Archive for اکتوبر, 2006

عید ملنا

Posted on 31/10/2006. Filed under: پاکستان, اسلام, طنز و مزاح | ٹيگز:, , , |

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا، اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللّہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچّے اتنے تھے کے بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا سکول میں آگیا ہے۔ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچّے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں 500 گیلن پانی بھرتے اور سات دن میں 550 گیلن نکالتے۔وہ مجھے بھی اپنے بچّوں کی طرح سمجھتے یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچّوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حلانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کے مسلمان بچّے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ایک روز ہم لڑ رہے ھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچّوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔
” کیوں لڑ رہے ہو ”
ہم چپ ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ” چلو گلے لگ کر صلح کرو "۔ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے لوگوں کو عید ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔
عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔پہلی بار انسان اس دن گلے ملا، جب خُدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔
ہمارے یہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عید ملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔
عید کے دن خوشبو لگا کر عیدگاہ کا رُخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آرہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگا کر جاتا ہوں۔عید مل مل کر وہی حال ہو جاتا ہے جو سو میٹر کی ھرڈل جیتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر کہتے ہیں
” جی ! کس سے ملنا ہے ”
سیاستدان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پہ نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے وہ عید مل کر آگے بڑھتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرضِ نسیان کا علاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا
” اب تو نہیں بھولتے آپ ”
” بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور کیوں پوچھ رہے ہیں ”
وہ سابق گورنر بھی عید پر معززیں سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا سو واپس لوٹ آیا۔
شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی دونوں موقعوں پرشعر کہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لئے شاعر عید ملنے کے لئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھاپائی ہے۔
بچّے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لئے ان کو عیدی ملنا ان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہو کر عید ملتی ہیں، لیکن جہان چار عورتیں اکٹھی ہوں ویاں وہ ایک دوسرے سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لئے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ” عید ملنا ” نہ شروع کر دیں۔
عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مُٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللّہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سینما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی تھی۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرونِ ملک میں نے عید پر سو پاؤنڈ کم کئے۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ” افرتفریح ” سے اقتباس ۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قاتل

Posted on 30/10/2006. Filed under: شعروادب |

تو نے کب یہ سوچا ہے، معصوم ہے کون اور قاتل کون؟
تو نے کب یہ دیکھا ہے، کوئی چہرہ کیسا لگتا ہے؟
ایسے بھی ہوتے ہوں گے، جن سے سولی بھی شرماتی ہو گی
اور ایسے بھی جن سے دار کا تختہ، سجا سجا سا لگتا ہے؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عیدین کا تحفہ

Posted on 24/10/2006. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , |

تمام مسلمانوں کو عید سعید کی خوشیاں مبارک ہوں اپنی خوشیوں میں ان خوشیوں سے محروم اپنے بہن بھائیوں کو بھی یاد رکھنا

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مختار مائی پر مبنی فلم کی نمائش

Posted on 19/10/2006. Filed under: پاکستان |

پاکستانی پنجاب کے ایک گاؤں میر والہ میں مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد حصول انصاف کے لیئے دنیا بھر میں جدوجہد کی علامت کے طور پر مشہور مختار مائی کی زند گی پرمبنی فلم ’شیم‘ کی نمائش ٹورانٹو میں اکتیسویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں کی گئی۔
اس فلمی میلے میں دکھائی جانے والی یہ واحد پاکستانی فلم تھی۔انگریزی اور سرائیکی زبان میں بنائی گئی اس فلم کے ڈائریکٹر کینیڈین نژاد پاکستانی فلم ڈائریکٹر محمد نقوی ہیں جبکہ پروڈیوسر نیویارک ٹائمزٹیلی ویژن کی سابق پروڈیوسرجل شنیڈر ہیں۔ اس فلم کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں واقع مشہور رائل انٹاریو میوزیم کے سنیما ہال میں پیش کیا گیا۔
اس فلم کی تیاری میں تین سال کا عرصہ لگا ہے۔نمائش کے وقت ہال فلم بینوں سےبھراتھا جس میں پاکستان اور کینیڈا کے علاوہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے شائقین بھی شامل تھے۔
خودمائی بھی فلم کے اس پریمیر شو میں موجود تھیں- مختار مائی نے ہلکے گلاًبی رنگ کا شلوار قمیض پہن رکھا تھا۔ فلم میں پاکستان کے عدالتی نظام پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور عدالتوں کے علاوہ پولیس سٹیشنوں کے باہر دھکے کھانے والے غریب عوام کو تفصیل کے ساتھ فلمبند کیا گیا ہے۔
مشہور امریکی فلم کمپنی شوٹائم کے تعاون سے بننے والی یہ فلم پاکستان کی سادہ دیہاتی زندگی ،غربت ، اور بھوک سے بلکتے ننگے بچوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ مختار مائی کیس کے گواہوں اور ملزمان کے خاندانوں کے انٹرویو بھی فلم میں دکھائےگۓ ہیں۔
ملزمان کے کچھ رشتہ داروں نےاس واقعہ کوپاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا میڈیا فراڈ قرار دیاہے۔
فلم میں مختار مائی کی ابتدائی زندگی سے لیکر آج تک ہونے والی تمام تبدیلیوں کو دکھایا گیا ہے۔ مختار مائی کی روز مرہ مصروفیات اور ’مختار مائی گرلز سکول‘ اس فلم کے اہم حصے ہیں۔
اتہائی خستہ حال سکول میں غریب بچوں کے مناظر نے حاضرین کو اشک بار کردیا۔فلم کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ اس میں مستوئی قبیلے کے بچوں کو خصوصی طور پر دکھایاگیا ہے۔ میروالا کے کچے مکان اور گاؤں کا ماحول حاصرین کے لیۓ نیا نہ تھا مگر مختار مائی کے کچے مکان کے اوپر لگی بہت بڑی ٹی وی سیٹلایٹ ڈش قابل توجہ تھی۔
مائی کےمخالفین نے الزام لگایا ہے کہ وہ تو اب ملکہ بن کر بیٹھی ہیں اورپرویز مشرف کے ساتھ گھومتی ہیں۔
فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح میڈیا نےاس واقعہ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ۔پولیس کے مظالم اور بغیر ٹیچروں کے سکولوں کاذکر بھی فلم کا حصہ ہیں۔اس کیس کو عالمی سطح پراجاگر کرنے والے نیویارک ٹائمز کے صحافی نکولس کرسٹوف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کےانٹرویوبھی اس فلم میں شامل کیۓ گۓ ہیں۔
پاکستان میں جیلوں کی حالت، مائی کے لیۓ دیگر ممالک میں چلائی گئی تحریک اور پرویز مشرف کے خلاف مظاہروں کو بھی فلم میں دکھایا گیا ہے۔
فلم میں مختار مائی کی زندگی میں آئی تبدیلی کو لوگوں نے کافی غور سے دیکھا۔ جب پاکستانی صدر مشرف کے ایک انٹرویو کا منظرآیا جس میں انہوں نےکہا کہ ’ریپ تو ہر جگہ ہوتے ہیں‘ تو ہال میں ایک زبردست طنزیہ قہقہہ گونجا۔
میروالاً کے دیہاتی مقررین اور علاقے کےاماموں کی پرجوش تقاریر بھی فلمبند کی گئیں۔
فلم کے آخر میں مختارمائی کے بارے میں بتایا گیا ک وہ خود بھی اپنےسکول میں پانچویں جماعت کی طالبہ ہیں۔اس فلم کے خاتمے پرمائی نےحاضرین کے سوالوں کے جواب دیۓ اور کئی گوری خواتین مائی کےگلے ملتی رہیں۔کئی خواتین مائی سے ملتے ہوۓ اشکبار ہوگئیں۔ کئی لوگوں نے مائی کے سکول کے لیۓ امداد دینے کی پیشکش بھی کی۔
فلم کے ڈائریکٹرنے بتایا کہ ان کو نفرت آمیز ای میلز اکثر موصول ہوتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کو کوئی جانی خطرہ نہیں ہے۔

محسن عباس ٹورانٹو، کینیڈا
بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نجات کا عشرہ

Posted on 15/10/2006. Filed under: اسلام |


بشکریہ ‘امت‘

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اؤ میری ماں

Posted on 09/10/2006. Filed under: شعروادب |

جب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا
یہ جہاں تیری سوچ سے بھی دور تھا

ہاتھ پاؤں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیا کے سپنے نہ تھے

تجھ تو آتا صرف رونا ہی تھا
دودھ پی کے کام تیرا سونا ہی تھا

تجھ کو چلنا سکھایا تھا ماں نے تیری
تجھ کو دل میں بسایا تھا ماں نے تیری

ماں کے سایے میں پروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا

آہستہ آہستہ تو کڑیل جوان ہو گیا
تجھ پہ سارا جہاں مہربان ہو گیا

زورِ بازو پے تو بات کرنے لگا
خود سجنے لگا خود ہی سنورنے لگا

اک دن اک لڑکی تجھ کو بھا گئی
بن کے دلہن وہ تیرے گھر آ گئی

اپنے فرض سے تو دور ہونے لگا
بیج نفرت کا خود ہی تو بونے لگا

پھر تُو ماں باپ کو بھی بھولنے لگا
تیر باتوں کے پھر تو چلانے لگا

بات بے بات ان سے تُو لڑنے لگا
قاعدہ ایک نیا تو پھر پڑھنے لگا

یاد کر تجھ سے ماں نے کہا اک دن
اب ہمارا گزارہ نہیں تجھ بن

سن کے یہ بات تُو تیش میں آ گیا
تیرا غصہ تری عقل کو کھا گیا

جوش میں آ کے تو نے یہ ماں سے کہا
میں تھا خاموش سب دیکھتا ہی رہا

آج کہتا ہوں پیچھا میرا چھوڑ دو
جو ہے رشتہ میرا تم سے وہ توڑ دو

جاؤ جا کے کہیں کام دھندہ کرو
لوگ مرتے ہیں تم بھی کہیں جا مرو

بیٹھ کر آہیں بھرتی تھی ماں رات بھر
ان کی آہوں کا تجھ پر ہوا نہ اثر

اک دن باپ تیرا چلا روٹھ کر
کیسی بکھری تھی تری ماں ٹوٹ کر

پھر وہ بھی بس کل کو بھلاتی رہی
زندگی اس کو ہر روز ستاتی رہی

اک دن موت کو بھی ترس آ گیا
اس کا رونا بھی تقدیر کو بھا گیا

اشک آنکھ میں تھے وہ روانہ ہوئی
موت کی اک ہچکی بہانہ ہوئی

اک سکون اس کے چہرے پہ چھانے لگا
پھر تو میت کو اس کی سجانے لگا

مدتیں ہو گئیں آج بوڑھا ہے تو
ٹوٹی کھٹیا پہ پڑا بوڑھا ہے تو

تیرے بچے بھی اب تجھ سے ڈرتے نہیں
نفرتیں ہیں، محبت وہ کرتے نہیں

درد میں تو پکارے کہ اؤ میری ماں
ترے دم سے روشن تھے دونوں جہاں

وقت چلتا رہتا ہے وقت رکتا نہیں
ٹوٹ جاتا ہے وہ جو کہ جھکتا نہیں

بن کے عبرت کا تو اب نشان رہ گیا
ڈھونڈ! زور تیرا کہاں رہ گیا

تو احکامِ ربی بھلاتا رہا
اپنے ماں باپ کو تو ستاتا رہا

کاٹ لے تو وہی تو نے ہی بویا تھا جو
تجھ کو کیسے ملے تو نے کھویا تھا جو

یاد کر کے گیا دور، تو رونے لگا
کل جو تو نے کیا آج پھر ہونے لگا

موت مانگے، تجھے موت آتی نہیں
ماں کی صورت نگاہوں سے جاتی نہیں

تو جو کھانسی تو اولاد ڈانٹے تجھے
تو ہے ناسور، سکھ کون نانٹے تجھے

موت آئے گی تجھے مگر وقت پر
بن ہی جائے گی قبر تیری مگر وقت پر

قدر ماں باپ کی اگر کوئی جان لے
اپنی جنت کو دنیا میں پہچان لے

اور لیتا رہے وہ بڑوں کی دعا
اس کے دونوں جہاں، اس کا حامی خدا

یاد رکھنا تو آسمان کی اس بات کو
بھول نہ جانا رحمت کی برسات کو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شان مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم

Posted on 06/10/2006. Filed under: اسلام, شعروادب |

ناں اج نال اج ہا، ناں کل نال کل ہا، ناں کون و مکاں تیں عمل دا دخل ہا
ناں فہم و فراست، ناں بولن دی طاقت، ناں کہیں خیر و شر دا دماغی خلل ہا
ناں کونین افلاک تارے سیارے، ناں بحریں دیاں چھولیاں، ناں گھانڑیں دا تل ہا
ناں نیکی دی شہرت ناں چرچے گناہ دے، ناں خُلدِ بریں ہئی ناں دوزخ دا بل ہا
ناں حوراں نہ غلماں، ناں جنت دی خوشبو، ناں موت و حیاتی ناں کوئی اجل ہا
ناں دھرتی دے شاداب رنگیں نظارے، ناں تخلیقِ انساں دا کوئی عمل ہا

 

ناں کنزاً دی کوئی خبر ہئی کہیں کوں، ناں الفاظ کُن دی تشکیل تھئی ہئی
ناں ابلیس حق توں ہا انکار کیتا، ناں آدم دے سجدے دی تعمیل تھئی ہئی

 

ناں ڈینہہ دا اجالا ناں ہئی رات کالی، نہ سورج دیاں کرناں ناں کوئی قمر ہا
ناں شبنم دے قطرے ناں جھولے ہوا دے، نہ پھلیں دے پتے ناں کوئی بھنور ہا
ناں کہسار صحرا ناں گلشن دی رونق، ناں پھلدار سایہ ناں کوئی شجر ہا
ناں الماس ہیرے ناں موتی ناں جوہر، ناں تاجِ یمن دا کوئی لعل و گہر ہا
ناں تخلیق خلقت دی واضح حقیقت ناں روح دے تقاضے ناں جن و بشر ہا
ناں ارض وسما تے زمانے دی تات ہئی، ناں قلب زمن ہا، ناں دور و دہر ہا

 

ناں روح الامیں ناں مقرب فرشتے، ناں سدرہ دی منزل ناں تحت الثری ہئی
ناں دید نظر ہئی ناں خشکی ناں تر ہئی ناں نیلا فلک ہا، ناں کوئی فضا ہئی

 

ناں آدم ناں حوا دا کوئی وجود ہا ، ناں عالمِ ارواح دا اقرار ہا کوئی
ناں یونس ہا مچھی دے بکھے شکم وچ، ناں نوح دے سفینے دا اظہار ہا کوئی
ناں ہا طورِ سینا ناں ستر بشر ہا، ناں جلوہ یزداں نمودار ہا کوئی
ناں ہاں زکریا کہیں شجر دی پناہ وچ، ناں تخت ہوا تے سوار ہا کوئی
ناں زلفِ زلیخاں ناں دامانِ یوسف ناں وکدا پیغمبر وی بازار ہا کوئی
ناں بِٹہ کہیں کوئی سرمایہ کل ہا، ناں یوسف دا بالکل خریدار ہا کوئی

 

ناں شیطانی لشکر ناں فرعون ہا کوئی، ناں دعوے خدائی دی بنیاد ہئی کوئی
ناں زر دی ہوسہئی ناں ہئی فرضہ جنت، ناں گزری وہانڑی دی روداد ہئی کوئی

 

ناں ہا کہیں ذبیح دا کرشمہ جہاں تیں، ناں خوابِ خلیلی دی تعبیر ہئی کوئی
ناں نمرودی چخا، ناں بھا دا نشاں ہا، ناں آزر دے بتیں دی جاگیر ہئی کوئی
ناں عیسٰی مسیح ہا، ناں مریم دی چادر، ناں کہیں پارسائی دی تصویر ہئی کوئی
ناں کنعان دا کوئی پیغمبر نا بینا، ناں معجز نمائی دی تنویر ہئی کوئی
ناں فلکی کتاباں، ناں ھَن کوئی صحیفے، ناں جامع زمانے دی تفسیر ہئی کوئی
ناں مَس ہئی، ناں بالکل قلم دی زبان ہئی، ناں تختی تے کہیں شے دی تحریر ہئی کوئی

 

ناں ہارون، داؤد، برجیس آئے ھَن، تے ادریس یحیٰی دا اسرار چپ ہا
ناں ہئی ظاہر کہیں جا تے غربت ایوبی، مصور دے اندر دا فنکار چپ ہا

 

ناں ایڈو تے اوڈو دے ہن کوئی تقاضے ناں ہوں ہئی ناں ہاں ہئی ناں چون و چرا ہئی
ناں مشرق تے مغرب دے حدیں دی حد ہئی، ابد ہا ازل ہا ناں کوئی انتہا ہئی
ناں قبلہ اول ناں حرمینِ کعبہ ناں عرب و عجم دی کوئی غیبوں صدا ہئی
ناں صفا مروہ ناں حجرا اسود، ناں طیبہ دے اندر کوئی خاکِ شفا ہئی
ناں بیعتِ رضواں، ناں وعدہ و پیماں، ناں تکبیر حق دی انوکھی ادا ہئی
ناں خندق ناں خیبر، ناں اُحد و بدر ہئی، نہ کہسارِ عحمت ناں ثور حِرا ہئی

 

ناں کوئی سوزِ سوزاں دا جلیا پتنگ ہا، ناں کوئی عین گین ہئی، ناں آہ و فغاں ہئی
ناں کوئی تاج و تخت ہا، ناں کوئی سیت و بخت ہا، ناں کھجی دا ممبر ناں کوئی اذاں ہئی

 

ناں کعبے دے اندر کوئی خیبر شکن دی ولادت سعادت دی آئی بارات ہئی!
ناں کوفے وچ کوئی غریب الوطن ہا، ناں مسجد کوں لہو دی ملی کوئی سوغات ہئی!
ناں ہا کربلا کوں اجاں شرف حاصل، ناں غازی دیاں بانہاں ناں موجِ فرات ہئی!
ناں معصوم اصغر دے گل وچ ہا نیزہ، ناں شامِ غریباں دی تات ہئی نہ رات ہئی!
ناں لخت نبوت دا برچھی تیں سر ہا، ناں معصول لب تیں قُرآنی قرات ہئی!
ناں بیمار دربار حاضر تھیا ہا، ناں باطل نہ باطل دی کوئی جماعت ہئی!

 

ایں کائنات سای دے دائرے دے اندر فقط لم یزل دی حقیقت دا نور ہا
جئیں اے جیڈی تخلیق قائم چا کیتی، کوئی اوں ذاتِ خالق دا مقصد ضرور ہا

 

اینویں بیٹھیں بیٹھیں ہسی سوچ آئی، میڈی ذاتِ وحدت دا پرچار ہووے
مَیں عاشق سڈیجاں جیڑھے دلبر دا، او مَیں وانگوں بے مثل دلدار ہووے
میکوں نال اُوندے وسیع اُنس ہووے، او میڈی محبت دا حُب دار ہووے
اے کائنات کرے اوندی نت سلامی، میڈا ڈیکھ سینہ ٹھڈا ٹھار ہووے
‘اِنی جاعِل‘ دے ایں مصدر دا مرکز، دو عالم توں سوھنا میڈا یار ہووے
اَے حوراں تمامی کرن نت غلامی، جمیع انبیانویں دا سردار ہووے

 

میں تخلیق کر کے حسیں دِلربا کوں تھی مشتاق رج رج کے دیدار کرنڑے
میدے کولوں بالکل جُدا تھی ناں سگسی اے محشر دے ڈیہنہ تونڑیں اقرار کرنڑے

 

جُدا کر کے اپنے وچوں نور اپنا پچھیں آپ آکھیم اے کینجھا حسیں ہے
ہتھیں نال اپنے بنائے می سجائے می، جیندی جگ توں نازک نرالی جبیں ہے
ایندے سانگے کائنات ساری وسائی ہم، اے کائنات میڈی دا امن و امیں ہے
اے قرآن سارا ایندی نعت بن گئے، اے محبوب میڈا جو نورِ مبیں ہے
قسم ایندی چا کے مَیں خود آپ آہداں اے دل دی ہے ٹھنڈک تے عین الیقیں ہے
جیندے پیریں کیتے زمیں سکدی رہسی، جیندی سک دا طالب اے عرشِ بریں ہے

 

اے مَیں توں نئیں مکدی ساقی مکانواں، مکیندا خود اے گال رَب اَحَد ہے
جتھاں توڑیں میڈی خدائی دی حد ہے، اوہے تونڑیں میڈے محمد دی حد ہے

خادم حسین ساقی سمینوی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سیاسی قتلوں کی تاریخ

Posted on 04/10/2006. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست |

ویسے تو پاکستان کے بانی محمد علی جناح ملک کی بمشکل پہلی ہی سالگرہ کے ایک ماہ بعد ہی فوت ہوجانےکو بہت سے لوگوں نے فطری موت ماننے سے انکار کردیا تھا اور آج تک لوگوں کی اچھی خاصی تعداد کہتی ہے کہ ’انہیں زہر دیا گیا تھا۔‘
کچھ لوگوں کا خیال ہے انہیں ’زیارت ریزیڈنسی میں مرنے کے لیئے بے یار ومدد گار چھوڑ دیا گیا تھا‘ جس کے لیئے کچھ انگلیاں تو ان کے جان نشیں نواب لیاقت علی خان کی طرف بھی اٹھتی ہیں-
لیکن پاکستان میں سیاسی مگر آج تک غیر حل شدہ قتلوں کی تاريخ خود وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل سے شروع ہوتی بتائی جاتی ہے۔ جب انہیں کمپنی باغ راولپنڈی میں بھرے جلسے میں گولی مار دی گئی تھی تو ایک پولیس افسر نے موقع پر ہی ان کے مبینہ قاتل سید اکبر خان کو گولی مار کر گویا لیاقت علی خان کے قتل کیس کو ہی گولی مار دی تھی-
اسی لیئے جب بھی پاکستان میں کوئی سیاسی قتل ہوتا ہے تو عوام کہتے ہیں اس کی تحقیقات کا حشر بھی لیاقت علی خان کے کیس جیسا ہوگا-
لیکن اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں سب سے پہلا سیاسی قتل نوجوان سیاسی کارکن حسن ناصر کا تھا جنہیں لیاقت علی خان کے دور حکومت میں لاہور کے شاہی قلعے میں تشدد کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔
اگر کوئی غور سے دیکھے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ بڑی لڑائی مارکٹائی سے بھرپور فلم اور سیاسی قتلوں کی تاریخ ہے جو حسن ناصر سے لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو سے لےکر ضیاءالحق تک، اور مرتضی بھٹو سے لے کر اکبر بگٹی تک کہی جاتی ہے- یہ تمام ہلاکتیں نہایت ہی پُراسرار اور تا حال غیر حل شدہ یا داخل دفتر ہیں۔
ایوب خان کا آمرانہ زمانہ آیا جسے ’اکتوبر انقلاب‘ کہا گیا-
انیس سو ساٹھ کی دہائي میں دوسری بلوچ بغاوت ہوئی- سردار نوروز خان کی قیادت میں بلوچ پہاڑوں پر چلے گئے جہاں سے حکومت نے قرآن پر صلح کا جھوٹا حلف دیکر نوروز خان کو پہاڑوں سے اتارا اور انہیں ان کے بھائی اور بیٹوں سمیت بعد میں حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی-
یحیٰی خان کے دور میں اگرچہ سیاسی مخالفین کے سیاسی قتل انفرادی طور تو فقط پیپلز پارٹی نے اپنے سرحد کے رہنما حق نواز گنڈاپور کی موت کو قرار دیا تھا جسے حکومت نےطوفانی بجلی کے ٹوٹنے سے قرار دیا تھا لیکن یحییٰ خانی دور میں سابق مشرقی پاکستان میں لاکھوں بنگالیوں کا قتل عام بھی سیاسی تھا-
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سیاسی قتل کو ایک طرح سے ایک ادارے کی شکل ملی ہوئی تھی۔
ڈیرہ غازی خان میں جماعت اسلامی کے ڈاکٹر نذیر کا قتل، لاہور میں خواجہ رفیق اور نواب احمد محمد خان قصوری کے قتل، سندھ میں امین فقیر سمیت پیر پگاڑو کے چھ حروں اور انجنیئرنگ کالج جامشورو کے لیکچرر اشوک کمار اور کراچي میں عطاءاللہ مینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل کی آج تک گمشدگیاں، بلوچستان میں لونگ خان نصیر، مولوی شمس الدین کے قتل (نہیں معلوم کہ بھٹو اور اکبر بگٹی کو تاریخ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران سینکڑوں بلوچوں کے قتل کی جوابداری میں شک کا فائدہ دے گی یا نہیں) ۔
بھٹو کے ہی دور میں ان کے وزیر اور دوست حیات محمد خان شیرپاؤ کا قتل پشاور یونیورسٹی میں ہوا جس کا اس دور کی حکومت اور بہت سے لوگوں نے الزام خان عبدالولی کی نیشنل عوامی پارٹی اور اس کی طلبہ تنظیم پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پر لگایا تھا لیکن ایسے بھی بہت سے بھٹو مخالف لوگ تھے جو شیرپاؤ کے قتل کا الزام خود بھٹو حکومت پر لگاتے تھے۔
اسی طرح کوئٹہ میں معمر و ممتاز پشتون رہنما عبدالصمد خان اچکزئی کا قتل بھی پُراسراریت کے پردے میں ملفوف رہا-
ذولفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں قید اپنے سیاسی مخالف چودہری ظہور الہی کو بھی قتل کروانے کے لیئے اس وقت کے گورنر اکبر بگٹی کو کہا تھا جنہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ چودہری ظہور الٰہی کے بیٹے اور بھتیجے بگٹی کی یہ ’احسانمندی‘ اپنے انداز سے چکاتے آئے ہیں۔
راوی کے کنارے بھٹو کے مخالف احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری قتل ہوئے جس کی ایف آئی آر بھٹو پر کاٹی گئی- ضیاء الحق کے دور حکومت میں اگرچہ بھٹو کو نواب قصوری کے قتل کیس میں موت کی سزا دے دی گئي لیکن ان کی پارٹی والوں کے علاوہ بہت سے لوگ اور غیر جانبدار مبصر بھی بھٹو کی پھانسی کو ایک عدالتی قتل قرار دیتے ہیں۔ ضیاء الحق کو بھٹو کو پھانسی دے کر کوئی نواب قصوری کے خاندان والوں سے انصاف مقصود نہیں تھا بلکہ، بقول شخصے، اسے ایک پھانسی اور دو گردنیں نظر آرہی تھیں۔ بھٹو کی پھانسی کے کچھ دنون بعد ہی پروین شاکر نے لکھا تھا:
’دیکھ کر قاتل کے بچے در گذر کرتا قصاص
مقتول کے پیاروں میں اتنا ظرف تھا لیکن کہاں‘
ضیاء الحق دور میں سیاسی مخالفین کے پشتوں کے پشتے لگ گئے جن میں طالب العلم رہنما نذیر عباسی (جنکے قتل کا پرچہ بینظیر بھٹو دور حکومت میں انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگيڈیئر امتیاز اور دیگر فوجی اہلکاروں کے خلاف کاٹ کر ’سربمہر‘ کردیا گیا تھا) کی تشدد کے ذریعے فوجی تحویل میں موت نمایاں واقعات میں سے ایک ہے۔
ضیاءالحق کے مخالفین شاہنواز بھٹو کی جنوبی فرانس میں پر اسرار حالات میں موت اور پھانسی پانے والے ناصر بلوچ، ایاز سموں، ادریس طوطی ، عثمان غنی، ضلع دادو میں سندھ یونیورسٹی کی بسوں پر ٹوڑہی ریلوے پھاٹک پر فوج کی فائرنگ سے پانچ ہلاکتوں، کالونی ٹیکسٹائیل مل ملتان میں مزدوروں کی پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں،اور سندھ میں ایم آر ڈی کی تحریک میں سینکڑوں لوگوں کی فوجی اور نیم فوجی دستوں اور پولیس کے ہاتھوں ہلاکتوں کو بھی کئی لوگ ضیاءا لحق حکومت کے ہاتھوں سیاسی قتل قراردیتے ہیں۔
جنرل ضیاء کے خلاف بھٹو برادران کی طرف سے بنائي ہوئی شدت پسند تنظیم الذوالفقار کے ہاتھوں بھی بہت سے سیاسی مخالفین یا ان کے فرض کیئے ہوئے ’دشمنوں‘ کی جاننیں جاتی رہیں۔ ایسی دہشت گردانہ وارداتوں میں میبینہ طور پر چودہری ظہور الہی، ظہور الحسن بھوپالی، اور کیپٹن طارق رحیم کے کیس نمایاں ہیں- جبکہ ایسی کارروائیوں میں حصہ لیتے الذولفقار کے رحمت نجم، الیاس صدیقی، لالا اسد شیخ ، اعظم پٹھان سمیت کئی نواجوان بھی مارے گئے تھے-
ضیاءالحق کے دنوں میں شیعہ مذہبی رہنما علامہ عارف الحسینی قتل ہوئے جن کا شیعوں کی اکثریت نے الزام براہ راست ضیاء الحق اور ان کے دست راست گورنر سرحد جنرل فضل حق اور دیگر معتمدین پر لگایا۔
کچھ دنوں بعد ضیاءالحق بہاولپور کے قریب ہوائی حادثے کا شکار ہوکر ہلاک ہوگۓ لیکن پاکستان میں مقبول سازشی تھیوریاں یہ ہیں کہ انہیں فوج کے اندرون خانہ سازش یا بین الاقوامی سازش کے تحت ہلا ک کیا گیا۔
ضیاءالحق کے خاتمے پر بینظیر بھٹو اقتدار میں دو مرتبہ آئیں اور ان کے دونوں ادوار میں بھی سیاسی مخالفین کے سیاسی قتل جاری رہے یہاں تک کہ ان کا ناراض بھائی بھی ’پولس مقابلے‘ میں مارا گیا جس کا الزام ان کے شوہر آصف علی زرداری، سندھ کے سابق وزیر اعلی عبداللہ شاہ، انٹیلجنس بیورو کے سربراہ مسعود شریف، اور واجد علی درانی سمیت کئی پولیس افسروں پر لگا۔
ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے کے قتل، اور ممبران صوبائی اسمبلی غلام حسین انڑ، علی محمد ہنگورو، اور معمر سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کی سرکاری تحویل میں اموات بھی ان کے مخالف بنظیر بھٹو حکومت کے ہی کھاتے میں ڈالتے ہیں۔
جبکہ ایم کیو ایم حزب اقتدار میں ہو یا حزب اختلاف میں مبینہ طور بیشمار سیاسی محالفین کے قتل کے الزمات لگتے رہے ہیں جن میں پارٹی منحرفین بھی شامل ہیں- ’جو قائد کا غدار ہے و موت کا حقدار ہے‘ انیس اکیانوے میں یہ نعرہ کراچی کی دیوراروں پر راتوں رات لکھا ہوا ملا تھا-
نواز شریف دورِ حکومت میں بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں اور شاہ بندر میں الذوالفقار والوں سمیت کئی ماورائے عدالت قتل کے کیسز ملتے ہیں۔ سب سے ہائی پروفائیل کیس، فوج کے ہاتھوں ٹنڈو بہاول میں نو کسانوں کی ہلاکتین ہیں جنہیں ابتدائی طور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ’بھارتی ایجنٹ‘ قرار دیا تھا-
لیکن پاکستان کی تاریخ میں لیاقت علی خان کے قتل اور ضیاءالحق کی حکومت کے ہاتھوں بھٹو کی پھانسی کے بعد موجودہ مشرف حکومت میں اکبر بگٹی کی ہلاکت سب سے ’ہائی پروفائیل‘ کیس ہے۔
ضیاء الحق اور مشرف میں طویل المدت مطق العنانیت کے علاوہ ایک اور بھی مماثلت ہے وہ یہ ایک کے ہاتھ پر بھٹو کے خون اور دوسرے کے ہاتھ پر بگٹی کے خون کے الزامات لگتے ہیں-
لیاقت علی سے لےکر اکبر بگٹی تک تمام سیاسی قتل سدا پر اسرار اور ناقابل حل تاریخی معمہ ہی رہیں گے۔

بشکریہ – بی بی سی اردو

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مشرف کا مضحکہ خیز دعویٰ

Posted on 04/10/2006. Filed under: پاکستان, سیاست |

پاکستان کے اسیر سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بیٹی نے صدر مشرف کی خود نوشت میں کیئے جانے والے دعوں پر تنقید کی ہے۔
یہ پہلا بیان ہے جو انہوں نے 2004 میں اپنے والد کی گرفتاری کے بعد جاری کیا ہے اور دینا خان کا کہنا ہے کہ وہ یہ بیان ریکارڈ کی درستی کے لیئے جاری کر رہی ہیں۔
اس بیان پر حکومتی رد عمل معلوم کرنے کے لیئے اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے اطلاعات سینیٹر طارق عظیم سے جب رابط کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس پر صدر مشرف ہی بہتر انداز میں بیان دے سکتے ہیں۔
دینا کا کہنا ہے کہ یہ کہا جانا کے ان کے والد نے انہیں پاکستان کے ایٹمی راز افشا کرنے کے لیئے کہا تھا ایک ’لغو و مضحکہ‘ خیز بات ہے۔
ڈاکٹر خان کو ان کے اس اعتراف کے بعد ان کے گھر میں بند کر دیا تھا کہ انہوں نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو ایٹمی راز فراہم کیئے تھے۔
ڈاکٹر قدیر کے اس اعتراف کے بعد امریکہ نے پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا کہ ڈاکٹر قدیر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
لیکن ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کارروائی کرنا ایک حساس معاملہ تھا کیونکہ ڈاکٹر قدیر خان پاکستان کے کئی حصوں میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی وجہ انتہائی مقبول ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی تھا کہ وہ پاکستان کے بہت سارے رازوں کے واقف تھے جن میں شاید یہ بات بھی شامل تھی کہ پاکستان کے سرکردہ لوگوں میں کچھ ایسے بھی تھے جنہیں یہ پتہ تھا کہ وہ ایٹمی راز منتقل کر رہے ہیں۔
غالباً یہی وجہ تھی کہ کہ ان کے خلاف نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا اور نہ ہی سی آئی اے کو ان سے پوچھ گچھ کی اجازت دی گئی کے نہ جانے وہ کس کو ملوث قرار دے دیں۔
جنرل مشرف نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے اپنی بیٹی (دینا) کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک برطانوی صحافی کے ذریعے ’پاکستان کے ایٹمی راز افشا کردو‘۔
ڈاکٹر قدیر کی بیٹی نے اس انکشاف کو لغوقرار دیا ہے۔ دریں اثنا ڈاکٹر قدیر کے ایک ساتھی بریگیڈئر سجاول خان کے بیٹے ڈاکٹر شفیق نے مذکورہ خط میں ایٹمی رازوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’دینا خط کے بارے میں جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ درست ہے، خط میں ایٹمی راز نہیں تھے‘۔
دینا نے بی بی سی کے فراہم کیئے جانے والے ایک بیان میں جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ خط ان کے لیئے نہیں ان کی والدہ کے لیئے تھا اور اس میں وہ بتایا گیا تھا جو دراصل ہوا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ان تفصیلات کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر ان کے والد ڈاکٹر قدیر کو کچھ ہو جائے تو یہ تفصیلات عام کر دی جائیں۔
خود ان کے الفاظ میں ’اس خط سے یہ پتہ چلا کہ ان کے مطابق اصل میں تمام واقعات کس طرح رونما ہوئے تھے۔ اور اس میں کہا گیا تھا کہا کہ اگر میرے والد مار دیئے جائیں یا غائب کردیئے جائیں تو یہ تفصیلات عام کر دی جائیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ اس خط میں لوگوں اور مقامات کا ذکر ہے نہ کہ ایٹمی یا جوہری رازوں کا ۔
دینا خان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ان سے برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو نے بھی تفتیش کی تھی لیکن وہ مطمئن تھے کہ انہوں نے نہ تو کوئی جرم کیا ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اہم دستاویز ہے۔
دینا کہتی ہیں کہ ان کے والد کا جرم محض یہ ہے کہ وہ برسرِ اقتدار لوگوں کے بارے میں بے لاگ رائے کا اظہار کرتے تھے اور وہ اسی جرم کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کو کئی ماہ تک والدین سے ملنے نہیں دیا گیا اور ایک سال تک تو انہیں پاکستان جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ ’ہماری ڈاک کھولی جاتی تھی، ہمارے فون سنے جاتے تھے اور ہمارے گھر کی جاسوسی کی جاتی تھی‘۔ ڈاکٹر خان کو جب نظر بند کیا گیا تو ان پر کئی مہینوں سے دباؤ بڑھ رہا تھا۔
جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے جب ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے پلانٹ کا فروری دو ہزار تین میں دورہ کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ اس میں جو مشینیں استعمال کی گئی تھیں ان کا ڈیزائن وہی ہے جن پر ڈاکٹر خان نے اپنی جوانی کے دور میں یورپ میں کام کیا تھا اور جن کو پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیئے بھی تیار کرایا گیا تھا۔
اسی دوران لیبیا کے صدر معمر قدافی نے ایم آئی فائیو کے ساتھ اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیئے روابط استوار کیئے۔ لیبیا کا تمام کا تمام جوہری پروگرام ڈاکٹر خان کے گروپ کی طرف سے مہیا کیا گیا تھا۔
اسی کے ساتھ واشنگٹن نے جنرل مشرف پر ڈاکٹر خان کے دھندے کو بند کرانے کے لیئے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ ستمبر دوہزار تین میں نیویارک کے ایک ہوٹل میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ نے جنرل مشرف کو ڈاکٹر خان کی سرگرمیوں کے بارے میں شواہد مہیا کئیے۔ لیکن اس کے باوجود جنرل مشرف نے ڈاکٹر خان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس سے واشنگٹن میں اس بارے میں تشویش میں اضافہ ہوتا رہا۔
آخر کار امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی ایک فون کال نے ڈاکٹر خان کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا۔
کولن پاول نے صدر مشرف کو خبردار کیا کہ صدر جارج بش ایک تقریر کرنے والے ہیں جس میں ڈاکٹر خان کی سرگرمیوں کو دنیا پر آشکار کردیا جائے گا۔
اس کے نتیجے میں ڈاکٹر خان کو صدر مشرف سے ملوایا گیا اور ان کو ان سرگرمیوں کا برسرے عام اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔
سی آئی اے کو آج تک ڈاکٹر خان سے براہ راست تفتیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کا امریکہ آج تک خواہاں ہے کیونکہ یہ ابھی تک نہیں معلوم ہو سکا کہ ڈاکٹر خان نے کس قدر ایٹمی ٹیکنالوجی ایران کو فراہم کی۔
لیبیا کے معاملے میں ڈاکٹر خان نے جوہری ہتھیار کا ڈیزائن تک خود فراہم کیا۔
واشنگٹن میں عام خیال یہی ہے کہ ڈاکٹر خان نے ایران کو بھی اس قدر معلومات فراہم کی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران جوہری بم بنانا چاہا رہا ہے اور اس کا جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لیئے نہیں ہے جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا ہے۔
ڈاکٹر خان سے تمام سوال اور جواب پاکستان کے خفیہ اداروں کے توسط سے کیئے جاتے ہیں اور یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سچ جوابات دیئے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر خان کو امریکہ کی تحویل میں دینا یا ان تک رسائی دینا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹر خان کے بہت سے مداح ہیں اور یہ جنرل مشرف کے لیئے سیاسی طور پر انتہائی مشکل سوال ہوگا اور وہ اس مسئلہ کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے امریکی حکومت کی طرف سے پرامن مقاصد کے لیئے جوہری ٹیکنالوجی میں تعاون کے معاہدے کی پاکستان کو پیش کش نہ کیئے جانے کی ایک وجہ ڈاکٹر خان بھی ہیں۔
ڈاکٹر خان تاحال اسلام آباد میں نظربند ہیں اور حال ہی میں ان کا مسانے کے کینسر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔
دینا خان نے اپنے بیان کے آخر میں خبردار کیا ہے کہ ان کے والد سے تفتیش کئی ماہ پہلے مکمل کر لی گئی تھیں لیکن پھر بھی ان کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ امید کی جارہی ہے کہ نظر بندی کے دوران ہی مر کھپ جائیں گے اور دنیا انہیں بھول جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا اور آخر کار سچ سامنے آ کر رہے گا جیسا کہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔

بشکریہ – بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زلفیں دی چھاں

Posted on 02/10/2006. Filed under: شعروادب |

میڈے سُکھ دی دولت ناں دنیا لُٹیندی
جے وارث وِراثت عیاں چا کرے ہا
کیا تھیندا ہا ساقی او ھِک لحظے کیتے
میڈے سِر تیں زُلفیں دی چھاں چا کرے ہا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

قدرت دا فن، شعلہ بدن، شیریں دَھن میڈا امن
شاہِ زمن، چوڈی دا چن، سرووسمن رنگلا موہن
کجُھ تاں گھٹا، جوروستم، ڈیکھاں ولا وسدا صحن
وعدے سجن ایویں ناں ھن، رُل گئی حنا، گَل گئے سگن
تیڈے بنا ڈِہدا تاں جُل، وحشی تھیم بھُل گئے وطن
رب دی قسم آہدا وی ہم، تیں توں وفا تھیسی ناں چن

 

ڈس تاں سہی میں توں سجن۔ کیوں ہئی رسائی زلفیں دی چھاں
واہ واہ سجن مالک تھیوں، ویری بنڑائی زلفیں دی چھاں

 

حد نظر جنگل تے جھر، مرمر ونجاں، ماراں نہ پر!
ڈِسدے می گھر زیر و زبر ظالم ہجر کھندے می سَر
شام و سحر تہمت دا ڈر، در ناِل در، غیریں دا گھر
ڈہدیں قہر ڈلدے جگر، اینجھا ڈِتائی ظالم چکر!
غیریں دے سر تیڈی نظر، سوہنا مٹھل ایویں ناں کر
دور و دہر ڈِہدے حشر، کھلدے سجن سارا شہر!

 

سر توں میڈے سوھنا جگر، کیوں چا ہٹائی زلفیں دی چھاں
واہ واہ سجن مالک تھیوں، ویری بنڑائی زلفیں دی چھاں

 

میڈا صنم گالھیں دے گُل سوگھے رکھیں کریں ناں جُل
ویلھ ناں ول ولشیا ایہو، ساری عمر ویسیں توں رُل
ول آ میڈو کر ناں بخل سکدِن اتھاں سیجیں دے پُھل
ہنجوں تو تر تِھیشیا بکل وکسیں سجن کوڈیں دے مُل
گالھا نہ تھِی کوڈیں دے مُل کر کجُھ عقل سستا نہ تُل
کُونجیں دے غُل، سانوں دے عُل، ظالم نہ بن، پینگھاں ناں بُھل

 

پھس جو گیاں پھتکن کیہاں ویدی مسائی زلفیں دی چھاں
واہ واہ سجن مالک تھیوں، ویری بنڑائی زلفیں دی چھاں

 

بے شک سَہا مالک میڈا، در در بھنوا، چیتا رَلا
وعدے نبھا رِیتاں وَٹا، بھاندا ہے چن مٹھڑا اَلا
تیڈا بھلا لگدا ہے کیا، لحظہ پہر ٹردا تاں آ
نئیں کوئی سجن زر دی ہوس، میکوں فقط مکھڑا ڈکھا
رب توں سدا منگداں دعا لگی نہ چن تتی ہوا
اے تاں ڈسا تِھیسی وفا بنیں تیں بہہ لانجا مُکا

 

مَیں تاں مٹھل سِکدا ریہم غیریں ہنڈائی زلفیں دی چھاں
واہ واہ سجن مالک تھیوں، ویری بنڑائی زلفیں دی چھاں

 

کیویں ڈساں تیکوں مٹھا سینے بَلی سوزیں دی بھاہ
ویڑھا ہنبھاہ ڈینڑیں دی جاہ سیجھیں کوں تک تھِیندا ہاں دراہ
مینڑھیں دے من، ٹوکاں اُتر نِیریں دی نئیں حِیلا تباہ
کندھیں تیں چڑھ ڈیکھے سدا گالھی بلا آنونڑ دے راہ
کیویں کراں نِبھدی جو نئیں تیڈے سوا سوہنڑھیں دا شاہ
ساقی دا سئیں ٹھہندی تاں نئیں غیریں توں ونج منگاں پناہ

 

فلکیں دی حد تونڑیں مٹھا میں توں گلائی زلفیں دی چھاں
واہ واہ سجن مالک تھیوں، ویری بنڑائی زلفیں دی چھاں

خادم حسین ساقی سمینوی کی کتاب ۔۔۔ زُلفیں دی چھاں

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...