پیار

Posted on 05/04/2007. Filed under: اسلام |

آئیے پیار سے جئیں، قرآن کے لہجے میں پیار کریں، اللہ سبحانہ و تعالٰی کے پیارے انسانو پیار سے جینا ہی جینا ہے کیونکہ
کائنات کی تخلیق کا سبب پیار
کائنات کی حقیقت پیار
کائناتی نظام کی بنیاد پیار
کائناتی اکیل پیار
کائناتی کثرت پیار
زندگی کی کھیتی پیار
گلاب کا کھیت پیار
پھولوں کی مہک میں پیار
بلبل کی چہک میں پیار
سورج کی دھوپ میں پیار
چاند کے روپ میں پیار
سونے کی دمک میں پیار
چاندی کی چمک میں پیار
سارنگی کی تار میں پیار
پانی کی دھار میں پیار
دریا کے شور میں پیار
پانی کے زور میں پیار
بجلی کی چمک میں پیار
بادل کی کڑک میں پیار
پرندوں کی چہچاہٹ میں پیار
پتوں کی سرسراہٹ میں پیار
زمین آسمان کی تسبیح میں پیار
فرشتوں کی تمحید و تقدس میں پیار
نفس کی گہرائیوں میں پیار
آفاق کی پنہائیوں میں پیار
نین کے نور میں پیار
قلب کے سرور میں پیار
محبوب کے حسن میں پیار
محب کے عشق میں پیار
جمال بھی پیار، جلال بھی پیار

لا الہ کی ہستی میں پیار
الا اللہ کی مستی میں پیار
محمد رسول اللہ ﷺ کی حقیقت میں پیار

کائنات کی یہ ساری محفل ‘انسان‘ کے لئے سجائی گئی ہے، انسان کی تخلیق خصوصی طور پر پیار کے لئے لی گئی ہے۔

انسان کا مسلک پیار
دنیا کی حقیقت پیار
نفرت صرف شیطان کا کام ہے، جہاں پیار ہے وہاں نور ہے، جہاں نفرت ہے وہاں ظلمات ہیں۔

پیار تعمیر ہے، نفرت تخریب ہے
پیار کمال ہے، نفرت زوال ہے
پیار آبادی ہے، نفرت بربادی ہے
پیار سکون ہے، نفرت پریشانی ہے
پیار شفا ہے، نفرت بیماری ہے
پیار دوست ہے، نفرت دشمن ہے
پیار بلندی ہے، نفرت پستی ہے
پیار عزت ہے، نفرت ذلت ہے
پیار بندگی ہے، نفرت شرمندگی ہے
پیار ایمان ہے، نفرت کفر ہے
پیار ضمیر ہے، نفرت تکفیر ہے
پیار ابراہیم ہے، نفرت نمرود ہے
پیار موسٰی ہے، نفرت فرعون ہے
پیار عیسٰی ہے، نفرت صلیب ہے
پیار حسین ہے، نفرت یزید ہے

پیار رحمت للعالمین ﷺ ہیں
نفرت ابلیس شیطان رجیم ہے

آئیے پیار کرنا سیکھیں اور پیار کریں! مگر کس سے پیار؟
حقیقی بنیادی طور پر اللہ سبحانہ تعالٰی سے، وہی حسن مطلق ہے، اس کے قرب کی آرزو کا نام پیار ہے، اس کے نور کا نام پیار ہے، جو جتنا پیار کرنے والا ہے اتنا ہی پرنور ہے، لہذا جو عالمیں کو پیار کرنے والے ہیں وہ عالمین سے زیادہ پیارے ہیں۔

جو جتنا پیار والا ہو گا اتنا ہی مقام والا ہو گا۔

جو کتاب پیار سکھاتی ہے وہ پیاری ہے، جو انسان پیار سکھاتا ہے وہ پیارا ہے، جس لمحے میں پیار وہ لمحہ مبارک ہے، جس ذرے میں پیار ہے وہ ذرہ نور ہے، جس قطرے میں پیار ہے وہ قطرہ آب حیات ہے۔

 

 

 

 

 

 

گدائے عشق ہوں نظرانہ دل لے کے آیا ہوں
یہی ہے اک چیز لانے کے قابل لے کر آیا ہوں
رہے جذب و کشش یہ ہوش تک باقی نہیں
کہ مجھے دل لے کے آیا یا میں دل لے کے آیا ہوں
احمد رضا خان بریلوی

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: