Archive for اپریل, 2006

بلوچ سائٹوں پر پابندی

Posted on 29/04/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, سیاست | ٹيگز:, , , , |

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے چار ایسی ویب سائٹوں کو بلاک کرنے کی ہدایات دی ہیں جن پر بلوچ قوم پرست مواد موجود ہے۔ ١۔بلوچ وائس ڈاٹ کام ٢۔بلوچ 2000 ڈاٹ اورگ ٣۔بلوچ فرنٹ ڈاٹ کام ٤-سنا بلوچ ڈاٹ کام یاد رہے کہ کچھ ماہ پہلے پی ٹی اے نے بلاگ سپاٹ کے کچھ حصوں پر بھی پابندی لگائی تھی، تاہم ملک میں کار فرما انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’وکی پیڈیا‘ پر بھی پابندی لگانے کے لئے تازہ ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ خود کو روشن خیال سمجھنے والی حکومت کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ تک رسائی پر اس طرح پابندی عائد کرنا جائز ہے؟ حکومت نے بالکل ٹہیک نہیں کیا، بلوچستان کے مسلے کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ تک رسائی یا اظہار راے پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ کشیدگی کے اس لمحے میں حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کچھ ایسے اقدامات کرتی جس سے مسلہ کے حل کی جا نب کو ئی مثبت پيش رفت ہو ناکہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے والے اقدامات۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

فنی بلاگ

Posted on 24/04/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

میں نے فنی پکچرز اور کارٹونز وغیرہ کے لئے ایک علیحدہ بلاگ ‘ جیو فن ‘ کے نام سے ترتیب دیا ہے، آئندہ سے تمام فن پارے اسی بلاگ پر ملاحظہ کیجیئے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کارٹون Cartoons

Posted on 19/04/2006. Filed under: طنز و مزاح |

چند سائٹوں سے لئے گئے کارٹون حاضر ہیں، کارٹونوں کے متعلق ایک سچی بات یہ کہ جو بات ایک کارٹون میں کہہ دی جاتی ہے وہ شاید ایک بڑے کالم میں بھی نہ کہی جا سکے۔



Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تاریخ ڈیرہ غازی خان ۔ ٢ حصہ دوم

Posted on 18/04/2006. Filed under: ڈیرہ نامہ, تاریخ |

حصہ اول کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔
١١٢٥ء میں چنگیز خان سلطان جلال الدین خوارازم کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ کے کنارے پہنچ گیا۔ سلطان جلال الدین اور اس کے بقیہ ساتھیوں نے گھوڑوں کے ذریعے دریا عبور کیا مگر تاتاری اتنے بڑے دریا کو عبور کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ چنگیز خان کی آمد کے بعد یہ علاقہ تاتاریوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ اگرچہ بلبن عہد حکومت میں غیاث الدین بلبن اور علاؤالدین بلبن نے سرحدی چوکیوں کو مضبوط کر دیا تھا مگر یہ چوکیاں مغربی کنارے پر تھیں اس لئے سندھ کا مشرقی کنارہ اور ادھر کا سارا علاقہ مختلف قبیلوں میں بٹ گیا۔
١٣٩٢ء تیمور کے پوتے پلیرمحمد نے ملتان پر قبضہ کر لیا اور سندھ کے تمام مغربی کناروں پر قابض ہو گیا۔ اس اثناء میں تیمور دہلی پر حملہ آور ہوا اور جاتے وقت تمام خزانے ساتھ لے گیا۔ تیمور کے حملے کے بعد ہندوستان میں مستقل حکومت قائم نہ ہو سکی۔ ڈیرہ غازی خان میں ابوالفتح لودھی کے خاندان نے سر اٹھایا۔ ابوالفتح کے خاندان کے لوگ ناہڑ، بارکھان، ہڑند، داجل، کن پور اور سیت پور کے علاقوں میں رہتے تھے۔ ان میں عیٰسی خان نے ناہڑ، کن پور اور سیت پور پر جبکہ بہادر خان نے ہڑند اور داجل کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور اپنی حکومت قائم کر لی۔ بہادر خان کی حکمرانی کے کچھ عرصہ بعد اس علاقے سے ایک شخص محمد خان اپنے خاندان کے ساتھ ٹھٹھہ چلا گیا اور والیء ٹھٹھہ کی ملازمت اختیار کر لی۔ والیء ٹھٹھہ نے محمدخان سے خوش ہو کر اس کو رانی کے علاقے کا امیر بنا دیا، اس وجہ سے اس کی اولاد امیررانی کہلانے لگی جو بعد میں مررانی کہلانے لگے۔ محمدخان کے بیٹے حاجی خان نے دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی اور اس علاقے کا حاکم بن گیا۔
حاجی خان بہت ذہین اور عقلمند آدمی تھا، اس نے اپنے تدبر اور فراست سے ہڑندوداجل سے لیکر شمال میں کالا تک کا علاقہ فتح کر لیا، حاجی خان نے ١٤٧٤ء یا ١٤٧٦ء میں اپنے نامور اور بہادر بیٹے غازی خان کے نام پر دریائے سندھ کے کنارے ایک شہر کی بنیاد رکھی۔ غازی خان اول نہایت شفیق فطرت کا اور قابل حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ قرآن بھی تھا۔ غازی خان اول نے ١٤٩٠ء اور ١٤٩٤ء کے درمیانی عرصہ میں وفات پائی۔ غازی خان اول کی وفات کے بعد اس کی اولاد چودہ پشتوں تک اس علاقے پر حکمران رہی اور حاجی خان اور غازی خان کے القاب اختیار کئے۔
حاجی خان ہفتم نے وفات کے وقت اپنے وزیر گوجر خان کے ہاتھ میں اپنے سات سالہ فرزند غازی خان ہفتم کا ہاتھ دے کر اس کی حفاظت اور پرورش کی ہدایت کی مگر اس کی وفات کے بعد گوجر خان کی نیت بدل گئی اور اس نے غازی خان ہفتم کو قید کر کے غلام شاہ کلہوڑہ کے حوالے کر دیا۔ غلام شاہ کلہوڑہ غازی خان ہفتم کو قید کر کے سندھ لے گیا جہاں غازی خان ہفتم نے غریب الوطنی میں ٦ سال کی قید کے بعد ١٣ سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس طرح گوجرخان اس علاقے کا حکمران بن گیا اور تیس برس تک اس علاقے پر حکومت کی۔
نادر شاہ دہلی فتح کرنے کے بعد ١٧٣٩ء میں ڈیرہ غازی خان آیا۔ گوجر خان نے اس کی حمایت کی، نادرشاہ نے واپسی پر گوجر خان کو جانثار کا لقب دیا اور اس علاقے کو اپنی عملداری میں شامل کر کے گوجر خان کو اس علاقے کا امیر مقرر کیا۔ ١٧٤٧ء میں نادرشاہ قتل ہوا تو پنجاب کی حکومت احمدشاہ ابدالی کے قبضے میں آئی۔ مرہٹوں نے احمدشاہ ابدالی کے بیٹے کو لاہور سے نکال کر پورے مشرقی پنجاب پر قبضہ کر لیا اور اکثر علاقے تباہ کر دیے۔ اس کے جواب میں احمدشاہ ابدالی نے پنجاب پر دوبارہ حملہ کیا اور پنجاب کو مرہٹوں سے آزاد کرا لیا۔ ١٧٦١ء میں پانی پت کی تیسری میں احمدشاہ ابدالی نے مرہٹوں کی طاقت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا۔ واپسی پر احمدشاہ ابدالی نے داجل اور ہڑند کا سارا علاقہ والیء قلات میرنصیرخان کو دے دیا۔ کن پور اور روجھان کے علاقے سندھ میں شامل ہوگئے۔ سیتپ پور اور راجن پور کی جاگیر راجو نامی سپاہی کے حوالے ہوئی۔ اسی راجو نے راجن پور آباد کیا۔ احمدشاہ ابدالی کی وفات کے بعد سکھوں نے پنجاب میں اپنی طاقت بڑھا لی اور ١٨٦٤ء میں ملتان اور ١٨٣١ء میں ڈیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح یہ علاقے دربارلاہور کے زیرتسلط آ گئے، سکھ آگے بلوچستان کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے تھے مگر بلوچوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو ڈیرہ غازی خان سے آگے نہ بڑھنے دیا، اسی دوران ملتان میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو گئے، سکھ ملتان کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک مقامی سردار جس کا نام کوڑا خان تھا ڈیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت انگریز پورے برصغیر میں چھائے ہوئے تھے۔ کوڑا خان نے یہ علاقہ انگریز عملداری میں دے دیا۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کا الحاق ١٨٧٢ء میں ہوا۔
انگریزوں کی سوسالہ دورحکومت میں ڈیرہ غازی خان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اس کی پہلے کی سی خوبصورتی باقی نہ رہی۔ مررانی عہدحکومت میں شہر ڈیرہ غازی خان مغربی پنجاب میں ملتان کے بعد سب سے خوبصورت شہر تھا اور صنعت وحرفت کی تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ مررانی عہدحکومت میں زراعت پر خاص توجہ دی گئی تھی اور کئی نہریں بھی کھدوائی گئی تھیں۔ شہر میں ایک قلعہ بھی تعمیر کرایا گیا، مررانی عہد کا وہ شہر ١٩١٠ء میں دریائے سندھ کی موجوں کی نظر ہوا، جس کی پیشین گوئی بہت پہلے کی گئی تھی، اس پیشین گوئی میں یہ ہدایت بھی شامل تھی کہ غازی خان اول اپنا مقبرہ موجودہ ڈیرہ غازی خان میں بنوائے کیونکہ پیشین گوئی کے مطابق نیا شہر مقبرے کے چاروں طرف پھیلے گا اور ایسا ہی ہوا۔ نیا شہر چورہٹہ کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔ غازی خان کا مقبرہ چورہٹہ میں آج بھی موجود ہے۔ یہ ہشت پہلو قلعہ نما مقبرہ ہے جس کی اوپر کی دو منزلیں زلزلہ کی وجہ سے گر گئی تھیں، اس مقبرے کے گردا گرد ایک فصیل بنائی گئی تھی اور ایک خوبصورت باغ بھی تھا جو کب کے ختم ہو چکے ہیں، اب اس جگہ قبرستان ہے، کبھی کبھی قبریں کھودتے وقت فصیل کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جب مقبرہ تعمیر ہوا تو تقریبا بارہ فٹ اونچا تھا مگر امتداد زمانہ کے باعث یہ چھہ فٹ کے قریب قبرستان سے نیچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فصیل کے آثار اوپر نہیں ملتے۔
موجودہ ڈیرہ غازی خان ١٩١١ء ۔ ١٩١٠ء میں آباد ہوا۔ ڈیرہ غازی خان نہ صرف محل وقوع کے لحاظ سے قلب مملکت کا درجہ رکھتا ہے۔ بلکہ آثار قدیمہ سے بھی بھرا پڑا ہے۔ اگر ان کھنڈرات کی کھدائی کی جائے تو تاریخ کے گم شدہ واقعات مل سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے علاوہ ڈیرہ غازی خان معدنی دولت سے بھی مالامال ہے، یہاں کوئلہ جپسم، گندھک، مٹی کا تیل، قدرتی گیس، لوہا، یورینیم، چونے کا پتھر، سرخ پتھر اور کئی قسم کی معدنیات کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، غرضیکہ ڈیرہ غازی خان کا یہ علاقہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے قلب پاکستان کہلایا جا سکتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عکس وطن

Posted on 17/04/2006. Filed under: پاکستان |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قرآن کی فریاد

Posted on 15/04/2006. Filed under: اسلام, شعروادب |

 

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویز بنایا جاتا ہوں، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں
جزوان حریر و ریشم کے، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطا مینا کو، کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
جب قول و قسم لینے، تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے، ہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہنے کو میں اک اک جلسہ میں، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے، سچائی سے بڑھ کر دھوکہ ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں، سو بار رلایا جاتا ہوں
یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں
کس بزم میں مجھ کو بار نہیں، کس عرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں
ماھرالقادری

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Water Bridge

Posted on 10/04/2006. Filed under: متفرق |

Water Bridge in Germany…. What a feat! Six years, 500 million euros, 918 meters long…….now this is engineering! This is a channel-bridge over the River Elbe and joins the former East and West Germany, as part of the unification project. It is located in the city of Magdeburg, near Berlin. The photo was taken on the day of inauguration. To those who appreciate engineering projects

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بمقابلہ

Posted on 10/04/2006. Filed under: پاکستان |

ایشیاء پولیس بمقابلہ پاکستانی پولیس




جناب شعیب صفدر ایڈوکیٹ صاحب آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اور قانونی نقطہ نظر سے آپ اس بارے میں کیا کہیں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلا تبصرہ

Posted on 09/04/2006. Filed under: پاکستان |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تاریخ ڈیرہ غازی خان ۔ ١ حصہ اول

Posted on 06/04/2006. Filed under: ڈیرہ نامہ, تاریخ |

اس سے پہلے یہاں ڈیرہ غازی خان کے حوالے ‘سنہرا مستقبل‘ اور ‘حضرت پیر عادل‘ کے عنوان سے لکھا جا چکا ہے، مگر اس میں کچھ باتیں تشنہ طلب تھیں اور پھر تاریخ کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھنا باقی تھا اس تحریر میں ان تمام باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ضلع ڈیرہ غازی خان اپنے محل وقوع، سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھانی زبان کے ساتھ علاقائی تہذیبوں کا سنگم ہونے کی وجہ سے پاکستان کی وحدت کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس کی اس حیثیت کے باوجود اس علاقے کو اب تک کی حکومتوں نے مسلسل نظرانداز کئے رکھا جس کی وجہ سے یہ ضلع اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کر سکا اور ہر معاملے میں پسماندہ ہے، ڈیرہ غازی خان کو قومی اسمبلی میں دو تین دفعہ دارالحکومت بنانے کی تجویز پیش کی گئی، کیونکہ چاروں صوبوں کا مقام اتصال ہونے کے علاوہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے مگر افسوس کہ دارالحکومت تو بہت دور کی بات ہے اس ضلع کو اس کے جائز حقوق بھی نہیں دیئے گئے۔ اسلام آباد، آزادکشمیر اور اس کے گردونواع میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد ایک بار پھر یہ افواہ زیرگردش ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو دارالحکومت بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں مگر بات وہی ہے کہ ‘ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک،۔
ضلع ڈیرہ غازی خان کی عوام نے یہاں کے سیاستدانوں کو عروج تک پہنچایا، فاروق احمد خان لغاری صدارت کی سیٹ پر، ذوالفقار علی خان کھوسہ سینئروزیر پنجاب اور گورنر پنجاب کی سیٹ پر فائز رہے چکے ہیں مگر اس کے باوجود ترقی ڈیرہ غازی خان کو چھو تک نہیں گزری سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کے دور میں ڈیرہ غازی خان میں کچھ کام ہوا اس کے بعد سے اب تک ایک طویل خاموشی چھائی ہوئی ہے، جسے صدر پرویز مشرف کی روشن خیالی اور شوکت عزیز کی جدیدیت بھی دور نہ کر سکی۔
یہ تو تھا ڈیرہ غازی خان کا مختصر سا تعارف، اب آئیے ڈیرہ غازی خان کی تاریخ کی طرف۔
ڈیرہ غازی خان کی تاریخ بہت پرانی ہے، اس علاقے میں کئی سوسال پہلے کی تہذیبوں کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں، موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی طرح ڈیرہ غازی خان بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے، اس میں موجود کھنڈرات کی اگرچہ کھدائی نہیں ہوئی لیکن اوپر کی تہہ سے حاصل ہونے والی اشیاء کئی ہزار سال پہلے کی داستان سنا رہی ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کی باقاعدہ تاریخ اور حوالہ جات سکندراعظم کے حملے سے پہلے کے زمانے کے نہیں ملتے کیونکہ آریاؤں نے یہ علاقے تباہ کر دیئے تھے سکندراعظم کے حملہء ہندوستان کے وقت اس علاقے پر داریوش نامی ہندو بادشاہ کی حکومت تھی، سکندراعظم ہندوستان میں لوٹ مار اور اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اس علاقے سے گزرا، اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس نے کوٹ مٹھن کے قریب سے دریائے سندھ کو عبور کیا اور ڈیرہ غازی خان میں داخل ہوا۔ ان دنوں ڈیرہ غازی خان کا علاقہ داریوش نے اپنی چہتی بیٹی نوشابہ کو دے دیا تھا، کہا جاتا ہے کہ نوشابہ سکندراعظم کی بیوی بنی۔
سکندراعظم کی واپسی کے دو سال بعد پنجاب اور سندھ میں بغاوت کر کے سکنداعظم کی حکومت ختم کر دی گئی، اس بغاوت کا روح رواں مگدہ کے راجہ کا باغی جرنیل چندرگپت موریا تھا، چندرگپت موریا اس علاقے کا حکمران بن گیا، چندرگپت کے خاندان کی حکومت اس وقت ختم ہو گئی جب حکمران کو اس کے جرنیل پشپامتر نے ١٨٨ ق م میں قتل کر دیا چندرگپت کے خاندان کے بعد تاریخی کڑیاں پھر گم ہو جاتی ہیں لیکن اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ ١٨٨ق م سے لیکر پانچویں صدی تک اس علاقے میں باختری، یونانی، پارتھین، ساکا، کشان، حیطال، ہن، گوجر، ساسانی اور مانی نام کے خاندانوں کی حکومت رہی۔ مانی خاندان کے خاتمے پر یہ علاقے ایرانی سلطنت میں شامل ہو گئے، پانچویں صدی کے آخر میں ایرانی سلطنت کمزور پڑ گئی جس کی وجہ سے یہاں رائے خاندان نے بغاوت کر کے اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ رائے خاندان کا پایہ تخت ایلور (اروڑ) تھا جس کے کھنڈرات آج بھی جامپور میں داجل کے قریب موجود ہیں۔ رائے خاندان کی حکومت کے وقت ملتان سے لیکر کشمیر تک کے علاقے پر چج نامی خاندان کی حکومت تھی۔ چج حاکم نے آخری رائے حکمران کی رانی سے شادی کر لی اور یوں چج اس علاقے کا حکمران بن گیا یہ واقعہ ٦٣١ء کا ہے۔ چج نے باقی تمام زندگی اس علاقے کی ترقی میں گزاری۔ چج نے اس علاقے پر چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک حکمرانی کی۔ چج کے بعد چج کا بھائی چندا اس علاقے کا حکمران بنا۔ چندا کی موت کے بعد اس کا بھتیجا اور چج کا بیٹا داہر حکمران بنا۔ داہر ایک ظالم شخص تھا۔ اس نے عربوں کا ایک جہاز لوٹ لیا، اس پر حجاج بن یوسف ثقفی نے اپنے بھتیجے عمادالدین کو داہر کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ عمادالدین تاریخ میں محمد بن قاسم کے نام سے مشہور ہے۔ محمد بن قاسم نے ٧١١ء میں داہر کا پایہ تخت الور فتح کر لیا، اس طرح برصغیر میں اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ محمد بن قاسم کو عبدالملک نے بلا بھیجا اور ذاتی عناد کی بنا پر قید میں ڈال دیا اور اسی قید میں ہی برصغیر میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا محمد بن قاسم فوت ہو گیا۔ برصغیر میں اسلامی مملکت کے قیام کے بعد چالیس برس تک سندھ اور اس علاقے کے لئے حکمران بغداد سے آتے رہے کیونکہ امیوں نے اس علاقے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، لیکن عباسیوں کے سلطنت کے قبضے کے بعد سندھ پر بغدادی حکومت کی گرفت کمزور پڑ گئی، کمزور نظم و نسق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں قرامطی عرب قابض ہو گئے جن کا مرکز ملتان تھا۔ جس وقت سبکتگین غزنی کا حکمران تھا اس وقت اس علاقے پر حمید لودھی کی حکومت تھی۔ حمید لودھی سبکتگین کے خلاف ملتان کی حکومت کی تمام پونجی جے پال کے حوالے کر دیتا اور اس کے ساتھ مل کر سلطنت غزنی کے علاقوں میں لوٹ مار کرتے، تنگ آ کر سبکتگین نے ملتان پر حملہ کر دیا، جےپال کو شکست کا سامنا کرنا پڑااور حمیدلودھی نے خراج کے عوض صلح قبول کر لی۔ اس صلح کے نتیجے میں وہ ہر سال غزنی حکومت کو خراج دیا کرتا تھا لیکن حمیدلودھی کا پوتا ابوالفتح داؤد ہندو راجہ اننگ پال کی حمایت کرنے لگا اور دونوں مل کر محمود غزنوی کے علاقوں میں لوٹ مار مچانا شروع کر دی۔ آخر محمود غزنوی نے ملتان پر حملہ کر دیا، ابوالفتح داؤد بھاگ گیا۔ اہل شہر کو امان ملی، مگر سلطان محمود غزنوی کے حکم پر قرامطیوں کا قتل عام ہوا۔ سلطان نے ملتان کا الحاق غزنی سے کر دیا۔ محمود غزنوی کی وفات کے بعد اس کا بیٹا سلطان محمود حکمران بنا مگر نو سال کے بعد اسے قتل کر دیا گیا اس کے بعد سات حکمران اور بنے مگر سب یکے بعد دیگرے یا تو قتل ہوئے یا طبعی موت مر گئے۔ سلطان شہاب الدین غوری جب حمکران بنا تو اس نے دہلی فتح کر لیا اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے کو دہلی کے ساتھ شامل کر لیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...