Archive for جون, 2007

میرا اصل وطن مجھے واپس کر دو

Posted on 29/06/2007. Filed under: پاکستان, رسم و رواج |

جدہ، سعودیہ عرب میں مقیم میرے ایک عزیز محمد ریاض کو وطن سے بچھڑے ہوئے ٢٠ سال ہو گئے ہیں۔ اگرچہ انہیں وہاں ہر سہولت حاصل ہے اور وہ اطمینان سے اپنے روز و شب گزار رہے ہیں مگر ان کا دھیان آج بھی وطن کے گلی کوچوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اس پاکستانی نے پاکستانی بلاگ کے نام ایک میل میں جس حبِ وطنی، درد مندی اور خلوص کا اظہار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور یہاں کے حالات پر کتنے سوگوار ہیں۔ محمد ریاض صاحب کی عمر کا ایک حصہ سعودیہ عرب میں گزرا ہے اور بظاہر ان کے ناطے اپنی مٹی سے منقطع ہو چکے ہیں لیکن وہ اس مٹی کی خوشبو سونگھنے کے لئے کتنے بے چین ہیں اس کا احساس ان کی تحریر پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے اور کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وطن واپس آ جاؤں اس دیس میں جہاں میرا بچپن اور لڑکپن ہنستے کھیلتے، اچھلتے کودتے اور معصوم شرارتیں کرتے گزرا ہے اور جن شہروں۔ قصبات اور دیہات کے لوگ ایک ہو کر رہتے تھے۔ دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور عمروں تک ساتھ نبھاتے تھے۔ میں وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ وہ گلیاں، وہ بازار اور وہ باغات جہاں میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلا کرتا تھا اور پھر ہم سب مل کر کسی درخت کے نیچے امتحانوں کی تیاری کرتے تھے۔ جب کبھی محلے کا کوئی بزرگ ادھر سے گزرتا تھا تو احترام سے کھڑے ہو جاتے تھے اور ان کی ڈانٹ سر جھکا کر سنتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کسی گھر میں کوئی مرگ ہو جاتی تو پورا محلہ سوگ میں ڈوب جاتا کئی روز تک چولہے نہیں جلتے تھے اور کسی گھر سے گانے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ کیا خوبصورت تھے وہ دن جب پہلوانی اور پہلوانوں کا بہت چرچا تھا۔ جگہ جگہ اکھاڑے قائم تھے اور بڑے بڑے پہلوان چمکیلے جمسوں کے ساتھ شام ڈھلے تک کسرت کیا کرتے تھے۔ ہم ان شہ زور پہلوانوں کے داؤ پیچ دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ لڑکوں اور نوجوانوں کا کوئی دوسرا مشغلہ اور شوق نہیں تھا۔ وہ منظر مجھے آج بھی یاد ہے کہ وطن عزیز سے جدائی کے موقع پر چھوٹے بڑے، اپنے پرائے دوست احباب سب کی آنکھیں پرنم تھیں اور وہ ہمیں الوداع کہنے کے لئے ریلوے سٹیشن پر جمع تھے اور ہماری کامیابی اور خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بیس سال بعد جب کبھی دل میں واپسی کا خیال آتا ہے تو اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے ‘تم وطن چلے بھی جاؤ مگر وہاں کون تمہیں پہچانے گا؟ کون تمہیں دیکھے گا؟ اور کون تمھاری سنے گا؟ کوچہ بازار، چہرے مہرے سب کچھ بدلے بدلے، اجڑے اجڑے نظر آئیں گے۔ باغات کے ان ٹھنڈے ٹھار گوشوں پر ڈرگ مافیا اور جرائم پیشہ افراد نے قبضہ کر رکھا ہے، جہاں ہم امتحانوں کی تیاری کیا کرتے تھے ان گلی کوچوں میں موت کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ جہاں ہم آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے وہاں اب لوگ چھوٹے بڑے کی تمیز بھول چکے ہیں۔ ہمسائے ایک ہی دیوار کے سائے میں اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں اور اپنے اپنوں کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔ اکھاڑے اجڑ چکے ہیں، فن پہلوانی دم توڑ چکا ہے۔ درس گاہیں بارود خانے بن گئی ہیں۔ عبادت گاہوں کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ انسان کی قدروقیمت باقی نہیں رہی۔ آنکھ سے حیا ختم ہو گئی ہے۔ فرقہ پرستی، نسلی تعصب اور لسانی اختلاف نے معاشرے میں زہر گھول دیا ہے۔ میں جاؤن تو کہاں جاؤں؟ ملوں تو کس سے ملوں؟ کہوں تو کس سے کہوں؟ سنا ہے اب کوئی محرم رہا ہے اور نہ کوئی محرم راز نظر آتا ہے؟ اس معاشرے کا حسن نظامت، پاکیزگی، محبت، چاہت، احترام اور دلنوازی و دلداری سب کچھ ختم ہو گئی ہے۔ جسے میں پیچھے چھوڑ آیا تھا مگر میری مجبوری یہ ہے کہ میرے تمام رشتوں کی جڑیں اسی مٹی سے پیوند ہیں اور یہ جڑیں کٹ نہیں سکتیں۔ میں ضرور واپس آؤں گا مگر اس سے پہلے اپنے ہم وطنوں، دانشوروں، سیاست دانوں اور حاکموں سے میری استدعا ہے میرا اصل وطن مجھے واپس کر دو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

سرائیکی وسیب کی محرومیاں، نئے بجٹ کی روشنی میں۔2

Posted on 28/06/2007. Filed under: سرائیکی وسیب |

ظہوراحمد دھریجہ مزید لکھتے ہیں: وزارت خزانہ حکومت پاکستان نے خوشحال پاکستان پروگرام کے تحت 68555.989ملین کی لاگت کے 88منصوبے منظور کئے۔ ان 88منصوبوں میں بدحال سرائیکی علاقے کے لئے کچھ نہیں۔ وزارت خزانہ کا اپنا آئین شاید پاکستان کے بدحال علاقوں کو خوشحال بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ وزارت تعلیم کے 103منصوبے جو 44179.103ملین کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔ ان میں فورٹ منرو کیڈٹ کالج کے علاوہ سرائیکی وسیب کے لئے کچھ نہیں۔ وزارت صحت کے 100منصوبے 95549.418ملین کی لاگت سے مکمل ہوں گے، بجٹ کتاب کا مطالعہ کریں تو صحت کے ان 100منصوبوں میں اسلام آباد، کراچی اورلاہور کے منصوبہ جات کی بھرمار ہے، ایسے لگتا ہے کہ بیمار صرف ان شہروں میں رہتے ہیں باقی سارا ملک بیماریوں سے پاک ہو چکا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت 124منصوبے 37295.676ملین کی لاگت سے مکمل کرے گی، سرائیکی علاقے وہاڑی سے تعلق اور سرائیکی وسیب سے بے پناہ محبت کرنے والے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نواب اسحاق خان خاکوانی کو شاید اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ ان 124منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے ایک بھی نہیں اگر ان کو اس کا علم ہوتا تو وہ بجٹ کا اعلان سنتے ہی استعفیٰ دے کر گھر آجاتے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت نے 23856.902 ملین کے 141منصوبوں میں سرائیکی وسیب کو 79ملین این ایف سی کالج کے لئے بہبود آبادی نے 21345.053ملین کے 30منصوبوں میں ملتان کیمپ آفس کے لئے محض پانچ ملین۔ سوشل ویلفیئرکی وزارت نے 4865.577ملین کے 77منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کو ڈیرہ غازی خان، رحیم یارخان، اوکاڑہ اور جھنگ سنٹروں کی مرمت کے لئے (سب کو ملا کر) صرف 61ملین دیئے۔ محنت و افرادی قوت کی وزارت نے 657.015ملین کے 13منصوبوں میں سرائیکی وسیب کو ایک بھی نہیں دیا۔ اس طرح وزارت ماحولیات کے 24299.921ملین کے 48منصوبے، وزارت ثقافت کے 20منصوبے تخمیناً لاگت 2190.761ملین، اور منسٹری آف سپورٹس کے 1081.305ملین کے 39منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے کچھ نہیں۔ ملتان کے سکندر خان بوسن کی وزارت خوراک و زراعت بھی 19162.946ملین کے 63منصوبوں میں سے کوئی منصوبہ سرائیکی وسیب کودینے کی سخاوت سے خالی ہے۔ پلاننگ کمیشن کا ہر کام پلاننگ کے مطابق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پلاننگ کمیشن نے اپنے 49688.669ملین کے 35منصوبوں میں سے سرائیکی وسیب کے لئے کسی ایک منصوبے کوبھی ہوا نہیں لگنے دی۔ وزارت صنعت و پیداوار کے 21منصوبے تخمینہ لاگت 17681.624ملین کی وزارت تجارت کے 9منصوبے تخمیناً لاگت 9515.961ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے 52منصوبے تخمیناً لاگت 5576.247اور نارکوٹکس کنٹرول کے 15منصوبے جن کا تخمینہ لاگت 3037.477ملین ہے، میں سے سرائیکی وسیب کا کوئی حصہ شامل نہیں۔ احمد پورشرقیہ کی مردم خیز دھرتی کے سپوت محمد علی درانی کی وزارت اطلاعات و نشریات میں 6051.880ملین کے 45منصوبوں میں صرف ملتان ٹی وی اسٹیشن کے لئے 280ملین رکھے گئے ہیں، اس رقم سے نہ جانے زمین کی رقم ادا ہوگی، بلڈنگ بنے گی یا پھر مشینری آئے گی، ملتان ٹیلی ویژن کا افتتاح ہوئے بھی دو سال گزر گئے مگر ہر طرف خاموشی ہے اگر یہی حال اور یہی رفتار رہی توملتان ٹیلی ویژن کی خاموشی اگلے پانچ سالوں میں بھی ختم نہ ہو سکے گی۔ محمد علی درانی توجہ کریں کم ازکم یہاں ریکارڈنگ شروع کرائیں، یہاں عملہ بھرتی کریں اور یہاں سے پروگرام چلوائیں تاکہ ملتان ٹیلی ویژن کے افتتاح کا مذاق توختم ہو۔ یاد ہے جاوید جبار صاحب وزیر اطلاعا ت تھے ہم ان سے ملے اور ٹیلی ویژن اسٹیشن والوں کی طرف سے سرائیکی وسیب کی حق تلفیوں کی بات کی تو انہوں نے فوری آرڈر کیا۔ دوسرے دن نیلام گھر اور میوزک پروگراموں کی ریکارڈنگ کے لئے لاہور ٹی وی والے ملتان آرٹس کونسل پہنچے ہوئے تھے اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 45منصوبے 1236.025ملین سے مکمل ہوں گے مگر سرائیکی وسیب کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔ لاء اینڈ جسٹس ڈویژن میں بھی 19992.516ملین سے سرائیکی وسیب کے نصیب میں کوئی حصہ نہیں آیا۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ جو 5کروڑ آبادی پر وسیع خطہ سرائیکستان سے سب سے زیادہ ریونیو حاصل کرتا ہے، اس نے 12229.296ملین کے 69منصوبے منظور کرائے اس میں سرائیکی وسیب کوساہیوال، ملتان اور بہاولپور کے کسٹم ہاؤسزکی مرمت کے لئے محض 82ملین ملیں گے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور شوگر انڈسٹری جس کی مجموعی خام پیداوار کا 80فیصد سرائیکی وسیب مہیا کرتا ہے اس انڈسٹری کا صنعت کار جو اس علاقے کے غریبوں کا خون چوس رہا ہے، کی حکومت مسلسل سرپرستی کررہی ہے۔ شوگر مافیا نے انڈسٹری سرائیکی وسیب میں قائم کی ہے مگر مقامی لوگوں کو روزگارنہیں دیتے۔ ٹیکسٹائل والے کپاس یہاں سے حاصل کرتے ہیں انڈسٹری اپر پنجاب یا پھر کراچی میں قائم کرتے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی وزارت نے بھی 24952.701ملین کے چھ منصوبے منظور کرائے مگرسرائیکی وسیب کے لئے ایک نہیں۔ محروم اور پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے دعوے نقش بر آب ثابت ہورہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف یقینا پسماندہ علاقوں کی ترقی کے خواہش مند ہوں گے۔ بیورو کریسی کے روائتی ہتھکنڈوں اور پسماندہ علاقوں کی نااہل قیادت کے باعث زمینوں کی زرخیزی وسائل کی فراوانی کے باوجود سرائیکی وسیب کے لوگ بھوک افلاس اور جہالت سے خودکشیاں کر رہے ہیں، اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے سے مدارس سے طالبان کو بڑی کھیپ سرائیکی وسیب سے میسر آرہی ہے، معاملہ خودکشیوں سے بڑھ کر خودکش حملوں کی طرف جارہا ہے، ہمارے حکمران اورعالمی برادری سرائیکی وسیب کے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ کرے اور سرائیکی وسیب کی حق تلفیوں کا ازالہ کرے۔ اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے۔ بنگالی رہنما م
لانا عبد الحمید بھاشانی نے ایک بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علاقے میں غربت اور پسماندگی ہے اسے نظر انداز نہ کریں وگرنہ یاد رکھنا چاہئے کہ زیادتیوں اور حق تلفیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صرف سوچ ہی نہیں بدلتی بلکہ جغرافیے بھی بدل جاتے ہیں۔ہمارے عاقبت نا اندیش ارباب اختیار نے مولانا بھاشانی کی اس بات کو دیوانے کی بڑ سمجھا مگر وقت نے ان کی بات سچ ثابت کر دی، آج پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ محروم طبقات کی فریادوں پر توجہ دی جائے تاکہ کل کسی اور بھاشانی کو یہ نہ کہنا پڑے کہ ”زیادتیوں اور حق تلفیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صرف سوچ ہی نہیں بدلتی بلکہ جغرافیے بھی بدل جاتے ہیں“۔ فقط والسلام نہایت ادب سے ظہور احمد دھریجہ،ملتان خوش آئند فیصلے؟ ایک نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق صدرجنرل پرویز مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کا فیصلہ ترک کردیا ہے اور قبل از وقت انتخابات کرا کرنئی اسمبلیوں سے منتخب ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر نے اپنے اس فیصلے سے وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے انتہائی معتبر ذرائع نے بتایاہے کہ امریکا، یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کے شدید دباؤ، 9مارچ اور12مئی کے واقعات اورملک میں پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں مقتدر حلقوں کی مشاورت کے بعد صدر مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا فیصلہ ترک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جولائی میں قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی اوراکتوبر میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر کو قریبی دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں اپوزیشن اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے دے گی جس سے ملک کی سیاسی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صدر کو قریبی دوستوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ اگران حالات میں وہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہوبھی جاتے ہیں تواپوزیشن صدرکوتسلیم نہیں کرے گی اوراپوزیشن کی چلنے والی یہ تحریک آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ذرائع کے مطابق امریکا کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی صدر جنرل پرویزمشرف کو یہی مشورہ دیا کہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب نہ ہوں اگر صدر مشرف نے ایسا کیاتوامریکا کے لئے بھی مشکل پیدا ہوجائے گی کہ وہ اس کی حمایت جاری رکھے تاہم امریکی عہدیداروں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں آئندہ اسمبلیوں سے منتخب کرانے کے لئے امریکا اپنا رول ادا کرے گا، ذرائع کے مطابق قبل از وقت انتخابات کرانے کی وجہ سے کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ نئے انتخابات کرانے اور خطے کودرپیش چیلنجوں کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدرجنرل پرویز مشرف آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل وردی اتار دیں گے اورا ٓئندہ صدارتی الیکشن بغیر وردی کے لڑیں گے۔ اصلاحات تواوربھی بہت سی مطلوب ہیں لیکن متذکرہ صدر خبر میں جن فیصلوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اس مرحلے پران کا ہونا بھی غنیمت ہے۔

بشکریہ ۔۔ ارشاد احمد حقانی صاحب روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سرائیکی وسیب کی محرومیاں، نئے بجٹ کی روشنی میں

Posted on 28/06/2007. Filed under: سرائیکی وسیب |

سرائیکی وسیب کے دانشور ظہور احمد دھریجہ کاغور طلب خط ملاحظہ فرمایئے۔وہ لکھتے ہیں: نہایت ادب و احترام سے سپاس گزار ہوں کہ آپ علالت کے باوجود جمہوریت کے احیاء کے سلسلے میں قوم کے دلی جذبات کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں آپ کی سوچ ایک قومی رہنما اور ایک قومی مدبر کی سوچ ہے آپ نے کبھی بھی علاقائی حوالے سے نہیں سوچا، البتہ پاکستان کے جس علاقے میں کوئی کمی یا محرومی نظر آئی آپ نے اس کے حق میں آواز بلند کی۔ موجودہ بجٹ میں پسماندہ سرائیکی وسیب جو 17 اضلاع پر مشتمل ہے ، مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں ایک شق شامل کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ دس سال کے لئے ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی کو موقوف کرکے پاکستان کے پسماندہ اور پس افتادہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائے گا مگر آئین کی اس شق، آئین پاکستان اور خود اس آئین کے خالق کا جو حشر ہوا اس بارے کچھ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ 60 سالوں میں کس کو کیاملا؟ یہ جاننے کے لئے گزشتہ 60 سالوں کے سالانہ میزانیوں کا جائزہ لے لیں تو پس منظر کی مکمل تصویر سامنے آسکتی ہے اوراس سے یہ صورتحال بھی واضح ہوسکتی ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے بعدمغربی پاکستان کے بلوچ، سندھی، سرائیکی یا پختون محرومی یا استحصال کا جو مسلسل شکوہ کرتے آرہے ہیں، اس میں کچھ حقیقت بھی ہے یا یہ سب جھوٹا پروپیگنڈہ ہے؟ مزید برآں اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوسکتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں سب سے زیادہ قصور شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات، جماعت اسلامی کی الشمس البدر تحریک یا ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے ”اِدھر ہم اُدھر تم“ کا ہے یا پھرمغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ ساز سب سے بڑے مجرم ہیں۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں بہت کچھ بتایا گیا ہے مگر حقیقت حال جاننے کے لئے حمود الرحمان کمیشن سے بڑا کمیشن ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ زیر نظر سطور میں موجودہ سالانہ بجٹ 2007-08ء میں پسماندہ سرائیکی علاقے سے ہونے والے سلوک کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ حاضر خدمت ہے۔ شکر گزار ہوں کہ آپ نے سالانہ بجٹ 2006-07ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے سرائیکی بیلٹ کے ساتھ ہونے والی حق تلفیوں کے بارے میری توجہ مبذول کرائی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ حق تلفیوں کا ازالہ ہوگا۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن جناب عطاء الرحمان نے بہاولپور کے سرائیکی دانشور غازی امان اللہ کی عرض داشت کے جواب میں لکھے۔ امسال کے بجٹ میں حلق تلفیوں کا کتنا ازالہ ہوا؟ اس کی چھوٹی سی جھلک ملاحظہ کریں، امسال وفاقی بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 275874.495 ملین کے 397 منصوبے حاصل کئے، ان میں ملتان کی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کو 450 ملین جبکہ لاہوریونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے کے لئے 5000 ملین دیئے گئے۔ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کو مضبوط بنانے کے لئے 4000 ملین ملے، گورنمنٹ کالج لاہورکو 2500 ملین ملے۔ پانچ سال قبل ملتان کے جلسہ عام میں صدر پرویز مشرف نے ملتان میں انجینئرنگ یونیورسٹی اورخواتین یونیورسٹی کا اعلان کیا، گزشتہ چار سالوں کی طرح امسال بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کے لئے کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا البتہ چارسال کے شدید انتظار کے بعد ملتان کی خواتین یونیورسٹی کے لئے صرف 280 ملین رکھے گئے اس کے مقابلے میں سیالکوٹ کی انجینئرنگ یونیورسٹی کا اعلان گزشتہ سال ہوا اورموجودہ بجٹ میں سیالکوٹ انجینئرنگ یونیورسٹی کے لئے 36927 ملین رکھے گئے۔ یہ بجٹ ملتان کی خواتین یونیورسٹی کے مقابلے میں تقریباً پونے چار ہزار گنا زائد ہے، اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہو سکتی ہے کہ لاہورکالج آف وومن کے دو سوئمنگ پولز کے لئے 98 ملین دیئے گئے جس کی پاکستان کرنسی میں مالیت 9 کروڑ 80 لاکھ بنتی ہے۔ ایک اور فرق ملاحظہ کریں کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کورحیم یار خان کیمپس کی تعمیر کے لئے 367ملین اور بہاولنگر کیمپس کی تعمیر کے لئے 388 ملین دیئے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں فرنٹیئر یونیورسٹی آف انجینئرنگ کو جلوزئی کیمپس کے لئے 7792ملین دیئے گئے یہ رقم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے دونوں کیمپس کو ملانے کے باوجود بھی سات ہزار گنا زائد ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جناب عطاء الرحمان کی سائنس کیا بتاتی ہے کہ ترقی کے اس ہوشربا تفاوت یا پھر پسماندہ علاقوں کے استحصال کی بدترین شکل کے خطے کے معصوم طلبہ کو تعلیم کے بنیادی حق سے بہرہ مند کیاجا سکے گا؟ ہر سال بجٹ سے پہلے اور بجٹ کے بعد ہونے والی حق تلفیوں کی اس دہائی کوہم دہراتے ہیں، نہ جانے کیوں محروم اور پسماندہ خطوں کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، نہ جانے اس علاقے کے ارکان اسمبلی اوراس علاقے سے تعلق رکھنے والی وزراء کی فوج ظفرموج کیا کر رہی ہے؟ تعلیم کے حوالے سے ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ میں ڈیرہ غازی خان میں ڈپٹی کمشنر تھا، ڈیرہ غازی خان کے سردار تعلیم اور تعلیمی اداروں کے قیام کے سخت خلاف تھے، ایک دن ایک سردار میرے دفتر آئے، آتے ہی مجھے کہا ڈپٹی کمشنر صاحب !میں زمین دیتا ہوں فلاں علاقے میں فوری سکول قائم کریں، میں نے کہا ویری گڈ، اتنے اچھے کام کے لئے میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سردار نے فوراً کہا میں یہ سکول خوشی سے نہیں بنوا رہا بلکہ فلاں سردار نے میرے خلاف سازش کرکے میرے علاقے میں سکول بنوایا ہے تاکہ میرے علاقے کے لوگ پڑھ لکھ کر میرے لئے مسئلہ بنی
ں اب میں اس سردار کو سبق سکھانے کے لئے اپنی زمین پر اس کے علاقے میں سکول بنوانا چاہتاہوں۔ ہمارے آج کے سیاستدان سرداروں کے مقابلے میں تو وہ سردار ہی بہتر تھے جنہوں نے ضد میں آکر ہی سہی سکول بنوانے کی کوشش تو کی۔ یہ تو ضد میں آکر بھی ایسا نہیں کرتے۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ بجٹ میں ہمارے علاقے کو کیا مل رہا ہے؟ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی نہ تو یہ بجٹ کی تیاری میں حصہ لیتے ہیں، نہ بجٹ پڑھتے ہیں، ان کی کارستانیاں دیکھ کر ان کی اپنی روح بھی ان سے یقینا شرمندہ ہوگی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فنڈز کی انتہائی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد دوسرے محکموں کا جائزہ لیں تو سرائیکی وسیب کے حوالے سے صورتحال بد سے بدتر نظر آتی ہے مثلاً پانی و بجلی کی وزارت میں 513461.286 ملین کے 47 منصوبے منظور کئے گئے، ان میں سرائیکی علاقے کے لئے ایک بھی نہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 31 منصوبے مالیت 96265.496 ملین۔ پاکستان نیوکلیئر اتھارٹی منصوبوں کی تعداد 6 تخمیناً لاگت 207 ملین۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل منصوبہ جات 22 مالیت 2709.563 ملین میں سے سرائیکی وسیب کی قسمت کا خانہ خالی ہے۔ وزارت مواصلات نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے84 منصوبے 354549.329 ملین کی لاگت کے لئے منظورکئے، ان 84 منصوبوں میں سرائیکی وسیب کے لئے محض دو منصوبے ایک لودھراں خانیوال روڈ اورایک فیصل آباد خانیوال موٹروے کے لئے بجٹ میں رقم رکھی گئی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ رقم بھی ریلیز ہوتی ہے کہ نہیں کیونکہ ماضی میں اکثر یہ ہوتا آیا ہے کہ سرائیکی وسیب کے لئے آٹے میں نمک کے برابر فنڈ بھی اپر پنجاب کی فوری ضرورتوں کی نذر ہوتے آئے ہیں۔ (جاری ہے

بشکریہ ۔۔ ارشاد احمد حقانی صاحب روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

متحدہ عرب امارات کی طرف سے عام معافی کا اعلان

Posted on 26/06/2007. Filed under: پاکستان |

یو اے ای سے ایک دوست نے خبر دی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو کسی جرمانہ اور سزا کے بغیر آزادانہ طور پر اپنے ملک لوٹ جانے اور لیبر قوانین کے خلاف افراد کو اقامہ کی تجدید کے لئے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یہ فیصلہ ویزٹ ویزا کا غیر مجاز استعمال اور اسپانسر کے پاس سے راہ فرار اختیار کرنے والوں کو روکنے اور بے قابو ملک کی لیبر مارکیٹ کو صحیح رخ دینے کے لئے کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر لیبر ڈاکٹر علی بن عبداللہ انقابی کی کاوشوں کے پیش نظر حکومت نے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ خلیجی ریاستیں بالخصوص دوبئی، شارجہ اور ابوظہبی وغیرہ میں غیر ملکی باشندے مقیم ہیں جن میں پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے جو بذریعہ لانچ ایران کی سمندری حدود سے گزر کر اور ‘خلی ولی‘ وزٹ ویزا لیکر وہاں پہنچے ہیں۔ ایسے افراد جن کا پاسپورٹ کھو گیا ہو یا کسی بھی قسم کی دستاویزات نہ ہوں، وہ راہ فرار اختیار کرنے کے لئے اپنی ملک کی ایمبسی سے جاری کردہ آؤٹ پاسپورٹ یا ایمرجنسی سرٹیفکیٹ حاصل کر کے عرب ممالک کو خیرباد کہہ سکتے ہیں جب کہ امیدوار کا کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ نہ رہا ہو۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مملکت اسلامیہ پاکستان

Posted on 24/06/2007. Filed under: پاکستان, اسلام |

‘‘دین اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ‘‘

پیغمبراعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا تیرھواں سال تھا کہ مدنیے سے پچھتر لوگ اپنے قبائل کے مشورے سے آپ سے بیعت ہونے اور آپ کو مدنیے میں آباد ہونے کی دعوت دینے کے لئے مکہ آئے۔ ملاقات منٰی میں رات کے وقت طے پائی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو مکے اور مدنیے کے غیر مسلموں سے پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے۔ آپ اپنے چچا حضرت عباس کے ساتھ ملاقات کی جگہ پر پہنچ گئے۔ گفتگو شروع ہوئی اور مدنیے کے مسلمان بیعت ہونے لگے تو حضرت عباس جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کھڑے ہو گئے اور مدنیے کو لوگوں سے فرمایا ‘ٹھہرو! پہلے میری بات سن لو۔ تمہیں معلوم ہے کہ قریشِ مکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہیں۔ اگر تم ان سے کوئی عہد و پیماں کرنے لگے ہو تو یہ سمجھ کر کرنا کہ یہ بڑا نازک اور مشکل کام ہے۔ ان سے عہد و اقرار کرنے سے ہر سرخ و سیاہ (یعنی باقی تمام دنیا سے) لڑائیوں کو دعوت دو گے۔ ہم ان کے لئے سینہ سپر رہے ہیں۔ اگر تم بھی ان کو اپنی جانوں، اولادوں اور مالوں سے زیادہ عزیز رکھ سکو تو بہتر ورنہ ابھی جواب دے دو۔ جو اقدام بھی کرو سوچ سمجھ کر کرو ورنہ بہتر ہے کچھ نہ کرو‘ حضرت عباس کے خطاب کے بعد کچھ باتیں ہوئین اور مدنیے والے بیعت کو تیار ہوئے تھے کہ ان میں سے حضرت سعد بن ضرار کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا ‘بھائیو! یہ بھی خبر ہے کہ کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ یہ عرب و عجم اور جن او انس کے خلاف جنگ ہے۔‘ سب نے جواب دیا ‘ہاں ہم اسی چیز پر بیعت کر رہے ہیں‘ مختصرا یہ کہ کسی عربی یا عجمی مخالفت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان مٹھی بھر بے سروسامان لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کو تسلیم کر لیا اور ان کے ساتھ جینے اور مرنے کا عہد کیا۔ تاریخی عمل شاہد ہے کہ ان مٹھی بھر لوگوں کو متحارب قوتوں نے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے بےتحاشہ انفرادی و اجتماعی کوششیں کیں مگر ربِ رحمٰن کے فضلِ فراواں سے کوئی کوشش بارآور نہ ہو سکی اور ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔
مخصوص نظریات کے حامل یہ چند لوگ، تمام مخالفوں کے باجود، ایک قوم میں ڈھلتے گئے۔ اس قوم کو اپنے اعتقادات و ایمانیات اور افکار جلیلہ و محرکہ کے مطابق ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت محسوس ہوئی، جو اَن تھک جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے بعد حاصل کر لی گئی۔ یہ ریاست مدنیہ تھی جو تاریخ عالم میں پہلی مرتبہ، روایات دنیا کے برعکس، ایک قوم کے وجود میں آنے کے بعد معرض وجود میں آئی۔ اس ریاست میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ رب رحمٰن کے حکم کے مطابق صلٰواۃ ، زکواۃ، امربالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیادوں پر اسلامی معاشرے کا قیام تھا، جس میں حکومتِ الہیہ کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔
دینِ اسلام کے احکام و قوانین، ہدایت و تعلیمات اور افکار جلیلہ و محرکہ کو اپنی زندگی کا جزولاینفک بنانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدیوں سے تضاد و تخالف کے شکار اور باہم برسرپیکار عرب کے وحشی و جنگجو قبائل باہم شیروشکر ہو گئے۔ علاوہ ازیں اخوت و محبت اور وحدت و یکجہتی میں ڈھل کر ایک مہذب و ترقی یافتہ قوم بن گئے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے دیکھتے دیکھتے اقوام عالم کی قیادت سنبھال لی۔
چودہ صدیوں کے بعد ایک بار پھر اپنے اعتقادات و ایمانیات کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ ہوا، جس کے نتیجہ میں ایک ریاست وجود میں جو ‘مملکت اسلامیہ پاکستان‘ کے نام سے موسوم ہوئی۔ مسلمانوں علیحدہ وطن حاصل کر کے اسلام کے دشمنوں کو دعوت آزار تو دے دی لیکن اپنے اعتقادات و ایمانیات اور افکار جلیلہ و محرکہ کو اپنی زندگی کا جزولاینفک نہ بنا سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نصف صدی گزرنے کے بعد ہم ایک ترقی یافتہ قوم بننے کی نجائے ذلت و مسکنت کا شکار ہو گئے۔
انگریزی محاورے It is never too late  کے مصداق ابھی وقت ہے کہ ہم نظامِ اسلام میں پورے پورے داخل ہو کر ایک ترقی یافتہ قوم بن کر ابھر آئیں اور اقوام عالم کی قیادت کرنے لگیں۔ یہ رب رحمٰن کا وعدہ ہے اور وہ کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

ہم دیکھیں گے

Posted on 24/06/2007. Filed under: شعروادب |

 

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=TIsLhMIaqgg%5D

ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم  ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

آواز ۔ اقبال بانو

شاعر ۔ فیض احمد فیض

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

کانٹے کا درد

Posted on 14/06/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حکمران، عوام اور تیسرا کان

Posted on 11/06/2007. Filed under: پاکستان, سیاست, طنز و مزاح |

پچھلے دنوں کہیں پڑھا تھا کہ ایک آسٹریلوی نوجوان اپنے جسم پر ‘تیسرا کان‘ اگانا چاہتا ہے۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ اس سے پہلے بھی یہ فنکار اپنے جسم پر مختلف تجربات کر چکا ہے۔ لندن کے کسی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے پلاسٹک سرجن نے اس نوجوان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس تیسرے کان سے سن نہیں سکے گا جبکہ آسٹریلوی نوجوان کا کہنا ہے کہ سننے کے لئے کون کافر یہ کان لگوا رہا ہے اس کے لئے تو اس کے پاس پہلے سے دو کان موجود ہیں، اس تیسرے کان سے کوئی اور کام لوں گا۔
اس خبر کر پڑھنے کے بعد مجھے ایک سردار صاحب کا لطیفہ یاد آ گیا۔ جس کی اتفاق سے ایک کروڑ کی لاٹری نکل آئی، اس لاٹری کی رقم سے انہوں نے ایک شاندار بنگلہ تعمیر کروایا۔ بنگلے کے وسیع و عریض صحن میں انہوں نے تین سوئمنگ پول تعمیر کروائے تو کسی دوست نے پوچھا کہ تین سوئمنگ پولوں کی کیا ضرورت تھی ایک ہی کافی تھا؟ سردار صاحب نے جواب دیا ‘بادشاہو! نیا زمانہ ہے، زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، ایک سوئمنگ پول سردیوں کے لئے گرم پانی کا ہے، دوسرا سوئمنگ پول گرمیوں کے لئے ٹھنڈے پانی کا اور تیسرا سوئمنگ پول خالی‘۔ پوچھا گیا کہ خالی کیوں؟ سردار صاحب بولے ‘سرکار جب نہانے کا دل نہ ہو تو خالی تالاب میں چھلانگ لگا دیتا ہوں‘۔
غالباً اس آسٹریلوی نوجوان کا بھی یہی منصوبہ ہے کہ جب سننے کو دل نہ چاہے تو تیسرا کان آگے کر دیا کرے گا۔
ایک بات طے ہے کہ آسٹریلیا والے ہم سے بہت پیچھے ہیں۔ اس آسٹریلوی نوجوان کو تو تیسرے کان کا اب خیال آیا جبکہ ہماری حکومت پچھلے کئی سالوں سے ‘تیسرے کان‘ کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے استعمال میں لا رہی ہے۔
اب دیکھیں!!! عوام حکمرانوں کے کانوں میں چیخ چیخ کر کہتے آئے ہیں کہ ہر چیز کے نرخ دوگنا ہو گئے ہیں۔ خدارا اس بجٹ میں ریلیف دیں، بجلی، سوئی گیس، پیٹرول اور دیگر تمام روزمرہ کی اشیاء سستی کریں۔ مہنگائی نے ہماری کمر توڑ دی ہے۔ اس مہنگائی میں ہم بچوں کو مناسب تعلیم نہیں دے سکتے، بیماروں کا مناسب علاج نہیں کروا سکتے۔ مگر ۔۔۔ حکومت نے اپنے تیسرے کان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی کا بجٹ پیش کر دیا۔ اب عوام لاکھ چیختی چلاتی رہے کہ آپ نے جو ٥٠٠ نئے یوٹیلٹی سٹورز کا وعدہ کیا ہے وہ کب قائم ہوں گے، بھوک تو آج کی ہے، آج کیا کھائیں گے، بچوں کو کیا کھلائیں گے مگر ہمارے وزیراعظم ‘پارٹ ٹائم‘ وزیر خزانہ صاحب اپنا تیسرا کان آگے کر دیتے ہیں، کہ نہ سنیں گے نہ جواب دینا پڑے گا۔
ہمارا حکمران طبقہ جب کبھی بھی کسی عوامی بیٹھک یا کسی جلسے میں شریک ہوتے ہیں تو ہمیشہ اپنا تیسرا کان استعمال میں لاتے ہیں مگر جب کبھی یہ ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف کے حکام کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ‘جینوئن کان‘ استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا کہا پتھر کی لکیر ثابت ہوتا ہے۔
تیسرے کان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے میں یہاں اپنے سائنس دانوں اور ماہرین طب سے گذارش کروں گا کہ وہ بھی پاکستانی عوام کی سہولت کے لئے ‘تیسرے کان‘ کی تنصیب کے لئے کوشش شروع کر دیں۔ کیونکہ اس بیچاری عوام کے پہلے والے دونوں کان تو ویسے ہی ناکارہ ہو چکے ہیں۔ مثلاً ۔۔۔۔۔ حکمران کہتے ہیں کہ ٹیکس بروقت ادا کریں، کرپشن کے خلاف گواہی دیں، اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام کریں، برائیوں کے خلاف کمر کس لیں مگر عوام پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
١٢ مئی والے واقعہ کو ہی لے لیں یہ عوام صدر پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور ایم کیو ایم کے مہاراج الطاف حسین کی باتیں سنی ان سنی کر دیتے ہیں، کسی بات پر کوئی یقین کرنے کو تیار ہی نہیں۔ ان حالات میں عوام کے لئے تیسرے کان کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ میرے خیال میں حکومت اور اپوزیشن کا اس امر پر اتفاق رائے بھی ممکن ہے۔ اگر عوام کے لئے ‘تیسرے کان‘ کی درآمد کا حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو ایک بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ یہ تیسرا کان سننے والا بھی ہو۔ کہا جاتا ہے کہ کانوں کے ذریعے سنی ہوئی آواز دماغ کے مختلف گوشوں میں داخل ہوتی ہے۔ مثلاً غمی اور پریشانی والی خبر انسان کے پریشان کرنے والے گوشے میں داخل ہوتی ہے تو انسان پریشان ہو جاتا ہے اسی طرح خوشی کی خبر مسرت و انسباط والے گوشے سے ٹکرا کر انسان کی خوشی کا موجب بنتی ہے۔ اب تیسرے کان کے نصب کرنے والے ماہرین کو کرنا یہ ہو گا کہ جب وہ تیسرا کان نصب کرنے لگیں تو اس کے کنکشن الٹ جوڑ دیں۔ پھر یوں ہو گا کہ جب حکمران بجلی، گیس، تیل اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کریں گے تو پورا ملک خوشی و مسرت سے جھوم اٹھے گا، عوام حکومت زندہ باد کے نعرے لگاتی ہوئی سڑکوں پر نکل آئے گی۔ ہر طرف خیر سگالی جذبات اور فلاں ساڈا شیر اے، آوے ہی آوے کے فلک شگاف نعرے گونج رہے ہوں گے۔
اس طرح ہمارے سیاسی کلچر کی فضا میں بھی بڑی تبدیلی پیدا ہو گی کیونکہ عوام اس سے پہلے تو سال کا ماہ جون آنے کا سوچ کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے تھے مگر اب اس ‘تیسرے کان‘ کی بدولت جوں جوں سالانہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ نزدیک آتی جائے گی عوام کا جوش جذبہ قابل دید ہوتا جائے گا۔ آجکل تو صرف اپوزیشن خوش ہوتی ہے کہ بجٹ کے بعد تحریک چلانے کا موقع میسر آئے گا مگر پھر جون کے مہینے میں پریشان ہو جایا کرے گی۔
نئی صورتحال میں بجٹ جلسہ عام میں پیش کرنے کے اعلانات چھپا کریں گے۔ پھر ایسے اعلانات وزرائے اعظم جلسہ عام میں کیا کریں گے اور عوام سے خوب داد وصول کریں گے۔ میرے خیال میں تو اس وقت ہی کوئی وزیراعظم حقیقی معنوں میں عوامی کہلانے کا حق دار ٹہرائے گا۔
تیسرے کان کی بدولت ہمارے معاشرتی اور سماجی ماحول میں بھی قدرے بہتری واقع ہو گی جو عمرانی علوم کے ماہرین کے لئے خوشگوار حیرت کا باعث بنے گی۔ مثلاً جب کوئی بچہ بیماری یا بھوک سے بلکتے اور روتے ہوئے باپ کی طرف دیکھے گا یا کم تنخواہ کی وجہ سے بیوی اس کو طعنے اور کوسنے دے گی تو وہ آجکل کی طرح خود کشی کو نہیں دوڑ پڑے گا بلکہ ایک روشن خیال ذہن کے ساتھ اس صورت حال سے محفوظ ہو گا۔
جب کسی غریب کے ماں باپ علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے کھانستے کھانستے نڈھال ہو جائیں گے تو ان کے پیلے زرد جھریوں سے بھرپور چہرے اور چارپائی سے نیچے لٹکے ہوئے سر اس کے لئے مسرت و انسباط کا باعث بنیں گے۔ اسی طرح وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی خودکشی کی وارداتیں بھی کم ہو جائیں گے اور ملک سے بے چینی، ڈپریشن، فرسٹریشن کا بھی ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا۔ البتہ غلط نصب شدہ تیسرے کان کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ جب ٢٠٠٨ میں حکومت انتخاب میں کامیابی کے بعد جشن منا رہی ہو گی تو پورا ملک دھاڑیں مار کر رو رہا ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ٹیکس

Posted on 10/06/2007. Filed under: شعروادب, طنز و مزاح |

عمر ایوب کا پیش کردہ بجٹ دیکھیئے اور عنایت علی خان کی ٹیکس پر لکھی گئی یہ نظم پڑھیئے۔
اپنے تاثرات قلم بند کرنا نہ بھولیئے گا۔

بلدیہ! تیرے ثنا خوانوں سے معمور ہے شہر
تو تو سیٹھانی ہے اس کی تیرا مزدور ہے شہر
ٹیکس بڑھ جائیں ‌اگر حد سے تو مجبور ہے شہر
اس قدر ٹیکس ادا کرنے سے معذور ہے شہر

اُونچی کرسی سے یہ پستی کی صدا بھی سن لے
شاعرِ شہر سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

 

تو نے جو ٹیکس لگایا وہ اٹھایا ہم نے
تیرے احکام کو آنکھوں ‌سے لگایا ہم نے
تیرے ہر بل کو بہر طور چکایا ہم نے

 

ٹیکس پہ ٹیکس لگاؤ تمہیں ‌ڈر کس کا ہے
شہر کس کا ہے مری جان یہ گھر کس کا ہے

 

‌کس کی جرات کہ کرے تیری شکایت زنہار
تیرے احسان ہیں‌ اتنے کہ نہیں جن کا شمار
ہر گلی کوچے میں‌ پھرتی ہوئی کتوں کی قطار
رات بھر مچھروں کی فوج کی ہر سو یلغار

 

دجلہ و نیل کا سڑکوں پہ گماں ہوتا ہے
ہر گٹر طبلہء عطار یہاں ہوتا ہے

 

لیکن اس شہر کی رونق تیرے قدموں پہ نثار
اپنے شیدائوں کو اس طرح سے پیاسا تو نہ مار
ٹیکس پانی کا بڑھا کر تو نہ کر ایک سے چار
اس شہر کا بڑھ جائے نہ کوفے سے وقار

 

مفت کی چیز پہ اتنی نہ گرانی کر دے
یعنی پٹرول کے داموں‌ تو نہ پانی کر دے

 

یہ شہر واقع ہے ایک بڑے دریا پر
یوں بھی ہوتا ہے کہ اس شہر کے باسی اکثر
تشنہ لب ماہی بے آب کی صورت گھر گھر
آبرو کو تری دیتے ہیں ‌دعا بل بل کر

 

لب جو سوکھے گلہء آب رسانی نہ رہا
تجھ کو روکنے کے لئے آنکھ میں‌ پانی نہ رہا

 

شاہراہوں کی عجب شکل بنائی تو نے
جنگ خندق کی ہمیں‌ یاد دلائی تو نے
شہریوں کی نہ سنی ایک دُہائی تو نے
شہر کی شکل بیاباں ‌سے ملائی تو نے

 

کون خوش بخت سڑک تھی جو کھدائی نہ گئی
ہاں جو کھدوائی گئی پھر وہ بنائی نہ گئی

 

کیا ستم ہے کہ لگاتی ہے ہر بات پہ ٹیکس
حسن اور عشق کی مسنون ملاقات پہ ٹیکس
شادی پر اور ولیمے کی مدارات پہ ٹیکس
اک نہیں ‌ہے تو فقط مرگِ مفاجات پہ ٹیکس

 

بلدیہ ٹیکس لگانے پہ جب آ جاتی ہے
جلوہء کثرتِ اموات دکھا جاتی ہے

 

غم و ناز پہ انداز پہ انگڑائی پہ ٹیکس
کمرے پہ نالی پہ دالان پہ انگنائی پہ ٹیکس
سقہ پہ دھوبی پہ بقال پہ اور نائی پہ ٹیکس

 

سیٹھ تو سیٹھ بھنگی بھی نہ چھوڑا تو نے
بلدیہ! شہر کو بل دے کے نچوڑا تو نے

 

مرگِ عشاق پہ، پیدائش اولاد پہ ٹیکس
بر سرِ بزمِ سخن داد پہ بے داد پہ ٹیکس
گریہ و نالہ و بے تابہ و فریاد پہ ٹیکس
ہر دلِ شاد پہ اور ہر دلِ ناشاد پہ ٹیکس

 

زیست کا بوجھ اٹھانے پہ بھی لگ جائے نہ ٹیکس
ٹیکس پہ نظم سنانے پہ بھی لگ جائے نہ ٹیکس

 

افسروں کی ترے دن رات بنی بات رہے
ٹھیکیداروں ہی کے ہاتھوں ‌سدا بات رہے
رات دن “قائدِ اعظم“ سے ملاقات رہے
فرق کیا پڑتا ہے گر ہم نہ بد اوقات رہے

 

تو نہ مٹ جائے گی ہم جیسوں‌کے مٹ جانے سے
تشنہء مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

چیف جسٹس کے جواب میں حلفیہ بیانات

Posted on 08/06/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس, پاکستان, سیاست |

 

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے بیان حلفی کے جواب میں حکومت نے جمعرات کو ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے سربراہوں سمیت کئی سرکاری اہلکاروں کے حلفیہ بیانات جمع کرائے ہیں۔

جن کی تفصیل درج ذیل ہیں۔

جنرل حامد جاوید کا بیان حلفی

صدر مشرف کے چیف آف سٹاف جنرل حامد جاوید نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری صدر سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے اور سات اکتوبر 2004 سے نو مارچ 2007 تک دونوں شخصیات کے درمیان دس ملاقاتیں ہوئیں، جن میں سے دو جسٹس افتخار کے بطور جج اور آٹھ بحیثیت چیف جسٹس کے تھیں۔
ان کے بقول آٹھ مارچ کو چیف جسٹس نے صدر کے ملٹری سیکرٹری سے رابطہ کر کے صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ صدر نو مارچ کو کراچی جا رہے ہیں اور فوری ملاقات ممکن نہیں۔ تاہم چیف جسٹس کے اصرار پر نو مارچ کے روز دن کے گیارہ بج کر پینتیس منٹ پر ملاقات کا وقت طے کر دیا گیا۔
جنرل حامد جاوید کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس جہانزیب رحیم کی درخواست کا معاملہ صدر نے نہیں بلکہ چیف جسٹس نے خود ہی ان کے سامنے اٹھایا۔ ان کے مطابق صدر نے اس سے قبل جسٹس جہانزیب کی شکایت پر مبنی فائل دیکھی ہی نہیں ہوئی تھی۔
انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ خفیہ اداروں ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے سربراہوں کے ساتھ چیف جسٹس کے دوستانہ مراسم تھے اور ایک دفعہ انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی۔
جنرل حامد نے الزام لگایا ہے کہ جنوری 1999 میں بلوچستان ہائیکورٹ میں تعیناتی کے دوران جسٹس افتخار نے کراچی میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سکیم فیز II میں غیر قانونی طور پر پلاٹ حاصل کیا جبکہ پٹرول کی مد میں حکومت سے کوئٹہ کے ایک ایسے فِلنگ سٹیشن کی رسیدیں دکھا کر لاکھوں روپے وصول کیے جہاں صرف ڈیزل فروخت ہوتا تھا۔
انہوں نے چیف جسٹس پر قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ کے لیے سفری و رہائشی اخراجات وصول کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے لگائے گئے الزام کہ نو مارچ کے بعد ان کے ٹیلیفون منقطع کر دیئے گئے تھے کی تردید کرتے ہوئے اپنے بیان حلفی میں لکھا ہے کہ جسٹس افتخار کے بیٹے کے موبائل پر نو مارچ شام پانچ بجے سے لیکر تیرہ مارچ تک تین سو کے لگ بھگ کالز سنی اور کی گئی اور فون کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔
صدر کے چیف آف سٹاف نے چیف جسٹس پر ججوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اختر شبیر، جسٹس شیخ عبداللہ، جسٹس عبدالشکور پراچہ اور جسٹس شبر رضا رضوی، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عارف حسین خلجی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس افضل سومرو اور پشاور ہائیکورٹ ک جسٹس شاہجہان خان، جسٹس اعجازالحسن خان اور جسٹس جہانزیب رحیم کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہتے تھے۔

جنرل ندیم اعجاز کا بیان حلفی

ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل میاں ندیم اعجاز نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ ایک دفعہ ان کے کہنے پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے سیاسی معاملات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں درد سر بن گئی ہیں اور صدر کو انہیں برخاست کر دینا چاہیے۔
جنرل ندیم کے بقول اسمبلیوں کی برخاستگی کے بعد چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں انتخابات کرانے کی تجویز بھی دی اور یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس طرح معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ جائینگے۔
ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کے مطابق چیف جسٹس نے ان سے اپنے خلاف چھپنے والی خبریں رکوانے کے لیے بھی کہا۔ ان کہ مطابق سات مارچ کو چیف جسٹس نے انہیں فون کیا کہ وہ اپنے خلاف کی گئی جسٹس جہانزیب رحیم کی شکایت کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔
جنرل ندیم کے مطابق انہوں نے اگلے روز جسٹس جہانزیب کی چیف جسٹس کے خلاف شکایت کی کاپی حاصل کر لی۔ آٹھ مارچ کی رات کو چیف جسٹس نے انہیں فون پر بتایا کہ جسٹس جہانزیب کی شکایت کے حوالے سے وہ نو مارچ کو صدر مشرف سے ملاقات کر رہے ہیں۔
ان کے بقول نو مارچ کو صدر کے کیمپ آفس میں دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران ان کے خلاف ریفرنس زیر بحث رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے۔
دوپہر دو بجے صدر مشرف جمعہ نماز کے لیے تشریف لے گئے تو وزیر اعظم، صدر کے چیف آف سٹاف اور ملٹری سیکرٹری بھی ساتھ چلے گئے۔ اس کے بعد وہ (جنرل ندیم)، انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اعجاز شاہ، آئی ایس آئی کے سربراہ اور چیف جسٹس کمرے میں رہ گئے اور ریفرنس کے نقاط پر بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
چیف جسٹس نے چونکہ صدر اور وزیر اعظم پر بھی واضح کر دیا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے، اس لیے اس حوالےسے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی گئی اور نہ ہی ان کے سامنے کوئی مطالبات رکھے گئے۔ آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہ تھوڑی دیر بعد رخصت ہو گئے۔
جنرل ندیم کے مطابق چیف جسٹس نے صدر سے ایک اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ صدر آرمی ہاؤس سے کراچی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ اس پر صدر کے کراچی پہنچنے کا انتظار کیا جانے لگ گیا۔ لہذا یہ غلط ہے کہ چیف جسٹس کو ان کی مرضی کے خلاف صدارتی کیمپ آفس میں رکھا گیا تھا۔
ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کے مطابق صدر مشرف کراچی پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ چیف جسٹس ان سے ایک اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن صدر نے معذرت کر لی۔

بریگیڈئر اعجاز شاہ کا بیان حلفی

انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ بریگیڈئر (ریٹائرڈ) اعجاز احمد شاہ نے سپریم کورٹ کو دیئے گئے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ اس وقت سے اچھے تعلقات تھے جب وہ پنجاب میں ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔
’انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل بننے کے بعد بھی میرے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے مراسم انتہائی دوستانہ رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کی چیف جسٹس سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں، جس کے دوران دفتری کاموں کے علاوہ ملک کی سیاسی صورتحال اور سپریم کورٹ میں دائر مقدمات کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ کئی دفعہ چیف جسٹس سے ملاقات کرنےگئے جبکہ کئی دفعہ چیف جسٹس خود ان سے ملاقات کرنے آئے۔
بریگیڈئر اعجاز شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس اپنے خلاف چھپنے والی خبروں سے پریشان تھے اور انہوں نے انہیں کہا کہ وہ تحقیق کریں اور ان خبروں کو چھپنے سے روکوانے میں ان کی مدد کریں۔
انہوں نے کہا وفاقی حکومت نے بھی انہیں چیف جسٹس کے خلاف خبریں چھپنے کے معاملے کی چھان بین کرنے کا کہا تھا، کیونکہ چیف جسٹس نے تیرہ فروری کو صدر جنرل مشرف سے ملاقات کے دوران اپنے خلاف چھپنے والی خبروں کی شکایت کی تھی۔
بریگیڈئر اعجاز شاہ نے کہا کہ نو مارچ کو ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کے ہمراہ چیف جسٹس اور صدر کی ملاقات کے موقع پر وہ بھی موجود تھے۔ ’ چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ ان کے مستعفی ہونے سے انکار پر جنرل مشرف طیش میں آ گئے تھے حقائق پر مبنی نہیں ہے‘۔
انہو ں نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف باادب اور پرسکون رہے اور کسی موقع پر نہ تو غصے اور نہ ہی طیش میں آئے۔
انہوں نے کہا صدر پرویز مشرف کے چلے جانے کے بعد وہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ کے ساتھ چیف جسٹس سے بات چیت کرتے رہے۔ تین بجے ڈی جی آئی ایس آئی اور وہ صدر کے کیمپ آفس سے چلے آئے تو ڈی جی ایم آئی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔

  بشکریہ بی بی سی اردو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی ميرے دل ميں خيال آتا ہے
کہ يہ وطن تو بنايا گيا ہے فوج کے لیے
وہ اب سے پہلے بھي کرتی رہی ہے عيش سدا
اسے تو چسکا لگايا گيا ہے موج کے لیے
کبھی کبھی ميرے دل ميں خيال آتا ہے
کہ جمہوريت بھی نہیں اس کی آرزو بھی نہیں
بھٹک رہا ہے يوں جنرل کے ہاتھ سے يہ وطن
اسے کسی کے سہارے کی جستجو بھی نہیں
ويسے آج کل يہ خيال اکثر ہی آتے ہيں

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...