Archive for جنوری, 2006

سیکورٹی کیمرے اور قانون

Posted on 28/01/2006. Filed under: ٹیکنالوجی, پاکستان |

پاکستان سے خبر آئی ہے کہ ملتان میں سیکورٹی کیمرے لگائے جا رہے ہیں جو ایک کنٹرول روم سے منسلک ہوں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس نظام سے ٹریفک منیجمنٹ بہتر ہو گی اور جرائم پر بھی قابو پایا جائے گا۔ یہ سب بجا مگر میرا نہیں خیال کہ صرف سیکورٹی کیمرے ٹریفک میں ترتیب پیدا کر سکتے ہیں یا مجرموں کا ہاتھ روک سکتے ہیں کیونکہ دنیا میں جرم، غلطی اور زیادتی کو صرف اور صرف قانون کا مضبوط نظام ہی روک سکتا ہے۔ یہ قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوتے ہیں جو پچھلی رات کے سناٹے میں چور، ڈاکو اور کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکٹے ہیں۔ دسمبر٢٠٠١ء میں الحمداللہ مجھے زیارت نبوی صلی علیہ وسلم کا شرف حاصل ہوا، جدہ میں قیام کے دوران ایک رات میں دو بجے کے قریب سفر کر رہا تھا میرے دوست نے اچانک ایک سنسان سڑک پر گاڑی روک لی، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے سامنے انگلی لہرا کا جواب دیا ‘سگنل سرخ ہے‘ میں نے کہا ‘مگر سڑک تو سنسان ہے اس وقت تو کوئی بھی گاڑی آ جا نہیں رہی‘ اس نے قہقہہ لگایا اور کہا یہ پاکستان نہیں ہے میرے دوست! اگر کسی نے مجھے اشارہ توڑتے ہوئے دیکھ لیا تو پھر مجھے کوئی طاقت نہیں بچا سکے گی‘۔ یہ ہے قانون اور قانون کا خوف۔ اس وقت میں دبئی میں ہوں یہاں مجھے کسی سڑک پر پولیس نظر آئی اور نہ ہی کیمرہ لیکن پورے شہر میں امن ہے، ٹریفک ایک نظام کے تحت رواں دواں ہے، ساری دکانیں اور شاپنگ سنٹر کھلے ہوئے ہیں مگر کسی دکان یا شاپنگ سنٹر کے باہر مجھے کوئی گارڈ وغیرہ نظر نہیں آیا، میں نے اپنے کزن سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ ‘پوری ریاست میں قانون کی حکمرانی ہے، تمام لوگ جانتے ہیں کہ ذرا بھی گڑبڑ ہوئی تو چند لمحوں میں پولیس پہنچ جائے گی، مجرم فوراّ پکڑا جائے گا، پورے دوبئی میں کوئی شخص مجرم کو نہیں بچا سکتا رہی بات ٹریفک کی تو یہاں ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کا تصور تک محال ہے۔ اول تو کوئی رولز کی خلاف ورزی کرتا نہیں اگر کوئی کر بیٹھے تو تو بچ نہیں سکتا‘۔ یہ ہے قانون اور قانون کا خوف۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم پاکستان کا جائزہ لیں تو پاکستان میں قانون نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کہیں قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نظر بھی آتے ہیں تو ان کا صرف ایک ہی مقصد نظر آتا ہے اس ملک کے حکمران طبقے کی جان، مال اور انا کی حفاظت۔ ذرا سوچئے جس ملک کی قانونی مشینری دن رات حکمرانوں کے جائز کاموں کو جائز بنانے میں لگی ہو اس مشینری کے پاس عام آدمی کے لئے کہاں وقت ہو گا۔ جس ملک کی عدالتوں میں دادے کے مقدمے کی پیروی پوتا کر رہا ہو، جس کے ہر جج کے پاس ڈیڑھ سو مقدمے ہوں اور وہ ان میں سے صرف پانچ مقدمے سنے اور باقی ایک سو پنتالیس کو اگلی تاریخ دے دے۔ جس ملک میں قاتل، پولیس اور ڈاکو عدالتی نظام میں سرمایہ کاری کرتے ہوں۔ جس ملک میں ہر غریب، ہر مظلوم پولیس سٹیشن جانے کی بجائے ظالم کے پاس چلا جاتا ہوں اور اس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگتا ہو ۔ جس ملک کے سیانے مظلوم کو عدالت جانے کی بجائے آپس میں مک مکا کا مشورہ دیتے ہوں آپ اس ملک میں کیمروں کے ذریعے جرم روکنا چاہتے ہیں۔ کیمرے کیا کریں گے؟ زیادی سے زیادہ مجرم کی تصویر بنائیں گے اور عدالت میں ثبوت پیش کر دیئے جائیں گے مگر پھر کیا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں وہ تمام مجرم کیفرکردار تک پہنچ جاتے ہیں جن کے خلاف ثبوت اور گوائیاں موجود ہوتی ہیں۔ اس ملک میں ثبوت اور گوائیاں کافی نہیں سمجھی جاتی۔ صرف صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے کو سزائے موت دینا قانون کی حکمرانی یا انصاف نہیں۔ انصاف وہ ہوتا جس کا حصول عام آدمی کے لئے بہت آسان ہو، معاشرے میں کیمروں کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی درکار ہوتی ہے، لیکن ہم قانون کی حکمرانی پر توجہ دینے کی بجائے صرف کیمرے لگا رہے ہیں، کمال ہے ہم کاغذ کی کشتی کو ٹائیٹینک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا شاید ہم پیچھے کی طرف دوڑ کر ترقی کرنا چاہتے ہیں۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اللہ حافظ

Posted on 17/01/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

جی ہاں جناب اللہ حافظ کیونکہ میں ٢٠ جنوری کو ملتان سے دبئی جا رہا ہوں اس بعد کیا ہوتا ہے، میں لکھ پاتا ہوں یا نہیں کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ سب وہاں پہنچ کر وہاں کے حالات اور ماحول پر منحصر ہے۔ اس لئے میں تمام دوستوں سے اجازت چاہوں گا کہ پھر کبھی ملاقات ہو یا شاید نہ ہو۔یار زندہ صحبت باقی

 

اس فقرے میں کتنی سچائی ہے اس کا مجھے بے چینی سے انتظار رہے گا۔

 

اپنا خیال رکھیے گا۔
چاہٹوں اور محبتوں کے اسی صدراہے پر اللہ حافظ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ڈھٹائی

Posted on 17/01/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

ذرا غور کیجیئے

 

اپناڈیرہ اردو بلاگ ۔۔۔۔ توبہ، استغفار

 

عدنان مقبول بلاگ۔۔۔…۔۔توبہ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ارے یہ کیا ہے؟َ

Posted on 16/01/2006. Filed under: متفرق |

 

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلوچ سردار، کون کس کا رشتہ دار

Posted on 16/01/2006. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , |

بڑے بلوچ سرداروں کی سیاسی جماعتیں تو الگ الگ ہیں لیکن یہ ایک دوسرے سے پیچ در پیچ رشتے ناطوں میں جڑے ہوئے ہوئے ہیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود سرداروں نے ایک دوسرے کے ہاں شادیاں کیں اور اپنے بچوں کی بھی آپس میں شادیاں کیں۔ بزرگ سرداروں کے اختلافات ہیں لیکن نئی نسل کی آپس میں دوستیاں بھی ہیں۔
نواب خیر بخش مری کے بھتیجے سردار ہمایوں خان مری نواب اکبر بگٹی کے داماد ہیں۔ وہ کوہلو سے انیس سو پچاسی سے انیس نوے تک تین دفعہ ایم پی اے منتخب ہوئے جہاں سے انیس سو ستر میں خود خیر بخش مری اور انیس ستتر میں ان کے بھائی میر قیصر مری منتخب ہوئے تھے۔ نواب خیر بخش مری سنہ انیس سو پچاس میں مری قبیلہ کے سردار بنے تھے۔ نواب خیر بخش مری کے ایک بیٹے گیزن مری کی اہلیہ سابق وزیرِاعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کی سوتیلی بہن ہیں۔ مگسی نواب بلوچستان کے بڑے زمیندار ہیں اور ان کا سیاسی اثر بلوچستان کے علاوہ سندھ کے علاقوں شہداد کوٹ اور لاڑکانہ تک موجود ہے۔ نواب بگٹی کے دوسرے داماد سردار چاکر خان ڈومکی کچھی کے بڑے سردار اور منتخب ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ نواب بگٹی کے ایک بھانجے میر طارق محمود کا تعلق ضلع لورالائی کے کھیتران قبیلہ سے ہے۔
قلات کے حکمران خاندان کی لسبیلہ کے جام خاندان سے رشتہ داری ہے۔ میر قلات میر احمد یار خاں کے بیٹے شہزادہ محی الدین سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور لسبیلہ کے میر جام غلام قادر خاں (موجودہ وزیراعلی کے باپ) کے داماد تھے۔ لسبیلہ سے سابق ایم این اے غلام اکبر لاسی میر جام غلام قادر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے لیکن وہ انیس سو ترانوے میں جام قادر کے بیٹے کے خلاف ایم این اے کا انتخاب جیتےتھے جس میں ان کو قوم پرست سردار عطااللہ مینگل کے بھائی مہر اللہ مینگل نے مدد کی تھی۔
جام میر غلام قادر نے اپنی ریاست کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا اور مکران اور خاران کی ریاستوں کو بھی پاکستان سے ملحق کرانے کے لیے کوششیں کی تھیں۔ وزیراعلی بلوچستان میر جام یوسف میرغلام قادر کے بیٹے ہیں۔ گو ان کا خاندان پرانا مسلم لیگی ہے لیکن ان کی قوم پرست سرداروں سے رشتے داری ہے۔ جام میر غلام قادر کی وفات کے بعد سردار صالح بھوتانی حب اور گڈانی کی موثر شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی بھی قوم پرست سرداروں سے رشتہ داری ہے۔سردار صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی سردار عطااللہ مینگل کے بہنوئی بھی ہیں اور سالے بھی۔
سردار صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی کی رشتہ داریاں دادو کے ضلعی ناظم ملک سکندر (اور اس کا کزن ملک علاؤالدین) سے ہیں جو صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں تھانہ بولا خان میں مقیم ہے۔ ملک سکندر صالح بھوتانی کے بھانجے اور داماد ہیں۔ یوں بالواسطہ طور پر دادو کے ضلعی ناظم کی سردار عطا اللہ مینگل سے رشتہ داری ہے۔
ملک علاؤالدین پولیس کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں اور جام آف ملیر جام مراد کےداماد ہیں۔ جام مراد کے ایک بیٹے سردار عطا اللہ مینگل کے داماد ہیں اور دوسرا نواب اکبر بگٹی کے۔ جام مراد کی دوستی نواب بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل دونوں سے ہے اور ان کے اختلافات میں ان کی صلح بھی کرانے کے لیے مشہور ہیں۔ دادو کے اس علاقہ میں پالارائی مینگل بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ضلعی ناظم دادو ملک سکندر آصف علی زرداری کا دست راست سمجھے جاتےہیں۔
سردار عطااللہ مینگل نواب رسول بخش کے بیٹے ہیں جنہوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ سردار مینگل کی ماں سردار بلوچ خان محمد حسنی کی بہن تھیں اور ایک سوتیلی ماں جام آف لسبیلہ جام غلام قادر کی بہن تھیں۔ سردار بلوچ خان کی بیوی خان قلات احمد یار خان کی بہن تھیں۔ سردار عطااللہ مینگل کی دو پشتوں پر حاصل بزنجو اور ان کے والد غوث بخش بزنجو کے خاندان سے بھی رشتے داری بنتی ہے کہ ان کے دادا سردار رحیم مینگل کے بھائی کرم خان مینگل کی غوث بخش بزنجو کی بہن سے شادی ہوئی تھی۔ سردار عطا اللہ مینگل کی پہلی بیوی اسلم گچکی کی بہن تھیں جو وفات پاچکی ہیں۔ دوسری بیوی محمد صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی کی بہن ہیں اور اختر مینگل کی والدہ ہیں۔ اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام یوسف کی ماں اور سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل کی ماں سردار اسلم گچکی کی بہنیں ہیں۔ سردار اسلم گچکی خود سردار بلوچ خاں کے داماد ہیں اور سردار عارف جان گچکی کے بہنوئی ہیں۔ یوں مینگل خاندان ایک طرف قلات، محمد حسنی اور لسبیلہ کے سرداروں سے رشتہ داری میں جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف سردار عطا اللہ مینگل کے بیٹے مری، محمد حسنی اور گچکی سرداروں کے ہاں بیاہے ہوئے ہیں۔ سردار عطااللہ مینگل کثیر العیال ہیں اور اسی اعتبار سے ان کی دوسرے قبیلوں کے سرداروں سے رشتے داریاں بھی زیادہ ہیں۔
میر عارف جان محمد حسنی کا تعلق خضدار کے محمد حسنی قبیلہ سے ہے اور ان کی بھی سردار عطا اللہ مینگل سے رشتہ داری ہے۔ ان کے ایک بیٹے سردار رستم خاں سردار عطااللہ مینگل کے داماد ہیں اور سابق وزیر اعلی سردار اختر جان مینگل کے بہنوئی ہیں جبکہ سردار عطااللہ مینگل کے بیٹے سردار منیر عارف محمد جان حسنی کی بیٹی سے شادی ہوئی ہے۔ اسلم گچکی کے بیٹے نے بھی محمد حسنی خاندان میں شادی کی۔ سردار عطا اللہ مینگل کے ایک اور بیٹے جاوید مینگل نواب خیر بخش مری کے داماد اور دوسرا بیٹے اختر مینگل سردار اسلم گچکی کے داماد ہیں۔ سردار عطا اللہ مینگل اور اسلم گچکی کے خاندان کی سندھ میں چانڈیو، جونیجو اور جتوئی خاندان میں لڑکیاں بیاہی ہوئی ہیں۔
ان رشتہ داریوں پر مستزاد بلوچ سرداروں کی نئی نسل کی آپس میں دوستیاں ہیں جن میں نواب خیر بخش مری کے بیٹے بلاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدہ بگٹی (جنہیں نواب بگٹی کا جانشین سمجھا جاتا ہے) کی دوستی کا آجکل خوب چرچا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شیروں کو گدھا نہ بنائیے

Posted on 16/01/2006. Filed under: پاکستان, تعلیم |

کچھ دن پہلے میں نے تعلیم کے موضوع پر ایک تحریر ‘تعلیم، ماں اور ریاست‘ لکھی تو چند دوستوں نے مطالبہ کیا کہ اسی موضوع پر اور بھی لکھا جائے، ان کا کہنا تھا کہ اتنے اہم موضوع پر اتنا کم لکھنا زیادتی ہے۔ آج جب میں لکھنے بیٹھا تو سوچا کیوں نا دوستوں کا مطالبہ پورا کیا جائے۔ تو لیجئے جناب تعلیم پر ایک اور تحریر حاضر ہے پڑھئیے اور اپنی رائے دیجیئے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی طالب علم اپنی تعلیمی زندگی میں جو پہلا مستند امتحان دیتا ہے وہ میٹرک کا امتحان ہوتا ہے جس میں کامیابی کے بعد اسے پہلی سند ملتی ہے، یہ سند آنے والی زندگی میں اس کے لئے کتنی معاون ثابت ہوتی ہے اس سے قطع نظر قابل غور بات یہ ہے کہ اس طالب علم کو پڑھایا کیا جاتا ہے؟ ایک سائنس کے طالب کو لے لیں، وہ میٹرک تک وہ مضامین پڑھتا ہے جو اسے ایسے چوراہے پر لے آتے ہیں جہاں پہنچ کر وہ اپنی منزل، اپنی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ میٹرک میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے بعد عموما ایک طالب علم میں ایسے شعبوں میں جانے کو ترجیح دیتا ہے، اگر وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو اسے اردو، انگلش، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین کے ساتھ فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کے مضامین اختیاری طور پر پڑھنے پڑتے ہیں اور اگر وہ انجینئر بننا چاہتا ہے تو اسے لازمی مضامین کے ساتھ فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کے مضامین اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ آپ سوچیں! ایک ایسا طالب علم جو مستقبل میں ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتا ہے آنے والے وقت میں لازمی مضامین اس کے لئے کتنے کارآمد ہیں؟ ورڈزورتھ، ولیئم بلیک، ایس ٹی کولرج اور جان کیٹس کی شاعری، ارنیسٹ ہیمنگوے کے ناول، شیکپیئر کے ڈرامے اور مینس فلیڈ، جے کے جیروم اور جیمز تھربر کے افسانے مرض کی تشخیص کرنے کے کام آتے ہیں؟ بڑی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہوتے ہیں؟ یا انسانی سہولت کے لئے کوئی نئی ایجاد کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں؟ غالب کی غزلیں کون سے آپریشن میں مفید ثابت ہوتی ہیں؟ میر تقی میر، میر درد، میر انیس، احسان دانش، میرداغ اور اکبر الہ آبادی کی شاعری، انتظار حسین کے افسانے، رضیہ بٹ اور ڈپٹی نذیر احمد کے ناول انجینئرنگ کے کون سے فارمولے حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟ کیا یہ ادب پارے میڈیکل کے طالب علم کو کوئی نئی میڈیسن ایجاد کرنے میں فائدہ دیتے ہیں؟ کسی انجینئر کے لئے تکنیکی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں کیا ادب کا یہ خزانہ جو انٹرمیڈیٹ میں سائنس کے طالب علموں کو دو سال پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے انہیں آئین سٹائین، نیوٹن، فراڈے، بوائل، چارلس، پاسکل، گراہم بیل، جے جے تھامسن یا ڈاکٹر عبدالقدیر خان بنا سکتا ہے؟ یقینا نہیں بنا سکتا، بلی کے گھر شیر کی پیدائش کا امکان ہی دنیا کا انتہائی نامعقول خیال ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسقبل کے مسیحاؤں اور معماروں کو فزکس، کیمسٹری، ریاضی اور بیالوجی کے مساوی نمبروں کے حامل اردو اور انگلش پڑھا کر نجانے وطن عزیز کی کون سی خدمت کی جارہی ہے۔
١٨٥٧ء کی کہانیاں اور ١٧٢٣ء کی نظمیں پڑھا کر آخر ہم معصوموں سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ایک بچے نے ان زبانوں اور ادب ریزوں سے جو کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے وہ میٹرک تک ہی حاصل کر لیتا ہے بعد میں ایک ہی چیز کو طوطے کی طرح رٹانے کا فائدہ؟۔
اب آئیے میٹرک سے آگے ایف ایس سی کی طرف ایک میڈیکل کے طالب علم کے لئے فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کے تینوں مضامین پڑھنے کتنے ضروری ہیں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ فزکس مادے اور توانائی کی ساخت، تبدیلیوں اور تعلامات کے مطالعے کا نام ہے جبکہ کیمیا مادے کی ساخت، ہیئت، ترکیب، تبدیلی اور مادے سے وابستہ توانائی کی تبدیلیوں کے مطالعے کا نام ہے۔ بیالوجی تو ویسے بھی زندہ اشیاء کا مطالعہ کہلاتا ہے۔ اجزاء کے اعتبار سے کیمسٹری، بیالوجی کے زیادہ قریب ہے یہ دونوں مضامین باہمی مطالعہ میں ایک دوسرے کے سود مند معاون ثابت ہوتے ہیں جبکہ فزکس بیالوجی کے طالب علم کے لئے پانچ فیصد بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود میڈیکل کے طالب علم کو دو سال طبعیات کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی حال پری انجینئرنگ کے طلباء کا ہوتا ہے کیمسٹری جس کا ریاضی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں طلباء پر یہ آضافی بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ عقل کے دروازے کھول کر دیکھیں تو ایف ایس سی میں داخلہ لینے والے طالب علم کو ہم تین ایسے اضافی مضامین پڑھا دیتے ہیں جو ان کے لئے زندگی میں کبھی ثمرآور ثابت نہیں ہوتے۔ان مضامین کی جگہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے ان کے لئے معاون مضامین کے ایڈوانس کورسز پڑھائے جا سکتے ہیں۔ یہ ایڈوانس کورسز کرا کے یقینا ہم سات سو سالوں کی ترقی صرف سات سال میں طے کر سکتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے کھوئے ہوئے قافلے کو صرف چند سالوں میں پکڑ سکتے ہیں۔
جو طلباء اردو اور انگلش پڑھنا چاھتے ہیں وہ ان مضامین کو اختیاری طور پر یہ مضامین پڑھ سکتے ہیں۔ دنیا میں ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا کہ ایک چیز لازمی بھی ہو اور اختیاری بھی یہ ‘معجزہ‘ صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کہ اردو لازمی بھی ہے اور اختیاری بھی، انگلش لازمی بھی ہے اور اختیاری بھی، اسلامیات لازمی بھی ہے اور اختیاری بھی، مطالعہ پاکستان لازمی بھی ہے اور اختیاری بھی ہے۔
ہمیں اختیاری مضامین کے ایسے کمبی نیشن بنانے ہوں گے جو ایک دوسرے کے معاون اور مددگار ثابت ہوں جن کا آپس میں کوئی جوڑ، کوئی تعلق بھی بنتا ہو۔ اگر ہم شرخ شلوار کے ساتھ سفید قمیض پہن لیں یا تھری پیس سوٹ کے ساتھ ہوائی چپل پہن لیں تو خود ہی مذاق بن جائیں گے۔ اس لئے خدارا آپ ان معصوم بچوں پر سے کتابوں کا بوجھ اتاریئے، انہیں ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کیجیئے پھر دیکھیئے یہ شیر کیا کرتے ہیں کیونکہ ایک گدھا بھی بوجھ کم ہونے پر مالک کے کہے بغیر اپنی سپیڈ تین گنا کر لیتا ہے، یہ پھر بھی شیروں کی قوم ہے۔ اس لئے خدارا ان شیروں پر رحم کیجئے ان پر لدھے اضافی بوجھ کو ختم کریں ورنہ سب جانتے ہیں بوجھ تو شیروں کو بھی گدھا بنا دیتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بولتی تصویریں

Posted on 07/01/2006. Filed under: متفرق |

 

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شیطان کے شیرے سے بچیں

Posted on 07/01/2006. Filed under: سیاست |

جن باتوں پر مجھے کامل یقین ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھاری اکثریت میں ہیں جو امن و چین سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں، جو جنگ سے نفرت کرتے ہیں اور ہوس ملک گیری کی لعنت سے پاک ہیں لیکن پھر میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ دنیا میں امن پسندوں کی اتنی بھاری اکثریت کے باوجود جنگ کیوں ہوتی ہے۔
دوسری بات جس پر مجھے پختہ یقین ہے وہ یہ کہ ایک ملک کی فوج دوسرے ملک کی فوج کو شکست دے سکتی ہے یا اس سے شکست کھا سکتی ہے لیکن کسی ملک کے عوام اگر اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کی طاقتور سے طاقتور فوج ان کو شکست نہیں دے سکتی۔ لیکن پھر میری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ مقتدر اور بااختیار لوگ عوام کی مرضی کے خلاف یا ان کی مرضی حاصل کیے بغیر اقدامات کیوں کرتے ہیں۔
کبھی بچپن میں میں نے یہ حکایت سنی تھی یا پڑھی تھی کہ شیطان نے کسی حلوائی کی دکان سے انگلی میں ذرا سا شیرہ اٹھا کر دیوار پر چپکا دیا ۔اس پر ایک مکھی بیٹھ گئی۔ وہیں کہیں کوئی بلی بیٹھی تھی اس نے مکھی پر ایک جھپٹا مارا، بلی کو جھپٹتے دیکھ کر قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک کتے نے بلی پر چھلانگ لگادی حلوائی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور کتے کی کمر پر ایک ڈنڈا جڑدیا، کتے کی’ کیں کیں‘ سن کر اس کا مالک آگیا اور حلوائی سے اس کی تو تو میں میں شروع ہوگئی اور بات یہاں تک بڑھی کہ دونوں طرف سے ڈنڈے اور بلم اور بھالے نکل آئے، دو چار لاشیں گرگئیں اور دیکھتے دیکھتے اس فساد نے پورے شہر کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔
شیطان کا کہنا تھا کہ اس نے تو صرف دیوار پر ایک ذرا سا شیرہ لگایا تھا۔
آپ دنیا کی بڑی سے بڑی جنگ یا سیاسی تنازعات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کا کوئی جواز نہیں تھا ماسوائے اس کے کہ شیطان نے کسی معمولی سے واقعہ کی یا ایک معمولی سے مطالبے کی شکل میں کہیں پر ایک ذرا سا شیرہ لگا دیا تھا۔
بھارت کو ہی لے لیجئے اگر اکثریتی برادری یا جماعت مسلمانوں کے خدشات کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتی تو عین ممکن ہے جناح صاحب ہندو مسلم اتحاد کے پیغمبر کے لقب سے ہی یاد کیے جاتے، پاکستان کا بانی بننے کی نوبت نہیں آتی۔
اسی طرح اگر پاکستان کے حکمراں بنگلہ زبان کو قومی زبان بنانے کے مطالبے کو پہلے ہی تسلیم کر لیتے یا اگر 1970کے عام انتخابات کے بعد عوامی لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت دے دیتے تو شاید 1971 میں نہ اتنا خون خرابا ہوتا نہ بنگلہ دیش بنتا۔
اگر ایک یونٹ کی لعنت نہ مسلط کی جاتی اور قراردار پاکستان کے مطابق ملک کے تمام صوبوں کو داخلی خودمختاری دے دی جاتی تو آج جو کچھ بلوچستان میں ہورہا ہے وہ شاید نہیں ہوتا۔ یہی نہیں میں تو کہتا ہوں کہ اگر عراق پر وسیع تباہی والے ہتھیار رکھنے سے متعلق اطلاع کی صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر صحیح طریقے سے جانچ پڑتال کرلیتے تو نہ اتنے بےگناہ امریکی مارے جاتے نہ اتنے بےگناہ عراقی ۔
اسی طرح اگر اسرائیلی اوران کے سرپرست اپنی ایک علیحٰدہ ریاست بنانے کے بجائے فلسطینیوں کے ساتھ ملکر رہتے تو زیادہ محفوظ اور کامیاب ریاست تشکیل دے سکتے تھے اور خودکش حملوں کا ڈر بھی نہیں رہتا۔
مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ دنیا میں جہاں جو بھی گڑ بڑ ہے اس کے پیچھے وہ شیطان کی ایک بڑی ہی معمولی اور بظاہر بہت ہی معصوم سی شرارت ہوتی ہے اگر اس کو فوری طور پر پکڑ لیا جائے یا تلاش کرلیا جائے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچے جہاں عام طور پر پہنچ جاتی ہے۔
اب کشمیر کو ہی لے لیجئے، بھارت اور پاکستان اورخود کشمیر کے عوام، دانشور، سیاستداں اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اسطرح حل کرنا چاہتے ہیں کہ ہر فریق مطمئن ہوجائے لیکن کہیں کوئی شیطان بیٹھا کوئی ایسی حرکت کردیتا ہے جو بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے۔
پاکستان کے صدر پرویز مشرف ٹھیک ٹھاک جارہے تھے انہوں نے اپنی مدد کے لیے ایک سیاسی جماعت بھی تشکیل دے لی تھی جو ان کی وردی اور صدارت دونوں کی محافظ تصور کی جارہی تھی کہ اچانک کسی نے کالا باغ کا شیرا کہیں کسی دیوار پر لگا دیا اور دیکھتے دیکھتے حکمراں اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا اوراگرچہ صدر پرویز اب بھی بہت مضبوط ہیں لیکن شاید اتنے نہیں کہ آرام سے کالا باغ ڈیم بنالیں۔
ادھر بلوچستان میں بھی یہی ہوا چودھری شجاعت اور مشاہد حسین سید کی کوششوں سے صورتحال میں بہتری آتی دکھائی دے رہی تھی کہ اچانک کسی کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اس نے صدر صاحب کے ایک جلسے کے قریب راکٹ داغ دیے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس شرارت کے ذمہ دار افراد کو پکڑا جاتا، عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں قرارواقعی سزا دی جاتی۔ لیکن صدر صاحب کے حلقہ بگوشوں میں کوئی ایسا ہوگا جس نے اپنے آپ کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے کے چکر میں ملزمان کو پکڑنے کے بجائے پورے علاقے میں فوجی کارروائی کا مشورہ دیدیا یا ازخودشروع کردی، جو تادم تحریر جاری ہے۔
اخباری اطلاع سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شرانگیزی کے ذمہ دار تو شاید اب تک نہیں پکڑے جاسکے لیکن بچوں اور عورتوں سمیت کچھ معصوم لوگ مارے گئے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو شاید اور مارے جائیں۔
مجھے یقین ہے کہ نہ صدر پرویز مشرف یہ چاہتے ہیں نہ بلوچ عوام لیکن کوئی شیطان کہیں دیوار پر شیرہ لگا کر بیٹھا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ ہم سب کو عراق میں ہو یا ایران میں، فلسطین میں ہو یا کشمیر میں، وانا میں ہو یا کوہلو میں اپنے درمیان بیٹھے ہوئے شیطانوں کو پکڑنا چاہیے تاکہ عام لوگ، معصوم لوگ ان کے لگائے ہوئے شیرے کے نتیجے میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہ ہوں۔
علی احمد خان۔بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

امریکن سنڈی

Posted on 05/01/2006. Filed under: طنز و مزاح |

ایک کسان گھبرایا ہوا زرعی ادویات کے مرکز میں داخل ہوا اور اس نے سامنے کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ سنڈیوں اور کیڑوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی اچھا سا اسپرے دے دیجئے پچھلی دفعہ میری فصلوں کو بہت نقصان ہوا تھا۔
زرعی اہلکار نے کہا۔ لیجئے جناب! اس دفعہ آپ یہ انڈیا کی نئی (یرقان ڈی) استعمال کریں۔ یہ کیڑوں اور سنڈیوں کی بہت موثر دوا ہے، بلکہ امریکن سنڈیوں کی تو یہ دشمن ہے، امریکن سنڈی کا یہ نام و نشان مٹا دے گی۔
کسان نے چونک کر دوائی واپس کرتے ہوئے کہا ۔ نہیں جناب نہیں! یہ نہیں چاہیے مجھے، امریکا کو تو کسی نہ کسی بہانے کی تلاش ہوتی ہے۔ اگر امریکا کو پتہ چل گیا کہ ادھر اس کی ایک سنڈی مار دی گئی ہے تو وہ ہمارے ملک پر حملہ کر دے گا، میں یہ رسک نہیں لے سکتا۔
ساتھ کھڑے ہوئے ایک صاحب نے کہا۔ اوہ یہ مریکا بھی بڑا عجیب ہے، ہمارے ملک کے بندوں کو امریکا کا ویزہ نہیں ملتا اور اس کی سنڈی بغیر ویزے ہمارے ملک میں آزاد گھوم رہی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ای گورنمنٹ

Posted on 04/01/2006. Filed under: ٹیکنالوجی, پاکستان, سیاست |

ہمارے جدید وزیراعظم جناب شوکت عزیز تمام سرکاری اداروں کو آپس میں منظم و مربوط کرنے کے لئے پاکستان میں ‘ای گورنمنٹ‘ کا نظام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے کاروبار مملکت کی رفتار انتہائی حد تک تیز ہو جانے کی امید ہے مگر ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس پر عملدرآمد کب تک ممکن ہو سکے گا۔
کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور ای میل کے ذریعے رابطے جس قدر تیز تریں ہو چکے ہیں ماضی میں اس کا تصور بھی نا ممکن تھا اس نظام کو تقریبا تمام ترقی یافتہ ممالک اپنا چکے ہیں جس سے مہینوں کا کام گھنٹوں اور منٹوں میں ہو رہا ہے اور کاروبار مملکت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا پہیہ جس تیزی سے گھوم رہا ہے اتنی ہی تیزی سے اس کا ساتھ دینا انتہائی ضروری ہے مگر افسوس پاکستان میں ایسی تیزرفتار ترقی کے لئے کوئی کوشش نہیں ہو رہی بلکہ ابھی تک وہی برسوں پرانا نظام رائج ہے جس سے عوامی مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز کا ‘ای گورنمنٹ‘ کا نظام اپنانے کا اعلان خوش آئند ہے مگر اس کے لئے جب تک حقیقی اور دور رس اقدام نہ اٹھائے جائیں ترقی کا یہ خواب ‘خواب‘ ہی رہے گا، کیونکہ ایک تو ابھی تک تمام سرکاری اداروں کی ویب سائٹس ہی نہیں ہیں، چند ایک کی ہیں تو وہ بھی نامکمل اور ناقص معلومات پر مبنی ہیں اور پھر کبھی ان کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ اگر عوام ان ویب سائٹس کے ذریعے سرکاری اداروں کو اپنی شکایات ارسال کرتے ہیں تو انہیں اس کے جواب کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے، کچھ ادارے تو جواب دینے کی زحمت بھی گورا نہیں کرتے۔
ای گورنمنٹ کے لئے ضروری ہے کہ تمام سرکاری اداروں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جائے اور ان کے خلاف شکایات کی صورت میں سختی سے نوٹس لیا جائے، تمام محکموں کے درخواست فارموں اور دیگر کاغذات کو ان اداروں کی ویب سائٹس پر مہیا کیا جائے اور تمام اداروں کے کام کی رفتار کو مستقل بنیادوں پر مانیٹر کیا جائے، تب ہی جا کر ای گورنمنٹ کے خواب کی تعبیر ممکن ہے وگرنہ یہ صرف خام خیالی ہی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...