بونٹ بند

Posted on 18/07/2006. Filed under: طنز و مزاح |

٥٥ برس کی

کینڈا میں ایک شخص ایک نوجوان کا انٹرویو لے رہا تھا جو ان کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا تھا۔ نوجوان کے ضروری کوائف حاصل کرنے کے بعد اس شخص نے اسے مطلع کیا۔

‘میری تین بیٹیاں ہیں اور میں چاہوں گا کہ جب وہ یہاں سے بیاہ کر جائیں تو خوشحال زندگی گزرایں۔ اس مقصد کے لئے میں نے اپنے دامادوں کو تحفے میں دینے کے خاطر کچھ رقم مختص کر رکھی ہے۔ میری چھوٹی بیٹی جو ٢٥ سال کی ہے، جو اس سے شادی کرے گا اسے تحفے میں پانچ ہزار ڈالرز ملیں گے۔ دوسری جو ٣٥ سال کی ہے، جو اس سے شادی کرے گا اسے دس ہزار ڈالرز ملیں گے۔ تیسری جو ٤٥ سال کی ہے، اسے جو اپنائے گا اسے بیس ہزار ڈالرز ملیں گے۔ اب انتخاب تم کو کرنا ہے‘

نوجوان نے للچا دینے والا بیان سن کر خلا میں گھورنے لگا۔

‘بڑے میاں نے اس سے پوچھا۔ ‘کیا سوچ رہے ہو؟‘

نوجوان نے جواب دیا۔ ‘سر! میں سوچ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔آپ کے ہاں کوئی ٥٥ برس کی نہیں ہو گی؟‘

 

 

 

وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے۔۔

ایک عورت کو فیشن کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ اس نے کانوں میں پہننے کے لئے سونے کی بھاری وزن کی بالیاں بنوائیں اور پورے محلے کو دکھاتی پھرتی رہی۔ ‘بہن رضیہ دیکھو میں نے سونے کی بالیاں بنوائی ہیں۔‘

‘اچھی ہیں۔‘ رضیہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

اس عورت کو تسلی بخش توصیفی جواب نہ ملا تو وہ پریشان ہوئی، جسے وہ سونے کیا بالیاں دکھاتی تو کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرتا۔ رات بھر وہ اسی پریشانی میں رہی کہ میں نے اتنی رقم سے سونے کی بالیاں بنوائی ہیں لیکن کسی نے بھی تعریف نہیں کی۔ حتٰی کہ بعض نے دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی، صبح ہوئی تو اس نے پورے گھر کو مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی اور خود صحن میں چارپائی پر بیٹھ کر بین کرنے لگی۔

کچھ ہی دیر بعد پورا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ محلے کی عورتیں آئی اور ہمدردی جتانے لگیں۔ ایک نے کہا ‘بہن تمھارا سارا مکان جل گیا ہے تمھاری کوئی چیز بھی نہیں بچی؟‘

اس پر اس عورت نے ٹھنڈی آہ بھری اور کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ‘بس یہ سونے کی بالیاں بچی ہیں۔‘

 

 

 

وجہ تسمیہ

آپریشن کے بعد ہوش میں آنے پر ادھیڑ عمر مریض نے نرس سے کہا۔ ‘ابھی تھوڑی دیر پہلے میرا خیال تھا کہ میں مر چکا ہوں، مگر کچھ غور کرنے پر مجھے پتا چلا کہ میں زندہ ہوں۔‘

‘آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں؟‘ نرس نے پوچھا۔

‘مجھے اپنے پیر یخ محسوس ہورہے تھے‘ مریض نے جواب دیا۔ ‘میں نے سوچا کہ اگر میں جہنم میں ہوں تو میرے پاؤں ٹھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی تو میں نے سوچا کہ بیوی یہاں موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں جنت میں بھی نہیں ہوں۔ بس ثابت ہوا کہ میں زندہ ہوں۔‘

 

 

 

 

 

ہائے انگریزی

برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلئیر نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ‘Tomorrow‘ کے سپیلنگ آج تک نہیں آئے۔ ٹونی کا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ انگریزوں کی بھی انگریزی نہیں آتی۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ ‘ٹونی صاحب صرف‘آج‘ پر نظر رکھتے ہیں اس لئے انہیں ‘Tomorrow‘ یاد نہیں رہتا۔‘ میں نے میاں صاحب سے پوچھا کہ ‘Tomorrow‘ تو کل کو کہتے ہیں ۔۔۔ ‘پرسوں‘ کو کیا کہتے ہیں؟‘

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولے ‘Tomorrow کے اوپر ایک اور مارو‘

انگریزی بولنے میں بعض لوگ بڑی مہارت رکھتے ہیں، اپنے خان صاحب کی مثال سامنے ہے، ایسی ایسی انگریزی بناتے ہیں کہ بعد خود بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی انگریزی کے چند نمونے ملاحظہ کیجیئے۔

 

سینما پر فلم چل رہی ہے ۔۔۔Film is walking on the cinima

وہ بڑے دل گردے کا آدمی ہے ۔۔۔ He is a man of big heart and kidney

بل پر تاریخ ڈالو ۔۔۔ Put the history on the bill

وہ الو کا پٹھا ہے ۔۔۔ He is muscle of owl

مزا آ گیا ۔۔۔ The Taste has come

سردا ۔۔۔ Colda

گرما ۔۔۔ Hota

وہ میری نواسی ہے ۔۔۔ She is my 89

جاپانی (جا۔۔۔پانی) ۔۔۔ Go water

چینی بہت خوبصورت ہوتے ہیں ۔۔۔ suggers are very beautifull

عورت، مرد اور ہیجڑا ۔۔۔ He. She. It

میرا سر نہ کھاؤ ۔۔۔ Dont eat my head

سرخرو (سرخ روح) ۔۔۔ Red spirit

میری بیوی آپ کے لئے پانی بنا رہی ہے ۔۔۔ My wife is making water for you

لالو کھیت ۔۔۔ Lalu Field

بھائی پھیرو ۔۔۔ Brothers Circle

خوف ناک ۔۔۔ Afraid nose

وہ ایک میراثی ہے ۔۔۔ He is a singer

میری بیوی مجھے روزانہ دو انڈے دیتی ہے ۔۔۔ My wife is laying me two eggs daily

جا ۔۔۔۔ جاوے جا، جھوٹیا ۔۔۔ Go, Go and go lier

جان شیر ۔۔۔ Life Lion

آگ کا راستہ ۔۔۔ Nor way

دروازہ مارو ۔۔۔ Kill the door

 

 

 

مہنگا دماغ

لندن کی ایک دکان میں مختلف قوموں کے افراد کے دماغ فروخت ہوتے تھے، ایک سردار جی وہاں جا پہنچے اور مسلمان کے دماغ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ ‘کتنے کا ہے؟‘

‘سو پاؤنڈ کا‘ جواب آیا۔

پھر پوچھا ‘یہ عیسائی کا دماغ کتنے کا ہے؟‘

جواب ملا ‘دو سو پاؤنڈ کا‘

اب سردار جی پوچھا ‘اچھا تو یہ سکھ کا دماغ کتنا قیمتی ہے؟‘

دکاندار نے کہا ‘دو ہزار پاؤنڈ کا۔‘

سردار کے دماغ کی اتنی قیمت سن کر سردار جی بہت خوش ہوئے۔ فخر کے احساسات کو چھپاتے ہوئے بولے۔

‘سکھ کا دماغ اتنا قیمتی کیوں؟‘

جواب ملا۔ ‘ایک مسلمان کے دماغ کے چار دماغ بن جاتے ہیں، لیکن بیس سکھوں کی کھوپریوں سے ایک دماغ بمشکل بنتا ہے، اس لئے یہ اتنا مہنگا ہے۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: