Archive for دسمبر, 2005

نادرہ کے چار کارڈ

Posted on 01/12/2005. Filed under: پاکستان |

مجھے آج ہی ایک ای میل کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے عوام کو پہچان کے لئے چار قسم کے کارڈ جاری کرتا ہے۔
١۔ پاکستان میں عام شناختی کارڈ جو ہر پاکستانی کو بنوانا پڑتا ہے۔
٢۔ بیرون ملک جانے یا بیرون ملک پاسپورٹ کی تجدید کروانے کی صورت میں اوورسیز شناختی کارڈ
اس کارڈ کی بیرون ملک کوئی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ بیرون ملک ہر ملک کے پاسپورٹ پر درج کوائف کو اہمیت دی جاتی ہے نہ کہ شناختی کارڈ کو، اس کارڈ کی فیس نادرہ نو سو روپے وصول کرتی ہے، حیرت کی بات ہے بیرون ملک جانے والے ہر فرد کے پاس پہلے ہی شناختی کارڈ موجود ہوتا ہے جسکے بغیر پاسپورٹ بنتا ہی نہیں، گویا تارکین وطن کو تمام دنیا سے ہٹ کر دو مختلف شناخت نامے رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
٣۔ ڈبل شہریت رکھنے والوں کے لئے شناختی کارڈ۔
٤۔ اس آخری کارڈ کی کہانی نہایت ہی دلچسپ ہے، یہ ان پاکستانیوں کے لئے ہے جو بیروں ملک کسی مجبوری، کام، تعلیم، کاروبار یا رہائشی ملک کی ضرورت کے تحت شہریت لینے پر مجبور ہیں جبکہ ان کا خاندان، جائیداد، حسب نسب پاکستان سے وابسطہ ہے، ان کو اپنے ہی وطن پاکستان، اپنے بچوں کو دین اسلام، پاکستان کی تاریخ و جغرافیہ سے آشنائی اپنے رشتہ داروں کی پہچان، بچوں کی تعلیم جیسے مسائل کے لئے وطن میں داخل ہونے کے لئے یہ کارڈ حاصل کرنا لازمی ہے اسے پاکستانی اوریجن شناختی کارڈ کا نام دیا گیا ہے، اس کی فیس نادرہ فی کس چھ ہزار روپے وصول کرتی ہے۔(نوٹ۔ ہر ملک کے حساب سے اس کی فیس مختلف ہے۔
یہ کارڈ اس وقت آپ کو مل سکتا ہے جب آپ اپنا پہلا پاکستان کا مقامی شناختی کارڈ نادرہ کو اسے منسوخ کرنے کے لئے نہ دے دیں یا نادرہ از خود اسے منسوخ نہ کر دے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ بغیر پاکستان کے مقامی کارڈ کے کسی کو دفتر،کالج، یونیورسٹی یا کسی کاروبار یا جائیداد کی خرید و فروخت نہیں ہو سکتی آپ بھلے ہی کسی کو اپنا اوریجن کارڈ دکھاتے پھریں کیونکہ پاکستان کی عوام میں نادرہ کی مہربانی سے اس کارڈ کی معلومات صفر ہیں۔
بیرون ملک میں مقیم پاکستانی گذشتہ اٹھاون سال سے اپنے خون پسینے کی کمائی زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان بھیج رہے ہیں، یہ زرمبادلہ پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان ان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والوں کو تعریفی اسناد، قومی ہیروز جیسے خطابات سے نوازنے کی بجائے ان سے مختلف بہانوں سے جگہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جبکہ تیسری دنیا کے ممالک بشمول بھارت اپنے محسنوں کو لاتعداد سہولیات کے ساتھ تعریفی اسناد دیتے ہیں۔
حکومت پاکستان اور خاص طور پر نادرہ سے گذارش ہے کہ برائے مہربانی تمام پاکستانیوں کے لئے ایک ہی قسم کا کارڈ سسٹم رائج کیا جائے کیونکہ ان لاتعداد اقسام کے کارڈوں سے اوورسیز پاکستانیوں میں نفرت اور بیرون ملک پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے ۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اب ’اماں جی‘ کی باری ہے

Posted on 01/12/2005. Filed under: پاکستان, تعلیم |

لیجیئے جناب اب اماں جی (صدرمشرف کی والدہ محترمہ) نے بیکن ہاؤس سکول میں چوتھی جماعت کو پڑھائی جانے والی کتاب سوشل سٹڈیز ورک بک ٹو میں جگہ پا لی ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق اب بیکن ہاؤس سکول کے بچے اماں جی کے بارے میں پڑھیں گے۔ اس پہلے ابا جی کا بڑا چرچا تھا مگر اب اماں جی کی باری ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...