میں آندھی آئے گی اور پھر تمہیں کوئی نہ بچا سکے گا۔یہ بات تحقیق طلب ہے کہ اس تنبیہ کا آخر پلاؤ کباب سے کیا تعلق ہے۔ امدادی مہم میں یوفون آپ کے ساتھ۔کنکشن صرف دوسو روپے میں۔ کراچی کی کوئی برکاتی فاؤنڈیشن بتا رہی ہے کہ ہمارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ عمران خان کی رنگین تصویر ہر پانچویں کھمبے سے لٹکی ہوئی لوگوں کو جینے پر اکسا رہی ہے۔ المصطفائی ٹرسٹ نے صفائی مہم کے اتنے بورڈ لگائے ہیں کہ پہلے سے تنگ پہاڑی گلیاں اور بھی تنگ ہوگئی ہیں۔ ملبے کے ڈھیر پر لگے الحرم سٹی کے فیزٹو کے اشتہار میں یہ خوشخبری ہے کہ زلزلے سے بے گھر افراد کے لیے پلاٹ کی خریداری پر بیس فیصد خصوصی رعایت۔جبکے زلزلہ زدگان کو نوید ہو کہ اب انکے لیے گیس سلنڈر پر سو روپے کا خصوصی ڈسکاؤنٹ۔ یوں لگ رہا ہے کہ مظفر آباد میں زلزلہ نہیں آیا بلکہ ایک بڑی صنعتی نمائش لگی ہو جس میں ہر برانڈ، کمپنی اور پروڈکٹ کا اسٹال لگا ہوا ہے۔ صرف ایک بینر ایسا نظر آیا جس میں کوئی اطلاع ہے۔ گرین وڈ ہائی اسکول کے تمام اساتذہ اور طلبا محفوظ ہیں اور کلاسوں میں واپس آ سکتے ہیں۔ وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پاکستانی سیاست کے چمچے‘ لوٹے اور خوشامدی کلچر

Posted on 23/11/2005. Filed under: پاکستان, سیاست |

جناب حیدر علی صاحب کی یہ تحریر بھی غور سے پڑھیے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجیئے۔

مبالغہ آمیز تعظیم، مدح اور لایعنی قصیدہ گوئی شرک کا پہلا دیابچہ ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و‌سلم نے خوشامد [*] کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ بعض روایات میں خوشامدی کے منہ میں مٹی ڈالنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔ ہادی‌ٴ عالم صلی اللہ علیہ و‌سلم نے اس نکتہ کا بڑا خیال رکھا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام والی مثال اکثر پیش نظر رکھی، ایک موقع پر ارشاد فرمایا ‘میری اس قدر (مبالغہ آمیز) مدح نہ کیا کرو جس قدر نصارٰی ابن مریم کی کرتے ہیں، میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا فرستادہ ہوں‘ (صحیح بخاری)
ہمارا دین خوشامد اور چاپلوسی کی مذمت کرتا ہے۔ برصغیر میں مغلیہ دور حکومت میں اس فن نے زبردست ترقی کی۔ اکبر بادشاہ کی اس قدر قصیدہ گوئی کی گئی کہ وہ بدبخت دین اسلام کی اساس پر کلہاڑہ چلانے لگا اور بدمست ہوکر کلمہ طیبہ میں ترمیم کرنے کی جسارت کربیٹھا۔ اس کے بعد جہانگیر اور شاہ جہاں کے دربار بھی مسخروں اور قصیدہ خوانوں سے بھرے رہے۔ پھر مغل حمومت زوال کا شکار ہوئی، قصیدہ خوانوں نے نۓ حکمرانوں کی تعریفوں میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیۓ۔ انگریز حکمرانوں کو عادل ہونے کے سرٹیفیکیٹ عطا ہوۓ۔ برصغیر آزاد ہوا تو اس قماش کے لوگوں نے پاکستان کا رخ کیا۔ یہ ہر آنے والے کے گن گاتے اور جانے والے کی طعن وتشنیع کرتے۔ سکندر مرزا کو جناح ثانی قرار دیا گیا۔ ایوب خان کو ایشیا کا ڈیگال قرار دیا گیا۔ ایوب خان کی رخصتی کے بعد قصیدہ گو شاعروں اور طوطا چسم سیاستدانوں نے دنیا کی ہر خرابی ابوب خان کے اندر ڈال دی۔ پھر یحیٰی خان کو مدبر قرار دیا گیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو قائد عوام اور فخر ایشیا قرار دیا گیا۔ یہ القاب دینے والے بھٹو صاحب کی موت کے بعد ان کے بڑے ناقدین بن گۓ۔ جنرل محمد ضیاء الحق کو امیر المؤمنین [اور مرد مؤمن، مرد حق] قرار دیا گیا۔ پھر یکے بعد دیگرے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے گن گاۓ گۓ۔ بینظیر بھٹو کے گن گانے والوں کی اکثریت آج بھی ان کی پارٹی میں موجود ہے۔ نواز شریف صاحب کے کچھ درباریوں کو آج نیا آستانہ میسر آگیا ہے۔
١٢ (بارہ) اکتوبر ١٩٩٩ء تک چودھری شجات حسین، چودھری پرویز الٰہی، شیخ رشید احمد، رانا نذیر احمد، جاوید ہاشمی، گوہر ایوب خان اور چودھری نثار علی خان [وغیرہ] میاں صاحب کے قصیدہ خواں تھے۔ چودھری شجات مرکزی وزیر داخلہ تھے اور چودھری پرویز پنجاب اسمبلی کے اسپیکر۔ مرکزی اور صوبائی بیوروکریسی خصوصاً پولیس چودھری برادران کی زیر کمان تھی۔ نواز شریف کی مہربانیوں سے چودھری برادران کے کارخانے شاہراہ ترقی پر تیز رفتاری سے گامزن تھے۔ میاں صاحب کی گاڑی کو گجرات میں کندھوں پر اٹھایا گیا۔ ١٩٩٣ء کے انتخابات میں بری طرح پٹنے کے بعد میاں صاحب کی مہربانی سے یہ لوگ ١٩٩٧ء کا انتخاب جیت سکے تھے۔ ان حضرات نے میاں نواز شریف کو دور حاضر کا شیر شاہ سوری قرار دیا تھا۔ گوہر ایوب خان نے تو اپنے آبائی شہر ہری پور کا نام ‘نواز شریف سٹی‘ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوۓ ٩ اکتوبر ٩٨ء کے دن دو سینئر لیفٹننٹ جنرل (علی قلی خان اور خالد نواز) سپرسیڈ کۓ اور تیسرے نمبر سے اٹھا کر جنرل پرویز صاحب کو آرمی چیف بنایا۔ جنرل پرویز صاحب نے شروع شروع میں اپنے حلف کی پاسداری کی ‘میں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا اور ١٩٧٣ء کے آئین کی مکمل حمایت کروں گا جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے،۔ پھر ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ء کی شام جب نواز شریف کے حواری ان کے گن گا رہے تھے، جنرل پرویز مشرف نے اپنے حلف کو ردی کی ٹوکری میں پھنک دیا، اپنے محسن کو ہتھکڑی لگوائی، اس کے بھائی اور بیٹے کو پابند سلاسل کیا۔ پھر موصوف کی نیب حرکت میں آگئی۔ میاں صاحب کے حواری کھسکنے لگے۔ عمر بھر دوستی نبھانے والے جنرل پرویز صاحب کی قصیدہ خوانی میں مصروف ہوگۓ۔ وفاداریاں بدلنے کے نۓ ریکارڈ قائم ہوۓ۔ چودھری برادران، شیخ رشید، رانا نذیر، گوہر ایوب اور مرحوم لالیکا اب اپنے سابق محسن کے خلاف گرجنے برسنے لگے۔ جو شخص میاں صاحب کے انتخابی نشان ‘شیر‘ پر فخر کرتا تھا اس نے جنرل صاحب کی میڈیا مینجری سنبھال لی۔ چاپلوسی کی ایسی داستانیں رقم ہوئیں کہ شاید فیضی کی روح بھی شرما جاۓ۔
اب چودھری پرویز الٰہی صاحب نے فرمایا ہے کہ صدر پرویز صاحب قوم کے دلوں میں بستے ہیں، ان جیسا کوئی آیا ہے نہ آۓ گا۔ (استغفر اللہ) چودھری صاحب نے اعلٰی انسانی اقدار پر کلہاڑہ چلایا ہے۔ ایک کلمہ گو مسلمان کی حیثیت سے ہمارا یہ پختہ ایمان ہے کہ کائنات ارضی وسماوی میں صرف ہادیٴ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس صفت سے متصف ہیں۔ باقی کسی شخصیت کے بارے میں ایسے گمراہ کن نعرے انسان کو کفر کے نزدیک کردیتے ہیں۔ ١٢ اکتوبر ٩٩ء سے لے کر آج تک جو کچھ ہمارے غریب عوام پر بیت چکی ہے، اس تناظر میں واقعی جنرل صاحب عوام کے دلوں میں بستے ہیں؟ حالیہ دو ہفتوں میں آٹا، لوہا، پیٹرول اور گوشت کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس نے جنرل صاحب کی مقبولیت کو چار چاند لگادیۓ ہیں۔ بادی النظر میں جنرل پرویز صاحب کے مندرجہ ذیل اقدامات کس طرح چودھری پرویز صاحب کی نظروں سے محو ہوگۓ ہیں؛
١) آئینی اور قانونی حکومت کو بزور بندوق برطرف کرنا، وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں لگانا، جذبہ انتقام کی شدت میں وزیر اعظم کے کم سن بیٹے کو قید کرنا۔
٢) شریف اور بزرگ صدر کی توہین کرنا اور ذلت آمیز طریقے سے صدر کو نکالنا اور بغیر قانونی، اخلاقی جواز کے صدر کا عہدہ سنبھالنا، پھر نام نہاد ریفرینڈم پر اربوں کا سرمایہ ضائع کرکے صرف دو فیصد ووٹ حاصل کرکے ٥٧ فیصد ڈکلیئر کرنا۔

٣) افغانستان کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کو امریکی درندوں سے قتل کروانا پھر ہادیٴ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتیوں کو پکڑ پکڑ کر امریکی بھیڑیوں کے حوالے کرنا۔
٤) یہود ونصارٰی کی پرزور امداد کرنا اور ملکی فضائی اڈوں پر کفار کے جہازوں کو سہولتیں فراہم کرنا تاکہ وہ اڑ کر افغان مسلمانوں پر بمباری کرسکیں۔ قندھار کی جامع مسجد میں شہید ہونے والے ٣٠٠ نمازیوں کے قتل کی براہ راست ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
٥) علمی فرعون کی ہر خواہش کی تکمیل کرنا یہاں تک کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا شوشہ چھوڑ کر ڈیوس میں یہودی سے مصافحہ کرنا۔
٦) قابل فخر اور بہادر مسلم افواج کو راسخ العقیدہ مسلمانوں کے خلاف قبائلی علاقوں میں لانچ کرکے عوام اور فوج کے درمیان خلیج حائل کرنا۔

یوں تو جنرل صاحب کے کارناموں کیلۓ پوری ایک کتاب بھی کافی نہیں ہوگی۔ تاہم اگر چودھری پرویز الٰہی کے بیان پر غور کیا جاۓ تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہماری سیاست ایک دلدل ہے اور قصیدہ گوئی اس کا ایک جزو لا ینفک۔ کاش آج ہم سوچ لیں کہ کل ہم نے روز جزاء اس کے حضور پیش ہونا ہے، وہاں فرعون ونمرود بھی اپنے درباریوں کے ہمراہ کھڑے ہوں گے، آج کا فرعون اور اس کے حواری بھی حاضر ہوں گے، وہیں تورا بورا، دشت لیلٰی، جلال آباد اور قندھار کی جامع مسجد کے شہداء بھی حاضر ہوں گے، وہیں ہم سب حاضر ہوں گے۔ اگر وہاں ملا محمد عمر اور شیخ اسامہ بن لادن کے علاوہ نہتے بے گناہ افغان شہداء نے ہماری مہیا کی گئی لاجسٹک سپورٹ کے خلاف استغاثہ دائر کردیا کہ یا قہار وجبار! پوچھ ان سے ہم نے کون سا گناہ کیا تھا کہ انہوں نے ہمیں یہود ونصارٰی کے سرخیل امریکی درندوں کے حوالے کردیا تھا؟ یا احکم الحاکمین! پوچھ ان سے کے ویگن میں سوار ١٣ بے گناہوں نے کون سا جرم کیا تھا کہ انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

لیکن سسٹم فیل ہو چکا ہے

Posted on 22/11/2005. Filed under: سیاست |

جاوید چودھری صاحب روزنامہ جنگ کے بہت بڑے لکھاری ہیں، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے انداز تحریر سے میں بیحد متاثر ہوں، ان کے قلم سے لکھی ایک تحریر ، لیکن سسٹم فیل ہو چکا ہے ، نے مجھے بہت متاثر کیا اس لئے اسے میں آپ کے سامنے لے آیا ہوں، آپ بھی پڑھیے اور اپنی رائے سے بھی آگاہ کیجیئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

The True Furqan سچاقرآن

Posted on 16/11/2005. Filed under: اسلام |

امریکہ میں چھپنے والی ،الفرقان الحق، نامی قرآن امریکہ میں فروخت ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ اس نقلی قرآن کو سیفی السیفی اور مہدی نامی دو عرب عیسائیوں نے تصنیف کیا ہے، اس کتاب کی چھپائی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ میں ہوئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی اشاعت امریکی صدر بش کی زیر نگرانی ہوئی ہے۔ الفرقان الحق یعنی سچا قرآن کے دونوں مصنفوں نے اس نقلی قرآن کو قرآن مجید جیسا بنانے کی کوشش کی ہے اور اس نقلی قرآن کا ڈیزائن بھی قرآن جیسا ہے۔

 

 

 

 

ملائیشیا کی بین القوامی اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر سانو قطب مصطفٰے کا کہنا ہے کہ میں اس بات پر خوش ہوں کہ مسلمانوں نے اس نقلی قرآن کو تصنیف کرنے والوں کی کوششوں کو بے نقاب کیا ہے۔ الفرقان الحق نامی اس نقلی قرآن کے مصنفوں نے قرآن مجید کی طرح اس میں 77سورتیں لکھی ہیں اور قرآن مجید کی طرح ہر سورت کے علیحدہ علیحدہ نام بھی رکھے ہیں۔ الفرقان الحق نامی اس نقلی قرآن کا عربی سے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ کتاب عیسائیوں کے لیئے لکھی گئی ہے. اقصی مسجد کے امام عکرمہ صابری جنہیں مفتی اعظم بھی کہا جاتا ہے ہیں کا الفرقان الحق نامی اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی کتاب میں ترمیم کریں اور اس الفرقان الحق نامی نئی کتاب کو فروغ دیں جبکہ امریکہ نے سرکاری طور پر اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم یہ مانا گیا ہے کہ اس کتاب کی چھپائی کا کام امریکہ میں ہوا ہے۔ الفرقان الحق کے دونوں عیسائی مصنفوں نے اس بھونڈی حرکت پر یقیناََ محنت کی ہو گی۔ لیکن اس کتاب کے شروع میں ہی وہ ایک بڑی غلطی کر گئے کیونکہ کتاب کے مصنف وہ خود ہیں لیکن انہوں نے شروع میں ہی اس کتاب کو خدا سے منسوب کرتے ہوئے لکھ دیا کہ ََ یہ کتاب سچا قرآن ہے جو ہم نے نازل کی ََ اس طرح ان مصنفوں نے الفرقان الحق کو خود تصنیف کر کے اسے خدا سے منسوب کر دیا۔

 

اس بارے میں مزید پڑھیے 0201

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اس عید پر

Posted on 15/11/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

رمضان المبارک میں جب شیطان قید میں تھا تو مقامی کیبل نیٹ ورک پر بھی مجرے اور فحش گانے بند تھے لیکن عید کے دن شیطان کو آزادی ملتے ہی اس نے اپنی مصروفیت کا آغاز مقامی کیبل نیٹ ورک سے کیا اور فحش گانے اور مجرے پھر سے شروع ہوگئے۔
عید کے دنوں میں ہر چیز پر عید ٹیکس نافذ تھا، ہر چیز عام دنوں کی نسبت تین چار روپے زیادہ میں فروخت ہوئی، خاص طور پر بچے عید ٹیکس کی زد میں تھے ان ننھوں سے تو ہر چیز کی قیمت کئی گناہ زیادہ وصول کی گئی، یہی عالم کھولوں کی دکانوں پر تھا عام دنوں میں ایک روپے میں ملنے والا کھلونا دو روپے میں دستیاب تھا۔ اس طرح بچوں کی اکثر تعداد دن چڑھتے ہی سب کچھ لٹا کر باقی وقت گھر میں دبکے رہے۔
اس عید پر ایک نیا ٹرینڈ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ جب ہزاروں بچوں نے جھولوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء پر پیسے خرچ کرنے کی بجائے نقلی پستول اور کلاشنکوفیں خریدیں، یہ بچے سارا دن گلی محلوں میں انفرادی اور ٹولیوں کی شکل میں چور سپائی، فلمی ہیرو اور ولن کا رول ادا کرتے رہے۔
معصوم بچوں میں یہ رجحان خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں، ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیےکہ آکر بچوں میں اتنی بڑی تبدیلی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ حکومت کو خاص طور پر اس جانب توجہ دینی چاہیے اور ان خطرناک ہتھیاروں کی جگہ سائنسی اور تعلیمی مواد پر مبنی کھلونوں کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اندھیرے نہ بڑھاؤ

Posted on 15/11/2005. Filed under: تعلیم, رسم و رواج, سیاست |

اخبار میرے سامنے پڑا ہے جس میں لکھا ہے کہ لاہور میں ایک شخص نے غربت اور بیروزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔ ایسی خبریں تقریبا ہر روز اخبارات میں شائع ہوتی ہیں اور ہم پڑھ کر اخبار ایک طرف پھینک دیتے ہیں مگر جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو قلم اٹھا لیتے ہیں کہ یہی ہماری طاقت ہے۔ یہ شخص جس نے خود تو بھوک سے جان چھڑا لی لیکن اس کی بیوی بچے اب تاعمر غربت کی صلیب پر لٹکے رہیں گے، نہ مریں گے نہ جی سکیں گے۔ حیرانگی ہے اس طرز حکمرانی پر جس میں بھوک سے بلکتی رعایا کی چیخیں حکمرانوں کی راتوں کی نیندیں خراب نہیں کر سکتی کہ ان کے وسیع و عریض محلوں میں غریبوں کی آہ و بکا کی آواز ہی نہیں پہنچ سکتی۔ یہ گلا سڑا نظام کب تک چلے گا؟ بھوک سے مرنے والے کب تک خاموشی سے مرتے رہیں گے؟ یہ ظالم لوگ اس دن سے ڈریں جس دن بھوک سے مرنے والوں کے ہاتھ ان کے گریبانوں تک پہنچیں گے کہ اللہ کی نگری میں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں ۔۔۔ لیکن دیر بھی کتنی؟ کیا پتہ کب مشیت اپنا فیصلہ صادر کر دے۔ اس زمیں پر بڑے بڑے طرم خان، قارون، فرعون، ہامان ہو گزرے ہیں جو سمجھتے تھے کہ ان کی خدائی کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا لیکن اللہ جب ان کو سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو کسی موسٰی کو پیدا کر دیتا ہے اور پھر آنکھیں دیکھتی ہیں کہ ظالم اپنے ظلم و ستم کے گہرے سمندروں میں غرق ہو جاتا ہے۔ اے حکمرانو ! اللہ کے انتقام سے ڈرو اس کی مخلوق کو رزق سے محروم نہ کرو، یاد رکھو اللہ کی چکی دیر سے ضرور پیستی ہے لیکن بڑا باریک پیستی ہے۔ اے آج کے حکمرانو ! یاد کرو مدینے کے اس حکمران کو جس نے کہا تھا کہ “دریا دجلہ کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر گیا تو اس کا ذمہ دار میں ہوں گا“ آہ ! آج کوئی عمر نہیں جو غلے کی بوری پیٹھ پر اٹھائے اور نوکر سے کہے کہ“ نہیں! مجھے اٹھانے دو کیونکہ کل اللہ کو جواب بھی میں نے دینا ہے“۔ جمع تفریق کے ماہر ہمارے وزیراعظم آئے روز ٹی وی پر آکر قوم کو خوشخبری سناتے ہیں کہ ہم نے اپنا سارا قرضہ واپس کر دیا ہے اب ہم مزید قرض نہیں لیں گے ہمارے پاس اربوں ،کھربوں کے ذخائر جمع ہو چکے ہیں اب ہم قرضہ لینے کی بجائے دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے کہ اللہ کے بندے اگر آپ کے پاس اربوں، کھربوں کے ذخائر ہیں تو کیا وجہ ہے کہ لوگ غربت اور بھوک سے خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ آپ روزمرہ کی اشیا سستی کیوں نہیں کرتے؟ بیروزگاروں کو روزگار فراہم کیوں نہیں کرتے؟ غریبوں کو ان کا حق کیوں نہیں دیتے؟ بھوکوں کے منہ میں نوالہ کیوں نہیں دیتے؟ حساب کتاب کے کھاتوں کے علاوہ یہ ذخائر دکھائی کیوں نہیں دیتے؟ یہ کیسا انصاف ہے کہ کچھ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور کچھ کروڑوں میں کھیل رہے ہیں اگر یہی انصاف ہے تو بے انصافی کے الفاظ اپنی ڈکشنریوں سے کھرچ کر نکال دو کیونکہ ایک انسان بھوک سے نہیں مرا، ایک دیا اور بجھا ہے قوم کی امیدوں کا، ملت کی امنگوں کا، اس ملک کے روشن مستقبل کا۔ اے ناخداؤ ! خدارا اس دیئے کو بجھنے نہ دو، اسے جلائے رکھو، اسے جلتا ہی رہنے دو کیونکہ اندھیرے بڑھ جائیں تو وہ روشنی کو نگل لیتے ہیں۔ لیکن اندھیروں کی قسمت میں دوام نہیں ہوتا، پھر ایک وقت آتا ہے کہ اندھیرا اندھیرے کو کھا جاتا ہے اور پھر انقلاب کا گجر بج اٹھتا ہے اور تازہ دم روشنی کی کرنیں پھوٹ کر بام ودر کو منور کر دیتی ہیں۔ اے حکمرانو !، اے منصوبہ سازو !، اے جمع تفریق کرنے والے ذہنو !، اے منصنفو !، اے مفکرو !، اے دانشورو ! امید کا دیا چلتے رہنے دو، اندھیرے نہ بڑھاؤ ۔۔۔۔۔۔ ورنہ پھر انقلاب کے گجر کا انتظار کرو۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

دنیا بغیر یہودیت کے

Posted on 14/11/2005. Filed under: پاکستان |

تہران کے میئر سے ترقی کا زینہ طے کرتے ہوئے اس سال کرسی صدارت تک پہنچنے والے احمدی نژاد نے پچھلے دنوں ََ دنیا بغیر یہودیت ََ کے عنوان سے ایک کانفرنس سے بھرپور انداز میں خطاب کیا اس کانفرنس کا انعقاد ایرانی طلبہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں ان کا مخاطب خاص طور پر پاکستان تھا انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا عالم اسلام کی شکست ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جو اسلامی رہنما اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں دراصل وہ یہودیت کے مقابل مسلمانوں کی شکست کو تسلیم کر رہے ہیں، جو ملک کسی بھی وجہ یا سیاسی دباؤ کی بنیاد پر اسرائیل سے تعلقات کے جواز پیدا کر رہے ہیں انہیں مسلم امہ کی مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ ان کے اس اقدام سے دنیائے اسلام یہودیت کے سامنے شرمندہ ہو رہی ہے۔
غزہ کی پٹی کے حوالے سے اسرائیلی اقدام کو ایک چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا اس اقدام سے یہ مقصد ہے کہ دنیائے اسلام اس کو تسلیم کریں جو کہ بالکل ناقابل قبول ہے کیونکہ اسرائیل نے پوری فلسطین ریاست کو مقبوضہ بنایا ہوا ہے اور وہ خود مقبوضہ علاقوں میں کارروائیاں کر کے ایک طرف مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں کو ہی ان کا میڈیا بدنام کر رہا ہے۔ اس موقعہ پر احمدی نژاد نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے دو طرفہ اقداموں سے امریکہ کو باز آ جانا چاہیئے ورنہ یہ صورتحال تمام علاقوں میں اضطرابیت کی کیفیت پیدا کریگی۔ ایرانی صدر نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے زیر اثر آکر اپنی آزادی اور سالمیت کا سودا نہیں کریں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلاعنوان ۔2

Posted on 08/11/2005. Filed under: متفرق |

# جج قانون کا ایک ایسا طالب علم ہوتا ہے جو اپنے امتحانی پرچے کی مارکنگ بھی خود کرتا ہے۔

# دلائل کو اونچا اور آواز کو نیچا رکھو۔

# جتنی کوشش آپ اچھا نظر آنے کے لئے کرتے ہیں اس سے کہیں کم کوشش کے ساتھ آپ سچ مچ اچھے بن سکتے ہیں۔

# بارات بھی جنازہ ہی ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس کا ‘مردہ‘ دولہا اور ‘قبر‘ دلہن کہلاتی ہے۔

# زندگی میں ہاتھی سے نمٹنا آسان جبکہ مکھیوں اور مچھروں سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے پاکستان کی سیاسی زندگی اس قول کی صداقت کا ثبوت ہے۔

# ہر غریب کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تو دنیا امیر ہو سکتی ہے۔

# اچھی ریاست کو ماں کی طرح ہونا چاہیے اور گھٹیا ریاست کو سوتیلی ماں جیسا۔

# اپنے اعمال پر غور کرو ! کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے بعد آنے والوں کے لئے نشان عبرت ہوں۔

# انسان کا پہلا احساس بھوک ۔۔۔ پہلی ضرورت خوراک۔

# محض ایک اچھا خیال، اعمال کی مرمت نہیں کر سکتا۔

# جس طرح دولت کسی کو شریف نہیں بنا سکتی اسی طرح افلاس کسی کو کمینہ نہیں بنا سکتا۔

# تنہائی میں خیال اور مجلس میں زبان پر قابو رکھو۔

# شہد اندھیرے میں بھی میٹھا ہوتا ہے اور زہر اجالے میں بھی زہریلا رہتا ہے۔

# ہمارے حکمران چھاچھ مانگتے ہیں اور پیالہ بھی چھپاتے ہیں۔

# حکمران مرغے ہیں تو بانگ دیں، مرغی ہیں تو انڈے دیں ۔۔۔۔ یہ تو صرف بیان دیتے ہیں۔

# گدھوں کو صرف گدھے ہی کھجلا سکتے ہیں۔

# اناج کال نہیں ۔۔۔ راج کال ہوتا ہے۔

# ہمارے دانشوروں کی اکثریت کا یہ حال کہ ‘دیگ ہوئی دم اور حاضر ہوئے ہم‘

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...