Archive for جولائی, 2006

صدر کا خطاب، نیا فارمولا اور دنیا کے لئے پیغام

Posted on 28/07/2006. Filed under: سیاست |

جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر قوم کو ایک نیا فارمولا بتایا ہے۔
ہمارے محترم صدر کے فارمولے کے مطابق ملک میں غربت ختم ہو گئی ہے کیونکہ ملک میں موبائیل ٹیلی فون کی خرید میں اضافہ ہوا ہے اور ائر کنڈیشنوں کی فروخت بھی زیادہ ہو رہی ہے۔ آگے فرماتے ہیں کہ لوگوں کے پاس بہت پیسے آ گئے ہیں اور قوت خرید بڑھ گئی ہے۔واہ !!!!
ناجانے کون سے کلیے سے یہ حساب کتاب کر کے نئے فارمولے ایجاد کرتے ہیں اس سے پہلے ہمارے وزیراعظم صاحب بھی کچھ اسی قسم کا فارمولا قوم کو بتا چکے ہیں کہ غربت میں سات فیصد کمی ہوئی ہے، حالانکہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ افراط زر میں چودہ فیصد اضافہ ہوا تھا۔
میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ان کے قاعدے قانون، حساب کتاب ‘آن دی پوائینٹ‘ ہوتے ہیں، ان کا حساب دو جمع دو پانچ بتاتا ہے، اگر معاملہ زیادہ گھمبیر ہو تو اس قاعدے قانون کو اپنے مطلب کے مطابق بدلا جا سکتا ہے، پھر دو جمع دو تین بھی ہو سکتے ہیں سات اور نو بھی۔بات چلی تھی صدر صاحب کے خطاب سے، انہوں نے اپنے خطاب میں بہت سی روشن باتیں فرمائی ہیں۔ مگر سب اہم یہ کہ انہوں نے خطاب میں فلسطین اور مشرق وسطی کا ذکر بھی کیا، لبنان کے بعد شام اور ایران کے بارے میں ابھرنے والے خدشات تک بھی پہنچے، پاکستان کی سلامتی کے بارے میں بھی فکر مند دکھائی دیئے، انڈیا بم دھماکوں کی شدید مذمت کی مگر اپنے پورے خطاب میں کہیں بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہ کی۔ اس کی وجہ میری سمجھ سے بالاتر ہے، اگر آپ لوگ کچھ سمجھے ہیں تو مجھے بھی آگاہ کیجیئے گا کہ ہمارے محترم صدر صاحب اس سے تمام دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بونٹ بند

Posted on 18/07/2006. Filed under: طنز و مزاح |

٥٥ برس کی

کینڈا میں ایک شخص ایک نوجوان کا انٹرویو لے رہا تھا جو ان کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا تھا۔ نوجوان کے ضروری کوائف حاصل کرنے کے بعد اس شخص نے اسے مطلع کیا۔

‘میری تین بیٹیاں ہیں اور میں چاہوں گا کہ جب وہ یہاں سے بیاہ کر جائیں تو خوشحال زندگی گزرایں۔ اس مقصد کے لئے میں نے اپنے دامادوں کو تحفے میں دینے کے خاطر کچھ رقم مختص کر رکھی ہے۔ میری چھوٹی بیٹی جو ٢٥ سال کی ہے، جو اس سے شادی کرے گا اسے تحفے میں پانچ ہزار ڈالرز ملیں گے۔ دوسری جو ٣٥ سال کی ہے، جو اس سے شادی کرے گا اسے دس ہزار ڈالرز ملیں گے۔ تیسری جو ٤٥ سال کی ہے، اسے جو اپنائے گا اسے بیس ہزار ڈالرز ملیں گے۔ اب انتخاب تم کو کرنا ہے‘

نوجوان نے للچا دینے والا بیان سن کر خلا میں گھورنے لگا۔

‘بڑے میاں نے اس سے پوچھا۔ ‘کیا سوچ رہے ہو؟‘

نوجوان نے جواب دیا۔ ‘سر! میں سوچ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔آپ کے ہاں کوئی ٥٥ برس کی نہیں ہو گی؟‘

 

 

 

وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے۔۔

ایک عورت کو فیشن کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ اس نے کانوں میں پہننے کے لئے سونے کی بھاری وزن کی بالیاں بنوائیں اور پورے محلے کو دکھاتی پھرتی رہی۔ ‘بہن رضیہ دیکھو میں نے سونے کی بالیاں بنوائی ہیں۔‘

‘اچھی ہیں۔‘ رضیہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

اس عورت کو تسلی بخش توصیفی جواب نہ ملا تو وہ پریشان ہوئی، جسے وہ سونے کیا بالیاں دکھاتی تو کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرتا۔ رات بھر وہ اسی پریشانی میں رہی کہ میں نے اتنی رقم سے سونے کی بالیاں بنوائی ہیں لیکن کسی نے بھی تعریف نہیں کی۔ حتٰی کہ بعض نے دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی، صبح ہوئی تو اس نے پورے گھر کو مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی اور خود صحن میں چارپائی پر بیٹھ کر بین کرنے لگی۔

کچھ ہی دیر بعد پورا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ محلے کی عورتیں آئی اور ہمدردی جتانے لگیں۔ ایک نے کہا ‘بہن تمھارا سارا مکان جل گیا ہے تمھاری کوئی چیز بھی نہیں بچی؟‘

اس پر اس عورت نے ٹھنڈی آہ بھری اور کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ‘بس یہ سونے کی بالیاں بچی ہیں۔‘

 

 

 

وجہ تسمیہ

آپریشن کے بعد ہوش میں آنے پر ادھیڑ عمر مریض نے نرس سے کہا۔ ‘ابھی تھوڑی دیر پہلے میرا خیال تھا کہ میں مر چکا ہوں، مگر کچھ غور کرنے پر مجھے پتا چلا کہ میں زندہ ہوں۔‘

‘آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں؟‘ نرس نے پوچھا۔

‘مجھے اپنے پیر یخ محسوس ہورہے تھے‘ مریض نے جواب دیا۔ ‘میں نے سوچا کہ اگر میں جہنم میں ہوں تو میرے پاؤں ٹھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی تو میں نے سوچا کہ بیوی یہاں موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں جنت میں بھی نہیں ہوں۔ بس ثابت ہوا کہ میں زندہ ہوں۔‘

 

 

 

 

 

ہائے انگریزی

برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلئیر نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ‘Tomorrow‘ کے سپیلنگ آج تک نہیں آئے۔ ٹونی کا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ انگریزوں کی بھی انگریزی نہیں آتی۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ ‘ٹونی صاحب صرف‘آج‘ پر نظر رکھتے ہیں اس لئے انہیں ‘Tomorrow‘ یاد نہیں رہتا۔‘ میں نے میاں صاحب سے پوچھا کہ ‘Tomorrow‘ تو کل کو کہتے ہیں ۔۔۔ ‘پرسوں‘ کو کیا کہتے ہیں؟‘

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولے ‘Tomorrow کے اوپر ایک اور مارو‘

انگریزی بولنے میں بعض لوگ بڑی مہارت رکھتے ہیں، اپنے خان صاحب کی مثال سامنے ہے، ایسی ایسی انگریزی بناتے ہیں کہ بعد خود بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی انگریزی کے چند نمونے ملاحظہ کیجیئے۔

 

سینما پر فلم چل رہی ہے ۔۔۔Film is walking on the cinima

وہ بڑے دل گردے کا آدمی ہے ۔۔۔ He is a man of big heart and kidney

بل پر تاریخ ڈالو ۔۔۔ Put the history on the bill

وہ الو کا پٹھا ہے ۔۔۔ He is muscle of owl

مزا آ گیا ۔۔۔ The Taste has come

سردا ۔۔۔ Colda

گرما ۔۔۔ Hota

وہ میری نواسی ہے ۔۔۔ She is my 89

جاپانی (جا۔۔۔پانی) ۔۔۔ Go water

چینی بہت خوبصورت ہوتے ہیں ۔۔۔ suggers are very beautifull

عورت، مرد اور ہیجڑا ۔۔۔ He. She. It

میرا سر نہ کھاؤ ۔۔۔ Dont eat my head

سرخرو (سرخ روح) ۔۔۔ Red spirit

میری بیوی آپ کے لئے پانی بنا رہی ہے ۔۔۔ My wife is making water for you

لالو کھیت ۔۔۔ Lalu Field

بھائی پھیرو ۔۔۔ Brothers Circle

خوف ناک ۔۔۔ Afraid nose

وہ ایک میراثی ہے ۔۔۔ He is a singer

میری بیوی مجھے روزانہ دو انڈے دیتی ہے ۔۔۔ My wife is laying me two eggs daily

جا ۔۔۔۔ جاوے جا، جھوٹیا ۔۔۔ Go, Go and go lier

جان شیر ۔۔۔ Life Lion

آگ کا راستہ ۔۔۔ Nor way

دروازہ مارو ۔۔۔ Kill the door

 

 

 

مہنگا دماغ

لندن کی ایک دکان میں مختلف قوموں کے افراد کے دماغ فروخت ہوتے تھے، ایک سردار جی وہاں جا پہنچے اور مسلمان کے دماغ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ ‘کتنے کا ہے؟‘

‘سو پاؤنڈ کا‘ جواب آیا۔

پھر پوچھا ‘یہ عیسائی کا دماغ کتنے کا ہے؟‘

جواب ملا ‘دو سو پاؤنڈ کا‘

اب سردار جی پوچھا ‘اچھا تو یہ سکھ کا دماغ کتنا قیمتی ہے؟‘

دکاندار نے کہا ‘دو ہزار پاؤنڈ کا۔‘

سردار کے دماغ کی اتنی قیمت سن کر سردار جی بہت خوش ہوئے۔ فخر کے احساسات کو چھپاتے ہوئے بولے۔

‘سکھ کا دماغ اتنا قیمتی کیوں؟‘

جواب ملا۔ ‘ایک مسلمان کے دماغ کے چار دماغ بن جاتے ہیں، لیکن بیس سکھوں کی کھوپریوں سے ایک دماغ بمشکل بنتا ہے، اس لئے یہ اتنا مہنگا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

گالھا دل تیکوں تھی کیا گیا ہے؟

Posted on 15/07/2006. Filed under: شعروادب |

کلام غالب سرائیکی میں

گالھا دل تیکوں تھی کیا گیا ہے؟
دلِ نادان تجھے ہوا کیا ہے؟

 

آخر ایں درد دی دوا کیا ہے؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

 

اساں مشاق ہیں تے او بیزار
ہم ہیں مشاق اور وہ بیزار

 

یا الہٰی ایہہ ماجرا کیا ہے؟
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے؟

 

میں وہ منہ وچ زبان رکھدا ہاں
میں بھی منہ زبان رکھتا ہوں

 

کجھ تاں پچھو جو مدعا کیا ہے؟
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے؟

 

جداں تیں توں بیا نیں کوئی موجود
جب کی تجھ بن نہیں کوئی موجود

 

ول ایہہ رونق میڈے خدا کیا ہے؟
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟

 

شکلاں والے ایہہ لوک کدوں این؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟

 

ناز غمزہ تے ایہہ ادا کیا ہے؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟

 

مشک والی ایں لٹ کوں ول کیوں ہے؟
شکن زلف عنبریں کیوں ہے؟

 

سرمے والی نظر دا پھا کیا ہے؟
نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے؟

 

پھل تے ساوِل کتھوں ایہہ آئے ہن؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟

 

جھڑ ہے کیا شے، تے ایہہ ہوا کیا ہے؟
ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے؟

 

ساکوں اوں توں وفا دی ہے امید
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

 

جیڑھا نیں جانڑدا وفا کیا ہے؟
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟

 

کر بھلا تیڈا وی بھلا تھیسی
ہان بھلا کر ترا بھلا ہو گا

 

اساں درویشاں دی صدا کیا ہے؟
اور درویش کی صدا کیا ہے؟

 

جند قربان پیا کریندا ہاں
جان تم پر نثار کرتا ہوں

 

میں نمیں جانڑدا دعا کیا ہے؟
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے؟

 

میں ایہہ منیا جو کجھ وی نہیں غالب
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب

 

بے مُلوُں شے ملے بُرا کیا ہے؟
مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ابھی لکھیں تو کیا لکھیں؟

Posted on 12/07/2006. Filed under: شعروادب |

ہر اک جانب اداسی ہے
ابھی سوچیں تو کیا سوچیں؟

ہر اک سو، ہو کا عالم ہے
ابھی بولیں تو کیا بولیں؟

 

ہر اک انسان پتھر ہے
ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں؟

 

فضا پر نیند طاری ہے
ابھی جاگیں تو کیا جاگیں؟

 

ہر اک مقتل کی شہِ رگ میں
لہو کی لہر جاری ہے

 

ابھی دیکھیں تو کیا دیکھیں؟
ہر اک انسان کا سایہ

 

ابھی مٹی پہ بھاری ہے
ابھی لکھیں تو کیا لکھیں؟
محسن نقوی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پی آئی اے کا فوکر طیارہ ملتان کے نزدیک گر کر تباہ

Posted on 10/07/2006. Filed under: پاکستان, رسم و رواج |

ابھی ابھی پی آئی اے سے اطلاع آئی ہے کہ پی آئی اے کا ایک فوکر طیارہ پی کے 688 ملتان کے نزدیک گر کر تباہ ہو گیا ہے، طیارے میں سوار پنتالیس مسافر جن میں میں عملے کے چار ارکان بھی شامل ہیں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ ڈی سی او ملتان افتخار بابر نے حادثے میں پنتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے دو جج جسٹس نذیر صدیقی اور جسٹس نواز بھٹی، پاک فوج کے بریگیڈئر فرحت، بریگیڈئر آفتاب، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نصیر خان اور معروف نیورو سرجن ڈاکٹر افتخار راجہ بھی سوار تھے۔
سول ایوی ایشن کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 688 نے دوپہر کے بارہ بجے ملتان ایئر پورٹ سے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ اس کے انجن میں آگ لگ گئی۔ جہاز کے پائلٹ کیپٹن حامد کو کنٹرول ٹاور سے فوری اطلاع دی گئی اور تین کلو میٹر کے فاصلے پر پائلٹ نے جہاز دوبارہ ایئر پورٹ کی طرف موڑنے کی کوشش کی تو وہ ملتان شہر کے علاقے سورج میانی کے محلہ راج گڑھ کےقریب واقع کھیتوں میں گر گیا عینی شاہدین کے مطابق آگ نے پوری طرح طیارے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو تو پا لیا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور کسی بھی مسافر کے زندہ بچ جانے کی امید باقی نہیں رہی تھی۔اس بارے مزید تفصیلات یہاں ملحظہ کیجیئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مقابلہ یا بائیکاٹ

Posted on 01/07/2006. Filed under: پاکستان, اسلام |

 

یہ کیا ہے؟
آپ کا کیا خیال ہے اس تصویر کے بارے میں؟
اسلام پسندی یا اسلام سے محبت آپ اس بارے میں جو بھی سوچیں مگر میرے خیال میں یہ سب ٹھیک نہیں ہے، کیا ہو گا یہ سب لکھنے سے یا اسے میل کرنے سے، اگر آپ وقعی ان برانڈز کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں، ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ناطقہ بن کرنا چاہتا ہیں تو میدان میں آئیں، مقابلہ کریں ان سے اچھی، بہتر اور میعاری برانڈ مارکیٹ میں لے آئیں۔ یقین جانیں لوگ خود ان برانڈز کا بائیکاٹ شروع کر دیں گے، ان کا ناطقہ بند ہو جائے گا، یہ ملٹی نیشنل کمپینیاں جو پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گی۔
اگر آپ پیپسی کے مقابلے میں مکہ کولا یا اسلامی کولا جیسے مشروب مارکیٹ میں لائیں گے تو اس سے کچھ نہیں ہو گا سوائے اپنا نقصان کرنے کے، یہ مشروب پینے میں ایسے ہیں جیسے آپ کوئی دوائی زہرمار کر رہے ہوں، نہیں جناب ایسے نہیں چلے گا میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ان سے اچھے، بہتر اور اعلٰی معیار کے برانڈز مارکیٹ میں لائیں نہ کہ ایسے برانڈز جنہیں ایک بار خریدنے کے بعد کسٹومر دوبارہ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔
ڈیو کی مثال آپکے سامنے ہے گو کہ یہ ایک بڑی کپمنی پیپسی کا مشروب کا ہے لیکن اپنے بہتر معیار کی وجہ سے یہ آئی اور چھا گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی پراڈکٹ مناسب قیمت اور اپنے اعلٰی معیار کی وجہ سے مشہور عام ہوتی ہے نہ کہ صرف قیمت میں کمی کی وجہ سے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو

Posted on 01/07/2006. Filed under: سیاست |

پچھلے دنوں تقریبا تمام قومی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق نیب نے سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثوں کے بارے میں غلط گوشوارے داخل کرنے کے الزام میں استغاثہ دائر کیا تھا جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے سابق وزیراعظم اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں اور وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ انٹرپول کے ذریعے انہیں گرفتار کرکے تین جولائی تک عدالت میں پیش کیا جائے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو پہلے ہی درجنوں مقدموں میں ملوث کیا گیا ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح ان سب مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں، اب وہ اس نئے وارنٹ کا مقابلہ بھی کر لیں گے، مگر سوچنے والی بات یہ ہے کیا پوری کابینہ میں سے صرف یہ دو ہی گوشوارے غلط داخل کئے گئے تھے؟ اور اگر بہت سے دوسرے امیدوارں نے بھی غلط گوشوارے داخل کرائے تھے تو پھر ان کا کیا بنا؟
ان کے بارے میں عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟
ان کے وارنٹ جاری کیوں نہیں کئے گئے؟
کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ حکومت ‘میثاق جمہوریت‘ کے خوف میں مبتلا ہو کر یہ سب کر رہی ہے ورنہ سیکڑوں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے گوشواروں کی تفصیلات مختلف قومی اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں اور ان گوشواروں میں ایسے ایسے ہوشربا انکشافات کئے گئے ہیں کہ ‘خامہ انگشت بدندان‘ ہے کہ اسے کیا کہئے۔ ان گوشواروں سے ان بیچاروں پر ترس آنے لگتا ہے اور خود پر فخر کہ ہم اتنے امیر کبیر ہیں اور ان سے لاکھ درجے بہتر ہیں، یہ بیچارے غریب غرباء نہ جانے اتنی کم آمدنی میں کیسے گزارہ کرتے ہوں گے نہ تو ان بیچاروں کے پاس اپنا مکان ہے اور نہ اپنی گاڑی۔ سچی بات تو یہ کہ ان گوشواروں کر دیکھنے کے بعد تو انہیں زکوا ة دینے کو دل کرتا ہے۔
مگر حقیقت سب پر عیاں ہے، اصل میں یہاں کی گنگا ہی الٹی ہے، مجرم وہی جو پکڑا جائے۔ سوال وہی کہ کیا ان تمام گوشواروں کو نیب نے درست تسلیم کر لئے ہیں؟
اگر نہیں تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
اصل میں قانون کو ہمارے ہاں کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا۔ اسے مذاق بنا دیا گیا مگر مذاق کی بھی ایک حد ہونی چاہئے۔
بقول ارشاد احمد حقانی صاحب کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایسی باتیں نہ کوئی سنتا ہے، نہ ان پر عمل کرتا ہے، نہ ان سے سبق سیکھتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...