Archive for مارچ, 2006

کند سے کندن

Posted on 31/03/2006. Filed under: تعلیم |

تعلیم، ماں اور ریاست کے بعد جب میں نے اسی موضوع پر شیروں کو گدھا نہ بنائیے لکھا تو بہت سے دوستوں نے اس میں سے نکتے نکالے، مگر میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ غیر ضروری مضامین کی جگہ ہم ایڈوانس کورسز کرا سکتے ہیں یہ ایڈوانس کورسز کرا کے یقینا ہم سات سو سالوں کی ترقی صرف سات سال میں طے کر سکتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے کھوئے ہوئے قافلے کو صرف چند سالوں میں پکڑ سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی آخری کڑی ‘ کند سے کندن‘ حاضر ہے غور سے پڑھیئے اور پھر اپنی رائے سے آگاہ کیجیئے۔
ساری دنیاکی طرح پاکستان میں بھی جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دو کان، دو آنکھیں، دو ہاتھ، دو پاؤں اور دنیا کے ہر بچے جتنا ہی اس کا دماغ ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ الفاظ کو معنی پہنانے اور اشاروں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تو اسے دنیا کے مشکل ترین امتحان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ ابھی ایک زبان پر ایک فیصد عبور بھی حاصل نہیں کر پایا ہوتا کہ اس پر چار زبانیں حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ کتاب سے آشنا ہوتے ہی چار زبانیں اس کی نصف سے زیادہ صلاحیتوں کو خاموش کر دیتی ہیں۔ سب سے پہلے اسے مادری زبان سمجھنا پڑتی ہے کہ ساری عمر اس کا اسی فیصد ابلاغ اسی زبان میں ہوتا ہے۔ اسی زبان میں اس ستر فیصد دوست احباب اور رشتےدار اسے ملتے ہیں، وہ اسی زبان میں سوچتا اور پروگرام بناتا ہے، وہ دنیا میں کہیں چلا جائے مادری زبان اور لہجہ اس کے خون میں سرایت کر چکے ہوتے ہیں، اس کے ڈی این اے کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ مادری زبان سکھانے کے باوجود والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے قومی زبان سکھائی جائے۔ ماں بولی کے ہر لفظ اور جملے کا اسے اردو میں ترجمہ یاد رکھنا پڑتا ہے۔ مادری زبان میں وہ گالیاں نکالنا سکھتا ہے تو اردو میں وہ دوسرے کو ‘تو‘ کی جگہ ‘آپ‘ جیسے محترم الفاظ بولنا سکھتا ہے۔والدین مذہبی تعلیم کے لئے اسے کسی مولوی صاحب کے حوالے یا کسی مدرسے میں ڈالتے تو اسے تیسری زبان عربی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد سکول بھیجنے سے پہلے والدین اسے چوتھی زبان انگلش سے آشنا کرا چکے ہوتے ہیں۔ وہ اسے بڑے پیار سے بتاتے ہیں کہ ناک کو نوز، آنکھوں کو آئیز، پیشانی کو فورہیڈ، ہاتھوں کو ہینڈز، ٹانگوں کو فینگرز، منہ کو ماؤتھ، انگلیوں کو فنگرز، ہونٹوں کو لپس اور انگوٹھے کو تھمب کہتے ہیں۔ اگرچہ چھوٹی عمر کے بچے میں سکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بچے کی خداداد صلاحیتوں کو زبان کے ساتھ اس چومکھی لڑائی میں ضائع کیا جائے؟ جو زبان جتنا کم فائدہ دیتی ہے بچے کو اسے سیکھنے کے لئے اس پر اتنی زیادہ محنت کرنے پڑتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں مادری یا قومی زبان کے علاوہ اسے اور کوئی زبان نہیں سکھنا پڑتی۔ اس کا سارا ابلاغ اور تعلیم ایک ہی زبان میں ہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی پچھتر فیصد دماغی قوت اور صلاحیت دیگر تعمیری اور پیداواری علوم سکھنے میں استعمال کرتا ہے۔ وہ بارہ سال کی عمر سے ہی دریافتوں، تحقیقاتوں، تجربوں اور ایجادوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، ہالینڈ، آسٹریلیا، امریکہ، کوریا، جاپان، چین، ملائشیا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، روس اور دیگر ترقی شناس ممالک میں بچوں کو ایک سے زائد زبانوں کی بھٹی سے نہیں گزارا جاتا۔ ہمارے ہاں سارے یورپ کے باشندوں کو ہی انگریز سمجھا جاتا ہے، انگلش بلا شبہ بین الاقوامی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے لیکن چند ملکوں کے سوا دنیا بھر میں کہیں انگلش نہیں بولی جاتی، وہ لوگ اپنی زبانوں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ابھی چند دن پہلے آپ نے یہ خبر پڑی یا سنی ہو گی کہ برسلز میں یورپی یونین کے ایک اجلاس میں فرانس کے صدر شیراک، وزیر خارجہ اور وزیرخزانہ اس وقت اجلاس سے واک آؤٹ کے گئے جب ان کے ایک ہم وطن نے انگریزی زبان میں تقریر شروع کر دی۔ یہ تھی ایک چھوٹی سی جھلک اپنی زبان محبت کی، ان ملکوں مقامی زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو اہمیت نہیں دی جاتی، ان کے صدور اگر کسی تقریب میں بھولے سے انگلش کے چند الفاظ بول دیں تو اگلے دن ان کے خلاف ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں، اخبارات میں مستعفی ہونے کی شہ سرخیاں لگتی ہیں، بھوک ہڑتالیں کی جاتی ہیں، اداریے لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ یا اسے استعفٰی دینا پڑتا ہے یا آئندہ انگلش بولنے سے توبہ کر کے قوم سے معافی مانگنی پڑتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ فرانسیسی صدر کی ملاقات ہو، کوئی عالمی سیمینار ہو یا اقوام متحدہ کا اجلاس ہو فرانسیسی صدر‘مائی ڈیئر‘ کے بجائے ‘موسیو‘ سے اپنی تقریر شروع کرے گا اور دوسری زبان کا ایک لفظ بولے بغیر اپنا خطاب مکمل کرے گا۔ البتہ سامعین کو مترجم کی سہولت فراہم کر دی جاتی ہے۔
آپ ہالینڈ، اٹلی، کوریا، جاپان، چین، ملائشیا، سوئٹزرلینڈ اور روس کو لے لیں، کیا ادھر کے حکمرانوں نے کبھی کسی تعلیمی ادارے کا منہ نہیں دیکھا؟ کیا وہ ان پڑھ ہیں؟ کہ دنیا کے ہر فورم پر اپنی بات اپنی زبان میں ہی کرتے ہیں اور اپنی زبان کے سوا دنیا کی کسی دوسری کو درخور اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ ان ممالک کا کوئی سربراہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے تو کوئی فلسفے میں ایم فل کئے ہوئے ہے، کسی نے بزنس کی ایڈمنسٹریشن میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے تو کسی نے معاشیات میں آنرز کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے، حد تو یہ کہ لینگویج میں ماسٹر کئے ہونے کے باوجود وہ صرف اپنی زبان بول سکتے ہیں۔ دفتروں میں مقامی زبان استعمال ہوتی ہے، تمام سرکاری کاغذات مقامی زبان میں تیار کئے جاتے ہیں۔ آپ میڈیا کو ہی لے لیں ان ممالک کا ننانوے فیصد میڈیا مقامی زبان میں اپنے اخبارات، رسالے، مجلے، میگزین، اور بلیٹن جاری کرتا ہے۔ تشہیری فلمیں مقامی زبانوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ ملکی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں اشہتاری بورڈ تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہالی وڈ کو اپنی فلمیں مقامی زبانوں میں ڈبنگ کے ساتھ پیش کرنا پڑتی ہیں۔ یہ ممالک انگلش کو رابطے کی زبان کے طور پر ضرور استعمال کرتے ہیں لیکن وہ بھی صرف مترجم کے ذریعے۔ ان ممالک نے اپنے بچوں کو زبانوں کے جنجال سے بچا کر ان کی صلاحیتوں، دماغی استعداد اور ذہنی توانائیوں کو مثبت، تعمیری اور ایجادی سرگرمیوں کی بھٹی میں ڈال دیا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا بچہ کندن بن کر نکلا۔ ان پر ڈی این اے نے اپنے اسرار عیاں کر دئیے۔ ان پر کلوننگ کے بھید ظاہر ہو گئے۔ لوہا ان کے ہاتھ میں موم ہو کر رہ گیا۔ گیسوں کے آوارہ مالیکیولز اپنی مرضی سے حرکت کرنے پر قادر نہ رہے۔سمندر ان کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ چاند نے ان کے قدموں کو بوسے لئے۔ اب مریخ ان کے پاؤں چومنے کے لئے بےقرار ہے۔ زمین اپنے خزانے اور فضاء اپنے راز ان پر مسلسل کھول رہی ہے۔ مگر ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ ہم نے بچوں کو چار چار زبانیں تو پڑھا دیں لیکن ان کے دماغ خاموش کرا دئیے۔ ہم نے ان کے ہاتھوں میں کند تلواریں تھما کر بی ففٹی ٹو کے مقابلے میں اتار دیا۔ جہاں تک ٹیلنٹ کی بات ہے تو پاکستانی بچے دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں لیکن اس کے باوجود اے لیول میں نوایز حاصل کر کے دنیا بھر میں ریکارڈ قائم کرنے والے بچے کے بارے میں پورے وثوق سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ کل وہ کچھ ایجاد بھی کرے گا۔ وہ سینہ قدرت سے کوئی راز نکائے لائے گا۔ مہینے بھر کا راشن ایک دن میں ہڑپ کرنے والوں کو باقی کے انتیس دن بھوکا ہی رہنا پڑتا ہے۔ وہ گاڑیاں جو گول چکروں کے گرد گھوم کر ہی اپنا ایندھن جلا ڈالیں کبھی منزلوں پر نہیں پہنچا کرتی، بچوں کو کند سے کندن بنانے کے لئے صرف ‘ن‘ کا اضافہ ہی کافی نہیں اس کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو زبانوں کے ہاتھوں ذبح ہونے سے بچانا ہو گا۔ایک خبر ۔ جاپان کی اوساکا یونیورسٹی آف فارن سٹیڈیز کے شعبہ جنوبی ایشیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سویما نے کہا ہے کہ اردو تاریخی اور ثقافتی زبان ہے اسے انگریزی زبان کی دستبرد سے بچانا جائے، اس کے لئے شعوری کوشش ہونا چاہیے۔ جاپان میں حکومت نے اپنی زبان کو انگریزی اور دوسری بڑی ثقافتوں کی یلغار سے بچانے کے لئے یہ ہدایت کی ہے کہ دفاتر میں جتنے انگریزی کے الفاظ استعمال ہو رہے ہیں ان کا جاپانی ترجمہ کیا جائے اور آئندہ ان ترجمہ شدہ الفاظ کا ستعمال کیا جائے۔ یوینسف کی رپورٹ میں اردو کو دنیا کی تیسری بڑی زبان قرار دیا گیا اگر اتنی بڑی زبان کو بچانے کی شعوری کوشش نہ کی گئی تو یہ بدقسمتی ہو گی۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مدد Help

Posted on 31/03/2006. Filed under: ٹیکنالوجی |

میں ڈائل اپ انٹرنیٹ کنکشن استعمال کرتا ہوں، انٹرنیٹ یوز کرنے کے دوران میں چاہتا ہوں کہ میرا فون بھی استعمال میں رہے یعنی نٹ استعمال کرتے ہوئے میں فون کر اور سن بھی سکوں۔ اس کا کوئی طریقہ یا کوئی سافٹ وئیر ہو تو برائے مہربانی میری مدد کیجیئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مغل اعظم

Posted on 31/03/2006. Filed under: متفرق |

مغل شہنشاہ اکبر کی بیٹے شہزادہ سلیم اور انارکلی کی محبت پر بنائی گئی فلم ’مغل اعظم‘ ١٩٦٠ء میں بھارت میں ریلیز کی گئی تھی۔ حکومت، سنسر بورڈ اور فلمی حلقوں کی ایک طویل کشمکش کے بعد بر صغیر کی تاریخی رومانوی داستان پر مبنی فلم ’مغل اعظم‘ کی پاکستان میں نمائش دو جون سے کی جا رہی ہے۔ واضع رہے کہ یہ رنگین فلم ہے جسے حال ہی میں رنگین بنانے کے بعد انڈیا میں نمائش کے لئے پیش کیا گیا تھا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کاروکاری

Posted on 25/03/2006. Filed under: رسم و رواج |

کارو کاری پر پہلی اینیمیشن فلم

بی بی سی اردو نے کاروکاری کو موضوع پر پہلی اینمیشن فلم اپنی سائٹ پر پیش کی ہے، کاروکاری پر بنائی گئی اس فلم کا دورانیہ دو منٹ اٹھاون سکنڈ ہے اور اسے سعید منگی نے پروڈیوس کیا ہے۔
فلم دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجیئے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اب کیا ہو گا؟

Posted on 24/03/2006. Filed under: اسلام, رسم و رواج, سیاست |

افغانستان میں افغان شہری عبدالرحمان کا مذہب اسلام تبدیل کر کے عیسائیت میں داخلہ اور عدالت کی طرف سے سزائے موت کی دھمکی نے ایک نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے امریکہ سمیت یورپ نے افغانستان کی حکومت پر دباؤ ڈالا ہوا ہے کہ وہ عبدالرحمان کو رہا کرے۔
اس سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس اور جرمنی کی چانسلر انجلا میرکل نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے بات چیت کی اور عبدالرحمان کی مبینہ سزائے موت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ روز امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ افغانستان کے اس شخص عبدالرحمٰن کے بارے میں انہیں شدید تشویش ہے جس نے اسلام ترک کرکے عیسائت قبول کرلی ہے، مجھے امید ہے کہ افغانستان کے حکام آزادی کے آفاقی اصول کا پاس کریں گے، مجھے یہ سن کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اسلام کو ترک کرتا ہے تو اسے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔‘
سولہ برس قبل پاکستان میں پناہ گزینوں کے لیئے عیسائی امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے کے دوران عبدالرحمان نے مذہب تبدیل کیا تھا۔ ان کے خاندان نے انہیں چھوڑنے کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملے میں عبدالرحمٰن کی مذمت کی تھی۔ افغانستان کے قانون کے مطابق اگر عبدالرحمان دوبارہ اسلام قبول نہ کیا تو اسے موت کی سزا دی جا سکتی ہے اسے سلسلے میں افغانستان پر امریکی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ عبدالرحمٰن کے ساتھ جنہیں واپس مسلمان نہ ہونے پر سزائے موت دیئے جانے کا امکان بہر حال موجود ہے، مذہبی رواداری اور آزادی کا سلوک کیا جائےعبدالرحمٰن کے مذہب تبدیل کرنے پر سزا کا حقدار ٹھہرنے کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور سے صدر جارج بش کے مسیحی حمایتی اس واقعہ سے نہ صرف پریشان بلکہ ناراض بھی ہیں۔انہیں اس بات پر شدید غصہ ہے کہ عبدالرحمٰن کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایک جج نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے قانون کے مطابق اگر عبدالرحمٰن نے دوبارہ سے مسلم مذہب اختیار نہ کیا تو انہیں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس سلسلے میں کابل کی عدالت کے جج’ انصار اللہ مولوی زادہ ‘ نے کہا ہے کہ عدالت عبدالرحمان کا دماغی ٹیسٹ کروائی گی اور اگر عبدالرحمان کا دماغی ٹیسٹ منفی ہوا تو وہ سزا سے بچ سکے گے بصورت دیگر انہیں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں آپ سب کی کیا رائے ہے؟
کیا عبدالرحمان دوبارہ اسلام قبول کر لے گا؟۔
یا اسے افغان قانون کے مطابق سزا دے دی جائے گی؟۔
یا اسے دماغی معذور قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا؟
کیا امریکہ اور یورپی ممالک عبدالرحمان کو بچانے میں کامیاب ہو جائے گے؟
کیا اسلام چھوڑنے (مرتد) والے کا سر قلم کرنا مذہبی آزادی کے آفاقی اصولوں سے متصادم ہے؟
اور کیا واقعی عبدالرحمان نے مذہب تبدیل کر لیا ہے یا یہ امریکہ یا یورپ جانے کی ایک بھونڈی حرکت ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وایپ سائٹ

Posted on 23/03/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

موبائیل نٹ کے لئے بنائی گئی میری ویپ سائٹ نے دس ہزار وزٹر کا ہدف حاصل کر لیا ہے، یہاں میں ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس سائٹ کا وزٹ کیا اور ایس ایم ایس، ای میلز کے ذریعے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
http://tagtag.com/geopakistan

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہومو سیکس

Posted on 21/03/2006. Filed under: اسلام, رسم و رواج |

اردو سروس ڈاٹ نٹ، جرمنی نے ٢٠ مارچ کو اپنی سائٹ پر یہ خبر لگائی ہے پڑھیئے اور اس بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیجیئے۔ہالینڈ میں مبینہ طور پر شہریت کے خواہشمندوں کو اب شہریت کی درخواست دینے پر برہنہ فلم دکھائی جاسکتی ہے ۔ ہالینڈ میں پہلے مقامی زبان سیکھنا ضروری تھا تاہم اب شہریت کی درخواست دینے والے مسلمان کو عورت کا برہنہ جسم اور ہومو سیکس مردوں کو بوس و کنار کرتے ہوئے بھی دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ ہالینڈ نے مسلمانوں کو اپنے مغربی معاشرے میں ضم کرنے کےلیئے مختلف پروجیکٹ شروع کیئے ہیں جن میں شہریت کی درخواست دینے والے کو ڈی وی ڈی پر ایسی فلم دکھائے جانے کا پروگرام ہے جس میں عورت برہنہ ہوگی یا اس کے نسوانی اعضا، برہنہ دکھائے جائینگے، شہریت کے حصول کی درخواست دینے والے کو ‘ ہومو سیکس ‘ مردوں کو آپس میں بوس وکنار کرتے ہوئے بھی دیکھنا پڑیگا، جرمنی کی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے ہالینڈ کے اس آئیڈیا کو ایک اچھا منصوبہ قرار دیا ہے، ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو مغربی معاشرے سے روشناس کروانے کےلیئے ایسے منصوبوں پر عمل ہونا چاہیئے۔ اس سے قبل جرمنی کے ایک صوبے ‘ بادن ووٹن برگ ‘ نے جرمنی کی شہریت کی درخواست دینے والوں کےلیئے تیس سوال مقرر کئیے تھے جس میں ایسے سوالات بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان عام زندگی میں سوچ بھی نہیں سکتا جرمنی کے ایک اور سوبے ہیسن کی حکومت نے شہریت کی درخواست دینے والوں کےلیئے جو سوالات بنائے ہیں ان کی تعداد ایک سو ہے اس سے قبل فرانس نے مسلمان عورتوں کا سر پر سکارف لینا ممنوع قرار دے دیا تھا ادھر جرمن حکومت کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی نے غیر ملکیوں کےلیئے سوالات والا سسٹم اور دیگر تمام ایسے منصوبوں کو قطعی غلط قرار دے دیا ہے۔
حکومت کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی جو سابق حمکران جماعت رہی ہے کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں خصوصا مسلمانوں کےلیئے ایسے سوالات ہتک آمیز ہیں، حکومت اور اتحادی جماعت ایس پی ڈی میں غیر ملکیوں کے بارے میں اختلافات سامنے آئے ہیں، حکمران جماعت کے ایک سیاسی رہمنا کا کہنا ہے کہ جرمنی سے پچیس فیصد مسلمانوں کو ان کے ممالک بھیج دیا جائے گا، تاہم ایک بات طے ہے کہ اب یورپ میں مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑے گا خصوصا شہریت کے حصول کےلیئے انہیں ایسے سوالات کا جواب دینا ہوگا جس کو مسلمان اپنے مذہبی حقوق کی پامالی سمجھتے ہیں، جرمنی کی مسلم تنظیموں ایسے منصوبوں کے بارے میں عدالت سے رجوع کرنے کا کہا ہے

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

HOW MANY MUSLIMS IN THE WORLD?

Posted on 20/03/2006. Filed under: عالم اسلام |

This report includes all the countries of the world and shows how many Muslims are in each one.

 


Country Name Total Population Muslims Percentage Number of Muslims
Afghanistan 22,664,136 100% 22,664,136
Albania 3,249,136 75% 2,436,852
Algeria 29,183,032 99% 28,891,202
Angola 10,342,899 25% 2,585,725
Antigua and Barbuda 65,647 n/a  
Argentina 34,672,997 2 693,460
Aruba 67,794 5 3,390
Australia 18,260,863 2.09 382,000
Azerbaijan 7,676,953 93.4 7,170,274
Bahrain 590,042 100 590,042
Benin 5,709,529 15 856,429
Bangladesh 123,062,800 85 104,603,380
Bhutan 1,822,625 5 91,131
Bosnia and Herzegovina 2,656,240 40 1,062,496
Botswana 1,477,630 5 73,882
Brazil 162,661,214 0.6 1,000,000
Brunei 299,939 63 188,962
Bulgaria 8,612,757 14 1,205,786
Burkina Faso 10,623,323 50 5,311,662
Burma 45,975,625 10 4,597,563
Burundi 5,943,057 20 1,188,611
Cambodia 10,861,218 1 108,612
Cameroon 14,261,557 55 7,843,856
Canada 28,820,671 1.48 400,000
Central African Republic 3,274,426 55 1,800,934
Chad 6,976,845 85 5,930,318
China
1,210,004,956 11 133,100,545
Christmas Island 813 10 81
Cocos (Keeling) Island 609 57 347
Comoros 569,237 86 489,544
Congo 2,527,841 15 379,176
Cote d’Ivoire 14,762,445 60 8,857,467
Croatia 5,004,112 1.2 60,049
Cyprus 744,609 33 245,721
Djibouti 427,642 94 401,983
Egypt 63,575,107 94 59,760,601
Equatorial Guinea 431,282 25 107,821
Eritrea 3,427,883 80 2,742,306
Ethiopia 57,171,662 65 37,161,580
Fiji 782,381 11 86,062
France 58,317,450 7 4,082,222
Gabon 1,172,798 1 11,728
Gambia 1,204,984 90 1,084,486
Gaza Strip 923,940 98.7 911,929
Georgia 5,219,810 11 574,179
Germany 83,536,115 3.4 2,840,228
Ghana 17,698,271 30 5,309,481
Gibraltar 28,765 8 2,301
Greece 10,538,594 1.5 158,079
Guinea 7,411,981 95 7,041,382
Guinea-Bissau 1,151,330 70 805,931
Guyana 712,091 15 106,814
Hong Kong 6,305,413 1 63,054
India 952,107,694 14 133,295,077
Indonesia 206,611,600 95 196,281,020
Iran 66,094,264 99 65,433,321
Iraq 21,422,292 97 20,779,623
Israel 5,421,995 14 759,079
Italy 57,460,274 1 574,603
Japan 125,449,703 1 1,254,497
Jordan 4,212,152 95 4,001,544
Kazakstan 16,916,463 51.2 8,661,229
Kenya 28,176,686 29.5 8,312,122
Kuwait 1,950,047 89 1,735,542
Kyrgyzstan 4,529,648 76.1 3,447,062
Lebanon 3,776,317 70 2,643,422
Liberia 2,109,789 30 632,937
Libya 5,445,436 100 5,445,436
Lesotho 1,970,781 10 197,078
Macedonia 2,104,035 30 631,211
Madagascar 13,670,507 20 2,734,101
Malawi 9,452,844 35 3,308,495
Malaysia 19,962,893 52 10,380,704
Maldives 270,758 100 270,758
Mali 9,653,261 90 8,687,935
Malta 375,576 14 52,581
Mauritania 2,336,048 100 2,336,048
Mauritius 1,140,256 19.5 222,350
Mayotte 100,838 99 99,830
Mongolia 2,496,617 4 99,865
Morocco 29,779,156 98.7 29,392,027
Mozambique 17,877,927 29 5,184,599
Namibia 1,677,243 5 83,862
Nepal 22,094,033 4 883,761
Netherlands 15,568,034 3 467,041
Niger 9,113,001 91 8,292,831
Nigeria 103,912,489 75 77,934,367
Norway 4,438,547 1.5 66,578
Oman 2,186,548 100 2,186,548
Pakistan 129,275,660 97 125,397,390
Panama 2,655,094 4 106,204
Philippines 74,480,848 14 10,427,319
Qatar 547,761 100 547,761
Reunion 679,198 20 135,840
Romania 21,657,162 20 4,331,432
Russia 148,178,487 18 26,672,127
Rwanda 6,853,359 1 68,534
Saudi Arabia 19,409,058 100 19,409,058
Senegal 9,092,749 95 8,638,112
Serbia and Montenegro 10,614,558 19 2,016,766
Sierra Leone 4,793,121 65 3,115,529
Singapore 3,396,924 17 577,477
Slovenia 1,951,443 1 19,514
Somalia 9,639,151 100 9,639,151
South Africa 41,743,459 2 834,869
Sri Lanka 18,553,074 9 1,669,777
Sudan 31,547,543 85 26,815,412
Suriname 436,418 25 109,105
Swaziland 998,730 10 99,873
Sweden 9,800,000 3.6 320,000
Syria 15,608,648 90 14,047,783
Tajikistan 5,916,373 85 5,028,917
Tanzania 29,058,470 65 18,888,006
Thailand 58,851,357 14 8,239,190
Togo 4,570,530 55 2,513,792
Trinidad and Tobago 1,272,385 12 152,686
Tunisia 9,019,687 98 8,839,293
Turkey 62,484,478 99.8 62,359,509
Turkmenistan 4,149,283 87 3,609,876
Uganda 20,158,176 36 7,256,943
United Arab Emirates 3,057,337 96 2,935,044
United Kingdom 58,489,975 2.7 1,579,229
United States 266,476,278 3.75 9,992,860
Uzbekistan 23,418,381 88 20,608,175
West Bank 1,427,741 75 1,070,806
Western Sahara 222,631 100 222,631
Yemen 13,483,178 99 13,348,346
Zaire 46,498,539 10 4,649,854
Zambia 9,159,072 15 1,373,861
Zimbabwe 11,271,314 15 1,690,697

August 21, 2001

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

صدر بش اور ٦٧٠ امریکی فوجی

Posted on 20/03/2006. Filed under: متفرق |

HOW MANY MORE US SOLDIERS TO BE KILLED IN IRAQ? This picture is made from faces of 670 American soldiers who died in the Iraq War.

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Countries Barcodes of Products

Posted on 16/03/2006. Filed under: متفرق |

Please check the Country barcode of any product before you buy.
Check the first 3 digits from the left.

729 Israel
570 – 579 Denmark
700 – 709 Norway

We should be positive and defend our prophet PBUH and our religion.

All countries codes:

000 – 019 USA & France
380  Bulgaria
383  Slovenia
385  Croatia
387  BIH (Bosnia-Herzegovina)
400 – 440 Germany
450 – 459  Japan
460 – 469 Russian  Federation
470 Kyrgyzstan
471 Taiwan
474 Estonia
475 Latvia
476 Azerbaijan
477 Lithuania
478 Uzbekistan
479 Sri  Lanka
480 Philippines
481  Belarus
482  Ukraine
484 Moldova
485 Armenia
486 Georgia
487 Kazakhstan
489 Hong Kong
490 – 499 Japan
500 – 509 UK
520 Greece
528 Lebanon
529 Cyprus
531 Macedonia
535 Malta
539 Ireland
540 – 549  Belgium & Luxembourg
560 Portugal
569 Iceland
570 – 579  Denmark
590  Poland
594 Romania
599 Hungary
600-601 South  Africa
608 Bahrain
609 Mauritius
611 Morocco
613 Algeria
619 Tunisia
621 Syria
622 Egypt
624 Libya
625 Jordan
626 Iran
627 Kuwait
628 Saudi Arabia
629 Emirates
640  – 649 Finland
690 – 695 China
700 – 709  Norway
729  Israel & Canada
020 – 029 reserved for local use (store/warehouse)
030 – 039 USA & Canada
040 – 049 reserved for local use (store/warehouse)
050 – 059 Coupons
060 – 139 USA & Canada
200 – 299 reserved for local use (store/warehouse)
300 – 379 France
380 Bulgaria
383 Slovenia
385 Croatia
387 BIH (Bosnia-Herzegovina)
400 – 440 Germany
450 – 459 Japan
460 – 469 Russian Federation
470 Kyrgyzstan
471 Taiwan
474 Estonia
475 Latvia
476 Azerbaijan
477 Lithuania
478 Uzbekistan
479 Sri Lanka
480 Philippines
481 Belarus
482 Ukraine
484 Moldova
485 Armenia
486 Georgia
487 Kazakhstan
489 Hong Kong
490 – 499 Japan
500 – 509 UK
520 Greece
528 Lebanon
529 Cyprus
531 Macedonia
535 Malta
539 Ireland
540 – 549 Belgium & Luxembourg
560 Portugal
569 Iceland
570 – 579 Denmark
590 Poland
594 Romania
599 Hungary
600-601 South Africa
608 Bahrain
609 Mauritius
611 Morocco
613 Algeria
619 Tunisia
621 Syria
622 Egypt
624 Libya
625 Jordan
626 Iran
627 Kuwait
628 Saudi Arabia
629 Emirates
640 – 649 Finland
690 – 695 China
700 – 709 Norway
729 Israel
730  – 739 Sweden
740 Guatemala 
741 El Salvador
742  Honduras
Nicaragua 
744 Costa Rica
745  Panama
746 Republic Dominican 
750 Mexico
754 – 755  Canada
759 Venezuela
760 –  769 Schweiz, Suisse, Svizzera
770  Colombia
773 Uruguay
 775 Peru
777 Bolivia
 779 Argentina
780 Chile 
784 Paraguay
786  Ecuador
789 – 790 Brazil
800  – 839 Italy
840 – 849  Spain
850 Cuba
 858 Slovakia
859 Czech
 860 YU (Serbia & Montenegro)
865  Mongolia
867 North Korea
 869 Turkey
870 – 879 Netherlands 
880 South  Korea
884 Cambodia
885  Thailand
888 Singapore
 890 India
893 Vietnam
 899 Indonesia
900 – 919 Austria 
930 – 939 Australia
940 –  949 New Zealand
950 Head Office 
955 Malaysia
958 Macau 
977 Serial publications (ISSN)
978  – 979 Book land (ISBN)
980 Refund  receipts
981 – 982 Common Currency Coupons 
990 – 999 Coupons
730 – 739 Sweden
740 Guatemala
741 El Salvador
742 Honduras Nicaragua
744 Costa Rica
745 Panama
746 Republic Dominican
750 Mexico
754 – 755 Canada
759 Venezuela
760 – 769 Schweiz, Suisse, Svizzera
770 Colombia
773 Uruguay
775 Peru
777 Bolivia
779 Argentina
780 Chile
784 Paraguay
786 Ecuador
789 – 790 Brazil
800 – 839 Italy
840 – 849 Spain
850 Cuba
858 Slovakia
859 Czech
860 YU (Serbia & Montenegro)
865 Mongolia
867 North Korea
869 Turkey
870 – 879 Netherlands
880 South Korea
884 Cambodia
885 Thailand
888 Singapore
890 India
893 Vietnam
899 Indonesia
900 – 919 Austria
930 – 939 Australia
940 – 949 New Zealand
950 Head Office
955 Malaysia
958 Macau
977 Serial publications (ISSN)
978 – 979 Book land (ISBN)
980 Refund receipts
981 – 982 Common Currency Coupons
990 – 999 Coupons

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...