Archive for جنوری, 2007

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

Posted on 28/01/2007. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , |

شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقّا کہ بنائے لاالہ است حسین

خواجہ معین الدین چستی

 

—-

انسان کوبیدا ر تو ھو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

جوش ملیح آبادی

 

 

—-

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشۂ بتول

مولانا ظفر علی خاں

 

 

—-

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

ذبح عظیم

 

 

—-

لو آگیا محرم فضا پر سوز زرہ زرہ سوگوار
حسینیت پہ ہوا جو ظلم و ستم اس پہ ہر آنکھ ہے اشک بار
شہادت حسین نے دیا ہر تہذیب کو یہ زریں اصول
سر چڑھ جائے تیرا نیزے کی نوک پر باطل کر اطاعت نہ کر قبول

سانحہ کربل سے ہے لرزاں ہر فرد عبرت کوش
سسکیاں لی رہی ہے فضا ہچکیاں نوائے سروش
ساری زمین ہے نوحہ کناں آسماں بھی ہے رو رہا
ہر نظر ہے اشک فشاں ہر نظارا خموش

اے حسین نواسے نبی سبط علی
ہر تاریخ تری شہادت لکھے گی بحروف جلی
فقط اک تو نے کیا پار عشق کا ساگر
دو عالم میں نہیں تجھ سے بڑا کوئی ولی

حسین تری خوشبو سے مہکے مومن کے دل کی کلی
حسین اھداناالصراط ہے تیری گلی
حسین ترے لہو سے ہوا چراغ اسلام روشن
حسین تری شہادت سے نئی زندگی اسلام کو ملی

حسین تو سردارجواناں خلد بریں
حسین تو سوار شانہ ختم المرسلین
اے شہسوار کربلا اے ذبح عظیم
جام شہادت پی کے بچایا تو نے اللہ کا دین

اے پیکر شجاعت اے ابن علی
رسم حریت ہے تجھ سے چلی
اصول ترا ہے جہاں گیر و جہاں آرا
فاسق کی اطاعت سے ہے شہادت بھلی

بخشی ہے کربلا نے حق کو دوام زندگی
حسینیت ہمیشہ ہے زندہ ہوئی یزیدیت کی شام زندگی
طاقت نہیں ہے حق مگر حق رکھتا ہے طاقت
یزیدیت کو ہر دور میں اٹھانا پرے گی شرمندگی

کم ظرف ہیں وہ جنکے چھلکیں   جام صبر
ہو جائیں رحمت خدا وندی سے مایوس اور بکیں دام کفر
اللہ اللہ دیکھیے مخدرات عصمت کا حوصلہ
شام غریباں میں بھی ہے ذکر حمد و ثناءاستحکام و شکر

دین اسلام اک گلستاں حسیں اس کے باغباں
ذات عالی عجب ہے مالی لہو سے اپنے پالے شجر ایماں
حسین عشق کا سمندر صبر کا اک بحر بیکراں
جو بھی چلے اس ڈگر اسی کے ہیں زماں و مکاں

سانحہ کربلا سے پہلے سادہ تھی تاریخ اسلام
حسین تیرے لہو نے اسے رنگین کر دیا
عظیم انقلاب کے لیے چاہیے اک ذبح عظیم
حسین کے لہو کی سرخی نے اسلام کو سرخرو کر دیا

حسین شہادت کربلا میں اک سدا بہار گلاب
جسکے رنگ و بو کریں ہر دور میں آمریت کا احتساب
حسین ترے لہو کی سرخی سے گلوں میں لالی و شفق صبح و شام
اے شبہہ رسالت ماب اے خون ابو تراب تری پیاس نے کیا سارا عالم سراب

حسین صبر کا پیکر امن کا سفیر
حسین کفر کا منکر حق کا اسیر
حسین محسن انسانیت اسلام کی جگیر
حسین عصر کا دلبر وفا کی تصویر

بندگی حسین کی نہیں کوئی نظیر
کیا سجدہ عشق ادا سایہ تیغ و تیر
دیا حسین نے سبق یہ اہل ایماں کو
سر مقتل بھی نہ بیچو اپنا ضمیر

حسین تو رویائے ابراہیم کی تعبیر
حسین تجھ سے بڑھی اسلام کی توقیر
جو ترا سر اقدس چڑھا نیزے کی نوک پر
مانند خورشید کی اس نے ظلمت کی اخیر

حسین تیری رگوں میں ہے خون خیبر شکن
تو محبوب خدا کا محبوب اے شاہ زمن
اے سردار جوانان ارم جوانمردی ہے تجھ پہ ختم
اے امام عالی اے جگر گوشہ بتول تو حق کا نمائندہ تو سفیر کہن

اے غم شبیر تو نے شہادت کا قرینہ سکھادیا
اے عباس دلگیر تو نے وفا پر مر مر کے جینا سکھادیا
اے اصغر تیری آخری ہچکی ہے آمریت کا طمانچہ
اے زینب ہمشیر تری سخاوت تو نے سارا خزینہ لٹا دیا

اے شہدائے کربلا تمھیں کیسے سلام عقیدت پیش کروں
زبان و الفاظ میں نہیں طاقت تمہاری عظمت پیش کروں
آل رسول جگر گوشہ بتول کی مظلومیت پہ ہے نظر اشک فشاں
اے ذبح عظیم تری ڈگر بہادو ں اپنا لہو، ہو اجازت جاں پیش کروں

حسین سے چمکا اسلام کے مقدر کا ستارہ
ڈگمگاتے اسلام کو حسینیت کا سہارا
حسین نے بخشا ہے اسلام کو وقار
حسین اک اصول جہانگیر و جہاں آرا

حسین پیارا دین کا سہارا
راز عشق ہوا حسین سے آشکارا
یزیدیت پہ لعنت ہر اک نے پکارا
زندہ ہے زندہ رہے گا حسین ہمارا

حسین ذبح عظیم ہے شہادت تری
اے ابن علی حیدری شجاعت ہے تری
تری غلامی سے ملے دوجہاں کی شاہی
گدا کو شہنشاہ بنانا ہے سخاوت تری

غم شبیر ی سے ہوا کربلا کا جگر چاک
طور سینہ سے پاک ہے کربلا کی خاک
کہ اس خاک میں شامل ہے خون پنجتن
اسی لہو سے ہے بنیاد سلطنت پاک

حسین تری عظمت کو سلام
حسین تری ہمت کو سلام
حسین ترے صبر کو سلام
حسین تری استقامت کو سلام

حسین تری شہامت کو سلام
حسین تری استدامت کو سلام
حسین ترے فقر کو سلام
حسین تری امامت کو سلام

حسین تیری وفا کو سلام
حسین تری قضا کو سلام
حسین ترے سجدے کو سلام
حسین تیری ادا کو سلام

حسین تری صفا کو سلام
حسین تیری علا کو سلام
حسین ترے رتبے کو سلام
حسین تری کف پا کو سلام

حسین تیری قناعت کو سلام
حسین تری عبادت کو سلام
حسین ترے عشق کو سلام
حسین تری شہادت کو سلام

زاہداکرام

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تحفظ حقوق نسواں کا ترمیمی بل مکمل متن کے ساتھ ۔آخری حصہ

Posted on 27/01/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس |

بیان اغراض و وجوہ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسملہ دستوری مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات اور مقتضیات کے مطابق جیسا کہ قرآن پاک اور سنت میں موجود ہے۔ بحثیت انفرادی اور اجتماعی زندگیاں گزارنے کے قابل بنایا جائے۔
چنانچہ دستور، اس امر کی تاکید کرتا ہے کہ موجودہ تمام قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، دینا چاہیے۔
اس بل کا مقصد بالخصوص زناء اور قذف سے متعلق قوانین کو بالخصوص بیان کردہ اسلامی جمہوری پاکستان کے مقاصد اور دستوری ہدایت کے مطابق بنانا ہے اور خاص طور پر قانون کے بے جا اور غلط استعمال کے خلاف خواتین کی داد رسی کرنا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔
قرآن پاک میں زناء اور قذف کے جرائم کے بارے میں موجود ہے زناء اور قذف سے متعلق دو آرڈیننس اس اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن اور سنت نے نہ تو ان جرائم کی وضاعت کی ہے اور نہ ہی ان کے لئے سزا مقرر کی ہے تاہم دیگر قابل سزا قوانین کے شمار میں اضافہ کرتے ہیں، زناء اور قذف کے لئے سزائیں قصاص کے کسی اصول کے بغیر یا ان جرائم کے لئے ثبوت کے کسی طریقے کی نشاندہی کئے بغیر نہیں دی جا سکتیں۔
کوئی جرم جس کا حوالہ قرآن پاک اور سنت میں نہیں یا جس کے لئے اس میں سزا کے بارے میں نہیں بتایا گیا وہ تعزیر ہے جو ریاستی قانون سازی کا موضوع ہے۔ یہ دونوں کام ریاست کے ہیں کہ وہ مذکورہ جرائم کی وضاعت کرے اور ان کے لئے سزاؤں کا تعین کرے۔ ریاست مذکورہ اختیار کو مکمل اسلامی ہم آہنگی کے ذریعے استعمال کرتی ہے جو ریاست کو وضاعت اور سزا ہر دو کا اختیار دیتا ہے، اگرچہ ، مذکورہ تمام جرائم کو دونوں حدود آرڈیننسوں سے نکال دیا گیا ہے اور مجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) جسے بعدازاں پی پی سی کا نام دیا گیا ہے میں مناسب طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔
زناء کے جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) جسے بعدازاں ‘زناء آرڈیننس‘ کا نام دیا گیا ہے کی دفعات ١١ تا ١٦ میں دیئے گئے جرائم تعزیر کے جرائم میں ہیں، ان تمام کو مجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی دفعات ٣٦٥ب، ٣٦٧الف، ٣٧١الف، ٣٧١ب، ٤٩٣الف اور ٤٩٦الف کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ جرم قذف (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء جسے بعدازاں ‘قذف آرڈیننس‘ کا نام دیا گیا ہے کی دفعات ١٢ اور ١٣ کو حذف کیا گیا ہے، یہ مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ ٣ میں قذف کی تعریف کے طور پر کیا گیا ہے جو طبع شدہ اور کنندہ شدہ مواد کی طباعت یا کنندہ کاری یا فروخت کے ذریعے ارتکاب کردہ قذف کو کافی تحفظ دیتی ہے۔ مذکورہ تعزیری جرائم میں سے کسی کی آئینی تعریف کے استعمال میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے یا ان کے لئے مقرر کی گئی سزا کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان تعزیری جرائم کے لئے کوڑوں کی سزا کو حذف کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن اور سنت میں ان جرائم سے متعلق کوئی سزا نہیں ہے۔ ریاست کو یہ اختیار ہے کہ وہ اسلام کے منصفانہ نظریئے کے مطابق اس میں تبدیلی لائے۔ یہ پی پی سی کے مطابق اور شائشتگی کے معئار کو قائم کرنے کے لئے ہے جس سے معاشرے کی کامل ترقی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ زناء اور قذف کے آرڈیننس پر شہریوں کی طرف سے بالعموم اور اسلامی اسکالروں اور خواتین کی طرف سے بالخصوص سخت تنقید کی گئی۔ تنقید کے کئی موضوع تھے، ان میں زناء کے جرم کو زناء بالجبر (عصمت دری) کے ساتھ ملانا شامل ہے۔ اور دونوں کے لئے ثبوت اورسزا کی ایک ہی قسم رکھی گئی ہے۔ یہ بے جا سہولت دیتا ہے کوئی عورت جو عصمت دری کو ثابت نہیں کر سکتی اس پر اکثر زناء کا استغاثہ دائر کر دیا جاتا ہے، زناء بالجبر (عصمت دری) کے لئے زیادہ سے زیادہ سزا کے ثبوت کی ضرورت صرف اتنی ہے جتنی کہ زناء کے لئے ہے۔ یہ اول الذکر کو ثابت کرنے کے لئے تقریبا ناممکن بنا دیتا ہے۔
جب کسی مرد کے خلاف عصمت دری کے استغاثہ میں ناکامی ہو لیکن طبی معائنے سے جماع یا حمل کی یا بصورت دیگر تصدیق ہو جائے تو عورت کو چار عینی گواہوں کے نہ ہونے سے زناء کی سزا حد کے طور پر نہیں دی جاتی بلکہ تعزیر کے طور پر دی جاتی ہے، اس شکایت کو بعض اوقات اعتراف تصور کیا جاتا ہے۔
قرآن اور سنت زناء کے لئے تعزیری سزا کے مقتنی نہیں ہیں۔ یہ آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے والوں کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے اور قذف کے جرائم کے لئے تعزیری سزائیں نہ صرف اسلامی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ استحصال اور نا انصافی کو جنم دیتی ہیں، انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔ دستوری تعزیرات کو واضح اور غیر مبہم ہونا چاہیے، ممنوعہ اور غیر ممنوعہ کے درمیان واضح حد مقرر ہو۔ شہری اس سے آگاہ ہوں، وہ اپنی زندگی اور طور طریقوں کو ان روشن رہنما اصولوں کو اپناتے گزار سکیں لہذا ان میں وہ اور متعلقہ قوانین مین غیر واضح تعریفات کی وضاعت کی جا رہی ہے اور جہاں یہ ممکن نہیں ہے انہیں حذف کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ غیر محتاط شہریوں کو تعزیری قوانین کے غیر دانشمندانہ  استعمال سے تحفظ بہم پہنچایا جائے۔ زناء آرڈیننس ‘نکاح‘ کی جائز نکاح کے طور پر تعریف کرتا ہے، بالخصوص دیہی علاقوں میں نکاح بالعموم اور طلاق کو بالخصوص رجسٹر نہیں کیا جاتا۔ کسی شخص پر زناء کا الزام لگانے کے لئے دفاع میں ‘جائز نکاح‘ کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانا اس کے دیوانی منطقی نتائج میں صرف یہی کافی ہے کوئی نکاح رجسٹر نہ کرایا جائے یا کسی طلاق کی تصدیق کو تعزیری منطقی نتائج سے مشروط نہ کیا جائے۔ اس میں اسلامی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ جب کسی جرم کے ارتکاب میں کوئی شبہ پایا جائے تو حد کو نافذ نہ کیا جائے، قانون مذکورہ مقدمات میں غلط استعمال کی وجہ سے سابقہ خاوندوں اور معاشرے کے دیگر ارکان کے ہاتھوں میں ظلم و ستم کا کھلونا بن گیا ہے۔
تین طلاقیں دیئے جانے کے بعد عورت اپنے میکے چلی جاتی ہے وہ دوران عدت جاتی ہے، کچھ ہی دنوں کے بعد خاندان کے لوگ نئے ناطے کا انتظام کر دیتے ہیں اور وہ شادی کر لیتی ہے، اس وقت خاوند یہ دعوٰی کرتا ہے کہ یئت ہائے مجاز کی طرف سے طلاق کی تصدیق کے بغیر نکاح ختم نہیں ہوا اور زناء کا مقدمہ دائر کر دیتا ہے یہ ضروری ہے کہ اسے ختم کرنے کے لئے اس تعریف کو حذف کر دیا جائے۔
زناء بالجبر (عصمت دری) کے جرم کے لئے کوئی حد موجود نہیں ہے، یہ تعزیری جرم ہے، لہذا عصمت دری کی تعریف اور سزا کو پی پی سی میں بالترتیب دفعات ٣٧٥ اور ٣٧٦ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ جنس کی مبہم تریف میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ عصمت دری ایک جرم ہے جس کا ارتکاب مرد عورت کے ساتھ کرتا ہے۔ عصمت دری کا الزام لگانے کے لئے عورت کی مرضی دفاع کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ انتظام کیا جا رہا ہے کہ اگر عورت کی عمر ١٦ سال سے کم ہو تو مذکورہ مرضی کو دفاع کے طور پر استعمال نہ کیا جائے یہ کمزور کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے، جس کی قرآن بار بار تاکید کرتا ہے اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داری کے اصولوں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
اجتماعی زیادتی کی سزا موت ہے۔ اس سے کم سزا نہیں رکھی گئی ایسے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں کا یہ مشاہدہ ہے کہ بعض حالات میں ان کی یہ رائے ہوتی ہے کہ کسی شخص کو بری نہیں کیا جا سکتا جبکہ عین اس وقت مقدمت کے حقائق اور حالات کے مطابق سزائے موت جائز نہیں ہوتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ مقدمات میں ملزم کو بری کرنے پر مجبور ہوتے ہیںاس معاملے کو نمٹانے کے لئے سزائے موت کے متبادل کے طور پر عمر قید کی سزا کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
تعزیر زناء بالجبر (عصمت دری) اور اجتماعی زیادتی کی قانونی کاروائی کے لئے طریقہ کار، اس طرح دیگر تمام تعزیرات، پی پی سی کے تحت تمام جرائم کو مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) بعدازیں ‘سی آر پی سی‘ کے ذریعے منضبط کیا گیا ہے۔
لعان انفساخ نکاح کی شکل ہے کوئی عورت جو کہ اپنے شوہر کی طرف سے بدکاری کی ملزمہ ہو اور اس الزام سے انکاری ہو اپنی ازواجی زندگی سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ لعان سے متعلق قذف آرڈیننس کی دفعہ ١٤ اس کے لئے طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔ انفساخ نکاح کی آئینی تعزیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسی طرح، قانون انفساخ ازواج مسلمانان، ١٩٣٩ء (نمبر٨ بابت ١٩٣٨ء) کے تحت لعان کو طلاق کی وجہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
زناء اور قذف کی تعریف ویسی ہی رہے گی جیسا کہ زناء اور قذف آرڈیننسوں میں ہے۔ نیز زناء اور قذف دونوں کے لئے سزائیں ایک جیسی ہی ہوں گی۔
زناء سگین جرم ہے جو کہ لوگوں کو اخلاق کو بگاڑتا ہے اور پاکدامنی کے احساس کو تباہ کرتا ہے۔ قرآن زناء کو لوگوں کے اخلاق کے برعکس ایک جرم ٹھہراتا ہے۔ چار چسم دید گواہوں کی ضرورت بلا شرکت غیرے صریحاً غیر معمولی بار نہیں ہے۔ یہ بھی دعوٰٰی ہے کہ اگر حدیث کے برعکس ہو، ‘اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں‘ جو کسی عمل کا ارتکاب اس طرح غل غپاڑہ کی صورت میں کرتے ہیں تاکہ طار آدمی اس کو دیکھ لیں، البتہ معاشرے کو بہت سنگین نقصان ہو گا۔ اسی وقت قرآن راز داری کو تحفظ دیتا ہے، بت بنیاد اندازوں سے روکتا ہے اور تحقیقات کرنے اور دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی سے منع کرتا ہے۔ اس لئے زناء کے ثبوت کی ناکامی کی وجوہ کی بنا پر قذف کے لئے سزا عائد ہو جاتی ہے (زناء کے متعلق جھوٹا الزام) قرآن شکایت کنندہ سے زناء کو ثابت کرنے کے لئے چار چشم دید گواہ مانگتا ہے۔ شکایت کنندہ اور شہادت دینے والوں کو اس جرم کی سنگینی سے بخوبی آگاہی ہونی چاہئے کہ اگر انہوں نے جھوٹا الزام لگایا یا الزام کے شک کو دور نہ کر سکے تو وہ قذف کے لئے سزا وار ہوں گے۔ ملزم زناء کی قانونی کاروائی میں ناکامی کے نتیجے میں دوبارہ از سر نو قانونی کاروائی شروع نہیں کرے گا۔
زناء آرڈیننس خواتین پر استغاثہ کا بے جا استعمال کرتا ہے، خاندانی تنازعات کو طے کرنے اور بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے انحراف کرتا ہے۔ زناء اور قذف کے ہر دو مقدمات میں اس کے بے جا استعمال پر نظر رکھنے کے لئے مجموعہ ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ صرف سیشن عدالت ہی کسی درخواست پر مذکورہ مقدمات میں سماعت کا اختیار استعمال کر سکے۔ اسے قابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے تاکہ ملزم دوران سماعت جیل میں یاسیت کا شکار نہ رہے۔ پولیس کو کوئی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ مذکورہ مقدمات میں کسی کو گرفتار کر سکے تاوقتیکہ سیشن عدالت اس کی اجازت نہ دے اور مذکورہ ہدایات ماسوائے عدالت میں حاضری کو یقینی بنائے جانے یا کسی سزا دہی کی صورت کے جاری نہیں کی جا سکتیں، مجموعہ تعزیرات کی صورت میں، عورت یا اس کے خاندان کے کسی فرد کی تشہیر نہیں ہو گی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ تک کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
مذکورہ تمام ترامیم کا بنیادی مقصد زناء اور قذف کو اسلامی احکام کے مطابق قابل سزا بنانا ہے۔ جیسا کہ قرآن اور سنت میں دیا گیا ہے۔ استحصال سے روکنا، پولیس کے بے جا اختیارات سے روکنا اور انصاف اور مساویانہ حقوق پر مبنی معاشرے کو تشکیل دیتا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کنفرم ریٹرن ٹکٹ

Posted on 24/01/2007. Filed under: اسلام, رسم و رواج, سیاست |

آخرایسی کونسی وجہ ہے کہ ہم سنتے اور دیکھتے ہی جا رہے ہیں اور ہمیں اپنے نہ کچھ کہنے دیتے ہیں اور نہ ہی کچھ لکھنے دیتے ہیں۔ ہم نے صحافت کو زرد تو کیا ہے لیکن آزاد نہیں کیا اب اگر کچھ باقی لے دے کے رہ گیا ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم اس وقت تک انتظار کرتے رہتے ہیں کہ جب تک کوئی پہاڑ ہمارے سر پر آکر نہ گر ے اس وقت تک ہمارا بولنااجازت طلب ہی رہتا ہے۔ ہم اس حد تک خود کو فراموش کر چکے ہیں اورہمیں یہ یاد ہی نہیں رہا ہے کہ ہم اپنے مالک اور خالق کو جواب دہ ہیں۔
ہم اپنے اس حقیقی مالک سے ریٹرن ٹکٹ لے کر آئے تھے جس کا ایک کوپن تو استعمال ہو چکا ہے اور دوسرا بھی کنفرم ہے جس دن بوڈنگ کارڈ مل گیا تو اس دن چار کندھوں پر پرواز ہو جائے گی۔ جب آئے تھے توصرف دونوں ہاتھوں کی دو ہتھیلیاں تھیں اور وہ بھی بند حالت میں جن پر لکھا ہواہی اس دنیا میںگزر بسر کرنے کے لئے متاع ہے۔
لیکن واپسی پرسامان (Luggage) فری ہے جتنا کوئی چاہے لے کر جا سکتا ہے اور اس سامان کی نوعیت ایسی ہے کہ اگر آپ کے پاس خالق حقیقی کی دی ہوئی لسٹ کے مطابق سامان ہے تو آپ اس کولے کرگرین چینل سے آسانی کے ساتھ پار ہو جائیں گے۔ لیکن اگرآپ نے کہیں بھی مالک حقیقی کی دی ہوئی لسٹ سے ہٹ کر کچھ سامان شامل کر لیا تو آپ فوراً دھر لئے جائیں گے اور اسی وقت آپ کی تفتیش سیکورٹی کے حوالہ ہو جائے گی اوریہ ریمانڈ یوم حساب تک ہو گا اور اس تفتیش کے درمیانی عرصہ تک کی تکلیف آپ کو اٹھانی ہو گی۔
یہاں پر نہ کوئی وکیل ہو گا اور نہ ہی کوئی ضمانت کا سسٹم ، کیونکہ یہ سب دنیاوی سسٹم سے ہٹ کر ہو گا۔ گواہ بھی آپ کے اپنے ہی جسم کے اعضاء ہوں گے جو اس وقت آپ کے اختیارمیں نہ ہوں گے بلکہ وہ اپنی حیثیت میں آزاد ہوں گے۔ ان پر سماجی ، سیاسی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی معاشرتی دباو ہو گا اور اپنے ہی گواہوں کی گواہی لینے پر مجبور ہو گا کیونکہ مالک حقیقی نے پیشگی مطلع کر دیا تھا کہ اس کے ہاں ہر ذرہ ء خیر و شر کو نکال باہر کیا جائے گا۔
یہی ذرات گواہ بن کر انسان کے سامنے آ جائیں گے۔ اگر یہ سب کچھ ہمارے علم میں آ جائے یا ہمیں بتا دیا جائے توسوال پیدا ہوتا ہے آخروہ ایسی کونسی وجہ ہے کہ ہم اپنے واپسی کے سفرکو فراموش کر بیٹھے ہیں۔
کوئی ایسا دن مشکل ہی سے گزرتا ہے جب ہمیں کسی نہ کسی طرف سے ہزیمت اپنے لوگوں کی وجہ سے اٹھانی پڑتی ہے لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم خود کو متعارف کروانے میں ناکام ہیں۔ہمارا یہ دوست نما دشمن اتنا شاطر ہے کہ حقیقت کا علم اس کو بخوبی ہے لیکن ہمارے اپنے لوگوں کا سہارا لے کر ہر روز اخلاق کو بالاتر رکھ کر ہمارے اوپر اخلاق اور حقوق کی ترجمانی کرتے ہوئے ہر روز ہمیں زخم دینے سے باز نہیں آرہا اور ایک ہم ہیں کہ برابراس پرصبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں
لوگ یہ کیوں بھول گئے ہیں کہ اس محاذ پر آپ کونہ کسی تلوار کی اور نہ ہی کسی توپ کی ضرورت ہے ماسوائے اس احسن طریقہ کے جسے بروئے کار لاتے ہوئے آپ اپنا نقطہء نظر بہتر انداز سے دوسرے کے سامنے پیش کر سکیں۔ کیا ہمارے لئے پرنٹ اور الیکڑونیک میڈیا بھی مفقود ہے؟ اللہ کے رسول کی فرمان کے مطابق امت مسلمہ امت واحدہ ہے۔ اس کے کسی حصہ کو جسم سے علیحدہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔اس کے ہر حصہ کی کارکردگی تمام جسم کے کھاتے میں آئے گی اور اگر کوئی حصہ تکلیف میں ہو گا تو دوسرے حصہ کو بھی اتنی ہی تکلیف برداشت کرنا ہو گی۔
حال ہی میں امریکہ کے شہرلاس ویگاس میں ’’امریکہ ٹروتھ فورم‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرس کی حقیقت اب لوگوں پر عیاں ہوئی ہے۔ اس میں جو افسوس ناک بات ہے وہ یہ ہے کہ اس میں شریک ایک مسلمان خاتون جسے ’’نیوز ویک‘‘ کی طرف سے سال 2006ء کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے،جس کا تعلق ملک شام سے ہے۔
یہ ڈاکٹر وفا سلطان ہے جس نے اپنے روشن خیال اور ماڈرن ذہن کا سہارا لے کر اپنے متعصب میزبان کی مسلمانوں کے لئے رہنمائی کرتے ہو ئے فرمایا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو روشن خیال بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے نبی کے توہین آمیز کارٹون باربار شائع کئے جائیں اور جب مسلمان احتجاج کرنا چھوڑ دیں گے تب ہمیں یقین آئے گا کہ وہ ماڈرن ہو چکے ہیں۔
آپ غور کریں تو اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ ایسا خیال کہ باربار ان کو شائع کریں ان کے ذہن میں بھی نہیں آیا، مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کر نے کیلئے بہترین مشورہ ہمیشہ ان کو مسلمانوں کی ہی طرف سے ملا۔ یہاں چلتے چلتے ایک بات کا ذکر کر دینا چاہوں گا۔ ایک جگہ مسلمانوں کو جنگ میں شکست ہو گئی تو فاتح فوج کے سپہ سالار کا دل مسلمانوں کو کاٹ کاٹ کر بھرا ۔ اس نے اپنے مشیروں کو مشورہ کے لئے بلایا اور مشورہ طلب کیا کہ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو ذلیل کرے۔
آپ لوگ اس پر غور کریں کہ ہم کس طرح مسلمانوں کو ذلیل کر سکتے ہیں۔دوران گفتگو بہت سارے مشورے سامنے آئے اور ایک مشورہ کو پسند کیا گیا کہ سب مسلمانوں سے فاتح سپہ سالار کے سامنے سجدہ کروایا جائے کیونکہ مسلمان سجدہ صرف اللہ ہی کیلئے کرتے ہیں۔ اعلان عام ہو گیا کہ سب مسلمان سپہ سالار کے سامنے حاضر ہوں۔ لوگ وہاں جمع ہو گئے اور باری باری ہر مسلمان کو سجدہ کرنے کیلئے کہا جاتا اور لوگ خوف سے حکم بجا لاتے۔ اسی دوران ایک ہیجڑہ کی باری بھی آگئی۔
اس سے سجدہ کرنے کو کہا گیا تو اس نے انکار کر دیا کہ میں سجدہ نہیں کروں گا یہ دیکھ کر سپہ سالار نے کہا کہ تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے کتنے بڑے بڑے آئے جن میں ہر کوئی شامل تھا لیکن کسی نے انکار نہیں کیا ،تم کیا ہو؟ اس ہیجڑہ نے جواب دیا کہ وہ لوگ ایسے تھے جیسے ان کے پاس عمل کا خزانہ جمع ہو لیکن میرے پاس ایسا کوئی عمل نہیں ماسوائے اس سر کے جو میں صرف اللہ کے آگے جھکاتا ہوں
اس ہیجڑے نے سپہ سالار کے آگے سر نہیں جھکایا۔ سپہ سالار کا اشارہ ہوا اور اس ہیجڑہ کا سر تن سے جدا کردیا گیا۔ سر تن سے کیا جدا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں کے سر ندامت سے جھک گئے اور آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب جاری ہو گیا اور فاتح سپہ سالار ایک ہیجڑے کو فتح نہ کر سکا کیونکہ فنون کا دلدادہ یہ ہیجڑہ روشن خیال ہونے کے باوجود اللہ کو پہچانتا تھا۔
کیا ہم اتنے ہی کنگال ہو گئے ہیں کہ اپنے اخلاق اور کردار سے کچھ رقم نہیں کر سکے۔ یہی تو وجہ ہے کہ وہ اس دھڑلے سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا قرآن بدلنا ہو گا۔لیکن جو قرآن دلوں میں دفن ہو چکا ہے اس کا کیا کریں گے۔
ڈاکٹر رابرٹ موری اللہ کے رسول کے خلاف گستاخیوں اور دشنام طرازیوں سے بھری کتابیں لکھے یاڈاکٹر بروس ٹفٹ اسلام کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈے سے بھری تقریریں کرے۔رابرٹ سپنسر گستاخیوں سے تجاوز کرتا رہے اور مسلمانوں کے تعلیمی نصاب اور قرآن پاک میں تبدیلی یا تحریف کی بات کرے۔
اور جو روشن خیال اکٹھے ہو گئے ہیں انہوں نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں ورنہ یہ کبھی بھی نہ جھکتے۔بشکریہ
سعید جاوید مغل ۔ اردو سروس ڈاٹ نیٹ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تحفظ حقوق نسواں کا ترمیمی بل مکمل متن کے ساتھ ۔٢

Posted on 23/01/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس |

١٥۔ آرڈیننس نمبر ٧ کی دفعہ ٨ کی ترمیم:
جرم زناء (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) میں دفعہ ٨ میں الفاظ ‘یا زناءبالجبر‘ حذف کر دءیے جائیں گے۔١٦۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٩ کی ترمیم:
(١) زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ کی دفعہ ٩ میں ۔۔۔
(اول) الفاظ ‘یا زناءبالجبر‘ حذف کر دیئے جائیں گے۔
(دوم) ذیلی دفعہ (٢) میں الفاظ ‘یازناءبالجبر‘ حذف کر دیئے جائیں گے۔
(سوم) ذیلی دفعات (٣) اور (٤) حذف کر دی جائیں گی۔١٧۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعات ١٠ تا ١٦، ١٨ اور ١٩ کا احذاف:
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعات ١٠ تا ١٦، ١٨ اور ١٩ حذف کر دی جائیں گی۔١٨۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ١٧ کی ترمیم:
جرم زناء (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٧ مجریہ ١٩٧٩ء) میں دفعہ ١٧ میں لفظ اور ہندسہ ‘یا٦‘ حذف کر دیا جائے گا۔

١٩۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٢٠ کی ترمیم:
(١) زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ کی دفعہ ٢٠ میں ۔۔۔
(اول) ذیلی دفعہ (١) میں پہلا فقرہ ‘شرطیہ‘ حذف کر دیا جائے گا۔
(دوم) ذیلی دفعہ (٣) کو حذف کر دیا جائے گا اور
(سوم) ذیلی دفعہ (٥) کو حذف کر دیا جائے گا۔

٢٠۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٢ کی ترمیم:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) میں شق (الف) کی بجائے حسب ذیل تبدیلی کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔
‘الف) ‘بالغ‘ ، ‘حد‘ اور ‘زناء‘ کا ایک ہی جیسا مفہوم ہے جیسا کہ جرم زناء (نفاظ حدود) آرڈیننس میں ہے اور‘

٢١۔ آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٤ کا احذاف:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٤ کو حذف کر دیا جائیگا۔

٢٢۔ آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٦ کا حذف کرنا:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٦ کو مذکورہ دفعہ کی ذیلی دفعہ (١) کے طور پر دوبارہ نمبر لگایا جائیگا اور مذکورہ بالا طور پر دوبارہ نمبر لگائی گئی ذیلی دفعہ (١) کے بعد حسب ذیل نئی ذیلی دفعہ (٢) کا اضافہ کر دیا جائیگا یعنی ۔۔۔
(٢) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء کی دفعہ ٢٠٣ الف کے تحت استغاثہ خارج کرتے ہوئے یا جرم زناء (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٧ کے تحت کسی مجرم کو بری کرتے ہوئے اگر مطمین ہو کہ جرم قذف مستوجب حد کا ارتکاب ہوا ہے تو وہ قذف کا کوئی ثبوت طلب نہیں کریگا اور دفعہ ٧ کے تحت سزا کا حکم صادر کرے گا۔

٢٣۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٨ کی ترمیم:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٨ میں الفاظ ‘پولیس کو کی گئی رپورٹ یا‘ حذف کر دیئے جائیں گے۔

٢٤۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٩ کی ترمیم:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٩ میں ذیلی دفعہ (٢) کی بجائے حسب ذیل تبدیلی کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔
(٢) کسی ایسے مقدمے میں جس میں ،حد کی تعمیل سے قبل، مستغیث قذف کا الزام واپس لے لے یا یہ بیان دے کہ ملزم نے جھوٹا اقبال کیا ہے، یا یہ کہ گواہوں میں سے کسی نے جھوٹا بیان دیا ہے تو، حد کا اطلاق نہیں ہو گا۔

٢٥۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعات ١٠ تا ١٣ اور ١٥ کا حذف کرنا:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعات ١٠ تا ١٣ اور ١٥ حذف کر دی جائیں گی۔

٢٦۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ١٤ کی ترمیم:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ١٤ میں، ذیلی دفعات ٣ اور ٤ حذف کر دی جائے گی۔

٢٧۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ١٦ کا حذف کرنا:
جرم قذف (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) میں دفعہ ١٦ حذف کر دی جائے گی۔

٢٨۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ١٧ کی ترمیم:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ١٧ میں ۔۔۔
(اول) پہلے فقرہ شرطیہ کو حذف کر دیا جائیگا۔
(دوم) دوسرے فقرہ شرطیہ کی بجائے حسب ذیل تبدیلی کر دی جائیگی، یعنی ۔۔۔
‘مگر شرط یہ ہے کہ دفعہ ٧ کے تحت قابل سزا کوئی جرم سیشن عدالت میں قابل مجاز کردہ مجسٹریٹ کے ذریعے سے یا اس کے روبرو اور سیشن عدالت کے حکم کے خلاف اپیل وفاقی شرعی عدالت میں دائر ہو گی۔‘

٢٩۔ آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ١٩ کا حذف کرنا:
قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ١٩ حذف کر دی جائیں گی۔

٣٠۔ انفساخ ازواج مسلمانان ایکٹ ١٩٣٩ء (نمبر ٨ بابت ١٩٣٩ء) میں نئی دفعہ کی شمولیت:
انفساخ ازواج مسلمانان ایکٹ ١٩٣٩ء (نمبر٨ بابت ١٩٣٩ء) میں دفعہ ٢ میں شق ٧ کے بعد حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔(٧ الف) لعان۔
تشریح۔ لعان سے مراد جب کہ کوئی شوہر اپنی بیوی پر زناء کی تہمت لگائے اور بیوی اس تہمت کو سچ تسلیم نہ کرے۔

اول ۔ کالم ١ میں دفعہ ٣٦٥ الف اور اس سے متعلقہ کالم ٢ تا ٨ کے اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دئیے جائیں گے یعنی ۔۔۔

8

7

6

5

4

3

2

1

ایضاً

عمر قید اور جرمانہ

ایضاً

ایضاً

ایضاً

ایضاً

عورت کو اس کے نکاح وغیرہ پر مجبور کرنے کے لئے لے بھاگنا یا اغوا کرنا یا ترغیب دینا

٣٦٥ ب

دوم ۔ کالم ١ میں دفعہ ٣٦٧ اور اس سے متعلقہ کالم ٢ تا ٨ کے اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دئیے جائیں گے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

ایضاً

سزائے موت یا پچیس سال تک قید سخت اور جرمانہ

ایضاً

ایضاً

ایضاً

ایضاً

کسی شخص کو غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنانے کی غرض سے لے بھاگنا یا اغوا کرنا

٣٦٧ الف

سوم ۔ کالم ١ میں دفعہ ٣٧١ اور اس سے متعلقہ کالم ٢ تا ٨ کے اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دئیے جائیں گے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

ایضاً

پچیس سال تک سزائے قید اور جرمانہ
پچیس سال تک سزائے قید اور جرمانہ

ایضاً

ایضاً

ایضاً

ایضاً

کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض کے لئے فروخت کرنا
کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض سے خریدنا

٣٧١ الف
٣٧١ ب

چہارم ۔ دفعہ ٣٧٤ کے بعد زناء بالجبر کا ذیلی عنوان شامل کر دیا جائیگا۔
پنجم ۔ دفعہ ٣٧٦ سے متعلق کام ١ تا ٨ میں موجودہ اندراجات کی بجائے حسب ذیل تبدیل کر دئیے جائیں گے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

سیشن عدالت

سزائے موت یا کم از کم دس یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک سزائے قید اور جرمانہ
سزائے موت یا عمر قید، اگر جرم کا ارتکاب دو یا زیادہ اشخاص نے بہ تائید باہمی سے کیا ہو

ناقابل مصالحت

ناقابل ضمانت

وارنٹ

بلا وارنٹ گرفتار کر سکے گا

زناء بالجبر

٣٧٦

ششم ۔ کالم ١ میں دفعہ ٤٩٣ اور اس سے متعلقہ کالم ٢ تا ٨ میں اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دیئے جائینگے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

ایضاً

پچیس سال تک سزائے قید اور جرمانہ

ناقابل مصالحت

ناقابل ضمانت

وارنٹ

بلا وارنٹ گرفتار کر سکے گا

کسی شخص کا فریب سے جائز نکاح کا یقین دلا کر ہم بستری کرنا

٤٩٣ ب

ہفتم ۔ کالم ١ میں دفعہ ٤٩٦ اور اس سے متعلقہ کالم ٢ تا ٨ میں اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دیئے جائینگے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

سیشن عدالت یا مجسٹریٹ درجہ اول اور

سات سال تک کے لئے کسی بھی قسم کی سزائے قید اور جرمانہ

ایضاً

ناقابل ضمانت

ایضاً

بلا وارنٹ گرفتار کر سکے گا

کسی عورت کو مجرمانہ نیت سے ورغلانہ یا نکال کر لے جانا یا روک رکھنا

٤٩٦ الف

ہشتم ۔ کالم ١ میں دفعہ ٥٠٢ اور اس سے متعلقہ کالم ٢ تا ٨ میں اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دیئے جائینگے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

ایضاً

چھ ماہ تک کسی بھی قسم کی سزائے قید اور جرمانہ

ناقابل مصالحت

ایضاً

سمن

بلا وارنٹ گرفتار نہیں کریگا

زناء یا زناء بالجبر کی صورت میں عورت کی شناخت کی تشہیر کرنا

٥٠٢ ب

نہم ۔ ‘دیگر قوانین کے خلاف جرائم‘ کے عنوان کے تحت کام ١ میں آخری اندراج کے بعد اور کالم ٢ تا ٨ میں اس سے متعلقہ اندراجات کے بعد حسب ذیل شامل کر دیئے جائینگے یعنی ۔۔۔

8 7 6 5 4 3 2 1

سیشن عدالت

سیشن عدالت

محصن کی صورت میں موت تک سنگسار کرنا اور اگر محصن نہ ہو تو ایک سو کوڑوں تک کی سزا

اسی کوڑوں کی سزا

ناقابل مصالحت

ناقابل مصالحت

ناقابل ضمانت

ناقابل ضمانت

سمن

سمن

بلا وارنٹ گرفتار نہیں کریگا

بلا وارنٹ گرفتار نہیں کریگا

زناء

قذف

آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٥
آرڈیننس نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٥

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ریلیف یا تکلیف ؟

Posted on 15/01/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

چیزوں سے خوف زدہ یا خوش ہونے کے لئے بھی ان کا شعور بہت ضروری ہے۔ بالغ شخص کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہوسانپ کو دیکھ کر اسے گلے کا ہار نہیں بنانا چاہے گا، جبکہ بچہ اس کی چمک دمک دیکھ کر اس کی طرف لپکے گا بلکہ اس کے ساتھ کھیلنا بھی چاہے گا۔ عوام کی اکثریت بھی بچوں کی طرح ہوتی ہے جو ہر چمکتی چیز کو سونا اور ہر ڈرامے کو حقیقت سمجھ کو بچوں کی طرح کھل اٹھتے ہیں اور تالیاں بجانے لگتے ہیں۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا جو اعلان کیا ہے اس پر بھی یہی کچھ ہو رہا، پی ٹی وی پر زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کو ایک مہینے سے اوپر ہو گیا ہے اور اس دروان یہ قمیتیں مسلسل کم ہوتی رہیں۔ حکومت نے اب آ کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں میں چار روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں گے اور مہنگائی میں یقینی طور پر کمی واقع ہو گی۔ اسے کہتے ہیں سجی دکھا کر کھبی مارنا۔ یہ معمولی ریلیف اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ اس تھوڑے سے ریلیف کے بعد تکلیف کا سفر شروع ہونے والا ہے۔ آخر ١٥ ارب کے خسارے کا سامنا ہے اسے کسی مد میں ڈالنا تو ہے نا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گیس اور بجلی پر کب بجلی گرتی ہے۔
اس ریلیف میں بھی حکومت نے عوام کے بارے میں کچھ نہیں سوچا صرف اپنے جیسے لوگوں کا ہی بھلا کیا ہے جو بڑی پیٹرول گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ غریب بیچارہ تو ویگنوں اور بسوں کے دکھے کھاتا ہوا اپنی منزل تک پہنچتا ہے جو ڈیزل سے چلتی ہیں اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک روپے کمی کے بعد ویگنوں اور بسوں کے کرایوں میں کتنے فیصد کمی ہو گی؟ اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔
ہمارے شوکت عزیز صاحب نے مشاعرہ ہی ایسا شروع کیا کہ جس کے ہر شعر پر عوام پُھڑک پُھرک جائیں۔
صدر مشرف صاحب بھی ایل ایف او سے براستہ سب سے پہلے پاکستان سے ہوتے ہوئے اس تکلیف پیکج تک پہنچ ہی گئے ہیں تو باقی کا سفر بھی کٹ ہی جائے گا مگر آہستہ آہستہ اور عوام باقی ماندہ سفر کے لئے کمر کس لیں، جس کے بارے میں سوچ کر ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔
حکومت اگر عوام کو ریلیف دینا ہی چاہتی تو قیمتیں اتنی تو کم کرے جتنی عالمی مارکیٹ میں کم ہوئیں ہیں اور ویسے بھی یہ عوام کا حق ہے جو یقینا اسے ملنا چاہیے ورنہ تو ریلیف اور تکلیف میں بس تھوڑا سا فرق رہ جاتا ہے اب یہ حکومت کو طے کرنا ہے کہ وہ عوام کو کیا دینا چاہتی ہے ریلیف یا تکلیف۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

لوڈشیڈنگ

Posted on 13/01/2007. Filed under: پاکستان |

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے وزارت پانی و بجلی کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے اور اس وقت کہیں بھی بجلی بند نہیں ہو رہی ہے، یہ بات واپڈا کے ممبر چوہدری خالد نے جمعہ کو پارلیمٹ ہاؤس میں ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دوران بتائی، اس اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی اور ذیلی کمیٹی کے سربراہ چوہدری قمرالزماں کر رہے تھے۔ واپڈا کے ممبر چوہدری خالد، رکن قومی اسمبلی اور ذیلی کمیٹی کے سربراہ چوہدری قمرالزماں یا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کوئی ممبر یہاں ڈیرہ غازی خان میں ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہاں بجلی دن اور رات میں کتنی بار آنکھ مچولی کھیلتی ہے اور یہ سلسلہ یقینا ملک کے باقی حصوں میں بھی ہو گا۔ سوچنے کی بات ہے کہ کتنی آسانی سے یہ کہہ دیا گیا کہ ‘ملک بھر میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے، اب کہیں بھی بجلی بند نہیں ہو رہی‘۔ نہ کوئی تصدیق کرنے والا نہ کوئی جائزہ لینے والا کہ بات میں کتنا دم ہے، اب عوام چیختے اور بلبلاتے رہے حکومت کو اس سے کیا، حکومت کو تو رپورٹ مل چکی ہے کہ اس وقت ملک میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تحفظ حقوق نسواں کا ترمیمی بل مکمل متن کے ساتھ ۔١

Posted on 09/01/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس |

قومی اسمبلی میں پیش کردہ صورت میں مجموعہ تعزیرات پاکستان، مجموعہ ضابطہ فوجداری اور دیگر قوانین میں مزید ترمیم کرنیکا بلچونکہ دستور کا آرٹیکل ١١٤ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ شرف انسانی اور قانونکے تابع، گھر کی خلوت قابل حرمت ہو گی۔
چونکہ دستور کا آرٹیکل ٣٧ سماجی انصاف کو فروغ دینے اور سماجی برائیوں کا خاتمہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
چونکہ یہ ضروری ہے کہ قانون کے غلط اور بیجا استعمال کے خلاف خواتین کی داد رسی کی جائے اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے استحصال کو روکا جائے۔
چونکہ اس بل کا مقصد ایسا قانون لانا ہے جو بالخصوص دستور کے بیان کردہ مقاصد اور اسلامی احکام سے مطابقت رکھتا ہو۔
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازیں ظاہر ہونے والی اغراض کے لئےمجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٦٠ء) مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) قانون انفساخ ازواج مسلمانان ١٩٣٩ء (نمبر ٨ بابت ١٩٣٩ء) زناء کا جرم (نفاذ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) اور قذف کا جرم (حد کا نفاظ) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء) میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔١- مختصر عنوان اور آغاز کا نفاذ:-
(١) یہ ایکٹ، قانون فوجداری ترمیمی (خواتین کا تحفظ) ایکٹ ٢٠٠٢ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں ‘مجموعہ قانون‘ کے طور پر دیا گیا، دفعہ ٣٦٥ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔
٣٦٥ ب۔ عورت کو نکاح وغیرہ پر مجبور کرنے کے لئے اغوا کرنا لے بھاگنا یا ترغیب دینا:-
جو کوئی بھی کسی عورت کو اس اردادے سے کہ اسے مجبور کیا جائے، یا یہ جانتے ہوئے اسے مجبور کرنے کا احتمال ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کسی شخص سے نکاح کرے یا اس غرض سے کہ ناجائز جماع پر مجبور کی جائے یا پھسلائی یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ اسے ناجائز جماع پر مجبور کر لیا جائے یا پھسلا لیا جائے گا، لے بھاگے یا اغوا کر لے تو عمر قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا اور جو کوئی بھی اس مجموعہ قانون میں تعریف کردہ تخریف مجرمانہ کے ذریعے یا اکتیار کے بیجا استعمال یا جبر کے کسی دوسرے طریقے کے ذریعے، کسی عورت کو کسی جگہ سے جانے کے لئے اس ارادے سے یا یہ جانتے ہوئے ترغیب دے کہ اس امر کا احتمال ہے کہ اسے کسی دوسرے شخص کے ساتھ ناجائز جماع پر مجبور کیا جائے گا یا پھسلا لیا جائے گا تو بھی مذکورہ بالا طور پر قابل سزا ہو گا۔

٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٦٧ کے بعد حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔۔۔
٣٦٧ الف ۔ کسی شخص سے غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنانے کی غرض سے اغوا کرنا یا لے بھاگنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس غرض سے کہ مذکورہ شخص کسی شخص کی غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنایا جائے یا اس طرح ٹھکانے لگایا جائے کہ وہ کسی شخص کی غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بننے کے خطرے میں پڑ جائے اس امر کے احتمال کے علم کے ساتھ مذکورہ شخص کو بایں طور پر نشانہ بنایا جائے گا یا ٹھکانے لگایا جائے گا، لے بھاگے یا اغوا کرے تو اسے موت یا پچیس سال تک کی مدت کے لئے قید سخت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٧١ کے بعد حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی یعنی ۔۔۔۔۔
٣٧١ الف ۔ کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض کے لئے فروخت کرنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس نیت سے کہ مذکورہ شخص کسی بھی وقت عصمت فروشی یا کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کی غرض سے یا کسی ناجائز اور غیر اخلاقی مقصد کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا یا اس امر کے احتمال کا علم رکھتے ہوئے کہ مذکورہ شخص کو کسی بھی وقت مذکورہ غرض کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا، فروخت کرے، اجرت پر چلائے یا بصورت دیگر حوالے کرے تو اسے پچپن سال تک کی مدت کے لئے سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
تشریحات۔
(الف) جب کوئی عورت کسی طوائف یا کسی شخص کو کسی چکلے یا مالک یا منتظم ہو فروخت کی جائے، اجرت پر دی جائے، بصورت دیگر حوالے کی جائے تو مذکورہ عورت کو اس طرح حوالے کرنے والے شخص کے متعلق تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے اسے اس نیت سے حوالے کیا تھا کہ اسے عمت فروشی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
(ب) دفعہ ہذا اور دفعہ ٣٧١ ب کی اغراض کے لئے ‘ناجائز جماع‘ سے ایسے اشخاص کے مابین جماع مراد ہے جو رشتہ نکاح میں منسلک نہ ہوں۔
٣٧١ ب ۔ کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض سے خریدنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس نیت سے کہ مذکورہ شخص کو کسی وقت عصمت فروشی کے لئے یا کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کے لئے کسی ناجائز اور غیر اخلاقی مقصد کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا، خریدے، اجرت پر رکھے یا بصورت دیگر اس کا قبضہ حصل کرے تو اسے پچیس سال کی مدت کے لئے سزائے قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
تشریح:-
کوئی طوائف یا کوئی شخص جو کسی چکلے کا مالک یا منتظم ہو کسی عورت کو خریدے، اجرت پر رکھے یا بصورت دیگر اس کا قبضہ حاصل کرے تو تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس عورت پر اس نیت سے قبضہ کیا گیا تھا کہ اسے عصمت فروشی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

٥۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٧٤ کے بعد ذیلی عنوان ‘زنا بالجبر‘ کے تحت حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی، یعنی ۔۔
٣٧٥۔ زنا بالجبر:-
کسی مرد کو زنا بالجبر کا مرتکب کہا جائے گا جو ماسوائے ان مقدمات کے جو بعدازاں مستثنٰی ہوں، کسی عورت کے ساتھ مندرجہ ذیل پانچ حالات میں میں سے کسی میں جماع کرے۔
(اول) اس کی مرضی کے خلاف۔
(دوم) اس کی رضا مندی کے بغیر۔
(سوم) اس کی رضا مندی سے، جبکہ رضا مندی اس کو ہلاک یا ضرر کا خوف دلا کر حاصل کی گئی ہو۔
(چہارم) اس کی مرضی سے جبکہ مرد جانتا ہو کہ وہ اس کے نکاح میں نہیں ہے اور یہ کہ رضا مندی کا اظہار اس وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ وہ یہ باور کرتی ہے کہ مرد وہ دوسرا شخص ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح ہونا وہ باور کرتا ہے یا کرتی ہے، یا
(پنجم) اس کی رضا مندی سے یا اس کے بغیر جبکہ وہ سولہ سال سے کم عمر کی ہو۔
تشریح:-
زنا بالجبر کے جرم کے لئے مطلوبہ جماع کے تعین کے لئے دخول کافی ہے۔‘
٣٧٦۔ زناءبالجبر کے لئے سزا:-
(١) جو کوئی زناءبالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا۔
(٢) جب زناءبالجبر کا ارتکاب دو یا زیادہ اشخاص نے بہ تائید باہمی رضامندی سے کیا ہو تو، ان میں سے ہر ایک شخص کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

٦۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں، بابت بیس میں، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔
٤٩٣ الف۔ کسی شخص کا فریب سے جائز نکاح کا یقین دلا کر ہم بستری کرنا:-
ہر وہ شخص جو فریب سے کسی عورت کو جس سے جائز طریق پر اس نے نکاح نہ کیا ہو، یہ باور کرائے کہ اس نے اس عورت سے جائز طور پر نکاح کیا ہے اور اسے یقین کے ساتھ ہم بستری پر آمادہ کرے تو اسے پچیس سال تک کے لئے قید سخت دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٧۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٤٩٦ کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی، یعنی ۔۔
٤٩٦ الف۔ کسی عورت کو مجرمانہ نیت سے ورغلانہ یا نکال کر لے جانا یا روک رکھنا۔
جو کوئی بھی کسی عورت کو اس نیت سے نکال کر لے جائے یا ورغلا کر لے جائے کہ وہ کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کرے یا کسی عورت کو مذکورہ نیت سے چھپائے یا روک رکھے تو اسے سات سال تک کی مدت کے لئے کسی بھی قسم کی سزائے قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٨۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں، دفعہ ٥٠٢ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی، یعنی ۔۔۔
٥٠٢ ب۔ زناءبالجبر کی صورت میں کسی عورت کی شناخت کی تشہیر کرنا:-
اگر کوئی زناءبالجبر کے کسی مقدمے کی تشہیر کرتا ہے جس کے ذریعے کسی عورت یا اس کے خاندان کے کسی فرد کی شناخت کو ظاہر کرے تو اسے چھ ماہ تک کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

٩- ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء میں نئی دفعات کی شمولیت:-
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں دفعہ ٢٠٣ کے بعد، حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی، یعنی ۔۔۔
٢٠٣ الف ۔ زناء کی صورت میں نالش:-
(١) کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٥ کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
(٢) کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث زناء کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
(٣) مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
(٤) اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَََََََ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
(٥) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روپرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔
٢٠٣ ب قذف کی صورت میں نالش:-
(١) دفعہ ٦ کی ذیلی دفعہ (٢) کے تابع، کوئی عدالت قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی ذیلی دفعہ ٧ کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
(٢) کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث کی قذف کے فعل کے جرم میں ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
(٣) مستغیث کی جانچ پڑتال کے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائیگا اور اس پر مستغیث کے علاوہ افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
(٤) اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَََََََ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
(٥) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روپرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث کے حلفیہ بیانات پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے،تو نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

١٠۔ ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کے جدول دوم کی ترمیم:-
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں دول دوم میں ۔۔۔

١١۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی نئی دفعہ ٢ کی ترمیم:-
(١) زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) میں دفعہ ٢ میں شقات (ج) اور (ہ) حذف کر دی جائیں گی۔

١٢۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٣ کا حذف:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٣ کو حذف کر دیا جائیگا۔

١٣۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٤ کی ترمیم:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء میں دفعہ ٤ میں لفظ ‘جائز طور پر‘ اور مذکورہ دفعہ کے آخر میں تشریح کو حذف کر دیا جائیگا۔

١٤۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعات ٦ اور ٧ کا حذف کرنا:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعات ٦ اور ٧ کو حذف کر دیا جائے گا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عید مبارک

Posted on 01/01/2007. Filed under: طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , , , |

وہ شام کو تھکا ہارا کام سے واپس آ رہا تھا۔ حج کا دن تھا صبح عید تھی مگر اس کے پاس چند سو روپوں کے عالوہ کچھ نہیں تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ان روپوں سے کیا ہو گا۔ بیوی بچوں کی فرمائشیں سن کو اور پوری نہ ہوتے دیکھ کر اس کا کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ انہی سوچوں میں گم وہ ویگن اسٹینڈ پہنچ گیا مطلوبہ ویگن ملنے کے بعد وہ اس میں سوار ہو گیا ۔۔۔ اپنی سوچوں میں گم وہ نیچے سر جکھائے بیٹھا تھا کہ اچانک اس ایسا محسوس ہوا جیسے اس نے بجلی کا ننگا تار پکڑ لیا ہو، اس کے دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی اور کیوں نہ ہوتی کیونکہ کے سامنے والی سیٹ کے نیچے ایک ہزار کا نوٹ پڑا ہوا تھا۔ وہ عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ کبھی نوٹ کی طرف دیکھتا اور کبھی اردگرد بیٹھے لوگوں کو۔ اس نے جھک کر نوٹ اٹھانا چاہا تو برابر بیٹھے ہوئے نوجوان نے اسے گھور کر دیکھا، جس سے وہ بوکھلا گیا کہ شاید اس نوجوان کی نظر نوٹ پر پڑ گئی ہے۔ لیکن یہ اس کا وہم ثابت ہوا۔
کچھ دیر گزر جانے کے بعد بھی جب نوجوان چپ بیٹھا رہا تو اس نے ایک مرتبہ پھر نوٹ اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔ پھر جلدی اور کچھ بے دھیانی میں اس کا سر سامنے والی سیٹ سے جا ٹکرایا، ایک دو افراد نے اسے گھور گھور کر دیکھنے لگے تو ۔۔ کہنے لگا ‘معاف کرنا بھائی نیند کی وجہ سے سر ٹکرا گیا‘ ۔۔ پھر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ لیکن اسے کسی پل چین نہیں آ رہا تھا اس نے ایک مرتبہ اور ٹرائی کی ۔۔۔ اس مرتبہ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور وہ نوٹ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔ ہزار کا نوٹ اس کے ہاتھ سے ہوتا ہوا اس کی جیب میں پہنچ گیا۔ اب وہ تھا اور اس کے خیالات ۔۔۔۔۔۔۔ بیوی بچوں کی خواہشات اس ہزار کے نوٹ سے کسی حد تک پوری ضرور ہو سکتی تھیں۔
یہی باتیں سوچتے ہوئے اس کا سٹاپ آ گیا۔ وہ فورا چھلانگ لگا کر ویگن سے اترا تو اسے خود پر حیرت ہوئی۔ خوشی سے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ اس لئے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے دروازہ بند کر لیا۔ جیب میں ہاتھ ڈال نوٹ نکالا اور کھول کر اسے چومنے لگا تو فورا ٹھٹھک کر رہ گیا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا اور دماغ چکرانے لگا کیونکہ نوٹ اصلی نہیں جعلی تھا اور اس اوپر تحریر تھا ‘عید مبارک ہو‘

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...