دسمبر ۔ آنسو، تلخیاں اور رسوائیاں

Posted on 23/12/2005. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست |

دسمبر آتے ہی ہر پاکستانی چاہے وہ کہیں بھی ہو اس مہینے کے کسی نہ کسی لمحے اس کی آنکھیں ضرور بھیگیں گی اور وہ اس شرمناک منظر کو ضرور یاد کرے گا جب ڈھاکہ کے رمنا ریس گراؤنڈ میں ایک پاکستانی جرنیل نے بھارتی جرنیل کے سامنے لاکھوں بنگالیوں کے سامنے اپنی شکست کا اعلان کیا اور اپنا ریوالور بھارتی جرنیل کو پیش کیا۔ پھر عین اس موقع پر جب پاکستانی جرنیل اپنی شکست کی دستاویز پر دستخط کر چکا تو بھارتی جنرل اروڑہ نے پاکستانی سپائیوں کی طرف سے ایک گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔ یہ سولہ دسمبر ١٩٧١ء کا دن تھا جب پوری پاکستانی قوم کی آبرو ڈھاکہ کی مٹی میں مل گئی۔
بھارت کی اس جرات اور سازش کے پیچھے روس کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔ فوجی ماہرین کے مطابق اگر روس بھارت کی مکمل عملی حمایت نہ کرتا تو بھارت کو کبھی اتنی بڑی کامیابی حاصل نہ ہوتی۔
قدرت شاید پاکستانیوں پر مہربان ہو گئی تھی کچھ عرصہ بعد ہی وقت نے پلٹا کھایا اور ٢٥ دسمبر ١٩٧٩ء کو روسیوں نے اپنی بے پناہ طاقت اور گھمنڈ میں افغانستان پر دھاوا بول دیا، ایک طرف افغان قوم جس نے کبھی غلامی قبول نہیں کی تھی، دوسری طرف پاکستانی قوم جو اپنے ذخم چاٹ رہی تھی اور ان زخموں کے مندمل کرنے کے لئے کسی موقع کی تلاش میں تھی، اس وقت عالمی حالات کچھ ایسے تھے کہ پاکستان براہ راست اپنی فوج افغانستان میں نہیں اتار سکتا تھا مگر روسیوں کی مزاحمت کو بھی فوری روکنا تھا چنانچہ پاکستان اپنے خفیہ اداروں کو حرکت میں لے آیا اور اس کی غیراعلانیہ اور خفیہ جنگ کی کمان جنرل اختر عبدالرحمان کے ہاتھ میں دے دی گئی۔
بریگیڈئیر یوسف اپنی کتاب ‘شکست روس‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کسی جرنیل نے گوریلا کاروائیوں کو اس قدر منظم طریقے سے ترتیب دیا کہ بالاخر ایک سپرپاور کو اپنے گھر کی راہ لینی پڑی۔ پھر یہ بھی پہلی بار ہوا کہ روسی سرحدوں کے اندر جا کر چھاپہ مار کاروائیاں کی گئیں‘ اس طرح وہ دن بھی آ گیا جب دریائے آمو کے اس پار افغانستان سے واپس جانے والے آخری روسی جرنیل کی آنکھوں میں ویسے ہی آنسو تھے جیسے اسی مہینے دسمبر میں چند برس پہلے پاکستانیوں کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
اس جنگ سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ دسمبر کے اس مہینے میں افغانستان کی یادیں ہماری تلخیوں اور رسوائیوں کو کم کر دیتی ہیں۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: