بنام اردو بلاگرز

Posted on 08/06/2006. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, سیاست |

میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ ۔۔۔ لکھنے کے بعد میں مسلسل سوچتا رہا ہوں کہ آخر میں کہنا کیا چاہتا ہوں؟، کس سے، کیوں اور کس لئے کہنا چاہتا ہوں؟ سوچتا ہوں کہ لکھنا تو ایک بہانہ ہے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا، مگر پھر ایک سوال میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے کہ کیا تمام دوسرے بلاگرز بھی صرف اس لئے لکھتے ہیں؟ صرف دل کی بھڑاس کے لئے یا اس کے پیچھے کچھ اور بھی مقاصد ہوتے ہیں؟
ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مجھے بلاگ شروع کئے ہوئے، مگر میں آج تک ایک بات نہیں سمجھ پایا کہ ہم لوگ اپنی تحریروں میں کس قوم، کن عوام اور کون سے لوگوں کی باتیں کرتے رہتے ہیں؟ کن کی محرمیوں، ذلتوں اور حقوق پر کڑھتے رہتے ہیں؟ انہی لوگوں میں رہتے ہوئے، ان کی نفسیات جانتے ہوئے انجان بن جانتے ہیں۔ ہم لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ عوام نہ گھر کے ہیں نہ گھاٹ کے۔ یہ تو ایک بے سمت ہجوم ہے، ایک بھیڑ ہے جس میں ہم لوگ بلاوجہ چلا چلا کر گلا پھاڑ رہے ہیں۔ ہم دیوانے بھی کن لوگوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں؟ کسے پکار رہے ہیں؟ کسے جگانے اور جھنجھوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں؟ یہ لیڈر ان کو لوٹ رہے ہیں تو ٹھیک کر رہے ہیں، دال، چینی سستی کر کے یوٹیلٹی سٹورز کے باہر لمبی لائنیں لگوا کر ان کو بے عزت کر رہے ہیں تو ٹھیک کر رہے ہیں۔
جن لیڈروں کے ہاتھوں یہ پٹ رہے ہیں، لٹ رہے ہیں، مر رہے ہوتے ہیں،اجڑ رہے ہوتے ہیں انہی لیڈروں کے جلسوں کو بھی بھر رہے ہوتے ہیں۔ بےنظیر ہو یا نوازشریف، قاضی حسین احمد ہو یا فضل الرحٰمن، پرویزمشرف یا شوکت عزیز یہی عوام ان کے جلسوں میں جھنڈے اٹھائے حلق پھاڑ پھاڑ نعرے لگا رہے ہوتے ہیں کہ ان کا ہر جلسہ ‘ہاؤس فل‘ جاتا ہے۔
یہ سب کچھ اس لئے لکھا جا رہا ہے کہ اپنی بربادی کا رونا رونے والے عوام اپنا اصلی چہرہ بھی دیکھ سکیں۔
کون ہے جو کرپٹ نہیں؟
جس کا جتنا بس چلتا ہے، اتنا ہی دوسرے کو لوٹ لیتا ہے۔
پنکچر لگانے والا سواری کے مالک کو غافل پا کر ٹیوب میں دوچار اور سوراخ کر دیتا ہے۔
دکاندار کم تولتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ واقف کار کی کھال زیادہ اتارتا ہے کیونکہ وہ اس پر اعتبار کرتا ہے۔
کوئی سرکاری دفتر ایسا ہے جہاں سرعام رشوت نہ چلتی ہو، چپڑاسی سے لیکر افسر تک سبھی نے اپنے ریٹ مقرر کئے ہوئے ہیں۔
عوام عوام کو نوچ کھانے کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کی آنکھوں سے بھوک اور منہ سے رال ٹپکتی نظر آتی ہے، چیلوں کی طرح ایک دوسرے کی کھال نوچتے ہیں۔
خواص ہی نہیں ۔۔۔ عوام عوام کے دشمن ہیں، اپنی ذات کے بدذات کو ووٹ دیں گے چاہے وہ بےغیرت اور بدمعاش ہی کیوں نہ ہو۔ چند کلو چینی،دال، گھی اور چند تھیلے آٹے کے لئے تو یہ ضمیر بیچ دیتے ہیں۔
اردو بلاگرو!
اللہ نے آپ کو بہت جاندار قلم دیا ہے، اپنی جان ہلکان نہ کریں، اسے کسی اور کام لگائیں، کچھ اور لکھیں جس سے نام بھی زیادہ، دام بھی زیادہ۔

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

5 Responses to “بنام اردو بلاگرز”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

کیوں ہمت ہارتے ہیں جناب والا؟ ان ڈھیر سارے برے لوگوں کے بیچ میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں. اور یہ لوگ جو برے نظر آتے ہیں، یہ بھی بے چارے مجبور ہیں…. کیا کریں؟

[…] چھترول پڑ سکتی ہے، چھترولسے بچنا ہے تو کوئی اور دھندہ سوچیں، ویسے میں تو بچوں پر کہانیاں لکھنے کا سوچ رہا ہوں […]

[…] کرو! میدان میں آؤ! احتجاج کرو! تو میرے عزیز ہم وطنو! میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آپ کس عوام اور قوم سے مخاطب ہو اور […]

[…] روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے مگر اپنے بلاگ کی ایک تحریر بنام اردو بلاگرز نے میری سوچ کا رخ ایک بار پھر عوام کی طرف موڑ دیا۔ […]

پڑہئیے گا میرا تازہ بلاگ:
لاہور کے سری پائے
http://awazepakistan.wordpress.com/


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: