چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیان حلفی کا متن

Posted on 31/05/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس, پاکستان, سیاست |

چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے 9مارچ سے 13مارچ تک کے واقعات کے بارے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے 9صفحات پر مشتمل بیان حلفی میں 9مارچ کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

 

بیانِ حلفی جسٹس افتخار محمد چوہدری

 

اے) مدعی نے نو مارچ سن دو ہزار سات تک اس قابل احترام عدالت میں بطور چیف جسٹس آف پاکستان بنچ نمبر ایک کی سربراہی کی اور اس دن ساڑھے دس تک انہوں نے کئی مقدمات کی سماعت کی۔ اس دن وقفے کے بعد مدعی کے سوا باقی بنچ کو دوبارہ مقدمات کی کارروائی شروع کرنی تھی کیونکہ مدعی صدر (مدعا علیہ) سے ملاقات کے لیے آرمی ہاؤس راولپنڈی جا چکے تھے۔

 

بی) مدعی ساڑھے گیارہ بجے اپنے پروٹوکول افسر کے ساتھ آرمی ہاؤس راولپنڈی پہنچا۔ مدعی کو مہمانوں کے کمرے میں لے جایا گیا۔ مدعی کے وہاں پہنچنے کے پانچ منٹ بعد فوجی وردی میں ملبوس مدعا علیہ اپنے ملٹری سیکریٹری اور اے ڈی سی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی مدعا علیہ نے اپنی نشست سنبھالی بہت سے ٹی وی کیمرہ مین اور فوٹو گرافر کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بہت سی تصاویر اتاریں اور فلم بنائی۔

 

سی) مدعا علیہ نے سارک لاء کانفرنس، سارک چیف جسٹس کانفرنس اور سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی کے اختتامی اجلاس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے مدعی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج کی طرف سے شکایت موصول ہوئی ہے۔ اس پر مدعی نے کہا کہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ اس کیس کا فیصلہ دو ججوں نے کیا تھا اور اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ دوسرے ججوں کو بدنیتی سے اس میں کسی طرح ملوث کیا جائے۔ جواب میں مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی کے خلاف کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ یہ کہنے کے بعد مدعا علیہ نے اپنے عملے کو حکم دیا کہ کچھ اور لوگوں کو بلایا جائے۔

 

ڈی) مدعا علیہ کی ہدایت پر کچھ اور لوگ کمرے میں داخل ہوئے۔ ان میں وزیر اعظم، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف اور کچھ دیگر حکام شامل تھے۔ تمام سرکاری اہلکار ( ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف کے علاوہ) وردی میں تھے۔

 

ای) مدعا علیہ کے ہاتھوں میں چند کاغذ کے ٹکڑے تھے جسے انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ان کے پاس کوئی جامع مسودہ نہیں تھا۔ جو الزامات مدعی کے سامنے پیش کیئے گئے وہ نعیم بخاری کی طرف سے ایک بدنام زمانہ خط سے لیے گئے تھے جس میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ مدعی نے ان بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کی اور اسے ذاتی طور پر انہیں اور پوری عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ مدعی نے فوری طور پر ان الزامات کی صداقت اور ان کے معتبر ہونے کی سختی سے تردید کی۔

 

ایف) اس پر مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی نے سپریم کورٹ سے اپنے خاندان والوں کے لیے گاڑیاں حاصل کیں۔ اس الزام کی مدعی نے سختی سے تردید کی۔ مدعا علیہ نے مزید کہا کہ مدعی نے مرسیڈیزگاڑی استعمال کی جس پر مدعی نے فوراً جواب دیا کہ وزیر اعظم یہاں موجود ہیں اور ان سے پوچھا جائے کیونکہ انہوں نے یہ گاڑی بھجوائی تھی۔ وزیراعظم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ مدعا علیہ نے اپنا بیان جاری رکھا اور کہا کہ مدعی نے لاہور ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت کی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے تجویز کردہ بہت سی سفارشات کو ماننے سے انکار کیا یا ان کے اثر کو بالکل زائل کر دیا۔

 

جی) مدعا علیہ نے اصرار کیا کہ مدعی کو استعفٰی دے دینا چاہیے۔ مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی کی طرف سے استعفی پیش کرنے کی صورت میں انہیں کسی دوسرے عہدے پر ’اکاوموڈیٹ‘ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استعفی نہ دینے کی صورت میں مدعی کو ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کے لیے زیادہ شرمناک بات ہوگی۔ مدعی نے بالاخر سختی سے کہا’میں استعفی نہیں دوں گا اور ریفرنس کا سامنا کروں گا کیونکہ میں معصوم ہوں; میں نے کسی ضابطۂ اخلاق یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے; میں سمجھتا ہوں کہ میں خود قانون کا رکھوالا ہوں۔ میں خدا پر مکمل یقین رکھتا ہوں جو میری مدد کرے گا۔‘ اس پر مدعا علیہ غصے میں آ گیا اور وہ غصے میں اپنے ملٹری سیکرٹری، چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم کے ہمراہ کمرے سے یہ کہتے ہوئے نکل گیا کہ دیگر افراد مدعی کو ثبوت دکھا دیں گے ۔(مدعا علیہ نے اس بات کا اعتراف آج ٹی وی چینل سے ایک انٹرویو میں بھی کیا ہے)۔ یہ ملاقات تیس منٹ سے زیادہ جاری نہیں رہی۔

 

ایچ) ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی مدعی کے ساتھ کمرے میں رہ گئے۔ انہوں نے مدعی کو کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔ درحقیقت ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ کسی سرکاری اہلکار کے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے لیکن ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی مدعی کو کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مدعی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں بحیثیت جج تعیناتی کے دوران اپنے بیٹے کے لیے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ ڈی جی آئی بی کے علاوہ وہ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مدعی کو استعفی دے دینا چاہیے جبکہ مدعی نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے اور اس کا مقصد کوئی اور ہے۔

 

آئی) اس کے بعد کئی گھنٹوں تک مدعی کو کمرے میں رکنے پر مجبور کیا گیا۔ کئی مواقع پر مدعی کو کمرے میں تنہا چھوڑ دیا گیا لیکن اسے کمرے سے جانے نہیں دیا گیا۔ یہ بالکل واضح تھا کہ مدعی کی کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے جب کبھی اس نے کمرے سے باہر جانے کی کوشش کی اسے ایک فوجی افسر نے نے باہر جانے سے روک دیا۔ کئی مرتبہ مدعی نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی اور ہر مرتبہ انہیں فوجی حکام نے انتظار کرنے یا رکنے کے لیے کہا۔ ایک مرحلے پر مدعی کو یہ بھی کہا گیا کہ مدعا علیہ ان سے دوبارہ ملاقات کرے گا۔ ایک اور موقع پر مدعی نے درخواست کی کہ وہ اپنے پرٹوکول افسر سے بات کرنا چاہتے ہیں اس لیے کم از کم انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی جائے لیکن مدعی کو بتایا گیا کہ وہ اندر نہیں آ سکتے۔ اس پر مدعی نے کہا کہ ان کے سٹاف افسر کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ وہ ان کے گھر والوں کو بتا دیں کہ وہ آرمی ہاؤس راولپنڈی میں موجود ہیں اور ان کا لاہور جانے کا پروگرام منسوخ ہو گیا ہے۔

 

جے) مدعی نے کئی مرتبہ کمرے سے نکل کر آرمی ہاؤس سے باہر آنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی گاڑی کو پورچ میں بلوانے کی درخواست کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ مدعا علیہ کے ساتھ آدھ گھنٹہ کی ملاقات کے بعد مدعی کو پانچ بجے تک بالکل اس کی مرضی کے خلاف وہاں رکھا گیا۔

 

کے) پانچ بجے کے بعد ڈی جی ایم آئی دوبارہ کمرے میں آئے اور انہیں بتایا کہ ان کی کار تیار ہے اور وہ گھر جاسکتے ہیں۔ ڈی جی ایم آئی کمرے سے باہر آئے اور کمرے سے باہر آنے کے بعد مدعی کو کہا کہ یہ ان کے لیے ایک برا دن تھا، اب آپ کو ایک مختلف راستہ اختیار کرنا ہوگا اور آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کو بطور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔

 

ایل) مدعی نے جب اپنی گاڑی دیکھی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی کار سے پاکستان اور عدلیہ دونوں کے جھنڈے اتار لیے گئے ہیں ۔ مدعی کے سٹاف افسر نے اسے مطلع کیا کہ جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے اور یہ ٹی وی پر دکھا دیا گیا ہے۔ مدعی کے ڈرائیور نے بتایا کہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مدعی کو سپریم کورٹ نہ لے جائے بلکہ سیدھا گھر جائے۔

 

ایم) مدعی نے راستے میں ڈرائیور کو سپریم کورٹ جانے کو کہا لیکن سپورٹس کمپلیکس کے پاس ایک فوجی افسر نے اس کی گاڑی کو آگے جانے سے روک دیا۔ دریں اثناء ایس پی اسلام آباد طارق مسعود یاسین بھی آگئے۔ انہوں نے مدعی کے ڈرائیور کو باہر آنے کا حکم دیا اورگن مین کو بھی گاڑی سے اتر جانے کو کہا۔ مدعی نے اس پر کہا کہ’میں سپریم کورٹ نہیں جاؤں گا لیکن میرا ڈرائیور گاڑی چلائےگا اور میرے گن مین کو میرے ساتھ جانے دیا جائے‘۔ جب کہیں طارق مسعود یاسین ایس پی اس بات پر تیار ہوئے کہ مدعی کا ڈرائیور ہی گاڑی چلاتا رہے۔

 

این) مدعی پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر گھر پہنچا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے گھر پر سادہ کپڑوں میں پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ مدعی کو یہ بھی پتا چلا کہ ان کے گھر کے فون کاٹ دیئے گئے ہیں، موبائل فون، ٹی وی کیبل اور انٹرنیٹ لائن کو جام کر دیا گیا تھا۔ مدعی اور اس کے اہلخانہ کئی دن تک باہر کی دنیا سے بالکل کٹے رہے۔

 

او) نو مارچ کو دس بجے رات تک مدعی کے زیرِاستعمال تمام گاڑیوں کو جن میں مرسیڈیز بھی شامل تھی، لفٹر کے ذریعے اٹھوا لیا گیا۔ اسی رات ایک گاڑی واپس کر دی گئی لیکن اس کی چابیاں نہ مدعی کو نہ ہی اس سے متعلق کسی اور شخص کو دی گئیں۔

 

پی) دس مارچ دوہزار سات کو مدعی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ایک نوٹس موصول ہوا جس سے مدعی کو معلوم ہوا کہ مدعا علیہ کی طرف سے کونسل کے سامنے ان کے خلاف ریفرنس نمبر 43/2007 دائر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کونسل کے ایک حکم کی کاپی بھی تھی جس کے تحت مدعی کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر اور چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس نوٹس کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کی کاپی بھی نتھی تھی لیکن اس کے ساتھ مدعی کی آگاہی کے لیے کوئی معاون دستاویز مہیا نہیں کی گئی تھی۔

 

کیو) مدعی کے لیے یہ امر بھی حیران کن تھا کہ مذکورہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے نو مارچ سن دو ہزار سات کو شام چھ بجے ’غیر مہذب جلد بازی‘ میں سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ کونسل کے دو ارکان کو جیسا کہ نوائے وقت کے مارچ دس دو ہزار سات کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا، خصوصی پروازوں کے ذریعے لاہور اور کراچی سے اسلام آباد پہنچایا گیا تاکہ وہ کونسل کی کارروائی میں شرکت کر سکیں۔حقیقتاً کونسل کے سیکرٹری فقیر حسین کی طرف سے کونسل کے اجلاس کے بارے میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ کسی کو کونسل کے اجلاس کا ایجنڈہ اور اس کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔

 

آر) کونسل نے مواد کی جانچ پڑتال اور مدعی کو نوٹس بھیجنے کی بجائے(مدعی کے حقوق سے تعصب برتے بنا جیسا کہ مدعی کی پٹیشن میں کہا گیا) ایک حکم جاری کیا جو نہ صرف مدعی بلکہ اس ادارے کے حق میں نقصان دہ تھا۔مدعی کو بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان اور بطور چیف جسٹس آف پاکستان کام کرنے سے روک دیا گیا۔

 

ایس) مدعی کے مطابق اسے اس کے اہلِ خانہ سمیت جن میں سات برس کا ایک بچہ بھی تھا، نو مارچ 2007 کی شام سے تیرہ مارچ 2007 تک زیرِ حراست رکھا گیا۔ مدعی اور اس کے خاندان کی ذاتی اور نجی زندگی کو دھچکا پہنچا اور ایسا محسوس ہوا کہ لفظ پرائیویسی کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ مدعی کوئی گاڑی بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ کوئی گاڑی تھی ہی نہیں۔ مدعی کو سڑک کے دوسرے کنارے تک پیدل جانا پڑا جہاں پولیس افسر نے اسے روکا اور اس سے بدسلوکی کی جیسا کہ جوڈیشل انکوائری میں ثابت ہو چکا ہے۔

 

ٹی) مدعی کے ساتھ کام کرنے والا سپریم کورٹ کا عملہ لاپتہ ہو گیا اور اسے کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا اوراس عملے کی مدد سے مدعی کے خلاف ثبوت گھڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہاں تک کہ مدعی کی رہائش گاہ پر کام کرنے والے افراد کو بھی کچھ ایجنسیوں کے حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہیں دو یا تین دن بعد رہا کردیا گیا۔ سبزی والے کو سبزی لانے کی اجازت نہ دی گئی اور اسے انتظار کرنا پڑا یہاں تک کہ ایجنسی کا آدمی اس کے ساتھ بازار گیا اور واپس آیا۔

 

یو) مدعی کے چیمبر یا کمرے کو سربمہر کیا گیا اور وہاں رکھی کچھ فائلیں اٹھا لی گئیں اور کچھ کو نئے رجسٹرار کی زیر نگرانی آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح کا عمل عدلیہ کی روایات اور اقدار کے خلاف ہے۔ مدعی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہونے کے ناطے اپنا کمرہ اور سٹاف رکھنے کا حق حاصل ہے۔

 

وی) بھاری نفری کی تعیناتی کی وجہ سے کسی کو مدعی سے آزادانہ طور پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔یہاں تک کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی اس تک رسائی نہ تھی۔ اسی عدالت کے ایک ریٹائرڈ جج جسٹس منیر اے شیخ کو بھی مدعی سے ملنے نہ دیا گیا۔

 

ڈبلیو) ان مشکل حالات کو مدعی نے اکیلے نہیں سہا۔ اس کے بچوں کو سکول، کالج، اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہ تھی۔ مدعی اور اس کے اہلِ خانہ کو بنیادی ادویات اور ڈاکٹرز جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم کر دیا گیا۔

 

ایکس) کونسل کے احکامات کے باوجود مدعی کو ریفرنس کے قانونی معاملات پر اپنے وکلاء کے مشورے کے حق سے محروم رکھا گیا۔مدعی اور اس کے خاندان کو ایسی سخت ذہنی، جسمانی اور جذباتی مشکلات، ٹارچر، شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جسے بیان کرنے لیے الفاظ میسر نہیں۔

 

وائی) یہ تمام چالیں مدعی پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کی گئی تھیں کہ شاید وہ دباؤ میں آ کر چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے استعفی دے دے لیکن تیرہ مارچ 2007 کے بعد کونسل کے سامنے مختصر حاضری کے دوران مدعی کم از کم اپنے وکلاء کی ٹیم سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا اور سولہ مارچ 2007 کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ میں کسی قدر کمی آگئی۔

 

زیڈ) مدعی کو یقین ہے کہ ان کے پورے گھر میں جاسوسی کے آلات نصب ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے بالکل سامنے سندھ ہاؤس میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور پولیس نے مستقل جگہ بنا لی ہے جہاں سے وہ ان کے گھر آنے جانے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

اے اے) اوپر بیان کیے گئے تمام حقائق کی روشنی میں مدعی کے بچے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ وہ اسکول یا یونیورسٹی نہیں جا سکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جہاں میری بیٹیوں میں سے ایک فیڈرل بورڈ کے فرسٹ ائیر کے امتحانات نہیں دے سکی وہاں میری دوسری بیٹی کو جو بحریہ یونیورسٹی کی طالب علم ہے، دوران تعلیم حاضری میں کمی کے باعث اپنے فرسٹ سمسٹر میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ میں جن حالات سے گزر رہا ہوں اس کی وجہ سے میرا نوعمر بیٹا بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنے سکول جا سکے۔

 

 

 

بشکریہ ۔ رزونامہ جنگ، بی بی سی اردو

 

 

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: