تاج محل

Posted on 22/09/2006. Filed under: شعروادب |

تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیء رنگیں سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟

ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟

میری محبوب پس پردہ تشہیرِ وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا

مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے

لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں

سینہء دہر کے ناسور میں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی!
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل

ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ، یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

ساحر لدھیانوی

——————

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
کون کہتا ہے غریبوں کا اڑایا ہے مذاق
وہ کسی اور کی تضحیک کرے گا کیسے
جو کہ ہے بے چارا ہو خود کشتئہِ پیکانِ فراق

جس کے ارمان لٹے ، جس کی امیدیں ٹوٹیں
جس کے گلشن کا حسیں پھول اجل نے توڑا
موت کے سامنے جو بے بس و لاچار ہوا
جس کے ساتھی نے بھری دنیا میں تنہا چھوڑا

جسکا ہمدرد نہ مونس نہ کوئی ہمدم تھا
ایسے بے مایہ تہی دست سے جلتے کیوں ہو
اسکی ہستی تو کسی رشک کے قابل ہی نہ تھی
یونہی ان کانٹوں بھری راہوں پہ چلتے کیوں ہو

عمر بھر اسکو تو تسکین کی دولت نہ ملی
یوں تو کہنے کو اسے کہتے ہیں سب شاہِ جہاں
اسکے اندر بھی کبھی جھانک کے دیکھا تم نے
اسکی دنیا تھی کہ رِستے ہوئے زخموں کا جہاں

جب زمانے میں نہ اسکو کوئی غمخوار ملا
اس نے مر مر کو ہی ہمراز بنانا چاہا
اہلِ دنیا سے نہ ھب اس نے محبت پائی
اس نے پھر گمشدہ چاہت کو ہی پانا چاہا

تھا یہ تنہائی کا احساس ہی اسکے جس نے
سنگِ مرمر کا حسیں ڈھیر لگا ڈالا تھا
ناگ تنہائی کے ڈستے رہے اس کو آ کر
وہ کہ جو پیار کا شیدائی تھا دل والا تھا

اصل شئے جذبہ ہے ،گو وہ کسی سانچے میں ڈھلے
تاج کیا ہے ؟ یہ فقط پیار کا اظہار تو ہے
سنگِ مر مر کی زباں میں یہ کہا تھا اس نے
تُو نہیں آج مگر زندہ تیرا پیار تو ہے

تاج اک جذبہ ہے پھر جذبے سے نفرت کیسی
یاں تو ہر دل میں کئی تاج محل ہیں موجود
تاج اک سوئے ہوئے پیار کا ہی نام نہیں
یہ وہ دنیا ہے نہیں جس کی فضائیں محدود

تاج اک ماں کی محبت ہے بہن کا دل بھی
باپ کا بیٹے کا، بھائی کا حسیں پیار بھی ہے
تاج اک دوست کا بے لوث پیامِ اخلاص
تاج عشق بھی ہے، معشوق بھی دلدار بھی ہے

اس سے بڑھ کر بھی حسیں ہوتے ہیں شہکار یہاں
تاج کو دیکھ کے تُو اے دلِ مضطر نہ مچل
ماں کے دل سے تو ہمیشہ یہ صدا آتی ہے
میرے بچے پہ ہوں قربان کئی تاج محل

صاحبزادی امتہ القدوس بیگم

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: