Archive for مئی, 2007

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیان حلفی کا متن

Posted on 31/05/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس, پاکستان, سیاست |

چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے 9مارچ سے 13مارچ تک کے واقعات کے بارے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے 9صفحات پر مشتمل بیان حلفی میں 9مارچ کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

 

بیانِ حلفی جسٹس افتخار محمد چوہدری

 

اے) مدعی نے نو مارچ سن دو ہزار سات تک اس قابل احترام عدالت میں بطور چیف جسٹس آف پاکستان بنچ نمبر ایک کی سربراہی کی اور اس دن ساڑھے دس تک انہوں نے کئی مقدمات کی سماعت کی۔ اس دن وقفے کے بعد مدعی کے سوا باقی بنچ کو دوبارہ مقدمات کی کارروائی شروع کرنی تھی کیونکہ مدعی صدر (مدعا علیہ) سے ملاقات کے لیے آرمی ہاؤس راولپنڈی جا چکے تھے۔

 

بی) مدعی ساڑھے گیارہ بجے اپنے پروٹوکول افسر کے ساتھ آرمی ہاؤس راولپنڈی پہنچا۔ مدعی کو مہمانوں کے کمرے میں لے جایا گیا۔ مدعی کے وہاں پہنچنے کے پانچ منٹ بعد فوجی وردی میں ملبوس مدعا علیہ اپنے ملٹری سیکریٹری اور اے ڈی سی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی مدعا علیہ نے اپنی نشست سنبھالی بہت سے ٹی وی کیمرہ مین اور فوٹو گرافر کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بہت سی تصاویر اتاریں اور فلم بنائی۔

 

سی) مدعا علیہ نے سارک لاء کانفرنس، سارک چیف جسٹس کانفرنس اور سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی کے اختتامی اجلاس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے مدعی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج کی طرف سے شکایت موصول ہوئی ہے۔ اس پر مدعی نے کہا کہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ اس کیس کا فیصلہ دو ججوں نے کیا تھا اور اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ دوسرے ججوں کو بدنیتی سے اس میں کسی طرح ملوث کیا جائے۔ جواب میں مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی کے خلاف کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ یہ کہنے کے بعد مدعا علیہ نے اپنے عملے کو حکم دیا کہ کچھ اور لوگوں کو بلایا جائے۔

 

ڈی) مدعا علیہ کی ہدایت پر کچھ اور لوگ کمرے میں داخل ہوئے۔ ان میں وزیر اعظم، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف اور کچھ دیگر حکام شامل تھے۔ تمام سرکاری اہلکار ( ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف کے علاوہ) وردی میں تھے۔

 

ای) مدعا علیہ کے ہاتھوں میں چند کاغذ کے ٹکڑے تھے جسے انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ان کے پاس کوئی جامع مسودہ نہیں تھا۔ جو الزامات مدعی کے سامنے پیش کیئے گئے وہ نعیم بخاری کی طرف سے ایک بدنام زمانہ خط سے لیے گئے تھے جس میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ مدعی نے ان بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کی اور اسے ذاتی طور پر انہیں اور پوری عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ مدعی نے فوری طور پر ان الزامات کی صداقت اور ان کے معتبر ہونے کی سختی سے تردید کی۔

 

ایف) اس پر مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی نے سپریم کورٹ سے اپنے خاندان والوں کے لیے گاڑیاں حاصل کیں۔ اس الزام کی مدعی نے سختی سے تردید کی۔ مدعا علیہ نے مزید کہا کہ مدعی نے مرسیڈیزگاڑی استعمال کی جس پر مدعی نے فوراً جواب دیا کہ وزیر اعظم یہاں موجود ہیں اور ان سے پوچھا جائے کیونکہ انہوں نے یہ گاڑی بھجوائی تھی۔ وزیراعظم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ مدعا علیہ نے اپنا بیان جاری رکھا اور کہا کہ مدعی نے لاہور ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت کی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے تجویز کردہ بہت سی سفارشات کو ماننے سے انکار کیا یا ان کے اثر کو بالکل زائل کر دیا۔

 

جی) مدعا علیہ نے اصرار کیا کہ مدعی کو استعفٰی دے دینا چاہیے۔ مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی کی طرف سے استعفی پیش کرنے کی صورت میں انہیں کسی دوسرے عہدے پر ’اکاوموڈیٹ‘ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استعفی نہ دینے کی صورت میں مدعی کو ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کے لیے زیادہ شرمناک بات ہوگی۔ مدعی نے بالاخر سختی سے کہا’میں استعفی نہیں دوں گا اور ریفرنس کا سامنا کروں گا کیونکہ میں معصوم ہوں; میں نے کسی ضابطۂ اخلاق یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے; میں سمجھتا ہوں کہ میں خود قانون کا رکھوالا ہوں۔ میں خدا پر مکمل یقین رکھتا ہوں جو میری مدد کرے گا۔‘ اس پر مدعا علیہ غصے میں آ گیا اور وہ غصے میں اپنے ملٹری سیکرٹری، چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم کے ہمراہ کمرے سے یہ کہتے ہوئے نکل گیا کہ دیگر افراد مدعی کو ثبوت دکھا دیں گے ۔(مدعا علیہ نے اس بات کا اعتراف آج ٹی وی چینل سے ایک انٹرویو میں بھی کیا ہے)۔ یہ ملاقات تیس منٹ سے زیادہ جاری نہیں رہی۔

 

ایچ) ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی مدعی کے ساتھ کمرے میں رہ گئے۔ انہوں نے مدعی کو کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔ درحقیقت ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ کسی سرکاری اہلکار کے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے لیکن ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی مدعی کو کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مدعی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں بحیثیت جج تعیناتی کے دوران اپنے بیٹے کے لیے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ ڈی جی آئی بی کے علاوہ وہ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مدعی کو استعفی دے دینا چاہیے جبکہ مدعی نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے اور اس کا مقصد کوئی اور ہے۔

 

آئی) اس کے بعد کئی گھنٹوں تک مدعی کو کمرے میں رکنے پر مجبور کیا گیا۔ کئی مواقع پر مدعی کو کمرے میں تنہا چھوڑ دیا گیا لیکن اسے کمرے سے جانے نہیں دیا گیا۔ یہ بالکل واضح تھا کہ مدعی کی کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے جب کبھی اس نے کمرے سے باہر جانے کی کوشش کی اسے ایک فوجی افسر نے نے باہر جانے سے روک دیا۔ کئی مرتبہ مدعی نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی اور ہر مرتبہ انہیں فوجی حکام نے انتظار کرنے یا رکنے کے لیے کہا۔ ایک مرحلے پر مدعی کو یہ بھی کہا گیا کہ مدعا علیہ ان سے دوبارہ ملاقات کرے گا۔ ایک اور موقع پر مدعی نے درخواست کی کہ وہ اپنے پرٹوکول افسر سے بات کرنا چاہتے ہیں اس لیے کم از کم انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی جائے لیکن مدعی کو بتایا گیا کہ وہ اندر نہیں آ سکتے۔ اس پر مدعی نے کہا کہ ان کے سٹاف افسر کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ وہ ان کے گھر والوں کو بتا دیں کہ وہ آرمی ہاؤس راولپنڈی میں موجود ہیں اور ان کا لاہور جانے کا پروگرام منسوخ ہو گیا ہے۔

 

جے) مدعی نے کئی مرتبہ کمرے سے نکل کر آرمی ہاؤس سے باہر آنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی گاڑی کو پورچ میں بلوانے کی درخواست کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ مدعا علیہ کے ساتھ آدھ گھنٹہ کی ملاقات کے بعد مدعی کو پانچ بجے تک بالکل اس کی مرضی کے خلاف وہاں رکھا گیا۔

 

کے) پانچ بجے کے بعد ڈی جی ایم آئی دوبارہ کمرے میں آئے اور انہیں بتایا کہ ان کی کار تیار ہے اور وہ گھر جاسکتے ہیں۔ ڈی جی ایم آئی کمرے سے باہر آئے اور کمرے سے باہر آنے کے بعد مدعی کو کہا کہ یہ ان کے لیے ایک برا دن تھا، اب آپ کو ایک مختلف راستہ اختیار کرنا ہوگا اور آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کو بطور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔

 

ایل) مدعی نے جب اپنی گاڑی دیکھی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی کار سے پاکستان اور عدلیہ دونوں کے جھنڈے اتار لیے گئے ہیں ۔ مدعی کے سٹاف افسر نے اسے مطلع کیا کہ جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے اور یہ ٹی وی پر دکھا دیا گیا ہے۔ مدعی کے ڈرائیور نے بتایا کہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مدعی کو سپریم کورٹ نہ لے جائے بلکہ سیدھا گھر جائے۔

 

ایم) مدعی نے راستے میں ڈرائیور کو سپریم کورٹ جانے کو کہا لیکن سپورٹس کمپلیکس کے پاس ایک فوجی افسر نے اس کی گاڑی کو آگے جانے سے روک دیا۔ دریں اثناء ایس پی اسلام آباد طارق مسعود یاسین بھی آگئے۔ انہوں نے مدعی کے ڈرائیور کو باہر آنے کا حکم دیا اورگن مین کو بھی گاڑی سے اتر جانے کو کہا۔ مدعی نے اس پر کہا کہ’میں سپریم کورٹ نہیں جاؤں گا لیکن میرا ڈرائیور گاڑی چلائےگا اور میرے گن مین کو میرے ساتھ جانے دیا جائے‘۔ جب کہیں طارق مسعود یاسین ایس پی اس بات پر تیار ہوئے کہ مدعی کا ڈرائیور ہی گاڑی چلاتا رہے۔

 

این) مدعی پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر گھر پہنچا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے گھر پر سادہ کپڑوں میں پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ مدعی کو یہ بھی پتا چلا کہ ان کے گھر کے فون کاٹ دیئے گئے ہیں، موبائل فون، ٹی وی کیبل اور انٹرنیٹ لائن کو جام کر دیا گیا تھا۔ مدعی اور اس کے اہلخانہ کئی دن تک باہر کی دنیا سے بالکل کٹے رہے۔

 

او) نو مارچ کو دس بجے رات تک مدعی کے زیرِاستعمال تمام گاڑیوں کو جن میں مرسیڈیز بھی شامل تھی، لفٹر کے ذریعے اٹھوا لیا گیا۔ اسی رات ایک گاڑی واپس کر دی گئی لیکن اس کی چابیاں نہ مدعی کو نہ ہی اس سے متعلق کسی اور شخص کو دی گئیں۔

 

پی) دس مارچ دوہزار سات کو مدعی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ایک نوٹس موصول ہوا جس سے مدعی کو معلوم ہوا کہ مدعا علیہ کی طرف سے کونسل کے سامنے ان کے خلاف ریفرنس نمبر 43/2007 دائر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کونسل کے ایک حکم کی کاپی بھی تھی جس کے تحت مدعی کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر اور چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس نوٹس کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کی کاپی بھی نتھی تھی لیکن اس کے ساتھ مدعی کی آگاہی کے لیے کوئی معاون دستاویز مہیا نہیں کی گئی تھی۔

 

کیو) مدعی کے لیے یہ امر بھی حیران کن تھا کہ مذکورہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے نو مارچ سن دو ہزار سات کو شام چھ بجے ’غیر مہذب جلد بازی‘ میں سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ کونسل کے دو ارکان کو جیسا کہ نوائے وقت کے مارچ دس دو ہزار سات کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا، خصوصی پروازوں کے ذریعے لاہور اور کراچی سے اسلام آباد پہنچایا گیا تاکہ وہ کونسل کی کارروائی میں شرکت کر سکیں۔حقیقتاً کونسل کے سیکرٹری فقیر حسین کی طرف سے کونسل کے اجلاس کے بارے میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ کسی کو کونسل کے اجلاس کا ایجنڈہ اور اس کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔

 

آر) کونسل نے مواد کی جانچ پڑتال اور مدعی کو نوٹس بھیجنے کی بجائے(مدعی کے حقوق سے تعصب برتے بنا جیسا کہ مدعی کی پٹیشن میں کہا گیا) ایک حکم جاری کیا جو نہ صرف مدعی بلکہ اس ادارے کے حق میں نقصان دہ تھا۔مدعی کو بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان اور بطور چیف جسٹس آف پاکستان کام کرنے سے روک دیا گیا۔

 

ایس) مدعی کے مطابق اسے اس کے اہلِ خانہ سمیت جن میں سات برس کا ایک بچہ بھی تھا، نو مارچ 2007 کی شام سے تیرہ مارچ 2007 تک زیرِ حراست رکھا گیا۔ مدعی اور اس کے خاندان کی ذاتی اور نجی زندگی کو دھچکا پہنچا اور ایسا محسوس ہوا کہ لفظ پرائیویسی کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ مدعی کوئی گاڑی بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ کوئی گاڑی تھی ہی نہیں۔ مدعی کو سڑک کے دوسرے کنارے تک پیدل جانا پڑا جہاں پولیس افسر نے اسے روکا اور اس سے بدسلوکی کی جیسا کہ جوڈیشل انکوائری میں ثابت ہو چکا ہے۔

 

ٹی) مدعی کے ساتھ کام کرنے والا سپریم کورٹ کا عملہ لاپتہ ہو گیا اور اسے کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا اوراس عملے کی مدد سے مدعی کے خلاف ثبوت گھڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہاں تک کہ مدعی کی رہائش گاہ پر کام کرنے والے افراد کو بھی کچھ ایجنسیوں کے حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہیں دو یا تین دن بعد رہا کردیا گیا۔ سبزی والے کو سبزی لانے کی اجازت نہ دی گئی اور اسے انتظار کرنا پڑا یہاں تک کہ ایجنسی کا آدمی اس کے ساتھ بازار گیا اور واپس آیا۔

 

یو) مدعی کے چیمبر یا کمرے کو سربمہر کیا گیا اور وہاں رکھی کچھ فائلیں اٹھا لی گئیں اور کچھ کو نئے رجسٹرار کی زیر نگرانی آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح کا عمل عدلیہ کی روایات اور اقدار کے خلاف ہے۔ مدعی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہونے کے ناطے اپنا کمرہ اور سٹاف رکھنے کا حق حاصل ہے۔

 

وی) بھاری نفری کی تعیناتی کی وجہ سے کسی کو مدعی سے آزادانہ طور پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔یہاں تک کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی اس تک رسائی نہ تھی۔ اسی عدالت کے ایک ریٹائرڈ جج جسٹس منیر اے شیخ کو بھی مدعی سے ملنے نہ دیا گیا۔

 

ڈبلیو) ان مشکل حالات کو مدعی نے اکیلے نہیں سہا۔ اس کے بچوں کو سکول، کالج، اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہ تھی۔ مدعی اور اس کے اہلِ خانہ کو بنیادی ادویات اور ڈاکٹرز جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم کر دیا گیا۔

 

ایکس) کونسل کے احکامات کے باوجود مدعی کو ریفرنس کے قانونی معاملات پر اپنے وکلاء کے مشورے کے حق سے محروم رکھا گیا۔مدعی اور اس کے خاندان کو ایسی سخت ذہنی، جسمانی اور جذباتی مشکلات، ٹارچر، شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جسے بیان کرنے لیے الفاظ میسر نہیں۔

 

وائی) یہ تمام چالیں مدعی پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کی گئی تھیں کہ شاید وہ دباؤ میں آ کر چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے استعفی دے دے لیکن تیرہ مارچ 2007 کے بعد کونسل کے سامنے مختصر حاضری کے دوران مدعی کم از کم اپنے وکلاء کی ٹیم سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا اور سولہ مارچ 2007 کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ میں کسی قدر کمی آگئی۔

 

زیڈ) مدعی کو یقین ہے کہ ان کے پورے گھر میں جاسوسی کے آلات نصب ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے بالکل سامنے سندھ ہاؤس میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور پولیس نے مستقل جگہ بنا لی ہے جہاں سے وہ ان کے گھر آنے جانے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

اے اے) اوپر بیان کیے گئے تمام حقائق کی روشنی میں مدعی کے بچے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ وہ اسکول یا یونیورسٹی نہیں جا سکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جہاں میری بیٹیوں میں سے ایک فیڈرل بورڈ کے فرسٹ ائیر کے امتحانات نہیں دے سکی وہاں میری دوسری بیٹی کو جو بحریہ یونیورسٹی کی طالب علم ہے، دوران تعلیم حاضری میں کمی کے باعث اپنے فرسٹ سمسٹر میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ میں جن حالات سے گزر رہا ہوں اس کی وجہ سے میرا نوعمر بیٹا بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنے سکول جا سکے۔

 

 

 

بشکریہ ۔ رزونامہ جنگ، بی بی سی اردو

 

 

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

امریکی نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی بغیر باپ کے ماں بن گئی

Posted on 29/05/2007. Filed under: رسم و رواج |

امریکی نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی میری چینی بغیر باپ کے ماں بن گئی ڈاکٹروں نے پیدا ہونے والے بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ اس کی پیدائش میں کسی مرد کا کوئی کردار نہیں، 38 سالہ میری چینی ہم جنس پرست ہے اس نے 15سال سے اپنی شریک حیات ہیتھر پوئی کے ساتھ زندگی گزارنے کا اعلان کیا تھا گزشتہ روز اس کے ہاں ریاست مونٹونا کے شہر فراسٹ بائٹ فال کے نکسن ہسپتال میں لڑکا پیدا ہوا تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ حاملہ کس طرح ہوئی اس پر پورے ہسپتال میں تھرتھلی مچ گئی۔ بچے کا فوری ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا تو مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے امریکی نائب صدر نے ایئرفورس 2طیارے بھیج کر ڈاکٹروں کو بلوایا اور ان سے ہنگامی ملاقات کی ڈاکٹر فلیز برگ نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ مکمل طور پر ماں سے بنا ہے اس میں کسی مرد کا عمل دخل نہیں ڈاکٹروں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں سے عورتوں میں ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں عالمی درجہ حرارت اس کا ذمہ دار ہے ڈاکٹر فلیزبرگ کے بقول رینگنے والے جانوروں (سانپ ، چھپکلی) وغیرہ میں ایسی پیدائشیں ہوتی رہتی ہیں لہٰذا انسانوں میں اس پیدائش کو بھی غیر معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے نومولود کا وزن ساڑھے8 پونڈ ہے اس کا نام مموئیل ڈیوڈ چینی رکھا گیا ہے نانا نانی نے اسے قبول کر لیا ہے۔

 

بحوالہ روزنامہ جناح

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آئین کی دفعہ ٢٠٩ ۔ جس کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔

Posted on 28/05/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس |

دفعہ ٢٠٩ اعلٰی عدالتی کونسل
١۔ پاکستان کی ایک اعلٰی عدالتی کونسل ہو گی، جس کا حوالہ اس باب میں کونسل کے طور پر دیا گیا ہے۔
٢۔ کونسل مندرجہ ذیل پر مشتمل ہو گی۔
الف۔ چیف جسٹس پاکستان
ب۔ عدالت عظمٰی کے دو مقدم ترین جج اور
ج۔ عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹس۔

 

تشریح
اس شق کی غرض کے لئے عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹوں کا باہم دیگر تقدیم چیف جسٹس کے طور پر (بجز بہ حیثیت قائم مقام چیف جسٹس) ان کے تقرر کی تاریخوں کے حوالے سے اور اگر ایسے تقرر کی تاریخیں ایک ہی ہوں تو کسی عدالت عالیہ میں ججوں کے طور پر ان کے تقرر کی تاریخوں کے حوالے سے متعین کیا جائے گا۔

 

٣۔ اگر کسی وقت کونسل کے ایسے جج کی اہلیت یا طرز عمل کی تحقیقات کر رہی ہو، جو کونسل کا رکن ہو، یا کونسل کا کوئی رکن حاضر نہ ہو، یا بوجہ علالت یا کسی دوسری وجہ سے کام کرنے کے قابل نہ ہو تو۔۔۔
الف۔ اگر ایسا رکن عدالت عظمٰی کا ہو، تو عدالت عظمٰی کا وہ جج جو شق (٢) کے پیرا (ب) میں محولہ ججوں کے بعد مقدم ترین ہو، اور
ب۔ اگر ایسا رکن کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس ہو، تو کسی دوسری عدالت عالیہ کا اس کی بجائے کونسل کے رکن کی حیثیت سے کام کرے گا۔

 

٤۔ اگر کسی ایسے معاملے پر جس کی تحقیق کونسل نے کی ہو، اس کے ارکان میں کوئی اختلاف رائے ہو، تو اکثریت کی رائے غالب رہے گی اور صدر کو کونسل کی رپورٹ اکثریت کے نقطہ نظر کے اعتبار سے پیش کی جائے گی۔

 

٥۔ اگر کونسل کی طرف سے یا کسی اور ذریعے سے موصول شدہ اطلاع پر، صدر کی یہ رائے ہو کہ ممکن ہے کہ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج ۔۔۔
الف۔ جسمانی یا دماغی معذوری کی وجوہ سے اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی مناسب انجام دہی کے قابل نہ رہا ہو، یا
ب۔ بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو!
تو صدر کونسل کو ہدایت کرے گا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے۔

 

٦۔ اگر معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد کونسل صدر کو رپورٹ پیش کرے کہ اس کی یہ رائے ہے۔
الف۔ کہ وہ جج اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی انجام دہی کے نا قابل ہے یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے، اور
ب۔ کہ اسے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے۔
تو صدر اس جج کو عہدے سے برطرف کر سکے گا۔

 

٧۔ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کے جج کو، بجز جس طرح اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے، عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔

 

٨۔ کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گا، جس کو عدالت عظمٰی اور عدالت ہائے عالیہ کے جج ملحوظ رکھیں گے۔

 

شرح
اعلٰی عدالتی کونسل چیف جسٹس پاکستان، عدالت عظمٰی کے دو مقدم ترین ججوں اور عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹسوں پر مشتمل ہے اور اس کے دو طرح کے فرائض ہیں۔
الف۔ عدالت عظمٰی اور عدالت ہائے عالیہ کے ججوں کے لئے ضابطہ اخلاق تیار کرنا۔
ب۔ عدالت عظمٰی یا عدالت عالیہ کے کسی جج جسمانی یا دماغی معذوری یا بدعنوانی کے الزام پر مشتمل صدارتی ریفرنس ملنے پر اس معاملے کی تحقیقات کرنا۔
اگر صدر مملکت کو کونسل کی جانب سے یا کسی اور ذریعے سے یہ اطلاع ملے کہ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہونے کی صورت میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے قابل نہیں رہا، یا وہ بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے تو صدر اس کی تحقیقات کے لئے کونسل کو حکم دے گا۔ ایسی تحقیات کے نتیجے میں الزام ثابت ہو جانے پر صدر مملکت ایسے جج کو برطرف کر سکے گا۔ عدالت عظمٰی یا عدالت عالیہ کے کسی جج کو صرف اس آرٹیکل کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی برطرف کیا جا سکتا ہے۔
اگر اس آرٹیکل کے مطابق ریفرنس کسی رکن کونسل کے بارے میں ہو تو کسی دیگر مقدم ترین جج کو اس کونسل کا رکن مقرر کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر ریفرنس کسی رکن چیف جسٹس عدالت عالیہ کے بارے میں ہو تو اس کی جگہ پر کسی دوسری عدالت عالیہ کے جج کو جو دوسرے پر مقدم ہر رکن مقرر کیا جائے گا۔

 

نوٹ۔ یہ متن کتاب ‘شرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور‘ سے لیا گیا ہے، جس کا مفہومی ترجمہ جسٹس (ر) محمد منیر، سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کیا ہے۔

 

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کیا حال سناواں دل دا

Posted on 25/05/2007. Filed under: شعروادب |

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا
منہہ دھوڑ مٹی سر پایم
سارا ننگ نمود ونجایم
کوئی پچھن ویہڑے نہ آیم
ھتھوں الٹا عالم کھلدا

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا

 

آیا بار برہوں سِر باری
لگی ھو ھو شہر خواری
روندے عمر گذاریم ساری
ناں پایم ڈس منزل دا

 

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا

 

دل یار کِتے کرلاوے
تڑپھاوے تے غم کھاوے
ڈکھ پاوے سُول نہاوے
ایہو طَور تیڈے بیدل دا

 

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا

 

کئی سہنس طبیب کماون
سئے پڑیاں گھول پیاون
میڈے دل دا بھید پاون
پوے فرق نہیں ھِک تِل دا

 

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا

 

پنھو ہوت نہ کھڑ مو کلایا
چھڈ کلہڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان پچھان رُلایا
کوڑا عذر نبھایم گھلدا

 

کوئی محرم راز نہ ملدا
کیا حال سناواں دل دا

خواجہ غلام فرید

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

چلو چلو سٹیڈیم چلو

Posted on 24/05/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ, سیاست |

آج صدر جنرل پرویز مشرف ڈیرہ غازی خان ایک جلسے سے خطاب فرمائیں گے، پورا شہر خوش آمدید کے بینروں سے بھرا ہو ہے، ہر طرف چلو چلو سٹیڈیم چلو کے نعرے لکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں خطاب کے بعد صدر صاحب راجن پور میں فرید بیس پر معززین سے ملاقات کریں گے اور ساتھ ہی انڈس ہائے وے کا افتتاح بھی کریں گے۔
ہمارے صدر صاحب نے جو خطابوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے اور کچھ ہو نا ہو حکومتی خزانے پر بہت برا اثر پڑے گا۔ اب یہی دیکھ لیں صدر کے جلسے میں تیار کے گئے ائرکنڈیشنز پنڈال پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئی ہے، شرکاء میں پارسل کھانے کی تقسیم اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔
جسلہ گاہ انتظامات مکمل طور پر پاک فوج نے سنبھالے ہوئے ہیں۔ کل شام اور آج صبح اسلام آباد ہیلی کاپٹر پر عملہ آیا اور جلسہ گاہ کے انتظامات کا جائزہ لیکر واپس چلا گیا۔ جلسہ گاہ کے اطراف کی رہائشی آبادیوں ماڈل ٹاؤن، رکن آباد کالونی، بھٹہ کالونی اور پروفیسرز کالونی میں سیکڑوں پولیس اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ آنے جانے والے تمام افراد کو مکمل طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔ جبکہ آج علی الصبح فیصل چوک آؤٹ ایجنسی سے گدائی چوک تک، نیو کالج روڈ چوک سے پل ڈاٹ تک اور جام پور روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری اور ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری میں ‘ان بن‘ کی وجہ سے جلسہ گاہ جلسہ گاہ کے پنڈال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں دائیں طرف سردار فاروق احمد خان لغاری گروپ اور بائیں طرف ضلع ناظم گروپ اپنے خیر مقدمی بینروں سمیت موجود ہوں گے۔ سٹیج پر پانچ کرسیاں فرنٹ پر اور باقی کرسیاں پیچھے کی طرف لگائی گئی ہیں جو ایم این اے اور ایم پی ایز کے لئے مختص ہوں گی۔ سٹیج پر صدر کے لئے گرین لائن اور ہاٹ لائن فون بھی نصب کر دیئے ہیں۔ ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری صدر مشرف کو مقامی بلوچی ثقافت کے حوالے سے پگڑی پہنائیں گے۔
جلسے میں عوم کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لئے ہر ناظم کو دس گاڑیاں دی گئی ہے، ہمارے ایک جاننے والے ناظم صاحب نے کہا ہے کہ دس گاڑیاں تو مل گئی ہیں پر اس میں بیھٹنے والے لوگ کہاں سے لاؤں، کوئی بھی جلسہ گاہ جانے کو تیار نہیں، میں نے اپنے علاقے کے لوگوں سے جب اس بارے میں کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘گوڈا توں ساکوں مرواون چاہدیں (جناب آپ ہمیں مروانا چاہتے ہیں کیا؟)۔
صدر کا خطاب اپنی جگہ، مگر اس کی وجہ سے عوام جو مسلسل پانچ چھ روز سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی۔ شہر کی پوری ٹرانسپورٹ سرکاری قبضے میں ہونے کی وجہ سے مسافر بیچارے ١٠ روپے والے سفر پر ١٠٠ روپے کرایہ دینے پر مجبور ہیں، ان کی دعائیں اور بددعائیں کس کے سر ہوں گی جسلہ گاہ میں آج اگر اس کا بھی حساب ہو جائے تو ۔۔۔۔۔۔ ؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں

Posted on 23/05/2007. Filed under: وڈیو زون, شعروادب |

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=fW234ZYvHAM%5D

میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں
میڈا دین وی توں میڈا ایمان وی توں
میڈا جسم وی توں میڈا روح وی توں
میڈا قلب وی توں،جند جان وی توں
میڈا کعبہ قبلہ مسجد ممبر مُصحف تے قرآن وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں ، صوم صلاۃ اذان وی توں
میڈا ذکر وی توں میڈا فکر وی توں ، میڈا ذوق وی توں وجدان وی توں
میڈا سانول مٹھڑا شام سلونڑا من موہن جانان وی توں
میڈا مرشد ھادی پیر طریقت شیخ حقائق دان وی توں
میڈی آس امید تے کھٹیا وٹیا تکیہ مانڑ تے ترانڑ وی توں
میڈا دھرم وی توں میڈا بھرم وی توں میڈی شرم وی توں مینڈی شان وی توں
میڈا ڈُکھ سُکھ رووَنڑ کھلنڑ وی توں میڈا درد وی توں درمان وی توں
میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں ، میڈے سولاں دا سامان وی توں
میڈا حُسن تے بھاگ سُہاگ وی توں میڈا بخت تے نام و نشان وی توں
میڈا ڈیکھنڑ بھالنڑ جاچنڑ جوچنڑ ، سمجھنڑ جانڑ سُنجانڑ وی توں
میڈے تھدڑے ساہ تے مونجھ مُنجھاری ہنجنڑوں دے طوفان وی توں
میڈے تلک تلوے سیندھاں مانگھاں ناز نہورے تان وی توں
میڈی مہندی کجل مُساگ وی توں، میڈی سُرخی بیڑا پان وی توں
میڈی وحشت جوش جنون وی توں ، میڈا گِریہ آہ و فغان وی توں
میڈا شعر عروض قوالی وی توں، مینڈا بحر وی توں اوذان وی توں
میڈا اول آخر اندر باہر ، ظاہر تے پنہاں وی توں
میڈا فردا تے دیرزوی وی توں ، الیوم وی توں الان وی توں
میڈا بادل برکھا ، کھمڑیاں گاجاں بارش تے باران وی توں
میڈا ملک ملیر تے مارو تھلڑا روہی چولستان وی توں
جے یار فرید قبول کرے سرکار وی توں سلطان وی توں
نہ تاں کہترا کمترا حقر ادنےٰ ، لاشئے لا امکان وی توں

کلام ۔ حضرت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن شریف
آواز ۔ پٹھانے خان مرحوم

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ندائے غیب

Posted on 22/05/2007. Filed under: شعروادب |

1979ء میں لکھی گئی فیض احمد فیض کی نظم ”ندائے غیب“

ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو
کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اُٹھے گا جب جَمّ سرفروشاں
پڑیں گے دارو رَسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہوگا

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پہلا دھچکا

Posted on 22/05/2007. Filed under: سیاست |

١٢ مئی کے بعد حکومت کو پہلا دھچکا، سابق وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی نے ٢١ مئی کو مسلم لیگ کی بنیادی رکنیت سے استعفٰی دے دیا ہے، میرظفراللہ خان جمالی نے اپنے استعفٰی کے ساتھ چار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ بھی پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے ہم رکن ہیں انہیں کسی بھی معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور تمام فیصلے یکطرفہ کئے جا رہے ہیں انہوں نے پارٹی کی تمام پالیسیوں پہ عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے بحران کے بعد پارٹی کی ساکھ خراب ہوئی ہے، ١٢ مئی کو جب کراچی میں لاشیں گر رہی تھیں تو اسلام آباد میں جشن کا سماں تھا۔ واضع رہے کہ میرظفراللہ خان جمالی حکومتی صفحوں میں سے وہ پہلے شخص ہیں جہنوں نے ١٢ مئی کے واقعہ پر حکومتی پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ورنہ تو تمام وزراء جی حضوری میں میں نمبر بنانے کے چکر میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جمالی صاحب آگے کا کیا لائحہ عمل ہے، کیا وہ کھل کر حکومت کے سامنے آتے ہیں یا کچھ ‘لےدے‘ کے آنے والے الیکشن کی تیاری میں لگ جائیں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہم ہیں اسلام کی بیٹیاں

Posted on 21/05/2007. Filed under: اسلام |

اس بارے میں آپ کی کیا سوچ ہے، اپنی سوچ کو تبصرے کی صورت دیجئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اکیلی جان اور دشمن ہزار

Posted on 19/05/2007. Filed under: سیاست |

اس تصویر کو دیکھ کر پہلا خیال جو آپ کے ذہن میں آتا ہے اسے تبصرے میں شامل کیجیئے۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...