Archive for مئی, 2006

بلاگ سے ویب

Posted on 30/05/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

کیا بلاگ کو ویب کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میں نے جیوپاکستان کے نام سے ایک بلاگ بنایا ہے اور اس میں جیو پاکستان ویب سائٹ کا ڈیٹا بلاگ ٹمپلیٹ میں ڈالا ہے اسے دیکھیئے اور مزید مشورہ دیجیئے کہ اس پر مزید کیسے کام کیا جا سکتا ہے۔

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تلخ سچ

Posted on 29/05/2006. Filed under: پاکستان |

ناکام ریاستوں کی فہرست شائع ہونے کے فورا بعد میں نے اس پر بڑے ہلکے پھلکے انداز میں لکھا تھا ‘دوست دوست نہ رہا‘ مگر محترم جناب افتخار اجمل صاحب نے بڑے خوبصورت انداز میں اس پر تبصرہ کیا، انہوں نے خاص طور پر ان پوائینٹ یا عوامل کا ذکر کیا جس کی وجہ سے پاکستان کو ناکام ریاستوں میں نواں نمبر دیا گیا۔ہر صاحب ہوش پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ پاکستان کو ناکام ریاست بنانے والے کون ہیں؟ اور وہ کون سے عوامل یا اسباب ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو ٣٤ نمبر سے نواں نمبر تک ترقی دی گئی ہے۔
پاکستان میں جینے کا سلیقہ ہے نہ مرنے کا طریقہ۔ ہمارا سماج ان گنت انسانوں کا ایک جلوس ہے جو آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ یہاں سب کچھ اسی کے پاس ہے جس کے پاس طاقت اور دولت ہے۔
آزادی کے بعد سے اب تک ملک کا اقتدار عوام کے پاس آیا ہی نہیں، یہاں سیاسی جماعتیں تو قائم ہوتی رہیں لیکن عوام صرف نعرے لگاتے رہے۔ جھنڈے لہراتے رہے اور دھوکے کھاتے رہے۔ انہیں کبھی اقتدار میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس ملک کے حکمرانوں نے عوام کو کبھی اہمیت دی۔
پاکستان کی مضبوط نوکر شاہی نے شروع دن سے ہی یہ طے کر لیا تھا کہ یہاں کبھی عوام کے حقیقی نمائیدوں کو پیدا نہیں ہونے دے گی اور اس ملک کو اسی قانون کے تحت چلایا جائے گا جو انگریز چھوڑ کر گئے ہیں، لہذا ابتدا ہی سے انہوں نے ایک غیر محسوس طریقے سے جاگیردار، سردار، صنعت کار، سرمایہ دار، گدی نشین پیروں اور مولویوں کو آگے لانا شروع کر دیا۔ انہوں نے نوکرشاہی کی طاقت سے عوام کو باندھ دیا اور ان کی سوچ کو ایک سطح تک محدود کر دیا۔ جاگیردار نے دیہی آبادی کو تھانوں، تحصیلوں اور عدالتوں میں الجھا دیا، سردار نے اپنے قبیلے والوں کو غلام بنا دیا، صنعت کار اور سرمایہ دار نے شہری مزور اور ملوک الحال آبادی کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا، گدی نشین پیر اور درباری مولوی نے مذہب کے نام پر قوم کے اندر حمیت کو قتل کر دیا۔ اگر کسی جاگیردار نے مضارع کی بیٹی اٹھا لی تو مذہبی رہمنا نے اسے صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ‘صبر کرو! تمھاری بیٹی کی قسمت یہی تھی‘۔ اگر کسی سردار نے اپنے قبیلے کے ابھرتے ہوئے نوجوان کو اپنی سرزمین سے باہر دھکیل دیا تو بھی مولوی نے کہا کہ ‘یہ تمھاری قسمت میں لکھا تھا‘۔ اگر کسی صنعتکار اور سرمایہ دار نے خون تھوکتے مزدور کو بے روزگار کر دیا تو گدی نشین پیر نے کہا ‘یہ تعویز لو اور سو روپے نذرانہ دو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘۔ مزدور کے سینکڑوں روپے پیر کی نذر ہو گئے مگر اس کی کھوٹی قسمت نہ بدلی۔ قوم کی جہالت، سادہ لوحی اور امرا کی عیاری نے ایک ایسا جہنم بھڑکا دیا جس کے بجھنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
پاکستان میں ایک ایسا ناکام نظام موجود ہے جو نئی صدی اور نئی زندگی سے ہم آہنگ نہیں۔ اس ملک کے طاقت ور لوگ موجودہ نظام کو ہر قیمت پر قائم رکھنا چاہتے ہیں جبکہ یہ نظام ملک کو ناکام بنا رہا ہے اور عوام غلام بنتے جا رہے ہیں۔ ابھی عوام اتنے باشعور نہیں کہ وہ ایک خونریز جنگ لڑ کر غلامی کو آزادی میں بدل ڈالیں۔
قوم کی تشریح کیا ہے؟ بہت سے انسان جب کسی ایک مقصد کے حصول کے لئے اکھٹے ہوں، ان کی ثقافت، مذہب، رواج اور زبان مشترکہ ہو تو ایسے بہت سے انسانوں کو قوم کا نام دیا جاتا ہے۔ آج کا یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی قوم موجود ہے؟۔ یہاں کئی چھوٹی بڑی قومیں پنجابی، سندھی، بلوچی، پختوں، کشمیری، سرائیکی وغیرہ تو صدیوں سے آباد ہیں مگر ان میں پاکستانی قوم کہیں نظر نہیں آتی، اگر بغرض محال یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ یہاں پاکستانی قوم موجود ہے تو ان کا آپس میں مشترکہ بودوباش کا کوئی مقصد بھی موجود ہے؟۔
جو قوم صرف ڈیموں پر متفق نہ ہو سکے جو ان کی زندگی اور موت کا مسلہ ہے اور اس اہم مقصد حیات پر بھی پہلے سندھی، بلوچی، پنجابی اور پختوں ہونے کا دعوی کرے اور زندگی اور موت کے مسلے پر بھی صرف تعصب کی زبان بولے اور علاقائی سوچ سے باہر نہ نکل سکے تو اسے کبھی بھی ایک قوم کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
جس ملک میں قوم ہی موجود نہ ہو وہاں سوچ اور مقاصد انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے ممالک میں عوام کا کوئی وزن ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کی رائے کی کوئی قیمت ہوتی ہے۔ یہاں عوام اتنے کمزور ہیں کہ یہ اپنے اوپر مسلط فرسودہ نظام نہیں بدل سکتے بلکہ میں تو کہوں گا عوام خود اس ناکام نظام کو تقویت دے رہے ہیں۔ عوام خود ایسے سیاستدان پیدا کر رہے ہیں جو کرسی پر بیٹھتے ہی عوام کو لولا، لنگڑا اور اپائج بنانے کے مشن پر لگ جاتے ہیں۔
کیا ہم یہ تلخ سچ کہہ سکتے ہیں کہ عوام خود اپنی ریاست کو ناکام بنانے کے ذمہ دار ہیں؟۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زیارات مقدسہ

Posted on 26/05/2006. Filed under: اسلام |






Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سوال دوستی کا نہیں

Posted on 25/05/2006. Filed under: شعروادب |

سوال پانی کا نہیں، پیاس کا ہے
سوال موت کا نہیں، سانس کا ہے
دوست تو دنیا میں بہت ہیں مگر
سوال دوستی کا نہیں وسواس کا ہے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ڈوھڑہ

Posted on 23/05/2006. Filed under: شعروادب |

جیندا رب نال نئیں روح رلدا ہن روز بیمار مسیتیں وچ
چا تسبیاں ٹھک ٹھک لائی پے ہن نت رہندن خوار مسیتیں وچ
ہے ازل کنوں ایہا گالھ پکی نئیں ملدے یار مسیتیں وچ
پہلے رب دی خلقت راضی کر پچھیں ونج گلزار مسیتیں وچ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پھر بھی ۔۔۔۔۔

Posted on 22/05/2006. Filed under: شعروادب |

 

کسی نامعلوم شاعر کا ایک شعر۔

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر، میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

ہیں جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ذرا شاعر کا نام بتائیے اور ساتھ ہی ذرا سی تشریح بھی کر دیجیئے

*****************

امجد اسلام امجد کی ‘نظمیں محبت کی‘ سے انتخاب یہ نظم کچھ اپنی اپنی سی لگی۔ جیسے یہ ہمارے آج کے بارے میں کچھ کہہ رہی ہو۔
پڑھیے اور بتائیے کہ کیا تاثرات ہیں آپ کے اسے پڑھنے کے بعد۔

پھر بھی ۔۔۔۔۔

دن رات کے آنے جانے میں
دنیا کے عجائب خانے میں
کبھی شیشے دھندلے ہوتے ہیں، کبھی منظر صاف نہیں ہوتے!
کبھی سورج بات نہیں کرتا
کبھی تارے آنکھ بدلتے ہیں
کبھی منزل پیچھے رہتی ہے
کبھی رستے آگے چلتے ہیں
کبھی آسیں توڑ نہیں چڑھتیں
کبھی خدشے پورے ہوتے ہیں
کبھی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں
کبھی خواب ادھورے ہوتے ہیں
یہ تو سب صیحیح ہے لیکن اس
آشوب کے منظر نامے میں
دن رات کے آنے جانے میں
دنیا کے عجائب خانے میں
کچھ سایہ کرتی آنکھوں کے پیماں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاتھوں سے اگرچہ دور سہی، امکاں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاں، ریت کے اس دریا سے ادھر
اک پیڑوں والی بستی کے عنواں تو دکھائی دیتے ہیں!
منزل سے کوسوں دور سہی
پردرد سہی، رنجور سہی
زخموں سے مسافر چور سہی
پر کس سے کہیں اے جان وفا
کچھ ایسے گھاؤ بھی ہوتے ہیں جنہیں زخمی آپ نہیں دھوتے
بن روئے ہوئے آنسو کی طرح سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں
اور ساری عمر نہیں روتے
نیندیں بھی مہیا ہوتی، سپنے بھی دور نہیں ہوتے
کیوں پھر بھی جاگتے رہتے ہیں! کیوں ساری رات نہیں سوتے!
اب کس سے کہیں اے جان وفا
یہ اہل وفا
کس آگ میں جلتے رہتے ہیں، کیوں بجھ کر راکھ نہیں ہوتے!

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نہ ابھے لمے گول میاں

Posted on 22/05/2006. Filed under: شعروادب |

نہ لمبے قصے چول میاں
نہ عیب کہیں دے پھول میاں
نہ ڈاڈھا اچا بول میاں
نہ ناحق کہیں کوں رول میاں
او ہیسی شہ رگ توں نیڑے
نہ ابھے لمے گول میاں
نہ کیتا کرتا گال میاں
ہر گالھ کوں پہلے تول میاں
جے ہے قسمت تاں ول ملسوں
آہدن ہے دنیا گول میاں
ہن جھاتہ پا گرواناں وچ
ہن پوہے دل دے کھول میاں
اساں گالھے بھولے بندے ہیں
نہ مار اساکوں بول میاں
توں اشک ندامت کیا جانیں
اے موتی ہن انمول میاں
رب سوہنا بخشن ہارا ہے
نہ کھول کہیں دے پول میاں
اساں در پنجتن دے منگتے ہیں
اساں بھن چھوڑن کشکول میاں
جے فیض گھنن دی خواہش ہے
ونج کہیں مجذوب دے کول میاں
ایں علم و ادب دی دنیا وچ
ہک شفتر ہے بغلول میاں
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وہاج دا انت

Posted on 20/05/2006. Filed under: اقتباسات, سرائیکی وسیب |

سرائیکی وسیب میں موجود ہندوؤں کو ‘کراڑ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عموما نجی ساہو کاری سے وابستہ رہے ہیں اور اس حوالے سے کئی لوک کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہندوؤں نے پنچائت بلائی اور آپس میں مشورہ کیا کہ مسلمان مسجدیں بنا رہے ہیں اس لئے ہمیں بھی پوجا کے لئے ایک مندر تعمیر کرنا چاہیے۔ پس انہوں نے مندر بنایا اور اکھٹے ہو کر پوجا کرنے اور بھجن گانے لگے؛
“دیوا تارن آیا، سنو میڈے سادھو!
دیوا تارن آیا او بھائی راما!
دیوا تارن آئے“
( مولا ہمیں ترقی اور خوشحالی دینے آیا ہے بھائیو! سن لو ہمیں ترقی دینے آیا ہے۔ بھائی رام! مولا ہمیں ترقی دینے آیا ہے)
ایک دن مندر میں وہ یہی بھجن گا رہے تھے کہ انہیں خبر ہوئی کہ دور دراز سے کوئی بڑا بیوپاری آیا ہے۔ وہ اپنی پوجا چھوڑ کر فورا باہر آئے اور بیوپاری سے دھڑادھڑ بھاری بھر قیمت والی اشیاء خریدنے لگے۔ جب انہوں نے خریداری مکمل کر لی تو اچانک انہیں اطلاع ملی کہ ان کی خرید کردہ اشیاء کی قیمت گر گئی ہے۔ اس پر سب لوگ اپنا سر پیٹ کر رہے گئے۔ دوبارہ مندر میں گئے اور اپنے گلے میں اجتجاجا پٹہ ڈال کر دیوتا کے آگے یہ بھجن گانے لگے؛
“دیوا گالن آئے، او بھائی سادھو!
دیوا گالن آئے“
( مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے، بھائیو! مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے)
اس بیوپار سے نقصان اٹھانے کے فورا بعد انہیں کسانوں کا لین دین یاد آ گیا۔ اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے انہوں نے ایک کسان کو پکڑ لیا اور اسے کہنے لگے؛
“ سن بیلی! ٹکا تیل والا تے ٹکے دا تیل، آناں دال والا تے آنے دی دال“
( سنو بھائی! ایک ٹکا تیل والا اور ایک ٹکے کا تیل، ایک ٹکا دال کا اور ایک ٹکے کی دال)
اس طرح انہوں نے حساب دوگنا کر دیا اور دیگر اشیاء جو کسان نے ان سے خریدی تھیں کی قیمت بتانے لگے کہ دو آنے کا صابن اور دو آنے صابن کے، ٹکے کا مشک اور ٹکا مشک والا، ایک پیسے کی ملتانی مٹی اور ایک پیسہ ملتانی مٹی والا، بارہ آنے کا دوپٹہ اور بارہ آنے دوپٹے کے، آٹھ آنے کی قمیص اور آٹھ آنے قمیص کے، ڈیڑھ روپے کی پگڑی اور ڈیڑھ روپے پگڑی والے، روپے کا کرتا اور روپیہ کرتے کا وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح وہ اس کسان کو سارا ادھار بتلا کر کہنے لگے کہ تمھارے ذمے ٢٩ روپے رقم اور ساڑھے تین من غلہ ہے، سو اب سود سمیت تم ٧٠ روپے رقم اور پانچ من غلہ دو گے۔ اس کے بعد انہوں نے کسان اس ادھار کا اسٹامپ بھی لکھوا لیا۔ جب فصل اٹھانے کا وقت آیا تو کسان کی ساری فصل وہ اپنے گدھوں پر لاد کر گھر لے گئے اور جاتے ہوئے اس کہہ گئے ؛
“ آویں تے حساب سمجھ ونجیں“
( گھر آ جانا اور حساب سمجھ لینا)
جب کسان ادھار سے متعلق ان کو دی ہوئی اپنی فصل کی پیداوار کا حساب سمجھنے کے لئے ان کے گھر گیا تو انہوں نے گزشتہ اور موجودہ دو فصلوں کا حساب ملا کر ٥٠ روپے رقم اور بارہ من غلہ مزید کسان کے کھاتے میں لکھ کر اسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔

ایف ڈبلیو سکیمپ کی لاطینی رسم الخط میں لکھی گئی سرائیکی کتاب ‘ ملتانی سٹوریز‘ سے انتخاب

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

جواب عرض ہے ۔ ٢

Posted on 19/05/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, رسم و رواج |

خاور صاحب کے جواب میں جواب عرض ہے لکھ چکا ہوں۔ اسے پڑھنے کے بعد آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کانٹا کہاں ہے، کنواں کون ہے اور کنویں سے کتا کیسے نکالا جائے یا کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔خاور صاحب کے جواب میں ہی محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب بڑے فلسفیانہ انداز میں اظہار خیال کر چکے ہیں۔اس سلسلے میں مزید عرض ہے کہ شادى بياہ پر پچھلے كچھ سالوں سے پيدا ہونے والى یا ابھر کر سامنے آنے والی رسوم میں سے سب سے بڑی بیماری ہے ‘جہیز‘ یہ ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جس پھلنے پھولنے سے کئی دوسری سنگین برائیوں کے راستے ہموار ہوتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں نفسا نفسی اور مادیت پرستی کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود شادی سے محروم ہیں۔ ہر سال والدین ادھار لے کر اپنی بچیوں کی شادیاں کرتے ہیں اور پھر عمر بھر قرض اتارنے میں مصروف رہتے ہیں اور جو والدین جہیز نہیں دے پاتے انکی بچیوں کو سسرال والے طعنے دے دے کر مار دیتے ہیں کچھ چولہے کا ایندھن بن جاتی ہیں اور کچھ کے ہاتھوں میں طلاق کا کاغذ پکڑا دیا جاتا ہے۔
کتنی بہنیں، بیٹیاں جہیز کا شکار بن کر بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دے رہی ہیں۔ نہ جانے کتنے بھائی بہنوں کے جہیز کے لئے ہاتھوں میں کلاشنکوف پکڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں والدین گھر میں جوان بچیوں کی موجودگی اور جہیز نہ ہونے کی وجہ سے راتوں کو سو نہیں پاتے دوسری طرف لڑکیاں اپنے آپ کو بوجھ سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو کوستی رہتی ہیں، آگے چل کر یہی سوچیں لڑکی کو نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں اور بعض لڑکیاں تو خودکشی تک کر گزرتی ہیں۔

دوستوں نے تو اس بیماری کا تعلق تعلیم سے جوڑ دیا، ٹھیک ہے تعلیم شعوروآگہی دیتی ہے مگر آپ آس پاس نظر دوڑایں تو یہ بیماری آپ کو پڑھے لکھے اور مالدار طبقوں میں زیادہ نظر آئے گی۔ مالدار تو اپنے اسٹیٹس کے مطابق اپنی بیٹی کی شادی کرے گا اور جہیز میں فریج، کار، بنگلہ اور دیگر ارلم پرلم دے گا مگر مارے گئے تو بیچارے غریب جو بیٹی کو صرف دعاوؤں کے سہارے رخصت کرنا چاہتے ہیں۔
ہمارے ہاں تو ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو رشتہ کرتے وقت کہتا ہے کہ ‘اجی ہمیں تو صرف بیٹی چاہیے باقی تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے بس دو کپڑوں میں بیٹی ہمیں دے دیں‘ والدین بیچارے خوش ہو جاتے ہیں کہ چلو مادہ پرشتی کے اس دور میں کسی کو کسی خیال تو ہے۔ لیکن جب بہو گھر آ جاتی ہے تو ساسو ماں صرف ‘ساس‘ بن جاتی ہے اور پھر طعن و تشنیع کے تیروں کی بارش شروع ہو جاتی ہے کہ ‘باپ نے تو بس بوجھ سر سے اتار دیا ایک ٹی وی تک نہ دے سکا۔ ارے ہماری ہی نصیب خراب تھی جو اس کنجوس اور کنگال گھرانے سے واسطہ پڑ گیا، پھر اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر آتی ہے کہ ‘ مسمات فلاں بیگم چولہا پھٹنے سے جھلس گئی بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی‘ اس طرح یہ برائی قتل سے سنگین جرم کا ارتکاب کراتی ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
کتا کہاں چھپا ہے؟
اسے کون نکالے گا یا کیسے نکالا جائے؟

والدین جب اپنی سب سے قیمتی اور پیاری چیز سپرد کر دیتے ہیں تو پھر کسی اور چیز کی گنجائس ہی رہتی۔

ہمارے نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ کی شادی حضرت علی سے کی تو حضرت علی نے اپنی زرہ بیچ کر حق مہر اور دیگر امور کا انتظام کیا۔
جب حضور صلٰی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیاں ذوالنورین حضرت عثمان کے نکاح میں دیں تو آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے جہیز نام کی کوئی شے نہیں دی تھی۔

اس برائی کو ختم کرنے کے لئے کچھ تجاویز ہیں کیونکہ ہم جیسے لوگ تو صرف یہ ہی بتا سکتے ہیں کہ کتا کہاں چھپا ہے۔
١۔ جہیز کی ایک خاص حد مقرر کی جائے اور ہر محلے کی سطح پر انہی میں سے چند ایماندار لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو یہ
چیک کرے کہ آیا مقرر حد سے زائد جہیز تو نہیں دیا جا رہا اور اگر دیا جا رہا ہو تو زائد سامان ضبط کر لیا جائے جسے غریب والدین کی بیٹیوں کی شادی میں جہیز کے طور پر دیا جائے۔
٢۔ والدین کی جائداد میں سے بیٹیوں کو اسلامی طریقے سے حصہ دیا جائے (قانون تو موجود ہے مگر اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے) کیونکہ دین کے مطابق وراثت کی نفی نہیں ہو سکتی۔
٣۔ نکاح نامہ کے ساتھ ایک مزید سرٹیفکیٹ کا اضافہ ہونا چاہیے جس میں تحریر ہو کہ جہیز نہیں دیا جائے گا۔
٣۔ نمودونمائش پر مکمل پابندی لگا دینی چاہیے۔ اس سلسلے میں قوم کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
٤۔ جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے قومی سطح پر مہم چلائی جائے۔

یار دوست مزید تجاویز دیں۔

جناب جاوید قریشی کی ایک پرانی غزل ہتھے چڑھ گئی ہے جس کے کچھ شعر حاضر ہیں۔

کبھی تو ظلمت کی شب کٹے گی
کبھی تو صبح کا ظہور ہو گا
کبھی تو ان بے وقعت لوگوں سے
زندگی کا شعور ہو گا
جو ظلم سے سر جھکے ہوئے ہیں
جو آنکھیں پتھرا گئی ہیں غم سے
کبھی تو ان کو سکون ملے گا
کبھی تو ان میں بھی نور ہو گا

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پی آئی اے کے رنگ

Posted on 19/05/2006. Filed under: پاکستان |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...