ریلیف یا تکلیف ؟

Posted on 15/01/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

چیزوں سے خوف زدہ یا خوش ہونے کے لئے بھی ان کا شعور بہت ضروری ہے۔ بالغ شخص کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہوسانپ کو دیکھ کر اسے گلے کا ہار نہیں بنانا چاہے گا، جبکہ بچہ اس کی چمک دمک دیکھ کر اس کی طرف لپکے گا بلکہ اس کے ساتھ کھیلنا بھی چاہے گا۔ عوام کی اکثریت بھی بچوں کی طرح ہوتی ہے جو ہر چمکتی چیز کو سونا اور ہر ڈرامے کو حقیقت سمجھ کو بچوں کی طرح کھل اٹھتے ہیں اور تالیاں بجانے لگتے ہیں۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا جو اعلان کیا ہے اس پر بھی یہی کچھ ہو رہا، پی ٹی وی پر زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کو ایک مہینے سے اوپر ہو گیا ہے اور اس دروان یہ قمیتیں مسلسل کم ہوتی رہیں۔ حکومت نے اب آ کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں میں چار روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں گے اور مہنگائی میں یقینی طور پر کمی واقع ہو گی۔ اسے کہتے ہیں سجی دکھا کر کھبی مارنا۔ یہ معمولی ریلیف اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ اس تھوڑے سے ریلیف کے بعد تکلیف کا سفر شروع ہونے والا ہے۔ آخر ١٥ ارب کے خسارے کا سامنا ہے اسے کسی مد میں ڈالنا تو ہے نا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گیس اور بجلی پر کب بجلی گرتی ہے۔
اس ریلیف میں بھی حکومت نے عوام کے بارے میں کچھ نہیں سوچا صرف اپنے جیسے لوگوں کا ہی بھلا کیا ہے جو بڑی پیٹرول گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ غریب بیچارہ تو ویگنوں اور بسوں کے دکھے کھاتا ہوا اپنی منزل تک پہنچتا ہے جو ڈیزل سے چلتی ہیں اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک روپے کمی کے بعد ویگنوں اور بسوں کے کرایوں میں کتنے فیصد کمی ہو گی؟ اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔
ہمارے شوکت عزیز صاحب نے مشاعرہ ہی ایسا شروع کیا کہ جس کے ہر شعر پر عوام پُھڑک پُھرک جائیں۔
صدر مشرف صاحب بھی ایل ایف او سے براستہ سب سے پہلے پاکستان سے ہوتے ہوئے اس تکلیف پیکج تک پہنچ ہی گئے ہیں تو باقی کا سفر بھی کٹ ہی جائے گا مگر آہستہ آہستہ اور عوام باقی ماندہ سفر کے لئے کمر کس لیں، جس کے بارے میں سوچ کر ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔
حکومت اگر عوام کو ریلیف دینا ہی چاہتی تو قیمتیں اتنی تو کم کرے جتنی عالمی مارکیٹ میں کم ہوئیں ہیں اور ویسے بھی یہ عوام کا حق ہے جو یقینا اسے ملنا چاہیے ورنہ تو ریلیف اور تکلیف میں بس تھوڑا سا فرق رہ جاتا ہے اب یہ حکومت کو طے کرنا ہے کہ وہ عوام کو کیا دینا چاہتی ہے ریلیف یا تکلیف۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: