موبائیل شوشہ

Posted on 14/04/2007. Filed under: موبائیل زون |

آجکل پاکستان میں موبائیل فون کا ایک نیا شوشہ زبان زد عام ہے، آج صبح ایک دوست آفس میں آیا اور کہا کہ ‘موبائیل فون آجکل احتیاط سے استعمال کریں‘۔ میں نے کہا ‘بھائی بیلنس کی وجہ سے میں ہمیشہ سے ہی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوں کہ تھوڑے سے بیلنس کے ساتھ کچھ دن مزید گزر جائے، نیا کارڈ ڈالنے سے مجھے سخت کوفت ہوتی ہے‘۔
اس نے کہا ‘نہیں یہ بات نہیں، ٠٠٠١١١٨٨٨ کے نمبر سے ایک کال آتی ہے اسے جیسے ہی رسیو کیا جائے موبائیل ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے‘۔
میں نے کہا ‘بھائی ایسا کیسے ہو سکتا ہے موبائیل میں ایسا کون سا دھماکہ خیز مواد ہے جو دھماکے سے پھٹ جائے گا‘۔
میرے ساتھ اور ایک دوست بیٹھا تھا اس نے بھی پہلے دوست کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ ‘واقعی ایسا ہے میں نے جیو ٹی وی پر یہ خبر سنی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں موبائیل دھماکے کی وجہ سے دو آدمیوں کی موت ہو گئی ہے‘۔
میں نے کہا ‘مجھے تو بالکل ہی اس خبر ہر یقین نہیں، کیا یہ خبر آپ نے خود سنی ہے‘۔
دوست نے کہا ‘نہیں میں نے خود تو نہیں سنی مجھے بھی ایک دوست نے اس بارے میں بتایا ہے‘
میں نے کہا ‘کاش ایسا کوئی طریقہ ہوتا تو میں سب سے پہلے دو صدور کو کال کرتا ہے اور اس کے بعد ایک لمبی چوڑی لسٹ بناتا اور ایک گھنٹے میں ہی سب کا صفایا کر دیتا۔‘
دونوں دوستوں نے یک زبان کہا ‘صدور کون کون سے؟‘
میں نے کہا ‘سبھی جانتے ہیں بتانے کا فائدہ ہی کوئی نہیں‘

شام کو ایک رشتے دار کے ہاں جانا ہوا تو وہاں بھی یہی تذکرہ چھڑ گیا، بھانجے نعمان نے تھوڑی تبدیلی کے ساتھ ایک اور واقعہ سنایا کہ موبائیل فون سے ایک کال آتی ہے جیسے ہی اسے رسیو کریں، فون میں سے کوئی شعاعیں نکلتی ہیں جو کان کے ذریعے انسان کے دماغ میں پہنچ جاتی ہیں اور فورا ہی اس انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے، نعمان سے ہی مزید انکشاف ہوا کہ ہمارے ڈیرہ غازی خان میں ہی ١٠ آدمیوں کی اسی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے۔
میں نے پوچھا آپ کو یہ تازہ انفارمیشن کہاں سے ملی ہیں؟
تو کہا ‘ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک دوست میں مجھے اس بارے میں آگاہ کیا ہے، اسی لئے موبائیل کو میں ہاتھ پکڑا ہوا ہے، جیسے ہی اس قسم کی کوئی کال آئے تو اسے بند کر دوں۔
میں نے کہا ‘تم اپنا موبائیل مستقل ہی بند کر دو، جلدی میں کہیں غلطی سے کوئی غلط بٹن پریس ہو گیا تو پھر؟
میری بات سن کر وہ واقعی پریشان ہو گیا، میں اس کی حالت پر مسکراتا ہوا ساتھ ہی ایک دوسرے رشتے دار کے گھر داخل ہوا تو ایک نئی خبر میری منتظر تھی۔
ذولقرنین نے کہا کہ ‘میرے ایک دوست کو ایک میسج ملا ہے جیسے ہی وہ اسے اوپن کرنے کی کوشش کرتا ہے موبائیل فون آف ہو جاتا ہے‘۔
میں نے مسکرا کر کہا اس میں بھی یقینا کوئی ‘شعا‘ بند ہو گی اپنے دوست کو کہو کہ وہ موبائیل کو دیفالٹ سیٹنگ میں لے آئے یا اسے فارمیٹ کرا لے مسلہ حل ہو جائے گا۔
وہاں سے نکل کر گھر کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں ایک اور دوست کا میسیج موصول ہوا جو کچھ یوں ہے۔

The rumors circulating about mobile phone virus harming users are completely
baseless and technically not possible.
Please ignore such messages.

گھر پہنچ کر خبریں سننے کے لئے ٹی وی آن کیا تو جیو اور اے آر وائی ون ورلڈ پر ٹیلی کمیونکیشن اٹھارٹی کی طرف سے یہ وضاعتی پیغام گردش کرتا ہوا نظر آیا ‘موبائیل فون میں انسانی جان کے ضیاع کے لئے کوئی خطرناک وائرس نہیں عوام افواہوں پر کان نہ دھریں‘۔
اس پیغام سے معلوم ہوا یہ شوشہ پورے پاکستان میں چھوڑا گیا ہے، لیکن کیوں اور کس مقصد کے لئے؟
آج ہی کے دن چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت تھی۔
تو کیا یہ شوشہ اس سماعت سے عوام الناس کی توجہ ہٹانے کے لئے چھوڑا گیا ہے یا اس کا کوئی اور مقصد تھا؟

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: