کیا جاگیردار، وڈیرے اور ظالم سرمایہ دار کے لئے توہین رسالت کرنے کی کھلی چھوٹ ہے؟

Posted on 07/12/2006. Filed under: اسلام, سیاست |

کیا جاگیردار، وڈیرے اور ظالم سرمایہ دار کے لئے توہین رسالت کرنے کی کھلی چھوٹ ہے؟ کیا حکومت کےپروردہ نمائندےاور اعلیٰ اسمبلی کےممبر پر اسلامی قوانین اور شریعت کا نفاذ نہیں ہوتا؟ضلع بہاولنگر میں 13 دسمبر2005 کی وہ خوفناک رات دوبارہ کبھی نہیں آئےگی جب لوگوں پر ساری رات بےبسی کی کیفیت طاری رہی لوگ روتے، چیختےچلاتےاور کُڑھتےرہےمگر قانون کےرکھوالےکسی قسم کی کاروائی کےلئےتیار نہ تھےاورمجرم کو بچانےکےلئےساری رات پلاننگ کرتےرہےاس مکروہ رات کو 9بجےکےقریب علی اکبر وینس نامی ایک مکروہ شخص نےمجمع عام میں تقریر کرتےہوئےحضرت محمد کی شان میں تحقیر کرکےعوا م میں سخت انتشار و افتراق پیدا کر ڈالا تھا جس سےپورےضلع بھر میں سخت ہیجان برپا ہو گیا اس انہونےواقعہ کےبعد مقامی بار ایسوسی ایشن اور ضلع بھر کی تمام اہم بڑی بڑی مساجد میں متفقہ قرار دادیں پاس کی گئی تھیں علی اکبر وینس نےجب جلسہ میں یہ بات کہی کہ ” ہرآدمی کو اپنا باپ پیارا ہوتا ہےمجھےبھی اپنا باپ پیارا ہےمیرےلئےمیرےباپ کی بات نبی کی بات سےکم نہیں “ تو کہرام برپاہو گیااور سخت شوروغوغا مچ گیا۔ کالونی کےباریش عمر رسیدہ اور با اثر بزرگ ، دینی افراد ساری رات ہیجان کی کیفیت میں رہےقانون کےدروازےکھٹکھٹائےگئےمگر کوئی سننےتک کو تیار نہ ہواکہ پنجاب کی سرکار کی مکمل پشت پناہی اسےحاصل تھی علی الصبح ہی لوگ جوق در جوق مرکزی عید گاہ کےجیدعلماء، دیگر آئمہ مساجد اورہر مسلک کےعلماءکےپاس پہنچنا شروع ہو گئےشہر اور گردونواح میں توہین رسالت کا یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکا تھا لوگوں کےجلوس اور باشعور افراد کےوفود علماءاورمفتیان سےمرتد اکبر وینس کےخلاف فتویٰ جاری کرنےکا پُر زور مطالبہ کررہےتھےعوامی سطح پر ایسےبھر پور احتجاج کےباوجود شانِ رسالت میں گستاخی کےمرتکب ملعون اور مرتد شخص اکبر وینس کےخلاف کوئی قانونی کاروائی تک نہیں کی گئی حالانکہ اگلےہی روز کئی افراد نےتصدیق شدہ حلفیہ بیان سٹامپ پیپر پر تحریر کر کےاس واقعہ کی تصدیق کرڈالی تھی شانِ رسالت میں گستاخی کےواقعہ کےدو عینی شاہدوں سید محمد ولد گوہر علی ساکن گلی نمبر12 مدنی کالونی بہاولنگر اور رحمت اللہ ولد نذیر احمد ساکن قاسم روڈ بہاولنگر کےتصدیق شدہ بیان حلفی علماءملک بھر کےدینی مدارس میں موجود مفتیوں اور صحافیوں کو پیش کئےگئےجن کی بنیادپر مفتی محمدتنویر القادری جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور نےفتویٰ جاری کر دیا تھا ۔ فتویٰ میں مفتی صاحب نےقرآن و حدیث کےحوالہ جات کےذریعےملعون علی اکبر کی بات کو توہینِ رسالت قرار دیتےہوئےلکھا ہےکہ مذکورہ شخص کا اپنےباپ کی بات کو نبی کی بات کےبرابر یا افضل بتانا اپنےباپ کو نبی مکرم کےہمسر یا افضل بنانا ہےحالانکہ نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیاءعلیہ السلام سےافضل ہیں اور آپ کا فرمان حدیث و شریعت ہےاور نبی مکرم کےبرابر یا افضل مخلوق میں کوئی نہیں ہو سکتا اور جو اپنےباپ کی بات یا باپ کو نبی مکرم کےبرابر یا افضل مانےوہ کافر و مرتد اور واجب القتل ہےکہ اس نےاپنےباپ کی بات کو نبی مکرم کےفرمان (حدیث) کےبرابر یا افضل مانا ۔ خود نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا ” تم میں سےکوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک میں اسےاس کےماں باپ اولاد اور سارےجہان سےزیادہ پیارا نہ ہوں (صحیح بخاری و مسلم) “ تو قران و سنت سےثابت ہےکہ اللہ و رسول سےبڑھ کر کسی کی تعظیم و توقیر نہیں اور جو اللہ و رسول سےزیادہ کسی کی تعظیم و تکریم بتائےوہ مومن نہیں ۔ جو شخص کلمہ گو ہو کر حضورِاقدس کو برا کہےیا تکذیب کرےیا کوئی عیب لگائےیا شان گھٹائےوہ بلا شبہ کافر ہو گیا اور اسکی عورت نکاح سےنکل گئی اور مزید یہ کہ اس پر اجماع ہےکہ حضورِ اقدس کی شان میں گستاخی کرنےوالا کافر ہی۔ اور اس پر عذاب کی وعید جاری ہےاور امت کےنزدیک وہ واجب القتل ہےاور جو اس کےکافر و مستحقِ عذاب ہونےمیں شک کرےبےشک وہ بھی کافر ہے۔ فتویٰ کےآخرمیں لکھا ہےکہ مذکورہ ملعون شخص مجمع عام میں نبی کی شان میں تحقیر کر کےعوام میں انتشار و افتراق اور فتنہ پیداکر کےملک میں بد امنی پھیلارہا ہےاور ملک و قوم اس کی متحمل نہیں ، علاقہ کےمسلمانوں اور حل و عقد پر لازم ہےاس گستاخِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قرا ر واقعی سزا دلوائیں تاکہ آئندہ کسی شقی کو اس طرح جسارت کی ہمت نہ ہو۔ توہین رسالت کرنےوالےملعون شخص اکبر وینس کےخلاف فتویٰ اور وسیع عوامی احتجاجوں کےباوجود نہ تو آج تک اسکےخلاف مقدمہ کااندراج کیا گیا ہےاور نہ ہی اسےگرفتار۔ حالانکہ شانِ رسالت کی توہین کےمرتکب ملعون و مرتد شخص کےخلاف فوراً قانونی کاروائی کی جانی چاہیئےتھی۔ یہ وہ سوال ہےجو ہر باشعور شخص کو پریشان کئےہوئےہی۔ ضلع کےموثر ظالم جاگیر دار ، بد کردار سرمایہ دار اور حکومتی سر پرستی ہونےکی وجہ سےاسکےخلاف کاروائی نہ کیا جانا بذاتِ خود دینی اقدار کا مذاق اڑانےکےمترادف ہےحالانکہ وقوعہ کی رپورٹ درج کی گئیں افسران بالا کو رپورٹس بھجوائی گئیں اگر کسی غریب یا عام شخص نےایسی نازیبا بات کی ہوتی تو وہ کبھی کا تختہ دار پر لٹک گیا ہوتا یا پھر ایسےمرتد و ملعون شخص کو لوگ خود ہی سنگسار کر چکےہوتے۔ علماء، وکلاء، سماجی و کاروباری انجمنوں، مذہبی تنظیموں اور تمام سیاسی و دینی جماعتوں پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی نےبھی مسلسل کام کر کےاتفاقِ رائےسےمطالبہ کیا ہےکہ گستاخی رسول کےمرتکب مردود و ملعون مرتد شخص علی اکبر وینس کےخلاف فوراً کاروائی کی جائےتاکہ گو
مگو کی ہیجانی کیفیت اور انتشار ختم ہو جائےاور آئندہ کوئی اس پاک دھرتی پر رسول کی توہین کرنےکی جرات نہ کر سکےوگرنہ غیور عوام یہ حق بحال رکھتےہیں کہ وہ خود مرتد و ملعون شخص کو سنگسارکر ڈالیں جو کہ دین اسلام کی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہےاور حکمِ خدا وندی بھی ! اب دیکھیں قدرت کا فیصلہ کب نافذ ہوتا ہےاور پنجاب و ضلع بہاولنگر کےحکمران کب مرتد کی سرکوبی کرتےہیں؟ کیا کسی گستاخ ِرسول کو اس لئےگرفتار نہ کرنا کہ وہ سرکاری پسندیدہ فرد ہےیا کسی وزیرِ اعلیٰ کی رشتہ داری کا جعلی دعویدار ہےبھی کسی قانون کےتحت جائز قرار دیا جا سکتا ہی؟ کیا ایسےملعون شخص کیلئےشریعت محمدی کی کوئی علیحدہ تعبیر ممکن ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں ۔ حضرت محمد نےآخری خطبہ جمعة الوداع میں خطاب کرتےہوئےیہ وضاحت کر دی تھی کہ کالےکو گورےپر ، گورےکو کالےپر ، ہاشمی کو قریشی پر ،قریشی کو ہاشمی پر کو ئی ترجیح نہیں ۔ ترجیح ہےتو صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہےجو بہتر کردار والا ہےوہ معتبر اور سر بلند ہو گا اور جو بد کردار ہےوہ خواہ کسی مقتدر شخص کا رشتہ دار ہو یا حکومتی برادری سےہی کیوں نہ تعلق رکھتا ہووہ راندہ درگاہ ہی رہےگا اور حضرت محمد کا یہ فرمان کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتیں تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا شریعت محمدی کےدرخشاں باب ہیں ۔مذکورہ مرتد و ملعون شخص کو پہلےبھی وکلاءکےخلاف دشنام طرازی اور انتہائی لچر گفتگو کرنےکی وجہ سےبہاولنگر کی بار ایسوسی ایشن کےوکلاءنےاس کےدفترکا چار دن تک گھیرائو کئےرکھا تھا اور متفقہ قراددیں پاس کی گئیں جس میں حکومتی لیگ کےوکلاءبھی شامل تھےانہی قراردادوں کی بنیاد پر بار میں اس مذکورہ ملعون شخص کا داخلہ تادمِ زندگی ممنوع قرار دیا جا چکا ہی۔ اسی طرح قبل ازیں علماءکی محفل میں اس نےاسلامی اقدار کی توہین کی اور انتہائی زہریلی گفتگو کی اس نےکہا (نقلِ کفر کفر نا باشد) اس نےخانہ کعبہ کو ایک کوٹھا (کمرہ) قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا ہی کوٹھا (کمرہ) میں ادھر بنوا دیتا ہوں اس کےگرد چکر لگا لیا کرو اتنی رقوم خرچ کرنےکا کیا فائدہ اس رقم سےکسی غریب بیوہ کی ہی خدمت کر ڈالو وغیرہ وغیرہ۔اس پر اس کی سرکوبی کےلئےعلماءبھی میدانِ عمل میں نکل آئےتھےمگر مقتدر حضرات نےآج تک اس ملعون شخص کےبارےمیں کوئی نوٹس نہیں لیا یہ سوال ایک اچنبھا ہےاگر سنپولئےکو بچپن ہی میں ہلاک کر دیا جاتا تو آج وہ اژدہا بن کر پھنکاریں نہ مارتا اور مزید اسلامی اقدار کی توہین نہ کر سکتا اور موجودہ توہین رسالت کامرتکب بھی نہ ہوتا ۔ مگر آج تک ایسےعوامی احتجاجوں کےباوجود قانونی کاروائی کا نہ کیا جانا بہت سےلوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالےہوئےہی۔ لوگ اس کی کڑیاں بہت دور تک ملاتےہیں کہ بہاولنگر کی ہی سب سےبڑی سب تحصیل ڈونگہ بونگہ پر تقریباً دو سال قبل پولیس کی وحشیانہ فائرنگ کےنتیجہ میں غریب نوجوانوں کی ہلاکتوں پر اسی شخص نےبطور ناظم یہ کہہ کر کہ پولیس فائرنگ کا حکم تو میں نےدیا تھا ۔ اور اس طرح پولیس افسران کےکھلم کھلا اور دن دیہاڑےکئےگئےقتلِ عام پر انکےخلاف قتل کےمقدمہ کےاندراج کو رکوا دیا تھا اور کوئی پولیس افسر آج تک ان بہیمانہ قتلوں کےمقدمہ میں گرفتار تو کیا جانا کجا ان کا تبادلہ بھی نہ ہو سکا ہی۔ حالانکہ ڈونگہ بونگہ کےبپھرےہوئےلوگوں نےعوامی احتجاج کےذریعےتھانہ تک کو جلا ڈالا تھا اور وہاں پر کئی روز تک کرفیو نافذ رہا تھا اور کئی ماہ بعد حکومت تھانہ ڈونگہ بونگہ بحال کرنےمیں کامیاب ہو سکی تھی۔ یہی وجہ ہےکہ اس مرتبہ قومی اسمبلی ضمنی انتخابات منعقدہ17 دسمبر2005 کےدوران اعلیٰ پولیس افسران نےاس سرکاری امیدوار کی کھلم کھلا بھر پور امداد کی اور پولنگ سٹیشنوں میں گھس کر چوری کئےگئےبیلٹ پیپروں کو ڈالتےرہےاور پریذائڈنگ افسروں سےبیلٹ پیپروں کی کاپیاں چھین کر بھی خود مہریں لگا کرڈالتےرہی۔ باوردی لوگوں کا خود غنڈوں کاکردار ادا کرنا تاریخ کا ایک سیاہ باب ہی۔ اور انتخابات کی تاریخ میں یہ دن سیاہ حروف میں رقم ہو گیا ہی۔ پولیس کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ ایس ایچ او صاحبان نےاپنےاپنےتھانوں کی دیواروں پر الیکشن مہم کےدوران مذکورہ سرکاری امیدوار کی چاکنگ کروائی ( حالانکہ دیواروں پر کسی قسم کی چاکنگ کرنا یا کروانا الیکشن کےقوائد و ضوابط کےمطابق جرم ہی) ابھی تک تھانوں کی دیواروں پر ملعون و مردود مرتد شخص کی چاکنگ دیکھی جا سکتی ہی۔ ان تمام تر غیر قانونی ہتھکنڈوں کےباوجود یہ شخص الیکشن نتائج کےمطابق تیسرےنمبر پر رہا اور تمام تر روزِ روشن کی طرح عیاں دھاندلیوں کےبا وجود ا سکےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا راقم الحروف 66452 ووٹ لیکر پہلےنمبر پر رہا مگر پولیس ، انتظامیہ ، الیکشن افسران اور ریٹرننگ آفیسر کی چوکور ملی بھگت کر کےتیسرےنمبر پر آنےوالےکافر اورمرتد قرار دئےگئےامیدوار کو مسلمانوں کی سیٹ پر منتخب قرار دےکر اسمبلی میں پہنچانےکےلئےسرگرداں ہےایسی دیدہ دلیری پر لوگ حیران و پریشان ہیں۔ اےمقتدر لوگو ! حکمرانو! ایسےناپاک خیالات رکھنےوالےفرد کو گلےکا ہار بنائےرکھنےسےجو نتیجہ برآمد ہو گا وہ آپکےلئےہی نہیں بلکہ آپ کےاقتدار کےلئےبھی انتہائی خوفناک ثابت ہو گا جتنی جلدی ممکن ہو سکےاس مرتد شخص سےجان چھڑوا لیں ۔ وگرنہ خدا تعالیٰ کی لاٹھی بےآواز ہوتی ہےوہ اپنا کام کر کےرہےگی جیسےسونامی اور پاکستان کےموجودہ زلزلہ میں ہماری شامتِ اعمال پر سنتِ خدا وندی عمل پیرا ہو کر دکھا چکی ہےآپ پھر ہاتھ ملتےرہ جائیں گےاور اقتدار کا ہما بھی کسی اور کےسر پر جا بیٹھےگا ایسے(ملعون و مردود مرتد ) شخص ک
ایسی اعلیٰ اسمبلیوں کی عمارت میں گھسنےتک نہ دیں اسےسنگسار کر کےکیفرِکردار تک پہنچا ڈالیں یا کم از کم کسی اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ سےپاگل قرار دلوا کر پاگل خانےکےقید خانےمیں پھنکوا ڈالیں تاکہ وہاں پڑا گلتا سڑتا رہےاور با لآخر جہنم واصل ہو جائی۔
ڈاکٹر میاں احسان باری

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: