واشنگٹن کیلئے ایک اور صدمہ

Posted on 30/11/2006. Filed under: سیاست |

واشنگٹن کو پہنچنے والے پے در پے صدمات میں ایک قابل ذکر اضافہ یہ ہوا ہے کہ وینزویلا کے ہوگو شاویز، بولیویا کے ریواموراس، چلی کی شیل بیشلٹ، میکسیکو کے لوپیز اوبراڈور اور نکاراگوا کے ڈینیل اورٹیگا کے بعد لاطینی امریکا کے ایک اور تیل پیدا کرنے والے اہم ملک ایکواڈور کے ریفائل کورایا (RAFAEL CORREA) بھی بائیں بازو کی امریکا دشمنی کی لہر پر سوار ہو کر بھاری اکثریت سے صدارتی انتخابات جیت گئے ہیں اور یوں کیوبا سے ایکواڈور اور چلی تک تقریباً پورے لاطینی امریکا کی سیاست بائیں بازو کے امریکا مخالف نظریات کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ عراق، افغانستان، فلسطین، اسرائیل، بیروت اور ایران کے مسائل اور مصیبتوں میں پھنسی ہوئی دنیا کی واحد سپرپاور زخمی ڈائناسور کی طرح پہلو بدلنے سے بھی لاچار ہے اور ان نئے اور زیادہ گہرے صدمات کی طرف توجہ دینے کی فرصت اور اہلیت نہیں رکھتی۔ لاطینی امریکا کو ریاست ہائے متحدہ امریکا کی مخالفت پر اُکسانے اور ابھارنے میں کیوبا کے فیدل کاسترو اور وینزویلا کے ہوگوشاویز یا بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی اداروں کا ہاتھ ہے کہ جنہوں نے واشنگٹن کی خواہشات اور سامراجی مقاصد کے تحت لاطینی امریکا کے ملکوں کی معیشت کو لوٹنے کا کوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا اور معیشت کی بدنام زمانہ ”ٹریکل ڈاؤن“ یعنی چھلک جانے والی معیشت کو رواج دینے کی کوشش کی۔ امیروں کو اور زیادہ امیر بنانے والی اس عوام دشمن معیشت سے لاطینی امریکا کے غریب محنت کشوں کے لئے تو کچھ فائدہ نہ چھلک سکا مگر عوام الناس میں سوشلسٹ معیشت اپنانے کی خواہش ضرور ”ٹریکل ڈاؤن“ ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی سونا کی چڑیا کو نوآبادیاتی پنجرے میں بند کرنے کی خواہش میں غلطی سے امریکا دریافت کر بیٹھنے والے کولمبس کے بحری بیڑے نے جس ساحل سمندر پر لنگر ڈالا تھا وہ وینزویلا کا ساحل تھا اور اس ملک کا ”وینزویلا“ نام بھی کولمبس نے ہی دیا تھا کہ وہ اسے وینس جیسا ملک سمجھے تھے اور ”وینزویلا“ کا مطلب بھی ”وینس جیسا“ ہی ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وینزویلا کے بائیں بازو کے رجحانات کی کامیابی نے کیوبا اور فیدل کاسترو کو نئی زندگی دی ہے اور یہ وینزویلا کے ہوگوشاویز کے خلاف واشنگٹن والوں کی خوفناک اور اتنی ہی احمقانہ سازشوں کا نتیجہ ہے کہ ہوگویاویز نے امریکا کی سرمایہ دارانہ معیشت کی اجارہ دارانہ پیش قدمی کے خلاف سوشلسٹ معیشت کی جانب توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی اور پھر ہوگوشاویز کی تقلید میں پورے لاطینی امریکا میں واشنگٹن، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف تحریکوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ وینزویلا سے یہ تحریک بولیویا میں، وہاں سے چلی، میکسیکو، ایکواڈور، برازیل، نکارگوا، پیرو اور پورے لاطینی امریکا میں پھیل گئی۔ ایکواڈور کے انتخابات میں وہاں کے سب سے زیادہ امیر جاگیردار اور کیلے کے باغات کے مالک الوارو نبوآ (ALVARO NOBOA) کو 32 فیصد کے مقابلے میں 68 فیصد ووٹوں سے شکست دینے والے ریفائیل کورایا امریکا کے سب سے زیادہ رجعت پسند دانشور پیدا کرنے والی ہارورڈ یونیورسٹی سے معیشت میں پی ایچ ڈی کرنے والے انقلابی ہیں جنہوں نے صدارتی انتخابات کے نتائج سنتے ہی ورلڈ بینک کے ایکواڈور میں نمائندے کو فوری طور پر ملک چھوڑ جانے کا حکم جاری کیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ کیوبا کے صدر کاسترو اور وینزویلا کے صدر ہوگوشاویز کی تقلید میں واشنگٹن کی ہر انقلاب دشمن سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ایکواڈور ری پبلک آف ایکواڈور کہلاتا ہے، 1986ء میں اس کی آبادی 96 لاکھ پچاس ہزار تھی ملک کا رقبہ ایک لاکھ نو ہزار 483 مربع میل ہے جو کہ کولوراڈو کے برابر بنتا ہے۔ 1633ء میں سپین نے اس پر قبضہ کیا تھا 1822ء کے مئی کی 24 تاریخ تھی جب ایکواڈور کی آزادی کے متوالوں نے سپین کی غاصب فوجوں کو شکست دی تھی۔ ایکواڈور پر 1968ء سے سول اور فوجی حکمرانوں کی حکمرانی چلتی آئی ہے۔ بیشتر عرصہ فوجی ڈکٹیٹروں کی حکومت کا تھا۔ 1972ء سے ملک کی معیشت کا انحصار معدنی تیل کی برآمد پر ہے مگر ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کی بے جا مداخلت نے ملک کی معیشت کو اس قدر تباہ کیا کہ 1987ء میں اس کے غیرملکی قرضوں کا بوجھ آٹھ ارب ڈالروں سے بھی بڑھ گیا اُسی سال شدید زلزلے کی وجہ سے بیس ہزار لوگوں کے بے گھر ہو جانے کے علاوہ تیل سپلائی کرنے والی پائپ لائنیں بھی تباہ و برباد ہو گئیں۔ ایکواڈور اس وقت روزانہ پانچ لاکھ چالیس ہزار بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے جس کا بیشتر حصہ امریکا امپورٹ کرتا ہے۔ 1992ء میں امریکا کے اشارے پر ایکواڈور کے حکمران تیل کی عالمی تنظیم سے باہر نکل آئے تاکہ امریکا وہاں سے زیادہ تیل درآمد کر سکے۔ ملک کے نئے بائیں بازو کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ایکواڈور تیل کی عالمی تنظیم میں دوبارہ شامل ہو گا اور تیل کی نئی قیمتیں مقرر کرے گا اور تمام غیرملکی قرضوں کے بارے میں تمام شرطوں کو مسترد کرتے ہوئے نئے مذاکرات کی دعوت دے گا اور ملک کے تمام پیداواری وسائل کو قومی تحویل میں لے لے گا اور لاطینی امریکا کے ان تمام عناصر اور سیاسی تحریکوں کی مدد اور حمائت کرے گا جو واشنگٹن کی سازشوں کا نظریاتی مقابلہ کر رہی ہیں۔ غور کرنے اور توجہ دینے والی حقیقت یہ ہے کہ مغربی ملکوں میں جمہوریت حالات کو جوں کا توں رکھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس کے تحت امیر حکمران طبقے جمہوری اداروں پر اپنی طاقت، حکومت اور مالی استعداد کے بل بوتے پر قبضہ کر کے غریب او
متوسط طبقے کو اپنے قابو میں رکھتے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جب کہ لاطینی امریکا میں جمہوریت وہاں کی طبقاتی جدوجہد میں عوام کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنائی جا رہی ہے۔ عوام الناس اپنی عددی برتری کے بل بوتے پر حالات اور حالاتِ کار کو تبدیل کرنے کے لئے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ہمارے پاکستان اور ہندوستان جیسے ملکوں میں مغربی طرز کی جمہوریت کی سرگرمیوں میں عام لوگوں کی دلچسپی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ لاطینی امریکا میں ستر سے اسّی فیصد لوگ جمہوری انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ مغربی دنیا وینزویلا کے ہوگوشاویز کو جمہوریت کا دشمن قرار دیتے ہیں اور گزشتہ چھ سالوں میں سات مرتبہ جمہوری انتخابات میں کامیاب ہونے والے اور ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ ووٹ لینے والے ہوگوشاویز واقعی مغربی طرز کی جمہوریت کے دشمن ہیں مگر تبدیلی اور انقلاب کو قریب لانے والی جمہوریت کے دوست ثابت ہو رہے ہیں۔گریبان ۔ منوبھائی
روزنامہ جنگ ٣٠ نومبر

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: