موسیٰ اور بخت خان

Posted on 13/12/2005. Filed under: پاکستان, اسلام, تاریخ |

مسلم اندلس کے شعرا دریائے شنیل کو ہزار نیل کے برابر باندھتے رہے۔
اس دریا نے مسلم اندلس کی غیرت و شجاعت کے آخری نشان کو اپنے آغوش میں پناہ دی تھی۔
مسافر کنار شنیل انہی جاں فروشوں کے نقش ہائے پا کی تلاش میں رہا، جن کے پاس صرف ایک شہر غرناطہ بچا تھا، پھر بھی تمام یورپ کو اس کے لئے دو سال تک تیاریاں کرنا پڑیں۔
جن کے جرنیل کا نام موسیٰ تھا، جو ایک صبح الحمرا سے اکیلا میدان جہاد کی طرف نکلا تھا۔ جبل شلیر سے آنے والی برفانی ہوائیں الحمرا کے درودیوار سے اس شدت سے ٹکرائیں کہ شاہی ایوان کے زرنگار پردے کانپ اٹھے مگر ایوانوں کے غافل امراء اور مساجد کے غمگین علماء کو ذرا برابر خبر نہ ہوئی کہ آج ایک موسیٰ اکیلا رہ گیا ہے۔ شہادت کے سفر میں کوئی اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔
باب البیرہ کے کنارے مسافر وہ جگہ نہ ڈھونڈ سکا، جس نے شمشیر موسوی کی چمک اور ڈیڑھ درجن عیسائی نائٹوں کو سروں کے بوجھ سے سبکدوش ہوتے دیکھا تھا۔ موسیٰ فصیل غرناطہ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ صبح کی خاموشی میں اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز دور دور تک گئی مگر کسی پہریدار کو بھی خبر نہ ہوئی۔ باب السلطان کے روبرو ایک عیسائی دستہ گشت پر تھا۔ ایک اور انبوہ نیزہ تلوار لئے۔ مرگ انبوہ نے شجاعت موسیٰ کی شہادت دی۔ اسیپ کے پاؤں کٹ گئے تو بھی جرنیل کی تلوار چلتی رہی۔ پاؤں شل ہوئے تو وہ گھٹنوں کے سہار سر بلند رہا، وہ بھی زخمی ہوئے تو شنیل کی موجوں نے آگے بڑھ کر غیرت غرناطہ کو آغوش محبت میں چھپا لیا۔
دشمن سوچ میں پڑ گیا اگر فصیل غرناطہ کے پیچھے سے ہر کوئی اسی طرح تلاش شہادت میں نکل کھڑا ہو، تو؟
بنو نصر کے عبداللہ نے خاندان تیمور میں جنم لیا تو بہادر شاہ ظفر نام پایا۔ غرناطہ کا موسیٰ دلی میں بخت خان کہلایا۔ وہاں کی ملکہ عالیہ دلی آ کر ملکہ عالیہ رہی۔
مرزا الہی بخش آخری مغل تاجدار کو انگریز بہادر کی بلند بختی اور بلند کرداری سے آگاہ کر چکا تو بخت خان نے اسے حمیت و ہمت کا بھولا سبق یاد کرانے کی کوشش کی مگر اس نے بخت خان کی درخواست اور تاریخ مغلیہ کی عظمت سے منہ پھیر لیا۔ بخت خان باہر آیا تو اکیلا تھا۔ مرزا الہی بخش کے جلو میں شاہی جلوس تھا۔ وہ اکیلا عزت و آبرو کی منزلوں کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ ذلت و رسوائی کی راہوں پر چل نکلے، اپنا اپنا مقدر ۔۔ اپنی اپنی منزل۔
دریائے شنیل کے کنارے ایک چھوٹی مسجد پر ایک بڑی سی تختی لگی ہے، جس پر الفاظ کنندہ ہیں ‘اس مقام پر ابوعبداللہ نے غرناطہ کی چابی فرڈیننڈ کے حوالہ کی تھی‘ (اندلس کی تاریخ)
٢جنوری١٤٩٢ء سقوط غرناطہ، ١٦دسمبر١٩٧١ء سقوظ ڈھاکہ پانچ سو برس ہونے کو آئے مگر غداروں نے ابھی تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: