Archive for ستمبر, 2006

عنوان دیجیئے

Posted on 26/09/2006. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

رمضان مبارک

Posted on 25/09/2006. Filed under: اسلام |

 

تمام اہلِ اسلام اور اہل پاکستان کو ماہ رمضان المبارک کی برکتیں اور رحمتیں مبارک ہوں۔آمین

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کچھ پالیسیاں پاکستان کے مفاد کے خلاف بھی

Posted on 23/09/2006. Filed under: پاکستان, سیاست |

پاکستان پوری دنیا میں واحد ایک ایسا ملک ہے جہاں کے حکمرانوں میں وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، ہمارے یہ حکمران سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد تو اس محبت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نائن الیون کے بعد صدر بش نے فون کیا اور اپنے مطالبات پیش کیے، بش انتظامیہ کو یہ غلط فہمی تھی کہ ان مطالبات میں سے کچھ مانے جائیں گے مگر ہمارے حکمرانوں کی حب الوطنی اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ ان کو رد کریں لہذا پاکستان کے بہترین مفاد میں سب مطالبات مان لئے گئے۔
نائن الیون کی رات سو کر اٹھے تو صبح پتہ چلا کہ روس کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں کرنے والے مجاہدیں دہشت گرد ہیں، چونکہ ہمارے حکمرانوں نے تو کبھی اپنے ذاتی نفع نقصان کا تو سوچا ہی نہیں، اپنے ذاتی مفاد کو ہمیشہ قومی مفاد پر ترجیح دی اس لئے ہمیشہ ہر فیصلہ پاکستان کے بہترین مفاد میں کیا کیونکہ “ سب سے پہلے پاکستان “
ایک منتخب وزیراعظم کو جلا وطن کر دیا گیا، اپنے ہی نامزد کردہ وزیراعظم کو واپس گھر بھیج دیا گیا، چند دنوں کے لئے ایک وزیراعظم کو منتخب کر کے پھر اس کی جگہ ایک اور وزیراعظم کو لایا گیا۔ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا، افراط زر کی شرح میں بے پناہ اضافہ کیا گیا، اسرائیل سے رابطہ کیا گیا، یہودیوں کی سب سے بڑی تنظیم سے خطاب کیا گیا، ابھی کچھ دن پہلے یہ نسخہ کیمیا بتایا گیا کہ “ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا آپ کو کیینڈا کا ویزا اور شہریت چاہیے اور آپ کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں تو خود کو ریپ کروالیں“ یہ سب بھی پاکستان کے بہترین قومی مفاد میں کہا گیا، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے صدر صاحب کے ذہن کی عکاسی ہے یا متذکرہ تمام فیصلوں میں کسی کا کوئی ذاتی مفاد تھا تو یہ اس کی بدگمانی اور ند نیتی ہے۔ یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ بہت کچھ صرف اور صرف قومی مفاد میں کیا گیا اور اللہ جانے یہ سلسلہ کب تک اور کتنا دراز ہو گا۔ سو اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد اور مدعا صرف اتنا ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں آپ کی پالیسیاں تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں اب خدارا کچھ مشورے، کچھ فیصلے، کچھ پالیسیاں ایسی بھی بنائیں جو ملک کے مفاد میں نہ ہو، ایسی پالیسیاں بنائیں جو پاکستان کے خلاف ہوں، مگر افسوس صد افسوس کہ میری یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ ہمارے حکمران تو ملک کی محبت میں اندھے ہو چکے ہیں اور یہ کبھی بھی اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دیں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

تاج محل

Posted on 22/09/2006. Filed under: شعروادب |

تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیء رنگیں سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟

ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟

میری محبوب پس پردہ تشہیرِ وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا

مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے

لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں

سینہء دہر کے ناسور میں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی!
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل

ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ، یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

ساحر لدھیانوی

——————

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
کون کہتا ہے غریبوں کا اڑایا ہے مذاق
وہ کسی اور کی تضحیک کرے گا کیسے
جو کہ ہے بے چارا ہو خود کشتئہِ پیکانِ فراق

جس کے ارمان لٹے ، جس کی امیدیں ٹوٹیں
جس کے گلشن کا حسیں پھول اجل نے توڑا
موت کے سامنے جو بے بس و لاچار ہوا
جس کے ساتھی نے بھری دنیا میں تنہا چھوڑا

جسکا ہمدرد نہ مونس نہ کوئی ہمدم تھا
ایسے بے مایہ تہی دست سے جلتے کیوں ہو
اسکی ہستی تو کسی رشک کے قابل ہی نہ تھی
یونہی ان کانٹوں بھری راہوں پہ چلتے کیوں ہو

عمر بھر اسکو تو تسکین کی دولت نہ ملی
یوں تو کہنے کو اسے کہتے ہیں سب شاہِ جہاں
اسکے اندر بھی کبھی جھانک کے دیکھا تم نے
اسکی دنیا تھی کہ رِستے ہوئے زخموں کا جہاں

جب زمانے میں نہ اسکو کوئی غمخوار ملا
اس نے مر مر کو ہی ہمراز بنانا چاہا
اہلِ دنیا سے نہ ھب اس نے محبت پائی
اس نے پھر گمشدہ چاہت کو ہی پانا چاہا

تھا یہ تنہائی کا احساس ہی اسکے جس نے
سنگِ مرمر کا حسیں ڈھیر لگا ڈالا تھا
ناگ تنہائی کے ڈستے رہے اس کو آ کر
وہ کہ جو پیار کا شیدائی تھا دل والا تھا

اصل شئے جذبہ ہے ،گو وہ کسی سانچے میں ڈھلے
تاج کیا ہے ؟ یہ فقط پیار کا اظہار تو ہے
سنگِ مر مر کی زباں میں یہ کہا تھا اس نے
تُو نہیں آج مگر زندہ تیرا پیار تو ہے

تاج اک جذبہ ہے پھر جذبے سے نفرت کیسی
یاں تو ہر دل میں کئی تاج محل ہیں موجود
تاج اک سوئے ہوئے پیار کا ہی نام نہیں
یہ وہ دنیا ہے نہیں جس کی فضائیں محدود

تاج اک ماں کی محبت ہے بہن کا دل بھی
باپ کا بیٹے کا، بھائی کا حسیں پیار بھی ہے
تاج اک دوست کا بے لوث پیامِ اخلاص
تاج عشق بھی ہے، معشوق بھی دلدار بھی ہے

اس سے بڑھ کر بھی حسیں ہوتے ہیں شہکار یہاں
تاج کو دیکھ کے تُو اے دلِ مضطر نہ مچل
ماں کے دل سے تو ہمیشہ یہ صدا آتی ہے
میرے بچے پہ ہوں قربان کئی تاج محل

صاحبزادی امتہ القدوس بیگم

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن

Posted on 17/09/2006. Filed under: دنیا بھر سے | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

پاپائے روم بینیڈکٹ نے مسلمانوں کی طرف سے ان کے بارہ ستمبر کے بیان پر ناراضگی کے بعد افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاپائے روم کے بیان کا متن۔

پیارے بہنو اور بھائیو،
لوگوں کے نجی معاملات میں مدد کے حوالے سے حال ہی میں بواریا کا میرا دورہ طاقتور روحانی تجربہ تھا جس میں جانی پہچانی جگہوں سے اور مقدس پیغام کے مؤثر اظہار کے لیئے شروع کیئے جانے والے لوگوں کی فلاح کے منصوبوں سے وابستہ یادیں شامل تھیں۔

میں اندرونی خوشی کے لیئے خدا کا شکر گزار ہوں اور میں ان لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پیسٹورل دورے (لوگوں کی نجی زندگی میں مدد کے لیئے کئے جانے والے کام) میں میری مدد کی۔

اس دورے کے بارے میں مزید بات چیت روایت کے مطابق آئندہ بدھ کو ہونے والے جلسۂ عام میں ہوگی۔

اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ مجھے جرمنی میں دیئے گئے اپنے بیان کے کچھ حصوں پر، جو مسلمانوں کو برے لگے تھے، چند ممالک میں ہونے والے رد عمل پر بہت افسوس ہے۔

وہ دراصل قرون وسطیٰ کی ایک دستاویز سے لیئے گئے تھے اور میرے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔

کل خارجہ امور کے نگران نے اس کے بارے میں ایک بیان جاری کیا تھا میرے بیان کا صحیح مفہوم سمجھایا گیا تھا۔

میں امید کرتا ہوں کہ اس سے بے چینی ختم ہوگی اور میرے بیان کا درست مطلب واضح ہوگا جو باہمی احترام کے ساتھ بلا تکلف اور مخلصانہ مکالمے کی دعوت ہے۔

اس سے پہلے ویٹیکن میں خارجہ امور کے نگران تارسیسیو بیرٹونے نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں پاپائے روم بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کی ایک تقریر جس میں انہوں نے اسلام کا حوالہ دیا تھا مسلمانوں کو بری لگی ہے۔

مسلمانوں کی جانب سے مقدس باپ کی جامعۂ رجینزبرگ میں تقریر کے کچھ حِصّوں پر اعتراض اور ’ہولی سی‘ کے پریس آفس کے ناظم کی طرف سے جاری کی گئی وضاحت میں مندرجہ ذیل اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

اسلام کے بارے میں پاپائے روم کا مؤقف وہی ہے جو کلیسا کے غیر عیسائی مذاہب کے ساتھ روابط کے بارے میں اعلامیے میں بیان کیا گیا ہے۔

’کلیسا مسلمانوں کو بھی تقریم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ اس ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کا محتاج نہیں، مہربان اور قدرت والا ہے، آسمان اور زمین کا خالق ہے، جو انسان سے مخاطب ہوا، وہ(مسلمان) اس کے مشکل ترین احکامات کی بجا آوری میں ہر تکلیف برداشت کرتے ہیں جیسا کہ ابراہیم نے کیا تھا جس کے ساتھ مذہبِ اسلام اپنا ناطہ جوڑے جانے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔

وہ عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے لیکن اس کا بحیثیت پیغمبر احترام کرتے ہیں۔ وہ مریم کو بھی بلند مقام دیتے ہیں اور بعض اوقات ان سے عقیدت کے ساتھ رجوع بھی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا آخرت پر ایمان ہے جب خدا مردوں کو زندہ کر کے ان کے میدانوں میں کھڑا کر دے گا۔

آخر میں وہ اچھی زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں خاص طور پر دعا، خیرات اور روزے کے ذریعے‘۔

پاپائے روم کی بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے بارے میں سوچ میں کوئی شک و شبہہ نہیں۔

انہوں نے جرمنی کے شہر کولون میں بیس اگست سن دو ہزار پانچ میں مسلمانوں سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے کو ممکنات کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

’ماضی کے تجربات یقیناً ہمیں غلطیوں دہرانے سے روک سکتے ہیں۔ ہمیں صُلح کے راستے تلاش کرنے چاہیں اور ایک دوسرے کی شناخت کو قبول کرتے ہوئے باہمی احترام کے ساتھ جینا چاہیے‘۔

جہاں تک بازنتینی بادشاہ مینویل دوئم کے ان خیالات کا تعلق ہے، جن کا حوالہ انہوں نے ریجنزبرگ میں دیا تھا، پاپائے روم کا ان کو کسی بھی طرح نہ اپنانے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ان کی بات کا یہ مطلب تھا۔

ان کا یہ حوالہ دینے کا مقصد صرف تعلیمی تناظر میں مذہب اور تشدد کے درمیان تعلق کے موضوع پر عمومی طور پر کچھ خیالات کا جائزہ لینا اور سختی سے اس سوچ کو مسترد کرنا تھا کہ مذہب میں تشدد کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ ان کے بیان کے مکمل متن کے بغور مطالعے سے واضح ہے۔

اس موقع پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاپائے روم نے حال ہی میں اپنے پیش رو کی طرف سے شروع کیئے جانے والے امن کے بین المذاہبی دعائیہ اجلاس کی بیسویں برسی کے موقع پر کہا تھا کہ ’۔۔۔۔تشدد کی وجہ مذہب نہیں بیان کی جا سکتی بلکہ یہ ان ثقافتی حدوں کا نتیجہ ہے جن میں اس پر عمل ہوتا ہے اور جن میں یہ پنپتا ہے۔۔۔۔۔در حقیقت خدا کے ساتھ رشتہ اور اخلاقیاتِ محبت میں تعلق کی تمام عظیم مذہبی روایات سے تصدیق ہوتی ہے‘۔

مقدس باپ پس مخلصی کے ساتھ معذرت خواہ ہیں کہ ان کے بیان کے کچھ حصے مسلمانوں کو برے لگے ہوں گے اور ان کا ایسا مطلب نکالا گیا جو کسی بھی طرح ان کا ارادہ نہیں تھا۔

اور یہ پاپائے روم ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے مشتعل ہونے سے پہلے سیکولر مغربی ثقافت کو متنبہ کیا تھا کہ ’خدا کی توہین‘ اور آزادی اظہار کے ایسے خبط سے باز رہیں جو مقدس چیزوں کی تضحیک کو جائز سمجھتا ہو۔

پاپائے روم نے اسلام کے ماننے والوں کے لیئے اپنے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان کے الفاظ کا درست مطلب سمجھ سکیں گے تاکہ موجودہ بے چینی کو پیچھے چھوڑ کر ’انسان سے مخاطب ہونے والے آسمان اور زمین کے خالق‘ کی گواہی دی جا سکے اور ’مِل کر تمام انسانیت کے لیئے انصاف اور اخلاقی بہبود اور امن اور آزادی‘ کے لیئے کوششیں تیز کی جا سکیں۔ بشکریہ بی بی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کل اور آج

Posted on 14/09/2006. Filed under: تاریخ |

1980
لڑکی۔ ماں میں جینز پہنو گی!
ماں۔ نہیں بیٹی لوگ کیا کہیں گے!

2006
لڑکی۔ ماں میں منی سکرٹ پہنو گی!
ماں۔ پہن لے بیٹی کچھ تو پہن لے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آخری نشانہ

Posted on 07/09/2006. Filed under: طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...