Archive for نومبر, 2006

واشنگٹن کیلئے ایک اور صدمہ

Posted on 30/11/2006. Filed under: سیاست |

واشنگٹن کو پہنچنے والے پے در پے صدمات میں ایک قابل ذکر اضافہ یہ ہوا ہے کہ وینزویلا کے ہوگو شاویز، بولیویا کے ریواموراس، چلی کی شیل بیشلٹ، میکسیکو کے لوپیز اوبراڈور اور نکاراگوا کے ڈینیل اورٹیگا کے بعد لاطینی امریکا کے ایک اور تیل پیدا کرنے والے اہم ملک ایکواڈور کے ریفائل کورایا (RAFAEL CORREA) بھی بائیں بازو کی امریکا دشمنی کی لہر پر سوار ہو کر بھاری اکثریت سے صدارتی انتخابات جیت گئے ہیں اور یوں کیوبا سے ایکواڈور اور چلی تک تقریباً پورے لاطینی امریکا کی سیاست بائیں بازو کے امریکا مخالف نظریات کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ عراق، افغانستان، فلسطین، اسرائیل، بیروت اور ایران کے مسائل اور مصیبتوں میں پھنسی ہوئی دنیا کی واحد سپرپاور زخمی ڈائناسور کی طرح پہلو بدلنے سے بھی لاچار ہے اور ان نئے اور زیادہ گہرے صدمات کی طرف توجہ دینے کی فرصت اور اہلیت نہیں رکھتی۔ لاطینی امریکا کو ریاست ہائے متحدہ امریکا کی مخالفت پر اُکسانے اور ابھارنے میں کیوبا کے فیدل کاسترو اور وینزویلا کے ہوگوشاویز یا بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی اداروں کا ہاتھ ہے کہ جنہوں نے واشنگٹن کی خواہشات اور سامراجی مقاصد کے تحت لاطینی امریکا کے ملکوں کی معیشت کو لوٹنے کا کوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا اور معیشت کی بدنام زمانہ ”ٹریکل ڈاؤن“ یعنی چھلک جانے والی معیشت کو رواج دینے کی کوشش کی۔ امیروں کو اور زیادہ امیر بنانے والی اس عوام دشمن معیشت سے لاطینی امریکا کے غریب محنت کشوں کے لئے تو کچھ فائدہ نہ چھلک سکا مگر عوام الناس میں سوشلسٹ معیشت اپنانے کی خواہش ضرور ”ٹریکل ڈاؤن“ ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی سونا کی چڑیا کو نوآبادیاتی پنجرے میں بند کرنے کی خواہش میں غلطی سے امریکا دریافت کر بیٹھنے والے کولمبس کے بحری بیڑے نے جس ساحل سمندر پر لنگر ڈالا تھا وہ وینزویلا کا ساحل تھا اور اس ملک کا ”وینزویلا“ نام بھی کولمبس نے ہی دیا تھا کہ وہ اسے وینس جیسا ملک سمجھے تھے اور ”وینزویلا“ کا مطلب بھی ”وینس جیسا“ ہی ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وینزویلا کے بائیں بازو کے رجحانات کی کامیابی نے کیوبا اور فیدل کاسترو کو نئی زندگی دی ہے اور یہ وینزویلا کے ہوگوشاویز کے خلاف واشنگٹن والوں کی خوفناک اور اتنی ہی احمقانہ سازشوں کا نتیجہ ہے کہ ہوگویاویز نے امریکا کی سرمایہ دارانہ معیشت کی اجارہ دارانہ پیش قدمی کے خلاف سوشلسٹ معیشت کی جانب توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی اور پھر ہوگوشاویز کی تقلید میں پورے لاطینی امریکا میں واشنگٹن، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف تحریکوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ وینزویلا سے یہ تحریک بولیویا میں، وہاں سے چلی، میکسیکو، ایکواڈور، برازیل، نکارگوا، پیرو اور پورے لاطینی امریکا میں پھیل گئی۔ ایکواڈور کے انتخابات میں وہاں کے سب سے زیادہ امیر جاگیردار اور کیلے کے باغات کے مالک الوارو نبوآ (ALVARO NOBOA) کو 32 فیصد کے مقابلے میں 68 فیصد ووٹوں سے شکست دینے والے ریفائیل کورایا امریکا کے سب سے زیادہ رجعت پسند دانشور پیدا کرنے والی ہارورڈ یونیورسٹی سے معیشت میں پی ایچ ڈی کرنے والے انقلابی ہیں جنہوں نے صدارتی انتخابات کے نتائج سنتے ہی ورلڈ بینک کے ایکواڈور میں نمائندے کو فوری طور پر ملک چھوڑ جانے کا حکم جاری کیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ کیوبا کے صدر کاسترو اور وینزویلا کے صدر ہوگوشاویز کی تقلید میں واشنگٹن کی ہر انقلاب دشمن سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ایکواڈور ری پبلک آف ایکواڈور کہلاتا ہے، 1986ء میں اس کی آبادی 96 لاکھ پچاس ہزار تھی ملک کا رقبہ ایک لاکھ نو ہزار 483 مربع میل ہے جو کہ کولوراڈو کے برابر بنتا ہے۔ 1633ء میں سپین نے اس پر قبضہ کیا تھا 1822ء کے مئی کی 24 تاریخ تھی جب ایکواڈور کی آزادی کے متوالوں نے سپین کی غاصب فوجوں کو شکست دی تھی۔ ایکواڈور پر 1968ء سے سول اور فوجی حکمرانوں کی حکمرانی چلتی آئی ہے۔ بیشتر عرصہ فوجی ڈکٹیٹروں کی حکومت کا تھا۔ 1972ء سے ملک کی معیشت کا انحصار معدنی تیل کی برآمد پر ہے مگر ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کی بے جا مداخلت نے ملک کی معیشت کو اس قدر تباہ کیا کہ 1987ء میں اس کے غیرملکی قرضوں کا بوجھ آٹھ ارب ڈالروں سے بھی بڑھ گیا اُسی سال شدید زلزلے کی وجہ سے بیس ہزار لوگوں کے بے گھر ہو جانے کے علاوہ تیل سپلائی کرنے والی پائپ لائنیں بھی تباہ و برباد ہو گئیں۔ ایکواڈور اس وقت روزانہ پانچ لاکھ چالیس ہزار بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے جس کا بیشتر حصہ امریکا امپورٹ کرتا ہے۔ 1992ء میں امریکا کے اشارے پر ایکواڈور کے حکمران تیل کی عالمی تنظیم سے باہر نکل آئے تاکہ امریکا وہاں سے زیادہ تیل درآمد کر سکے۔ ملک کے نئے بائیں بازو کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ایکواڈور تیل کی عالمی تنظیم میں دوبارہ شامل ہو گا اور تیل کی نئی قیمتیں مقرر کرے گا اور تمام غیرملکی قرضوں کے بارے میں تمام شرطوں کو مسترد کرتے ہوئے نئے مذاکرات کی دعوت دے گا اور ملک کے تمام پیداواری وسائل کو قومی تحویل میں لے لے گا اور لاطینی امریکا کے ان تمام عناصر اور سیاسی تحریکوں کی مدد اور حمائت کرے گا جو واشنگٹن کی سازشوں کا نظریاتی مقابلہ کر رہی ہیں۔ غور کرنے اور توجہ دینے والی حقیقت یہ ہے کہ مغربی ملکوں میں جمہوریت حالات کو جوں کا توں رکھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس کے تحت امیر حکمران طبقے جمہوری اداروں پر اپنی طاقت، حکومت اور مالی استعداد کے بل بوتے پر قبضہ کر کے غریب او
متوسط طبقے کو اپنے قابو میں رکھتے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جب کہ لاطینی امریکا میں جمہوریت وہاں کی طبقاتی جدوجہد میں عوام کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنائی جا رہی ہے۔ عوام الناس اپنی عددی برتری کے بل بوتے پر حالات اور حالاتِ کار کو تبدیل کرنے کے لئے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ہمارے پاکستان اور ہندوستان جیسے ملکوں میں مغربی طرز کی جمہوریت کی سرگرمیوں میں عام لوگوں کی دلچسپی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ لاطینی امریکا میں ستر سے اسّی فیصد لوگ جمہوری انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ مغربی دنیا وینزویلا کے ہوگوشاویز کو جمہوریت کا دشمن قرار دیتے ہیں اور گزشتہ چھ سالوں میں سات مرتبہ جمہوری انتخابات میں کامیاب ہونے والے اور ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ ووٹ لینے والے ہوگوشاویز واقعی مغربی طرز کی جمہوریت کے دشمن ہیں مگر تبدیلی اور انقلاب کو قریب لانے والی جمہوریت کے دوست ثابت ہو رہے ہیں۔گریبان ۔ منوبھائی
روزنامہ جنگ ٣٠ نومبر

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پاکستانی معاشرے کی حالت زاراور حکمرانوں کے بلند بانگ دعوے

Posted on 28/11/2006. Filed under: پاکستان, سیاست |

پاکستانی معاشرہ دیکھنے میں بھی پرسکون اور تلاطم سے پاک دکھائی نہیں دیتا لیکن ذرا گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو معاشرے میں بہت زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کا اظہار اس رپورٹ سے ہوتا ہے جو لائیرز کمیٹی برائے انسانی حقوق پاکستان نے چند روز پہلے شائع کی ہے، اس میں یکم جنوری سے ستمبر 2006ء تک کے اعداد و شمار دیئے گئے ہیں اس کے مطابق ان نو مہینوں میں پاکستان میں 5800لوگوں نے خودکشی کی اور جس کے تین بڑے اسباب تھے:(1)بے روزگاری (2)غربت و افلاس (3)ڈپریشن کی بیماری۔ اس رپورٹ کے مطابق اوسطاً ہر مہنیے میں 500کے قریب لوگوں نے خود کشی کی اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں کس قدر دکھ اور آلام ہیں۔ ہر ماہ قریباً 500لوگوں کا خودکشی کرنا معاشرے کے مریض ہونے کی علامت ہے۔ اسی عرصے میں پاکستان میں مختلف وارداتوں میں 5282افراد قتل ہوئے۔ ان میں سے 385افراد پولیس کے ساتھ مقابلوں یا نام نہاد مقابلوں میں مارے گئے۔ ان میں سے کچھ جیل خانوں میں ہلاک ہوئے نو ماہ کے اس عرصے میں 2100عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ تقریباً 818مردوں اور عورتوں کو عزت کے نام پر قتل کی سزا دی گئی۔ اسی عرصے میں 3100بچوں پر جسمانی اور جنسی حملے کئے گئے۔ واضح رہے کہ متاثرہ بچوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر لاوارث اور آوارہ زندگی گزارنے والی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سٹریٹ کرائمز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور تقریباً 2500موبائل فون اور 300گاڑیاں ہر روز یا تو چوری ہوتی ہیں یا گن پوائنٹ پر چھین لی جاتی ہیں۔ اسٹریٹ کرائم اگرچہ سارے ملک میں عام ہے لیکن کراچی میں اس کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ہر روز قریباً 500موبائل فون چھین لئے جاتے ہیں لیکن متاثرہ لوگوں کی غالب اکثریت اپنے نقصان کی اطلاع پولیس کو دینے سے گریز کرتی ہے اور بمشکل 50سے 70ایف آئی آرز درج کرائی جاتی ہیں۔ کراچی میں روزانہ 40سے 50گاڑیاں چھین لی جاتی ہیں اور ان میں سے اکثر کی رپورٹ پولیس کو مل جاتی ہے۔ ملک میں اس وقت چھوٹی بڑی 87جیلیں ہیں جن میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت ان قیدیوں کی تعداد 90ہزار سے زیادہ ہے جو ان جیلوں کی حقیقی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت ملک میں 200کے قریب افراد غائب ہیں اور ان میں دو قسموں کے لوگ زیادہ تر شامل ہیں: مذہبی جماعتوں کے کارکن اور بلوچ قوم پرست۔ اندیشہ یا اندازہ ہے کہ یہ 200لوگ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ کچھ درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں لیکن اکثر گمشدگان کے بارے میں ایجنسیاں اپنی لاعلمی کا اظہار کرتی ہیں۔ پچھلے نو ماہ میں قریباً 21صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک کیمرہ مین اور ایک صحافی جاں بحق ہوئے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے تین سینئر صحافی ودود مشتاق کیمرہ مین زاہد عظیم اور نذیر اعوان،ان کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ معاصر ”دی نیوز“ کے ایک رپورٹر شکیل انجم کے خلاف قتل کے تین جھوٹے کیس بنائے گئے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی نشریات وقتی طور پر روک دی گئیں کیونکہ اس نے اپنے صحافیوں کی گرفتاری کی خبر نشر کی تھی، نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد چھ ہزار کے قریب بلوچ قوم پرست نظربند کر دیئے گئے۔ اگرچہ بعد میں بتدریج ان کی بڑی تعداد رہا کر دی گئی لیکن اندازہ ہے کہ ایک سو کے لگ بھگ بلوچ قوم پرست نوجوان اب بھی زیر حراست ہیں لیکن کوئی ایجنسی ان کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ملک میں انسانوں کی اسمگلنگ کا کاروبار بھی بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے اور خیال ہے کہ زیر نظر عرصے میں پندرہ ہزار کے قریب لوگوں کو ناجائز طور پر ملک سے باہر بھیجنے کی کوشش کی گئی۔ لائرز کمیٹی برائے انسانی حقوق نے گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزلہ زدگان کے حالات کا سروے کیا تو معلوم ہوا کہ مظفر آباد، بالاکوٹ میر پور مانسہرہ اور باغ کے علاقوں میں متاثرہ لوگوں کی اکثریت آج بھی ویسے ہی حالات سے دوچار ہے جیسے حالات سے وہ پچھلے سال دوچار تھی۔ متاثرہ لوگوں نے شکایت کی ہے کہ جو امداد تقسیم کی جاتی ہے وہ شفاف طریقے سے تقسیم نہیں ہوتی اسی طرح جو اربوں ڈالر زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے باہر سے آئے ہیں ان کا باقاعدہ حساب کتاب محفوظ نہیں سمجھا جاتا اور کوئی شخص اعتماد سے نہیں کہہ سکتا کہ باہر سے آنے والی رقوم انصاف کے مطابق اور طے شدہ ضابطوں کے تحت تقسیم کی جا رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ متاثرین کی بہت بڑی تعداد امداد کی منتظر ہے۔ لائیرز کمیٹی برائے انسانی حقوق کی اس اجمالی رپورٹ سے پاکستانی معاشرے کے حالات کی جو تصویر سامنے آتی ہے ہر زوایئے سے اور ہر لحاظ سے تشویشناک ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرے میں بے پناہ اونچ نیچ ہے۔ جاگیردارانہ اور قبائلی رسوم و رواج کا اب بھی دور دورہ ہے ریاست کی گرفت بہت کمزور ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض بحسن و خوبی ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ عام شہری کے اندر انہی اسباب کی بنا پر عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ ایک طرف زمینی حقیقتیں یہ ہیں دوسری طرف ملک کا حکمران طبقہ پاکستان کی ترقی کے قصیدے رات دن پڑھتا ہے اور بڑے بڑے کمالات انجام دینے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ فی الحقیقت پاکستانی معاشرہ مختلف میدانوں میں ایک سرجیکل آپریشن کا طالب ہے لیکن اس کا اہتمام کون کرے جبکہ حکمران معاشرے میں کسی خرابی کی موجودگی کا اعتراف کرنے کے لئے ہی تیار نہیں ہیں نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ روز بروز سنگین سے سنگین تر امراض کی گرفت میں آرہا ہے اور اصلاح احوال کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ کاش حکمرانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا۔

ارشاد احمد حقانی ۔ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Hello world!

Posted on 24/11/2006. Filed under: Uncategorized |

Welcome to Pakistani.

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

جھمر ۔ سرائیکی وسیب کا رقص

Posted on 23/11/2006. Filed under: سرائیکی وسیب |

٢٠ نومبر بروز سوموار کو ایک دوست کی شادی میں شرکت کرنے شادن لنڈ گیا جو کہ ڈیرہ غازی خان سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر ہے تو وہاں جھمر کا اچھا خاصا انتظام تھا، انتہائی ماہر جھومریوں کی جھمر دیکھ کر دل خوش گیا۔ ہر علاقے کے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں ہمارے علاقے میں بھی صدیوں سے جھمر کا عمل دخل رہا ہے، جھمر سرائیکی علاقے کا ایک شاندار رقص ہے جو شادیوں اور دیگر خوشیوں کے موقع پر دیکھا جاتا ہے۔ جھمر کا انداز منفرد اور حسین ہوتا ہے جو خوشیوں کے لمحات کو یادگار بنا دیتا ہے۔ جس شادی یا خوشی میں جھمر نہ ہو وہ بے مزہ لگتی ہے۔
جھمر کے وقت جسم کا ہر اعضاء حرکت میں ہوتا ہے، پاؤں اور ٹانگیں ایک ترتیب سے حرکت کرتے ہیں، سر اور گردن جسم کے ساتھ گردش میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی سانس کی آمد و رفت معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ بڑے دلکش انداز میں جھومری رقص کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو بہلاتے ہیں جس سے طبعیت کو قرار آ جاتا ہے۔ طاق اور ماہر جھومری جب شوق اور محبت میں ڈوب کر جھمر مارتے ہیں تو ان کی جھمر دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اور بے ساختہ جھومریوں کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے۔
دولہا کے آگے ڈھول کی تھاپ اور گھنگرو کی جھنکار پر جھمر نغمے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور یہ منظر بڑا ہی دلکش اور خوبصورت ہوتا ہے۔ خوشی کے وقت جھمر سے دل کو سکون ملتا ہے، دل مچل مچل جاتا ہے، اس وقت جھومری توجہ کا مرکز ہوتے ہیں ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ جھمر کا وہ انداز اپنایا جائے جسے دیکھنے والے عش عش کر اٹھیں۔
جھمر خوشی اور محبت کی نشانی ہے جو کہ شادیوں اور خوشیوں میں خوشی کا احساس دوبالا کر دیتی ہے، جھمر ہمارے سرائیکی وسیب کی علامت ہے، جسے یہاں کے لوگ خاصی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔
جھمر سے دل کی گہرائیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک قسم کی بے تابی ہوتی ہے جو خوشیوں کے موقع پر جھمر کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

نیو پاکستانی کرنسی

Posted on 23/11/2006. Filed under: پاکستان |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عالم اسلام میں ”دوسرا اسرائیل“ قادیانی ریاست کامنصوبہ

Posted on 18/11/2006. Filed under: پاکستان, اسلام, سیاست |

قادیا نیوں کا اپنےنام نہادمذہب اور کفریہ عقا ئدکی بنیاد رکھنےکےروز اول سےہی یہ پلان تھا کہ وہ ہندو پاک میں اپنی علیحدہ ریاست قا ئم کریں گےچاہےاسکےلیےانہیںکتنی ہی جانی ومالی قربانی کیوں نہ دینی پڑےعرصہ دراز سےاس پر عمل درامد کرنےکےلیےتمام قادیانی ملازمین اپنی تنخواہوں کا 7فیصد اور کاروباری حضرات بھی کم و بیش اتنا ہی سرمایہ اپنی جماعت کو جمع کرواتےچلےآرہےہیں پاکستان بننےکےبعد انہوں نےربوہ (موجودہ اسلام نگر) کواس کےلیےمنتخب کیا یہ علاقہ تین اطراف سےپہاڑیوں سےگھرا ہوا ہےاور چوتھی طرف دریا بہہ رہاہےربوہ میں رابطہ کا صرف ایک پل ہےجو کہ دریا پر بنا ہوا ہےاسلئےقادیانی منصوبہ سازوں نےریاست کےاندر ریاست قائم کرنےکےلیے یہ جگہ مخصوص کر ڈالی اور قادیانیوں نےاس جگہ پر ہزاروں ایکڑ نہیںبلکہ کئی میل لمبا چوڑا علاقہ اونےپونےداموں خرید لیا جسمیں انہیں تمام حکمرانوں کی بھی آشیر باد حاصل رہی قادیانی ریاست کےقیام کا انکا زیر زمین پلان ہی انکا اولین مقصد ہےجس طرح سےیہودیوں نےاسرائیل کی صورت میں عالم اسلام کےسینےمیں خنجر گھونپ رکھا ہےاور پورا عالم کفر اور لادینی جمہوریت کےچیمپئن اسکے ممدومعاون بنےہوئےہیں اسی طرح انکی ہی پیروی کرتےہوئےاور تمام کفریہ عقائد کی علمبر دار قوتوں کی ہی مدد سےقادیانی ربوہ میں مرزائی اسٹیٹ بنانا چاہتےہیں اسی مقصد کےحصول کےلیےانہوں نےسول اور فوج کےاعلٰی عہدوں پر قبضہ کیا پاک فوج میں عملاًمرزائی اجتماعات بھی منعقد کرتےہیں حتیٰ کہ کسی مرتد کےمکان کےبڑےہال کو عبادت و اجتماع گاہ قرار دے لیتےہیں ایک دوسرےکی ناجائز امداد کر کےاعلٰی عہدوںپر قابض ہیں اور بوقت ضرورت حکومت کی وفاداری سےبھی آنکھیںپھیر لیں گےاور قادیانی سربراہ کےحکم کی بجا آوری ان کی ترجیح ہو گی ۔قادیانیوں نےربوہ میں دریا کےقرب وجوار کی طرف توکئی ایکڑ زمین خرید کر خالی چھوڑ رکھی ہےاسمیں نہ تو کوئی فصل اگاتےہیں اور نہ ہی کوئی درخت بلکہ پہلےسےموجود تمام درخت جڑ سےاکھاڑپھینکےہیں لیکن اس زمین کو عملا ًمستقل طور پر پانی لگاتےہیں تا کہ زمین پختہ رہےاور بوقت ضرورت اسکو فوراً آناًفانا ًائیرپورٹ میں تبدیل کر کےیہاں پر جنگی طیارےاتارےجاسکیں اور ریاست کا منصوبہ تکمیل پا سکے۔ہمارےوزیر خارجہ ، وزیر اعظم ، حتیٰ کہ صدر پاکستان تک نےجو ملاقاتیں امریکیوں سےاعلیٰ سطح پر کی ہیں ان میں یہ معاملہ سر فہرست رہا اور اندرونِ خانہ سب کچھ طےپا گیا ۔ امریکن افواج جو کہ پاکستان کےاندر اور بارڈرز پر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور پہلےبھی 9/11 کےواقعہ کےبعد یہیں سے” اسلامی افغانستان“ کو تباہ و برباد کر کےقبضہ کر چکی ہیں اور آج کل نت نئےعلاقہ پر پاکستانی بارڈر کےاندر جب چاہتی ہیں حملہ آور ہو کر مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر ڈالتی ہیں جسکےلئےموجودہ 87 افراد کے باجوڑ میںقتل کےواقعہ پر کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہی۔ اسلئےربوہ جیسی کسی جگہ جہاں کفر کےروپ میں مسلمان کہلوانےوالےموجود ہیں انکا حملہ آور ہونا یا قبضہ میں امداد کر ڈالنا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ صدر پاکستان کی کئی بار اسرائیل کو تسلیم کرنےکی طرف تجاویز اور تردید یںبھی ا یسےاقدام کرنےمیں ممد و معاون ہیں عالم اسلام کےممالک کےسربراہوں یا بادشاہوں نہیں بلکہ صحیح العقیدہ عوام الناس کا اندرونی دبائو انہیں ایسےاقدام سےباز رکھےہوئےہی۔ ہمارےحکمرانوں کی تو اسلام دشمن پالیسیوں سےہی یہ سب کچھ ممکن ہوتا نظر آتا ہے۔ مرزائیوں کےسر براہ کی طرف سےکسی بھی افراتفری کو بنیاد بنا کر قادیانی ریاست کا اعلان ہوتےہی امریکن جنگجو طیارےفوری طور پر ربوہ ایئر پورٹ پر اتریں گےاور پاکستان کےموجودہ حکمرانوں کی آنکھ مچولی کی وجہ سےیہ تعمیر ہو جائیگی۔ قادیانیوں نےاطراف میں موجود پہاڑیوں کی غاروں میں جدید ترین اسلحہ جمع کر رکھا ہےجو کہ بوقت ضرورت انکےکام آسکےگا ملک بھر سےنہیں بلکہ پوری دینا سےقادیانیوں کو اسرائیل کی طرح یہاں لا کر جمع کرنےکےلئےقادیانی ہزاروں ایکڑ زمین اطراف میں خرید چکےہیں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کو سب معلوم ہےمگر سرکاری ہونےکےناطےانکا وطیرہ ہر دور میں یہی رہا ہےکہ موجود حکمرانوں کےنظریات کےمطابق ہی وہ رپورٹس مرتب کر کےبھجواتےہیں تاکہ مقتدر افراد کےماتھوں پر بل نہ آسکےاور ایسےملازمین کا دال دلیہ چلتا رہے اور امریکنوں کا تو اسمیں مفاد موجود ہےکہ وہ پھر کھل کر یہاں سےپاکستان ، افغانستان ، ہندوستان ، ایران حتیٰ کہ چین تک کو” کنٹرول “ کر سکیں گےاور انہیں کسی حکومت سےاپنےمذموم مقاصد کی تکمیل کےلئےبا رگیننگ کرنےکی ضرورت نہ رہےگی یہاں تک کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی نام نہاد امداد دیکر اپنےمقاصد و مطالبات پورےکرنےکروانےسےبھی جان چھوٹ جائیگی اور ناجائزوغیر جمہوری قابض حکمرانوں کی سر پرستی کرتےہوئےجو بدنامی کا دھبہ اُن پر ہےوہ بھی نہ رہےگا۔ ویسےبھی اسرائیل کی طرح عالم اسلام میں دوسرےاسرائیل کا قیام عمل میں آ جائےگا پوری دنیا جانتی ہےکہ مرزائیوں (قادیانیوں) یا یہودیوں کی پالیسیوں اور عقائد و نظریات میں کوئی فرق نہ ہی۔دونوں ایک ہی تھیلےکےچٹےبٹےہیں پاکستانی تو حیران و ششدر ہیں کہ قادیانیوں کےافواج ِ پاکستان میں ملازمتیں حاصل کرنےپر اب تک کیوں پابندی نہ لگائی جا سکی ہی؟ حالانکہ مرزائیوں کےنام نہاد کفریہ مذہب کی بنیاد ہی انگریزوںنےاس خود کاشتہ پودےکےذریعےمسلمانوں کےدلوں سےجہادی نظریات کو اکھاڑنےکےلئےکی تھی تا کہ وہ ہندو پاک میں مزید عرصہ مقتد
ر رہ سکیں مگر وہ پلان اس وقت کا میاب نہ ہو سکا۔ قادیانی جو خدا، رسول ودیگر انبیاءکسی کو نہ مانتےہیں نہ انکا عقیدہ ہےتو پھر وہ جہاد فی سبیل اللہ کوکیسےمان سکتےہیںہماری فوج کا چونکہ نعرہ ہی جہاد فی سبیل اللہ ہےاسلئےپاک فوج کےنظریات سے متصادم کسی دوسرےنظریہ کےعلمبرداروں کی بھرتی ویسےہی قانون و آئین کےمطابق نہ ہی۔ برطانیہ کی سینکڑوں برس سےقائم حکومت جب مسلمانوں کےشعور سےقریب الختم ہوئی تو انہوں نےڈوبتےکو تنکےکا سہارا کےمصداق مرزا غلام احمد نامی شخص کو مسلمانوں کےدلوں سےغیرت ایمانی ، حُبِ رسول اور جہادی نظریات کو ختم کرنےکا کام سونپا۔ اُس وقت با وجوہ وہ کامیاب نہ ہو سکا کہ بہتےہوئےدریائوں کا رُخ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک زوروں پر تھی اور علماءکی قربانیاں اور انگریز اقتدار کی طرف سےانکی قتل و غارت عروج پر تھی اسلئےانگریزوں کو یہاں سےجانےمیں ہی عافیت محسوس ہوئی مگر اپنا کاشتہ پودا نہ اکھاڑا اور مسلسل آج تک انکا مشن پورا کرنےکےلئےقادیانی جماعت تگ و دو میں مصروف ہےپورےملک میں نہیں بلکہ عالم اسلام میں بھی ہر جگہ رسل و رسائل کےذریعےلٹریچر کی بھر مار ہی۔ حکومتی چیک ا ینڈ بیلنس نہ ہونےکی وجہ سےربوہ میں اب بھی عملاً انکا کنٹرول ہےکوئی ملازم ان کی جازت کےبغیر وہاں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ٹرانسفر ہو کر آبھی جائےتو قادیانی اسکا نا طقہ بند کر دیتےہیں یہاں تک کہ با لآخر اسےیہاں سےراہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرارِ اسلام نےیہاں پر مساجد تو قائم کر رکھی ہیں مگر وہ بھی صرف سالانہ جلسہ کی حد تک ہیں عملاً مسلمانوں کا کوئی تبلیغی یا تعلیمی مشن یہاں پر کام نہیں کر رہا ۔ گو کہ 7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو قومی اسمبلی پاکستان نےمتفقہ قرار داد کےذریعےغیر مسلم قرار دیا تھا مگر جو قوانین مرتب کئےگئےان پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ہی۔ ساری دنیا جانتی ہےکہ 29 مئی1974 کو ربوہ کےسٹیشن پر ر میڈیکل کالج ملتان کےنہتے187 طلبہ جو کہ سوات کی سیر سےواپس آرہےتھےکو قادیانیوں نےمسلح حملہ کر کےزخمی کر ڈالا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وقوعہ سےتین روز قبل ہی ملتان سےسوات جاتےہوئےجب چناب ایکسپریس ربوہ (اسلام نگر) سٹیشن پر رکی تو راقم الحروف کے1971 کےمرتب کردہ 16 صفحہ کےپمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو تقسیم کیا تھا جس پر اسٹیشن پر موجود قادیانی سیخ پا ہوگئےتُو تکار اور معمولی ہاتھا پائی کےبعد ٹرین چل پڑی مگر قادیانیوں کا اپنی مستقبل کی تصوراتی نام نہاد ریاست کے” دارالخلافہ“ جیسےمقام پر ایسا معمولی واقعہ ان کےمزاج شیطانی کو شدید ناگوار گذرا کہ پورےملک سےمسلح قادیانی نوجوان اکٹھےکئےگئےاور واپسی پر ان مسلح منکرینِ ختم نبوت وجہنم واصلین نےحملہ کر کے187 مسلمان طلبہ کو شدید زخمی کر ڈالا جس کی باز گشت راقم الحروف اور ایک اور سٹوڈنٹس یونین کےعہدیدار ارباب عالم کی پریس کانفرنس سے پوری دنیا کےریڈیو اور اخبارات میں سنی گئی۔ اور تمام پرنٹ میڈیا اخبارات و رسائل نےدوسرےدن خدا اور رسول کےدشمنوں کی اس شرمناک حرکت کو شہہ سرخی کےطور پر شائع کیا اور جس پرپورےملک کےصحیح العقیدہ اور مسلمہ مکاتیبِ فکر کےعلماء نےاکٹھےہو کر قادیانیوں کےخلاف تحریک کا آغاز کر دیا ۔ جب اس واقعہ کی تحقیقات ہائیکورٹ کےفُل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی نےکی تو بھی وقوعہ کی بنیاد اسی پمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو قرار دیا گیا۔عدالت نےقادیانیوں کی تمام کفریہ کتب او ر لٹریچر سےاس پمفلٹ میں درج حوالہ جات کا موازنہ کر کےاسےحرف بحرف درست قرار دیا تھا۔اس پمفلٹ کو آج کل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جس کا ہیڈ آفس ملتان میں ہےمختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قرارداد سےچند روز قبل قائد حزبِ اختلاف مولانا مفتی محمود مرحوم ، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، اور دیگر علماءو ممبران اسمبلی نےقادیانیوں کےکفریہ عقائد اسمبلی کےفلور پر بیان کئےتو ممبران اسمبلی دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئی۔ خود راقم الحروف نےمذکورہ پمفلٹ قائد حزب اقتدار شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کیا تو وہ ان کفریہ حوالہ جات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“۔ حتیٰ کی تمام ممبران قومی اسمبلی نےان کفریہ عقائد کےمندرجات / حوالہ جات کو پمفلٹ کےذریعےدیکھا اور لاہور ہائیکورٹ کےفُل بنچ کی تحقیقات کی رپورٹ کو مدِ نظر رکھتےہوئےمشترکہ قرار دا دکےذریعےقادیانیوں کو غیر مسلم قرار دےڈالا۔ آج ضرورت اس امر کی ہےکہ تمام مکاتیبِ فکر کےمسلمان قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں ، شر انگیزیوں اور زیر زمیں خفیہ طور پر ” قادیانی ریاست “ کےقیا م کی مذموم کوششوں کےتدارک کےلئےمتحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں ۔ فوج میں سےان کا اثر و رسوخ ختم کرنےکےلئےتمام قادیانیوں کو فوج میں سےنکالا جائےیا کم از کم کرنل یا س سےاوپر کےعہدہ کےتمام ملازمین کو فوراً فارغ کیا جائےتاکہ ان کا پا کستان میں موجود امریکی افواج اور خود ہماری پاک فوج میں موجود قادیانیوں کی امداد سےقادیانی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ پاکستانی مسلمان موجودہ حکمرانوں کےعزائم کو ناکام بنانےکےلئےبھی متحد و متفق ہو کر دبائو ڈالیں تاکہ ہماری خارجہ اوران
درونی پالیسی قرآن و سنت اور ایٹمی پاکستان کےنظریات کےمطابق مرتب ہو سکی۔ اور تمام سامراجی ممالک کی غلامی سےمسلمان آزاد ہو سکیں۔اگر عالم اسلام کےتمام ممالک سےتعلقات خراب ہونےکا خوف نہ ہوتا تو جس طرح امریکہ کی تمام دیگر پالیسیوںپر عمل درآمد ہو رہا ہےاسی طرح اسرائیل کبھی کا تسلیم کیا جا چکا ہوتا۔ ایسا اعلان چونکہ پاکستان کی پورےعالم اسلام میں شدید بدنامی کا باعث بنتا اس لئے اس کی جگہ دوسرےپلان پر عمل در آمد کا منصوبہ بنایا گیا ہی۔ کہ قادیانی ریاست کا اگر اعلان ہو بھی جائےتو اس پر حکومتی سطح پر اس قدر شدید ردِ عمل کا اظہار نہ کیا جائے اور پاکستان کےاندر اس کڑوی گولی کو نگلوانےکےلئےتجاویز مرتب کی جائیں ایسی تجاویز کےلئےاسلام آباد میں کرپٹ لادین بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹی دن رات مصروف عمل ہے ایسےاعلان کو موجودہ حکومت آسانی سےہضم کر سکتی ہے۔ سابق روایات کی طرح صرف اتنا ہی تو کہنا پڑےگا کہ اگر ہم امریکی افواج کےاس اقدام کی مخالفت کرتےتو وہ پورےملک پر قبضہ کر لیتےہم کیا کریں ہم تو صرف اپنےملک کی حفاظت کےلئےاور آپ کی جان و مال کو بچانےکےلئےایسا کر رہےہیں اگر چند میل میں قادیانی ریاست قائم ہو بھی گئی ہےتو سیاچین کی طرح ہمیں کیا فرق پڑتا ہی؟ پہلےبھی تو ربوہ (اسلام نگر) میں انہی کا کنٹرول تھا۔وغیرہ وغیرہ۔ قادیانیوں کےاسی پلان کی تکمیل کےلئےاور موجودہ حکمرانوں کی امداد کےبل بوتےپر ہی تو قادیانیوں کےخلاف کسی قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکا حتیٰ کہ حکومت کی مکمل آشیر باد کی وجہ سےکوئی قادیانی اپنےنام کےساتھ لفظ قادیانی یا مرزائی لکھنےکو تیار نہ ہی۔ نہ ہی ووٹر لسٹ میں قادیانی اپنےآپ کو غیر مسلموں کی فہرست میں یا قادیانیوں کی لسٹ میں درج کرواتےہیں۔ سانپوں کی طرح مسلمانوں کی صفحوں میں گھسےہوئے بہروپئےمرزائیوں کی سر گرمیاں عروج پر ہیں انکی سازشوں اور ” ڈنگ مارو بل میں گھس جائو“ جیسی پالیسی سےپوری ملت اسلامیہ زخمی زخمی اور لہو لہان ہی۔ ملک بھر میں موجود اہلِ سنت کےمدارس و مساجد اور اہلِ تشیع حضرات کی امام بارگاہوں پر راکٹوں ، دستی بموں اور کلاشن کوفوں کےحملوں کا پلان یہی لوگ مرتب کرتےہیں اس سلسلہ میں سرمایہ بھی مہیا کرتےہیں مسلمانوں کےمتفقہ علیہ نظریات اور مسالک میں معمولی اختلافات کی جڑیں گہری کر رہےہیں اس طرح سی1974 کی تحریک ختم نبوت میں گلی کوچوں کےاندر اپنی پٹائی اور املاک کےنقصان کا بدلہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائو کی پالیسی اختیار کر کےخوب خوب لےرہےہیں اور ہم خواب خرگوش میں مدہوش پڑےہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ/ چیف جسٹسزہائی کورٹس / حکمرانوں میں صحیح العقیدہ مسلمان حضرات / آئی جی صاحبان پولیس صوبہ جات/ وزارت داخلہ بھی اس کا سو یو موٹو ایکشن لیکر اس کےتدارک کےلئےاقدامات کریں۔ نوٹ: دنیا بھر کےتما م اخبارات ، رسائل و جرائد کےایڈیٹرصاحبان/ انچارج آڈیو وڈیو، ریڈیو و پرنٹ میڈیا اس کالم کو خدا اور اسکےرسول کی محبت کےتقاضوں اور ملکی سالمیت کےتحفظ اور دینی اقدار کو روند ڈالنےکی قادیانیوں کی پالیسیوں سےنجات کےلئےاس کو ضرور بالضرور من و عن شائع و نشر کر کےمشکور فرمائیں۔ دیگر افراد بھی اپنے احباب و عزیز و اقارب تک اس پیغام کو لازماً پہنچائیں اور ثوابِ دارین حاصل کریں۔

ڈاکٹر میاں احسان باری راہنما پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین

چیئرمین :انجمن فلاح مظلوماں پاکستان+ باری فری سروس پاکستان

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

چنگیر

Posted on 15/11/2006. Filed under: سرائیکی وسیب |

کھجور کے پتوں سے تیارکردہ چنگیریں ہمارے علاقے کی ثقافت کی ایک علامت تصور کی جاتی ہیں، کھجور کے پتوں سے تیارکردہ چنگیریں اپنے اندر سادگی اور خوبصورتی کا حسیں امتزاج رکھتی ہیں۔ ان کی دو اقسام ہوتی ہیں سادہ چنگیریں اور رنگین چنگیریں۔ سادہ چنگیروں میں کھجور کے عام پتے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ رنگین چنگیروں میں کھجور کے پتوں کو مختلف رنگوں میں رنگ کر مہارت کے ساتھ اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ یہ دیکھنے میں انتہائی خوبصورت نظر آتی ہے۔ دیہاتوں میں اب بھی مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے کھانا چنگیروں میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، البتہ جو لوگ شہری رکھ رکھاؤ کے عادی ہیں وہ ڈنرسیٹ اور پلاسٹک یا شیشے کے برتنوں میں کھانا پیش کرنا قابل فخر بات سمجھتے ہیں، جبکہ چنگیروں میں کھانا پیش کرنا ہمارے علاقے کی روایت اور ثقافت ہے اس سے ایک تو سادگی کا تاثر ملتا ہے دوسرا اگر ایک طرف قیمتی ڈنرسیٹ ہوں اور دوسری طرف سادہ چنگیروں میں کھانا موجود ہو تو تہذیب و ثقافت کے اظہار کے طور پر چنگیروں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔
ہمارے وسیب میں چنگیریں گھروں میں تیار کی جاتی ہیں، اور ان کی فروخت سے نسبتا کم منافع حاصل کیا جاتا ہے، آج کے جدید دور میں بھی چنگیریں دکانوں پر فروخت ہوتی نظر آتی ہیں، دیہات والے رشتے دار جب بھی شہر آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ چنگیروں کا تحفہ لازمی ساتھ لاتے ہیں، کچھ لوگ تو خاص تو فرمائشی طور پر بھی چنگیریں بنواتے ہیں۔
چنگیر کی تیاری میں تازہ کھجور کے پتے استعمال ہوتے ہیں، چنگیروں میں بنائے گئے خوش نما ڈیزائن آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں اور ان کی خوبصورتی سے بنانے والے کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض چنگیروں کے کنارے پر لہریے دار ڈیزائن بھی بنا دیا جاتا ہے، اور بعض کے درمیان میں ایک ایک پھول بنا دیا جاتا ہے جس سے اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے، چنگیروں کے علاوہ کھجور سے پتوں سے تیارکردہ ناشتہ دان بھی اپنے مثال آپ ہیں ان میں کھانا رکھا جاتا ہے یا کھانا کہیں لے جانے میں استعمال ہوتا ہے، چنگیریں ہمارے ثقافت کا حصہ ہیں مگر شہروں میں یہ روایت ختم ہوتی جا رہی ہے اب ان کی جگہ ڈنرسیٹ، پلاسٹک یا شیشے کے برتن لے رہے ہیں البتہ دیہاتوں میں اب بھی چنگیریں ہمارے کلچر اور تہذیب کی علامت کے طور پر تیار کی جاتی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ڈبل سواری

Posted on 11/11/2006. Filed under: طنز و مزاح |

 

ڈبل سواری! مگر یہاں تو ایک بائیک پر پانچ سوار ہیں۔اب تک تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ ایسے نظارے صرف پاکستان میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں مگر اس تصویر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہر جگہ ایک ہی حال ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

١٩٦٠ کا دبئی تصویروں میں

Posted on 10/11/2006. Filed under: تاریخ |



Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اب لگ پتہ جائےگا

Posted on 07/11/2006. Filed under: ٹیکنالوجی, طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...