Archive for دسمبر, 2005

توبہ، استغفار

Posted on 30/12/2005. Filed under: متفرق |

 

انٹرنیٹ پر یوں ہی آوارہ گردی کرتے ہوئے مجھے چند ایسی تصویریں نظر آئی ہیں جنہیں دیکھ کر میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے، جتنی دعائیں مجھے یاد تھیں سب باری باری پڑھ ڈالی۔ اللہ کی پناہ انسان اتنا بھی ظالم ہو سکتا ہے، مجھے تو الفاظ نہیں مل رہے جو میں یہاں درج کروں۔ آپ بھی ان کو دیکھیئے اور توبہ کیجئے اور پناہ مانگیے کیونکہ بے شک جو اس کی پناہ میں آ جاتا ہے پھر تمام دنیا مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ نوٹ۔ کمزور دل حضرات سے گزارش ہے کہ ان تصویروں کو نہ دیکھیں۔

 

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

گیلیلیو Galileo

Posted on 29/12/2005. Filed under: ٹیکنالوجی |

ہماری ٹریولز ایجنسی میں دو ائرلائنز ریزرویشن سسٹم ہیں،
١۔ اباکس
٢۔ گیلیلیو
گیلیلیو سسٹم اپنی چند خوبیوں کی بدولت مجھے بیحد پسند ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ میں تمام تر ریزرویشن گیلیلیو پر ہی کروں، گیلیلیو ایک جی۔ڈی۔ایس (گلوبل ٹریول ڈسٹری بیوشن سسٹم) سسٹم ہے، اس سسٹم کے ذریعے ہم تقریبا دنیا بھر کی تمام ائرلائننز اور ہوٹلز کی بکنگ ڈیرہ غازی خان میں بیٹھے بٹھائے کر سکتے ہیں مگر یہاں جس گیلیلیو کی بات ہو رہی ہے وہ ہے یورپی یونین کا سیٹلائٹ گیلیلیو جو چودہ ہزار میل اوپر اپنے مدار میں پہنچ گیا ہے۔ اسے سیٹلائٹ نیویگیشن میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔
سیٹلائٹ نیویگیشن یعنی مصنوعی سیارچوں کی مدد سے اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے راستے کا تعین کرنا۔ اب تک اس طرح کا خلائی نظام صرف امریکہ کے پاس تھا جسے عرف عام میں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جی پی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال آج کل کار کے ڈرائیور بھی کررہے ہیں جو کار کے چلنے کے ساتھ ساتھ راستہ بتاتا رہتا ہے۔
یورپی یونین کے اس گیلیلیو سیٹلائٹ پروجیکٹ پر بھارت، چین اور دیگر ممالک نے بھی سرمایہ کاری کی ہے۔گیلیلیو نظام کے اس پہلے سیٹلائٹ کو قزاقستان کے شہر بیکانور سے سویوز راکٹ کے ذریعے بدھ کی صبح جی ایم ٹی وقت کے مطابق پانچ بجکر بیس منٹ پر خلاء میں بھیجا گیا۔ اس پہلے سیٹلائٹ کا نام ہے جیوو اے اور یہ گیلیلیو کے نظام کی کامیابی کو ٹیسٹ کرے گا۔ اس کا اہم کام یہ بھی ہوگا کہ گیلیلیو نظام کی ایٹمی گھڑیوں کی جانچ بھی کرے۔ یہ سیٹلائٹ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت طے پانے والے ریڈیو فریکوینسیز کو بھی اپنی گرفت میں لے گا اور آئندہ چھ ماہ کے اندر اس کے سِگنل زمین پر بھیجنا شروع کردے گا۔سائنسدان امید کررہے ہیں کہ یہ کام چند دنوں میں ہوسکے گا۔ جیوو-اے کو بنانے میں تین سال لگے ہیں اور یہ ایک خلائی جہاز کی طرح ہے۔
یورپ کے لیے یہ ایک اہم مشن اس لیے بھی ہے کیوں کہ اس نے کبھی زمین سے تئیس ہزار کلومیٹر کے آربِٹ میں اس طرح کوئی سیٹلائٹ نہیں بھیجا ہے۔ اس طرح گیلیلیو نیویگیشن نظام میں کل تیس سیٹلائٹ چھوڑے جائیں گے جو پوری زمین کا احاطہ کرسکیں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

دسمبر ۔ آنسو، تلخیاں اور رسوائیاں

Posted on 23/12/2005. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست |

دسمبر آتے ہی ہر پاکستانی چاہے وہ کہیں بھی ہو اس مہینے کے کسی نہ کسی لمحے اس کی آنکھیں ضرور بھیگیں گی اور وہ اس شرمناک منظر کو ضرور یاد کرے گا جب ڈھاکہ کے رمنا ریس گراؤنڈ میں ایک پاکستانی جرنیل نے بھارتی جرنیل کے سامنے لاکھوں بنگالیوں کے سامنے اپنی شکست کا اعلان کیا اور اپنا ریوالور بھارتی جرنیل کو پیش کیا۔ پھر عین اس موقع پر جب پاکستانی جرنیل اپنی شکست کی دستاویز پر دستخط کر چکا تو بھارتی جنرل اروڑہ نے پاکستانی سپائیوں کی طرف سے ایک گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔ یہ سولہ دسمبر ١٩٧١ء کا دن تھا جب پوری پاکستانی قوم کی آبرو ڈھاکہ کی مٹی میں مل گئی۔
بھارت کی اس جرات اور سازش کے پیچھے روس کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔ فوجی ماہرین کے مطابق اگر روس بھارت کی مکمل عملی حمایت نہ کرتا تو بھارت کو کبھی اتنی بڑی کامیابی حاصل نہ ہوتی۔
قدرت شاید پاکستانیوں پر مہربان ہو گئی تھی کچھ عرصہ بعد ہی وقت نے پلٹا کھایا اور ٢٥ دسمبر ١٩٧٩ء کو روسیوں نے اپنی بے پناہ طاقت اور گھمنڈ میں افغانستان پر دھاوا بول دیا، ایک طرف افغان قوم جس نے کبھی غلامی قبول نہیں کی تھی، دوسری طرف پاکستانی قوم جو اپنے ذخم چاٹ رہی تھی اور ان زخموں کے مندمل کرنے کے لئے کسی موقع کی تلاش میں تھی، اس وقت عالمی حالات کچھ ایسے تھے کہ پاکستان براہ راست اپنی فوج افغانستان میں نہیں اتار سکتا تھا مگر روسیوں کی مزاحمت کو بھی فوری روکنا تھا چنانچہ پاکستان اپنے خفیہ اداروں کو حرکت میں لے آیا اور اس کی غیراعلانیہ اور خفیہ جنگ کی کمان جنرل اختر عبدالرحمان کے ہاتھ میں دے دی گئی۔
بریگیڈئیر یوسف اپنی کتاب ‘شکست روس‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کسی جرنیل نے گوریلا کاروائیوں کو اس قدر منظم طریقے سے ترتیب دیا کہ بالاخر ایک سپرپاور کو اپنے گھر کی راہ لینی پڑی۔ پھر یہ بھی پہلی بار ہوا کہ روسی سرحدوں کے اندر جا کر چھاپہ مار کاروائیاں کی گئیں‘ اس طرح وہ دن بھی آ گیا جب دریائے آمو کے اس پار افغانستان سے واپس جانے والے آخری روسی جرنیل کی آنکھوں میں ویسے ہی آنسو تھے جیسے اسی مہینے دسمبر میں چند برس پہلے پاکستانیوں کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
اس جنگ سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ دسمبر کے اس مہینے میں افغانستان کی یادیں ہماری تلخیوں اور رسوائیوں کو کم کر دیتی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Kashmir a Human Tragedy

Posted on 21/12/2005. Filed under: پاکستان |

Kashmir Center / Kashmiri American Council
1111 Sixteenth Street, N.W. Suite 420, Washington, DC 20036.

Kashmir a Human Tragedy: Yasin Malik

Washington, D.C. December 17, 2005. The Kashmir Center / Kashmiri American Council held its inauguration of its new office this evening in Washington DC. The event was highlighted by its guest speaker, Mr. Yasin Malik, Chairman, Jammu Kashmir Liberation Front (JKLF). More than one hundred invited guests attended the event. The event was opened with a ribbon cutting ceremony of the new office by the guest of honor, followed by opening remarks by Dr. Ghulam Nabi Fai, Executive Director, Kashmir Center / Kashmiri American Council, where he called for remembrance for the victims of the recent earthquake that devastated Azad Kashmir, North Western province of Pakistan, and parts of the Valley of Kashmir. Dr. Fai emphasized the need to demilitarize the arena of conflict – the state of Jammu and Kashmir – through a phased withdrawal of the troops (including paramilitary forces) of both India and Pakistan from the area under their respective control. He said that sting could be taken out of the dispute by detaching moves towards demilitarization of the state from the rights, claims or recognized positions of the three parties involved – governments of India and Pakistan and the people of Kashmir. In order to do this, it might be necessary to make the demilitarization of the State the first step towards the reduction of Indian and Pakistani forces on their borders outside of Kashmir. It is after the peace-process is set afoot that the rights and claims of the parties can be considered in a non-violent atmosphere.
The highlight of the evening involved the remarks of Mr. Malik followed by a lengthy question and answer session. Mr. Malik spoke of his time spent visiting the devastated areas and taking part in the relief efforts for those affected by the tragic earthquake. He emphasized that he has seen the people of Pakistan as a symbol of generosity during the days he spent in Azad Kashmir in November 2005. He also remarked how the dispute regarding the territory of Kashmir has had an adverse effect on people who are divided by the Cease-fire Line (CFL). “Two men were sharing the same land but they were divided by the CFL. I wanted to give aid to a person on other side of the Cease-fire Line but could not because of the Line being in dispute.” Mr. Malik stated that “the Indian soldier told me that he could not let distribute aid to the other person unless it was cleared through political channels first, which would take some time.” The words of Mr. Malik only underscored the necessity of India and Pakistan to be more flexible in terms of the CFL and the distribution of aid from one side to another.
Mr. Malik also spoke of the necessity of Kashmiri involvement in the current peace process between India and Pakistan. “Without proper representation of the 14 million people of Kashmir, how can we come to a reasonable solution without input from those they are negotiating about.”
Mr. Malik is will known in international circles as a man whom traveled to over 5000 villages in Kashmir on foot, holding over 6000 meetings in the Valley of Kashmir, Jammu, as well as the Ladakh Provinces. Mr. Malik collected over 1.5 million signatures stating what the people of Kashmir need to be included in the negotiations. Following this two-year trip throughout Kashmir, a photo exhibition was held in New Delhi as well as in Islamabad in 2005.
Mr. Malik said that the Kashmiri people have over 5000 years of history. Muslims, Buddhists, Sikhs, and Hindus have lived together for centuries in Kashmir. He concluded his remarks by stating that the people of Kashmir are for peaceful negotiations but insisted that they [the people of Kashmir] would like to have a seat on the negotiating table.
Mr. Altaf Qadri, JKLF Chief delegate in Azad Kashmir told the audience that it is absolutely necessary that the wishes of the Kashmiri people need to be ascertained for reaching a final settlement. He also thanked the people of Pakistan for their generosity toward the affected people of Azad Kashmir.
Mr. David Wolfe of the Kashmir center thanked the audience for their participation. The event was concluded with a dinner for attendees to mingle and freely discuss their views with Mr. Malik and others attending the dinner

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

الخدمت سائبان

Posted on 21/12/2005. Filed under: پاکستان |

خدا کے عاشق تو ہيں ہزاروں ، بنوں ميں پھرتے ہيں مارے مارے
ميں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پيار ہو گا

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

افسانہ وراثت

Posted on 20/12/2005. Filed under: متفرق |

تحریر – ایم مبین ضلع تھانہ (مہاراشٹر انڈیا)

ردّی والا اُن ساری کتابوں کو تول کر تھیلےمیں بھر رہا تھا جو اُنھوں نےگذشتہ تیس چالیس سالوں میں جمع کر رکھی تھیں اور وہ حسرت سےاُن کتابوں کو ردّی والے کے تھیلوں میں گم ہوتے دیکھ  رہے تھے۔ ردّی والا جب بھی کوئی کتاب اپنےترازو میں رکھتا ‘اُس کتاب کےسر ورق پر نظر پڑتےہی اُس سےوابستہ ایک کہانی ذہن میں اُبھر آتی۔ یہ کتاب اُنھوں نےدہلی سےمنگوائی تھی ۔ اِس کتاب کوانھوں نے کلکتہ سےخریدا تھا ۔ یہ کتاب مصنف نےخود اُنھیں تحفہ کےطور پر دی تھی۔ یہ کتاب اُنھیں انعام میں ملی تھی ۔ یہ کتاب اُنھوںنےایک لائبریری سےچرائی تھی ۔ کیونکہ یہ نایاب تھی لیکن اِس کتاب سےاُن کےعلاوہ کوئی بھی فیض حاصل نہیں کرسکتا تھا ۔ یہ لائبریری میں پڑی دھول کھارہی تھی ۔ اُنھیں لگا وہی اِس کتاب کو اپنےپاس رکھ کر اس کا بہتر استعمال کرسکتےہیں ۔ اس لئےاِس کتاب کو چرانا بھی کوئی گناہ محسوس نہیں ہوا تھا ۔ ان کتابوں میں اُن کی اپنی لکھی ہوئی کتابیں بھی تھیں ‘کچھ اچھی حالت میں کچھ خراب حالت میں ۔ شاید وہ آخری جلدیں تھیں لیکن پھر بھی اِنہیں ردّی میں فروخت کرتےہوئےاُنھیں کوئی دُکھ محسوس نہیں ہورہا تھا ۔ اُنھوں نےاپنےدِل پہ جیسےایک پتھر رکھ دیا تھا ۔ گذشتہ تیس چالیس سالوں میں اُنھوں نےجتنا پیار ، محبت اُن کتابوں کو دیا تھا ، ایک لحظہ میں سب ختم کرلی تھیں ۔ کبھی گھر کا کوئی فرد کسی کتاب کو غلط جگہ پر رکھ دیتا تھا تو وہ بھڑک اُٹھتےتھی۔ اگر کسی سےکتاب کا کوئی ورق پھٹ جاتا تو اُس کی تو شامت ہی آجاتی تھی ۔ گھر میں اکثر اُن کی کتابوں اور کاغذات کو اِدھر اُدھر رکھنےپر تنازعہ پیدا ہوتا رہتا تھا ۔ لیکن آج اُنھیں اُن ساری کتابوں کو گھر سےوداع کرنا پڑ رہا تھا ۔ کتابوں کےساتھ کاغذات کا ایک ڈھیر بھی ردّی والےکےتھیلوں میں جارہا تھا ۔ وہ کاغذات اُن کی ادھوری کہانیاں ، نوٹس وغیرہ تھے۔ کسی کتاب کو پڑھ کر اُنھوں نےجو نوٹس لکھےتھےیا پھر کسی افسانےکو لکھنےسےپہلےجو خاکےتیّار کئےتھے۔ اس کےعلاوہ اخبارات اور رسائل کی کٹنگ کاایک ڈھیر تھا ۔ اِس ڈھیر میں اُن کےمضامین بھی تھےاور کچھ یادگار اور کارآمد مضامین بھی جن کےتراشےاُنھوں نےبرسوں سےسنبھال کر رکھےتھے۔ اُن کی نظر میں اِن تراشوںکی حیثیت بہت کارآمد تھی ۔ لیکن شاید دُنیا کی نظر میں بیکار ردّی کےٹکڑے۔ کچھ مشہور ادبی رسائل کےگذشتہ دس پندرہ سالوں کےتمام شمارےجو شاید اہلِ ذوق کےلئےقیمتی ہوں ، لیکن اب وہ ردّی کےمول بک رہےتھے۔ وہ کُرسی پر بیٹھےردّی والےکو اُن چیزوںکو تولتا دیکھ رہےتھے۔ وقفہ وقفہ سےبہو اور بیٹا آکر ایک اُچٹتی سی نظر اِس کاروائی پر ڈال جاتےتھے۔ وہ بار بار یہ دیکھنےکےلئےآتےتھےکہ کون سی چیزیں فروخت ہورہی ہیں اور کون کون سی باقی ہیں ۔ بڑی سی کتابوں کی الماری کی کتنی جگہ خالی ہورہی ہے۔ اُنھوں نےبھی دِل پر پتھر رکھ لیا تھا اور طےکرلیا تھا کہ آج وہ اپنا کاغذ کا آخری پرزہ بھی بیچ دیں گےاور روزانہ کےذہنی تناو ¿ اور اُٹھ کھڑےہونےوالےتنازعات سےہمیشہ کےلئےنجات پالیں گے۔ اُنھیں پورا یقین تھا ۔ گھر کا کوئی بھی فرد آکر اُنھیں ایسا کرنےسےنہیں روکےگا ۔ ” ابا ،یہ ساری چیزیں آپ نےگذشتہ تیس چالیس سالوں میں جمع کی تھیں ۔ اِتنےسالوں سےانہیں سنبھال کر رکھا ۔ اپنی جان سےزیادہ اِن کی حفاظت کی ‘ پھر آج یہ سب کیوں فروخت کررہےہیں ؟ یا پھر کسی چیز کو فروخت کرنےسےروکے۔ ” آپ اِسےکیوں فروخت کررہےہیں ؟ اِسےتو آپ اپنی زندگی کا انمول سرمایہ مانتےتھے۔ “ اُنھیں یقین تھا کہ گھر کےافراد تو اِس سےخوش ہورہےہوں گے‘ گھر میں بہت بڑی جگہ خالی ہورہی ہے۔ اب اِس جگہ وہ اپنی پسند کی کوئی آرائش کی چیز رکھ سکیں گے۔ اُنھوں نےخطوط کا بڑا سا بکس بھی نکال رکھا تھا ۔ ان خطوط کےبارےمیں بھی اُنھوں نےردّی والےسےپوچھا تھا ۔ ” نہیں صاحب ! یہ تو میرےکسی کام کےنہیں ہیں ۔ اِس بوجھ کو میں یہاں سےلےجاکر کیا کروں گا ؟ “ ردّی والےکا جواب سُن کر اُنھوں نےاُسےبھی ٹھکانےلگانےکا راستہ سوچ لیا تھا ۔ آج وہ اُن تمام خطوط کو جلادیں گے۔ وہ ملک کےمشہور عالم اور مشاہیر کےخطوط تھے۔ گذشتہ تیس چالیس سالوں میں اُنھوں نےملک کےجن ادیب ، دانش وروں سےخط و کتابت کی تھیں اور جو خطوط اُن کی نظر میں تاریخی اہمیت کےحامل تھے‘ اُنھوں نےاُنھیں بڑےجتن سےسنبھال کررکھا تھا ۔ لیکن جب اُن کےبعد اِن چیزوں کا کوئی قدر دان اور اُنھیں سنبھال کر رکھنےوالا ہی نہیں ہوگا تو پھر اِنہیں گھر میں رکھ کر کیا فائدہ ‘ گھر والوں کی نظر میں تو وہ کوڑا کرکٹ ہی ہے۔ اِس لئےوہ اُن تمام خطوط کو جلا کر اہلِ خانہ کو کوڑےکرکٹ سےنجات دلا دیں گے۔ اُنھوں نےیہ بھی طےکرلیا تھا کہ اب وہ اپنےپسند کا کوئی بھی اخبار ، رسالہ یا کتاب گھر نہیں لائیں گے۔ وہ جانتےتھےکہ اُن کےاِن اقدامات سےگھر والوں کو بےحد خوشی ہوگی ۔ آج جو وہ قدم اُٹھا رہےتھے‘ اُس سےوہ گھر والوں کےچہروں پر خوشی کےتاثرات بھی دیکھ رہےتھے۔ گھر والوں کی خوشی میں ہی اُن کی خوشی تھی ۔ آخر وہ زندگی بھر گھر والوں کی خوشیوں کےلئےہی تو سب کچھ کرتےرہےتھے۔ زندگی بھر اُنھوں نےاِن سب کا خیال رکھا تھا۔ ہمیشہ یہ کوشش کی کہ انہیں کسی بات کی کمی نہ ہو ۔ اِس کمی کو پورا کرنےکےلئےوہ بارش، دھوپ ، سردی ، گرمی میں جدوجہد کرتےرہے۔ اب جب آخری عمر میں اُنھوں نےساری خوشیاں اپنےگھر والوں کےدامن میں ڈال دی ہیں تو اِن کی آخری چھوٹی سی خوشی کیوں نہ پوری کریں ؟ ڈرائنگ روم میں رکھی ان کی بڑی سی کتابوں کی الماری اور اُس الماری میں آویزاں پرانی بوسیدہ کتابوں
ےاتنےاچھےسجےسجائےڈرائنگ روم کا شو خراب ہوتا ہے۔ گھر والوںکےجو بھی ملنےوالےگھر آتےہیں ‘ ناگواری سےاُس الماری کی طرف دیکھتےہیں ‘ اُس الماری کا مذاق اُڑاتےہیں اور اُنھیں اُن کی وجہ سےخفّت اُٹھانی پڑتی ہے۔ مجبوری یہ ہےکہ اتنےبڑےگھر میں ان کتابوں کو رکھنےکےلئےکوئی اور جگہ نہیں ہےاور ان کا خیال ہےکہ کتابیں ڈرائنگ روم کی زینت ہوتی ہیں ۔ اُنھیں دیکھ کر ہی آنےوالا صاحبِ خانہ کی علم دانی ، اُس کےرُتبےکا اندازہ لگا لیتا ہے۔ اِس لئےکتابیں ڈرائنگ روم میں ہی رکھی ہونی چاہیئے۔ انہی سوچوں کا ٹکراو ¿ آئےدِن گھر کا سکون غارت کئےرہتا تھا ۔ اپنی کوئی کتاب یا رسالہ نہ ملنےپر وہ چراغ پا ہوتےتھے۔ پہلےاُن کےغصےسےہر کوئی ڈر جاتا تھا ۔ لیکن اب اُن کےغصےسےکوئی بھی نہیں ڈرتا ، اُن سےاُلجھ جاتا ہےاور اُنھیں باتیں سنانےلگتا ہے۔ ” اپنےکوڑےکرکٹ کی خود ہی حفاظت کیا کریں ۔ ہمیں اِن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سارا کوڑا کرکٹ جمع کرکےاِتنےاچھےڈرائنگ روم کےشو کو خراب کررکھا ہے۔ “ یہ سُن کر اُن کےدِل کو ایک ٹھیس لگتی تھی ۔ گویا اُن کا خواب اب گھر والوں کی نظر میں کوڑا کرکٹ ہے۔ برسوں تک اُنھوں نےایک خواب دیکھا تھا ۔ اُن کا ایک بڑا اچھا سا گھر ہو ۔ جس میں ایک بڑا سا سجاسجایا ڈرائنگ روم ہو ۔ اُس ڈرائنگ روم میں اُن کی ایک بڑی سی الماری ہو ۔ جس میں اُن کی ساری کتابیں اور سارا علمی سرمایہ سجا ہو ۔ تاکہ ہر آنےوالےپر آشکار ہو ‘ اُنھوں نےکیا کیا سرمایہ اور خزینہ جمع کررکھا ہےاور اسےاُن کےخزینےپر رشک ہو ۔ ساری زندگی ایک چال کےایک چھوٹےسےکمرےمیں کٹی تھی جس کےایک کونےمیں اُن کی کتابوں کا ڈھیر بےترتیبی سےپڑا رہتا تھا ۔ وہ ڈھیر بڑھتا بھی تو کسی کو محسوس نہیں ہوتا تھا ۔ وہ اپنی ضرورت کی چیز اِس ڈھیر سےبخوبی ڈھونڈ کر نکال لیتےتھے۔ اور غیر ضروری چیز کو اُس ڈھیر میں شامل کردیتےتھے۔ اُن کےچھوٹےسےٹیبل پر صرف تازہ کتابیں ، رسائل اور لکھنےکا سامان ہوا کرتا تھا ، تب وہ خواب دیکھا کرتےتھے۔ کبھی نہ کبھی تو اُن کی زندگی میں ایسا وقت آئےگا جب اِن کتابوں کا یہ ڈھیر اُن کےڈرائنگ روم میں سلیقےاور قرینےسےسجا ہوگا ۔ وہ وقت بھی آیا تو ریٹائرمنٹ کےبعد ۔ مضافات میں ایک اچھےفلیٹ کا سودا ہوگیا۔ ریٹائرمنٹ کےبعد جو گریجویٹی ، پی ایف ملنےوالا تھا اور پرانےکمرےکی جو قیمت آرہی تھی ‘ اُن روپیوں سےایک اچھا فلیٹ مل گیا ۔ تب اُنھیں لگا ‘ اُن کےبرسوں کےخواب کی تعبیر کا وقت آگیا ۔ اُس گھر کو ہر کسی نےاپنی پسند کےمطابق سنوارا تھا ۔ بیٹےبہو نےاپنےانداز میں اپنا کمرہ سجایا تھا ۔ بیٹی اور چھوٹےبیٹےنےبھی اس گھر میں خوب صورت رنگ بھرےتھے۔ اُنھوں نےڈرائنگ روم میں اپنےاوراپنی کتابوں کےلئےایک بڑی سی الماری بنائی تھی ۔اُن کا تو اور بھی ایک خواب تھا ، اُن کا اپنا ایک کمرہ ہو ‘ جہاں بیٹھ کر وہ لکھنےپڑھنےکا کام کرسکیں ۔ لیکن جتنا پیسہ اُن کےپاس تھا ، اُس میں یہ ممکن نہیں تھا ۔ اِس لئےاُنھوں نےاپنےلئےڈرائنگ روم کو ہی پسند کیا ۔ جب اس فلیٹ کا کام چل رہا تھا تو انھیں فاطمہ کی بہت یاد آتی تھی ۔اس طرح کےخوب صورت گھر کا خواب اُن کےساتھ فاطمہ نےبھی دیکھا تھا اور پھر زندگی بھر اُس نےاس خواب کی تعبیر کی جدوجہد میں ہاتھ بٹایا تھا ۔ لیکن اُن کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکا ۔ آخر اُن کےریٹائرمنٹ سےایک سال قبل اُس نےاُن کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ وہ بیماری اُس کےلئےجان لیوا ثابت ہوئی تھی جو اُس نےاُن سےزندگی بھر چھپائےرکھی تھی ۔ فاطمہ کی موت کےبعد وہ بہت اکیلےہوگئےتھے۔ اِس اکیلےپن کو اُنھوں نےادب کےذریعہ دُور کرنےکی کوشش کی تھی ۔ اِس دوران اُنھوں نےاِتنا لکھا اور اِتنا اچھا لکھا جووہ برسوں میں نہیں لکھ پائےتھے۔ ویسےبھی ادب اُن کےلئےاُن کی زندگی اور رُوح تھی ۔ اُنھوں نےزندگی میں صرف تین باتوں پر توجہ دی تھی ۔ اپنی نوکری ، گھر اور ادب ۔ اُن کی زندگی اُنہی کےگرد گردش کرتی تھی ۔ ڈیوٹی پر جاتے، ڈیوٹی سےآکر گھر ، بیوی بچوں پر توجہ دیتے، پھر مطالعہ یا لکھنےمیں غرق ہوجاتے۔ وہ آخری عمر تک اپنےبیوی بچوں کو ایک اچھا گھر تو نہیں دےسکےلیکن اُنھوں نےاپنےبچوں کو اچھی تعلیم دی تھی اور اُنھیں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونےدی تھی ۔ دونوں لڑکےبرسرِ روزگار ہوگئےتھے۔ بڑےکی شادی بھی ہوگئی تھی ، بہو بھی گھر آگئی تھی ، چھوٹےکی ایک اچھےخاندان میں بات پکی ہوئی تھی ۔ لڑکی کالج کےآخری سال میں تھی ، بس ایک ہی فکر باقی تھی ، اُس کےرشتےکی ۔
اُس گھر کو لینےمیں اُنھوں نےاپنی زندگی کی ساری کمائی صرف کردی تھی ‘ لیکن پھر بھی اُنھیں اعتماد تھا ۔ اگر لڑکی کےلئےکوئی اچھا سا رشتہ آجائےتو وہ اُس کی شادی فوراً کرسکتےہیں ۔ فاطمہ نےبچپن سےلڑکی کےلئےجہیز جمع کر رکھا تھا ۔ لیکن نیا گھر جیسےاُن کو راس نہیں آسکا ۔ وہاں آنےکےبعد وہ اپنےتمام ادبی غیر ادبی دوستوں سےٹوٹ گئےتھے۔ شاید ہی کوئی دوست اُن سےملنےکےلئےاُن کےگھر آپاتا تھا ۔ بھلا اُن سےملنےکےلئےاِتنی دُور مضافات کےاِس علاقےمیں کون جاتا ؟ اُنھیں ہی اپنےدوستوں سےملنےاور اپنےذوق کی آبیاری کرنےکےلئےپرانی جگہ جانا پڑتا تھا ۔ ورنہ اکیلےہی گھر میں رہنا پڑتا تھا ۔ دونوں لڑکےتو سویرےہی اپنےآفس چلےجاتےتھے۔ لڑکی کالج چلی جاتی تھی ۔ گھر میں اکیلی بہو اور وہ رہتےتھے۔ بہو بھی کبھی سامان لینےجب بازارجاتی تھی تو دو دو ‘ تین تین گھنٹہ واپس نہیں آتی تھی۔ ایسےمیں اُنھیں اکیلےگھر میں کوفت ہوتی تھی ۔ اُن کی دیرینہ رفیق کتابیں بھی اُن کا دِل نہیں بہلا پاتی تھیں اور کوشش کرنےکےباجود وہ ایک لفظ بھی نہیں لکھ پاتےتھے۔ اپنی حالت کو دیکھ کر اُنھیں محسوس ہونےلگا کہ جیسےاُنھوں نےجو کچھ سوچ رکھا تھا یا جو خواب دیکھےتھےوہ خواب ہی تھے۔ ابھی وہ اِس سےاُبھر بھی نہیں پائےتھےکہ نئےتنازعات اُٹھ کھڑےہوئے،گھر کےہر فرد کو ڈرائنگ روم میں رکھی اُن کی کتابوں کی الماری پر اعتراض تھا ۔ اُن کا کہنا تھا یہ ڈرائنگ روم کا شو خراب کررہی ہیں ۔ پہلےاگر وہ بیٹوں سےتھوڑی اونچی آواز میں بات کرتےتھےتو ڈر سےبچےکانپنےلگتےتھےاور اُن کی ہر بات پر سر تسلیم خم کردیتےتھے۔لیکن جب سےوہ کمانےلگےتھے‘ اُنھیں یہ محسوس ہوا بچےبھی نہ صرف اونچی آواز میں بولنےلگےہیں بلکہ اُن کی آواز کو دبانےکی کوشش کرکےاُن پر اپنی مرضی لادنےلگےہیں ۔ سب کا یہی کہنا تھا یہ کتابیں وغیرہ بےکار ہیں ۔ اِنھیں ڈرائنگ روم سےہٹا دیا جائے۔ پرانےگھر میں ایک کونےمیں پڑی رہتی تھیں تو کسی کا اُس پر دھیان نہیں جاتا تھا لیکن اب یہ آنکھوں میں جیسےچبھنےلگی ہیں ۔ روز روز کےتنازعات اور جھگڑوں سےتنگ آکر ایک دِن اُنھوں نےسنجیدگی سےسوچا ۔ زندگی بھر اُنھوں نےبچوں کو خوشیاں دیں اور اِس کےلئےبرسرِ پیکار رہے۔ اب زندگی کےآخری پڑاو ¿ پر اُنھیں دُکھ کیوں دیا جائے؟ اُن پر اپنی مرضی لادنےکےبجائےاُن کی مرضی مان لینا چاہیئی۔ اگر اُنھیں ان کی کتابوں پر اعتراض ہےتو گھر سےساری کتابیں ہٹا لینی چاہیئے۔ اِس فیصلےپر پہنچنےکےبعد اُنھوں نےسوچا ساری کتابیں کسی لائبریری کو دےدی جائیں تاکہ لوگ اُن کےخزانےسےفیض یاب ہوں ۔ لیکن سارا شہر ڈھونڈنےکےبعد بھی اُنھیں کوئی ایسی لائبریری نظر نہیں آئی جسےوہ اپنی ساری کتابیں دےسکیں ۔ ایک دو لائبریری والوں سےجب اُنھوں نےاِس سلسلےمیں بات کی تو اُنھیں جواب ملا ۔ ” ہمارےپاس جگہ کی بہت تنگی ہے، پھر آپ جس طرح کی کتابیں دینا چاہ رہےہیں اُس طرح کی کتابیں پڑھنےوالےلوگ تو ہمارےیہاں ہیں ہی نہیں ‘ اِس لئےہم آپ کی وہ بےکار سی کتابیں لےکر اپنی جگہ کیوں پھنسائیں ؟ “ اِس کےبعد ہی اُنھوں نےاپنی ساری کتابیں ردّی میں فروخت کردینےکا فیصلہ کردیا ۔ اور اس وقت جب اُن کی کتابیں بک رہی تھیں تو بھی اُنھیں کوئی افسوس یا ملال نہیں ہورہا تھا ۔ کیونکہ اُنھوں نےاپنےدِل پر پتھر جو رکھ لیا تھا ۔ ڈرائنگ روم کاوہ حصہ خالی ہوگیا تھا تو بہو بیٹوں اور بیٹیوں نےاسےاپنےڈھنگ سےسجالیا ۔ اور جب وہ اپنی سجاوٹ کو دیکھ دیکھ کر خوش ہورہےتھےتو اُنھیں اطمینان محسوس ہورہا تھا کہ چلو شکر ہے۔ اُنھوں نےبچوں کی ایک بات مان کر اُنھیں ایک خوشی تو دی ۔ ایک ہفتےکےبعد اُنھیں ایک دوست کا فون آیا ۔ ” کیا بات ہےیار ! میں نےسنا تم نےاپنی ساری کتابیں ردّی میں دےڈالیں ؟ “” ہاں ! “ ” مگر کیوں ؟ “ ” اِس لئےکہ ہماری اولاد اور نئی نسلوں کےدِل میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ان کےلئےوہ بیکار سی چیز ہی۔ ہم نےاپنی وراثت میں اپنی آنےوالی نسلوں کو ہر طرح کی خوشیاں ، آسودگی ، تعلیم تو دی لیکن نہ تو اُنھیں کتاب آشنا بنایا نہ اُنھیں کتابوں کی عظمت ، اہمیت ، افادیت اور ضرورت کےبارےمیں بتاکر اُنھیں کتابوں کی قدر کرنا سکھایا ۔ جب ہم نےاُنھیں اپنی یہ عظیم وراثت دی ہی نہیں تو وہ کتابوں کی اہمیت کس طرح سمجھیں گے۔ اُن کےلئےتو وہ بےکار کاغذ کے بوسیدہ پُرزےہیں ۔ ان کا گھر میں رکھنا ، گھر میں کوڑا کرکٹ رکھنےجیسا ہے۔ اِس لئےاُن کتابوں کو ردّی میں فروخت کرنےکےعلاوہ کوئی راستہ بھی نہیں تھا ۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

غالب کے خطوط سے انتخاب

Posted on 17/12/2005. Filed under: تاریخ, تعلیم, شعروادب |

آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر ، سو خموش ہے
دیکھو مجھے، جو دیدہء عبرت نگاہ ہو
میری سنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

میں غریب شاعر دس برس سے تاریخ لکھنے اور شعر کی اصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں۔ خواہ اس کو نوکری سمجھو، خواہی مزدوری جانو، اس فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں میں نے دخل نہیں دیا۔ صرف اشعار کی خدمت بجالاتا رہا اور نظر اپنی بے گناہی پر، شہر سے نکل نہیں گیا۔ میرا شہر میں ہونا حکام کو معلوم ہے۔ مگر چونکہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے کوئی بات نہیں پائی گئی، لہٰذا طلبی نہیں ہوئی، ورنہ جہاں بڑے بڑے جاگیر دار بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے ہیں، میری کیا حقیقت تھی؟ غرض کہ اپنے مکان میں بیٹھا ہوں دروازہ سے باہر نہیں نکل سکتا۔ سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے۔ رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آوے، شہر میں ہے کون جو آوے؟ گھر کے گھر بے چراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں۔ جرنیلی بندوبست یازدہم مئی سے آج تک یعنی شنبہ پنجم دسمبر 1857ءتک بدستور ہے۔

غدر کے دنوں میں، میں نہ شہر سے نکلا، نہ پکڑ اگیا، نہ میری روبکاری ہوئی۔ جس مکان میں رہتا تھا وہیں بدستور بیٹھا رہا۔ بَلّی ماروں کے محلے میں میراگھر تھا۔ ناگا ہ ایک دن آٹھ سات گورے دیوار پر چڑھ کے اس خاص کوچے میں اُتر آئے، جہاں میں رہتا تھا۔ اس کوچے میں بہ ہمہ جہت پچاس یا ساٹھ آدمی کی بستی ہو گی۔ سب کو گھیر لیا اور ساتھ لے چلے۔ راہ میں سارجن (سارجنٹ) بھی آملا۔ اس نے مجھ سے صاحب سلامت کے بعد پوچھا کہ تم مسلمان ہو؟
میں نے کہا:”آدھامسلمان“
اس نے کہا:”ویل صاحب! آدھا مسلمان کیسا؟“
میں نے کہا:”شراب پیتا ہوں، ہیم (خوک)نہیں کھاتا۔ “

اہل اسلام میںصرف تین آدمی باقی ہیں: میرٹھ میں مصطفی خان، سلطان جی میں مولوی صدر الدین خاں، بَلّی ماروں میں سگِ دنیا موسوم بہ اسد، تینوں مردود و مطرود، محروم و مغموم:
توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا

آسمان سے بادہء گلفام گو برسا کرے

میں دنیا داری کے لباس میں فقیری کر رہاہوں، لیکن فقیر آزاد ہوں، نہ شیّاد، نہ کیّاد۔ ستر برس کی عمر ہے، بے مبالغہ کہتا ہوں، ستر ہزار آدمی نظر سے گزرے ہوں گے زمرہء خاص میں سے، عوام کا شمار نہیں …. میں آدمی نہیں آدم شناس ہوں:

نگہم نقب ہمے زد بہ نہاں خانہء دل
مژدہء باد اہلِ ریا را کہ زمیداں رفتم
میں عربی کا عالم نہیں مگر نرا جاہل بھی نہیں، بس اتنی بات ہے کہ اس زبان کے لغات کا محقق نہیں ہوں، علما سے پوچھنے کا محتاج اور سند کا طلب گار رہتا ہوں۔ فارسی میں مبداء فیاض سے مجھے وہ دست گاہ ملی ہے اور اس زبان کے قواعد و ضوابط میرے ضمیر میں اس طرح جاگزیں ہیں، جیسے فولاد میں جوہر۔ اہل پارس میں اور مجھ میں دو طرح کے تفاوت ہیں: ایک تو یہ کہ ان کا مولد ایران اور میرا مولد ہندوستان، دوسرے یہ کہ وہ لوگ آگے پیچھے، سو دو سو، چار سو، آٹھ سو برس پہلے پیدا ہوئے۔

وہ روش ہندوستانی فارسی لکھنے والوں کی مجھ کو نہیں آتی کہ بالکل بھاٹوں کی طرح بکنا شروع کریں۔ میرے قصیدے دیکھو، تشبیب کے شعر بہت پاؤ گے اور مدح کے شعر کم تر۔ نوب مصطفی خاں کے تذکرے کی تقریظ کو ملاحظہ کرو کہ ان کی مدح کتنی ہے، مرزا رحیم الدین بہادر حیا تخلص کے دیوان کے دیباچہ کو دیکھو۔ وہ جو تقریظ دیوانِ حافظ، موجب فرمایش جان جا کوب بہادر کے لکھی ہے، اس کو دیکھو کہ فقط ایک بیت میں ان کا نام اور ان کی مدح آئی ہے …. اس سے زیادہ بھٹئی میری روش نہیں۔

پچاس برس سے دلّی میں رہتا ہوں۔ ہزارہا خط اطراف و جوانب سے آتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ محلہ ء سابق کا نام لکھ دیتے ہیں۔ حکام کے خطوط فارسی و انگریزی، یہاں تک کہ ولایت کے آئے ہوئے، صرف شہر کا نام اور میرا نام…. اگر میں تمہارے نزدیک امیر نہیں، نہ سہی، اہل حرفہ میں سے بھی نہیں ہوں کہ جب تک محلہ اور تھانہ نہ لکھا جائے، ہر کارہ میرا پتہ نہ پائے۔ آپ صرف دہلی لکھ کر میرا نام لکھ دیا کیجیے، خط پہنچنے کا میں ضامن۔

ایک لطیفہ نشاط انگیز سُنیے! ڈاک کا ہرکارہ جو بَلّی ماروں کے خطوط پہنچاتا ہے، ان دنوں میں ایک بنیا پڑھا لکھا، حرف شناس، کوئی فلاں ناتھ، ڈھمک داس ہے۔ میں بالا خانہ میں رہتا ہوں، حویلی میں آکر اس نے داروغہ کو خط دے کر مجھ سے کہا کہ ڈاک کا ہرکارہ بندگی عرض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مبارک ہو، آپ کو جیسا کہ دلی کے بادشاہ نے ”نوابی“ کا خطاب دیا تھا، اب کالپی سے خطاب کپتانی کا ملا، حیران کہ یہ کیا کہتا ہے؟ سرنامہ غور سے دیکھا، کہیں قبل ازاسم” مخدوم نیاز کیشاں“لکھا تھا۔ اس قرمساق نے اور الفاظ سے قطع نظر کر کے ”کیشاں“ کو ”کپتان “پڑھا۔

سچ تو یہ ہے کہ …. مولانا غالب علیہ الرحمہ ان دنوں میں بہت خوش ہیں۔ پچاس ساتھ جزو کی کتاب امیر حمزہ کی داستان کی اور اسی قدر حجم کی ایک جلد بوستان خیال کی آ گئی۔ سترہ بوتلیں بادء ناب کی توشک خانہ میں موجوود ہیں، دن بھر کتاب دیکھا کرتے ہیں، رات بھر شراب پیا کرتے ہیں:

کسے کیں مرادش میسر بود
اگر جم نہ باشد سکندر بود
سنو صاحب! شعرا میں فردوسی اور فقرا میں حسن بصری اور عشاق میں مجنوں، یہ تین آدمی تین فن میں سرِ دفتر اور پیشوا ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ فردوسی ہو جائے، فقیر کی انتہا یہ ہے کہ حسن بصری سے ٹکر کھائے، عاشق کی نمود یہ ہے کہ مجنوں کی ہم طرحی نصیب ہو…. بھئی”مغل بچے“ بھی غضب ہوتے ہیں، جس پر مرتے ہیں، اس کو مار رکھتے ہیں۔ میں بھی ”مغل بچہ“ ہوں۔ عمر بھر میں ایک بڑی ستم پیشہ ڈومنی کو میں نے بھی مار رکھا ہے…. پچاس برس عالم رنگ و بو کی سیر کی۔ ابتدائے شباب میں ایک مرشد کامل نے ہم کو یہ نصیحت کی کہ ہم کو زہد و ورع منظور نہیں، ہم مانع فسق و فجور نہیں، پیو، کھاؤ، مزے اُڑاؤ، مگر یاد رہے کہ مصری کی مکھی بنو، شہد کی مکھی نہ بنو، میرا اس نصیحت پر عمل رہا ہے۔ کسی کے مرنے کے وہ غم کرے جو آپ نہ مرے، کیسی اشک افشانی؟ کہاں کی مرثیہ خوانی؟…. میں جب بہشت کا تصور کرتا ہوں اورسوچتا ہوں کہ اگر مغفرت ہو گئی اور ایک قصر ملا اور ایک حور ملی۔ اقامت جاودانی ہے اور اسی ایک نیک بخت کے ساتھ زندگانی ہے۔ اس تصور سے جی گھبراتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہے ہے وہ حور اجیرن ہو جائے گی، طبیعت کیوں نہ گھبرائے گی؟ وہی زمردیں کاخ اور وہی طوبیٰ کی ایک شاخ! چشم بددور، وہی ایک حور۔

بائیس مہینے کے بعد پرسوں کوتوال کا حکم آیا ہے کہ اسد اللہ خاں پنسن دار کی کیفیت لکھو کہ وہ بے مقدور اور محتاج ہے یا نہیں۔ کوتوال نے موافق ضابطے کے مجھ سے چار گواہ مانگے…. سو …. خزانے سے روپیہ آگیا ہے۔ میں نے آنکھ سے دیکھا تو آنکھیں پھوٹیں۔ بات رہ گئی، پت رہ گئی۔ حاسدوں کو موت آ گئی، دوست شاد ہو گئے۔ میں جیسا ننگا بھوکا ہوں، جب تک جیوں گا، ایسا ہی رہوں گا، میرا دارو گیر سے بچنا کرامت اسد اللہی ہے، ان پیسوں کا ہاتھ آنا عطیہ ید اللہی ہے۔

میں موحدِ خالص اور مومنِ کامل ہوں۔ زبان سے لا الہ الا اللہ کہتا ہوں اور دل میں لا موجود الا اللہ، لا موثر فی الوجود الا اللہ سمجھے ہوا ہوں…. ہاں اتنی بات اور ہے کہ اباحت اور زندقہ کو مردود اور شراب کو حرام اور اپنے آپ کو عاصی سمجھتا ہوں۔ اگر مجھ کو دوزخ میں ڈالیں گے تو میرا جلانا مقصود نہ ہو گا، بلکہ دوزخ کا ایندھن ہوں گا اور دوزخ کی آنچ کو تیز کروں گا تاکہ مشرکین و منکرین نبوتِ مصطفوی و امامت مرتضوی اس میں جلیں۔
بادشاہ سے کیا عجب ہے کہ دو برس کی تنخواہ دے کر مجھ کو خانہ ء خدا کے طواف کی رخصت دیں کہ یہ گنہ گار وہاں جاوے اور اگر زیست ہے تو وہاں جا کر اور اپنے ستاون برس کے گناہ کہ جس میں سوائے شرک کے سب کچھ ہے، بخشوا کر پھر آوے۔

نہ ہٹ دھرم ہوں، نہ مجھے اپنی بات کی پچ ہے …. علم و ہنر سے عاری ہوں، لیکن پچپن برس سے محوِ سخن گزاری ہوں، مبداءفیاض کا مجھ پر احسانِ عظیم ہے، ماخذ میرا صحیح اور طبع میری سلیم ہے۔ فارسی کے ساتھ ایک مناسبتِ ازلی و سرمدی لایا ہوں، مطابق اہل پارس کے منطق کا۔ بھی مزا ابدی لایا ہوں۔ مناسبتِ خداداد، تربیت استاد سے حسن و قبح ترکیب پہچاننے لگا، فارسی کے غوامض جاننے لگا۔

وبا کو کیا پوچھتے ہو؟ قدر اندازِ قضا کے ترکش میں یہ بھی ایک تیر باقی تھا۔ قتل ایسا عام، لوٹ ایسی سخت، کال ایسا بڑا، وبا کیوں نہ ہو؟ ”لسان الغیب“ نے دس برس پہلے فرمایا تھا:

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
میاں1277ھ کی بات غلط نہ تھی۔ میں نے وبائے عام میں مرنا اپنے لائق نہ سمجھا، اقعی اس میں میری کسرِ شان تھی۔ بعد رفعِ فساد ہوا سمجھ لیا جائے گا۔

دو تین مہینے میں لوٹ پوٹ کر اچھا ہو گیا۔ نئے سرے سے روح قالب میں آئی۔ اجل نے میری سخت جانی کی قسم کھائی۔ اب اگرچہ تندرست ہوں لیکن ناتواں و سُست ہوں۔ حواس کھو بیٹھا، حافظے کو رو بیٹھا۔ اگر اُٹھتا ہوں تو اتنی دیر میں اُٹھتا ہوں کہ جتنی دیر میں قدِ آدم دیوار اُٹھے۔

ناتوانی زور پر ہے، بڑھاپے نے نکما کر دیا ہے، ضعف، سستی، کاہلی، گرانجانی، گرانی۔ رکاب میں پاؤں ہے، باگ پر ہاتھ ہے، بڑا سفر دور و دراز در پیش ہے، زادِ راہ موجود نہیں، خالی ہاتھ جاتا ہوں۔ اگر ناپرسیدہ بخش دیا تو خیر، اگر باز پر س ہوئی تو سقر مقر ہے اور ہاویہ زاویہ ہے، دوزخِ جاوید ہے اور ہم ہیں۔ ہائے کسی کا کیا اچھا شعرہے:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

میں زندہ ہوں لیکن نیم مردہ۔ آٹھ پہر پڑا رہتا ہوں۔ اصل صاحب فراش میں ہوں۔ بیس دن سے پانو پر ورم ہو گیا ہے۔ کفِ پاوپشت پاسے نوبت گزر کر پنڈلی تک آماس ہے، جوتے میں پاؤں سماتا نہیں۔ بول و بزار کے واسطے اُٹھنا دشوار۔ یہ سب باتیں ایک طرف، درد محللِ روح ہے۔ 1277ءمیں میرا نہ مرنا، صرف میری تکذیب کے واسطے تھا، مگر اس تین برس میں ہر روز مرگِ نو کامزا چکھتا رہا ہوں۔ حیران ہوں کہ کوئی صورت زیست کی نہیں، پھر میں کیوں جیتا ہوں؟ روح میری اب جسم میں اس طرح گھبراتی ہے، جس طرح طائر قفس میں۔ کوئی شغل، کوئی اختلاط، کوئی جلسہ، کوئی مجمع پسند نہیں۔ کتاب سے نفرت، شعر سے نفرت، جسم سے نفرت، روح سے نفرت۔

سچ تو یوں ہے کہ غالب کیا مرا، بڑا کافر مرا۔ ہم نے ازراہِ تعظیم، جیسا بادشاہوں کو مرنے کے بعد جنت آرام گاہ، عرش نشیمن خطاب دیتے ہیں، چونکہ یہ اپنے آپ کو شہنشاہِ قلمروِ سخن جانتا تھا، ”سقر مقر“ اور ”زاویہ ہاویہ“ خطاب تجویز کر رکھا ہے۔ ”آئیے نجم الدولہ بہادر“ ایک قرض دار کا گریبان میں ہاتھ، ایک قرض دار بھوگ سنا رہا ہے۔ میں ان سے پوچھ رہا ہوں:

”اجی حضرت نواب صاحب!
نواب صاحب کیسے اوغلان صاحب!
آپ سلجوقی وافراسیابی ہیں، یہ کیا بے حرمتی ہو رہی ہے؟ کچھ تو بولو، کچھ تو اُکسو۔ “
بولے کیا ؟ بے حیا، بے غیرت، کوٹھی سے شراب، گندھی سے گلاب، بزاز سے کپڑا، میوہ فروش سے آم، صراف سے دام قرض لیا جاتا تھا۔ یہ بھی تو سونچا ہوتا کہ کہاں سے دوں گا؟

بہت جلد غالب کی چند مشہور غزلیں سرائیکی ترجمے کے ساتھ پیش کی جائیں گی پڑھنا نہ بھولئے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

خبر ہے گرم

Posted on 13/12/2005. Filed under: ٹیکنالوجی, پاکستان, سیاست |

جسے اللہ رکھے
زلزلے کے ٦٤ دن بعد ایک ٤٠ سالہ خاتون کو کمسر نامی کیمپ کے علاقہ میں ملبہ سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔ زلزلے کے اتنے طویل عرصہ بعد کسی کا ملبہ سے زندہ ملنے کا یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ یہ خاتون ملبہ کے سوراخوں سے اندر آنے والے پانی اور وہاں پہلے سے موجود کچھ خوراک کے سہارے زندہ رہی۔
زلزلہ ذدگان کی امداد پارلیمنٹ ہاؤس میں تقسیم
زلزلہ زدگان کے لئے گرم کپڑوں کا ٹرک متاثرہ علاقوں کی بجائے پارلیمنٹ ہاؤس کی کار پارکنگ میں خالی کیا گیا اور امدادی کپڑے متاثرین کے بجائے سرکاری ملازمین نے اٹھا لیے۔ جمعرات کو پارلیمینٹ کی کار پارکنگ میں ان گرم کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور ان استعمال شدہ کپڑوں سے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے کئی ملازمین اپنی پسند کی چیزیں تلاش کرتے نظر آئے۔ دو ملازمین نے ان کپڑوں کی بوریاں بھری ہوئیں تھیں جبکہ کچھ نے گٹھڑیاں باندھی ہوئیں تھیں اور اپنے گھر لے جارہے تھے۔ ان سے جب پوچھا کہ یہ زلزلہ زدگان کا امدادی سامان ہے اور وہ کیوں لے رہے ہیں تو محمد امین نے کہا کہ ’ہم بھی غریب ہیں اور ہمارا بھی حق ہے‘۔
بوریاں بھر کر جانے والوں نے تصویر بنانے سے روکا۔ انہوں نے نام بتانے سے بھی گریز کیا اور شرماتے ہوئے بوری کندھے پر اٹھائی اور چل دیے۔ زلزلہ زدگان کے لیے لائے گئے گرم کپڑوں کے اس ڈھیر سے جب مختلف ملازمین کپڑے چن رہے تھے اور کچھ لوگ کپڑے لے جا رہے تھے تو اس وقت قریب میں دو پولیس اہلکار بھی موجود تھے جو کار پارکنگ میں ڈیوٹی کرتے ہیں۔
زلزلہ زدگان کے لیے جمع کیے گئے گرم کپڑے پارلیمان کی کار پارکنگ میں اتارنے اور متاثرین کے بجائے ملازمین کی طرف سے لے جانا امدادی سامان کے غلط استعمال کی اپنی نوعیت کی انوکھی مثال ہے۔
نژاد کے اسرائیل مخالف بیان
او آئی سی کے اجلس میں شرکت کےلیئے سعودی عرب کے دورے پر ایرانی صدر کے اسرائیل مخالف پر اسرائیل سمیت یورپ اور امریکہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس بیان کی مذمت کی تھی جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی ایران کے صدر احمدی نژاد کے اسرائیل مخالف بیان پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا تاہم جرمنی کے ہفت روزہ جریدے ََ دیر شپیگل ََ میں ہنریک بروڈر نے اپنے ایک مضمون میں احمدی نژاد کے بیان کو منطقی بیان قرار دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے مشہور ہفت روزہ اخبار اشپیگل نے لکھا ہے کہ صیہونی حکومت کے بارے میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا بیان منطقی ہے اور مغرب کو اسے تسلیم کرلینا چاہے۔ ہفت روزہ اشپیگل نے ہنریک بروڈر کا مضمون شایع کیا ہے جس میں آیا ہے کہ صدر احمدی نژاد کا بیان تاریخی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے اور ان کے بیان پر کسی طرح کے اعتراض کی گنجائیش نہیں ہے کیونکہ مشرق وسطی میں کشیدگي کا سبب یہودیوں کا قتل عام نہیں ، بلکہ یورپیوں کی یہودی مخالف پالیسیاں ہیں۔ اس جرمن اخبار نے لکھا ہے کہ آج فلسطینی قوم یورپی ملکوں کے ظلم و ستم کا تاوان دے رہی ہیں اور اگر اس دنیا میں انصاف نام کی کوئی شے ہوتی تو یہودی ملک کو جرمنی کے شمال میں ہونا چاہیے تھا۔ ہفت روزہ اشیپگل کے مطابق جن ملکوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد صیہونی حکومت کو وجود بخشا ہے ان کا مقصد یہودیوں کو وطن فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ہولو کاسٹ سے بچنے والے پندرہ لاکھ یہودیوں کو یورپ سے نکالنا چاہتے تھے۔ اس مشہور جرمن اخبار کے مطابق یورپی ملکوں نے ایک مشکل کے حل سے دوسری مشکل پیدا کی کیونکہ ملت فلسطین کو جس نے نہ یہودیوں کا قتل عام کیا ہے اور نہ ان کے لیے لیبر کیمپ بنائے ہیں وہ یورپی ملکوں کی غلطی کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور اس کا ملک یہودیوں نے بانٹ لیا ہے
ایف ایم ٹیکنیک: فرقہ ورانہ فساد
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ایف ایم ٹیکنیک کے غیر قانونی استعمال نے فرقہ ورانہ فساد کا سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اہل سنت اور پنج پیری فرقوں کے علماء کے فرقہ ورانہ مباحثے نےایک دوسرے کے خلاف جہاد کے اعلان کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دونوں فرقوں کے علماء کچھ عرصے سے مقامی ساختہ ایف ایم سٹیشن کو استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری کر رہے تھے۔ مگر صورتِ حال اس وقت بگڑ گئی جب اہل سنت کے مقامی رہنما مفتی منیر شاکر نے باڑہ بازار میں اپنے ہزاروں مسلح پیرو کاروں کے ایک جلسہ میں پنج پیری مسلک کے سربراہ پیر سیف الرحمن کو ایک ہفتہ کے اندر علاقہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
چہرے کی تبدیلی
فرانس میں ڈاکٹروں نے انسانی تاریخ میں چہرے کی تبدیلی کا پہلا آپریشن کیا ہے۔ ایک متنازعہ آپریشن کے دوران سرجنوں نے ایک دماغی طور پر مردہ انسان کے چہرے کی رگیں، بافتیں اور پٹھے حاصل کر کے ایک اڑتیس سالہ زخمی عورت کے چہرے پر لگا دیے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

موسیٰ اور بخت خان

Posted on 13/12/2005. Filed under: پاکستان, اسلام, تاریخ |

مسلم اندلس کے شعرا دریائے شنیل کو ہزار نیل کے برابر باندھتے رہے۔
اس دریا نے مسلم اندلس کی غیرت و شجاعت کے آخری نشان کو اپنے آغوش میں پناہ دی تھی۔
مسافر کنار شنیل انہی جاں فروشوں کے نقش ہائے پا کی تلاش میں رہا، جن کے پاس صرف ایک شہر غرناطہ بچا تھا، پھر بھی تمام یورپ کو اس کے لئے دو سال تک تیاریاں کرنا پڑیں۔
جن کے جرنیل کا نام موسیٰ تھا، جو ایک صبح الحمرا سے اکیلا میدان جہاد کی طرف نکلا تھا۔ جبل شلیر سے آنے والی برفانی ہوائیں الحمرا کے درودیوار سے اس شدت سے ٹکرائیں کہ شاہی ایوان کے زرنگار پردے کانپ اٹھے مگر ایوانوں کے غافل امراء اور مساجد کے غمگین علماء کو ذرا برابر خبر نہ ہوئی کہ آج ایک موسیٰ اکیلا رہ گیا ہے۔ شہادت کے سفر میں کوئی اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔
باب البیرہ کے کنارے مسافر وہ جگہ نہ ڈھونڈ سکا، جس نے شمشیر موسوی کی چمک اور ڈیڑھ درجن عیسائی نائٹوں کو سروں کے بوجھ سے سبکدوش ہوتے دیکھا تھا۔ موسیٰ فصیل غرناطہ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ صبح کی خاموشی میں اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز دور دور تک گئی مگر کسی پہریدار کو بھی خبر نہ ہوئی۔ باب السلطان کے روبرو ایک عیسائی دستہ گشت پر تھا۔ ایک اور انبوہ نیزہ تلوار لئے۔ مرگ انبوہ نے شجاعت موسیٰ کی شہادت دی۔ اسیپ کے پاؤں کٹ گئے تو بھی جرنیل کی تلوار چلتی رہی۔ پاؤں شل ہوئے تو وہ گھٹنوں کے سہار سر بلند رہا، وہ بھی زخمی ہوئے تو شنیل کی موجوں نے آگے بڑھ کر غیرت غرناطہ کو آغوش محبت میں چھپا لیا۔
دشمن سوچ میں پڑ گیا اگر فصیل غرناطہ کے پیچھے سے ہر کوئی اسی طرح تلاش شہادت میں نکل کھڑا ہو، تو؟
بنو نصر کے عبداللہ نے خاندان تیمور میں جنم لیا تو بہادر شاہ ظفر نام پایا۔ غرناطہ کا موسیٰ دلی میں بخت خان کہلایا۔ وہاں کی ملکہ عالیہ دلی آ کر ملکہ عالیہ رہی۔
مرزا الہی بخش آخری مغل تاجدار کو انگریز بہادر کی بلند بختی اور بلند کرداری سے آگاہ کر چکا تو بخت خان نے اسے حمیت و ہمت کا بھولا سبق یاد کرانے کی کوشش کی مگر اس نے بخت خان کی درخواست اور تاریخ مغلیہ کی عظمت سے منہ پھیر لیا۔ بخت خان باہر آیا تو اکیلا تھا۔ مرزا الہی بخش کے جلو میں شاہی جلوس تھا۔ وہ اکیلا عزت و آبرو کی منزلوں کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ ذلت و رسوائی کی راہوں پر چل نکلے، اپنا اپنا مقدر ۔۔ اپنی اپنی منزل۔
دریائے شنیل کے کنارے ایک چھوٹی مسجد پر ایک بڑی سی تختی لگی ہے، جس پر الفاظ کنندہ ہیں ‘اس مقام پر ابوعبداللہ نے غرناطہ کی چابی فرڈیننڈ کے حوالہ کی تھی‘ (اندلس کی تاریخ)
٢جنوری١٤٩٢ء سقوط غرناطہ، ١٦دسمبر١٩٧١ء سقوظ ڈھاکہ پانچ سو برس ہونے کو آئے مگر غداروں نے ابھی تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مشرف کے عزیز

Posted on 13/12/2005. Filed under: سیاست |

راجہ ذولفقار علی کی بی بی سی اردو کے لئے لکھی گئی ایک سابقہ تحریر۔

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے!
پاکستان میں تو شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے ’نیلام گھر‘ کا یہ جملہ سنا نہ ہو۔ اس جملے کو سنتے سنتے عدم میں رہنے والے، نومولود ہوگئے، بچے بڑے ہوگئے، بڑے بوڑھے ہوگئے اور بوڑھے، اللہ کو پیارے ہوگئے (طارق عزیز کے متعلق میں کچھ نہیں کہوں گا) مگر پاکستان ٹیلی وژن کا بچپن طارق عزیز ہی کے ساتھ ٹھہرا رہا۔
عرصہ بیت گیا مگر اس ’گھر‘ کی نیلامی ختم نہ ہوئی اور ایک دن خبر آئی کہ اب نیلام گھر، طارق عزیز شو کہلائے گا۔ نیلام گھر کا نام بدل گیا مگر طارق عزیز بدلے نہ ان کی روش ہی تبدیل ہوئی۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو ان کا سلام پہنچتا ہی رہا۔
طارق عزیز ایسے فنکار رہے ہیں کہ ان کا کوئی ثانی نہیں ملتا نہ کام میں نہ نام میں۔ لے دے کے عزیز میاں ایک ایسے بشر تھے جنہیں اللہ ہی جانے کون قوالی کا انوکھا ڈھنگ بتاگیا۔
مجھے یاد ہے کہ طارق عزیز شو کا آغاز تو سلام سے لیکن انجام پاکستان زندہ باد کے نعرے سے ہوتا تھا۔ اور آج کل خبر گرم ہے کہ طارق عزیز کو دیکھنے کے لیے ترستی آنکھوں اور ان کی آواز سننے کے لیے ترستے کانوں کو سلام بھی پہنچنے ہی والا ہے اور آخر میں پاکستان زندہ باد بھی سننے کو ملے گا۔

مبارکباد اسد، غمخوارِ جانِ درد مند آیا

طارق عزیزایک بار نوازے گئے تھے۔ نواز شریف انہیں سیٹ کی قیمت جانے کتنے سوال پر مسلم لیگ کے ’گھر‘ لے آئے۔مگر اسمبلی میں نیلام کرنے کے لیے شاید بچا کچھ نہیں تھا لہذا طارق عزیز لوگوں کے حافظے سے محو ہونا شروع ہوگئے۔ مگرنواز شریف کےسعودی عرب کا راہی ہونے سے پہلے ہمیں پاکستان کے ایک نئے عزیز سے واسطہ پڑا۔ یہ تھے محمد عزیز۔ وہ نہیں جو بھارت میں فلمی گیت گانے والے تھے۔ہمارے یہ نئے پاکستانی عزیز، بھارتی زبان کے ایک محاورے کے مطابق ’بینڈ بجانے والے‘ تھے۔ انہوں نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جنرل مشرف کو بچانے کے لیے بقول شخصے نواز شریف کا بینڈ بجا دیا۔ گھر کے آدمی تھے، گھر کی محبت میں، سیاسی گھروندا گرا دیا۔
جنرل مشرف کے عزیز، کہنے کا مطلب ہے، جنرل محمد عزیز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کارگل پر ان کی پالیسی دوسرں سے مختلف تھی اور اسی لیے انہیں گھر کی ایک اہم ذمہ داری سونپ دی گئی۔ آج کل وہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
’گھر‘ کا سیاسی نظام ٹھیک کرنا بھی جنرل پرویز مشرف کی اولین ترجیح تھی۔ چنانچہ اس حوالے سے صاحبِ صدر کے ایک اور عزیز سامنے آئے۔ طارق عزیز۔ وہی جو آج کل قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار بھی ہیں۔ ان طارق عزیز صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سیاست کے اسرار و رموز سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ اپنے کام میں اتنے ہی کہنہ مشق ہیں جتنے دوسرے طارق عزیز نیلام گھر چلانے کے تھے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ نیلام گھر والے عزیز سامنے آکر سب کچھ کرتے تھے، لیکن سیاسی گھر والے عزیز کے سامنے کوئی کوئی ہی جا سکتا ہے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ گھر کی شان و شوکت بڑھانے کے لیے صدر صاحب نے اب اپنے ایک نئے عزیز کو متعارف کرایا ہے۔ ان کا نامِ نامی ہے شوکت عزیز۔ وزارتِ عظمیٰ کے تخت پر نئے نویلے وزیرِ اعظم شوکت عزیز جلد ہی بیٹھنے والے ہیں۔ یہ بھی گھر ہی کے آدمی نکلے ورنہ باہر والے تو آج کل باہر ہی بیٹھے ہیں۔
پتہ نہیں ابھی جنرل مشرف کے اور کتنے عزیزوں سے سابقہ پڑے گا۔ گھر بھی ان کا ہے، عزیز بھی انہی کے ہیں۔ کیا کہیں پاکستان، نیلام گھر تو نہیں؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...