حمورابی کا حقوق نسواں بل

Posted on 02/12/2006. Filed under: قانون، آرڈیننس |

اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ وہ حمورابی تھا۔ اس نے خود کو سچائی کے دیوتا مردک کی طرف سے نامزد کردہ قرار دیا۔ اردو معارف اسلامی میں بعض حوالوں سے نمرود کو مردک کہا گیاہے مگر ان حوالوں کی صداقت پر اصرار نہیں کیاگیا۔ فرانس میں بیٹھ کر اپنی دینی دانش سے ایک عالم کو متاثر کرنے والے ڈاکٹر حمیداللہ نے یہ قیاس قائم کیا کہ حمورابی نمرود ہی تھا۔ طبری نے نمرود کو ایرانی حکمران ضحاک کہہ کر پھر خود ہی اس کی تردید کردی۔ الخوارزمی نے مفاتیح العلوم میں نمرود کو کیکاؤس کہا۔ نیو اسٹینڈرڈ انسائیکلوپیڈیا نے حمورابی کا دور 1792 سے 1750 قبل مسیح قرار دیا ہے جبکہ انسائیکلوپیڈیا برٹینکا کا کہنا ہے کہ حمورابی کا زمانہ 2067سے 2025قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے۔تاہم یہ کہنا قطعی طور پر ناممکن ہے کہ حمورابی اور نمرود ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ حمورابی نے 43 سال تک اہل عراق پر حکمرانی کی مگر اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ پوری دنیا کا حکمران ہے اس نے بابل شہر بسایا۔ اس نے خود کو اعلیٰ وارفع شہزادہ قرار دیا جسے بقول اس کے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ دنیا میں نیکی پھیلائے تاکہ کوئی طاقتور کسی کمزورکو نقصان نہ پہنچاسکے۔ حمورابی کا کہنا ہے کہ میں کالے سر والے لوگوں پر راج کروں گا، میں روشن خیال ہوں اور دنیا میں اپنی روشن خیالی پھیلاؤں گا۔ میں نے دنیا کے چار حصوں کو فتح کیا ہے۔ میں نے اہل بابل کا نام بلند کیا۔ میں نے ار کو مالا مال کیا۔ میں گش شرگال میں دولت لایا۔ میں سفید بادشاہ شماش ہوں۔ میں نے سپارا کی بنیادیں رکھیں۔ میں نے ای ببار عظیم کو بسایا جو جنت نظیر ہے۔ میں وہ جنگجو ہوں جس نے لارسا کی حفاظت کی۔ میں نے عروق کو نئی زندگی دی۔ میں نے رعایا تک پانی پہنچایا اور ای انا کو سربلند کیا اور انو اور نانا کو حسن سے مالا مال کیا میں نے اپنے وطن کے خزانوں کو دولت سے بھر دیا۔ ہوسکتا ہے کہ روشن خیال حمورابی نے اپنے وطن کے خزانوں کو زرمبادلہ کے ذخائر سے بھردیا ہو مگر وہ خود کو ناقابل مزاحمت جنگجو سمجھتا تھا وہ خود کوشہر ادب کو زندگی عطا کرنے والا سمجھتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا بزرگ و برتر ہے جس نے نینوا کا نام ای مش مش میں رہنے دیا۔ وہ خود کوحق کی توثیق کرنے والا قانونی حکمران سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس نے خداؤں کو خوش کردیا ہے۔ وہ خود کو بابل کا سورج قرار دیتا تھا جس کی کرنیں سمیر اور عکاد پر پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں وہ بادشاہ ہوں جسے دنیا کے چاروں کونوں میں مانا جاتا ہے اور جب مجھے مردک نے انسانوں پر حکمرانی کے لئے بھیجا تو میں نے دھرتی پر حق اور سچ کی حفاظت اور عدل و احسان کے لئے ایک دستاویز تیار کی۔ 1901ء میں فرانسیسی ماہرین آثار و باقیات نے ایران میں کھدائی کے دوران سات فٹ بلند ایک تختہ سیاہ دریافت کیا یہ لگ بھگ چار ہزار سال پرانی پتھر کی سلیٹ تھی جس پر حمورابی کے قوانین درج تھے۔ 282 شقوں پر مشتمل اس ضابطہ قانون کی شق 66 سے 99 تک نہیں پڑھی جاسکی تاہم شق نمبر1 سے شق نمبر65 اورشق نمبر100 سے282 تک پورا ضابطہ قانون پڑھا جاسکتا ہے اس ضابطہ قانون کی شق نمبر127 سے 194 تک 68 شقیں ایسی ہیں جو حقوق نسواں اور عائلی قوانین سے متعلق ہیں۔ ہمارے خیال میں ان 68 شقوں کو تحریر کرنا قارئین پر بوجھ ڈالنا ہوگا تاہم ان میں چند شقیں مشتے از خروارے پیش کی جارہی ہیں۔
شق نمبر127:۔ اگر کوئی شخص کسی کنواری لڑکی یا کسی شخص کی بیوی پر الزام لگاتا ہے اور اُسے ثابت نہیں کرتا ہے تو اس شخص کو ججوں کے روبرو پیش کیا جائے گا اور اس کی بھنوؤں پر نشان لگادیا جائے گا (جلد کاٹ کر یا بھنوؤں کے بال کاٹ کر)
شق نمبر128:۔ اگر کوئی شخص کسی عورت کو بیوی بناکر لے جاتا ہے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کرتا ہے تو وہ اس شخص کی بیوی نہیں ہوگی۔
شق نمبر129:۔ اگر کسی شخص کی بیوی کسی دوسرے شخص کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پکڑی جاتی ہے تو دونوں کوباندھ کر پانی میں پھینک دیا جائے گا تاہم شوہر کو اپنی بیوی اور بادشاہ کو اپنی کنیز کو معاف کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
شق نمبر130:۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی منکوحہ (جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو) کے پاس جاتا ہے جو مرد کو نہیں جانتی اور اپنے والد کے پاس رہتی ہے اس سے دھوکا کرکے اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرتا ہے تو اس شخص کی سزا موت ہوگی تاہم عورت کو بے قصور سمجھا جائے گا۔
شق نمبر131:۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی بیوی پر الزام عائد کرتا ہے لیکن وہ عورت درحقیقت زنا کی مرتکب نہیں ہوئی تو اس عورت کو لازمی طور پر قسم اٹھانا ہوگی اور پھر اسے گھر جانے دیا جائے گا۔
شق نمبر132:۔ اگرکسی شخص کی بیوی پر دوسرا شخص الزام لگاتا ہے مگر وہ عورت دوسرے شخص کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑی جاسکی تو اسے اپنے شوہر کی خاطر دریا میں چھلانگ لگانا ہوگی۔
شق نمبر133:۔ اگر کوئی شخص جنگی قیدی بنالیا جاتا ہے اور اس کے گھر میں اپنی بیوی کے لئے غذا اور خوراک موجود ہے اس حالت میں اگر وہ اپنے شوہر کا گھر چھوڑتی ہے اور کسی دوسرے شخص کے ہاں چلی جاتی ہے اور اپنی چادر اور چاردیواری کا لحاظ نہیں کرتی تو اس عورت کی عدالتی مذمت کی جائے گی اور اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔
شق نمبر134:۔ اگر کوئی شخص جنگی قیدی بن جاتا ہے اور اس کے گھر میں نان نفقہ کا کوئی انتظام موجود نہیں اس صورت میں اگر اس کی بیوی کسی دوسرے گھر چلی جاتی ہے تو اُسے بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
شق نمبر136:۔ اگر کوئی شخص اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے اور پھر اس کی بیوی کسی دوسرے گھر چلی جاتی ہے پھر وہ شخص واپس آجاتا ہے اور اپنی بیوی کو واپس لے جانا چاہتا ہے تو چونکہ وہ شخص خود ہی گھر چھوڑ کر چلاگیا تھا اور لاپتہ ہوگیا تھا ایسے حالات میں اس شخص کی بیوی لوٹائی نہیں جاسکے گی۔
شق نمبر137:۔ اگر کوئی شخص اپنی بیو ی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے جس سے اس کے بچے پیدا ہوئے ہوں تو اسے عورت کو جہیز لوٹانا ہوگا نیز اسے عورت کو اپنے کھیتوں، باغوں اور جائیداد کے ایک حصے پر حق تصرف دینا ہوگا تاکہ وہ اس کے بچوں کی پرورش کرسکے اور جب اس کے بچے بالغ ہوجائیں گے تو وہ تمام چیزیں بچوں کو منتقل ہوجائینگی تاہم ایک بیٹے کے حصے کے برابر عورت کے پاس دیا جائے گا اور پھر اس کے بعد عورت کو آزادی ہوگی جس سے اس کا دل چاہے شادی کرے۔
شق نمبر138:۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے اور اس کی بیوی نے اس کے کسی بچے کو جنم نہیں دیا تو وہ اسے اس کا حق مہر اور جہیز جو وہ اپنے والد کے گھر سے لائی تھی لوٹادے گا اور اسے آزاد کرکے جانے دے گا۔
شق نمبر139:۔ اگر کوئی حق مہر طے نہیں ہوا تھا تو وہ اپنی طرف سے رہائی کے تحفے کے طور پر اسے سونے کی ایک خاص مقدار (مینا) ادا کرے گا۔
شق نمبر140:۔ اگر وہ ایک نوآزاد شخص ہوگا تو وہ ایک تہائی (مینا) ادا کرے گا۔ ہم ماہر قانون نہیں، ہمیں اتنا بھی علم نہیں کہ ریاست کے عائلی قوانین پوری ریاست کا کورایشو کس طرح اور کن حالات میں بن جاتے ہیں۔ ہمیں تو حمورابی نے بھی نہیں بتایا کہ اس روشن خیال حکمران کے عہد میں بے روزگاری کی شرح کیا تھی۔ کتنے افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ کتنے لوگ بھوک، بیماری اور بے روزگاری سے اپنے بچوں سمیت خودسوزی کرلیا کرتے تھے۔ کتنے لوگ حمورابی سرکار کے ٹیکس اور یوٹیلٹی بلوں کو ادا کرنے کے لئے اپنے گھر،چھوٹے بڑے اثاثے اور اپنی زرعی اراضی بیچ دیا کرتے تھے۔ کتنے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے۔ کتنی بچیاں جہیز نہ ہونے پر اپنے سروں کو چاندی سے رنگ لیا کرتی تھیں۔ کتنی بیاہتائیں بے محبت ریا کار سیجوں پر سج سج کر اکتا جاتی تھیں اور کتنی مائیں گھروں سے دور روزی کمانے کے لئے جانے والے جواں سال بیٹوں کی لاشیں وصول کرتی تھیں۔
عرض حال…نذیر لغاری
روزنامہ جنگ ٢دسمبر٢٠٠٦

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

One Response to “حمورابی کا حقوق نسواں بل”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

http://www.inikah.comمسلمانوں کیلئے عظیم تحفہ

شادی کی اہمیت وافادیت پر کسی فرد کو کلام نہیں ، شادی کے بعد ایک نئی زندگی کی شروعات تصورکی
جاتی ہے، اس کے بغیر سماجی زندگی کاتصور نہیں کیاجاسکتا،معاشرے کی ترقی اور فلاح وبہبود اسی میں پنہا
ہے، اسی سے خاندانوں میں پروان چڑھتا ہے،اور معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے، اس کے بغیر برائیوں اور بے حیائیوں کے راستے کھلتے ہیں۔
آج سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کسطرح اس خوبصورت لمحہ کو یادگار اور کامیاب بنایاجائے،کیوں کہ موجودہ دور میں اپنے پسند کے رشتے تلاش کرنابہت مشکل امر ہے، کچھ لوگ رشتہ طے کرانے کا
کام انجام دے رہے ہیں ،لیکن اس سماجی اور دینی کام کومشاطہ حضرات نے ایک کاروبار ی شکل دے دی
ہے،ایک رشتہ طے کرانے کیلئے اتنے پیسوں کامطالبہ کیاجاتاہے جو ایک عام آدمی اس کی استطاعت نہیں رکھتا، کچھ پڑھے لکھے طبقہ انگریزی اخباروں اور غیر اسلامی ویب سائٹس کاسہارا لیتے ہیں تو ایسی صورت میں غیر مسلم خاندانوں کی طرف سے بھی فون کالس آنے لگتے ہیں ، رشتے طے کرانے کیلئے کئی ویب سائٹس ملک و بیرون ملک کام انجام دے رہے ہیں لیکن ان سب میں لڑکیوں کی تصویروںکی زیادہ سے زیادہ نمائش کیجاتی ہے، اور ان کابیجا استعمال کیاجاتا ہے،اس طرح کے ویب سائٹس آج کل صرف تفریح و طبع کیلئے دیکھا جاتاہے، جہاں اسلامی شریعت کا کو ئی پاس و لحاظ نہیں کیا جاتا ، ان تمام صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے بنگلور کی ایک مسلم سافٹ ویئر کمپنی online mPower labs (p) ltd نے دنیاکا سب سے پہلااسلامک ویب سائٹ iNikah.com کے نام سے تشکیل دی ہے جو اپنی تشکیل کے روز اول ہی سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںمسلمان لڑکے ولڑکیوں کے رشتے طے کرانے کی خدمات سرانجام دے رہی ہے جس سے ایک سال کے مختصر عرصہ میں ملک وبیرون ملک کی ایک کثیر تعداد استفادہ کرچکی ہے۔
http://www.iNikah.com کے آغاز کا مقصد مسلم سماج میں شادی بیاہ کے حوالے سے موجودہ سماجی برائیوں کو ختم کرتے ہوئے شادی کے لائق مسلم نوجوان لڑکے و لڑکیوں کیلئے اپنی پسند کے رشتے کو آسان عمل بناکر پیش کرنا ہے ۔
http://www.iNikah.com کی خصوصیات یہ ہیں کہ بنیادی طور پر اسلامی تشخص کالحاظ رکھا گیا ہے ۔ اس ویب سائٹ پر لڑکیوں کی تصاویر موجود ہیں لیکن ان کا مشاہدہ اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لڑکی کے سرپرست اس کی اجازت نہ دے دے، جب کہ دیگر رشتے لگانے والی ویب سائٹس میں ایسا کچھ نہیں ہے، نتےجتا لڑکیوں کی تصاویر لوگ تفریح و طبع اور بے مقصد بھی دیکھتے ہیں جب کہ iNikah.comمیںلڑکے والے کسی لڑکی کا بائیو ڈاٹادیکھنے کے بعد لڑکی کی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا بائےو ڈاٹا بتلاتے ہوئے لڑکی والو ں کا وہ پاس ورڈ حاصل کر نا ہوتا ہے جس کو ٹائپ کر نے کے بعد ہی لڑکی کی تصویر تک رسائی ہوتی ہے۔ iNikah.comکے ذریعہ لڑکی ڈھونڈنے والے لڑکوں اور ان کے سرپرستوں سے یہ ضمانت لیتی ہے کہ وہ جہیز کامطالبہ نہ کریں ۔ شادی طے ہوجانے کے بعد دوران شادی بے دریغ مال خرچ نہ کریں۔ شادی میں ہونے والی برائےوں کو ختم کرنے کا عہد کریں۔
iNikah.comکے متعلق ویب سائٹ کےC.E.O احمد حسن کا کہنا ہے کہ ” انشا ءاللہ آنے والے دوتین مہینوں کے اندراس ویب سائٹ میں اردو ،عربی اور ہندی زبان کی سہولیات فراہم کئے جائیں گے۔ “
iNikah.comملک کے بڑے بڑے شہروں میں سمپل نکاح پوائنٹس کی شروعات کرچکی ہے، جن کے ذریعہ جنھیں انٹر نیٹ کے استعمال سے شناسائی نہیں ہے وہ بھی اپنے رشتوںکارجسٹریشن آف لائن کراسکیں گے، iNikah.comایک اچھی شروعات ہے جس کی ستائش کی جانی چاہئے
۔
از: محمد تنویر عالم قاسمی
Email Id: tanveeralamqasmi@yahoo.co.in


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: