Archive for فروری, 2007

شناخت

Posted on 26/02/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آس آف

Posted on 22/02/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان, رسم و رواج |

خبر ملی ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تمن کھوسہ کے قبائلی سرداروں کی کونسل نے چوری کے الزام میں ایک نوجوان کے والد خدا بخش کو حکم دیا ہے کہ اسے اپنے بیٹے کی بیگناہی ثابت کرنی ہو گی اور اس کے لئے اسے ننگے بدن ایک انتہائی ٹھنڈے، یخ بستہ برفیلے پانی کے تالاب میں بندھے ہوئے ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ ایسے ٨٠ فٹ تک چلے کہ پانی سے صرف اس کا سر باہر ہو اور اسی حالت میں اسے کم از کم ١٠ منٹ تک گزار لے تو تب اس کے بیٹے کو بےگناہ تصور کرتے ہوئے چھوڑ دیا جائے گا۔
بیچارہ مرتا کیا نہ کرتا، اولاد چیز ہی ایسی ہوتی ہے، بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق، بیٹے کی بیگناہی کے لئے خدا بخش اس آزمائش سے گزرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ تمن کھوسہ کی ہزاروں آنکھوں نے یہ تماشا دیکھا کہ بوڑھا خدا بخش دو منٹ بھی تالاب میں برفیلے پانی کی تاب نہ لا سکا اور باہر نکل آیا۔ جس کے سبب اس کے بیٹے پر الزام صحیح ثابت ہوا اور تمن کھوسہ کے قبائلی بزرگوں کی کونسل نے اس کو پچاس ہزار روپے بطور جرمانہ ادا کرنے کی سزا دے دی۔
یہ خبر حیران کن، انوکھی یا نئی نہیں، ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ کیونکہ قبائلیوں کے پرانے رسم و رواج اور روایات جو صدیوں سے چلے آتے ہیں کے مطابق ملزموں کو اپنی بیگناہی خود ہی ثابت کرنا پڑتی ہے۔ ان روایات کے مطابق مختلف الزاموں پر آزمائش کے مرحلے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی انہیں اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے لئے ننگے پیروں دہکتے ہوئے کوئلوں پر سے گزرنا پڑتا ہے، تو کبھی برفیلے پانی میں سے ننگے بدن گزرنا پڑتا ہے۔
یہ سب یہاں تک تو چلو کسی حد تک قابل قبول ہیں مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ایسے واقعات میں بھائیوں کے جرم کی سزا ان کی بہنوں کو اور بیٹوں کے گناہ کا کفارہ ان کی ماؤں کو ادا کرنا پڑتا ہے، اور خاوندوں کی زیادتی کا کا خمیازہ ان کی بیویوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟
یہ کہاں کا انصاف اور انسانیت ہے؟
ایسا کب تک ہوتا رہے؟
کب تک گناہگاروں کی سزا بےگناہوں کو دی جاتی رہے گی؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حضرت سید سلطان احمد سخی سرور

Posted on 22/02/2007. Filed under: عشق ومعرفت |

ڈیرہ غازی خان کو اگرچہ ڈویژن کا درجہ حاصل ہےلیکن بلحاظ ترقی بےحد پسماندہ ہے۔
یہاں کی زبان سرائیکی ہے جس میں بےحد مٹھاس اور شیرینی ہے۔ لوگ سادہ‘ ملنسار‘ مودّب اور محبت کرنے والے ہیں۔ شاید یہ نمایاں خصوصیات ان بزرگانِ دین کی تعلیمات کا ثمر ہیں۔ جو اس علاقےمیں بطرف جنوب پچاسی میل کےفاصلے پر کوٹ مٹھن میں حضرت خواجہ غلام فرید بجانب مشرق اڑتالیس میل دور تونسہ شریف میں حضرت سلیمان تونسوی اور مغرب کی سمت پچیس میل دور حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید آسودہ خواب ہیں۔
سخی سرور میں صرف ایک ہی چھوٹا سا ٹیڑھا میڑھا بازار ہے جس کےشمالی کنارے پر بسوں کا اڈا اور جنوبی سرے پر حضرت سلطان سخی سرور شہید کےمزارِ اقدس کی عمارت کا صدر دروازہ کھلتا ہے۔ اس کےاوپر دو منزلہ کمرے بنےہوئے ہیں اندر داخل ہوں تو سامنےکشادہ صحن اور تین کمرے ہیں جن میں سےایک میں مزارِ مبارک پر چڑھائےگئے پرانےغلاف رکھےہیں۔ اس کےساتھ چھوٹےسےتاریک کمرے میں ہر وقت شمع روشن رہتی ہے۔ دیوار کےساتھ اونچا سا تھڑا ہے جس پر مصلیٰ بچھا ہوا ہے اس پر حضرت صاحب عبادت و ریاضت کیا کرتےتھے۔ اس سےملحقہ کشادہ کمرے میں دائیں کونےمیں آپ کا مزار ہے۔ اس کےقریب چھوٹےسےچبوترے پر ہر وقت چراغ روشن رہتا ہے۔ مزارِ اقدس کےقدموں کی طرف نیچےزمین کےاندر ڈیڑھ دو بالشت چوڑا سوراخ ہے جو قبرمبارک کےاندر جاتا ہے۔ زائرین اس میں ہاتھ ڈال کر کچھ تلاش کرتےہیں۔ بعض اوقات کسی کو کوئی چیز مل بھی جاتی ہے تو وہ خود کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہے۔ مقامی لوگوں کےسوا آٹھ صدیاں قبل جب حضرت سلطان سخی سرور شہادت کےبعد یہاں دفن کئےگئےتو اس ویرانےمیں آپ کی بیوی اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔ آپ کی بیوی نےبارگاہِ خداوندی میں فریاد کی کہ اب مجھےکس کا سہارا ہے تو حکم ایزدی سےاس جگہ سے زمین شق ہو گئی جس میں آ پکےبیوی بچےسما گئے۔ اس واقعہ کی کسی مستند حوالےسےتصدیق نہیں ہو سکی لیکن اتنا ضرور ہےکہ آپ کی محترمہ بیگم کی قبر یہیں پر ہے۔

حضرت سلطان سخی سرور شہید کا شجرہ نسب
حضرت سید احمد سخی سرور لعلاں والا بن سید زین العابدین بن سید عمر بن سید عبدالطیف بن سید شیخار بن سید اسمٰعیل بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن زین العابدین بن حضرت حسین بن حضرت علی۔

مقبرے کےکمرےاور صحن کےبائیں جانب مسجد ہے۔ جس کےتین محراب ہیں، اور کمرے کے ہر کونےمیں آپ کےچار یاروں سخی بادشاہ سید علی شہید، سیدنور شہید، سید عمر شہید اور سید اسحاق شہید کےاسمائےگرامی رقم ہیں۔
مسجد کےبالمقابل مشرقی سمت اونچی سی جگہ پر دو بہت بڑی دیگیں پڑی ہیں جن میں منوں اناج پک سکتا ہےکہتےہیں جب حضرت سخی سرور حیات تھےتو بغیر آگ جلائےان دیگوں میں جو چاہتے پکا لیا کرتےتھے۔
بجانب مغرب جدھر آپ کا چہرہ انور ہے آپ کےچار یاروں کی قبور ہیں۔ حضرت سید علی شہید اور حضرت سیدنور شہید کی پختہ قبریں ایک پہاڑی کی چوٹی پر ہیں جبکہ حضرت سیدعمر شہید اور حضرت اسحاق شہید کی کچی قبور اس کےبالمقابل دوسری پہاڑی کی چوڑی پر ہیں۔ چشم باطن سےدیکھنےوالوں کو یوں احساس ہوتا ہےجیسےآپ اپنےیاروں کی طرف دیکھ رہےہوں۔
حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید کےوالد بزرگوار حضرت زین العابدین سرزمین پاک و ہند تشریف لانےسےقبل بائیس سال سےروضہ رسول اطہر کی خدمت کرتےچلے آ رہے تھے۔ ایک روز سیدالانبیاء وختم المرسلین نےعالم خواب میں ہندوستان جانےکا حکم دیا۔ آپ نےفوراً رخت سفر باندھا اور ضلع شیخوپورہ میں شاہکوٹ میں قیام کیا۔ یہ 520 ہجری (1126ء) کا واقعہ ہے۔ آپ ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتےتھے۔ گزر اوقات کیلئےآپ نےزراعت کےعلاوہ بھیڑ بکریاں بھی پال رکھی تھیں۔ دو سال کےبعد آپ کی اہلیہ محترمہ بی بی ایمنہ جنت الفردوس کو سدھاریں۔ ان کےبطن سےتین لڑکےحضرت سلطان قیصر، حضرت سید محمود اور حضرت سید سہرا تھی۔ شاہکوٹ کا نمبردار پیرا رہان آپ کا مرید تھا۔ اس نےاپنی کھوکھر برادری سےمشورہ کےبعد اپنی بڑی دختر بی بی عائشہ کو آپ کے عقد میں دے دیا۔ ان کےبطن سے524 ہجری (1130ء) میں حضرت سید احمد سلطان پیدا ہوئےاور پھر ان کے بھائی حضرت عبدالغنی المعروف خان جٹی یا خان ڈھوڈا نےجنم لیا۔
آپ بچپن سے ہی بڑے ذہین و فہمیدہ تھے۔ اکثر اوقات اپنے والد مکرم سےشرعی مسائل سیکھتےرہتےتھے۔ ان دنوں لاہور میں مولانا سید محمد اسحاق ظلہ العالی کےعلم و فضل کا بڑا شہرہ تھا۔ آپ کو علوم ظاہری کےزیور سےآراستہ کرنےکیلئےلاہور بھیج دیا گیا۔ حضرت مولانا کی محبت و تربیت و تعلیم کی بدولت آپ ان تمام صلاحیتوں اور صفات سےمتصف ہو گئےجو کسی عالم دین کا خاصہ ہوتی ہیں۔ تحصیل علم کےبعد واپس آکر باپ کا پیشہ اختیار کیا لیکن زیادہ تر وقت یادِ الٰہی میں ہی بسر ہوتا تھا۔ ظاہری علوم کےہم آہنگ علوم باطنی حاصل کرنےکا جذبہ اشتیاق سینےمیں کروٹیں لینےلگا جس میں روزافزوں طغیانی آتی گئی۔ آپ کےوالد محترم نےجب اپنےاس ہونہار بیٹےکا رجحان دیکھا تو اس طرح تربیت فرمانےلگےجیسےمرشد مرید کی تربیت کرتا ہے۔ لیکن دل کی خلش برقرار رہی۔ چاہتےتھےکہ سلوک و معرفت کی راہوں پر گامزن ہوں۔ علم لدنی سےمالامال ہوں اور کسی صاحب حال بزرگ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوں۔
جب 535 ہجری (1141ء) میں آ پ کےوالد گرامی نےرحلت فرمائی اور شاہکوٹ میں ہی مدفن ہوئےتو آپ کےخالہ زاد بھائی ابی۔ جودھا ساون اور مکو نےآپ کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ روزافزوں ان کی چیرہ دستیوں اور زیادتیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ انہوں نے پیرا رہان کی وفات کےبعد زرخیز زمین اپنےپاس رکھ لی اور بنجر ویران اراضی آپ کےحوالےکر دی لیکن اللہ کےکرم سےوہ زرخیز و شاداب ہو گئی تو وہ بڑے نالاں وافسردہ ہوئےاور حسد کی آگ میں جلنےلگے۔ وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتےتھےکہ حیلے بہانے سے آپ کو نقصان پہنچائیں۔
باپ کےوصال کے بعد آپ کی شادی گھنو خاں حاکم ملتان کی بیٹی بی بی بائی سے ہو گئی۔ امراءروساء نےنذرانے پیش کئے۔ جب آپ دلہن کو گھر لائےتو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مائی عائشہ نےگھی کےچراغ جلائےاور خوب خوشیاں منائیں۔ اس پر آپ کےخالہ زاد بھائی سیخ پا ہو گئےاور دل ہی دل میں آپ کو بےعزت کرنےکےمنصوبےبنانےلگے۔ انہوں نےلاگیوں اور بھانڈ میراثیوں کو بہلا پھسلا اور لالچ دےکر بھیجا کہ وہ حضرت سید احمد سلطان کو بدنام و شرمسار کریں اور ترکیب یہ بتائی کہ اگر وہ سیر دے تو وہ سواسیر مانگیں۔ انہوں نےایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنےنیک بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ آپ نےنہ صرف لاگیوں‘ بھانڈوں‘ میراثیوں کو ہی نہیں بلکہ غربا و مساکین اور محتاجوں کو بےشمار دولت جہیز کا سامان اور دیگر اشیاء سے خوب نوازا اس دن سےآپ سخی سرورر‘لکھ داتا‘ مکھی خاں‘ لالانوالہ‘ پیرخانو‘ شیخ راونکور وغیرہ مختلف القابات سےنوازے جانےلگے۔ لیکن سخی سرور کا لقب ان سب پر حاوی ہو گیا۔ آپ کےخالہ زاد بھائی بھلا یہ کب برداشت کر سکتےتھے لہٰذا ان کی آتش حسد و انتقام مزید بھڑک اٹھی۔ اسی اثناء میں آپ کی والدہ محترمہ اور سوتیلے بھائی سید محمود اور سید سہر راہی ملک عدم ہوکر شاہکوٹ میں ہی دفن ہوئےتو آپ دل برداشتہ ہو گئے۔ کسی مردحق کے ہاتھ میں ہاتھ دینےکا جذبہ بڑی شدومد سےبیدار ہو گیا۔ چنانچہ تلاش حق کیلئے آپ بغداد شریف پہنچےجو ان دنوں روحانی علوم کا سرچشمہ تھا۔
آپ نےسلسلہ چشتیہ میں حضرت خواجہ مودود چشتی سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اور سلسلہ قادریہ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ علیہم سےخرقہ خلافت حاصل کیا۔
بغداد شریف سےواپسی پر آپ نےچند دن لاہور میں قیام فرمایا اور پھر وزیرآباد کےقریب سوہدرہ میں دریائےچناب کےکنارے یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ عشق، مشک اور اللہ کےاولیاءکبھی چھپےنہیں رہتے۔ یہ الگ بات ہےکہ عام دنیادار انسان ان کےقریب ہو کر بھی فیضیاب نہ ہو۔ آپ کی بزرگی و ولایت کا چرچا چار دانگ عالم میں ہو گیا۔ ہر وقت لوگوں کا ہجوم ہونےلگا۔ جو بھی حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا تہی دامن و بےمراد نہ لوٹتا۔ آ پکو جو کچھ میسر آتا فوراً راہ خدا میں تقسیم فرما دیتے۔ ہر جگہ لوگ آپ کو سخی سرور اور سختی داتا کےنام نامی اسم گرامی سےیاد کرنےلگے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونےوالےدنیا کےساتھ دین کی دولت سےبھی مالامال ہونےلگے۔ دن بدن آپ کےمحبین، معتقدین اور مریدین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
دھونکل میں بھی آپ نےچند سال قیام فرمایا۔ جہاں آپ نےڈیرہ ڈالا وہ بڑی اجاڑ و ویران جگہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نےاپنےفضل و کرم سےوہاں پانی کا چشمہ جاری فرما دیا۔ مخلوق خدا یہاں بھی جوق درجوق پہنچنےلگی۔ میلوں کی مسافت طےکر کےلوگ آگےاور اپنےدکھوں، غموں اور محرومیوں کےمداوا کے بعد ہنسی خوشی واپس لوٹ جاتےایک دن دھونکل کےنمبردار کا لڑکا مفقود الخبر ہو گیا۔ نمبردار نےحاضر خدمت ہو کر عرض کیا تو ارشاد فرمایا ‘مطمئن رہو شام تک لوٹ آئےگا‘۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
وطن مالوف سےنکلےکئی سال ہو گئےتھے۔ لہٰذا واپس شاہکوٹ تشریف لےگئے۔ اس اثناء میں آپ کی شہرت و بزرگی کےچرچے پورے ہندوستان میں پہنچ چکےتھے۔ سینکڑوں میلوں کا سفر طےکر کےلوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔ آپ کےخالہ زاد بھائیوں کو آپ کی یہ شہرت و مرتبہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنےلئےخطرہ محسوس کرنےلگے۔ لہٰذا ان کی دیرینہ دشمنی پھر عود کر آئی۔
جب خالہ زاد بھائیوں کی عداوت انتہا کو پہنچ گئی تو آپ نقل مکانی فرما کر ڈیرہ غازی خان تشریف لےگئےاور کوہِ سلیمان کےدامن میں نگاہہ کےمقام پر قیام فرمایا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل آپ کا مزار اقدس ہے اور اب سخی سرور کےنام سےمشہور ہے۔ لوگوں کا یہاں بھی اژدہام ہونےلگا۔ ہر مذہب و ملت کےلوگ آپ کےدرِ دولت پر حاضر ہونےلگے۔ کئی ہندو، سکھ اور ان کی عورتیں بھی آپ کےعقیدت مندوں اور معتقدوں میں شامل تھیں جو سلطانی معتقد کہلاتےتھےاور اب بھی پاک و ہند میں موجود ہیں۔
آپ کےارادت مند ‘عقیدت مند‘ معتقد اور مریدین بےشمار تھےلیکن ان میں سےچار اصحاب خاص الخاص تھے۔ یہ چار یاروں کےنام سےمشہور تھے۔ انہیں آپ سے بےحد عشق تھا۔ آپ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔
آپ کےخالہ زاد بھائیوں نےآپ کو یہاں بھی سکھ کا سانس نہ لینےدیا۔ انہوں نےاپنی قوم کےان گنت لوگوں کو آپ سے بدظن کر دیا اور جم غفیر لےکر آپ کو شہید کرنےکیلئے چل پڑے۔ ان دنوں آ پ کےسگے بھائی حضرت سید عبدالغنی المعروف خان ڈھوڈا نگاہہ سے بارہ کوس دور قصبہ ودود میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہتےتھے۔ ان کےخادم نےجب خالہ زاد بھائیوں کےعزائم کےبارے میں اطلاع دی تو تن تنہا ان کےمقابلے پر اتر آئےاور بہتر اشخاص کو حوالہ موت کرنےکےبعد جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کےبعد وہ سب لوگ نگاہہ پہنچے۔ اس وقت حضرت سید احمد سلطان سخی سرور نماز پڑھنےمیں مصروف تھے۔ چند ایک خادم اور چاروں یار موجود تھے۔ نماز سےفراغت کے بعد جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ گھوڑی پر سوار ہو گئے۔ بھائیوں نےحملہ کیا تو آپ نے بھی جنگ شروع کر دی اور یاروں سمیت مقام شہادت سےسرفراز ہوئے۔ دم واپسی آپ نےارشاد فرمایا کہ میرےیاروں کو مجھ سے بلند مقام پر دفن کیا جائے۔ چنانچہ حسب الارشاد ایسا ہی کیا گیا۔
22رجب المرجب 577 ہجری (1181ء) کو تریپن سال کی عمر میں جب آپ کی شہادت ہوئی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچ گئے۔ لاکھوں محبین کےقلوب ورد و غم اور ہجر و فراق سےفگار ہوگئے۔ مختلف محبین و مریدین نےآپ کےمزارِ اقدس کی تعمیر میں وقتاً فوقتاً حصہ لیا لیکن بستی سخی سرور کےمکینوں کےبقول مزار کی عمارت کی تعمیر بادشاہ بابر نےاپنی نگرانی میں کرائی تھی اور اس ضمن میں اس نےایک مہر شدہ دستاویز بھی لکھی تھی۔ مغرب کی جانب ایک بہت بڑا حوض بنوایا تھا تاکہ اس میں پانی جمع رہے۔ مسجد کی محراب کےنیچےاور سطح زمین سےتقریباً پچاس فٹ اونچی بابا گوجر ماشکی سیالکوٹی کی قبر ہے کہتے ہیں کہ آپ پہاڑ پر سے پانی لا کر نمازیوں کو وضو کرایا کرتےتھے۔
حضرت سخی سرور شہید کی یاد میں ہر سال مختلف شہروں میں میلہ لگتا ہے جس میں بےشمار لوگ حصہ لیتے ہیں۔ پشاور میں اسےجھنڈیوں والا میلہ کہتےہیں۔ دھونکل میں جون، جولائی کےمہینےمیں بہت بڑے میلےکا اہتمام ہوتا ہے۔ لاہور میں اسےقدموں اور پار کا میلہ کہا جاتا ہے اور ڈیرہ غازی خان میں آ پ کا عرس گیارہ اپریل کو بڑی دھوم دھام سےمنایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ دور و نزدیک سےشریک ہو کر اپنی محبتوں اور عقیدتوں کے چراغ روشن کرتےاور فیضیاب ہوتےہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش

Posted on 16/02/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

یہ ہے بنگلہ دیش
خبر ملی ہے کہ بنگلہ دیش میں ‘نئے ہنگامی قوانین‘ کے تحت بدعنوان اور سزا یافتہ سیاست دان آنے والے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور مجرم ثابت ہونے پر ان کے اثاثے بھی ضبط کئے جا سکیں گے، جن افراد نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے ان کے انتخاب میں بھی حصہ لینے پر پابندی ہو گی۔ مجسٹرینس آمدنی سے مناسبت نہ رکھنے پر امیدوار کے اثاثے ضبط کر سکیں گے اور ضبط جائیدادوں کی نیلامی سے حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی جائے گی۔
زندہ باد بنگلہ دیش

یہ روشن خیال پاکستان ہے
گو کہ کتابوں میں قوانین موجود ہیں، مگر پورے ملک میں جنگل کا قانون چلتا ہے۔ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی مثل پر پورا پورا عمل کیا جاتا ہے۔
چند مہینوں بعد یہاں الیکشن کی آمد آمد ہے، اس میں حصہ لینے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، چاہے کوئی شرابی ہو، جواری ہو، زانی ہو، چور، ڈاکو یا لٹیرا ہو، جیل کے اندر ہو یا باہر، پاکستانی ہو یا نہ ہو کوئی پرواہ نہیں مگر گریجوائٹ ہونا لازمی شرط ہے۔ آپ کی یہ ڈگریاں اصلی ہیں تو پھر ٹھیک ہے اگر نہیں بھی ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے لئے آپ کو صرف حکومتی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔
آپ پر لوٹ مار، غبن، کرپشن اور اس جیسے دیگر الزامات ہیں، نیب آپ کے پیچھے ہے تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، آپ آج ہی حکومتی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیں آپ کے تمام پاپ ایسے دھل کر صاف ہو جائیں گے جیسے صرف ایکسل سے دھلنے کے بعد کپڑا ہوتا ہے اجلا اور صاف بالکل نیا۔
یہ ہے پاکستان
جی،
جی ہاں مشرف کا پاکستان
روشن خیال پاکستان
سب سے پہلے پاکستان

پاکستان بنگلہ دیش سے کچھ تو سبق حاصل کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مستقبل کا ترانہ

Posted on 12/02/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...