Archive for جون, 2006

ابھی تو تجھے ایک پھینٹی لگی ہے

Posted on 19/06/2006. Filed under: شعروادب, طنز و مزاح |

موجودہ بجٹ اور چند مہینوں سے گزرنے والے حالات کو ذہن میں رکھئیے اور پھر یہ کلام پڑھیئے۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
پرے سے پرے سے پراں اور بھی ہیں

ابھی تو تجھے ایک پھینٹی لگی ہے
ابھی تو ترے امتحاں اور بھی ہیں

وہ اک نار ہی تو جلاتی نہیں ہے
محلے میں چنگاریاں اور بھی ہیں

وہ کھڑکی نہیں کھولتے تو نہ کھولیں
نظر میں مرے باریاں اور بھی ہیں

یہ شیعہ یہ سنی ہے حنفی وہابی
علاوہ ازیں فرقیاں اور بھی ہیں

سمگلنگ کی شوگر سٹاکنگ کا کینسر
وڈیروں کو بیماریاں اور بھی ہیں

یہاں صرف تھانے ہی بکتے نہیں ہیں
یہاں ہر کئی ایسے تھاں اور بھی ہیں

وہ کہتے ہیں انصاف سستا ملے گا
تو ثابت ہوا پیشیاں اور بھی ہیں

ہوا تیل کا ہی نہیں مول دگنا
بہت قیمتاں ایسیاں اور بھی ہیں

عبیرا تجھے وہ بھی سہنی پڑیں گی
مقدر میں جو سختیاں اور بھی ہیں

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بنام اردو بلاگرز

Posted on 08/06/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, سیاست |

میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ ۔۔۔ لکھنے کے بعد میں مسلسل سوچتا رہا ہوں کہ آخر میں کہنا کیا چاہتا ہوں؟، کس سے، کیوں اور کس لئے کہنا چاہتا ہوں؟ سوچتا ہوں کہ لکھنا تو ایک بہانہ ہے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا، مگر پھر ایک سوال میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے کہ کیا تمام دوسرے بلاگرز بھی صرف اس لئے لکھتے ہیں؟ صرف دل کی بھڑاس کے لئے یا اس کے پیچھے کچھ اور بھی مقاصد ہوتے ہیں؟
ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مجھے بلاگ شروع کئے ہوئے، مگر میں آج تک ایک بات نہیں سمجھ پایا کہ ہم لوگ اپنی تحریروں میں کس قوم، کن عوام اور کون سے لوگوں کی باتیں کرتے رہتے ہیں؟ کن کی محرمیوں، ذلتوں اور حقوق پر کڑھتے رہتے ہیں؟ انہی لوگوں میں رہتے ہوئے، ان کی نفسیات جانتے ہوئے انجان بن جانتے ہیں۔ ہم لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ عوام نہ گھر کے ہیں نہ گھاٹ کے۔ یہ تو ایک بے سمت ہجوم ہے، ایک بھیڑ ہے جس میں ہم لوگ بلاوجہ چلا چلا کر گلا پھاڑ رہے ہیں۔ ہم دیوانے بھی کن لوگوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں؟ کسے پکار رہے ہیں؟ کسے جگانے اور جھنجھوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں؟ یہ لیڈر ان کو لوٹ رہے ہیں تو ٹھیک کر رہے ہیں، دال، چینی سستی کر کے یوٹیلٹی سٹورز کے باہر لمبی لائنیں لگوا کر ان کو بے عزت کر رہے ہیں تو ٹھیک کر رہے ہیں۔
جن لیڈروں کے ہاتھوں یہ پٹ رہے ہیں، لٹ رہے ہیں، مر رہے ہوتے ہیں،اجڑ رہے ہوتے ہیں انہی لیڈروں کے جلسوں کو بھی بھر رہے ہوتے ہیں۔ بےنظیر ہو یا نوازشریف، قاضی حسین احمد ہو یا فضل الرحٰمن، پرویزمشرف یا شوکت عزیز یہی عوام ان کے جلسوں میں جھنڈے اٹھائے حلق پھاڑ پھاڑ نعرے لگا رہے ہوتے ہیں کہ ان کا ہر جلسہ ‘ہاؤس فل‘ جاتا ہے۔
یہ سب کچھ اس لئے لکھا جا رہا ہے کہ اپنی بربادی کا رونا رونے والے عوام اپنا اصلی چہرہ بھی دیکھ سکیں۔
کون ہے جو کرپٹ نہیں؟
جس کا جتنا بس چلتا ہے، اتنا ہی دوسرے کو لوٹ لیتا ہے۔
پنکچر لگانے والا سواری کے مالک کو غافل پا کر ٹیوب میں دوچار اور سوراخ کر دیتا ہے۔
دکاندار کم تولتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ واقف کار کی کھال زیادہ اتارتا ہے کیونکہ وہ اس پر اعتبار کرتا ہے۔
کوئی سرکاری دفتر ایسا ہے جہاں سرعام رشوت نہ چلتی ہو، چپڑاسی سے لیکر افسر تک سبھی نے اپنے ریٹ مقرر کئے ہوئے ہیں۔
عوام عوام کو نوچ کھانے کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کی آنکھوں سے بھوک اور منہ سے رال ٹپکتی نظر آتی ہے، چیلوں کی طرح ایک دوسرے کی کھال نوچتے ہیں۔
خواص ہی نہیں ۔۔۔ عوام عوام کے دشمن ہیں، اپنی ذات کے بدذات کو ووٹ دیں گے چاہے وہ بےغیرت اور بدمعاش ہی کیوں نہ ہو۔ چند کلو چینی،دال، گھی اور چند تھیلے آٹے کے لئے تو یہ ضمیر بیچ دیتے ہیں۔
اردو بلاگرو!
اللہ نے آپ کو بہت جاندار قلم دیا ہے، اپنی جان ہلکان نہ کریں، اسے کسی اور کام لگائیں، کچھ اور لکھیں جس سے نام بھی زیادہ، دام بھی زیادہ۔

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

جاں فروشی سے ایمان فروشی تک

Posted on 05/06/2006. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

بلوچ گورنمنٹ‘ کے جواب میں بلوچستان کی خودساختہ جلاوطن حکومت کے جنرل سیکریٹری میر آزاد خان بلوچ نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔

Thank you for introducing our blog to your readers. Unfortunately, neither India nor Israel are assisting us. But, if they do offer any help, we would gladly accept it and use it to liberate Balochistan.For your information, the policies of the Pakistani military dictator, General Pervez Musharraf has alienated the entire Baloch nation. The Baloch are simply reacting to the blatant disregard to their genuine grievences by the Government of Pakistan.So, rest assured that the Government of Balochistan in Exile is the result of the ruthlessness of the Punjabi domination of Balochistan. It is not concocted by a foreign intelligence.Mir Azaad Khan Baloch General Secretary The Government of Balochistan in Exile http://www.pkblogs.com/governmentofbalochistan/

جناب میر آزاد خان بلوچ! میں خود ایک بلوچ ہوں، ڈیرہ غازی خان سے میرا تعلق ہے اور ڈیرہ غازی خان پنجاب میں ہونے کی وجہ سے میں پنجابی بھی ہوں، مگر میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں اس کے بعد بلوچ، پنجابی، سرائیکی، ڈیروی یا کچھ اور۔

بلوچ ہونے کے ناطے میں بلوچوں کے احساسات و جذبات کو بہتر سمجھتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان احساس محرومی میں ہے، اسے اس کا حق نہیں دیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستاں سے نکلنے والی معدنیات سے پورا پاکستان ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے مگر بلوچستان میں صرف ترقی کے الفاظ ہی پہنچ سکے، میں سمجھتا ہوں اور بھی بہت سے مسائل اور مشکلات ہیں جن کا رونا رویا جا رہا ہے، مگر کبھی آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا کہ ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ آج جو کچھ بلوچستاں میں ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ان سب مشکلات، تکالیف اور تمام مسائل کا ذمہ دار صرف اور صرف بلوچ سردار ہیں، صدر پرویز مشرف کی حکومت کو تو صرف چار پانچ ہو رہے ہیں آپ اس سے پہلے کے ادوار کو بھی نگاہ میں رکھیں تو آج کے حالات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

حکومت کی طرف سے بلوچ سرداروں کو رائلٹی اور مختلف مدوں میں اربوں روہے ملنے کے باوجود ان سرداروں نے بلوچستان کی عوام کے ساتھ کیا کیا؟ ان اربوں روپوں میں سے کبھی یا کہیں ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ کیا ہو تو مجھے بتائیے؟

آج بلوچستان میں ہرطرف دھماکے ہو رہے ہیں اور ان تمام دھماکوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی قبول کر رہی ہیں جبکہ بلوچ سردار ان تنظیموں کے وجود سے انکاری ہیں! کیوں؟ ان تنظیموں کو کون چلا رہے ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ بلوچستان علیحدہ کرانا اور پاکستان کو توڑنا (یہ ایک لمبی باعث ہے جس میں میں اس وقت پڑنا نہیں چاہتا) میر آزاد خان بلوچ صاحب! پاکستان ہماری وحدت ہے، یہ ایک اکائی ہے، یہ ہماری پہچان ہے۔ اس کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا چاہے وہ اپنے کا ہو یا کسی دشمن کا، چاہے وہ کسی سدھی کا ہو یا سرحدی کا، کسی بلوچ کا ہو یا کسی پنجابی کا۔

آج کا تاریخ دان آپ کو قوم پرست، شدت پرست اور ‘شرپسند‘ لکھ رہا ہے، کل کا مورخ آپ کو کن الفاظ میں یاد کرے گا اس بارے میں آپ خود بہتر اندازہ کر سکتے ہیں۔ تاریخ میں ایک جاں فروش ابراہیم خان گاردی کا واقعہ یقینا آپ نے پڑھا ہو گا۔ اس لئے اب بھی وقت ہے واپس پلٹ آئیں اپنوں اور آپ خوب جانتے ہیں کہ کوئی بھی پاکستانی خواہ وہ پنجابی ہو یا سندھی، بلوچی ہو یا سرحدی اپنوں کا استقبال کس طرح کرتے ہیں۔

جاں فروشی کے شوق میں آپ ایمان فروشی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایمان فروشوں کے لئے تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کا قول ملتا ہے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی جان بخشی نہیں ہو سکتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

دو خبریں

Posted on 03/06/2006. Filed under: پاکستان, سیاست |

پہلی خبر

روزنامہ جنگ ملتان ۔۔۔ 02 جون 2006 (صفحہ 01)
کراچی (رپورٹ جاوید رشید) بھارت میں پٹرول کی قیمت 2 برس سے 44.46 روپے لیٹر برقرار، دالیں گزشتہ 5 سال سے 27 سے 30 روپے فی کلو مل رہی ہیں، دہلی اور ممبئی میں بکرے کا گوشت 170، حیدرآباد دکن160، مغربی بنگال میں 130 روپے اور آٹا 12 روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے، ڈالر 46 روپے کا ہے (نوٹ۔ خبر کی صرف سرخی لکھی گئی ہے)

دوسری خبر

روزنامہ جنگ ملتان ۔۔۔ 03 جون 2006 (صفحہ 01)
اسلام آباد (اے پی پ) بھارت میں پٹرول پاکستان سے 4.13 اور ڈیزل 3.42 روپے مہنگا ہے۔ اسلام آباد میں آٹا 13.02، نئی دہلی 16.44، ڈھاکہ 16.32، کابل 24.20 اور دبئی میں 24.60 روپے فی کلو گرام ملتا ہے۔ (نوٹ۔ خبر کی صرف سرخی لکھی گئی ہے)

دونوں خبریں آپ نے پڑھیں اب آپ ہی بتائیے یہ اخبار والے کسے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، عوام کو یہ پاگل سمجھتے ہیں یا خود کو تسلی دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟۔
ایک دن کے فرق سے اتنی متضاد بیانی کیا ان خبروں کو کوئی چیک کرنے والا نہیں، آخر کوئی مانیئٹرنگ سسٹم تو ہو گا ہی، یا کوئی حکومتی ادارہ، یا سبھی سوئے ہوئے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلوچ گورنمنٹ

Posted on 01/06/2006. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

لو جی بات پہنچی تری جوانی تک، میر آزاد خان بلوچ نے ایک بلاگ بنایا ہے جس کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ یہ بلوچستان کی جلاوطنی میں قائم کی گئی حکومت کی ویب سائٹ ہے۔

بلاگ کے مطابق 18 اپریل 2006 کو کچھ بلوچ قوم پرستوں نے مل کر یہ حکومت قائم کی اور انٹرنیٹ پر اپنے ’سرکاری بلاگ‘ کے ذریعے دنیا کو اس سے روشناس کرایا۔ مزے کی بات یہ کہ اس میں حکومت قائم کرنے والے ارکان کے نام یا ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے، بلاگ کے مطابق میر آزاد خان بلوچ کا کہنا کہ وہ اس حکومت کا جنرل سیکریٹری ہے۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق پہلے اس نے بلاگ میں اپنی حکومت کا صدر دفتر یروشلم اسرائیل لکھا تھا جسے بعد میں تبدیل کر کے مڈل ایسٹ کر دیا گیا۔

میر آزاد خان بلوچ اپنا اور اپنی حکومت کا تعارف بلاگ میں ان الفاظ سے کرا رہا ہے۔

AboutThe territory of Balochistan (Baluchistan) is presently occupied by Afghanistan, Iran and Pakistan. On April 18, 2006, we declared The Government of Balochistan in Exile and nominated His Highness Mir Suleman Dawood Khan as the King of Balochistan.About Me Name:Mir Azaad Khan Baloch Location:Middle East

یہ سب کیا ہے، کس کی سازش ہے؟ کیا بلوچ رہنما اس حد تک گر گئے ہیں؟ یا یہ سب کسی اور کی کارستانی ہے؟ شاید ‘اسرائیل‘ اور کسی حد تک انڈیا کا بھی ہاتھ اس میں شامل ہو سکتا ہے۔؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...