Archive for مارچ, 2007

تو کجا من کجا

Posted on 24/03/2007. Filed under: اسلام, شعروادب |

 

 

 

ذکر خدا کرے، ذکرمصطٰفیٓ ﷺ نہ کرے

میرے منہ میں ہو ایسی زباں، خدا نہ کرے

 

میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں

کہ میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت

 

 

تو کجا من کجا

 

تو امیر حرم، میں فقیرعجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا

تو ہے احرام انور باندھے ہوئے
میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے
کعبہ عشق تو، میں تیرے چار سو
تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا

 

میرا ہر سانس تو خوں نچوڑے میرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے میرا
کاسہ ذات ہوں، تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا، تو کجا من کجا

 

تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
تو سمندر ہے میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری رہگزر
سدراۃ المنتحا، تو کجا من کجا

 

ڈگمگاٰوں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی، میں تیرا امتی
تو جزا میں رضا، تو کجا من کجا

 

دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنیں لگیں
آنسوؤں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے سدا، تو کجا من کجا

 

تو امیر حرم، میں فقیرعجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ھی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا
تو کجا من کجا
تو کجا من کجا

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

میرے مطابق… مشورہ

Posted on 21/03/2007. Filed under: سیاست |

اور یہ بھی المیہ رہا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان۔۔۔جب عشرہ ترقی کے جشن پر قومی وسائل لٹا رہے تھے تو عوام میں ان کے خلاف۔۔۔ایک آتش فشاں پھٹنے کو تیار ہورہاتھا۔۔۔!!! وہ جن درآمد شدہ اقتصادی ماہرین کی لفاظی اور ان کے معاشی فلسفے کے سحر میں کھوکر۔۔۔اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے۔۔۔۔قوم کو بہلا رہے تھے تو ملک شدید طبقاتی تضادات کا شکار ہوچکا تھا! وہ جس صنعتی تعمیر کو اپنا کارنامہ گردان رہے تھے۔ ۔۔ وہ بدعنوانی کی نئی داستانیں بن کر سامنے آرہی تھیں اور وہ مشرقی پاکستان میں جب ترقیاتی کارناموں پر فخر کررہے تھے تو ملک دو لخت ہونے کی طرف بڑھ رہا تھا !!! اور تبھی ان کے خلاف جب گلی محلوں میں نعرے لگنا شروع ہوئے تو یہ سمجھنا ان کیلئے دشوار تھا کہ۔۔۔اس احتجاج کا آخر جواز کیا ہے؟؟؟ فیلڈ مارشل کو اپنے دور اقتدار کے وہ ابتدائی دن یاد تھے جب عوام کی اکثریت ۔۔۔برسہا برس سے ناکام اور بدعنوان سیاستدانوں کی باہمی کشمکش اور اقتدار کے لئے ان کی سازشوں سے بیزار ہوکر ۔۔۔انہیں خوش آمدید کہا کرتی ۔۔۔تھی!!! ملکی پیداوار میں اضافے کے اعلان سن کر۔۔۔عش عش کیا کرتی اور ان کے وضع کردہ نظام حکومت میں بھرپور شریک بھی تھی!!! آخری تین برسوں میں فیلڈ مارشل کے لئے نئے محاذ کھلتے چلے گئے!!! وہ امریکا جو 1958 میں ایوب خان کو اقتدار تک لانے میں معاون تھا اور جس کی نوازشات کی بارش کئی برس ان پر حاوی رہی۔۔۔اب انہیں ہٹانے کے لئے فعال تھا!!! اور بدقسمتی سے ہماری تاریخ کے ہر حکمراں کی طرح۔۔۔ایوب خان بھی ایک ایسے نظام کے تابع ہوچکے تھے جہاں آنکھیں تو ہوتی ہیں۔۔۔بینائی نہیں ہواکرتی!! کان ہوتے ہیں سماعت نہیں ہوتی!! دماغ تو ہوتا ہے فراست نہیں اور اختیار تو ہوتا ہے لیکن وہ اسکے مناسب استعمال سے قاصر ہوتے چلے جاتے ہیں!! اقتدار کے ایوانوں میں۔۔۔خوشگفتار مکڑیاں ۔۔۔ہر لمحہ ایسے جال بنتی رہتی ہیں۔۔۔جن کے سوتے ۔۔۔صرف خوشامد سے ہی پھوٹتے ہیں اور وہ وقت مقررہ پر۔۔۔حکمرانوں کی شعوری کوشش نہ ہونے کے باوجود ۔۔۔ان سے کوئی ایسا فیصلہ ضرور صادر کروادیتی ہیں۔ جو انہیں ۔۔۔زوال کی اتھا ہ گہرائیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے!!! اور یہ جملہ میں نے پچھلی تحریر میں بھی لکھا تھا کہ "آپ کی اصل طاقت ۔۔۔وہ ہوا کرتی ہے ، جو آپ استعمال نہیں کرتے۔۔۔اور وہ مشورے ہوتے ہیں ، جنہیں آپ رد کردیا کرتے ہیں۔۔۔!!!” ایوب خان کے خلاف جب بین الاقوامی طاقتوں نے اپنا محاذ بنایا تو سول اور ملٹری establishment کو بھی اس سے باخبر کردیا گیا تاکہ انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی رہے۔۔۔!!! تبھی ان کے نامزد وزیر دفاع اے آر خان نے 19 مارچ 1969 کو ان کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کہ سنائی اور انہی کے نامزد فوجی سربراہ جنرل آغا محمد یحیٰ خان نے چھ روز بعد انہیں معزول کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا !!! عجب معاملہ یہ رہا کہ برطرفی سے کئی برس پہلے ۔۔۔1965 کی جنگ کے دوران ہی ایوب خان کو اس بات کا اندازہ ہوچکاتھا کہ امریکا انکے ساتھ ہاتھ کرگیا ہے۔ کیونکہ ایک طرف انہیں اشارہ تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر آزاد کرواکر تاریخ میں امر ہوسکتے ہیں تو دوسری طرف بھارتی قیادت کو بھی مشورہ تھا کہ جوابا” مغربی پاکستان پر حملہ آور ہوجاؤ او ر یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مجیب الرحمان کے دو قابل اعتماد ساتھیوں ، تاج الدین اور روح القدس نے "چھ نکات” ، کن دستاویزات اور ہدایات کی روشنی میں تیار کئے تھے۔۔۔اور جن کے اعلان پر 5 فروری 1966کو سیاسی جماعتوں کے کنونشن میں موجود 99 فیصد سیاستدان حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ ۔۔!!! اور پھر آئندہ چند برسوں میں رقم ہوتی تاریخ کے المناک باب۔۔۔آج بھی جیسے خون رس رہے ہیں!!!
برسہا برس بعد کے موجودہ حالات بڑی حد تک مختلف ضرور ہیں لیکن بہرحال یہ ضرور طے ہے کہ امریکا۔۔۔اگر صدر مشرف سے کئی امور پر خوش تو کئی پر۔۔۔ناخوش بھی ہے!!! خوشی کے اشاروں میں ۔۔۔جلا وطن سیاسی قیادے کا وطن لوٹ کر۔۔۔کسی تحریک کو منظم نہ کرنا۔۔۔بلوچستان پر خاموشی۔۔۔جمہوری اور سیاسی عمل پر محض بیانات۔۔۔اور بھارت کی طرف سے ہمارے لئے دوستی کا ہاتھ وغیرہ سمجھے جاسکتے ہیں۔۔۔لیکن ان کے عوض ۔۔افغانستان کی بدتر ہوتی صورتحال میں پاکستان کے موجودہ کردار سے مطمئن نہیں۔۔۔!!! ایران کے ساتھ اگر امریکا کی محاذ آرائی ۔۔۔ٹل جاتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے دروازے کھلتے ہیں تو یہ پاکستان پر مزید دباؤ کا سبب ہوگا کیونکہ ایران۔۔۔”افغانستان” اور” عراق” کی دلدل میں پھنسے امریکا کی بھرپور مدد کے عوض مراعات حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں آرہا ہے۔۔۔اور ایک بہترین خارجہ پالیسی کے باعث اگر صدر احمدی نژاد ۔۔۔کا اب امریکی ویزے کے حصول کے بعد ۔۔۔اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب۔۔۔خلیج میں ایک نئے معرکے کو تو ٹالتا نظر آرہاہے۔۔۔لیکن جیساکہ پہلے عرض کیا کہ یہ پاکستان پر مزید دباؤ کا سبب بننے جارہا ہے !! اور اس امر یکہ ایران مفاہمت کی کوششوں اور سعودی عرب کے تعاون سے ترتیب پاتی نئی فلسطینی حکومت جہاں امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل میں موجود Elliot Abrams جیسے انتہا پسندوں کو پریشان کررہی ہے۔ ۔۔وہاں یہ تمام انتہا پسند قوتیں ۔۔۔خود افغانستان اور شمالی قبائیلی علاقوں میں صدر مشرف کے کردار پر بھی مطمئن نہیں!! چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ ۔۔۔اس محاذ کے بندہونے کی صورت میں واشنگٹن کے تیور اسلام آباد کے لئے مزید بگڑیں گے !!!
"میرے مطابق” ملک کا موجودہ بحران ۔۔براہ راست نہ سہی ۔۔۔لیکن کسی نہ کسی حد تک اس دباؤ کی ابتدا ضرور ہے۔۔جس کا اشارہ حکومت میں شامل کئی اہم شخصیات کا اس بحران کے دوران خود کو لاتعلق کرلینا ہے!!! صدر مشرف نے درست کہا کہ تمام تر غلط اقدامات کی ذمہ داری ان پر ڈالنا۔۔۔غلط ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ جہاں تمام تر قوت کا ارتکاز بھی صدر ہی کی ذات تک ہے۔۔وہاں انہیں اس الزام کے لئے بھی تیار رہنا چاہئیے۔!!! انہیں یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے ان کے اردگرد جمع سیاسی مشیران گرامی۔۔۔انہیں اس "نظام” کا دیا ہوا تحفہ ہیں۔۔ان کے وفادار دوست نہیں!!! یہ سب پہلے کسی اور کے جانثار تھے اور آئندہ کسی اور کے حاشیہ بردار ہوسکتے ہیں۔۔۔ان میں اکثریت کی خاموشی اور ہچکچاہٹ ۔۔۔۔وہ اشارہ ہے جو صدر مشرف کو سمجھنا چاہئیے !!! امریکا کو چیف جسٹس یا انتخابات کے شفاف ہونے سے نہیں۔۔۔افغانستان سے دلچسپی ہے۔۔۔۔!!! وہ آپ کو بہت کچھ دے کر جوابا” آپ سے اس سپردگی کا متقاضی ہے ، جس سے آپ کو ہچکچاہٹ ہے۔۔۔خارجی اور داخلی، دونوں طرف دباؤ بڑھنے جارہا ہے۔۔۔اور وہ پرکشش سیاسی نقشہ ۔۔۔جس کے مطابق صدر مشرف کو اگلے کچھ عرصے میں موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہوکر ۔۔انہیں توڑ کر نئی پارلیمنٹ کا انتخاب اور پھر اس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔۔۔ابھی سے عدلیہ کے حالیہ بحران اور قانونی موشگافیوں کی نذر ہوچکا ہے۔۔۔!! بے نظیر بھٹو۔۔۔خود کو بہتر ڈیل کی پوزیشن میں لارہی ہیں۔۔۔وہ براہ راست صدر مشرف کے استعفیٰ اور وطن واپسی کے بجائے۔۔۔صرف یہ پیغام دے رہی ہیں کہ۔۔طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت کے خلاف۔۔ان کی شمولیت کے بغیر فتح ناممکن ہے!!!
شراکت اقتدار۔۔۔!!! اور ان قوتوں سے خود کو الگ رکھ رہی ہیں جو اس وقت واشنگٹن میں بہت زیادہ قابل قبول نہیں!!! دلچسپ بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کو پچھلے دنوں دبئی عین تب پہنچنا تھا ۔۔۔جب یہاں سے محترمہ کی فلائیٹ امریکا کے لئیے روانہ ہوچکی ہوتی !!! ہیتھرو ائیرپورٹ پر غیر متوقع ہڑتال کے باعث ۔۔۔پروازیں اس طرح تاخیر کا شکار ہوئیں کہ دونوں سابق وزرائے اعظم گھنٹوں تک دبئی میں موجود رہے لیکن ایک دوسرے سے گفتگو سے پرہیز کیا!! اور شاید یہ بات بھی قاریئن کے لئے دلچسپی کاامر ہوکہ شہباز شریف اور اسحٰق ڈار سمیت دیگر کئی رہنماؤں کے برعکس میاں نواز شریف کو امریکا کا ویزا نہیں مل سکا!!! اسفندیار ولی خان کی یہاں محترمہ سے ملاقات بھی اہم ہے اور وہ بڑی حد تک محترمہ کے موجودہ حالات میں نظریاتی حلیف ہیں۔۔۔اور صدر مشرف کے کئی قریبی ساتھی بھی۔۔مسلم لیگ” ق ” پر تکیہ کئے جانے کے بجائے محترمہ سے مفاہمت کے لئے کوشاں ہیں اور ان ٹریک ٹو مذاکرات کے لئے گذشتہ کئی ماہ سے لندن اور اسلام آباد سے دبئی آتی پروازوں میں مسافروں کی فہرست بڑی دلچسپ ہے!!! محترمہ بہر صورت انتخابات سے پہلے وطن واپسی پر اصرار کررہی ہیں اور انہوں نے بلاول اور بختاور دونوں کو امریکا کی اہم درسگاہوں میں داخل کروادیا ہے جبکہ چھوٹی آصفہ انہی کے ساتھ رہے گی۔۔۔!!! فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ بلی چوہے کے اس کھیل میں کیا نقشہ ابھرے گا تاہم یہ طے ہے کہ اگلے چند ماہ ۔۔کسی بھی طور ۔۔پرسکون ۔۔۔گزرنے کے امکانات یوں معدوم ہیں کہ ۔۔یہ انتخابات کا سال ہے!!! ان انتخابات کا۔۔جن کی تیاری ابھی سے ڈرائنگ روموں۔۔کئی دارالحکومتوں ۔۔۔اور سڑکوں پر شروع ہوچکی ہے۔۔۔۔یہ طے ہے کہ establishment محترمہ کو ان کی شرائط پر واپس نہیں آنے دے گی۔۔۔اور دینی ، سیاسی جماعتوں اور مسلم لیگ نواز شریف کو ان پر کہیں زیادہ فوقیت دے گی۔۔۔صدارتی انتخابات۔۔اور انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ۔۔۔چیف جسٹس کے خلاف ۔۔۔ریفرنس طویل سماعتی مراحل سے گذرے گا۔۔۔ہر ہر لمحے پر establishment۔۔۔سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور غیر ملکی قوتیں اپنا اپنا کھیل کھیلیں گی؟؟؟ صدر اپنے اس بیا ن پر خود کہاں تک متفق ہیں کہ یہ تمام احتجاج سیاسی جماعتیں کررہی ہیں۔۔۔!! میں اس نقطہ نظر سے شدید اختلاف کرتا ہوا صرف یہ عرض کروں گا کہ سیاسی جماعتیں اس بحران کو مستقبل میں کوئی شکل شاید دے سکیں۔۔لیکن اس وقت وہ بڑی حد تک آپ کے ہم رکاب ہیں !!! صدر مشرف کے لئے اگلے چند ماہ اہم ہیں؟؟؟ فیصلہ وہ کیا کریں گے۔۔۔یہ وقت ہی بتائے گا۔۔۔لیکن۔۔۔وہ مشورہ ایک بار پھر کہ۔۔۔” آپ کو دئیے گئے کئی مشورے رد کردینا ہی اس وقت آپ کی طاقت ہوگا۔۔۔” چاہیں تو۔۔۔وہ اس مشورے کو بھی رد کردیں۔۔

میرے مطابق…ڈاکٹر شاہد مسعود روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شیدا بمقابلہ بش

Posted on 10/03/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان, سیاست, طنز و مزاح |

شیدا کا جارج بش کے خلاف اعلان جنگ

جارج بش اپنے آفس میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ اب کس ملک پر چڑھائی کی جائے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی

“ہیلو مسٹر بش” ایک بھاری لہجے والی آواز سنائی دی۔ “میں شیدا بول رہا ہوں ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان، پاکستان سے، میں نے تمہیں اس لئے فون کیا ہے کہ ہم تمہارے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں۔ ہوشیار رہنا“

“خیر، شیدا” بش نے جواب دیا “یہ واقعی بہت اہم خبر ہے۔ آپ کی فوج کتنی بڑی ہے؟”

“اس وقت ہمارے پاس” شیدے نے کچھ دیر تک کی گنتی کے بعد کہا ” میں، میرا کزن بشیرا، میرا ہمسایہ کرم دین اور ہمارے ضلع کی پوری کبڈی ٹیم ہمارے ساتھ ہے۔ ہم مل ملا کر کوئی آٹھ افراد ہوتے ہیں۔”

بش نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا “لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرے پاس دس لاکھ افراد کی فوج ہے اور وہ میرے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔”

“جہنم میں جاؤ” شیدا بولا۔ “چلو میں تمہیں کل فون کروں گا”

اگلے دن واقعی شیدے نے پھر فون کیا

“مسٹر بش، میں شیدا، ڈیرہ غازی خان سے بول رہا ہوں۔ ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ ہم نے کچھ مزید ہتھیار بردار مشینری بھی اکٹھی کر لی ہے”

“ہممم، تو آپ کون سی ہتھیار بردار مشینری اکٹھی کی ہے؟” بش نے پوچھا۔

“ہمارے پاس دو کمبائنڈ ہارویسٹر، ایک گدھا اور امجد کا ٹریکٹر ہے۔”

بش نے آہ بھری۔ “میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے پاس کوئی سولہ ہزار ٹینک اور چودہ ہزار ہتھیار بند گاڑیاں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی کل والی دھمکی کے بعد میں نے اپنی فوج کو بڑھا کر پندرہ لاکھ کر دیا ہے”

“اوہ تیری (سنسر)” شیدا بولا۔ “میں پھر فون کرتا ہوں۔”

اگلے دن واقعی شیدے نے پھر فون کیا۔ “مسٹر بش، ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ اب ہم نے فضائی جنگ کی تیاری بھی کر لی ہے۔ ہم نے امجد کے ٹریکٹر پر دو بندوقیں فٹ کر لی ہیں اور پنڈ کے جنریٹر پر، پر لگا دیئے ہیں۔ مظفر گڑھ سے چار مزید لڑکے بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں”

بش نے کچھ دیر تک سوچا، پھر اپنا گلا صاف کیا اور بولا۔ “شاید آپ کو علم نہ ہو کہ میرے پاس دس ہزار بمبار اور بیس ہزار لڑاکا طیارے ہیں۔ ہمارے مراکز لیزر گائیڈڈ زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائلوں سے کور ہیں۔ سابقہ بات چیت کے بعد میں نے اپنی فوج کی تعداد بیس لاکھ کر دی ہے۔”

“تیرا بھلا ہو۔۔۔” شیدا بولا۔ “میں پھر فون کرتا ہوں”

اگلے دن شیدے نے پھر اسی وقت فون کیا۔ “کیسے ہو مسٹر بش؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم جنگ کو ختم کر رہے ہیں۔”

“مجھے بھی بہت افسوس ہوا سن کر۔ لیکن آپ کا ارادہ اتنا اچانک کیسے بدلا؟”

خیر۔۔۔” شیدا بولا “کل ہم دوستوں نے اپنی اس فون والی بات چیت پر لمبی بحث کی اور آخر کار یہ نتیجہ نکالا کہ ہم بیس لاکھ جنگی قیدیوں کو کھلانا پلانا ایفورڈ نہیں کر سکیں گے۔

پاکستانی انگلش بلاگ لنک

اردو ترجمہ ۔ منصور قیصرانی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تمھاری یاد

Posted on 03/03/2007. Filed under: شعروادب |

پرندے لوٹتےدیکھے، تو یہ دھوکا ہوا مجھ کو
کہ شاید جستجو میری،
یا کوئی آرزو میری،
ترے در سے پلٹ آئی
مجھے تنہا بیاباں سےگزرتےلگ رہا ہے ڈر
جدائی کےشجر کی اب حفاظت بس سے باہر ہے
یہ پانی آنکھ سےگرتا،
اگر سیلاب ہو جائے
یہ پیلی دھوپ، مہکی رُت،
سراب و خواب ہوجائے
تو پھر اس تشنہ روش میں ،
پھوٹتی کلیوں کےسب نغمے
سنانےکوترستی خواہشیں، ناکام ٹہریں گی
مثالِ رفتگاں ، جاتے ہوئے مہکے ہوئے لمحے
خزاں کے زرد پتوں کے لئے ہی قرض لےآؤ
مسلسل جو اُداسی پر اداسی،
یوں برستی ہے
کہیں مرجھا نہ دے، سرسبز اس شاخِ محبت کو
تعلق کی بھی میری جان ، اک میعاد ہوتی ہے
پھر اس کےبعد،
ہر بندھن سےجان آزاد ہوتی ہے
خزاں کی جیت سے پہلی
ذرا یہ دھیان کرلینا
کہ سینےمیں، مرا دل ہے۔۔۔
فقط اِک پھول !!!

تمہاری یاد
سونی سونی، خالی خالی
اک سرمئی حویلی میں
راگ۔۔۔
ستار نےچھیڑا ہے
اک جلتی مشعل لےکر ۔شب ۔ ملنےکو آئی ہے
فانوسوں کی چھن چھن ،چھن میں
جھلمل جھلمل ،چاندنی پر
رقص ، ہوا کا جاری ہے
سوکھی چنبیلی کی اک بیل
خستہ ستون سےلپٹی ہے
اور، تھرکتی لَو کا رنگ۔لےکر لاکھوں ننھےدیپ
دل کےطاق پہ جل اُٹھےہیں
آئی جیسے۔۔۔
تمہاری یاد۔۔۔!!!

فرزانہ نیناں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

کون کتنا امیر ہے۔

Posted on 01/03/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اراکین پارلیمنٹ کے سالانہ اثاثوں کے گوشواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ 1234صفحات پر مشتمل نوٹیفکیشن میں قومی اسمبلی کے 342 اراکین کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کی گئی ہیں جس میں کئی دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق

ساابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی
ایک کروڑ 12لاکھ روپے کے اثاثے ہیں۔

وزیر تجارت ہمایوں اختر خان
اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 28 لاکھ 44ہزار 424 روپے ہے۔ جبکہ ان کے پاس 53 لاکھ روپے نقد اور 5لاکھ روپے کا فرنیچر ہے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین اور ان کی اہلیہ
کے اثاثوں کی مالیت ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

سابق صدر سردار فاروق احمد لغاری
24 کروڑ روپے کے ذاتی اثاثے ہیں۔

این اے۔ 2 پشاور سے ایم ایم اے کے رکن مولانا رحمت اللہ خلیل مشترکہ خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اسلئے کوئی جائیداد اور اثاثے ان کے نام پر نہیں ہیں۔

ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد
بینک اکاؤنٹس میں 18,44,438 روپے ہیں۔ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 92 ڈالر بھی ہیں 2لاکھ روپے ان کے پاس ہیں ایک لاکھ روپے کا گھر میں فرنیچر ہے اور 16 لاکھ روپے کے نیو پاپولر ایکس رے کلینک پشاور میں 5/1 حصص ہیں۔ ان کے اثاثوں میں پولاشی روڈ پشاور میں 2کنال کا ایک کروڑ روپے مالیت کا مکان جہانگیرہ میں 10 لاکھ روپے مالیت کی 50ایکڑ زرعی زمین کا 11/1 حصہ جہانگیرہ میں دریائے سندھ کے کنارے 10 لاکھ روپے مالیت کی 52 کنال زمین، کوئٹہ میں 3 لاکھ روپے مالیت کا فلیٹ 50 تولہ جیولری شامل ہیں۔

این اے 6نوشہرہ سے مولانا حامد الحق حقانی
کے پاس کل 10 لاکھ 30 ہزار 211روپے کے اثاثے ہیں ان کے بینک اکاؤنٹ میں 6,30,211 روپے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ
کے چار بینک اکاؤنٹس میں 24,66,937 روپے ہیں جبکہ ان کے دیگر اثاثوں کی مالیت 1,53,73,830 روپے ہے جس میں یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں 8,20,000 روپے مالیت کا مکان حیات آباد پشاور میں 23,22,000 روپے مالیت کا 4کنال کا پلاٹ، 60ہزار روپے کے جواہرات، 45,16,800 مالیت کی زرعی اراضی، 47,19,600 روپے مالیت کے امریکی ڈالرز سرٹیفکیٹ 21,35,430 روپے ان کے پاس ہیں جبکہ 8 لاکھ روپے کی ٹویوٹا کرولا کار ان کے پاس ہے۔

شجاع الملک ایم این اے
8 لاکھ 75ہزار روپے مالیت کی کرولا کار رکھنے والے کے بینک اکاوئنٹ میں 28 ہزار روپے اور 50 ہزار روپے کے فرنیچر کے علاوہ کوئی اثاثہ نہیں ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل امان اللہ خان جدون
کے پاس 3ہزار روپے کا فرنیچر ہے ان کے بینک اکاؤنٹ میں 35,46,235 روپے ہیں۔ 32تولہ سونا جس کی مالیت انہوں نے 6,400 روپے بتائی ہے انہوں نے خیبر ٹیکسٹائل میں 30,850 اور دوسرے ٹیکسٹائل یونٹ میں 25,200 روپے اور فرنٹیئر پولٹری میں 8 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب
کے اثاثوں میں 35لاکھ روپے کی موروثی زرعی اراضی 10لاکھ روپے کی سرمایہ کاری اور 1لاکھ 75 ہزار روپے بینک اکاؤنٹ میں شامل ہیں۔

وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان
کے ذمے 6کروڑ 11 لاکھ 66ہزار 66روپے کے بقایا جات ہیں ان کے پاس کوئی جیولری نہیں ہے تاہم ان کی زرعی اراضی کی مالیت 2,05,86,806 روپے ہے جبکہ ان کے دیگر جائیدادوں کی مالیت 2,75,00,000 روپے ہے انہوں نے 1,58,32,931 روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ان کے 8 بینک اکاؤنٹس میں 17,44,998 روپے موجود ہیں۔

سردار شاہ جہاں یوسف
کے پاس 2,10,000 روپے مالیت کا 15 تولے سونا، 4لاکھ روپے کی پراپرٹی اور ڈیڑھ لاکھ روپے بینک میں ہیں۔

مولانا عبدالحلیم (این اے 32کوہستان)
کے پاس 8 کروڑ 80 لاکھ 50ہزار روپے کے اثاثے ہیں جس میں 7 مکان 3دکانیں، زرعی اراضی اور جنگلات شامل ہیں۔

قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن
کے اثاثوں کی کل مالیت 30لاکھ 53 ہزار روپے ہے جس میں 26 لاکھ روپے کے مکان اور ایک پلاٹ، 4لاکھ روپے کے زیورات 3ہزار روپے کا بینک اکاؤنٹ اور 50ہزار روپے کا فرنیچر شامل ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن (این اے 25)
3 لاکھ 20ہزار روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

سید نصیب علی شاہ (این اے 26)
متحدہ عرب امارات میں کام اور ملازمت کی وجہ سے 8 ہزار درہم ماہانہ اور پک اپ کا کرایہ 25 ہزار ریال ملتے ہیں انکے ذمے 40 لاکھ روپے کا قرضہ ہے ان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 1,01,738 ڈالر اور دوسرے اکاؤنٹ میں 747 پونڈ ہیں ان کے اور زیر کفالت افراد کے اثاثوں میں 34مختلف مقامات پر پلاٹ، زمینیں اور مکان شامل ہیں۔

وزیر سیاسی امور اور مسلم لیگ صوبہ سرحد کے صدر انجینئر امیر مقام (این اے 31)
کے پاس 7,85,20,000 مالیت کے اثاثے ہیں جس میں حیات آباد پشاور میں ڈیڑھ کروڑ مالیت کے 4 بنگلے بھی شامل ہیں ان کے پاس 89 لاکھ روپے ایک بلڈوزر 2روڈ رولر، ایک بلڈوزر، 4ٹریکٹرز 3 ٹرک ، دو جیپیں اور 4پک اپ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2,98,57,974 روپے ان کے اکاؤنٹس میں ہیں۔

سید بختیار معانی (این اے 35 )
والد صاحب کے ساتھ رہتے ہیں ان کا سب کچھ مال جائیداد وغیرہ والد کے نام ہیں۔

وفاقی وزیر ثقافت ڈاکٹر غازی گلاب جمال (این اے 39)
کے پاس بیشتر مورثی جائیداد ہے۔

محمد نور الحق قادری (این اے 45۔ فاٹا)
کے اثاثوں کی مالین 1,83,66676 روپے ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایم ایم اے کے رکن میاں محمد اسلم
کے اثاثوں کی مالیت 46,9867,669 روپے ہے ۔

اسلام آباد سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے سید نیر حسین بخاری
کے سابقہ اثاثوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف
کے زیر ملکیت اثاثوں میں 4 کروڑ روپے مالیت کا ایک مکان، ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی بلیو ایریا میں دکان اور ایک کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت زمین اور پلاٹ ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان
کے زیر ملکیت اثاثوں میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کا فارم ہاؤس 61,88,000 کا مکان، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں 3 پلاٹ شامل ہیں اور 5 لاکھ 12 ہزار 950 روپے کے اثاثے ان کے بچوں کے نام ہیں۔

محنت،افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر غلام سرور خان (این اے 53)
کے پاس 1,75,50,000 روپے مالیت کے پلاٹ بزنس اور جائیدادیں ہیں ان کے پاس 65 لاکھ روپے کی مرسڈیز اور 47 لاکھ روپے کی پجیرو گاڑیاں بھی ہیں اور 2,04,67,418 روپے ان کے بینک اکاؤنٹ میں ہیں۔

پیپلز پارٹی کے راولپنڈی سے ایم این اے زمرد خان
کے پاس 5 لاکھ روپے بینک میں اور 2 لاکھ روپے کے فرنیچر کے علاوہ کوئی اثاثہ نہیں ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد (این اے 55)
کے پاس 58,50,500 روپے کے اثاثے ہیں جن میں راولپنڈی میں 10,50,000 روپے مالیت کی الرشید مارکیٹ (D-267) فتح جنگ میں 38,28,000 روپے مالیت کی زرعی اراضی 8,00,000 مالیت کا مکان ، فارم شیڈ وغیرہ اور 1,72500 کی ٹریکٹر ٹرالی شامل ہیں۔

راولپنڈی سے ایم ایم اے کے رکن محمد حنیف عباسی
کی زیر ملکیت اثاثوں کی مالیت 1,71,44825 روپے ۔

ماحول کے وزیر مملکت ملک محمد امین اسلم (این اے 59)
کے اثاثوں کی مالیت 1,81,92,400 روپے ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ملک اللہ یار خان
کے پاس 4146 کنال 10 مرلے زمین ہے۔

وزیراعظم شوکت عزیز
جو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 اٹک سے نمائندگی کر رہے ہیں کے پاس کراچی ڈیفنس میں ایک گھر ہے جس کی مالیت 4 کروڑ روپے ہے ڈیفنس فیز VI میں 2 کروڑ روپے کا پلاٹ ان کی زیر ملیکت ہے اس کے علاوہ اسلام آباد چک شہزاد میں 6 کروڑ روپے کا زرعی پلاٹ اور نیشنل پولیس فاؤنڈیشن E-11 اسلام آباد میں 2 پلاٹ جن کی مجموعی مالیت 2 کروڑ 75 لاکھ روپے ہے۔ ان کے نام پر ہیں اس کے علاوہ لندن میں 10 لاکھ پونڈ مالیت کا ایک اپارٹمنٹ اور 27 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کا نیو یارک سٹی میں ایک اپارٹمنٹ بھی ان کے پاس ہے ۔ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک ان کا کوئی بزنس نہیں ہے ۔ 2005-06 کے دوران انہوں نے اپنے اثاثوں سے 1,25,000 ڈالرز باہر سے منگوائے 6 لاکھ روپے کی ہنڈا سوک کار ان کے پاس ہے اس کے علاوہ 30 لاکھ روپے کی جیولری کے مالک ہیں ۔ حبیب بینک کے ایک اکاؤنٹ میں 15,18,560 روپے سٹی بینک میں 10,43,076 روپے اور سٹی بینک کے ایک اور اکاؤنٹ میں 762 ڈالرز جمع ہیں۔ لندن میں ان کی سیونگز کی مالیت 5,91,206 پونڈز اور نیو یارک میں سیونگز کی مالیت 11,19,230 امریکی ڈالرز ہیں۔ 5 لاکھ روپے کا فرنیچر اور ذاتی استعمال کی اشیاء ان کے پاس ہیں۔

امور کشمیر اورشمالی علاقوں کے وفاقی وزیر میجر (ر) طاہر اقبال
کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے تاہم ان کے پاس اسلام آباد لاہور، راولپنڈی، کراچی ، جہلم میں 11 پلاٹ ہیں جن کی مالیت 96,50,000 روپے بتائی گئی ہے۔ حطار میں 6 لاکھ روپے کا ایک وائر کمپنی میں بزنس ہے۔

بہبود آبادی کے وفاقی وزیر چوہدری شہبازحسین (این اے 62)
کا سعودی عرب میں ساڑھے تین کروڑ روپے کا ریسٹورینٹ ہے اور لیوٹن برطانیہ میں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے کا مکان بھی ان کی زیر ملکیت ہے۔

ہارون احسان پراچہ (این اے 64)
کے پاس 4,84,26,533 روپے کے اسلام آباد میں 17 لاہور میں 2 اور 2 گوادر میں پلاٹ ہیں اس کے علاوہ سرگودھا میں 1,12,38,800 روپے مالیت کی زمینیں ہیں 3,50,31886 روپے کے مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں میں ان کے شیڈز ہیں ۔

چوہدری انور علی چیمہ (این اے 67)
کے اثاثوں کی مالیت 4,15,00,000 روپے ہے۔
ترقی نسواں کی وفاقی وزیر سمیرا ملک کے اثاثوں کی مالیت ساڑھے بارہ کروڑ روپے ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان
کے پاس 3 کروڑ 45 لاکھ 45 ہزار 769 روپے کے اثاثے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے باہر اپنی کوئی جائیداد وغیرہ نہیں بنائی اور نہ ہی کوئی سرمایہ کاری ظاہر کی ہے۔ اسلام آباد تلہاڑ میں انہوں نے 39 کنال 9 مرلے کی زرعی زمین کی قیمت 8 لاکھ 30 ہزار روپے ظاہر کی ہے موہڑہ نور اسلام آباد میں انہیں 300 کنال زمین تحفہ میں دی گئی اور میاں چنوں میں 530 کنال زمین کی قیمت 50 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی
کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے تاہم ان کے اثاثوں کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف وصی ظفر (این اے 76)
کے پاس 2 کروڑ 35 لاکھ 93 ہزار روپے کے اثاثے ہیں۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے وفاقی وزیر مشتاق چیمہ (این اے۔83)
کے اثاثے 6 کروڑ 81 لاکھ 70 ہزار 482 روپے مالیت کے ہیں۔

یوتھ افیئرز کی وزیر مملکت غلام بی بی بھروانہ (این اے 87)
کے پاس بھی کوئی گاڑی نہیں ہے تاہم ان کے پاس 3 کروڑ 36 لاکھ روپے کے اثاثے ہیں۔

ماحولیات کے وفاقی وزیر مخدوم سید فیصل صالح حیات (این اے 88)
کے اثاثوں کی مالیت چار کروڑ روپے ظاہر کی گئی ہے۔

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ (این اے 101 )
کے پاس 9 کروڑ 94 لاکھ 95 ہزار 583 روپے کے اثاثے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین (این اے 105)
کے اثاثوں میں اسلام آباد کے مکان کا نصف حصہ جس کی مالیت 52,50,000 روپے لاہور کے مکان کا نصف حصہ جس کی مالیت 34,52,500 روپے اور 3,76,667 روپے مالیت کی زرعی اراضی 2,45,02,730 روپے کی سرمایہ کاری 6 لاکھ روپے کے زیورات 8,88,20,000 روپے نقد، 4,69,000 روپے کا فرنیچر ماڈرن فلور ملز راولپنڈی اور پنجاب شوگر ملز میں 1,19,14,400 روپے کے شیئرز اور ان کی اہلیہ کے 2,45,02,730 روپے کے شیئرز ان کے اثاثوں کا حصہ ہیں۔

بشکریہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...