Archive for اپریل, 2007

لوہے کے چنے پر تبصرہ

Posted on 25/04/2007. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست |

 

 

لوہے کے چنے پر کیا گیا ساجد بھائی کا بے باک اور بے لاگ تبصرہ، جسے میں نے وہاں سے حذف کر کے یہاں پوسٹ کر دیا ہے تاکہ اس بارے میں آپ بھی اپنے مشاہدے اور تجربے سے ہمیں آگاہ کر سکیں۔

عزیز دوست، میں آپ کی تحریر کردہ ایک بات کے علاوہ باقی سب سے اتفاق کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ بنگالیوں کے دل میں آج بھی پاکستان کے لئیے “بے پناہ“ محبت موجود ہے۔ جنابِ من، میں 13 سال سے سعودیہ میں مقیم ہوں۔ ایک دو نہیں دنیا کے تقریبَا تمام معروف ممالک کے لوگوں کے ساتھ کافی ملنا جلنا رہتا ہے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس سراب سے باہر آ جانا چاہئیے کہ بنگالی آج بھی ہمارے لیے کسی قسم کے نیک جذبات رکھتے ہیں۔ شاید کسی بنگالی نے منافقت سے کام لیتے ہوئے آپ کے سامنے کہہ دیا ہو کہ 99 فیصد ووٹ پاکستان کے حق میں آئیں گے۔ یہ لوگ آج بھی پاکستان سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی کہ ان کی نسوں میں 1970-71 میں بھارت نے بھری تھی۔ اگر یقین نہیں آتا تو ورلڈ کپ کا ایک میچ جو کہ ہم نے برادرانہ جوش میں آ کر ان کو جتوایا تھا اس کے بعد کے ان کی حسینہ کے بیانات کو پڑھ کرلیجئیے آپ کی طبیعت کو سکون آ جائے گا۔ ا تفاق سے دوسری مثال بھی کرکٹ ہی سے ہے ابھی حال ہی میں ان کے منہ پھٹ کپتان نے جس طریقے سے پاکستان پر طنز کرتے ہوئے احسان فراموشی کا جو شاندار مظاہرہ کیا ہے وہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں۔
اسی پر بس نہیں میرے پاس یہاں 2 بنگالی نوکری کرتے ہیں۔ ایک دن ایک بنگالی کو میں نے کام کے دوران کہا کہ اس لائن کے وولٹیج چیک کرو تو وہ کچھ ہچکچایا میں نے کہا چھوڑو اگر بجلی سے ڈرتے ہو تو میں خود چیک کر لوں گا تو اس کا جواب تھا “ہم تو 71 میں نہیں ڈرے تھے اب کیا ڈریں گے“۔
یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ میرا کام ائر کنڈیشننگ کا ہے اور یہ دونوں بنگالی الیکٹریشن ہیں۔ اور یہ دونوں نہ صرف میرے ملازم ہیں بلکہ انہوں نے کام بھی مجھ ہی سے سیکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائی آپ نے بنگالی اخوت؟
محترم! مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم پاکستانی اپنوں کا تو ذرا ذرا سی بات پر گلا کاٹنے کو تیار رہتے ہیں۔ کبھی شیعہ سنی کی بنیاد پر تو کبھی صوبائیت کی بنیاد پر۔ کبھی لسانی بنیادوں پر تو کبھی سیاسی بنیاد پر۔ اور ہم کو اپنی قوم کے سوا ساری دنیا اچھی لگتی ہے۔ کبھی افغانی کو اپنا بھائی بنا کر گلے لگایا تو وہ ہمیں کلاشنکوف، ہیروئن ، اغواء برائے تاوان اور قانون شکنی کے ایسے ایسے گر سکھا گیا کہ جن سے یہ قوم پہلے نا بلد تھی۔ وسط ایشیا کے لوگوں کو روس کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئیے پناہ دی تو وہ آج پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہاں سعودیہ میں منشیات سمگل کرنے کی سزا موت ہے۔ جب بھی کوئی پاکستانی منشیات کا دھندہ کرتا پکڑا جاتا ہے تو میں یہ دیکھ کر سر پکڑ کر رہ جاتا ہوں کہ وہ اصل میں افغانی یا ازبک ہے اور اس کے پاس پاسپورٹ پاکستان کا ہے۔ جب سعودی ٹی وی پر خبرنامے کے دوران یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ آج فلاں شہر میں منشیات سمگل کرنے پر ایک پاکستانی فلاں ولد فلاں کا سر قلم کر دیا گیا تو مت پوچھئیے کہ دل پر کیا گزرتی ہے۔
ایک چکر اسلام آباد کا تو لگائیے اور شمار کیجئیے کہ “مہاجرین“ کے پاس جتنی شاندار اور بڑی کاریں ہیں اس کا عشر عشیر بھی کیا پاکستانیوں کے پاس ہے؟ بات موضوع سے دور ہٹ رہی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جذباتیت ترک کر کے حقیقت میں رہنا سیکھنا ہو گا۔ ورنہ ہر کوئی ہم لوگوں کو اسلام اور بھائی چارے کی بنیاد پر الو بنا کر اپنا الو سیدھا کرتا رہے گا۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئیے کہ ہماری بقا صرف اپنی قوم اور وطن کے ساتھ مخلص رہنے میں ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو وہ ہمارا بھائی ہے لیکن جب کوئی برادران یوسف کا کردار ادا کرے تو ہمیں اس کو مسترد کر دینا چاہئیے۔ اگر کسی صاحب کو سعودیہ یا خلیج کے کسی ملک میں رہنے کا موقع ملا ہو تو وہ آپ کو مزید بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں کہ قانونی طور پر قیام پذیر ہونے کے با وجود یہاں غیر ملکیوں کی کتنی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ کیا یہ لوگ نہین جانتے کہ ہم سب مسلمان ہیں؟
رہی بات گاندھی فیملی کی تو عرض ہے کہ بنگلہ دیش انہوں نے نہیں بنایا بلکہ ہمارے اس وقت کے نا اہل حکمرانوں نے بنایا۔ اور کچھ بنگالی قوم کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ اس کو ایک مقام پر کبھی قرار نصیب نہیں ہوتا۔ شیخ مجیب کا قتل بمعہ اہل و عیال اس کی زندہ مثال ہے بنگلہ دیش بنا کر بھی آج تک وہ اپنے قومی ہیرو کا فیصلہ نہیں کر سکے۔
راہول گاندھی ابھی بچہ ہے اس کو اس کی ماں نے شاید یہ نہیں بتایا کہ ہندوستان توڑنے میں بھی اسی خاندان کے “بزرگوں“ کا ہاتھ تھا۔ اگر وہ مسلمانوں کو ان کے حقوق دیتے تو پاکستان بنانے کی نوبت نہ آتی۔ پر کیا کرتے وہ بیچارے آخر چانکیہ کی آتما کو شانتی پہنچانے کے لئیے یہ “شبھ“ کام کرنا ان کی مجبوری تھی۔ ورنہ تو اپنے پیارے قائد نے بھی حتیٰ المقدور کوشش کی تھی کہ کانگریس “بندے کی پتر“ بن جائے اور برصغیر ایک وحدت ہی رہے۔
صرف 60 سال کی عمر ہے اس پاکستان کی جو ہزاروں سال کے جہاندیدہ اور گھاگ ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ جی ہاں یہ وہی پاکستان ہے کہ آزادی کے وقت جس کی حکومت کے دفاتر درختوں کے نیچے سجتے تھے اور اوراق کو نتھی کرنے کے لئیے کیکر کے کانٹے استعمال ہوتےتھے۔
ایک مضبوط پاکستان اس وقت خود بھارت کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ ورنہ اس ایک پاکستان کو ختم کرنے کے ناپاک منصوبے بناتے بناتے اس کو مزید کم از کم 1 پا کستان ، 1 خالصتان، ناگا لینڈ، آسام ، اروناچل پردیش اور سکم تو دنیا کے نقشے

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

لوہے کے چنے

Posted on 24/04/2007. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست |

 

پچھلے دنوں آپ نے راہول گاندھی کے یہ الفاظ تو لازمی سنے ہوں گے کہ

‘ہمارا خاندان صرف لفظوں پر نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھتا ہے۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں خواہ وہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا عمل ہو یا بھارت کو ترقی دینے کا، ہمارا خاندان جس ہدف کا تعین کرتا ہے اسے حاصل بھی کر لیتا ہے اور پاکستان کو توڑنا ہمارے خاندان کا اہم کارنامہ ہے‘۔

یہ سچ ہے کہ چانکیہ ذہنیت نے مشرقی پاکستان کو ‘بنگلہ دیش‘ ضرور بنا دیا مگر اس کا سکہ آج تک وہاں نہ چل سکا، دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرنے کا دعوٰی کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے دو قومی نطریے کو مزید تقویت ملی کیونکہ ایک اور اسلامی ملک صفحہ ہستی پر ابھر آیا ہے۔ دبئی میں قیام کے دوران ایک بنگلہ دیشی بھائی سے اس سلسلے میں تفصیلی بات چیت ہوئی تھی، اس کے بقول جتنی نفرت آجکل بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف پائی جاتی ہے پہلے کبھی نہ تھی اور حد یہ کہ علیحدگی کے باوجود وہاں پاکستان کے لئے بے پناہ محبت موجود ہے۔ میرا دعوٰی ہے کہ آج بھی اگر عوامی سطح پر ریفرنڈم ہو تو مسلمانوں کے ننانوے فیصد ووٹ پاکستان کے حق میں آ جائیں گے۔ گو کہ راہول کا یہ بیان انتہائی توجہ کا حامل ہے کیونکہ مستقبل کے بھارت کی باگ دوڑ اسی کے ہاتھ میں ہے مگر میں اسے زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتا۔ اس لئے چلتے ہیں راہول کی ماتا سری متی سونیا گاندھی کی طرف جس نے راہول کے کچے ذہن میں ایسی گندگی بھر دی ہے۔ کچھ سال پہلے ایسا ہی ایک بیان سونیا گاندھی نے بھی دیا تھا کہ

‘بھارت ماتا کے ٹکڑے مذہبی جنونیوں نے کئے تھے، ہماری ثقافتی یلغار نے پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں، ہم نے اپنی ثقافت متعارف کرا کر ایسی جنگ جیتی جو ہتھیاروں سے جیتنا مشکل ہے، دو قومی نظریہ بکھر گیا، آج ہر پاکستانی بچہ بھارتی کلچر کا دلدادہ ہے، اب پاکستان جلد ٹوٹ جائے گا، ہمیں جنگ کرینکی ضرورت نہیں‘

بھارت قیادت آئے روز ایسے بیان دیتے ہوئے یہ بھول جاتی ہے کہ مسلمان تو لوہے کے چنے ہیں جو نگلے نہیں جاتے، حلق میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ اپنے بھارت کو ہی دیکھ لیں، جہاں کروڑوں مسلمان آئے دن خون کے دریاؤں سے گزرتے ہیں پھر بھی اسلام سے ‘باز‘ نہیں آتے۔ اسی ‘جرم مسلمانی‘ کے نتیجہ میں مقبوضہ کشمیر پر آتش و آہن کی بارش ہو رہی ہے، جنت نظیر کے مکان اور مکین شعلہ ریز، شعلہ خیز ہو کر خود چناروں کا سماں پیش کرنے لگے ہیں لیکن ہندو تہذیب و ثقافت میں ضم ہونے کو تیار نہیں۔ گاندھی خاندان نہ جانے کس غلط فہمی میں مبتلا ہے، راہول کی دادی اور سونیا کی ساسوماں اندرا گاندھی کو بھی یہی گھمنڈ تھا کہ انہوں نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے مگر بھارت کے اندر ہی ‘متعدد قومی نظریے‘ کے سپوتوں نے انہیں پرائم منسٹر ہاؤس میں ہی ڈھیر کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ‘دو قومی نطریہ‘ تو دور کی بات ہے پہلے اس ‘متعدد قومی نظریے‘ کے برگ و بار تو بھگت لیں! سونیا کا دعوٰی ہے کہ ‘بھارت ماتا کے ٹکڑے مذہبی جنونیوں نے کئے تھے‘۔ سونیا کو تحریک پاکستان کے بارے میں شاید کسی نے آگاہ نہیں کیا یا انہوں نے ٹھیک طرح جاننے کی کوشش ہی نہیں کی، سونیا کے علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستان کی تحریک اور باگ دوڑ اور جدوجہد اعلٰی درجہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھوں میں تھی۔

کاش آج سر وجنتی نائیڈو زندہ ہوتیں تو انہیں بتاتیں کہ جناح صاحب کیا تھے؟ کاش آج وجے لکشمی پنڈت موجود ہوتیں تو انہیں سید حسین کی کہانی سناتیں اور بتاتیں کہ بدترین عصیبت پر مبنی ہندو ذہنیت نے کیا گل کھلائے تھے۔

رہی بات بھارت کی ثقافتی یلغار کی جس پر اسے ہمیشہ ناز رہا ہے، اس پر میں یہ کہوں گا کہ ہندوؤں کے گیتوں، بھجنوں، دیویوں، دیوداسیوں اور دیپ مالاؤں کی پھلجڑیوں سے اس برصغیر کے مسلمان ہمیشہ لطف اندوز ہوتے آئے ہیں۔ بھارت پر مسلمانوں کے گیارہ، بارہ سو سالہ حکومت کے دوران، مسلمان حکمرانوں کے شاہی محلوں سے یہ پلجھڑیاں چھوٹتی رہیں اور گیتوں کی تاتیں ابھرتی رہیں لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہندو ثقافت مسلمان حکومتوں پر قابض ہو گئی تھی؟ اور اگر اسے سچ مان لیا جائے تو پھر پنڈت جواہر لال نہرو اس گیارہ بارہ سو سالہ حکومت کو بھارتی تاریخ سے خارج کر دینے پر کیوں مصر تھے؟ حقیقتا مسلمانوں کی سرشت اور خصلت (برصغیر کی حد تک) میں زندہ دلی کا عنصر ہمیشہ موجود رہا ہے اور یہی نہیں بلکہ رعایا کا دل لبھانے کے لئے مسلمان حکمرانوں نے بہت سے ‘حرکتیں‘ بھی کی ہیں جو شاہی حرموں میں دیویوں اور بائیوں کی شکل میں پائی جاتی رہی ہیں۔ اس کا مطلب ‘مفتوح و محکوم‘ ہونا کبھی نہیں تھا بلکہ یوں کہیئے کہ یہ صلح جوئی اور رواداری کے نمونے تھے۔ بھارتی ثقافت کی اتنی اوقات کہاں، مسلمان تو مغرب کے کرسچئین، دہریہ اور بدکار ماحول میں بھی رہ کر اندر سے مسلمان ہی نکلتا ہے اسی لئے مغربی حکمرانوں کو ہمیشہ سے ان کے ‘بنیاد پرست‘ ہونے ہر شکایت رہی ہے۔ بے چاری ہندو تہذیب کے بس میں کہاں کہ وہ لوہے کے ان چنوں کو چبا سکے۔ مقبوضہ کشمیر کو ہی دیکھ لیں جہاں بھارتی ثقافت بلا روک ٹوک موجود ہے لیکن اس کے نوجوان اس ثقافت کے خلاف کفن بدوش اور سربکف اٹھ کھڑے ہیں۔ ساٹھ سال بعد بھی بھارتی ثقافتی یلغار ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ پاکستانی نوجوان بے شک بھارتی دیویوں کے رقص و سرور سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن یہ لازم نہیں ٹھہرتا کہ بھارتی ثقافتی یلغار نے انہیں مفتوح و مغلوب کر لیا ہے۔ یہ ہندو ثقافت تو قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھی تو کیا اس نے کبھی مسلمانوں کے دل بھی موہ لئے تھے؟ اس سب کے باوجود راہول کے اس بیان اور گاندھی خاندان اور قیادت کے عزائم سے بھارت کے ساتھ دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھانے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو اس ملک کو روشن خیال، لبرل اور سیکولر کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں، اِنہیں اب جان لینا چاہیے کہ وہ خواب بھی دیکھتے ہیں تو صرف پاکستان توڑنے کے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

دو بیان

Posted on 21/04/2007. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست |

پہلا بیان
‘ہمارا خاندان صرف لفظوں پر نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھتا ہے۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں خواہ وہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا عمل ہو یا بھارت کو ترقی دینے کا، ہمارا خاندان جس ہدف کا تعین کرتا ہے اسے حاصل بھی کر لیتا ہے اور پاکستان کو توڑنا ہمارے خاندان کا اہم کارنامہ ہے‘۔
یہ الفاظ کانگریس کے لیڈر، رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کے ہیں۔ جو مستقبل کے بھارتی وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے یہ جملے اترپردیش میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔

دوسرا بیان
‘بھارت پاکستان کو غیرمستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں ان کی مداخلت راہول گاندھی کے اس بیان سے ثابت ہو گئی ہے۔ دفاعی لحاظ سے آج کا پاکستان 1971ء کے پاکستان سے بہت مختلف ہے‘۔
دفتر خارجہ کا بیان، دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کی زبانی

 

پہلے بیان کے بارے میں مزید تفصیل اگلی پوسٹ میں، یہاں میرا مقصد آپ کی توجہ دوسرے بیان کی طرف دلانا ہے۔ دونوں بیان پڑھنے کے بعد آپ کیا سوچتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں یہ بیان پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا۔ راہول کے اس بیان نے ہماری قوم کے زخم پھر سے تازے کر دیئے جو وقت گزرنے کے ساتھ شاید اب بھرنے لگے تھے یا جنہیں ہم کافی حد تک بھول چکے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ راہول کے اس بیان پر پاکستان ایک بھرپور احتجاجی مہم چلاتی جس سے انہیں احساس ہوتا کہ پاکستانی قوم کا ایک بازو جدا ہوا وہ تو اس زخم اور صدمے کے بعد اب سنبھل چکی ہے مگر جس نے یہ بازو جدا کیا، جس نے زخم دیئے اس کے ذہن میں آج بھی اس کا یہ کارنامہ تروتازہ ہے۔ اور وقت آنے پر اسے یہ سود سمیت لوٹانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

فرائض سادات

Posted on 19/04/2007. Filed under: سیاست |

 

لیڈی ڈیانا بہت خوبصورت تھی، حسن کی ملکہ اور دلوں کی رانی تھی، ویسے تو ہماری بے نظیر بھی کسی سے کم نہیں ہیں بلکہ شہزادیوں میں بے نظیر ہیں، مگر جس طرح ماتم صرف جسمانی موت کا ہی نہیں ہوتا اسی طرح خوبصورتی بھی محض جلد کی گہرائی تک نہیں ہوتی۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی خوبصورت ہے تو اس میں اس کا اپنا کیا کمال ہے؟ کسی کے شہزادی یا شہزادے ہونے میں اس کا اپنا کتنا دخل ہے؟ اسی نقطہ نظر کے تحت دیکھا جائے تو اصل معاملہ ڈیل کا نہیں، بلکہ یہ ڈیل کیسے، کس انداز اور مفادات میں کی جا رہی ہے اسے دیکھنا پڑتا ہے کہ اس میں کتنی خوبصورتی یا بدصورتی پنہاں ہے۔ خوبصورت وہی ہے جو خوبصورت نہ ہوتے ہوئے بھی اچھا لگے اور جو سید نہ ہوتے ہوئے بھی فرائض سادات ادا کر سکے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بلاگ کی دوسری سالگرہ

Posted on 16/04/2007. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

سالگرہ کی تاریخ کب آئی اور کب گزر گئی اس کا مجھے احساس تک نہ ہوا، آج جب میں بلاگ کی پوسٹ چیک کر رہا تھا تو اچانک میری نظر بلاگ کی پہلی پوسٹ پر پڑ گئی جو میں نے ٤ اپریل ٢٠٠٥ کو لکھی تھی۔
اس دوران بلاگ پر کئی اتار چڑھاؤ آئے، بلاگسپاٹ پر پابندی کی وجہ سے کچھ ماہ تو پراکسی کے ذریعے رینگتے رہے، جس کی وجہ سے لکھنے کا بالکل دل ہی نہیں کرتا تھا کیونکہ ایک نقاد بس تھوڑی سے داد کا بھوکا ہوتا ہے۔ بلاگسپاٹ کی اس پابندی کی وجہ سے یار دوستوں نے ورڈ پریس کی طرف بھاگنا شروع کیا، اردو محفل کی ٹیم اور خاص کر نبیل بھائی نے ورڈ پریس تھیم کا اردو ترجمہ کر کے تہلکہ مچا دیا، ورڈ پریس ماسٹر مائینڈ شاکر بھائی اور دیگر دوست مل کر مختلف تجربوں میں لگ گئے اور یوں ورڈ پریس کو فری ہوسٹ پر چلانے میں کامیاب ہو گئے، نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے دھڑا دھڑ فری ہوسٹ پر بلاگ بننے لگے۔ اردو ورڈ پریس کی اس تیز رفتار ترقی میں پردیسی بھائی کو شامل نہ کرنا زیادتی ہو گی، انہوں نے تو اردو ہوم پر ورڈ پریس اردو تھیم کی باقاعدہ ایک فیکٹری قائم کر دی تھی جہاں سے روزانہ ایک، دو کے حساب سے اردو تھیم برآمد ہونے لگیں، یوں ہوا کے اس رخ پر قدم برھاتے ہوئے ہم نے بھی بلاگسپاٹ سے کوچ کرتے ہوئے فری ہوسٹ پر اپنا ڈیرہ جما لیا، کچھ عرصہ یوای یواو ڈاٹ کوموالے فری ہوسٹ پر رہنے کے بعد اسے صرف اردو فورم کے لئے مخصوص کیا اور ایک بار پھر ہجرت کرتے ہوئے ازگریٹ ڈاٹ آرگ پر اپنا ڈیرہ قائم کر لیا جو اب تک اللہ تعالٰی کے فضل وکرم سے قائم و دائم ہے۔
اپنا ڈیرہ اردو بلاگ کی گوگل رینکنگ ٤ ہے اور اب تک ٢٥٧٣٠ افراد وزٹ کر چکے ہیں، ذہن میں رہے کہ یہ سارے اعداد و شمار صرف بلاگسپاٹ کے ہیں، فری ہوسٹ کے اعداد و شمار اس میں شامل نہیں ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بلاگ پڑھنے والوں کی زیادہ تر تعداد امریکہ سے ہے جو کہ ١٩٪ ہے اس کے بعد پاکستان ١٦۔٧٪ پھر یوکے اور دیگر ممالک۔
اس بلاگ کی تحریروں کے بارے میں میں تو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کا فیصلہ ہمیشہ پڑھنے والے احباب کرتے ہیں اور ان تحریروں پر کئے گئے تبصرے ہی ایک لکھنے والے کے لئے سب سے بڑا اثاثہ ہوتے ہیں۔
اپنا ڈیرہ اردو بلاگ کے سلسلے میں جن دوستوں نے تعاون کیا ہے میں ان کا ذاتی طور پر بیحد ممنوں و مشکور ہوں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

موبائیل شوشہ

Posted on 14/04/2007. Filed under: موبائیل زون |

آجکل پاکستان میں موبائیل فون کا ایک نیا شوشہ زبان زد عام ہے، آج صبح ایک دوست آفس میں آیا اور کہا کہ ‘موبائیل فون آجکل احتیاط سے استعمال کریں‘۔ میں نے کہا ‘بھائی بیلنس کی وجہ سے میں ہمیشہ سے ہی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوں کہ تھوڑے سے بیلنس کے ساتھ کچھ دن مزید گزر جائے، نیا کارڈ ڈالنے سے مجھے سخت کوفت ہوتی ہے‘۔
اس نے کہا ‘نہیں یہ بات نہیں، ٠٠٠١١١٨٨٨ کے نمبر سے ایک کال آتی ہے اسے جیسے ہی رسیو کیا جائے موبائیل ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے‘۔
میں نے کہا ‘بھائی ایسا کیسے ہو سکتا ہے موبائیل میں ایسا کون سا دھماکہ خیز مواد ہے جو دھماکے سے پھٹ جائے گا‘۔
میرے ساتھ اور ایک دوست بیٹھا تھا اس نے بھی پہلے دوست کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ ‘واقعی ایسا ہے میں نے جیو ٹی وی پر یہ خبر سنی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں موبائیل دھماکے کی وجہ سے دو آدمیوں کی موت ہو گئی ہے‘۔
میں نے کہا ‘مجھے تو بالکل ہی اس خبر ہر یقین نہیں، کیا یہ خبر آپ نے خود سنی ہے‘۔
دوست نے کہا ‘نہیں میں نے خود تو نہیں سنی مجھے بھی ایک دوست نے اس بارے میں بتایا ہے‘
میں نے کہا ‘کاش ایسا کوئی طریقہ ہوتا تو میں سب سے پہلے دو صدور کو کال کرتا ہے اور اس کے بعد ایک لمبی چوڑی لسٹ بناتا اور ایک گھنٹے میں ہی سب کا صفایا کر دیتا۔‘
دونوں دوستوں نے یک زبان کہا ‘صدور کون کون سے؟‘
میں نے کہا ‘سبھی جانتے ہیں بتانے کا فائدہ ہی کوئی نہیں‘

شام کو ایک رشتے دار کے ہاں جانا ہوا تو وہاں بھی یہی تذکرہ چھڑ گیا، بھانجے نعمان نے تھوڑی تبدیلی کے ساتھ ایک اور واقعہ سنایا کہ موبائیل فون سے ایک کال آتی ہے جیسے ہی اسے رسیو کریں، فون میں سے کوئی شعاعیں نکلتی ہیں جو کان کے ذریعے انسان کے دماغ میں پہنچ جاتی ہیں اور فورا ہی اس انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے، نعمان سے ہی مزید انکشاف ہوا کہ ہمارے ڈیرہ غازی خان میں ہی ١٠ آدمیوں کی اسی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے۔
میں نے پوچھا آپ کو یہ تازہ انفارمیشن کہاں سے ملی ہیں؟
تو کہا ‘ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک دوست میں مجھے اس بارے میں آگاہ کیا ہے، اسی لئے موبائیل کو میں ہاتھ پکڑا ہوا ہے، جیسے ہی اس قسم کی کوئی کال آئے تو اسے بند کر دوں۔
میں نے کہا ‘تم اپنا موبائیل مستقل ہی بند کر دو، جلدی میں کہیں غلطی سے کوئی غلط بٹن پریس ہو گیا تو پھر؟
میری بات سن کر وہ واقعی پریشان ہو گیا، میں اس کی حالت پر مسکراتا ہوا ساتھ ہی ایک دوسرے رشتے دار کے گھر داخل ہوا تو ایک نئی خبر میری منتظر تھی۔
ذولقرنین نے کہا کہ ‘میرے ایک دوست کو ایک میسج ملا ہے جیسے ہی وہ اسے اوپن کرنے کی کوشش کرتا ہے موبائیل فون آف ہو جاتا ہے‘۔
میں نے مسکرا کر کہا اس میں بھی یقینا کوئی ‘شعا‘ بند ہو گی اپنے دوست کو کہو کہ وہ موبائیل کو دیفالٹ سیٹنگ میں لے آئے یا اسے فارمیٹ کرا لے مسلہ حل ہو جائے گا۔
وہاں سے نکل کر گھر کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں ایک اور دوست کا میسیج موصول ہوا جو کچھ یوں ہے۔

The rumors circulating about mobile phone virus harming users are completely
baseless and technically not possible.
Please ignore such messages.

گھر پہنچ کر خبریں سننے کے لئے ٹی وی آن کیا تو جیو اور اے آر وائی ون ورلڈ پر ٹیلی کمیونکیشن اٹھارٹی کی طرف سے یہ وضاعتی پیغام گردش کرتا ہوا نظر آیا ‘موبائیل فون میں انسانی جان کے ضیاع کے لئے کوئی خطرناک وائرس نہیں عوام افواہوں پر کان نہ دھریں‘۔
اس پیغام سے معلوم ہوا یہ شوشہ پورے پاکستان میں چھوڑا گیا ہے، لیکن کیوں اور کس مقصد کے لئے؟
آج ہی کے دن چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت تھی۔
تو کیا یہ شوشہ اس سماعت سے عوام الناس کی توجہ ہٹانے کے لئے چھوڑا گیا ہے یا اس کا کوئی اور مقصد تھا؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نیلو فر بختیار کے لئے تمغہ شجاعت

Posted on 13/04/2007. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

لگتا ہے ہماری تحریر چوہدری شجاعت کے دل پر اثر کر گئی ہے، جبھی تو انہوں نے نیلو فر بختیار پر اتنا غصہ نکالنے کے بعد آج اپنے ایک نئے بیان میں فرمایا ہے کہ ‘نیلو فر بختیار کے کوچ نے تو پدرانہ شفقت سے گلے لگایا تھا‘۔ چوہدری صاحب کے اس بیان کے بعد تو نیلو فر بختیار پھولے نہیں سما رہیں، انہوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ‘خدمت خلق کے لئے تو میں اس سے آگے بھی بہت کچھ کر سکتی ہوں، میں نے زلزلہ متاثریں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کر چھلانگ لگائی تھی‘۔
نیلو فر بختیار کے اس کارنامے کے بعد سے ہی ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ محترمہ بہت آگے تک جائیں گی، اب انہوں نے خود ہی اس کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ اس سے آگے بھی بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ ہم تو ان کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ انہیں خدمت خلق کی زیادہ سے زیادہ توفیق ہو اور وہ ہر کونے کھدرے سے چھلانگیں لگاتی پھریں۔ تاکہ زلزلہ متاثریں کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔
اب جب چوہدری صاحب نیلو فر بختیار کے کارنامے کو ‘پدرانہ شفقت‘ کا نام دے کر تسلیم کر ہی چکے ہیں تو انہیں چاہیں کہ وہ نیلو فر بختیار کے اس کارنامے پر انہیں ‘تمغہ شجاعت‘ بھی دلوا دیں، کیونکہ انہوں نے سچ میں بڑی بہادری اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ مزید اس سے بھی بڑے کارنامے انجام دینے کا عزم رکھتی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نیلو فر بختیار کا کارنامہ

Posted on 10/04/2007. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

مجھے یہ خبر پڑھ کر سخت حیرت ہوئی کہ روشن خیالی کا راگ الاپنے والی حکومت کی اس قدر گری ہوئی سوچ، میراتھن ریس پر فخر کرنے اور اسے روشن خیال نظریے کی فتح قرار دینے والے ذہنوں کی اتنی پستی، چودہدری صاحب کس منہ سے اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بات کر رہے ہیں اور کیسے اسے مشرف کے روشن خیال نظریے کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں، میرے خیال کے مطابق تو مشرف کے روشن خیال نظریے کے تحت نیلو فر بختیار کو ایوارڈ سے نوازنا چاہیے، کیونکہ اس نے مشرف کے روشن خیال نظریے کو تقویت دے ہے، اس نے ایسا کام کیا ہے کہ اس عمر کے لوگ ایسا سوچیں بھی تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔
نیلو فر بختیار کے اس کارنامے پر مشرفی کابینہ کو تو خوش ہونا چاہیے، میراتھن ریس کی طرح اس اعزاز کو بھی سرکاری طور پر کیش کرنا چاہیے کہ نیلو فر بختیار نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر روشن خیالی دنیا میں اور مشرف کے دل میں اعلٰی مقام حاصل کر لیا ہے اور روشن خیالی کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہری لفظوں سے جگمگاتا رہے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

خطبہ جمعہ کا متن

Posted on 06/04/2007. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , |

لال مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز نے اپنے جمعے کے خطبے میں اپنے اثرورسوخ کے علاقے میں شریعت نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔ ذیل میں ان کے خطبے کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے:-

حکومت نے اللہ کی حکومت میں ساٹھ سال سے حکومت بنائی ہوئی ہے۔ اللہ کی سٹیٹ میں آٹھ سال سے اپنی سٹیٹ قائم کی ہوئی ہے۔ ہم تو اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت کو، جسے انہوں نے ختم کرکے اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ اسلامی نظام کے ذریعہ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں زمین اللہ کی ہے سب کچھ اس نے بنایا ہے۔ سٹیٹ بھی اللہ کی ہے ان لوگوں نے اللہ کی سٹیٹ میں ساٹھ سال سے اپنی سٹیٹ بنا رکھی ہے۔ اور پوری قوم کا جینا حرام کر رکھا ہے غریب چیخ رہے ہیں صنعت کار چیخ رہے ہیں تاجر چیخ رہے ہیں بجلی کے بل ادا کرنے والے عوام چیخ رہے ہیں۔ جن لوگوں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں لٹ رہی ہیں وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں جن کے بچے اغواء ہو رہے ہیں جن کے رشتہ دار قتل ہو رہے ہیں وہ چیخ رہے ہیں۔

کشمیر والے چیخ رہے ہیں بلوچستان والے چیخ رہے ہیں وانا اور وزیرستان والے چیخ رہے ہیں۔ان سب مسائل کا حل یہ ہے کہ اللہ کی حکومت میں جو حکومت بنائی گئی ہے اللہ کے سٹیٹ میں جو سٹیٹ قائم ہے اسے ختم کیا جائے اور اللہ کی حکومت، سٹیٹ اور نظام کو بحال کیا جائے۔ کیونکہ ساری پریشانیوں کا حل حکومت الٰہیہ میں ہے۔

لہذا ہم اعلان کرتے ہیں کہ آج سے جہاں جہاں تک علاقہ ہمارے اثر و رسوخ میں ہے، ہم وہاں نفاذِ شریعت کر رہے ہیں۔

یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا، اس کے لیے لاکھوں شہداء نے قربانی دی تھی، بہنوں کی عزتیں قربان ہوئی تھیں تاکہ یہاں اسلام آئے، شریعت نافذ ہو لیکن ہم نے غفلت کی حالانکہ اسلامی نظام کا نفاذ ان سات لاکھ شہداء کا قرض ہے۔

ہم نے اس سلسلے میں غفلت برتی تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف برائی نظر آنے لگی معاشرہ بگڑتا چلا گیا اور بدی اس قدر عام ہو گئی کہ دلوں سے اس کا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔اس وقت پاکستان میں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں یوں داؤ پر لگ چکی ہیں، جیسے وہ کسی غیر مسلم ملک میں ہوں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں عصمت فروشی اور بدکاری کے پانچ لاکھ ادارے قائم ہیں۔

ان اڈوں میں بے شمار بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں لیکن اس گھناؤنے جرم پر کوئی فردِ جرم عائد کرنے والا نہیں ہے۔

اسلامی نظام نہ ہونے کی وجہ سےحالات اس قدر بگڑے ہیں کہ خود قانون کا تحفظ کرنے والے اداروں میں بھی قانون رسوا ہو رہا ہے۔ہمیں ایک خاتون پولیس اہلکار کا خط موصول ہوا ہے۔ اس خط میں اس بہن نے پولیس کے محکمے میں عصمت فروشی کے دھندے کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ کافی عرصے سے یہ گھناؤنا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اعلٰی افسران سے شکایت بھی کی گئی ہے لیکن کچھ اثر نہیں ہو رہا ہے۔لہذا اب آپ حضرات تعاون کریں اور اس سلسلے کو بند کروائیں۔

ایسی سنگین صورتحال میں ہم نے نفاذ اسلام کی اس تحریک کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے لائبریری پر قبضہ کیا گیا، تاکہ اللہ کی رٹ چیلنج کرنے والوں کی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔

جامعہ حفصہ کی طالبات اللہ کے دین کے تحفظ کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہیں اور ان کے مسلمان بھائی بھی ان کے تحفظ کے لیے آ پہنچے۔

ہم نے ستائیس فروری کو حکومت کو ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی کہ وہ ہمارے چار مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے مساجد تعمیر کرے، اسلامی نظام نافذ کرے لیکن جواب میں حکومت کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

پھر ہم نے گزشتہ ہفتے دوبارہ ڈیڈلائن دی کہ وہ شریعت نافذ کرے لیکن پھر بھی توجہ نہیں دی گئی۔

ایسے حالات میں اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ازخود نفاذِ شریعت کریں اور ملک سے برائی فحاشی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔لہذا اب ہم یہ آواز لے کر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

آج سے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ جس قدر علاقہ ہمارے کنٹرول میں ہے ہم وہاں اسلامی نظام نافذ کر رہے ہیں۔ اب یہاں ہر فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا۔

اس سلسلے میں قوم کے مختلف طبقات کے سامنے چند اہم گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔

علماء کرام سے گزارش ہے کہ وہ نوجوانوں کے جذبات کی قدر کریں۔

اس وقت پورے ملک میں نوجوان نفاذ شریعت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب اگر آپ حضرات حوصلہ افزائی نہ فرمائیں گے تو ان کے معصوم جذبات چھلنی ہو کر رہ جائیں گے۔

علماء کرام سے گزارش ہے کہ اگر انہیں تحریک طلباء و طالبات سے متعلق کسی واقعہ کی خبر ملے تو پہلے ہم سے رابطہ فرما کر تحقیق فرما لیں اور اس کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار فرمائیں۔ صرف میڈیا کی بات سن کر رائے گرامی کا اظہار فرمانا نہ شرعاً درست ہے نہ ہی عقلاً۔

علماء کرام سے گزارش ہے کہ وہ کم از کم تعاونو اعلی البر و التقوٰی کے قدر مشترک کی حد تک تحریک کے ساتھ تعاون فرمائیں۔

آپ حضرات دیکھ رہے ہیں کہ دین دشمن طاقتیں کس طرح متحد ہیں ضرورت ہے کہ اہل دین بھی متحد ہو جائیں اور نفاذ شریعت کے لئے جدوجہد کریں۔

اگر علماء کرام یا حکومت ہمارے کسی مطالبے یا اقدام کو شریعت کے خلاف ثابت کر دے تو ہم اس سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہیں۔

جو حضرات علماء کرام ہمارے مؤقف سے اتفاق رکھتے ہیں اور نفاذِ شریعت کی اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ یہ آواز پورے ملک میں پہنچانے کے لئے مختلف علاقوں کا دورہ کریں اور عوام تک یا دعوت پہنچائیں۔

عوام سے چند گزارشات:

حکومت اور دین دشمن طاقتوں نے طلباء اور طالبات کی آواز کو دبانے اور ان کی دعوت کو غیرمؤثر بنانے کے لئے ہر طرح کا ہتھکنڈہ استعمال کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

اس سلسلہ میں مختلف این جی اوز اور میڈیا کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طرح طرح کی من گھڑت افواہیں پھیلا کر عوام کو متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہم پورے ملک کے عوام کو مطلع کرتے ہیں کہ وہ ایسی افواہوں پر کان مت دھریں اور طلبہ و طالبات کے حوالے سے ملنے والی کسی خبر پر ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے رابطہ فرما کر تحقیق کر لیں۔

طلباء اور طالبات کا مقصد نفاذِ شریعت اور قیام امن ہے ہم اپنے مسلمان بھائیوں تک اپنی دعوت پیار و محبت کے ساتھ پہنچا رہے ہیں، لہذا ایسی کسی بھی خبر پر یقین نہ کریں جو توڑ پھوڑ یا جلاؤ گھیراؤ کے حوالے سے آپ تک پہنچے۔

اسی طرح اگر آپ اس سلسلہ میں کوئی شکایت درپیش ہو تو ہم سے رابطہ فرمائیں۔ ہم شکایت کا ممکنہ ازالہ کریں گے۔

نفاذِ شریعت چونکہ ہر مسلمان کی خواہش ہے، لہذا تمام مسلمان اس جدوجہد میں شامل ہوں اور اسے پورے ملک کی آواز بنا دیں۔

مسلمان بہنیں بھی اس تحریک میں مؤثر کردار ادا کریں۔ کیونکہ بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و عصمت کا تحفظ اس تحریک کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ ہماری کیسٹ اور سی ڈیز اور دیگر لٹریچر لے کر اسے عام کریں۔

نفاذِ شریعت کی اس تحریک میں ہر طرح کا تعاون انشاء اللہ ثواب اور اجر کا باعث ہوگا، لہذا صاحب ثروت لوگوں کو چاہیے کہ وہ ہر صورت میں اس کے ساتھ جانی اور مالی تعاون فرمائیں۔

اس وقت تحریک کو اپنی دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے اموال کی بھی ضرورت ہے اور وسائل کی بھی آپ حضرات اس سلسلے میں جو بھی تعاون کر سکتے ہیں ضرور کیجیے۔

یہ واضح رہے کہ جو حضرات تعاون کرنا چاہیں وہ خود یہاں تشریف لا کر اپنے عطیات پہنچائیں، باہر ہمارا کوئی نمائندہ نہیں ہے۔

مختلف ذرائع سے ہمارے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ مثلاً کہا جا رہا ہے کہ ہماری طالبات نے کہا ہے کہ وہ بے پردہ عورتوں کے چہروں پر تیزاب ڈالیں گی اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبات ڈنڈے لے کر دکانوں پر گئیں، یہ سب باتیں جھوٹی اور الزامات ہیں۔ ہم ان کی تردید کرتے ہیں۔

جو لوگ بدکاری کے اڈے چلا رہے ہیں ہم ان سے بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ اس گھناؤنے کاروبار سے باز آ جائیں ورنہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لئے خسارہ ہے۔

جو عورتیں ایسے کاموں میں مجبوری کے باعث ملوث ہیں، اگر وہ توبہ تائب ہو کر پاکیزہ زندگی گزارنا چاہتی ہیں تو ہم نے ان کے لئے جامعہ حفصہ میں ”تائبات عابدات سینٹر،، قائم کر دیا ہے وہ یہاں آئیں ان کو مفت تعلیم، رہائش فراہم کی جائے گی اور پھر اگر وہ چاہیں تو صالح نوجوانوں سے ان کے رشتے کروا دئیے جائیں گے۔

سب سے پہلے میں خود اعلان کرتا ہوں کہ میری عمر 46 سال ہے اگر 35 یا 40 سال کی کوئی خاتون توبہ تائب ہو کر پاکیزہ زندگی گزارنے کا عہد کرے تو میں خود اس سے عقد کے لیے تیار ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ عمر بھر اسے سابقہ زندگی کے حوالے سے کچھ نہ کہوں گا۔

لیکن یاد رکھیں یہ میرا مقصد نہیں مجھے تو شہادت کا شوق ہے وہ مل جائے۔ بس یہی میری کامیابی ہے۔

بسوں اور ویگنوں کے ڈرائیوروں سے گزارش ہے کہ وہ تحریک کا ساتھ دیں اور معاشرے میں بگاڑ پھیلانے سے گریز کریں۔ اپنی گاڑیوں میں فحش اور غیراخلاقی گانے اور فلمیں چلانے سے گریز فرمائیں۔

ویڈیو سی ڈیز کا کاروبار کرنے والے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اس غیراخلاقی اور غیرشرعی کاروبار کو ختم کریں۔ کیونکہ اس سے معاشرے میں سخت بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

یاد رکھیں اس کاروبار کی وجہ سے ملک میں فحاشی اور بدکاری پھیل رہی ہے اور اس کی سزا میں زلزلوں جیسی مصیبتیں آ رہی ہیں زلزلے کی وجہ سے سارے کاروبار منٹوں میں مٹی کا ڈھیر بن جاتے ہیں، اس لیے اللہ کے عذاب سے ڈریں اللہ کا ارشاد ہے:

ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ

ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے روز ہمیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنا ہے۔ ذرا سوچیے ہم ان کو کیا منہ دکھائیں گے اگر ہم اسلامی معاشرے کے بگاڑ اور برائی پھیلانے میں یونہی ملوث رہے تو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کیسے نصیب ہوگی۔

تاجروں کی تنظیموں اور یونین سے میری گزارش ہے کہ وہ باہمی طور پر فنڈ جمع کرکے ایسے دکاندار بھائیوں کی حوصلہ افزائی کریں جو ناجائز کاروبار ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی تعاون کی کوشش کریں گے۔

اگر اس مقصد کے لیے مجھے جھولی پھیلانی پڑی تو میں انشاء اللہ ایسا بھی کر لوں گا۔ ہم نے اپنے لیے کبھی نہیں مانگا۔ روکھی سوکھی کھا کر گزارا کیا ہے، چٹائیوں پر پڑھا ہے اور ٹاٹ پر سوئے ہیں لیکن کسی سے بھیک نہیں مانگی لیکن آج اگر برائی کے خاتمے کے لیے مجھے ایسا کرنا پڑا تو انشاء اللہ میں یہ بھی کر لوں گا۔ یاد رکھیں برائی کا راستہ روکنا اور نیکی کو پھیلانا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم سب کا فریضہ ہے۔

حکومت سے چند اہم مطالبات:

حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ان پر عمل پیرا ہو۔

تحریک طلباء و طالبات کے خلاف غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈے پر مبنی میڈیا مہم فوراً بند کی جائے۔

سڑکوں کے اردگرد لگے ہوئے ایسے تمام بورڈز فوری طور پر ہٹائے جائیں جن پر لگی فحش اور غیراخلاقی تصاویر معاشرے کو غلط رخ دینے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
منشیات کے تمام اڈوں کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔

اسلام آباد میں شراب کی خریدوفروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

ہم قیام امن چاہتے ہیں لہذا پولیس کو چاہیے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ ہماری طرف سے مکمل امن اور سلامتی کا پیغام ہے لیکن اگر اس کے باوجود حکومت بار بار اس پر اصرار کرتی ہے کہ اس کا آخری آپشن طاقت کے زور پر آپریشن ہے تو ہمارا آخری آپشن فدائی حملہ ہو سکتا ہے۔ ہم ٹکراؤ نہیں چاہتے لیکن نفاذِ شریعت کے سلسلہ میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ بشکریہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پیار

Posted on 05/04/2007. Filed under: اسلام |

آئیے پیار سے جئیں، قرآن کے لہجے میں پیار کریں، اللہ سبحانہ و تعالٰی کے پیارے انسانو پیار سے جینا ہی جینا ہے کیونکہ
کائنات کی تخلیق کا سبب پیار
کائنات کی حقیقت پیار
کائناتی نظام کی بنیاد پیار
کائناتی اکیل پیار
کائناتی کثرت پیار
زندگی کی کھیتی پیار
گلاب کا کھیت پیار
پھولوں کی مہک میں پیار
بلبل کی چہک میں پیار
سورج کی دھوپ میں پیار
چاند کے روپ میں پیار
سونے کی دمک میں پیار
چاندی کی چمک میں پیار
سارنگی کی تار میں پیار
پانی کی دھار میں پیار
دریا کے شور میں پیار
پانی کے زور میں پیار
بجلی کی چمک میں پیار
بادل کی کڑک میں پیار
پرندوں کی چہچاہٹ میں پیار
پتوں کی سرسراہٹ میں پیار
زمین آسمان کی تسبیح میں پیار
فرشتوں کی تمحید و تقدس میں پیار
نفس کی گہرائیوں میں پیار
آفاق کی پنہائیوں میں پیار
نین کے نور میں پیار
قلب کے سرور میں پیار
محبوب کے حسن میں پیار
محب کے عشق میں پیار
جمال بھی پیار، جلال بھی پیار

لا الہ کی ہستی میں پیار
الا اللہ کی مستی میں پیار
محمد رسول اللہ ﷺ کی حقیقت میں پیار

کائنات کی یہ ساری محفل ‘انسان‘ کے لئے سجائی گئی ہے، انسان کی تخلیق خصوصی طور پر پیار کے لئے لی گئی ہے۔

انسان کا مسلک پیار
دنیا کی حقیقت پیار
نفرت صرف شیطان کا کام ہے، جہاں پیار ہے وہاں نور ہے، جہاں نفرت ہے وہاں ظلمات ہیں۔

پیار تعمیر ہے، نفرت تخریب ہے
پیار کمال ہے، نفرت زوال ہے
پیار آبادی ہے، نفرت بربادی ہے
پیار سکون ہے، نفرت پریشانی ہے
پیار شفا ہے، نفرت بیماری ہے
پیار دوست ہے، نفرت دشمن ہے
پیار بلندی ہے، نفرت پستی ہے
پیار عزت ہے، نفرت ذلت ہے
پیار بندگی ہے، نفرت شرمندگی ہے
پیار ایمان ہے، نفرت کفر ہے
پیار ضمیر ہے، نفرت تکفیر ہے
پیار ابراہیم ہے، نفرت نمرود ہے
پیار موسٰی ہے، نفرت فرعون ہے
پیار عیسٰی ہے، نفرت صلیب ہے
پیار حسین ہے، نفرت یزید ہے

پیار رحمت للعالمین ﷺ ہیں
نفرت ابلیس شیطان رجیم ہے

آئیے پیار کرنا سیکھیں اور پیار کریں! مگر کس سے پیار؟
حقیقی بنیادی طور پر اللہ سبحانہ تعالٰی سے، وہی حسن مطلق ہے، اس کے قرب کی آرزو کا نام پیار ہے، اس کے نور کا نام پیار ہے، جو جتنا پیار کرنے والا ہے اتنا ہی پرنور ہے، لہذا جو عالمیں کو پیار کرنے والے ہیں وہ عالمین سے زیادہ پیارے ہیں۔

جو جتنا پیار والا ہو گا اتنا ہی مقام والا ہو گا۔

جو کتاب پیار سکھاتی ہے وہ پیاری ہے، جو انسان پیار سکھاتا ہے وہ پیارا ہے، جس لمحے میں پیار وہ لمحہ مبارک ہے، جس ذرے میں پیار ہے وہ ذرہ نور ہے، جس قطرے میں پیار ہے وہ قطرہ آب حیات ہے۔

 

 

 

 

 

 

گدائے عشق ہوں نظرانہ دل لے کے آیا ہوں
یہی ہے اک چیز لانے کے قابل لے کر آیا ہوں
رہے جذب و کشش یہ ہوش تک باقی نہیں
کہ مجھے دل لے کے آیا یا میں دل لے کے آیا ہوں
احمد رضا خان بریلوی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...