Archive for دسمبر, 2006

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

Posted on 29/12/2006. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
غالبآئین جوانمرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے بندوں کو آتی نہیں رو باہی
اقبال

پاکستان کی تاریخ میں کئی نام یاد رکھے جائیں گے۔
صدر مرزا فوج کے جنرل ایوب پر اعتماد کے حوالے سے۔
جنرل نیازی شکست اور شرمندگی کے حوالے سے۔
ذوالفقار علی بھٹو ایٹم بم کے حوالے سے۔
ضیاءالحق اسلام نفازی کے حوالے سے۔
بینظیر بھٹو سرے محل کے حوالے سے
نواز شریف ملک بدری کے حوالے سے
صدر مشرف وعدہ خلافی کے حوالے سے۔

آج میں آپ کو گزری نصف صدی کے اقوالِ زریں سنانا چاہتا ہوں جو بہت صحت افزا ہیں۔ ایک اہم خصوصیت ان کی یہ ہے کہ یہ ہمارے اپنے ہیں، امریکہ، یورپ یا اسامہ بن لادن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ دوسرا وصف ان میں یہ ہے کہ یہ صرف خود ہی زریں نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی زبان سے نکلے ہیں جو خود زر یعنی سونا چاندی سے کھیلنے کے شوقین تھے۔ ان زریں اقوال کو حتی الوسع تاریخی تسلسل سے ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ اس خداداد اور ابلیس خوردہ جمہوریہ کے بادشاہوں کے چہرے ذرا صاف دکھائی دے سکیں اور عام شہری ہونے کے ناطے یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ہمارا اصل مقام کیا ہے اور کل طلوع ہونے والا سورج ہمارے لئے کتنی جاں پرور صبح لے کر آئے گا۔

١۔ فوج نے اس لئے اقتدار سنبھالا ہے کہ ملک کا انتظامی اور اقتصادی ڈھانچہ ٹوٹ چکا تھا۔ اس کو بحال کر کے اقتدار عوام کو لوٹا دیا جائے گا۔
صدر ایوب ۔ اکتوبر ١٩٥٨ء

٢۔ ہم کشمیر کے لئے سو سال، ہزار سال تک لڑیں گے۔
وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو ۔ سلامتی کونسل سے خطاب، پولینڈ کی سفارشی قرارداد پھاڑتے ہوئے، ١٩٦٥ء دوران جنگ

٣۔ آپ کا بہت تجربہ ہے، آپ کوئی کاروبار شروع کر لیں۔ سرکار لائسنس اور سہولت مہیا کرے گی، کوئی مل لگا لیں۔
صدر ایوب کی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نجی گفتگو، بھٹو کے استعفے کے بعد، تاشقند سے واپسی پر ١٩٦٦ء ابتدائی مہینے۔

٤۔ انتظامیہ میں اقتدار ی جماعت کی مداخلت ایک بے جا الزام ہے، پارٹی سسٹم پر مبنی انتخاب کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ فاتح سیاسی جماعت کا انتظامیہ کی مشین پر قبضہ ہو جائے۔
ذوالفقار علی بھٹو کا بلوچستان کی نوکر شاہی سے خطاب ١٩٧٥ء۔

٥۔ بھٹو سرکار اور پی این اے کے سہالہ ریسٹ ہاؤس والے مذاکرات ناکام ہو چکے تھے۔ تمام ریکارڈ پر ہم نے قبضہ کر لیا، وقت پر کاغذات قوم کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔
جنرل ضیاءالحق کا قوم سے ٹی وی خطاب، ١٠ بجے شام ٥ جولائی١٩٧٧

٦۔ یہ ریفرنڈم اس لئے کرایا جا رہا ہے کہ پاکستانی قوم کی رائے لی جائے کہ وہ ملک میں نظامِ اسلام کا نفاظ چاہتے ہیں یا نہیں اگر اس کا جواب اکثریت نے ہاں میں دیا تو اس کا مطلب ہے کہ میں، فدوی ضیاءالحق غازی پانچ سال تک صدر رہوں گا۔
ریفرنڈم سے پہلے صدر ضیاءالحق کا قوم سے ٹی وی خطاب۔

متشے از خروارے، جھوٹ اور نقص ایمان کے درخشاں ستارے، پاکستان کا ستارہ (١٤اگست١٩٤٧) کی تاریخ کے حوالے سے اور تقسیم ہند کے لمحے کے حوالے سے نجومیوں نے ‘مشتری‘ یعنی Jupiter تعین کیا ہے، علم نجوم کی رو سے یہ ستارہ خوش بختی، استقامت اور خوشحالی کا ستارہ سمجھا جاتا ہے۔ مجھے تو اس بات یقین ہے کہ یہ مملکت جو درج بالا شرمناک خیالات اور اصولوں والے، جھوٹے، ایمان سے خالی، دولت کے لالچی عرف ہوس خیلی حاکموں کے باجود آج بھی قائم ہے، یہ تمام معجزہ مشتری کا اور کرم اللہ کا ہے۔
اس قسم کے اور ان بہتر اقوالِ زریں اور بھی بہت ہیں اور پھر آج کل صدر محترم کا باؤلا قافلہ، قافلہ سالار شوکت عزیز، چوہدری برادران و ہمنوا اور داعی حق مولانا و قاضی صاحب شب و روز ان اقوالِ زریں میں بڑی محنت سے اضافہ فرما رہے ہیں، بڑے دلچسپ اور نظر ثانی شدہ وڈیو ٹیپ ہر روز شائع ہوتے ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ایک بھولی داستان

Posted on 24/12/2006. Filed under: پاکستان, تاریخ |

پاکستان کی تاریخ یوں تو متعدد قومی المیوں سے بھری پڑی ہے لیکن سب سے بڑا المیہ دسمبر 1971ء کا تھا جس میں ملک کے دو ٹکڑے ہو گۓ اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گيا ۔ قومی المیہ کا سلسلہ اس کے بعد بھی بند نہیں ہوا۔ ہم نے اپنی تاریخ سے کجھ سیکھنے کی بجاۓ ہیمشہ اسے چھپانے اور اس پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کیں جس کے نتیجے میں آج ہماری پوری تاریخ متنازعہ ہے۔ قائد اعظم کے انتقال سے لیے کر متعدد حادثات اور سانحوں تک تاریخ کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو متنازعہ نہ ہو۔ اس طرح 1971ء کا المیہ خاص طور پر جھوٹ ابہام اور غیر مصدقہ بیانوں سے بھرا پڑا ہے۔
اس سانحہ کے مرکزی کردار حمودالرحمن کمیشن رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کر کے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں۔پھر آحر حقیقت کیا ہے؟ یہ جاننے کی کوشش آج تک کسی نے نہیں کی۔
سانحہ مشرقی پاکستان کے سب سے مرکزی کردار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امیر عبداللہ خان نیازی المعروف جنرل نیازی ہیں۔ جنہوں نے 16دسمبر 1971ء کو بھارتی جنرل اروڑہ سنگھ کے سامنے سر نڈر کیا۔ آخر جنرل نیازی نے ایسا کیوں کیا؟ کیا انہیں سرنڈر کرنے کے احکامات جی ایچ کیو کی طرف سے ملے تھے؟ آخر وہ کون سے حالات و واقعات تھے جس کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ پیش آ گيا۔ جنرل نیازی ان تمام حالات و واقعات کے سب سے بڑے عینی شاہد ہیں۔ مشرقی پاکستان کے کمانڈر کی حیثیت سے انہوں نے ایک بھر پور جنگ لڑی لیکن کہیں نہ کہیں خامیاں ضرور تھیں جس کی وجہ سے شکست ہمارا مقدر بنی۔
جنرل نیازی کی یہ شہادتیں کبھی منظر عام پر نہیں آس کیں اس کی وجہ یہہے کہ ہم حقائق اور سچائی کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ اب یہ حقائق اور سچآئیاں جنرل نیازی کی شہادتوں کی زبانی منظر عام پر لانے کا مقصد یہ ہے کہ اب جبکہ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر آۓ کافی عرصہ گزر چکا ہے تو تصویر کا دوسرا رخ بھی سقوط مشرقی پاکستان کے سب سے بڑے مرکزی کردار کی زبانی ہی قوم کے سامنے لایا جاۓ تاکہ قوم صحیح صورتحال سے آگاہ ہو سکے۔یہ کتاب جنرل نیازی کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں ہے اور نہ ہی اسے اس تناظر میں دیکھا جاۓ۔ جنرل نیازی اس کتاب کے بعد بھی بہرحال ایک متنازعہ شخصیت ہی رہیں گے کیونکہ ان سے ایک ایسا کام ہو چکا ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اس کتاب کے راوی چونکہ جنرل نیازی خود ہیں۔ اس لیے کتاب میں نہ صرف ان کے نکتہ نظر اور موقف سے آگاہی حاصل ہو گی جنرل نیازی نے ان تمام حالات و واقعات کا بھی تفصیل سے احاطہ کیا ہے جو مشرقی پاکستان میں جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران پیش آۓ اور جن کی وجہ سے مشرقی پاکستان “بنگلہ دیش” بن گيا۔
(پیش لفظ ۔ ہتھیار کیوں ڈالے؟)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکست کی دستاویز کا متن

شکست کی دستاویز کے ترجمے سے اقتباس:
’پاکستان کی مشرقی کمان تسلیم کرتی ہے کہ بنگلہ دیش میں موجود افواج پاکستان کے تمام ارکان، مشرقی محاذ پر بھارتی اور بنگلہ دیشی فوجوں کے سربراہ، لیففٹینینٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ اس کا اطلاق پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کے تمام اراکین پر ہو گا، نیز نیم فوجی دستوں اور سویلین جنگجوؤں پر بھی۔ یہ تمام لوگ جہاں بھی ہوں، جنرل اروڑہ کی کمان میں لڑنے والے کسی بھی قریب ترین دستے کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔
اس دستاویز پر دستخط ہوتے ہی پاکستان کی مشرقی کمان جنرل اروڑہ کے ماتحت ہو گی۔ احکامات نہ ماننے کا مطلب اس معاہدے سے رو گردانی سمجھا جائے گا اور رو گردانی کرنے والوں کے ساتھ مروجہ جنگی قوانین کے تحت سلوک کیا جائے گا۔ ہتھیار ڈالنے کی شرائط میں سے کسی شق پر ابہام ہونے کی صورت میں جنرل اروڑہ کا فیصلہ آخری سمجھا جائے گا۔
جنرل اروڑہ یہ عہد کرتے ہیں کہ جو لوگ ہتھیار ڈال دیں گے ان کے ساتھ جینیوا کنونشن کے مطابق عزت و وقار کا سلوک روا رکھا جائے گا۔ وہ یہ ضمانت بھی دیتے ہیں کہ ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں اور نیم فوجیوں کی صحت و سلامتی کا خیال رکھا جائے گا۔

دستخط

لیفٹینینٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ، مشرقی محاذ پر بھارتی اور بنگلہ دیشی فوجوں کے جنرل آفیسر کمانڈنگ

لیفٹینینٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی، زون بی کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور مشرقی کمان کے سالار
بشکریہ بی بی سی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سال کی بہترین ہیئر کٹ

Posted on 22/12/2006. Filed under: طنز و مزاح |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حسبہ بل کا مکمل متن

Posted on 20/12/2006. Filed under: قانون، آرڈیننس |

سرحد اسمبلی سے منظور ہونے والے حسبہ بل کا مکمل متن (ترامیم سمیت)ادارہ حسبہ کا قیام
تمہید:
ہرگاہ کہ تمام کائنات میں حاکمیت اعلی اللہ تعالی کی ہے اور اس ملک خدا داد کے شمال مغربی سرحدی صوبہ میں عوام کے منتخب نمائندوں کو اسکے تفویض کردہ اختیارات ایک مقدس امانت ہیں۔
وہرگاہ کہ اسلامی نظام کی ترویج کا دارو مدار امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر ہے۔ اور اس مقصدکے حصول کیلئے علاوہ دیگر اقدامات کے ایک ایسے ادارہ حسبہ کا قیام بھی ضروری ہے جو معاشرے کے ہر طبقے بشمول خواتین ، اقلیت و کم سن بچوں کے حقوق کی موثر طور پر نگرانی کر سکے اور انہیں معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والی ممکنہ زیادتیوں اور ناانصافیوں سے بچا سکے۔
وہر گاہ کہ یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب کے حوالے سے محتسب کے دائرہ اختیارکو سرکاری انتظامیہ و دفاتر تک پھیلایا جائے تاکہ انتظامیہ میں ممکنہ ناہمواریوں ، ناانصافیوں ، زیادتیوں اوراختیارات کے بے جا استعمال کا ازالہ کیا جا سکے۔
لہذا مندرجہ ذیل قانون کا نفاذ کیا جاتا ہے۔
١۔مختصر عنوان ، وسعت اور آغاز ۔
(١) اس قانون کو شمال مغربی سرحدی صوبہ حسبہ ایکٹ مجریہ 2006ء کے نام سے پکارا جائیگا۔
(٢) اسکا اطلاق پورے صوبہ سرحد پر ہو گا۔
(٣) یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

٢۔ تعریفات۔
اس ایکٹ میں مذکور اصطلاحات کی تعریف ( بشرط موافقت سیاق و سباق ) درج ذیل ہو گی۔
(١) ”امر بالمعروف “ سے مراد نیکی کا حکم دینے کی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے جیسا کہ
قرآن حکیم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کیا گیا ہے۔
(٢) ”ایجنسی “سے مراد محکمہ ، کمیشن یا دفتر صوبائی حکومت ، کارپوریشن یا کو ئی دوسرا ادارہ جو کہ صوبائی حکومت نے قائم کیا ہو یا اس کے زیر کنٹرول ہو لیکن اس میں عدالت عالیہ اور اس کے تحت اور زیر کنٹرول عدالت ہائے شامل نہیں ہو ں گے۔
(٣) ”ایڈوائس“ سے مراد ایسی تجویز ہے۔ جس کا حوالہ آئین کے آرٹیکل (١٠٥) میں دیا گیا ہے۔
(٤) ”بدانتظامی “ میں ہر وہ فیصلہ ، اقدام ، سفارش، عمل اور کوتاہی شامل ہو گی جو ۔۔۔
(الف) خلاف قانون ، خلاف قاعدہ ، خلاف ضابطہ یا طے شدہ ضابطہ کار کے خلاف ہو لیکن اسمیں ایسے فیصلے یا اقدامات شامل نہیں ہونگے جو نیک نیتی کے تحت صادر کئے گئے ہوں۔ اور ان کے لیے معقول وجوہات موجود ہوں۔
(ب) جابندارانہ ، تکلیف دہ، نامعقول ،غیر منصفانہ ،سنگدلانہ اور امتیازی ہو یا
(ج) غیر متعلقہ دلائل پر مبنی ہو یا
(د) قانونی اختیارات کا ناجائز استعمال یا پھر قانونی اختیارات کے استعمال میں غفلت جس کا مقصدذاتی اغراض کا حصول ہو جیسا کہ رشوت ، اقرباء پروری، بے جا حمایت اوراختیارات سے تجاوز۔
(ھ) غفلت ، بے توجہی ، تاخیر ، صلاحیت کا فقدان ، عدم دلچسپی یا اسی طرح کے دیگر عوامل جوذمہ داری اور فرائض کی انجام دہی میں روا رکھے گئے ہوں۔
(٥) ”پبلک سرونٹ“ سے مراد دفعہ ٢١ تعزیرات پاکستان سال ١٨٦٠ ء میں بیان کردہ شخص ہے۔
(٦) ”حسبہ پولیس“ سے مرادپولیس کے وہ اہل کار ہونگے جو محکمہ پولیس کی طرف سے محتسب کو وقتا فوقتا مہیا کئے جائیں گے۔
(٧) ”حکومت“ سے مراد شمال مغربی سرحدی صوبہ کی حکومت ہے۔
(٨) ”دفتر “ سے مراد ایکٹ ہذا کے تحت صوبہ بھر میں قائم کئے گئے دفاتر ہونگے۔
(٩) ”سٹاف “سے مراد ایکٹ ہذا کے تحت ادارہ حسبہ کا متعلقہ عملہ ہو گا۔
(١٠) ”صوبہ “ سے مراد شمال مغربی سرحدی صوبہ ہو گا۔
(١١) ”عالم “ سے مراد (H.E.C) (ھائیر ایجوکیشن کمیشن ) سے منظور شدہ وفاق ہائے مدارس میں سے کسی ایک وفاق کے شہادت العالمیہ کا حامل شخص ہو گا۔
(١٢) ” عدالت عالیہ“ سے مراد عدالت عالیہ پشاور ہے۔
(١٣) ”گورنر“ سے مراد شمال مغربی سرحدی صوبہ کا گورنر ہے۔
(١٤) ” قواعد“ سے مراد ایکٹ ہذا کے تحت بنائے گئے قواعد ہوں گے۔
(١٥) ” محتسب “سے مراد صوبائی محتسب ، ضلعی محتسب اور تحصیل محتسب ہو گا۔جو ایکٹ ہذا کے تحت مقرر کیا جائے گا۔
(١٦) ”مجازعدالت “ مجاز عدالت سے مراد ضابطہ فوجداری مجریہ ١٨٩٨ء کے تحت قائم کردہ عدالت ہے۔
(١٧) ” مشاورتی کونسل “ سے مراد وہ کونسل ہے جو ایکٹ ہذا کے تحت قائم کی جائے۔
(١٨) ”نہی عن المنکر “سے مراد برائی سے روکنے کی ذمہ داری پوری کرناہے جیسا کہ قرآن مجید اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا تقاضا کیا گیا ہے۔
(١٩) ” وکیل“ سے مراد وہ شخص ہے جو وکالت کے پیشہ میں کم از کم دس سال کا تجربہ رکھتاہو۔

٣۔ صوبائی محتسب کا تقرراور اہلیت۔
(١) صوبہ سرحد کیلئے ایک محتسب ہو گا جس کا تقرر گورنر صوبہ سرحد وزیر اعلی صوبہ سرحد کی ایڈوائس کے مطابق کریگا۔
(٢) صوبائی محتسب وہ عالم شخص ہو گا جو وفاقی شرعی عدالت کا عالم جج بننے کا اہل ہو ۔
(٣) چارج سنبھالنے سے قبل محتسب گورنر صوبہ سرحدکے روبرو جدول (الف) میں دئیے گئے حلف نامہ کے مطابق اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا۔

٤۔ میعاد۔
(١) صوبائی محتسب کے عہدہ پر کسی شخص کا تقرر ٤ سال کیلئے ہو گا ۔
(٢) محتسب کسی بھی وقت تحریری استعفی پیش کرکے خود کو فارغ کر سکے گا۔

٥۔ ممانعت۔
(١) محتسب اپنی تقرری کے دوران اور کوئی منافع بخش عہدہ یا پیشہ اختیار نہیں کر سکے گا۔
(٢) محتسب اپنی میعاد تقرری کے اختتام سے دو سال کے عرصہ تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے کا اہل نہ ہو گا۔تاہم دفعہ ہذا کا اطلاق قائم مقام محتسب یا کسی بھی عدالتی فیصلے کے نیتجے میں سبکدوش ہونے والے محتسب پر نہیں ہو گا۔

٦۔ صوبائی محتسب کی شرائط ملازمت ،تنخواہ اور برخاستگی۔
(١) صوبائی محتسب تنخواہ ، الاونسئز اور ان جملہ مراعات کا حقدار ہو گا جو وفاقی شرعی عدالت کے جج کو حاصل ہیں۔
(٢) صوبائی وزیر اعلی صوبائی محتسب کو ذہنی یا جسمانی معذوری یا بد عنوانی کے ارتکاب کی بناء پر معزول کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں محتسب کو قبل از وقت اظہار وجوہ کا نوٹس دیا جائے گا۔ جس کا محتسب سات دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہو گا۔
(٣) میعاد مقررہ میں جواب نہ دینے یا جواب سے عدم اطمینان کی صورت میں محتسب کی معزولی کا حکم صادر کیا جا سکے گا۔
(٤) دفعہ ہذا کی ذیلی دفعہ (٣) کے تحت حکم معزولی کے خلاف محتسب تیس دن کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر سکے گا۔ جس کی سماعت عدالت عالیہ پشاور کا ڈویژن بنچ کرے گا۔
(٥) اگر محتسب کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹایا گیا ہوتو وہ پانچ سال تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے یاکسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرنے کا اہل نہیں ہو گا۔

٧ ۔ قائم مقام صوبائی محتسب۔
(١) اگر صوبائی محتسب کسی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے قاصر ہوتو وہ کسی ضلعی محتسب کو اپنے اختیارات تفویض کرے گا۔
(٢) اگر صوبائی محتسب کا عہدہ کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تونئے محتسب کی تقرری تک وزیراعلی کسی بھی ضلعی محتسب کو صوبائی محتسب کے منصب کے اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٣) قائم مقام محتسب کسی صورت میں بھی تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے مقرر نہیں کیا
جائے گا۔

٨۔ تفویض اختیارات۔
صوبائی محتسب تحریری حکم کے ذریعے اپنے اختیارات تحریر میں مذکور طریقے و شرائط کے مطابق ضلعی محتسب کو تفویض کرنے کا مجاذ ہوگا اور کسی بھی وقت واپس کرسکے گا ۔

٩۔ سٹاف کی تقرری اور شرائط ملازمت ۔
محتسب کے عملہ کے تعین و تقرری ، شرائط ملازمت ، تنخواہ ا ور الاؤنسز حکومت طے کرے گی ۔

١٠۔ محتسب کے اختیارات و فرائض۔
محتسب کسی شخص کی تحریری درخواست پر یا عدالت عالیہ یا عدالت عظمی یا کسی بھی عدالت یا صوبائی اسمبلی کے ریفرنس پر یا خود نوٹس لیکر ۔
(الف) کسی بھی ایجنسی یا اسکے اہلکار یا ملازم کے خلاف بدانتظامی کے الزام یا الزامات کی تفتیش کریگا۔الا یہ کہ کوئی سرکاری اہل کار دوران ملازمت ، امور ملازمت کی بابت محتسب کو داد رسی کے لیے درخواست پیش کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔
(ب) ایسی ھدایات اور اصول وضع کرے گا جو ایکٹ ہذا کے تحت کام کرنے والے حکام کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے ضروری ہو
(ج) صوبائی انتظامیہ کے کام کو سہل اور موثر بنانے کیلئے مدد فراہم کریگا۔ شرط یہ ہے کہ محتسب اس امر یا امور میں دخل نہ دیگا ۔ جو کسی بھی مجاز عدالت میں زیر
سماعت ہوں یا جو حکومت اور بیرونی حکومتوں اور ایجنسیوں کے معاہدہ وغیرہ سے
متعلق ہوں اور یا ان امور سے متعلق ہوں جو دفاع ، بری ، بحری اور ہوائی فوج اور ان کے متعلق قوانین سے وابستہ ہوں۔
(د) ایکٹ ہذا کے مقاصد کے حصول کیلئے خصوصا بد انتظامی کے اسباب اور معاشرتی ناانصافی دور کرنے کیلئے مطالعاتی و تحقیقی تربیت کیلئے مناسب سفارشات مرتب کرے گا۔
(ہ) محتسب اپنے اختیارات و فرائض کی بجا آوری کیلئے ماہرین و معاونین کی خدمات حسب ضرورت بلا معاوضہ یا بہ ادائیگی معاوضہ حاصل کرنے کا
مجازہوگا۔

١١۔ ضابطہ کار اور شہادت۔
(١) شکایات تحریری طور پر متاثرہ فرد یا افراد کی جانب سے یا ان کی فوتیدگی کی صورت میں انکے ورثاء کی طرف سے محتسب کے دفتر میں خود محتسب یا متعلقہ عملہ کو دستی طور پر یا بذریعہ ڈاک، ای میل اور فیکس وغیرہ سے پہنچا ئی جائیں گی۔
(٢) درخواست دہندہ تحریری یا بذریعہ ای میل اپنا نام ،پتہ اور شناختی کارڈ نمبر درخواست میں ضروری لکھیں اور کسی کاروائی سے پہلے محتسب درخواست دہندہ کے نام وپتہ کی تحقیق کروائے گا
(٣) اگر محتسب کسی معاملہ میں تفتیش کرنا چاہے تو متعلقہ شکایت کی بابت ایجنسی کے پرنسپل دفتر یا اس کے ذیلی دفتر کو براہ راست نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابدہی کا حکم دیگا اور اگر مناسب وقت پر متعلقہ ایجنسی یا اس کے ماتحت افسر مجاز کی طرف سے جواب موصول نہ ہو تو محتسب از خود تفتیش کا آغاز کریگا۔ یہ تفتیش غیر رسمی ہو گی تاہم مخصوص حالات میں محتسب کسی بھی ضابطہ کار کو عمل میں لا سکتا ہے۔ محتسب کو اختیار ہو گا کہ وہ ایکٹ ہذا کے تحت بنائے گئے قواعد کی رو سے متاثرہ فریق یا اسکی طرف سے پیش کئے جانے والے گواہوں کا خرچہ اسے ادا کرے۔ نیزمحتسب کو اختیار ہو گا کہ وہ بذات خودیا اسکا نامزد کردہ اہل کار متعلقہ ایجنسی کے دفتر کا ریکارڈ کا معائنہ کرے بشرطیکہ مذکورہ ریکارڈ مملکت کے راز سے متعلق نہ ہو ۔ اگر محتسب کسی شکایت پر کسی قسم کی کارروائی مناسب نہیں سمجھتا تو وہ شکایت کنندہ کو اس کے متعلق اطلاع دیگا۔
(٤) محتسب کو اختیار ہو گاکہ ایکٹ ہذا میں تفویض شدہ اختیارات کو روبہ عمل لانے کیلئے ضابطہ کار اور طریقہ کار خود وضع کرے ۔
(٥) ایکٹ ھذا کے تحت کارروائی کیلئے محتسب کو وہ جملہ اختیارات حاصل ہوں گے جو کہ ضابطہ دیوانی کے تحت فریقین کی طلبی، ان کے بیانات قلمبند کرنے ، دستاویزات پیش کرنے اور شہادت حاصل کرنے کی بابت عدالت کو حاصل ہیں۔

١٢۔ نفاذ احکامات۔
(١) شکایت پر کارروائی مکمل کرنے کے بعد محتسب کو اختیار ہو گا کہ وہ اس پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ ایجنسی کے افسر مجاز کو حکم نامہ جاری کرے اور ساتھ ساتھ دوسرے اقدامات جو وہ مناسب سمجھے اٹھائے۔ متعلقہ ایجنسی حکم نامہ میں درج میعاد کے اندر اپنی طرف سے اٹھائے گئے اقدام سے محتسب کو مطلع کرے گی
(٢) محتسب کی سفارش کی عدم تعمیل کی صورت میں محتسب تحریری طور پر معاملہ حکومت کو سپرد کریگا۔ جس پر حکومت عمل درآمد کو یقینی بنانے کی پابند ہو گی۔ اور تعمیل حکم سے محتسب کو مطلع کریگی۔
(٣) محتسب کی سفارش کی عدم تعمیل کی رپورٹ متعلقہ اہل کار کی ذاتی فائل کا حصہ بنے گی تاہم متعلقہ اہل کار کو شنوائی کا موقع دیا جائے گا۔
(٤) ذیلی دفعہ (۱) کے تحت جاری کردہ محتسب کے حکم یا سفارش یا دونوں کے خلاف متاثرہ شخص ایک ماہ کے اندر وزیراعلی کو تحریری عرض داشت پیش کرسکتا ہے۔ جس پر وہ کوئی بھی ایسا حکم صادر کرنے کا مجاز ہو گا جو وہ مناسب سمجھے ۔

١٣۔ دستاویزات تک رسائی۔
محتسب یا اس کے اہل کار یا حسبہ پولیس کا کوئی رکن تفتیش کی غرض سے اور دستاویزات تک رسائی کیلئے کسی بھی سرکاری دفتر میں داخل ہونے کا مجاز ہو گا اور دوران تفتیش متعلقہ ریکارڈ کا معائنہ اور نقولات حاصل کرنے کا مجاز ہو گا نیز محتسب یا مذکورہ اہل کار یا حسبہ پولیس کا متعلقہ رکن ریکارڈ سے کوئی دستاویز قبضے میں لینے کی صورت میں رسید حوالہ کرے گا۔

١٤۔ توہین حسبہ۔
(١) صوبائی محتسب کو توہین حسبہ کے ارتکاب پرسزا دینے کے وہی اختیارات حاصل ہونگیجو قانون توہین عدالت مجریہ١٧٦ء کے تحت عدالت عالیہ کو حاصل ہیں۔
(٢) ہر وہ شخص توہین حسبہ کا مرتکب قرار پائے گا جو۔
(الف) محتسب کے روبرو کسی بھی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے یا رکاوٹ کا سبب بنتا ہے یا کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کی وجہ سے کارروائی کی تکمیل میں نقص پیدا ہوتا ہے یا
(ب) محتسب یا اس کے اہل کار یا نمائندہ کے خلاف ایسا بیان دیتا ہے جس سے ان کے بدنام ہونے کا احتمال ہویا
(ج) کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس سے محتسب کے زیر غورکارروائی کے دوران کسی امر کے تصفیے میں محتسب کے ذہن میں طرف داری پیدا ہو یا
(د) کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو کسی بھی مروجہ قانون میں توہین کے زمرے میں آتا ہو الا یہ کہ نیک نیتی سے اور عوام کے مفاد میں محتسب یا اس کے اہل کار یا
نمائندہ کے کسی عمل یا اس کی رپورٹ پر رائے زنی توہین کے زمرے میں نہیں آئے گی۔
(٣) ذیلی دفعہ (١) کے تحت سزا کے خلاف ایک ماہ کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی
جا سکے گی جس کی سماعت عدالت عالیہ کا ڈویژن بنچ کرے گا۔

١٥۔ صوبائی مشاورتی کونسل۔
صوبائی محتسب ایک صوبائی مشاورتی کونسل مقرر کرے گا جس کا وہ خود سربراہ ہو گا۔ صوبائی مشاورتی کونسل درج ذیل ارکان پر مشتمل ہو گی۔
(الف) دو علماء۔
(ب) دو وکلاء ۔
(ج) حکومت کے دوایسے نمائندے جو بی۔ پی ۔ ایس ٢٠ میں تعینات ہوں۔

١٦۔ اجلاس مشاورتی کونسل ۔
(١) صوبائی محتسب حسب ضرورت کسی بھی امر یا امور میں مشاورت کیلئے صوبائی مشاورتی کونسل کا اجلاس بلائے گا اور اس کیلئے وقت اور جگہ کا تعین کرے گا۔
(٢) مشاورتی کونسل کے غیر سرکاری ارکان اس اعزازیہ کے حق دار ہونگے جو صوبائی محتسب حکومت کی منظوری سے مقرر کرے گا۔

١٧۔ ضلعی محتسب کا تقرر ،اہلیت، شرائط ملازمت ، میعاد ، تنخواہ اور برخاستگی۔
(١) صوبائی محتسب ایک یا ایک سے زائد ضلعوں کیلئے ضلعی محتسب حسب ضرورت مقرر کریگا۔
(٢) صوبائی مشاورتی کونسل کا غیر سرکاری رکن بننے کی اہلیت کے حامل کسی بھی شخص کو ضلعی محتسب مقرر کیا جا سکے گا۔
(٣) ضلعی محتسب کا میعاد تقرر چار سال کے لیے ہو گا۔
(٤) ایک سے زائد اضلاع کیلئے ضلعی محتسب مقرر کرنے کی صورت میں اسکے مرکزی دفتر کا تعین صوبائی محتسب کریگا۔
(٥) ضلعی محتسب جدول (ب) میں دیئے گئے حلف نامہ کے مطابق اپنا عہدہ سنھبالنے سے قبل صوبائی محتسب کے روبرو حلف اٹھائے گا۔
(٦) ضلعی محتسب ،تنخواہ ، الاؤنسز اور ان جملہ مراعات کا حقدار ہو گا۔جو سیشن جج کو حاصل ہیں۔
(٧) صوبائی محتسب ذہنی ، جسمانی معذوری یا بدعنوانی کے ارتکاب کی بنیادپر کسی بھی ضلعی محتسب کو معزول کر سکتا ہے۔ حکم معزولی سے قبل اسے تحریری طور پر اظہار وجوہ کا نوٹس دینا ضروری ہو گا جس کا وہ سات دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہو گا۔
(٨) میعاد مقررہ میں جواب نہ دینے یا جواب سے عدم اطمینان کی صورت میں صوبائی محتسب ضلعی محتسب کی معزولی کا حکم صادر کر سکے گا۔
(٩) دفعہ ہذا کی ذیلی دفعہ (٨) کے تحت حکم معزولی کے خلاف محتسب تیس دن کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر سکے گا۔
(١٠) اگر ضلعی محتسب کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹایا جائے تو وہ چارسال تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے یاکسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرنے کا اہل نہ ہو گا۔

١٨۔ قائم مقام ضلعی محتسب ۔
(١) اگر ضلعی محتسب کسی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے قاصر ہو تو صوبائی محتسب اس کی جگہ کسی دوسرے ضلعی محتسب یا تحصیل محتسب کو اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٢) اگر ضلعی محتسب کا عہدہ کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تو نئے ضلعی محتسب کی تقرری تک صوبائی محتسب کسی بھی ضلعی محتسب کو اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٣) قائم مقام محتسب کسی بھی صورت میں تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکے گا۔

١٩۔ ضلعی مشاورتی کونسل۔
(١) ضلعی محتسب اپنی تقرری کے فورا بعد کم از کم پانچ رکنی ضلعی مشاورتی کونسل قائم کرے گا جسکا سربراہ وہ خود ہو گا۔ ارکان میں دو علماء ، ایک قانون دان، ایک ایساشخص جو متعلقہ ضلع کا معزز ہو اور اچھی شہرت کا حامل ہو اور ایک صوبائی حکومت کا بی پی ایس۔ ١٨ یا ١٩ کا کوئی ضلعی افسر شامل ہونگے۔
(٢) ضلعی مشاورتی کونسل ان امور پر مشورہ دے گی جو اسے وقتا فوقتا ضلعی محتسب حوالہ کرے گا۔

٢٠۔ تحصیل محتسب کی تقرری ، اہلیت، شرائط ملازمت ، میعاد اور برخاستگی۔
(١) ضلعی محتسب حسب ضرورت تحصیل محتسب مقرر کر نے کا مجاز ہو گا۔
(٢) تحصیل محتسب کی اہلیت ضلعی محتسب کے مساوی ہو گی۔
(٣) تحصیل محتسب کا میعادتقر رچار سال کے لیے ہو گا۔
(٤) ایک سے زائد تحصیلوں کے لیے تحصیل محتسب مقرر کرنے کی صورت میں اس کے مرکزی دفتر کا تعین ضلعی محتسب کرے گا۔
(٥) تحصیل محتسب تنخواہ ، الاؤنسسز اور ان جملہ مراعات کا حق دار ہو گا۔ جوسول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کو حاصل ہیں۔
(٦) ضلعی محتسب ذہنی ، جسمانی معذوری یا بدعنوانی کے ارتکاب کی بناء پر کسی بھی تحصیل محتسب کو معزول کر سکتا ہے۔ حکم معزولی سے قبل اسے تحریری طور پر اظہار وجوہ کا نوٹس دینا ضروری ہو گا۔ جس کا وہ سات دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہو گا۔
(٧) میعاد مقررہ میں جواب نہ دینے یا جواب سے عدم اطمینان کی صورت میں ضلعی محتسب تحصیل محتسب کی معزولی کا حکم صادر کر سکے گا۔
(٨) دفعہ ہذا کے ذیلی دفعہ (٧) کے تحت حکم معزولی کے خلاف تحصیل محتسب تیس دن کے اندر صوبائی محتسب کو اپیل کر سکے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
(٩) اگر تحصیل محتسب کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹایا جائے تووہ تین سال تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے یاکسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرنے کا اہل نہ ہو گا۔

٢١۔ قائم مقام تحصیل محتسب ۔
(١) اگر تحصیل محتسب کسی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے قاصر ہو تو ضلعی محتسب اس کی جگہ کسی دوسرے تحصیل محتسب کو اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٢) اگر تحصیل محتسب کا عہدہ کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تو اس کی جگہ ضلعی محتسب قائم مقام تحصیل محتسب مقرر کرسکے گا۔
(٣) قائم مقام محتسب کسی بھی صورت میں تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے مقرر نہیں کیا جائے گا۔

٢٢۔ تفویض اختیارات۔
ضلعی محتسب تحریری حکم کے ذریعے اپنے اختیارات تحریر میں مذکور طریقے و شرائط کے مطابق تحصیل محتسب کو تفویضکرنے کا مجاز ہو گا۔

٢٣۔ محتسب کے اختیارات خصوصی۔
دفعہ ١٠ کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو متاثر کئے بغیر محتسب کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ درج ذیل اختیارات حاصل ہو نگے۔
(١) گداگری کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٢)  کم عمر بچوں کو ملازم رکھنے کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٣) غیر متنازعہ حقوق کی ادائیگی میں تاخیر کو روکنا اور مناسب داد رسی کرنا۔
(٤) جانوروں پر ظلم روکنا۔
(٥) مساجد کی دیکھ بھال میں غفلت کا سد باب کروانا۔
(٦) لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور مساجد میں فرقہ ورانہ تقاریر سے روکنا۔
(٧) غیر شرعی تعویذ نویسی ، گنڈے ، دست شناسی اور جادوگری کا سد باب کرنا۔
(٨) اقلیتی حقوق کا تحفظ خصوصا انکے مذہبی مقامات اور ان مقامات جہاں مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہوں کا تقدس ملحوظ رکھنا۔
(٩) غیر اسلامی رسومات جن سے خواتین کے حقوق متاثر ہوں خصوصا غیرت کے نام پر قتل کے خلاف اقدام اٹھانا ، میراث میں خواتین کو محروم رکھنے کا سدباب، رسم سورہ کا تدارک کروانا اورخواتین کے شرعی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
(١٠) ناپ تول کی نگرانی اور ملاوٹ کا تدارک کروانا۔
(١١) مصنوعی گرانی کا سد باب کروانا۔
(١٢) سرکاری املاک کی حفاظت کی نگرانی کروانا۔
(١٣) سرکاری محکمہ جات میں رشوت ستانی کا تدارک کروانا۔
(١٤) سرکاری اہلکاروں میں عوام کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا۔
(١٥) والدین کی فرمان برداری کی تلقین کرنا۔
(١٦) قتل اقدام قتل یا ایسے دیگر جرائم میں جن سے امن و امان میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو متعلقہ فریق یا قبیلوں کے درمیان مصالحت کروانا۔
(١٧) طلاق مغلظہ کے تدارک کو یقینی بنانا اور
(١٨) پیدائش،موت،نکاح،طلاق کی رجسٹریشن کو یقینی بنانا

٢٤۔ ملازم سرکار۔
محتسب اور اس کے اہل کار بشمول حسبہ پولیس تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢١ کے تحت پبلک سرونٹ تصور ہوں گے ۔

٢٥۔ اختیار سماعت پر بندش۔
محتسب یا اس کے اہل کار کے خلاف کسی ایسے فعل کی بابت جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو، کسی قسم کی چارہ جوئی ، یا مقدمہ بازی نہیں کی جا سکے گی۔

٢٦۔ حسبہ پولیس۔
ایکٹ ہذا کے تحت امور کی انجام دہی کے لیے حکومت محتسب کو حسب ضرورت پولیس فورس مہیا کرے گی۔جو محتسب کی ہدایات اور احکامات کی پابند ہو گی۔

٢٧۔ مصالحتی کمیٹی۔
(١) ضلعی محتسب ضلعی مشاورتی کونسل کے مشورے سے دفعہ(٢٣) کی ذیلی دفعہ ٢٦ کے تحت امور کی انجام دہی کے لیے ہر تھانہ کی سطح پر ایک مصالحتی کمیٹی قائم کرے گا جو درج ذیل چھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔
(الف) دو علماء۔
(ب) ایک مقامی وکیل۔
(ج) اگر علاقہ میں اقلیت آباد ہو۔ تو ان کا ایک نمائندہ۔
(د) علاقے کا ایک معزز ۔
(ھ) متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او یا اس کا نمائندہ ۔
(٢) ضلعی محتسب ، ضلعی مشاورتی کونسل کے مشورہ پر مصالحتی کمیٹی کے کسی رکن کو کسی بھی وقت معزول کر سکتا ہے۔

٢٨۔ اختیارات قواعد۔
صوبائی محتسب ایکٹ ہذا کے مقاصد کے حصول اور اسے موثر بنانے کے لیے حسب ضرورت قواعد مرتب کریگا۔

٢٩۔ اضافی حیثیت۔
ایکٹ ہذا اپنے مضامین (provisions) کی حد تک کسی بھی دیگر نافذالعمل قانون میں اضافی حیثیت کا حامل ہو گا۔

٣٠۔ ازالہ مشکلات۔
ایکٹ ہذا کے نفاذ میں کسی مشکل یا رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت مناسب نوٹیفیکشن جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔
صوبائی محتسب کے لئے حلف نامہ
جدول (الف)
میں __________ حلفا اقرار کرتا ہوں ۔ کہ میں خلوص دل سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وفادار اور خیر خواہ رہوں گا۔
یہ کہ میں بحیثیت صوبائی محتسب اپنے فرائض اور کار ہائے منصبی دیانتداری سے اپنی بہترین استعداد اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کے قوانین کے مطابق ایمانداری سے کسی خوف یا لالچ اور اقرباء پروری یا بد نیتی کے بغیرانجام دونگا۔
یہ کہ میں اپنے ذاتی مفادکو سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دونگا۔
یہ کہ میں وفاق اور صوبہ کے بہترین مفاد کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
اور یہ کہ میں بلاواسطہ یا بالو اسطہ کسی شخص کو ایسے معاملے کی اطلاع نہیں دونگا۔ اورنہ ہی کسی پر ظاہر کروں گا۔ جو کہ بحیثیت محتسب میرے زیر غور لایا جائے۔یا جس کا مجھے علم حاصل ہو۔ ماسوائے اس کے جب کہ ایسا کرنا بحیثیت محتسب میری ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کا تقاضا ہو۔
اللہ تعالی میرا حامی و ناصر ہو۔
(آمین)
ضلعی محتسب کے لئے حلف نامہ
جدول (ب)
میں __________ حلفا اقرار کرتا ہوں ۔ کہ میں خلوص دل سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وفادار اور خیر خواہ رہوں گا۔
یہ کہ میں بحیثیت ضلعی محتسب اپنے فرائض اور کار ہائے منصبی دیانتداری سے اپنی بہترین استعداد اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کے قوانین کے مطابق ایمانداری سے کسی خوف یا لالچ اور اقرباء پروری یا بد نیتی کے بغیرانجام دونگا۔
یہ کہ میں اپنے ذاتی مفادکو سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دونگا۔
اور یہ کہ میں بلاواسطہ یا بالو اسطہ کسی شخص کو ایسے معاملے کی اطلاع نہیں دونگا۔ اورنہ ہی کسی پر ظاہر کروں گا۔ جو کہ بحیثیت محتسب میرے زیر غور لایا جائے۔یا جس کا مجھے علم حاصل ہو۔ ماسوائے اس کے جب کہ ایسا کرنا بحیثیت محتسب میری ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کا تقاضا ہو۔
اللہ تعالی میرا حامی و ناصر ہو۔
(آمین)
بیان اغراض و مقاصد۔
پاکستان نقشئہ عالم پر واحد ملک ہے۔ جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ اور اسلام جن اقدار کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ان میں سے ایک حصول انصاف کی قدر ہے۔ چنانچہ عوام کے حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے ، بدانتظامی و بدعنوانی کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والے مظالم کے اسباب کی تشخیص اور اسکی تلافی کے لیے ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے ۔جو ان مقاصد کے حصول میں ممدومعاون ثابت ہو۔
پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگی اسلامی احکامات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اقدامات اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جس کے لیے معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی ضروری ہے۔
ادارہ حسبہ کا تصور ایک ایسا تصور ہے۔ جو مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کی بطریق احسن ضمانت دیتا ہے۔ اور اسطرح کے ادارے دنیا کے بیشتر مہذب ممالک میں پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں۔

لہذا حسبہ بل پیش ہے۔
متعلقہ وزیر۔
پرانے حسبہ بل کی شقیں جو نئے منظور شدہ بل سے خارج کردی گئیں
پرانے حسبہ بل کی شقیں جو نئے منظور شدہ بل سے خارج کردی گئیں میں دفعہ (٢)تعریفات کی دفعہ سے ”البتہ صوبائی اسمبلی کاسیکرٹریٹ اس میں شامل ہو گا۔ کے الفاظ کو خارج کردیا گیا ہے
(١٠) شق سے (ب)صوبائی سطح پر اسلامی اخلاق اور آداب کی نگرانی کریگا۔
(ج) صوبائی حکومت کے قائم کردہ یا اس کے زیر کنٹرول ذرائع ابلاغ کی اس نہج پر نگرانی کریگا کہ نشریات اسلامی اقدار کی ترویج کیلئے کار آمد ہوں۔
(د) ایسے شخص، ایجنسی اورحاکم کو جو صوبائی حکومت کے زیر انتظام کام کرتے ہوں خلاف شریعت کام کرنے سے روکنے کیلئے احکامات جاری کریگااور اچھی حکمرانی کی ترغیب دے گا۔
(ھ) ایسی ہدایات اور اصول وضع کریگا جو ایکٹ ہذا کے تحت کام کرنے والے حکام کی کارکردگی کوموثر بنانے کیلئے ضروری ہوں۔
خارج کرئے گئے ہیں
شق (١٢) سے” اور حکم عدولی کی صورت میں متعلقہ ایجنسی کے افسر مجاز کے خلاف محتسب کی سفارش پردرج ذیل کارروائی ہو گی،، کے الفاظ نئے بل سے خارج کردئے گئے ہیں اسی طرح اسی شق کی ان شقوں کو بھی خارج کیا گیا ہے (الف) سرکاری ملازمین کی برخاستگی کے مروجہ قوانین کے تحت مقرر کردہ کوئی ایک یا ایک سے زائد سزائیں دینا۔
(ب) دوران تفتیش محتسب اور اس کے اہلکار کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ اہلکار کے خلاف مداخلت بکار سرکارکے جرم میں کارروائی کرنا۔
(ج) اگر محتسب مطمئن ہو کہ زیر بحث شکایت کی بابت کسی بھی سرکاری اہل کار نے قابل تعزیرجرم کا ارتکاب کیا ہے یا اس کے خلاف دیوانی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے تو متعلقہ ایجنسی کو حسب قانون مذکورہ بالا کارروائی کا حکم دینا۔
شق ٢٣ سے خارج ہونے والی شقوں میں (١) پبلک مقامات پر اسلام کی اخلاقی اقدار کی پابندی کروانا۔
(٢) تبذیر یا اسراف کی حوصلہ شکنی خصوصا شادیوں اور اسطرح کی دیگر خاندانی تقریبات کے موقع پر۔
(٣) جہیز دینے میں اسلامی حدود کی پابندی کروانا۔
(٥) افطار اور تراویح کے وقت اسلامی شعائر کے احترام اور ادب و آداب کی پابندی کروانا۔
(٦) عیدین کی نمازوں کے وقت عیدگاہوں یا ایسی مساجد کے آس پاس جہاں عیدین اورجمعہ کی نمازہو رہی ہو، کھیل تماشے اور تجارتی لین دین کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٧) جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی ادائیگی اور انتظام میں غفلت کا سد باب کروانا۔
(١٢) اذان، فرض نمازوں کے اوقات اور اسلامی شعائر کے احترام و آداب کی پابندی کروانا۔
(١٤) غیر اسلامی معاشرتی رسم و رواج کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٢٥) کوئی بھی دوسرے امر یا امورکی انجام دہی جو وقتا فوقتا صوبائی محتسب مشاورتی کونسل کے مشورہ سے متعین کرے۔شامل ہیں
جبکہ نئے مسودے میں ان دو شقوں کا اضافہ کیا گیا (١٧) طلاق مغلظہ کے تدارک کو یقینی بنانا اور
(١٨) پیدائش،موت،نکاح،طلاق کی رجسٹریشن کو یقینی بنانا
یہ بھی حذف کردئے گئے ہیں (٢٥) ٢٥۔اختیار سماعت پر بندش۔
(١) کسی عدالت یا اتھارٹی کو اس بات کا اختیار نہیں ہو گا کہ وہ محتسب کی کارروائی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی سوال اٹھائے۔
(٢) کسی عدالت یا اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل نہ ہو گاکہ وہ محتسب کے زیر غور جاری
کارروائی کی بابت کوئی حکم امتناعی ، عبوری حکم یا حکم التواء جاری کرے۔
یہ والی پوری شق حذف کردی گئی ہے۔

٢٨۔ جرم ناقابل دست اندازی پولیس۔
(١) ایکٹ ہذا کی دفعہ٢٣  کے تحت امور کی انجام دہی سے متعلق محتسب کے حکم کی خلاف ورزی ناقابل دست اندازی پولیس جرم ہوگا جس کی سزا چھ ماہ تک قید اور مبلغ دوہزار روپے تک جرمانہ ہو گی۔
(٢) مجازعدالت دفعہ ہذا کے تحت جرم کی سماعت محتسب یا اس کے مجاز نمائندہ کی تحریری شکایت پر کریگی۔
(٣) ذیلی دفعہ (١) کے تحت جرم کی سماعت مجاز عدالت ضابطہ فوجداری مجریہ ١٨٩٨ء میں درج ضابطہ کار کے مطابق کرے گی۔ اور فیصلہ قابل اپیل ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ذرا سی غفلت

Posted on 18/12/2006. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست |

شیعیب صفدر، شاکر عزیز اور اس کے بعد ابو شامل نے ایک نیا اور اچھوتا سلسلہ شروع کیا ہے۔
جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ ‘‘اگر ہم نے پاؤں کاٹنے کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو یقین کیجئے عالم چناؤں کا یہ ملک کوڈوؤں کی چھوٹی سی بستی بن کر رہ جائے گا ایسی جس کا آسمان بھی دس فٹ اونچا ہو گا۔‘‘
شاکر بھائی نے کام کی بات کی ہے کہ ‘‘ہمارا کام بس پوجا کرنا ہے، یا کھیلنا۔ یہ ہمارے کھلونے ہیں جن سے ہم کھیلتے ہیں اور جب ایک چھن جاتا تو ہم دوسرا تراش لیتے ہیں۔‘‘
ابو شامل کہتے ہیں کہ ‘‘ کہا جاتا ہے کہ آخرت میں ہر کسی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا، آخرت کیا دنیا میں بھی یہی اصول ہے اور جو لوگ دنیا میں اپنا بوجھ دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچ گئے، انہیں معلوم نہیں اللہ تعالٰی پھر انہیں کوئی بھی بار اٹھانے کے لائق نہ سمجھتے ہوئے تاریخ کے سفر کی ہر ذمہ داری سے محروم کر دیتا ہے۔‘‘
اسی سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ ایک ہیرا کن کن مراحل سے گزر کر ہیرا کہلانے کے لائق ہوتا ہے؟۔
وسیع سمندر میں لاکھوں سپیاں منہ کھولے آسمان کی جانب تکتی رہتی ہیں۔ کبھی کسی جانب سے کالی گھٹائیں آتی ہیں۔ چھاجوں مینہ برستا ہے۔ میلوں تک پھیلا ہوا سمندر اس ابر رحمت پر اتنی ہی ناشکری کا مظاہرہ کرتا ہے جتنا کوئی دہکتا ہوا ریگزار جون جولائی کی دوپہروں میں سورج کی دھوپ دیکھ کر کرتا ہے۔ سطح سمندر پر تیرتی یہ سپیاں بارش کا قطرہ پڑتے ہی بند ہو جاتی ہیں۔ اور سطح سمندر سے نیچے چلی جاتی ہیں۔ پھر پانی کے یہ قطرے مخصوص درجہ حرارت، مقررہ دباؤ اور خاص تعامل کے نتیجے میں موتی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جس طرح شراب جتنی پرانی ہوتی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ خمار انگیز اور قیمتی ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ سپیاں جتنی زیادہ مدت تک سمندر میں رہتی ہیں ان کے موتی اتنے ہی چمکدار اور قیمتی ہوتے چلے جاتے ہیں حتٰی کہ سینکڑوں موتیوں میں سے اک سچا موتی پیدا ہوتا ہے۔ موتی کے تیار ہوتے ہی سیپی کی کثافت میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور یہ برف کی طرح دوبارہ سطح آب پر تیرنے لگتی ہے۔ کوئی موج بلاخیز ان سیپیوں کو ایک ایک کر کے ساحل سمندر پر پھنکنا شروع کر دیتی ہے۔ جہاں سے مچھیرے یہ سیپیاں اکھٹی کر کے جوہریوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔ اب ایک جوہری کو ہی اصل سچے موتی کی پہچان ہوتی ہے وہ اسے خوب نکھار کر اور پالش کر کے بازار میں موتیوں کے قدرشناس کو بیچنے کے لئے رکھ دیتا ہے۔ اب جو خریدار موتی کی خاصیت جانتا ہے، اس کی اہمیت سمجھتا ہے اور اس کی قدرومنزلت کو پہنچانتا ہے وہ انہوں لاکھوں روپے دے کر بھی خرید لیتا ہے۔ وہ انہیں سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے، وہ انہیں ضائع نہیں کرتا، انہیں کھونے نہیں دیتا اور انہیں پوری احتیاط اور محبت سے رکھتا ہے۔ لیکن جو شخص اس کی قدر سے ناآشنا ہو اس کے لئے لنڈے کے کوٹ پر لگے پتھر کے بٹنوں اور سیپی کی کوکھ میں کندن بننے والے موتیوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس کی نظر میں بجری کی کنکریوں اور موتیوں کی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔ اس کے لئے ان موتیوں کی قیمت اتنی ہی ہوتی ہے جتنی بازاروں میں ریڑھیوں پر کلو کے حساب سے بکنے والی مصنوئی جیولری کی ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ بھی یہی ہے کہ اس میں جوہر شناس افراد موجود نہیں ہیں۔ ہم سچے موتیوں کی قدروقیمت نہیں جانتے۔ ہم اصلی ہیروں کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں۔ ہم بجری کوٹنے والے وہ مزدور بن چکے ہیں جو ہر پتھر کو بلا امتیاز اپنے ہتھوڑے کی چوٹ سے ریزہ ریزہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اسے بلکل بھی خبر نہیں ہوتی، اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی کون سی ضرب کے نیچے عام پتھر ہے اور کون سی ضرب تلے ہیرا پڑا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا ہم اہنے موتی اس طرح سڑکوں پر رولتے پھرتے؟ ہماری ‘گودڑیوں‘ سے برآمد ہونے والے لعل کیا اس طرح وقت کی بے رحم نکاس نالیوں میں پڑے رہتے؟
ایک پائلٹ کس طرح بنتا ہے؟
معاشرے سے ذہین ترین نوجوان بے شمار ضمنی امتحانوں سے گزر کر ایک بڑے امتحان کا سامنا کرتا ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ ہوتا ہے، ابتدائی میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے، آئی ایس ایس بی سے گزرتا ہے، فائینل میڈیکل ٹیسٹ کرواتا ہے، نفسیاتی ٹیسٹ پاس کرتا ہے، انٹرویو میں تندوتیز اور چومکھے سوالات کا سامنا کرتا ہے اور پھر آخر میں میرٹ کے پل صراط سے گزر تربیت کے لئے منتخب ہوتا ہے، دوران تربیت وہ ذہنی پریشانیوں سے گزرتا ہے، جسمانی تکالیف برداشت کرتا ہے، دماغی مشقت کرتا ہے، ایک موسم میں دوسرے موسم کے مصائب کا سامنا کرتا ہے، کٹھن اور تھکا دینے والے سفر کے بعد کہیں جا کر اسے منزل کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔
اسی طرح آرمی کا سیکنڈ لیفٹنینٹ، نیوی کا افسر، ایک سی ایس پی افسر اور ایک سی ایس ایس بیوروکریٹ دشوارگزار راستوں سے گزر کر ‘نروان‘ حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک نوجوان سرد راتوں کو جاگ کر اور گرم دوپہریں لائبریری میں صرف کرتا ہے، اپنا من مار کر محنت کرتا ہے۔ اپنی خواہشات کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر نئی منزلوں کے کھوج میں جتا رہتا ہے، تب کہیں جا کر ایک شخص اپنے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس لکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ بلکل اسی طرح جب انجینئرنگ کا ایک طالب علم راتوں کو جاگ جاگ کر لہو کے دیپ جلاتا ہے، وقت کی گرد سے بچ کر اور خارزار جوانی میں اپنا دامن آلائشوں سے پاک رکھ کر بھاری محنت تلے طویل فاصلہ طے کرتا ہے تو تب کہیں جا کر اسے سفر کا آخری سنگ میل دکھائی دیتا ہے۔ یہی حال ہر دوسرے شعبے کا ہے۔ آپ کھلاڑی کو لے لیجیئے۔ جو کھلاڑی پرچی لیکر آتا ہے، وہ چند روز چلتا ہے، پھر نقاد اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں، لیکن جو کھلاڑی دن دیکھتا ہے نہ رات، دوپہر کی پرواہ کرتا ہے نہ ڈھلتی ہوئی شام کا خیال رکھتا ہے، آندھی کی پرواہ کرتا ہے نہ کسی طوفان سے ڈرتا ہے، مسلسل میدان میں مشق کرتا رہتا ہے اور اپنے جسم کو سکت محنت کا عادی بنا لیتا ہے وہی کھلاڑی جہانگیر خان، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، محمد یوسف اور شہباز سینئیر بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ ہم نے آج تک نہیں سوچا کہ ایک عالم، ایک لیڈر، ایک ادیب، ایک شاعر اور ایک فنکار ہمیشہ پیدائشی ہوتا ہے۔ دس عمران خانوں جیسی محنت کر کے بھی کوئی ‘اقبال‘ نہیں بن سکتا۔ درجنوں ائیرمارشل اور جنرلوں جتنی مشقت سے گزر کر بھی کوئی شخص ‘جناح‘ نہیں بن سکتا۔ بیسیوں ڈاکٹر اور انجینیئر ملکر بھی ڈاکٹر حمیداللہ نہیں بن سکتے۔ آج کے سینکڑوں ‘بینڈز‘ اکٹھے ہو کر بھی رفیع جیسا ایک گانا نہیں گا سکتے۔
کیا وجہ ہے کہ ہزار سال گزر گئے امت میں کوئی دوسرا امام احمد بن حنبل، امام شافعی، امام مالک یا امام ابوحنیفہ پیدا نہیں ہو سکا۔ ہزاروں مدرسوں سے سالانہ لاکھوں طلبا فارغ ہوتے ہیں، ان بارہ سو سالوں میں ان مدارس سے کروڑوں طالبان حق فارغ التحصیل ہوئے لیکن دنیا پھر بھی کوئی دوسرا امام نہیں دیکھ سکی اور جو بھی اس راہ پر چلتا ہے ہم راہزنوں کی طرح اسے کسی اندھیری گلی میں گھیر کر گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ قدرت ہمیں جو بھی موتی عطا کرتی ہے ہم اسے صرف رولتے ہی نہیں بلکہ سیدھا ‘روڑی‘ کوٹنے والے کی ہتھوڑی کے آگے رکھ دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم امت کے زوال کا رونا روتے ہیں۔ ہم اپنی درماندگی کی اتنی سی وجہ نہیں سمجھ سکے کہ جو قومیں اور معاشرے قدرت کے عنایت کردہ موتیوں کی قدر نہیں کرتے موت ہمیشہ ان کی گھات میں رہتی ہے کسی بیرئیر کے پیچھے چھپی، کسی خودکش دھماکے کی اوٹ میں بیٹھی اور کسی کلاشنکوف کے ٹریگر پر تیار موت معاشروں کی ذرا سی غفلت کی منتظر رہتی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پپو سانوں تنگ نہ کر توں

Posted on 12/12/2006. Filed under: شعروادب, طنز و مزاح |

پپو سانوں تنگ نہ کر توں
بڑے ضروري کم لگے آن
سوچي پے آن ہن کيہ کريئےروٹي شوٹي کھا بيٹھے آن
لسي شسي پي بيٹے آں
حقے دا کش لا بيٹھے آں
پوجھ پاجھ کے اندروں باہروں
بھانڈے دي کھڑکا بيٹھے آں
سوچي پے آن ہن کيہ کريئےديکھ لياں نيں سب اخباراں
سبھے ورقے تھل بيٹھے آں
پڑھ بيٹھے آن سارے اکھر
سارے حرف سنا بيٹھے آں
سوچي پئے آن ہن کيہ کريئے

کيسے کيسے اسلحے بن گئے
وڈے وڈے مسئلے بن گئے
وڈے شہرو سا بيٹھے آں
سارا چين گوا بيٹھے آں
سوچي پئے آن ہن کيہ کريئے

 

رزق سياست ، عشق ، کوتا
کجھ وي خالص رہن نہ دتا
ساري کھبڈ ونجا بيٹھے آں
ودھ وچ سرکہ پا بيٹھے آں
سوچي پئے آن ہن کيہ کر ئے

 

جي کردا سي ووٹاں پائيے
مارشل لا توں جاں چھڈائيے
ووٹاں شوٹاں پا بيٹھے آں
ايہ جمہوري رولا رپا
کنے سال ہنڈا بيٹھے آں
سوچي پتے آن ہن کيہ کريئے

 

سودا کوئي پجدا نا ہيں
کوئي رستا سنجھدا نا ہيں
رستے دے وچ آ بيٹھے آں
سوچي پے آں ہن کيہ کريے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کیا جاگیردار، وڈیرے اور ظالم سرمایہ دار کے لئے توہین رسالت کرنے کی کھلی چھوٹ ہے؟

Posted on 07/12/2006. Filed under: اسلام, سیاست |

کیا جاگیردار، وڈیرے اور ظالم سرمایہ دار کے لئے توہین رسالت کرنے کی کھلی چھوٹ ہے؟ کیا حکومت کےپروردہ نمائندےاور اعلیٰ اسمبلی کےممبر پر اسلامی قوانین اور شریعت کا نفاذ نہیں ہوتا؟ضلع بہاولنگر میں 13 دسمبر2005 کی وہ خوفناک رات دوبارہ کبھی نہیں آئےگی جب لوگوں پر ساری رات بےبسی کی کیفیت طاری رہی لوگ روتے، چیختےچلاتےاور کُڑھتےرہےمگر قانون کےرکھوالےکسی قسم کی کاروائی کےلئےتیار نہ تھےاورمجرم کو بچانےکےلئےساری رات پلاننگ کرتےرہےاس مکروہ رات کو 9بجےکےقریب علی اکبر وینس نامی ایک مکروہ شخص نےمجمع عام میں تقریر کرتےہوئےحضرت محمد کی شان میں تحقیر کرکےعوا م میں سخت انتشار و افتراق پیدا کر ڈالا تھا جس سےپورےضلع بھر میں سخت ہیجان برپا ہو گیا اس انہونےواقعہ کےبعد مقامی بار ایسوسی ایشن اور ضلع بھر کی تمام اہم بڑی بڑی مساجد میں متفقہ قرار دادیں پاس کی گئی تھیں علی اکبر وینس نےجب جلسہ میں یہ بات کہی کہ ” ہرآدمی کو اپنا باپ پیارا ہوتا ہےمجھےبھی اپنا باپ پیارا ہےمیرےلئےمیرےباپ کی بات نبی کی بات سےکم نہیں “ تو کہرام برپاہو گیااور سخت شوروغوغا مچ گیا۔ کالونی کےباریش عمر رسیدہ اور با اثر بزرگ ، دینی افراد ساری رات ہیجان کی کیفیت میں رہےقانون کےدروازےکھٹکھٹائےگئےمگر کوئی سننےتک کو تیار نہ ہواکہ پنجاب کی سرکار کی مکمل پشت پناہی اسےحاصل تھی علی الصبح ہی لوگ جوق در جوق مرکزی عید گاہ کےجیدعلماء، دیگر آئمہ مساجد اورہر مسلک کےعلماءکےپاس پہنچنا شروع ہو گئےشہر اور گردونواح میں توہین رسالت کا یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکا تھا لوگوں کےجلوس اور باشعور افراد کےوفود علماءاورمفتیان سےمرتد اکبر وینس کےخلاف فتویٰ جاری کرنےکا پُر زور مطالبہ کررہےتھےعوامی سطح پر ایسےبھر پور احتجاج کےباوجود شانِ رسالت میں گستاخی کےمرتکب ملعون اور مرتد شخص اکبر وینس کےخلاف کوئی قانونی کاروائی تک نہیں کی گئی حالانکہ اگلےہی روز کئی افراد نےتصدیق شدہ حلفیہ بیان سٹامپ پیپر پر تحریر کر کےاس واقعہ کی تصدیق کرڈالی تھی شانِ رسالت میں گستاخی کےواقعہ کےدو عینی شاہدوں سید محمد ولد گوہر علی ساکن گلی نمبر12 مدنی کالونی بہاولنگر اور رحمت اللہ ولد نذیر احمد ساکن قاسم روڈ بہاولنگر کےتصدیق شدہ بیان حلفی علماءملک بھر کےدینی مدارس میں موجود مفتیوں اور صحافیوں کو پیش کئےگئےجن کی بنیادپر مفتی محمدتنویر القادری جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور نےفتویٰ جاری کر دیا تھا ۔ فتویٰ میں مفتی صاحب نےقرآن و حدیث کےحوالہ جات کےذریعےملعون علی اکبر کی بات کو توہینِ رسالت قرار دیتےہوئےلکھا ہےکہ مذکورہ شخص کا اپنےباپ کی بات کو نبی کی بات کےبرابر یا افضل بتانا اپنےباپ کو نبی مکرم کےہمسر یا افضل بنانا ہےحالانکہ نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیاءعلیہ السلام سےافضل ہیں اور آپ کا فرمان حدیث و شریعت ہےاور نبی مکرم کےبرابر یا افضل مخلوق میں کوئی نہیں ہو سکتا اور جو اپنےباپ کی بات یا باپ کو نبی مکرم کےبرابر یا افضل مانےوہ کافر و مرتد اور واجب القتل ہےکہ اس نےاپنےباپ کی بات کو نبی مکرم کےفرمان (حدیث) کےبرابر یا افضل مانا ۔ خود نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا ” تم میں سےکوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک میں اسےاس کےماں باپ اولاد اور سارےجہان سےزیادہ پیارا نہ ہوں (صحیح بخاری و مسلم) “ تو قران و سنت سےثابت ہےکہ اللہ و رسول سےبڑھ کر کسی کی تعظیم و توقیر نہیں اور جو اللہ و رسول سےزیادہ کسی کی تعظیم و تکریم بتائےوہ مومن نہیں ۔ جو شخص کلمہ گو ہو کر حضورِاقدس کو برا کہےیا تکذیب کرےیا کوئی عیب لگائےیا شان گھٹائےوہ بلا شبہ کافر ہو گیا اور اسکی عورت نکاح سےنکل گئی اور مزید یہ کہ اس پر اجماع ہےکہ حضورِ اقدس کی شان میں گستاخی کرنےوالا کافر ہی۔ اور اس پر عذاب کی وعید جاری ہےاور امت کےنزدیک وہ واجب القتل ہےاور جو اس کےکافر و مستحقِ عذاب ہونےمیں شک کرےبےشک وہ بھی کافر ہے۔ فتویٰ کےآخرمیں لکھا ہےکہ مذکورہ ملعون شخص مجمع عام میں نبی کی شان میں تحقیر کر کےعوام میں انتشار و افتراق اور فتنہ پیداکر کےملک میں بد امنی پھیلارہا ہےاور ملک و قوم اس کی متحمل نہیں ، علاقہ کےمسلمانوں اور حل و عقد پر لازم ہےاس گستاخِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قرا ر واقعی سزا دلوائیں تاکہ آئندہ کسی شقی کو اس طرح جسارت کی ہمت نہ ہو۔ توہین رسالت کرنےوالےملعون شخص اکبر وینس کےخلاف فتویٰ اور وسیع عوامی احتجاجوں کےباوجود نہ تو آج تک اسکےخلاف مقدمہ کااندراج کیا گیا ہےاور نہ ہی اسےگرفتار۔ حالانکہ شانِ رسالت کی توہین کےمرتکب ملعون و مرتد شخص کےخلاف فوراً قانونی کاروائی کی جانی چاہیئےتھی۔ یہ وہ سوال ہےجو ہر باشعور شخص کو پریشان کئےہوئےہی۔ ضلع کےموثر ظالم جاگیر دار ، بد کردار سرمایہ دار اور حکومتی سر پرستی ہونےکی وجہ سےاسکےخلاف کاروائی نہ کیا جانا بذاتِ خود دینی اقدار کا مذاق اڑانےکےمترادف ہےحالانکہ وقوعہ کی رپورٹ درج کی گئیں افسران بالا کو رپورٹس بھجوائی گئیں اگر کسی غریب یا عام شخص نےایسی نازیبا بات کی ہوتی تو وہ کبھی کا تختہ دار پر لٹک گیا ہوتا یا پھر ایسےمرتد و ملعون شخص کو لوگ خود ہی سنگسار کر چکےہوتے۔ علماء، وکلاء، سماجی و کاروباری انجمنوں، مذہبی تنظیموں اور تمام سیاسی و دینی جماعتوں پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی نےبھی مسلسل کام کر کےاتفاقِ رائےسےمطالبہ کیا ہےکہ گستاخی رسول کےمرتکب مردود و ملعون مرتد شخص علی اکبر وینس کےخلاف فوراً کاروائی کی جائےتاکہ گو
مگو کی ہیجانی کیفیت اور انتشار ختم ہو جائےاور آئندہ کوئی اس پاک دھرتی پر رسول کی توہین کرنےکی جرات نہ کر سکےوگرنہ غیور عوام یہ حق بحال رکھتےہیں کہ وہ خود مرتد و ملعون شخص کو سنگسارکر ڈالیں جو کہ دین اسلام کی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہےاور حکمِ خدا وندی بھی ! اب دیکھیں قدرت کا فیصلہ کب نافذ ہوتا ہےاور پنجاب و ضلع بہاولنگر کےحکمران کب مرتد کی سرکوبی کرتےہیں؟ کیا کسی گستاخ ِرسول کو اس لئےگرفتار نہ کرنا کہ وہ سرکاری پسندیدہ فرد ہےیا کسی وزیرِ اعلیٰ کی رشتہ داری کا جعلی دعویدار ہےبھی کسی قانون کےتحت جائز قرار دیا جا سکتا ہی؟ کیا ایسےملعون شخص کیلئےشریعت محمدی کی کوئی علیحدہ تعبیر ممکن ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں ۔ حضرت محمد نےآخری خطبہ جمعة الوداع میں خطاب کرتےہوئےیہ وضاحت کر دی تھی کہ کالےکو گورےپر ، گورےکو کالےپر ، ہاشمی کو قریشی پر ،قریشی کو ہاشمی پر کو ئی ترجیح نہیں ۔ ترجیح ہےتو صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہےجو بہتر کردار والا ہےوہ معتبر اور سر بلند ہو گا اور جو بد کردار ہےوہ خواہ کسی مقتدر شخص کا رشتہ دار ہو یا حکومتی برادری سےہی کیوں نہ تعلق رکھتا ہووہ راندہ درگاہ ہی رہےگا اور حضرت محمد کا یہ فرمان کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتیں تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا شریعت محمدی کےدرخشاں باب ہیں ۔مذکورہ مرتد و ملعون شخص کو پہلےبھی وکلاءکےخلاف دشنام طرازی اور انتہائی لچر گفتگو کرنےکی وجہ سےبہاولنگر کی بار ایسوسی ایشن کےوکلاءنےاس کےدفترکا چار دن تک گھیرائو کئےرکھا تھا اور متفقہ قراددیں پاس کی گئیں جس میں حکومتی لیگ کےوکلاءبھی شامل تھےانہی قراردادوں کی بنیاد پر بار میں اس مذکورہ ملعون شخص کا داخلہ تادمِ زندگی ممنوع قرار دیا جا چکا ہی۔ اسی طرح قبل ازیں علماءکی محفل میں اس نےاسلامی اقدار کی توہین کی اور انتہائی زہریلی گفتگو کی اس نےکہا (نقلِ کفر کفر نا باشد) اس نےخانہ کعبہ کو ایک کوٹھا (کمرہ) قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا ہی کوٹھا (کمرہ) میں ادھر بنوا دیتا ہوں اس کےگرد چکر لگا لیا کرو اتنی رقوم خرچ کرنےکا کیا فائدہ اس رقم سےکسی غریب بیوہ کی ہی خدمت کر ڈالو وغیرہ وغیرہ۔اس پر اس کی سرکوبی کےلئےعلماءبھی میدانِ عمل میں نکل آئےتھےمگر مقتدر حضرات نےآج تک اس ملعون شخص کےبارےمیں کوئی نوٹس نہیں لیا یہ سوال ایک اچنبھا ہےاگر سنپولئےکو بچپن ہی میں ہلاک کر دیا جاتا تو آج وہ اژدہا بن کر پھنکاریں نہ مارتا اور مزید اسلامی اقدار کی توہین نہ کر سکتا اور موجودہ توہین رسالت کامرتکب بھی نہ ہوتا ۔ مگر آج تک ایسےعوامی احتجاجوں کےباوجود قانونی کاروائی کا نہ کیا جانا بہت سےلوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالےہوئےہی۔ لوگ اس کی کڑیاں بہت دور تک ملاتےہیں کہ بہاولنگر کی ہی سب سےبڑی سب تحصیل ڈونگہ بونگہ پر تقریباً دو سال قبل پولیس کی وحشیانہ فائرنگ کےنتیجہ میں غریب نوجوانوں کی ہلاکتوں پر اسی شخص نےبطور ناظم یہ کہہ کر کہ پولیس فائرنگ کا حکم تو میں نےدیا تھا ۔ اور اس طرح پولیس افسران کےکھلم کھلا اور دن دیہاڑےکئےگئےقتلِ عام پر انکےخلاف قتل کےمقدمہ کےاندراج کو رکوا دیا تھا اور کوئی پولیس افسر آج تک ان بہیمانہ قتلوں کےمقدمہ میں گرفتار تو کیا جانا کجا ان کا تبادلہ بھی نہ ہو سکا ہی۔ حالانکہ ڈونگہ بونگہ کےبپھرےہوئےلوگوں نےعوامی احتجاج کےذریعےتھانہ تک کو جلا ڈالا تھا اور وہاں پر کئی روز تک کرفیو نافذ رہا تھا اور کئی ماہ بعد حکومت تھانہ ڈونگہ بونگہ بحال کرنےمیں کامیاب ہو سکی تھی۔ یہی وجہ ہےکہ اس مرتبہ قومی اسمبلی ضمنی انتخابات منعقدہ17 دسمبر2005 کےدوران اعلیٰ پولیس افسران نےاس سرکاری امیدوار کی کھلم کھلا بھر پور امداد کی اور پولنگ سٹیشنوں میں گھس کر چوری کئےگئےبیلٹ پیپروں کو ڈالتےرہےاور پریذائڈنگ افسروں سےبیلٹ پیپروں کی کاپیاں چھین کر بھی خود مہریں لگا کرڈالتےرہی۔ باوردی لوگوں کا خود غنڈوں کاکردار ادا کرنا تاریخ کا ایک سیاہ باب ہی۔ اور انتخابات کی تاریخ میں یہ دن سیاہ حروف میں رقم ہو گیا ہی۔ پولیس کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ ایس ایچ او صاحبان نےاپنےاپنےتھانوں کی دیواروں پر الیکشن مہم کےدوران مذکورہ سرکاری امیدوار کی چاکنگ کروائی ( حالانکہ دیواروں پر کسی قسم کی چاکنگ کرنا یا کروانا الیکشن کےقوائد و ضوابط کےمطابق جرم ہی) ابھی تک تھانوں کی دیواروں پر ملعون و مردود مرتد شخص کی چاکنگ دیکھی جا سکتی ہی۔ ان تمام تر غیر قانونی ہتھکنڈوں کےباوجود یہ شخص الیکشن نتائج کےمطابق تیسرےنمبر پر رہا اور تمام تر روزِ روشن کی طرح عیاں دھاندلیوں کےبا وجود ا سکےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا راقم الحروف 66452 ووٹ لیکر پہلےنمبر پر رہا مگر پولیس ، انتظامیہ ، الیکشن افسران اور ریٹرننگ آفیسر کی چوکور ملی بھگت کر کےتیسرےنمبر پر آنےوالےکافر اورمرتد قرار دئےگئےامیدوار کو مسلمانوں کی سیٹ پر منتخب قرار دےکر اسمبلی میں پہنچانےکےلئےسرگرداں ہےایسی دیدہ دلیری پر لوگ حیران و پریشان ہیں۔ اےمقتدر لوگو ! حکمرانو! ایسےناپاک خیالات رکھنےوالےفرد کو گلےکا ہار بنائےرکھنےسےجو نتیجہ برآمد ہو گا وہ آپکےلئےہی نہیں بلکہ آپ کےاقتدار کےلئےبھی انتہائی خوفناک ثابت ہو گا جتنی جلدی ممکن ہو سکےاس مرتد شخص سےجان چھڑوا لیں ۔ وگرنہ خدا تعالیٰ کی لاٹھی بےآواز ہوتی ہےوہ اپنا کام کر کےرہےگی جیسےسونامی اور پاکستان کےموجودہ زلزلہ میں ہماری شامتِ اعمال پر سنتِ خدا وندی عمل پیرا ہو کر دکھا چکی ہےآپ پھر ہاتھ ملتےرہ جائیں گےاور اقتدار کا ہما بھی کسی اور کےسر پر جا بیٹھےگا ایسے(ملعون و مردود مرتد ) شخص ک
ایسی اعلیٰ اسمبلیوں کی عمارت میں گھسنےتک نہ دیں اسےسنگسار کر کےکیفرِکردار تک پہنچا ڈالیں یا کم از کم کسی اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ سےپاگل قرار دلوا کر پاگل خانےکےقید خانےمیں پھنکوا ڈالیں تاکہ وہاں پڑا گلتا سڑتا رہےاور با لآخر جہنم واصل ہو جائی۔
ڈاکٹر میاں احسان باری

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نیویارک میں عورت کی امامت

Posted on 04/12/2006. Filed under: اسلام |

 

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حمورابی کا حقوق نسواں بل

Posted on 02/12/2006. Filed under: قانون، آرڈیننس |

اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ وہ حمورابی تھا۔ اس نے خود کو سچائی کے دیوتا مردک کی طرف سے نامزد کردہ قرار دیا۔ اردو معارف اسلامی میں بعض حوالوں سے نمرود کو مردک کہا گیاہے مگر ان حوالوں کی صداقت پر اصرار نہیں کیاگیا۔ فرانس میں بیٹھ کر اپنی دینی دانش سے ایک عالم کو متاثر کرنے والے ڈاکٹر حمیداللہ نے یہ قیاس قائم کیا کہ حمورابی نمرود ہی تھا۔ طبری نے نمرود کو ایرانی حکمران ضحاک کہہ کر پھر خود ہی اس کی تردید کردی۔ الخوارزمی نے مفاتیح العلوم میں نمرود کو کیکاؤس کہا۔ نیو اسٹینڈرڈ انسائیکلوپیڈیا نے حمورابی کا دور 1792 سے 1750 قبل مسیح قرار دیا ہے جبکہ انسائیکلوپیڈیا برٹینکا کا کہنا ہے کہ حمورابی کا زمانہ 2067سے 2025قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے۔تاہم یہ کہنا قطعی طور پر ناممکن ہے کہ حمورابی اور نمرود ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ حمورابی نے 43 سال تک اہل عراق پر حکمرانی کی مگر اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ پوری دنیا کا حکمران ہے اس نے بابل شہر بسایا۔ اس نے خود کو اعلیٰ وارفع شہزادہ قرار دیا جسے بقول اس کے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ دنیا میں نیکی پھیلائے تاکہ کوئی طاقتور کسی کمزورکو نقصان نہ پہنچاسکے۔ حمورابی کا کہنا ہے کہ میں کالے سر والے لوگوں پر راج کروں گا، میں روشن خیال ہوں اور دنیا میں اپنی روشن خیالی پھیلاؤں گا۔ میں نے دنیا کے چار حصوں کو فتح کیا ہے۔ میں نے اہل بابل کا نام بلند کیا۔ میں نے ار کو مالا مال کیا۔ میں گش شرگال میں دولت لایا۔ میں سفید بادشاہ شماش ہوں۔ میں نے سپارا کی بنیادیں رکھیں۔ میں نے ای ببار عظیم کو بسایا جو جنت نظیر ہے۔ میں وہ جنگجو ہوں جس نے لارسا کی حفاظت کی۔ میں نے عروق کو نئی زندگی دی۔ میں نے رعایا تک پانی پہنچایا اور ای انا کو سربلند کیا اور انو اور نانا کو حسن سے مالا مال کیا میں نے اپنے وطن کے خزانوں کو دولت سے بھر دیا۔ ہوسکتا ہے کہ روشن خیال حمورابی نے اپنے وطن کے خزانوں کو زرمبادلہ کے ذخائر سے بھردیا ہو مگر وہ خود کو ناقابل مزاحمت جنگجو سمجھتا تھا وہ خود کوشہر ادب کو زندگی عطا کرنے والا سمجھتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا بزرگ و برتر ہے جس نے نینوا کا نام ای مش مش میں رہنے دیا۔ وہ خود کوحق کی توثیق کرنے والا قانونی حکمران سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس نے خداؤں کو خوش کردیا ہے۔ وہ خود کو بابل کا سورج قرار دیتا تھا جس کی کرنیں سمیر اور عکاد پر پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں وہ بادشاہ ہوں جسے دنیا کے چاروں کونوں میں مانا جاتا ہے اور جب مجھے مردک نے انسانوں پر حکمرانی کے لئے بھیجا تو میں نے دھرتی پر حق اور سچ کی حفاظت اور عدل و احسان کے لئے ایک دستاویز تیار کی۔ 1901ء میں فرانسیسی ماہرین آثار و باقیات نے ایران میں کھدائی کے دوران سات فٹ بلند ایک تختہ سیاہ دریافت کیا یہ لگ بھگ چار ہزار سال پرانی پتھر کی سلیٹ تھی جس پر حمورابی کے قوانین درج تھے۔ 282 شقوں پر مشتمل اس ضابطہ قانون کی شق 66 سے 99 تک نہیں پڑھی جاسکی تاہم شق نمبر1 سے شق نمبر65 اورشق نمبر100 سے282 تک پورا ضابطہ قانون پڑھا جاسکتا ہے اس ضابطہ قانون کی شق نمبر127 سے 194 تک 68 شقیں ایسی ہیں جو حقوق نسواں اور عائلی قوانین سے متعلق ہیں۔ ہمارے خیال میں ان 68 شقوں کو تحریر کرنا قارئین پر بوجھ ڈالنا ہوگا تاہم ان میں چند شقیں مشتے از خروارے پیش کی جارہی ہیں۔
شق نمبر127:۔ اگر کوئی شخص کسی کنواری لڑکی یا کسی شخص کی بیوی پر الزام لگاتا ہے اور اُسے ثابت نہیں کرتا ہے تو اس شخص کو ججوں کے روبرو پیش کیا جائے گا اور اس کی بھنوؤں پر نشان لگادیا جائے گا (جلد کاٹ کر یا بھنوؤں کے بال کاٹ کر)
شق نمبر128:۔ اگر کوئی شخص کسی عورت کو بیوی بناکر لے جاتا ہے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کرتا ہے تو وہ اس شخص کی بیوی نہیں ہوگی۔
شق نمبر129:۔ اگر کسی شخص کی بیوی کسی دوسرے شخص کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پکڑی جاتی ہے تو دونوں کوباندھ کر پانی میں پھینک دیا جائے گا تاہم شوہر کو اپنی بیوی اور بادشاہ کو اپنی کنیز کو معاف کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
شق نمبر130:۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی منکوحہ (جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو) کے پاس جاتا ہے جو مرد کو نہیں جانتی اور اپنے والد کے پاس رہتی ہے اس سے دھوکا کرکے اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرتا ہے تو اس شخص کی سزا موت ہوگی تاہم عورت کو بے قصور سمجھا جائے گا۔
شق نمبر131:۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی بیوی پر الزام عائد کرتا ہے لیکن وہ عورت درحقیقت زنا کی مرتکب نہیں ہوئی تو اس عورت کو لازمی طور پر قسم اٹھانا ہوگی اور پھر اسے گھر جانے دیا جائے گا۔
شق نمبر132:۔ اگرکسی شخص کی بیوی پر دوسرا شخص الزام لگاتا ہے مگر وہ عورت دوسرے شخص کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑی جاسکی تو اسے اپنے شوہر کی خاطر دریا میں چھلانگ لگانا ہوگی۔
شق نمبر133:۔ اگر کوئی شخص جنگی قیدی بنالیا جاتا ہے اور اس کے گھر میں اپنی بیوی کے لئے غذا اور خوراک موجود ہے اس حالت میں اگر وہ اپنے شوہر کا گھر چھوڑتی ہے اور کسی دوسرے شخص کے ہاں چلی جاتی ہے اور اپنی چادر اور چاردیواری کا لحاظ نہیں کرتی تو اس عورت کی عدالتی مذمت کی جائے گی اور اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔
شق نمبر134:۔ اگر کوئی شخص جنگی قیدی بن جاتا ہے اور اس کے گھر میں نان نفقہ کا کوئی انتظام موجود نہیں اس صورت میں اگر اس کی بیوی کسی دوسرے گھر چلی جاتی ہے تو اُسے بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
شق نمبر136:۔ اگر کوئی شخص اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے اور پھر اس کی بیوی کسی دوسرے گھر چلی جاتی ہے پھر وہ شخص واپس آجاتا ہے اور اپنی بیوی کو واپس لے جانا چاہتا ہے تو چونکہ وہ شخص خود ہی گھر چھوڑ کر چلاگیا تھا اور لاپتہ ہوگیا تھا ایسے حالات میں اس شخص کی بیوی لوٹائی نہیں جاسکے گی۔
شق نمبر137:۔ اگر کوئی شخص اپنی بیو ی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے جس سے اس کے بچے پیدا ہوئے ہوں تو اسے عورت کو جہیز لوٹانا ہوگا نیز اسے عورت کو اپنے کھیتوں، باغوں اور جائیداد کے ایک حصے پر حق تصرف دینا ہوگا تاکہ وہ اس کے بچوں کی پرورش کرسکے اور جب اس کے بچے بالغ ہوجائیں گے تو وہ تمام چیزیں بچوں کو منتقل ہوجائینگی تاہم ایک بیٹے کے حصے کے برابر عورت کے پاس دیا جائے گا اور پھر اس کے بعد عورت کو آزادی ہوگی جس سے اس کا دل چاہے شادی کرے۔
شق نمبر138:۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے اور اس کی بیوی نے اس کے کسی بچے کو جنم نہیں دیا تو وہ اسے اس کا حق مہر اور جہیز جو وہ اپنے والد کے گھر سے لائی تھی لوٹادے گا اور اسے آزاد کرکے جانے دے گا۔
شق نمبر139:۔ اگر کوئی حق مہر طے نہیں ہوا تھا تو وہ اپنی طرف سے رہائی کے تحفے کے طور پر اسے سونے کی ایک خاص مقدار (مینا) ادا کرے گا۔
شق نمبر140:۔ اگر وہ ایک نوآزاد شخص ہوگا تو وہ ایک تہائی (مینا) ادا کرے گا۔ ہم ماہر قانون نہیں، ہمیں اتنا بھی علم نہیں کہ ریاست کے عائلی قوانین پوری ریاست کا کورایشو کس طرح اور کن حالات میں بن جاتے ہیں۔ ہمیں تو حمورابی نے بھی نہیں بتایا کہ اس روشن خیال حکمران کے عہد میں بے روزگاری کی شرح کیا تھی۔ کتنے افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ کتنے لوگ بھوک، بیماری اور بے روزگاری سے اپنے بچوں سمیت خودسوزی کرلیا کرتے تھے۔ کتنے لوگ حمورابی سرکار کے ٹیکس اور یوٹیلٹی بلوں کو ادا کرنے کے لئے اپنے گھر،چھوٹے بڑے اثاثے اور اپنی زرعی اراضی بیچ دیا کرتے تھے۔ کتنے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے۔ کتنی بچیاں جہیز نہ ہونے پر اپنے سروں کو چاندی سے رنگ لیا کرتی تھیں۔ کتنی بیاہتائیں بے محبت ریا کار سیجوں پر سج سج کر اکتا جاتی تھیں اور کتنی مائیں گھروں سے دور روزی کمانے کے لئے جانے والے جواں سال بیٹوں کی لاشیں وصول کرتی تھیں۔
عرض حال…نذیر لغاری
روزنامہ جنگ ٢دسمبر٢٠٠٦

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...