حسبہ بل کا مکمل متن

Posted on 20/12/2006. Filed under: قانون، آرڈیننس |

سرحد اسمبلی سے منظور ہونے والے حسبہ بل کا مکمل متن (ترامیم سمیت)ادارہ حسبہ کا قیام
تمہید:
ہرگاہ کہ تمام کائنات میں حاکمیت اعلی اللہ تعالی کی ہے اور اس ملک خدا داد کے شمال مغربی سرحدی صوبہ میں عوام کے منتخب نمائندوں کو اسکے تفویض کردہ اختیارات ایک مقدس امانت ہیں۔
وہرگاہ کہ اسلامی نظام کی ترویج کا دارو مدار امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر ہے۔ اور اس مقصدکے حصول کیلئے علاوہ دیگر اقدامات کے ایک ایسے ادارہ حسبہ کا قیام بھی ضروری ہے جو معاشرے کے ہر طبقے بشمول خواتین ، اقلیت و کم سن بچوں کے حقوق کی موثر طور پر نگرانی کر سکے اور انہیں معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والی ممکنہ زیادتیوں اور ناانصافیوں سے بچا سکے۔
وہر گاہ کہ یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب کے حوالے سے محتسب کے دائرہ اختیارکو سرکاری انتظامیہ و دفاتر تک پھیلایا جائے تاکہ انتظامیہ میں ممکنہ ناہمواریوں ، ناانصافیوں ، زیادتیوں اوراختیارات کے بے جا استعمال کا ازالہ کیا جا سکے۔
لہذا مندرجہ ذیل قانون کا نفاذ کیا جاتا ہے۔
١۔مختصر عنوان ، وسعت اور آغاز ۔
(١) اس قانون کو شمال مغربی سرحدی صوبہ حسبہ ایکٹ مجریہ 2006ء کے نام سے پکارا جائیگا۔
(٢) اسکا اطلاق پورے صوبہ سرحد پر ہو گا۔
(٣) یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

٢۔ تعریفات۔
اس ایکٹ میں مذکور اصطلاحات کی تعریف ( بشرط موافقت سیاق و سباق ) درج ذیل ہو گی۔
(١) ”امر بالمعروف “ سے مراد نیکی کا حکم دینے کی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے جیسا کہ
قرآن حکیم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کیا گیا ہے۔
(٢) ”ایجنسی “سے مراد محکمہ ، کمیشن یا دفتر صوبائی حکومت ، کارپوریشن یا کو ئی دوسرا ادارہ جو کہ صوبائی حکومت نے قائم کیا ہو یا اس کے زیر کنٹرول ہو لیکن اس میں عدالت عالیہ اور اس کے تحت اور زیر کنٹرول عدالت ہائے شامل نہیں ہو ں گے۔
(٣) ”ایڈوائس“ سے مراد ایسی تجویز ہے۔ جس کا حوالہ آئین کے آرٹیکل (١٠٥) میں دیا گیا ہے۔
(٤) ”بدانتظامی “ میں ہر وہ فیصلہ ، اقدام ، سفارش، عمل اور کوتاہی شامل ہو گی جو ۔۔۔
(الف) خلاف قانون ، خلاف قاعدہ ، خلاف ضابطہ یا طے شدہ ضابطہ کار کے خلاف ہو لیکن اسمیں ایسے فیصلے یا اقدامات شامل نہیں ہونگے جو نیک نیتی کے تحت صادر کئے گئے ہوں۔ اور ان کے لیے معقول وجوہات موجود ہوں۔
(ب) جابندارانہ ، تکلیف دہ، نامعقول ،غیر منصفانہ ،سنگدلانہ اور امتیازی ہو یا
(ج) غیر متعلقہ دلائل پر مبنی ہو یا
(د) قانونی اختیارات کا ناجائز استعمال یا پھر قانونی اختیارات کے استعمال میں غفلت جس کا مقصدذاتی اغراض کا حصول ہو جیسا کہ رشوت ، اقرباء پروری، بے جا حمایت اوراختیارات سے تجاوز۔
(ھ) غفلت ، بے توجہی ، تاخیر ، صلاحیت کا فقدان ، عدم دلچسپی یا اسی طرح کے دیگر عوامل جوذمہ داری اور فرائض کی انجام دہی میں روا رکھے گئے ہوں۔
(٥) ”پبلک سرونٹ“ سے مراد دفعہ ٢١ تعزیرات پاکستان سال ١٨٦٠ ء میں بیان کردہ شخص ہے۔
(٦) ”حسبہ پولیس“ سے مرادپولیس کے وہ اہل کار ہونگے جو محکمہ پولیس کی طرف سے محتسب کو وقتا فوقتا مہیا کئے جائیں گے۔
(٧) ”حکومت“ سے مراد شمال مغربی سرحدی صوبہ کی حکومت ہے۔
(٨) ”دفتر “ سے مراد ایکٹ ہذا کے تحت صوبہ بھر میں قائم کئے گئے دفاتر ہونگے۔
(٩) ”سٹاف “سے مراد ایکٹ ہذا کے تحت ادارہ حسبہ کا متعلقہ عملہ ہو گا۔
(١٠) ”صوبہ “ سے مراد شمال مغربی سرحدی صوبہ ہو گا۔
(١١) ”عالم “ سے مراد (H.E.C) (ھائیر ایجوکیشن کمیشن ) سے منظور شدہ وفاق ہائے مدارس میں سے کسی ایک وفاق کے شہادت العالمیہ کا حامل شخص ہو گا۔
(١٢) ” عدالت عالیہ“ سے مراد عدالت عالیہ پشاور ہے۔
(١٣) ”گورنر“ سے مراد شمال مغربی سرحدی صوبہ کا گورنر ہے۔
(١٤) ” قواعد“ سے مراد ایکٹ ہذا کے تحت بنائے گئے قواعد ہوں گے۔
(١٥) ” محتسب “سے مراد صوبائی محتسب ، ضلعی محتسب اور تحصیل محتسب ہو گا۔جو ایکٹ ہذا کے تحت مقرر کیا جائے گا۔
(١٦) ”مجازعدالت “ مجاز عدالت سے مراد ضابطہ فوجداری مجریہ ١٨٩٨ء کے تحت قائم کردہ عدالت ہے۔
(١٧) ” مشاورتی کونسل “ سے مراد وہ کونسل ہے جو ایکٹ ہذا کے تحت قائم کی جائے۔
(١٨) ”نہی عن المنکر “سے مراد برائی سے روکنے کی ذمہ داری پوری کرناہے جیسا کہ قرآن مجید اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا تقاضا کیا گیا ہے۔
(١٩) ” وکیل“ سے مراد وہ شخص ہے جو وکالت کے پیشہ میں کم از کم دس سال کا تجربہ رکھتاہو۔

٣۔ صوبائی محتسب کا تقرراور اہلیت۔
(١) صوبہ سرحد کیلئے ایک محتسب ہو گا جس کا تقرر گورنر صوبہ سرحد وزیر اعلی صوبہ سرحد کی ایڈوائس کے مطابق کریگا۔
(٢) صوبائی محتسب وہ عالم شخص ہو گا جو وفاقی شرعی عدالت کا عالم جج بننے کا اہل ہو ۔
(٣) چارج سنبھالنے سے قبل محتسب گورنر صوبہ سرحدکے روبرو جدول (الف) میں دئیے گئے حلف نامہ کے مطابق اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا۔

٤۔ میعاد۔
(١) صوبائی محتسب کے عہدہ پر کسی شخص کا تقرر ٤ سال کیلئے ہو گا ۔
(٢) محتسب کسی بھی وقت تحریری استعفی پیش کرکے خود کو فارغ کر سکے گا۔

٥۔ ممانعت۔
(١) محتسب اپنی تقرری کے دوران اور کوئی منافع بخش عہدہ یا پیشہ اختیار نہیں کر سکے گا۔
(٢) محتسب اپنی میعاد تقرری کے اختتام سے دو سال کے عرصہ تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے کا اہل نہ ہو گا۔تاہم دفعہ ہذا کا اطلاق قائم مقام محتسب یا کسی بھی عدالتی فیصلے کے نیتجے میں سبکدوش ہونے والے محتسب پر نہیں ہو گا۔

٦۔ صوبائی محتسب کی شرائط ملازمت ،تنخواہ اور برخاستگی۔
(١) صوبائی محتسب تنخواہ ، الاونسئز اور ان جملہ مراعات کا حقدار ہو گا جو وفاقی شرعی عدالت کے جج کو حاصل ہیں۔
(٢) صوبائی وزیر اعلی صوبائی محتسب کو ذہنی یا جسمانی معذوری یا بد عنوانی کے ارتکاب کی بناء پر معزول کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں محتسب کو قبل از وقت اظہار وجوہ کا نوٹس دیا جائے گا۔ جس کا محتسب سات دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہو گا۔
(٣) میعاد مقررہ میں جواب نہ دینے یا جواب سے عدم اطمینان کی صورت میں محتسب کی معزولی کا حکم صادر کیا جا سکے گا۔
(٤) دفعہ ہذا کی ذیلی دفعہ (٣) کے تحت حکم معزولی کے خلاف محتسب تیس دن کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر سکے گا۔ جس کی سماعت عدالت عالیہ پشاور کا ڈویژن بنچ کرے گا۔
(٥) اگر محتسب کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹایا گیا ہوتو وہ پانچ سال تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے یاکسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرنے کا اہل نہیں ہو گا۔

٧ ۔ قائم مقام صوبائی محتسب۔
(١) اگر صوبائی محتسب کسی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے قاصر ہوتو وہ کسی ضلعی محتسب کو اپنے اختیارات تفویض کرے گا۔
(٢) اگر صوبائی محتسب کا عہدہ کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تونئے محتسب کی تقرری تک وزیراعلی کسی بھی ضلعی محتسب کو صوبائی محتسب کے منصب کے اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٣) قائم مقام محتسب کسی صورت میں بھی تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے مقرر نہیں کیا
جائے گا۔

٨۔ تفویض اختیارات۔
صوبائی محتسب تحریری حکم کے ذریعے اپنے اختیارات تحریر میں مذکور طریقے و شرائط کے مطابق ضلعی محتسب کو تفویض کرنے کا مجاذ ہوگا اور کسی بھی وقت واپس کرسکے گا ۔

٩۔ سٹاف کی تقرری اور شرائط ملازمت ۔
محتسب کے عملہ کے تعین و تقرری ، شرائط ملازمت ، تنخواہ ا ور الاؤنسز حکومت طے کرے گی ۔

١٠۔ محتسب کے اختیارات و فرائض۔
محتسب کسی شخص کی تحریری درخواست پر یا عدالت عالیہ یا عدالت عظمی یا کسی بھی عدالت یا صوبائی اسمبلی کے ریفرنس پر یا خود نوٹس لیکر ۔
(الف) کسی بھی ایجنسی یا اسکے اہلکار یا ملازم کے خلاف بدانتظامی کے الزام یا الزامات کی تفتیش کریگا۔الا یہ کہ کوئی سرکاری اہل کار دوران ملازمت ، امور ملازمت کی بابت محتسب کو داد رسی کے لیے درخواست پیش کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔
(ب) ایسی ھدایات اور اصول وضع کرے گا جو ایکٹ ہذا کے تحت کام کرنے والے حکام کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے ضروری ہو
(ج) صوبائی انتظامیہ کے کام کو سہل اور موثر بنانے کیلئے مدد فراہم کریگا۔ شرط یہ ہے کہ محتسب اس امر یا امور میں دخل نہ دیگا ۔ جو کسی بھی مجاز عدالت میں زیر
سماعت ہوں یا جو حکومت اور بیرونی حکومتوں اور ایجنسیوں کے معاہدہ وغیرہ سے
متعلق ہوں اور یا ان امور سے متعلق ہوں جو دفاع ، بری ، بحری اور ہوائی فوج اور ان کے متعلق قوانین سے وابستہ ہوں۔
(د) ایکٹ ہذا کے مقاصد کے حصول کیلئے خصوصا بد انتظامی کے اسباب اور معاشرتی ناانصافی دور کرنے کیلئے مطالعاتی و تحقیقی تربیت کیلئے مناسب سفارشات مرتب کرے گا۔
(ہ) محتسب اپنے اختیارات و فرائض کی بجا آوری کیلئے ماہرین و معاونین کی خدمات حسب ضرورت بلا معاوضہ یا بہ ادائیگی معاوضہ حاصل کرنے کا
مجازہوگا۔

١١۔ ضابطہ کار اور شہادت۔
(١) شکایات تحریری طور پر متاثرہ فرد یا افراد کی جانب سے یا ان کی فوتیدگی کی صورت میں انکے ورثاء کی طرف سے محتسب کے دفتر میں خود محتسب یا متعلقہ عملہ کو دستی طور پر یا بذریعہ ڈاک، ای میل اور فیکس وغیرہ سے پہنچا ئی جائیں گی۔
(٢) درخواست دہندہ تحریری یا بذریعہ ای میل اپنا نام ،پتہ اور شناختی کارڈ نمبر درخواست میں ضروری لکھیں اور کسی کاروائی سے پہلے محتسب درخواست دہندہ کے نام وپتہ کی تحقیق کروائے گا
(٣) اگر محتسب کسی معاملہ میں تفتیش کرنا چاہے تو متعلقہ شکایت کی بابت ایجنسی کے پرنسپل دفتر یا اس کے ذیلی دفتر کو براہ راست نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابدہی کا حکم دیگا اور اگر مناسب وقت پر متعلقہ ایجنسی یا اس کے ماتحت افسر مجاز کی طرف سے جواب موصول نہ ہو تو محتسب از خود تفتیش کا آغاز کریگا۔ یہ تفتیش غیر رسمی ہو گی تاہم مخصوص حالات میں محتسب کسی بھی ضابطہ کار کو عمل میں لا سکتا ہے۔ محتسب کو اختیار ہو گا کہ وہ ایکٹ ہذا کے تحت بنائے گئے قواعد کی رو سے متاثرہ فریق یا اسکی طرف سے پیش کئے جانے والے گواہوں کا خرچہ اسے ادا کرے۔ نیزمحتسب کو اختیار ہو گا کہ وہ بذات خودیا اسکا نامزد کردہ اہل کار متعلقہ ایجنسی کے دفتر کا ریکارڈ کا معائنہ کرے بشرطیکہ مذکورہ ریکارڈ مملکت کے راز سے متعلق نہ ہو ۔ اگر محتسب کسی شکایت پر کسی قسم کی کارروائی مناسب نہیں سمجھتا تو وہ شکایت کنندہ کو اس کے متعلق اطلاع دیگا۔
(٤) محتسب کو اختیار ہو گاکہ ایکٹ ہذا میں تفویض شدہ اختیارات کو روبہ عمل لانے کیلئے ضابطہ کار اور طریقہ کار خود وضع کرے ۔
(٥) ایکٹ ھذا کے تحت کارروائی کیلئے محتسب کو وہ جملہ اختیارات حاصل ہوں گے جو کہ ضابطہ دیوانی کے تحت فریقین کی طلبی، ان کے بیانات قلمبند کرنے ، دستاویزات پیش کرنے اور شہادت حاصل کرنے کی بابت عدالت کو حاصل ہیں۔

١٢۔ نفاذ احکامات۔
(١) شکایت پر کارروائی مکمل کرنے کے بعد محتسب کو اختیار ہو گا کہ وہ اس پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ ایجنسی کے افسر مجاز کو حکم نامہ جاری کرے اور ساتھ ساتھ دوسرے اقدامات جو وہ مناسب سمجھے اٹھائے۔ متعلقہ ایجنسی حکم نامہ میں درج میعاد کے اندر اپنی طرف سے اٹھائے گئے اقدام سے محتسب کو مطلع کرے گی
(٢) محتسب کی سفارش کی عدم تعمیل کی صورت میں محتسب تحریری طور پر معاملہ حکومت کو سپرد کریگا۔ جس پر حکومت عمل درآمد کو یقینی بنانے کی پابند ہو گی۔ اور تعمیل حکم سے محتسب کو مطلع کریگی۔
(٣) محتسب کی سفارش کی عدم تعمیل کی رپورٹ متعلقہ اہل کار کی ذاتی فائل کا حصہ بنے گی تاہم متعلقہ اہل کار کو شنوائی کا موقع دیا جائے گا۔
(٤) ذیلی دفعہ (۱) کے تحت جاری کردہ محتسب کے حکم یا سفارش یا دونوں کے خلاف متاثرہ شخص ایک ماہ کے اندر وزیراعلی کو تحریری عرض داشت پیش کرسکتا ہے۔ جس پر وہ کوئی بھی ایسا حکم صادر کرنے کا مجاز ہو گا جو وہ مناسب سمجھے ۔

١٣۔ دستاویزات تک رسائی۔
محتسب یا اس کے اہل کار یا حسبہ پولیس کا کوئی رکن تفتیش کی غرض سے اور دستاویزات تک رسائی کیلئے کسی بھی سرکاری دفتر میں داخل ہونے کا مجاز ہو گا اور دوران تفتیش متعلقہ ریکارڈ کا معائنہ اور نقولات حاصل کرنے کا مجاز ہو گا نیز محتسب یا مذکورہ اہل کار یا حسبہ پولیس کا متعلقہ رکن ریکارڈ سے کوئی دستاویز قبضے میں لینے کی صورت میں رسید حوالہ کرے گا۔

١٤۔ توہین حسبہ۔
(١) صوبائی محتسب کو توہین حسبہ کے ارتکاب پرسزا دینے کے وہی اختیارات حاصل ہونگیجو قانون توہین عدالت مجریہ١٧٦ء کے تحت عدالت عالیہ کو حاصل ہیں۔
(٢) ہر وہ شخص توہین حسبہ کا مرتکب قرار پائے گا جو۔
(الف) محتسب کے روبرو کسی بھی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے یا رکاوٹ کا سبب بنتا ہے یا کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کی وجہ سے کارروائی کی تکمیل میں نقص پیدا ہوتا ہے یا
(ب) محتسب یا اس کے اہل کار یا نمائندہ کے خلاف ایسا بیان دیتا ہے جس سے ان کے بدنام ہونے کا احتمال ہویا
(ج) کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس سے محتسب کے زیر غورکارروائی کے دوران کسی امر کے تصفیے میں محتسب کے ذہن میں طرف داری پیدا ہو یا
(د) کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو کسی بھی مروجہ قانون میں توہین کے زمرے میں آتا ہو الا یہ کہ نیک نیتی سے اور عوام کے مفاد میں محتسب یا اس کے اہل کار یا
نمائندہ کے کسی عمل یا اس کی رپورٹ پر رائے زنی توہین کے زمرے میں نہیں آئے گی۔
(٣) ذیلی دفعہ (١) کے تحت سزا کے خلاف ایک ماہ کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی
جا سکے گی جس کی سماعت عدالت عالیہ کا ڈویژن بنچ کرے گا۔

١٥۔ صوبائی مشاورتی کونسل۔
صوبائی محتسب ایک صوبائی مشاورتی کونسل مقرر کرے گا جس کا وہ خود سربراہ ہو گا۔ صوبائی مشاورتی کونسل درج ذیل ارکان پر مشتمل ہو گی۔
(الف) دو علماء۔
(ب) دو وکلاء ۔
(ج) حکومت کے دوایسے نمائندے جو بی۔ پی ۔ ایس ٢٠ میں تعینات ہوں۔

١٦۔ اجلاس مشاورتی کونسل ۔
(١) صوبائی محتسب حسب ضرورت کسی بھی امر یا امور میں مشاورت کیلئے صوبائی مشاورتی کونسل کا اجلاس بلائے گا اور اس کیلئے وقت اور جگہ کا تعین کرے گا۔
(٢) مشاورتی کونسل کے غیر سرکاری ارکان اس اعزازیہ کے حق دار ہونگے جو صوبائی محتسب حکومت کی منظوری سے مقرر کرے گا۔

١٧۔ ضلعی محتسب کا تقرر ،اہلیت، شرائط ملازمت ، میعاد ، تنخواہ اور برخاستگی۔
(١) صوبائی محتسب ایک یا ایک سے زائد ضلعوں کیلئے ضلعی محتسب حسب ضرورت مقرر کریگا۔
(٢) صوبائی مشاورتی کونسل کا غیر سرکاری رکن بننے کی اہلیت کے حامل کسی بھی شخص کو ضلعی محتسب مقرر کیا جا سکے گا۔
(٣) ضلعی محتسب کا میعاد تقرر چار سال کے لیے ہو گا۔
(٤) ایک سے زائد اضلاع کیلئے ضلعی محتسب مقرر کرنے کی صورت میں اسکے مرکزی دفتر کا تعین صوبائی محتسب کریگا۔
(٥) ضلعی محتسب جدول (ب) میں دیئے گئے حلف نامہ کے مطابق اپنا عہدہ سنھبالنے سے قبل صوبائی محتسب کے روبرو حلف اٹھائے گا۔
(٦) ضلعی محتسب ،تنخواہ ، الاؤنسز اور ان جملہ مراعات کا حقدار ہو گا۔جو سیشن جج کو حاصل ہیں۔
(٧) صوبائی محتسب ذہنی ، جسمانی معذوری یا بدعنوانی کے ارتکاب کی بنیادپر کسی بھی ضلعی محتسب کو معزول کر سکتا ہے۔ حکم معزولی سے قبل اسے تحریری طور پر اظہار وجوہ کا نوٹس دینا ضروری ہو گا جس کا وہ سات دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہو گا۔
(٨) میعاد مقررہ میں جواب نہ دینے یا جواب سے عدم اطمینان کی صورت میں صوبائی محتسب ضلعی محتسب کی معزولی کا حکم صادر کر سکے گا۔
(٩) دفعہ ہذا کی ذیلی دفعہ (٨) کے تحت حکم معزولی کے خلاف محتسب تیس دن کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر سکے گا۔
(١٠) اگر ضلعی محتسب کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹایا جائے تو وہ چارسال تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے یاکسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرنے کا اہل نہ ہو گا۔

١٨۔ قائم مقام ضلعی محتسب ۔
(١) اگر ضلعی محتسب کسی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے قاصر ہو تو صوبائی محتسب اس کی جگہ کسی دوسرے ضلعی محتسب یا تحصیل محتسب کو اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٢) اگر ضلعی محتسب کا عہدہ کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تو نئے ضلعی محتسب کی تقرری تک صوبائی محتسب کسی بھی ضلعی محتسب کو اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٣) قائم مقام محتسب کسی بھی صورت میں تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکے گا۔

١٩۔ ضلعی مشاورتی کونسل۔
(١) ضلعی محتسب اپنی تقرری کے فورا بعد کم از کم پانچ رکنی ضلعی مشاورتی کونسل قائم کرے گا جسکا سربراہ وہ خود ہو گا۔ ارکان میں دو علماء ، ایک قانون دان، ایک ایساشخص جو متعلقہ ضلع کا معزز ہو اور اچھی شہرت کا حامل ہو اور ایک صوبائی حکومت کا بی پی ایس۔ ١٨ یا ١٩ کا کوئی ضلعی افسر شامل ہونگے۔
(٢) ضلعی مشاورتی کونسل ان امور پر مشورہ دے گی جو اسے وقتا فوقتا ضلعی محتسب حوالہ کرے گا۔

٢٠۔ تحصیل محتسب کی تقرری ، اہلیت، شرائط ملازمت ، میعاد اور برخاستگی۔
(١) ضلعی محتسب حسب ضرورت تحصیل محتسب مقرر کر نے کا مجاز ہو گا۔
(٢) تحصیل محتسب کی اہلیت ضلعی محتسب کے مساوی ہو گی۔
(٣) تحصیل محتسب کا میعادتقر رچار سال کے لیے ہو گا۔
(٤) ایک سے زائد تحصیلوں کے لیے تحصیل محتسب مقرر کرنے کی صورت میں اس کے مرکزی دفتر کا تعین ضلعی محتسب کرے گا۔
(٥) تحصیل محتسب تنخواہ ، الاؤنسسز اور ان جملہ مراعات کا حق دار ہو گا۔ جوسول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کو حاصل ہیں۔
(٦) ضلعی محتسب ذہنی ، جسمانی معذوری یا بدعنوانی کے ارتکاب کی بناء پر کسی بھی تحصیل محتسب کو معزول کر سکتا ہے۔ حکم معزولی سے قبل اسے تحریری طور پر اظہار وجوہ کا نوٹس دینا ضروری ہو گا۔ جس کا وہ سات دن کے اندر جواب دینے کا پابند ہو گا۔
(٧) میعاد مقررہ میں جواب نہ دینے یا جواب سے عدم اطمینان کی صورت میں ضلعی محتسب تحصیل محتسب کی معزولی کا حکم صادر کر سکے گا۔
(٨) دفعہ ہذا کے ذیلی دفعہ (٧) کے تحت حکم معزولی کے خلاف تحصیل محتسب تیس دن کے اندر صوبائی محتسب کو اپیل کر سکے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
(٩) اگر تحصیل محتسب کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹایا جائے تووہ تین سال تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا رکن بننے یاکسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرنے کا اہل نہ ہو گا۔

٢١۔ قائم مقام تحصیل محتسب ۔
(١) اگر تحصیل محتسب کسی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے قاصر ہو تو ضلعی محتسب اس کی جگہ کسی دوسرے تحصیل محتسب کو اضافی اختیارات تفویض کرے گا۔
(٢) اگر تحصیل محتسب کا عہدہ کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تو اس کی جگہ ضلعی محتسب قائم مقام تحصیل محتسب مقرر کرسکے گا۔
(٣) قائم مقام محتسب کسی بھی صورت میں تین ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے مقرر نہیں کیا جائے گا۔

٢٢۔ تفویض اختیارات۔
ضلعی محتسب تحریری حکم کے ذریعے اپنے اختیارات تحریر میں مذکور طریقے و شرائط کے مطابق تحصیل محتسب کو تفویضکرنے کا مجاز ہو گا۔

٢٣۔ محتسب کے اختیارات خصوصی۔
دفعہ ١٠ کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو متاثر کئے بغیر محتسب کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ درج ذیل اختیارات حاصل ہو نگے۔
(١) گداگری کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٢)  کم عمر بچوں کو ملازم رکھنے کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٣) غیر متنازعہ حقوق کی ادائیگی میں تاخیر کو روکنا اور مناسب داد رسی کرنا۔
(٤) جانوروں پر ظلم روکنا۔
(٥) مساجد کی دیکھ بھال میں غفلت کا سد باب کروانا۔
(٦) لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور مساجد میں فرقہ ورانہ تقاریر سے روکنا۔
(٧) غیر شرعی تعویذ نویسی ، گنڈے ، دست شناسی اور جادوگری کا سد باب کرنا۔
(٨) اقلیتی حقوق کا تحفظ خصوصا انکے مذہبی مقامات اور ان مقامات جہاں مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہوں کا تقدس ملحوظ رکھنا۔
(٩) غیر اسلامی رسومات جن سے خواتین کے حقوق متاثر ہوں خصوصا غیرت کے نام پر قتل کے خلاف اقدام اٹھانا ، میراث میں خواتین کو محروم رکھنے کا سدباب، رسم سورہ کا تدارک کروانا اورخواتین کے شرعی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
(١٠) ناپ تول کی نگرانی اور ملاوٹ کا تدارک کروانا۔
(١١) مصنوعی گرانی کا سد باب کروانا۔
(١٢) سرکاری املاک کی حفاظت کی نگرانی کروانا۔
(١٣) سرکاری محکمہ جات میں رشوت ستانی کا تدارک کروانا۔
(١٤) سرکاری اہلکاروں میں عوام کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا۔
(١٥) والدین کی فرمان برداری کی تلقین کرنا۔
(١٦) قتل اقدام قتل یا ایسے دیگر جرائم میں جن سے امن و امان میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو متعلقہ فریق یا قبیلوں کے درمیان مصالحت کروانا۔
(١٧) طلاق مغلظہ کے تدارک کو یقینی بنانا اور
(١٨) پیدائش،موت،نکاح،طلاق کی رجسٹریشن کو یقینی بنانا

٢٤۔ ملازم سرکار۔
محتسب اور اس کے اہل کار بشمول حسبہ پولیس تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢١ کے تحت پبلک سرونٹ تصور ہوں گے ۔

٢٥۔ اختیار سماعت پر بندش۔
محتسب یا اس کے اہل کار کے خلاف کسی ایسے فعل کی بابت جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو، کسی قسم کی چارہ جوئی ، یا مقدمہ بازی نہیں کی جا سکے گی۔

٢٦۔ حسبہ پولیس۔
ایکٹ ہذا کے تحت امور کی انجام دہی کے لیے حکومت محتسب کو حسب ضرورت پولیس فورس مہیا کرے گی۔جو محتسب کی ہدایات اور احکامات کی پابند ہو گی۔

٢٧۔ مصالحتی کمیٹی۔
(١) ضلعی محتسب ضلعی مشاورتی کونسل کے مشورے سے دفعہ(٢٣) کی ذیلی دفعہ ٢٦ کے تحت امور کی انجام دہی کے لیے ہر تھانہ کی سطح پر ایک مصالحتی کمیٹی قائم کرے گا جو درج ذیل چھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔
(الف) دو علماء۔
(ب) ایک مقامی وکیل۔
(ج) اگر علاقہ میں اقلیت آباد ہو۔ تو ان کا ایک نمائندہ۔
(د) علاقے کا ایک معزز ۔
(ھ) متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او یا اس کا نمائندہ ۔
(٢) ضلعی محتسب ، ضلعی مشاورتی کونسل کے مشورہ پر مصالحتی کمیٹی کے کسی رکن کو کسی بھی وقت معزول کر سکتا ہے۔

٢٨۔ اختیارات قواعد۔
صوبائی محتسب ایکٹ ہذا کے مقاصد کے حصول اور اسے موثر بنانے کے لیے حسب ضرورت قواعد مرتب کریگا۔

٢٩۔ اضافی حیثیت۔
ایکٹ ہذا اپنے مضامین (provisions) کی حد تک کسی بھی دیگر نافذالعمل قانون میں اضافی حیثیت کا حامل ہو گا۔

٣٠۔ ازالہ مشکلات۔
ایکٹ ہذا کے نفاذ میں کسی مشکل یا رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت مناسب نوٹیفیکشن جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔
صوبائی محتسب کے لئے حلف نامہ
جدول (الف)
میں __________ حلفا اقرار کرتا ہوں ۔ کہ میں خلوص دل سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وفادار اور خیر خواہ رہوں گا۔
یہ کہ میں بحیثیت صوبائی محتسب اپنے فرائض اور کار ہائے منصبی دیانتداری سے اپنی بہترین استعداد اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کے قوانین کے مطابق ایمانداری سے کسی خوف یا لالچ اور اقرباء پروری یا بد نیتی کے بغیرانجام دونگا۔
یہ کہ میں اپنے ذاتی مفادکو سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دونگا۔
یہ کہ میں وفاق اور صوبہ کے بہترین مفاد کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
اور یہ کہ میں بلاواسطہ یا بالو اسطہ کسی شخص کو ایسے معاملے کی اطلاع نہیں دونگا۔ اورنہ ہی کسی پر ظاہر کروں گا۔ جو کہ بحیثیت محتسب میرے زیر غور لایا جائے۔یا جس کا مجھے علم حاصل ہو۔ ماسوائے اس کے جب کہ ایسا کرنا بحیثیت محتسب میری ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کا تقاضا ہو۔
اللہ تعالی میرا حامی و ناصر ہو۔
(آمین)
ضلعی محتسب کے لئے حلف نامہ
جدول (ب)
میں __________ حلفا اقرار کرتا ہوں ۔ کہ میں خلوص دل سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وفادار اور خیر خواہ رہوں گا۔
یہ کہ میں بحیثیت ضلعی محتسب اپنے فرائض اور کار ہائے منصبی دیانتداری سے اپنی بہترین استعداد اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کے قوانین کے مطابق ایمانداری سے کسی خوف یا لالچ اور اقرباء پروری یا بد نیتی کے بغیرانجام دونگا۔
یہ کہ میں اپنے ذاتی مفادکو سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دونگا۔
اور یہ کہ میں بلاواسطہ یا بالو اسطہ کسی شخص کو ایسے معاملے کی اطلاع نہیں دونگا۔ اورنہ ہی کسی پر ظاہر کروں گا۔ جو کہ بحیثیت محتسب میرے زیر غور لایا جائے۔یا جس کا مجھے علم حاصل ہو۔ ماسوائے اس کے جب کہ ایسا کرنا بحیثیت محتسب میری ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کا تقاضا ہو۔
اللہ تعالی میرا حامی و ناصر ہو۔
(آمین)
بیان اغراض و مقاصد۔
پاکستان نقشئہ عالم پر واحد ملک ہے۔ جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ اور اسلام جن اقدار کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ان میں سے ایک حصول انصاف کی قدر ہے۔ چنانچہ عوام کے حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے ، بدانتظامی و بدعنوانی کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والے مظالم کے اسباب کی تشخیص اور اسکی تلافی کے لیے ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے ۔جو ان مقاصد کے حصول میں ممدومعاون ثابت ہو۔
پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگی اسلامی احکامات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اقدامات اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جس کے لیے معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی ضروری ہے۔
ادارہ حسبہ کا تصور ایک ایسا تصور ہے۔ جو مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کی بطریق احسن ضمانت دیتا ہے۔ اور اسطرح کے ادارے دنیا کے بیشتر مہذب ممالک میں پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں۔

لہذا حسبہ بل پیش ہے۔
متعلقہ وزیر۔
پرانے حسبہ بل کی شقیں جو نئے منظور شدہ بل سے خارج کردی گئیں
پرانے حسبہ بل کی شقیں جو نئے منظور شدہ بل سے خارج کردی گئیں میں دفعہ (٢)تعریفات کی دفعہ سے ”البتہ صوبائی اسمبلی کاسیکرٹریٹ اس میں شامل ہو گا۔ کے الفاظ کو خارج کردیا گیا ہے
(١٠) شق سے (ب)صوبائی سطح پر اسلامی اخلاق اور آداب کی نگرانی کریگا۔
(ج) صوبائی حکومت کے قائم کردہ یا اس کے زیر کنٹرول ذرائع ابلاغ کی اس نہج پر نگرانی کریگا کہ نشریات اسلامی اقدار کی ترویج کیلئے کار آمد ہوں۔
(د) ایسے شخص، ایجنسی اورحاکم کو جو صوبائی حکومت کے زیر انتظام کام کرتے ہوں خلاف شریعت کام کرنے سے روکنے کیلئے احکامات جاری کریگااور اچھی حکمرانی کی ترغیب دے گا۔
(ھ) ایسی ہدایات اور اصول وضع کریگا جو ایکٹ ہذا کے تحت کام کرنے والے حکام کی کارکردگی کوموثر بنانے کیلئے ضروری ہوں۔
خارج کرئے گئے ہیں
شق (١٢) سے” اور حکم عدولی کی صورت میں متعلقہ ایجنسی کے افسر مجاز کے خلاف محتسب کی سفارش پردرج ذیل کارروائی ہو گی،، کے الفاظ نئے بل سے خارج کردئے گئے ہیں اسی طرح اسی شق کی ان شقوں کو بھی خارج کیا گیا ہے (الف) سرکاری ملازمین کی برخاستگی کے مروجہ قوانین کے تحت مقرر کردہ کوئی ایک یا ایک سے زائد سزائیں دینا۔
(ب) دوران تفتیش محتسب اور اس کے اہلکار کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ اہلکار کے خلاف مداخلت بکار سرکارکے جرم میں کارروائی کرنا۔
(ج) اگر محتسب مطمئن ہو کہ زیر بحث شکایت کی بابت کسی بھی سرکاری اہل کار نے قابل تعزیرجرم کا ارتکاب کیا ہے یا اس کے خلاف دیوانی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے تو متعلقہ ایجنسی کو حسب قانون مذکورہ بالا کارروائی کا حکم دینا۔
شق ٢٣ سے خارج ہونے والی شقوں میں (١) پبلک مقامات پر اسلام کی اخلاقی اقدار کی پابندی کروانا۔
(٢) تبذیر یا اسراف کی حوصلہ شکنی خصوصا شادیوں اور اسطرح کی دیگر خاندانی تقریبات کے موقع پر۔
(٣) جہیز دینے میں اسلامی حدود کی پابندی کروانا۔
(٥) افطار اور تراویح کے وقت اسلامی شعائر کے احترام اور ادب و آداب کی پابندی کروانا۔
(٦) عیدین کی نمازوں کے وقت عیدگاہوں یا ایسی مساجد کے آس پاس جہاں عیدین اورجمعہ کی نمازہو رہی ہو، کھیل تماشے اور تجارتی لین دین کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٧) جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی ادائیگی اور انتظام میں غفلت کا سد باب کروانا۔
(١٢) اذان، فرض نمازوں کے اوقات اور اسلامی شعائر کے احترام و آداب کی پابندی کروانا۔
(١٤) غیر اسلامی معاشرتی رسم و رواج کی حوصلہ شکنی کرنا۔
(٢٥) کوئی بھی دوسرے امر یا امورکی انجام دہی جو وقتا فوقتا صوبائی محتسب مشاورتی کونسل کے مشورہ سے متعین کرے۔شامل ہیں
جبکہ نئے مسودے میں ان دو شقوں کا اضافہ کیا گیا (١٧) طلاق مغلظہ کے تدارک کو یقینی بنانا اور
(١٨) پیدائش،موت،نکاح،طلاق کی رجسٹریشن کو یقینی بنانا
یہ بھی حذف کردئے گئے ہیں (٢٥) ٢٥۔اختیار سماعت پر بندش۔
(١) کسی عدالت یا اتھارٹی کو اس بات کا اختیار نہیں ہو گا کہ وہ محتسب کی کارروائی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی سوال اٹھائے۔
(٢) کسی عدالت یا اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل نہ ہو گاکہ وہ محتسب کے زیر غور جاری
کارروائی کی بابت کوئی حکم امتناعی ، عبوری حکم یا حکم التواء جاری کرے۔
یہ والی پوری شق حذف کردی گئی ہے۔

٢٨۔ جرم ناقابل دست اندازی پولیس۔
(١) ایکٹ ہذا کی دفعہ٢٣  کے تحت امور کی انجام دہی سے متعلق محتسب کے حکم کی خلاف ورزی ناقابل دست اندازی پولیس جرم ہوگا جس کی سزا چھ ماہ تک قید اور مبلغ دوہزار روپے تک جرمانہ ہو گی۔
(٢) مجازعدالت دفعہ ہذا کے تحت جرم کی سماعت محتسب یا اس کے مجاز نمائندہ کی تحریری شکایت پر کریگی۔
(٣) ذیلی دفعہ (١) کے تحت جرم کی سماعت مجاز عدالت ضابطہ فوجداری مجریہ ١٨٩٨ء میں درج ضابطہ کار کے مطابق کرے گی۔ اور فیصلہ قابل اپیل ہو گا۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: