Archive for اگست, 2006

پاکستانی بمقابلہ امریکن لورز

Posted on 23/08/2006. Filed under: طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

واسطے جس شہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا

Posted on 22/08/2006. Filed under: اسلام, شعروادب |

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یارب یہ درِ گنجینہٴ گوہر کھلا

 

شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا

 

اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا

 

گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب

 

آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا

 

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید

 

پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

 

ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال

 

خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

 

منہ نہ کھلنے پر وہ عالم ہے کہ دیکھا ہی نہیں

 

زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا

 

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا

 

جتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا

 

کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول

 

آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدہٴ اختر کھلا

 

کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال

 

نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

 

اس کی امت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند

 

واسطے جس شہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

یوم آزادی مبارک

Posted on 14/08/2006. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

آج یوم آزادی ہے جس کی خوشی میں ہر متحرک شے پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے، ہر چہرے پر ایک عزم ہے، پیشانیاں تمتما رہی ہیں۔ بائیسکل، گدھا گاڑی، تانگہ، رکشہ، موٹرسائیکل، نئی ماڈل کی کاریں، پرانی گاڑیاں، پک اپ وین، بسیں، ٹرک، آئل ٹینکر، واٹر ٹینکر سب پر سبز ہلالی پرچم ایک وقار سے بلند ہے۔
پاکستانی چوک، کمیٹی گولائی، گھنٹہ گھر، پتھربازار، کلمہ چوک، ٹریفک چوک، سٹی پارک، شمال سے جنوب، جنوب سے شمال، کچی بستیوں سے امراء کے محلوں تک آزادی کے قافلے روان دواں ہیں۔ آج کوئی امتیاز نہیں ہے، امیر غریب میں، جوان بزرگ میں، مالک ملازم میں، بے کار اور برسرروزگار میں سب ١٤ اگست ١٩٤٧ کو ملنی والی آزادی پر اپنی مسرت کا اظہار کرنے نکلے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں یہی سماں ہے، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بھی یہی عالم ہے، ملتان، بہاولپور، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، لاڑکانہ، مردان، مانسہرہ، دیر، سوات، نوشہرہ، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، مظفرآباد، میرپور، قلات، دالبندین، اٹک، تھرپارکر اور دیگر تمام شہروں سے بھی یہی خبریں آ رہی ہیں۔
گھروں پر چاند تارے سے مزین پرچم لہرا رہے ہیں، نوجوان بائیسکلوں کو ایک پہیے پر اٹھا رہے ہیں، موٹر سائیکلوں کی طاقت سے کھیلا جا رہا ہے، ون وہیلنگ کا لطف اٹھایا جا رہا ہے۔ کلین شیو نوجوان بھی ہیں، داڑھیوں والے بھی، ٹوپیوں والے ہیں پگڑیوں والے بھی، شرٹ اور جینز میں بھی، جناح کیپ میں شیروانیوں میں بھی، ننھے منے بچے بھی اس شناخت کے ساتھ بہت خوش ہیں۔ لڑکے بھی ہیں، نوجوان بھی، مائیں بھی بہنیں بھی، حجاب میں مطمین، کھلے بالوں والی بھی، سرتاپا مستور بھی، شرٹ جینز والی بھی، وہ بزرگ بھی جنہوں پاکستان بنتے دیکھا ہے پھر سارے بحرانوں کو طوفانوں کو بپھرتے اترتے، المیوں کو ابھرتے، پانی کو سروں سے گزرتے، جمہوریت کو آتے جاتے، مارشل لا کو مسلط ہوتے، ختم ہوتے دیکھا ہے اور اب نیم مارشل لا کی گود میں پلنے والی روشن خیال حکومت بھی دیکھ رہے ہیں۔
ہزاروں ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر اپنی عقیدتیں نچھاور کرنے پہنچے ہیں، سیکڑوں علامہ اقبال کی آخری آرام گاہ پر اظہار عقیدت کے لئے موجود ہیں، کچھ مینار پاکستان کی عظمتوں کو سلام کر رہے ہیں۔
١٤ اگست کی صبح پورا پاکستان مبارک بادوں کی آوازوں سے گونج اٹھا، یوم آزادی کا سورج طلوع ہوا تو فون کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
السلام علیکم، یوم آزادی مبارک
ایس ایم ایس ہو رہے ہیں۔ جشن آزادی مبارک
ای میل ہو رہی ہیں۔ ہیپی انڈپنیڈس ڈے
اس بار تو اکثر سرکاری و کاروباری ادروں نے مبارک دینے کے لئے عید کارڈوں کی طرح یوم آزادی مبارک والے کارڈز بھیجے ہیں۔
ایک بڑی تعداد نے اللہ تعالٰی کے حضور شکرانے کے دو نوافل بھی ادا کئے ہیں۔ صبح کی نماز کے بعد مسجدوں میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں ‘ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، ہمیں سیدھی راہ دکھا، یا اللہ پاکستان تیرے ہی نام پر بنا ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما، اسے دشمنوں کی میلی نظر سے بچا، اسے صدا شاد و آباد رکھ ۔۔۔۔ آمین‘ خالق حقیقی یقینا مخلوق کی فریاد سنتا ہے، دلوں سے اٹھنے والی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔گرجا گھروں، مندروں اور گردواروں میں بھی رونقیں ہیں، اقلیتیں اپنی سلامتی اور تحفظ پر مسرت کا اظہار کر رہی ہیں۔
بازاروں، شاپنگ سنٹرز میں بھی اسی طرح ہجوم ہے، کاروباری برادری نے اپنے ہموطنوں کو متوجہ کرنے، ان کے دل بہلانے کے لئے نئے نئے طریقے اختیار کئے ہیں، مارکیٹیں سجائی گئی ہیں، دیو ہیکل غبارے پھلائے گئے ہیں۔ تفریح گاہوں میں بھی رنگ بکھرے ہوئے ہیں، سیکڑوں خاندان اپنے چھوٹوں اور بڑوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آڈیو کیسٹوں سے ملی ترانے بلند ہو رہے ہیں۔ بہت سے خاندان صوفیائے کرام کی درگاہوں پر حاضری دے رہے ہیں۔ پیر ملاقائد شاہ، پیرعادل، سخی سرور، خواجہ سلیمان تونسوی، خواجہ فرید، رکن شاہ عالم، پیر بخاری، داتا گنج بخش، عبداللہ شاہ غازی، شاہ لطیف، شہباز قلندر، سلطان باہو، بلھے شاہ، بابا فرید الدین گنج شکر کے مزاروں پر چادریں چڑھائی جا رہی ہیں، اللہ کے ان برگزیدہ بندوں، اولیائے کرام، صوفیاء مشائخ عظام کے محبت بھرے کلام سے ہی اسلام کی روشنی برصغیر پاک و ہند تک پہنچی ہے۔
فنکار اپنے فن، گلوکار اپنی آوازوں سے وطن سے وابستگی اور عقیدت ظاہر کر رہے ہیں۔ شعرائے کرام مشاعروں میں وطن کے حضور خراج پیش کر رہے ہیں۔یہ دن سب کا دن ہے۔ سب اپنے جذبات کے اظہار میں پیش پیش ہیں۔ ان میں ہر عمر، ہر طبقے، ہر رنگ، ہر نسل، کے لوگ ہیں۔ یہ آج کوئی شکایت نہیں کر رہے، کوئی مطالبہ نہیں کر رہے، کوئی باعث نہیں کر رہے، کسی سے کوئی اختلاف نہیں کر رہے۔ صرف اور صرف اپنے وطن، اپنے پاکستان سے الفت، وابستگی اور اپنی آزادی کی نعمت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ آج پاکستان سب سے پہلے ہے، سب کی مسرتوں، آرزوؤں، امنگوں، تمناؤں، عزائم، ارادوں، خواہشوں، چاہتوں کا محور ہے۔
یہی ہے وہ خاموش اکثریت جو نہ چیختی ہے نہ چلاتی ہے، نہ بڑبڑاتی ہے۔ اللہ تعالٰی کے طرف سے دئیے گئے سب سے برے تحفے آزاد پاکستان سے اپنے مشن اور محبت کا اظہار اتنا مکمل اور کھل کر کرتی ہے کہ پورا پاکستان بول اٹھتا ہے

یوم آزادی مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

Posted on 12/08/2006. Filed under: پاکستان, شعروادب |

بزرگوں نے غلامی کی فضا تبدیل فرمائی
اساس حریت پر ملک کی تشکیل فرمائی
ہمیں اب کام کرنا اور بلا تاخیر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے
ہمیں اس خاک کو ہر حسن، ہر زیبائی دینی ہے
اسے چہرہ، اسے بازو، اسے گیرائی دینی ہے
ہزاروں خواب ایسے ہیں، جنہیں تعمیر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

جبین شب پہ صبحِ نور کا جھومر سجانا ہے
سیہ رُو ظلمتوں کے بطن سے سورج اگانا ہے
سبھی تاریکیوں کو صاحب تنویر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

شجر پر برگ، شاخوں پر گُل شاداب رکھنے ہیں
کفِ کشت و چمن پر کوکب و مہتاب رکھنے ہیں
زمیں پر اک منور آسماں تحریر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

ہمیں تیشہ چلانا، اپنی ہمت آزمانی ہے
ہر اک کہسار کے باطن سے جُوئے شِیر لانی ہے
ہر اک تقدیر کو وابستہ تدبیر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

یہاں ہم خیر کا چہرہ سنواریں گے نکھاریں گے
یہاں نیکی کا ہم ایک ایک خدوخال ابھاریں گے
بدی کے ایک اک کردار کو زنجیر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

وطن کو ہر شرف، ہر آبرو، ہر ناز بخشیں گے
غرض حسنِ عمل سے سینکڑوں اعزاز بخشیں گے
صنفِ عالم میں اس کو صاحب توقیر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

ہزاروں رفعتیں قدموں میں اس کے ڈھیر کر دیں گے
مسخر کر کے مہر و ماہ دامن اس کا بھر دیں گے
مگر پہلے تو اپنے آپ کو تسخیر کرنا ہے
ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے
ڈاکٹر عاصی کرنالی

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

جمعہ کا خطبہ سرکاری طور پر لکھ کر دینے پر غور

Posted on 08/08/2006. Filed under: پاکستان, اسلام, طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کیا آپ غور فرمائیں گے؟

Posted on 01/08/2006. Filed under: پاکستان, اسلام |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...