Archive for جولائی, 2007

وڈیو زون

Posted on 31/07/2007. Filed under: وڈیو زون |

وڈیو زون کے نام سے ایک الگ زمرہ ترتیب دیا جا رہا ہے جس میں مختلف موضوعات پر وڈیو شامل کئے جائیں گے۔
اس سلسلے کی پہلی ‘لڑی‘ میں تین وڈیو شامل کئے جا رہے ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

١۔ قاضی حسین بمقابلہ قاضی حسین احمد
٢۔ جیو پروگرام ‘جوابدہ‘ ۔۔ انٹرویو۔۔۔ عمران خان
٣۔ لال مسجد کے حوالے سے کچھ خاص

 

قاضی حسین بمقابلہ قاضی حسین احمد

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=zInV3wH6JEk%5D

جیو پروگرام ‘جوابدہ‘ ۔۔ انٹرویو۔۔۔ عمران خان

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=i0_OeQ2WcAY%5D

لال مسجد

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=2sdyb-2w48Q%5D

 

وڈیو شئیرنگ سائٹس سے وڈیوز کی ڈاؤن لوڈنگ

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

Posted on 30/07/2007. Filed under: سیاست, شعروادب |

https://i2.wp.com/img524.imageshack.us/img524/3894/cartoonqp6.gif

 

 

کہاں آ کے رکنے تھے راستے، کہاں موڑ تھا، اسے بھول جا
وہ جو مل گیا، اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا، اسے بھول جا
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر میری بات سن، اسے بھول جا، اسے بھول جا
میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں، تیری آس، تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی میرے کان میں،مرے پاس آ، اسے بھول جا
کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم، تیرے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا، تو بھی مسکرا، اسے بھول جا
نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا، اسے بھول جا
یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا، اسے دیکھ، اس پر یقیں نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئینہ، اسے بھول جا
جو بساطِ جاں ہی ُالٹ گیا، وہ جو راستے میں پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا، اسے مت بلا، اسے بھول جا

امجد اسلام امجد

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

پاکستانی سیاستدان

Posted on 28/07/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

مفادات کی جنگ  کے جواب میں

جناب ، یہ پاکستانی سیاستدان کسی اصول اور قاعدے کے پابند ہوتے تو یہ مُلک بار بار آمریت کے شکنجے میں کیوں جاتا۔ ان کو سیاستدان کہنا بجائے خود سیاستدانوں کے لئیے ایک گالی ہے۔ یہ دراصل مداری ہیں۔ اپنے مفادات کے لئیے یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں حتی کہ پاکستان کا سودا بھی۔ ضمیر؟۔۔۔۔کون سا ضمیر؟ یہ کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ خبردار کبھی ان کے سامنے ضمیر کا نام لیا تو۔ ان کی دوستی تو خوشامد ، دغابازی اور لوٹ مار سے ہے۔ یہ وہ کھوٹے سکے ہیں جو بانی پاکستان سے بھی اپنے لئیے اسی لفظ کے ساتھ ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔
لگتا ہے چوہدری برادران کے لئیے مکافات عمل کا وقت نزدیک آ رہا ہے۔ یہ جس مصلحت کے تحت ہر حاکم وقت کا ساتھ دیتے رہے ہیں اس سے پردہ ہٹنے کو ہے۔ ورنہ جو اپنی پارٹی میں ہی “اتفاق“ نہ رکھ سکے وہ ملک کو چلانے کی کیا اہلیت رکھتے ہوں گے۔
عمر شریف نے ایک مزاحیہ ڈرامے میں کہا تھا کہ “ہمارا مکینک کام کراچی میں سیکھتا ہے اور کرتا جدہ میں ہے( یہ اس کی مہارت کا ثبوت ہے)۔ ڈاکٹر لاہور میں پڑھ کر بنتا ہے اور جاب امریکا میں کرتا ہے ۔ لیکن یہ سیاستدان ایسا طبقہ ہے جو ادھر ہی کام سیکھتا ہے اور یہیں پر اس کو آزما کر اس قوم کا بیڑا غرق کرتا ہے“۔
ان لوگوں کی سیاست کا اصل رنگ اس وقت نظر آتا ہے جب یہ لوگ ملک سے باہر تشریف لے جاتے ہیں اور سرکاری خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر اڑاتے ہیں۔ اور تو اور عمرہ جیسے نیک عمل کے لئیے بھی سرکاری خزانہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ ان کی لمبی گاڑیاں اور کر و فر دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ اس قوم کے نمائیندے ہیں جس کا بال بال قرضے میں پھنسا ہوا ہے ، جس کی آزادی دوسروں کے پاس گروی پڑی ہے۔ ایک ایماندار تنخواہ دار پاکستانی ساری زندگی کی کمائی سے ایک گھر بھی نہیں بنا سکتا اور ان کا سرے محل ملکہ برطانیہ کے محل کی ٹکر کا نہ جانے کیسے بن گیا۔بابُو جی جدہ میں تشریف لائے شاہی مہمان بن کر لیکن اپنے ساتھ پاکستان سے نوکروں کا ایک غول بھی لے کر آئے کہ جس کی تنخواہ بابُو جی کو ہی ادا کرنا تھی۔ ہم یہاں جھک مارتے ہیں ۔ ایک دن کام سے ناغہ ہو جائے یا دفتر سے چھٹی ہو جائے تو پورا مہینہ افسوس لگا رہتا ہے کہ بجٹ کو کیسے سیٹ رکھیں۔ لیکن یہ شہزادگان نہ جانے کہاں سے قارون کا خزانہ لاتے ہیں۔ کہ پردیس میں بھی ٹھاٹھ سے رہتے ہیں ۔ ہر دوسرے دن لندن ، دبئی ، امریکا کا طواف بھی کرتے ہیں۔
یہی ہیں وہ سوالات جو آج ہر پاکستانی کے دماغ میں طوفان برپا کئیے ہوئے ہیں۔ کوئی میری طرح سے منہ پھٹ ہو تو بول دیتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ ایک انجانے خوف میں مبتلا ہیں اور دل ہی دل میں کڑھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی آمر نے اقتدار سنبھالا تو پاکستانی عوام کی اکثریت نے خاموشی سے اسے قبول کر لیا یا کم از کم اس کے مخالفت نہیں کی صرف یہ سوچ کر کہ شاید یہ آدمی ہی ان کے دکھوں کا کچھ مداوا کر سکے۔ لیکن مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاستدان اپنی روش سے اور آمر اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہے۔ کباڑا ہو رہا ہے تو عوام کا۔ بے کار اور بے روز گار نوجوان اپنے خاندان کا سہارا بننے کی بجائے دہشت گردوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ مایوسی کی زندگی سے اکتا کر خود کش حملوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے ہر خود کش حملے کے پیچھے صرف جذبہ ہی کار فرما نہیں ہوتا اس کا بڑا مہیج وہ مال بھی ہوتا ہے جو اس بے روزگار کے ورثاء کو دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف تھما کر اس کی دھاک بٹھائی جاتی ہے اور طاقت کے ذریعے اپنا حق چھیننے کا فلسفہ سنا کر اس کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔
امریکہ نے پاکستان کو کروڑوں اربوں ڈالر دئیے۔ کس لئیے؟ دہشت گردی سے لڑنے کے لئیے!
لیکن دئیے کس کو ؟ کیا مجھے؟ کیا آپ کو؟ کیا ان ڈالروں سے دہشت گردی رک سکتی ہے؟ نہیں نا؟! یہ رقم دی اس نے اپنے خونیں مقاصد کے حصول کے لئیے۔ اس رقم سے صرف ایک ہی طبقہ نوازا جاتا ہے اور یہی طبقہ کل کو جب امریکہ کی نظر میں کھٹکے گا تو پھر سے ایک اور کھیل کھیلا جائے گا۔القاعدہ اگر جنگ افغانستان کے مجاہدین کا ہی دوسرا نام ہے تو اس کو بنایا کس نے؟ اس کو اسلحہ اور پیسہ کس نے دیا؟ اس کی پشت پناہی کس نے کی؟ پھر جب ان کی ضرورت نہ رہی کہ روس ٹوٹ چکا تھا تو ان کو دہشت گرد کا نام کس نے دیا؟ اسامہ بن لادن کبھی امریکا کا منظور نظر تھا تو آج اس میں کیڑے کیوں پڑ گئے؟ اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہی القاعدہ والا کھیل امریکہ دوبارہ سے نہیں کھیلے گا کہ جب اس کو آج نوازے جانے والوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں چلی گئی تو میں عرض کروں کہ میں موضوع سے ہٹا نہیں ہوں صرف یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ آج ہم جس تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں اس کا سبب امریکہ سے زیادہ ہمارے سیاستدانوں اور جرنیلوں کی نا اہلی اور کم عقلی ہے۔ آج کی جس فرنٹ لائن پر ہم اترا رہے ہیں اور ڈالر سمیٹ رہے ہیں یہ جب اپنا اصل رنگ دکھائے گی تو ایک اور خونیں باب کا اضافہ کرے گی ہماری مختصر سی تاریخ میں۔ اور اس کے ذمہ دار جنرل صاحب تو ہوں گے ہی وہ سیاستدان بھی ہوں گے جو آج بھی سودے بازیوں میں مشغول ہیں۔ استحکام پاکستان تو دور کی بات بقائے پاکستان کے لئیے بھی یہ لوگ کچھ نہیں کر رہے۔ آج بھی ان کے پیش نظر مالی مفادات اور ممکنہ لوٹ مار میں حصے کا تناسب ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی سے لڑنے کے لئیے ایک ڈالر بھی نہیں چاہئیے۔ اور جس کو ہم دہشت گردی کہتے ہیں اس کے اسباب بھی ہم نے خود ہی پیدا کئیے ہیں اس لئیے اس کا حل بھی ہمیں ہی ڈھونڈنا ہے امریکا کو نہیں۔ اعداد و شمار جمع کیجئیے ان علاقوں کا کہ جہاں کے نوجوانوں کی اکثریت ان شدت پسندانہ کارروائیوں میں حصہ لیتی ہے۔ اور پھر دیکھئیے کہ ان علاقوں میں پچھلے ساٹھ سالوں میں ترقی ، تعلیم ، سہولیات کی فراہمی ، وڈیرہ شاہی کے خاتمے ، صحت ، ذرائع آمد و رفت کی دستیابی ، کا رخانوں اور صنعتوں کے قیام کے لئیے کیا کوششیں کی گئیں ہیں۔ نتیجہ چند منٹوں میں آپ کے سامنے ہو گا ۔ جنرل صاحب کو امریکا سے الجھنے کی ضرورت نہیں اس کو صرف اتنا کہہ دیں کہ تم میری امداد صرف 10 فیصد کر دو لیکن مجھے یہ امداد بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں سہولیات اور ضروریات کی ترقی پر خرچ کرنے دو۔ اپنی پرانی صنعتی مشینیں ہمیں دے دو۔ پرانے چھاپہ خانے ہمیں دے دو۔ کتابیں سستی کرنے کے لئیے جدید ٹکنالوجی دو۔ اور اپنے جاسوس طیارے ، ہیلی کاپٹر اور میزائل واپس لے جاؤ۔ آپ یقین کیجئیے کہ کشت و خوں کے بغیر امن قائم ہو جائے گا۔ اور خود کش حملہ آور پیدا نہیں ہوں گے۔
اگر میری یہ تحریر کسی سیاستدان یا ان کے ورکرز کی نظر سے گزرے تو میری گزارش ہے کہ خدا را اب ہوش کے ناخن لیجئیے ۔ اس ملک کے مسائل کا از سر نو جائزہ لیجئیے اور امریکا کی خوشنودی کی بجائے اپنے عوام کی بھلائی کے لئیے کام کیجئیے۔اور اپنے من پسند لیڈروں کو بھی اس پر مجبور کریں۔

 

خیر اندیش
ساجد

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

مفادات کی جنگ

Posted on 28/07/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

پاکستانی سیاستدان بھی عجیب قسم کے مفادات سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اب یہی دیکھ لیں کہ
محترمہ بے نظیر بھٹو جو کل تک صدر پرویز مشرف کو آمر، ڈکٹیٹر جیسے خطاب سے نوازتی تھیں، جو اب تک جمہوریت کا رونا رو رہی تھیں۔
اور صدر پرویز مشرف کے بقول کہ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں لٹیرے ہیں اور اب وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔
آج ملک کے بہترین مفاد میں ابوظہبی میں خلفیہ زاہد کے محل ’قصرِمشرف‘ میں بیٹھ کر سارے گلے شکوے دور کر رہے ہیں۔ ان نئے بننے والے تعلقات نے مسلم لیگی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ چوہدری برادران بے چین ہیں۔ بی بی کے زخم خوردہ کراچی کنگ اس ملاقات کو خوش آئیند قرار دے رہے ہیں۔
لیکن ۔۔۔ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کی انائیں اور ضمیر آخر کس چیز کے بنے ہوئے ہیں؟ وہ کونسی انائیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں، وہ کون سے زریں اور بہترین اصول ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور الزامات لگاتے ہیں۔
لیکن جب کسی بہترین مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سینکڑوں بازو ان کی گردنوں میں حائل ہونے کےلئے بے تاب ہوتے ہیں اور اس سارے تماشے کے باوجود ان کے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دماغوں پر کوئی خراش آتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

اک بات محبت کی ۔ 2

Posted on 27/07/2007. Filed under: پاکستان, شعروادب |

اک بات محبت کی 2

خوش ذوق شاعر محمد ممتاز راشد کے تازہ مجموعہ کلام  "اِک بات محبت کی" سے منتخب شدہ چند مزید غزلیں ملاحظہ فرمائیے.

دُوسرا (آخری) حصہ

—————————–

اب  بھی  ہے  سوالات  کا  معیار  سلامت

اب بھی ہیں ترے شہر میں خوددار سلامت

 

برسے ہیں مرے صحن میں افلاس کے پتھر

صد شُکر کہ ہے شیشہ کردار سلامت

 

طوفان کا چہرہ نہ کبھی مجھ سے چھپے گا

جب تک ہے مرا روزنِ دیوار سلامت

 

یہ بات الگ ہے نہ ملا گلشنِ منزل

ہم آئے ہیں صحراؤں سے ہر بار سلامت

 

ہر شاخ چمن زار کی شاداب رہے گی

جب تک ہے مرا جذبہ ایثار سلامت

 

یہ رنگِ مکافات بھی کیا خُوب ہے راشد

اشراف ہیں مجروح ، غلط کار سلامت

——————–

 

خیر اور شر کو تولنے سے نہ رُک

عدل کے حق میں بولنے سے نہ رُک

 

وُسعتِ فِکر  اسی  سے  آئے  گی

ذہن کی گَِرہیں کھولنے سے نہ رُک

 

اَک نہ اَک دن ضرور چمکیں گے

لفظ موتی ہیں ، رولنے سے نہ رُک

 

چُپ ضروری ہے گر ، تو رہ خاموش

بولنا ہو ، تو بولنے سے نہ رُک

 

میرے کانوں میں خوش نوا بُلبُل

صبح دم شہد گھولنے سے نہ رُک

 

ظُلمتِ شب کا زور ہے راشد

پھر بھی رستہ ٹٹولنے سے نہ رُک

——————–

 

ہمارے دل کو غموں سے نڈھال رکھتے ہیں

یہ آپ خُوب ہمارا خیال رکھتے ہیں

 

یہ اور بات کبھی پُوچھتے نہیں اُن سے

وگرنہ ذہن میں لاکھوں سوال رکھتے ہیں

 

ہمیں مُلال  نہیں  بے وفا زمانے کا

تری جفاؤں کا لیکن  مُلال رکھتے ہیں

 

ہمیں عزیز ہیں جیسے بھی ہیں حریف اپنے

وہ  حوصلے  تو ہمارے  بحال  رکھتے  ہیں

 

شعور اُن کو نہیں رسم و راہِ  دُنیا  کا

فریب دینے میں لیکن کمال رکھتے ہیں

 

ہمیں خبر ہے کہ کیا ہیں تقاضے غیرت کے

اِسی لئیے تو لہو  میں  اُبال  رکھتے  ہیں

 

گِلہ جو ہو گا کوئی تُجھ سے ، تو برملا ہو گا

غُلام  ہیں  مگر  اتنی  مجا ل رکھتے  ہیں

 

غزل پہ اُن سے کوئی گفتگو کرے کیسے

حسِ لطیف  کو  جو  پائمال  رکھتے  ہیں

 

ہمیں تو اُن کا زیادہ  خیال  ہے  راشد

جو دوسروں کا زیادہ خیال  رکھتے  ہیں

——————–

 

پہنچنا  ہو  جن  کو  بروقت  اپنی منزل  پر

سفر میں کب وہ کسی کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

 

عجب نہیں کوئی عِرفاں ہمیں بھی مل جائے

کسی درخت سے ہم بھی لپٹ کے دیکھتے ہیں

 

وہ  کیا  بنائیں  گے  دُنیا  میں  اپنا  مُستقبل

جو اپنے حال کو ماضی سے کٹ کر دیکھتے ہیں

 

لکھا  ہوا  ہے  جہاں  "لا تفرقو"  راشد

ہم اس کتاب کو فرقوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

——————–

 

بچھا دیتے ہو انگارے ، کبھی پُر خار کرتے ہو

مری منزل کا رستہ کِس لئیے دُشوار کرتے ہو

 

محبت کس طرح کی ہے ، یہ نفرت ہے تو کیسی ہے

نہ مُجھ  سے  دُور جاتے ہو  نہ آنکھیں  چار  کرتے  ہو

 

تُمہاری زندگی کی مشکلیں مَیں نے سمیٹی ہیں

قیامت ہے کہ تم پھر بھی مُجھی پر وار کرتے ہو

 

عجب انداز ہے جاناں تُمہاری کج ادائی کا

عجب تیور سے اپنے پیار کا اظہار کرتے ہو

 

کہاں جا کر جھکاتے ہو جبیں معلُوم ہے سب کو

اگرچہ خود کو تُم ظاہر سدا خوددار کرتے ہو

 

حواری  جمع کرتے  ہو ، لُٹاتے ہو  کبھی  دولت

یہ کن بیساکھیوں پر خود کو تُم معیار کرتے ہو 

 

اُسے دیتے ہو  دستارِ  فضیلت جو  ہے  بے  توقیر

جسے کچھ حق نہیں حاصل اُسے حقدار کرتے ہو

 

میں ہوں پہلے ہی اک ذرہ مجھے تُم کیا گھٹاؤ گے

یہ  جتنی کوششیں  کرتے ہو تُم بے کار  کرتے  ہو

——————–

 

اپنے پندار کے زینے سے اُترنا سیکھو

ہار کر ہار کو تسلیم بھی کرنا سیکھو

 

کیا ضروری ہے کہ بس بننا سنورنا سیکھو

دوستو! سیلِ حوادث سے گزرنا سیکھو

 

غرضِ احوال پہ کیوں اتنے ہوئے ہو برہم

کوئی وعدہ نہ کرو ، بات تو کرنا سیکھو

 

دُوسروں پر ہی بھروسے کی روش کیا معنی

اپنے  ہر  کام کا  خود  فیصلہ  کرنا  سیکھو

 

مسئلے زیست کے ہر چند بہت مشکل ہیں

ان مسائل پر مگر غور تو کرنا سیکھو

 

موت سے کس کو مفر ہر مگر اے ہم نفسو!

زندہ رہنا ہے تو پھر شان سے مرنا سیکھو

 

ڈوب جاؤ بھی جو راشد کبھی تاریکی میں

تازہ سورج کی طرح پھر سے ابھرنا سیکھو

——————–

 

جہاں پھرا ہُوں اکیلا بھی ، مارامارا بھی

اُسی نگر نے دیا ہے مُجھے سہارا بھی

 

تعلقات  نبھانے  میں  زندگی  گزری

انہی میں جیتا ، انہی بازیوں میں ہارا بھی

 

اسی چمن میں گزاریں گے روز و شب اپنے

کہ اس چمن کی رگوں میں ہے خوں ہمارا بھی

 

سحر کا نُور پہن کر ہی تُم چلے آؤ

کہ اب تو ڈوب چُکا صبح کا ستارا بھی

 

ہمیشہ اُس کو بُلاتا ہوں میں سحر کہہ کر

یہی ہے  نام  یہی اُس  کا  استعارہ  بھی

 

گئی بدن سے نہ اک دھوپ کی تپش راشد

بہت سا وقت گھنی چھاؤں میں گزارا بھی

——————–

 

ہر شام اضطراب  میں رکھتا ہے  دیر  تک

سینے میں یہ جو حسرتِ ماضی کا شور ہے

 

کِس قلعے کی فصیلیں گرانے لگے ہیں لوگ

کس شہرِ ناتواں کی تباہی کا شور ہے

 

فرعونیت بھی کم  نہیں اُس  کے  مزاج  میں

بستی میں جس کے عجز کی خوبی کا شور ہے

 

کوئی  بھی  شور  بوجھ  نہ  ہو گا مزاج  پر

جب تک وہ حضرت آپ کی مرضی کا شور ہے

 

ماحول جِس کے دم سے ہے اتنا کھِلا کھِلا

خوشبو نہیں ، وہ رات کی رانی کا شور ہے

 

طے کر نہیں سکا  ابھی  راشد یہ نا خُدا

لہروں کا شور ہے کہ یہ کشتی کا شور ہے

——————–

 

نظر  تیغِ بلا سے  ہٹ  نہ  جائے

رہو چوکس کہ گردن کٹ نہ جائے

 

جنوں کی دھوپ میں شدت نہ ہو گی

خرد کا ابر جب تک چھٹ نہ جائے

 

جواں ہونے لگے ہیں گھر کے بچے

کہیں اب گھر کا آنگن بٹ نہ جائے

 

دھماکوں جیسی خبریں مل رہی ہیں

کہیں راشد کلیجہ پھٹ نہ جائے

——————–

خیر اندیش

ساجد

 

 

 

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اِک بات محبت کی ۔ 1

Posted on 26/07/2007. Filed under: پاکستان, شعروادب |

اِک بات محبت کی 1

محمد ممتاز راشد پچھلے اکتیس برس سے بسلسلہ روزگار قطر میں مقیم ہیں. 1986 میں موصوف کی غزلوں کا پہلا مجموعہ "کاوش" منظرِ عام پر آیا. نظمیں ، قطعات اور افسانے بھی لکھتے ہیں اور مزاحیہ شاعری بھی کر چکے ہیں. فی الوقت اُن کے تازہ مجموعہ کلام  "اک بات محبت کی" سے منتخب شدہ غزلیں پڑھئیے اور اپنے وقت کو پُر لطف بنائیے.

 (حصہ اول)

———————————–

ملے جو غم ، تو اُس غم کو ، غمِ پیہم نہیں کرتے

کسی کی بے وفائی کا سدا ماتم نہیں کرتے

 

اندھیرے نا اُمیدی کے ، ڈراتے ہیں ، ڈرانے دو

چراغِ آرزو اپنا ،  کبھی مدھم نہیں کرتے

 

علامت رزم گاہوں میں ، یہی ہے سر بلندی کی

کسی حالت میں اپنے سرنگوں پرچم نہیں کرتے

 

عداوت کے زمانے میں ہر اک حد سے گزر جانا

ہزار ایسا کرے کوئی ، مگر یہ ہم نہیں کرتے

 

ضدیں جب حد سے بڑھ جائیں تو اکثر دِل جلاتی ہیں

ضدیں اتنی محبت میں مِرے ہمدم نہیں کرتے

 

کسی کی گرم جوشی کے قدم ہر چند رُک جائیں

مگر اپنی طرف سے پیش قدمی کم نہیں کرتے

 

نہ راس آتا ہو جب راشد کسی کا آتشیں لہجہ

تو ایسے شخص کو پیارے ، کبھی برہم نہیں کرتے

——————–

 

بہت دھوکے دئیے ہیں تم نے مجھ کو

خود اپنے آپ سے دھوکہ نہ کرنا

 

بہت اُجلا ہے آنگن قربتوں کا

جُدائی سے اسے میلا نہ کرنا

 

بڑی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوں

مِرے خدشات کو سچا نہ کرنا

 

تِرا بیمار ہو کر جی رہا ہوں

مجھے اب عمر بھر اچھا نہ کرنا

 

مِرا ہونا ، نہ ہونا اِک سا ہے

میں سایہ ہُوں مِرا پیچھا نہ کرنا

 

مُرادوں کی سحر آ کر رہے گی

کڑی راتیں ہیں دِل چھوٹا نہ کرنا

 

اگر دستار کی عظمت ہے پیاری

تو اپنے قد سے سر اونچا نہ کرنا

 

رواداری کی باتیں خُوب ، لیکن

کبھی غیرت پہ سمجھوتہ نہ کرنا

 

دلیری کا یہ بنیادی سبق ہے

کسی کمزور پر حملہ نہ کرنا

 

بھلا ہوتا ہو جس میں بے بسوں کا

کبھی اُس "جُرم" سے توبہ نہ کرنا

 

بلندی کا تصور مِٹ نہ جائے

کسی ظرف کو اونچا نہ کرنا

——————–

 

آپ نے جو بھی چاہا ، جو بھی سوچا ، ہو گیا

مسئلہ تو اُن کا ہے جِن کا مقدر سو گیا

 

لُٹ گئی اِک بہارِ جاں تو کوئی غم نہیں

سوچنا یہ ہے کہاں گُلزارِ منزل کھو گیا

 

میں کسی سے مانگتا کیا اک لمحے کی ہنسی

مجھ سے جو بھی ملنے آیا ، اپنا رونا رو گیا

 

ڈس لیا ہے  دفعتاَ سائے  کی ناگن  نے اسے 

دھوپ سے گھبرا کے رستے میں جو راہی سو گیا 

 

جس کی آنکھوں نے کیا اشکِ ندامت سے وضو

در حقیقت دامنِ دِل کے وہ دھبے دھو گیا

 

بھول جاتے ہیں یہاں کا راستہ شاید سبھی

لوٹ کر واپس نہ آیا اِس جہاں سے جو گیا

 

پُوچھتے ہو مجھ سے کیا رُودادِ مرگِ آرزو

اک تماشہ تھا کہ جو ہونا تھا ، راشد ہو گیا

——————–

 

اشک برسے تو کچھ قرار آیا

کُھل کے روئے تو کچھ قرار آیا

 

خامشی بن رہی تھی بے چینی

اُن سے اُلجھے تو کچھ قرار آیا

 

جاں بہ لب تھے اَنا کی چوٹی پر

نیچے اُترے تو کچھ قرار آیا

 

اُن کے انکار سے تھے ہم بے دم

جب وہ مانے تو کچھ قرار آیا

 

ضبط کرنے میں تھی کچھ اذیت سی

راز  اُگلے تو  کچھ  قرار  آیا

 

در بہ در تھے تو بوجھ تھا دل پر

گھر کو لوٹے تو کچھ قرار آیا

 

ہم قدم رہ کے خوش نہ تھے دونوں

رستے بدلے تو کچھ قرار آیا

 

خواب تھے یا عذاب تھے راشد

جب وہ ٹُوٹے تو کچھ قرار آیا

——————–

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

گہرے علم عطا کر سانوں

Posted on 23/07/2007. Filed under: شعروادب |

ربِ کریم

 

 

 

ایسے اِسم سکھا دے سانوں

ہرے بھرے ہو جائیے

گہرے علم عطا کر سانوں

بہت کھرے ہو جایئے

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

آؤ شہیدو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی۔۔!

Posted on 20/07/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو بہت فخر سے اور بڑھ چڑھ کر یہ گیت اسکول کی اسمبلی میں سب کے ساتھ مل کرگایا کرتا تھا کہ

آؤ بچو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

اِس قومی نغمے میں نہ جانے ایسی کیا بات تھی کہ رگوں میں دوڑتا لہو بھی کچھ دیر کے لیے سبز ہوجاتا تھااور اندر ہی اندرخواب، امیداورتوقع کے نئے پودے تناور درخت بننے کے لیے بے تاب ہوجاتے…لیکن قومی اسمبلی،اسکول کی اسمبلی سے بہت مختلف ہے، وہاں چونکہ سب جیت کر آتے ہیں اِسی لیے گیت بھی بدل جاتے ہیں۔ اُس وقت انداز والہانہ تھا،اب فاتحانہ ہے۔ اُس وقت بچوں کی اسمبلی تھی اِسی لیے صرف پاکستان نظر آتا تھا۔ اب قومی اسمبلی ہے اِسی لیے ”صدرِ پاکستان“ کے سوا کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا اور پھر میں بھی سب کی طرح یہ گیت بھول گیا کہ اقتدار کی راہداریوں میں تو لوگ سچ اور حق کو بھول جاتے ہیں یہ تو صرف ایک گیت تھا، ایک ایسا بھولا بسرا نغمہ جسے گنگنانے کے لیے آواز کی نہیں۔ صرف حب الوطنی کی ضرورت تھی۔ مگر اب سب کچھ ویسا نہیں ہے ، دھیمے سُروں کی جگہ اب خود کش حملہ آوروں کے سَروں نے لے لی ہے۔ آواز کے جادو پر درد بھری چیخوں کی ظالمانہ حکم رانی ہے۔ اِسی لیے اب کوئی ”قومی نغمہ “ نہیں گاتا۔ سہمے سہمے سوزسے بس ”قومی نوحے“پڑھے جاتے ہیں۔ ہرفرد نفسیاتی مریض بنتا جارہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی ممکنہ دھماکے سے قبل ہی وہ کرب سے پھٹ جائے گا۔ آج مجھے وہی گیت پھر یاد آرہا ہے ، مگر ویسا نہیں جیسا میں گاتا تھا۔ مجھے نیزوں کی نوکوں پر بچوں کے سر، خون میں لت پت ٹرینیں، انسانی جسم اگلتے کنوئیں اور وہ سوختہ نعشیں بھی دکھائی دے رہی ہیں جن کے سبب پاکستان جیسی نعمت عظیم ہم جیسے ”بے قدروں“ کو نصیب ہوئی۔ فوجی جوانوں پر حملے کرنے والے جنونی اور مساجد کو ویران کرنے والے”ویر“ یہ نہیں جانتے کہ دونوں جانب بہنے والا خون ہمارا اپنا ہے۔ اِس کی مہک گواہی دے رہی ہے کہ یہ آج بھی اُن22لاکھ انسانی جانوں کا مقروض ہے جو تخلیقِ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو اپنے لہو کی آبیاری سے مضبوط کرگئیں۔ آج میں اُن شہیدوں ہی سے مخاطب ہوں۔ مگرخجالت و شرمندگی کے بوجھ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے کہ

آؤ شہیدو!سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
 جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد
پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد

دیر و سوات اسلام آباد میں بمباروں کا ڈیرا ہے
سفاکی اور بربادی کا اِن کے سر پر سہرا ہے
گلیوں میں کوچوں میں اِن کی دہشت کا رنگ گہرا ہے
دیکھو غور سے دیکھو کتنا مکروہ اِن کا چہرہ ہے
جاں لیتے ہیں اپنی نفرت سے یہ ہر انسان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی 

گلی گلی میں بکھری ہیں لاشیں ماؤں کے لال کی
یہ لاشیں کیسی لاشیں ہیں بن جسموں کے کھال کی
نہ تو جھگڑا عورت پر ہے نہ یہ جنگ ہے مال کی
تصویریں جو ماضی کی تھیں دیکھو اب ہیں حال کی
رہی نہ قیمت سب کی نظروں میں انسانی جان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

آزادی آزادی کہہ کر پاکستان بنایا تھا
لاکھ ستاروں کے جھرمٹ میں چاند ستارہ پایا تھا
رمضاں کی ستائیس تھی قراں کا سر پہ سایہ تھا
اپنا خوں دے کر یہ تم نے تحفہ پیارا پایا تھا
نفرت کی آندھی ہے اور آمد ہے اب طوفان کی
کیسے اب ہم سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

مسجد مسجد خون کی موجیں زخمی ہر پیشانی ہے
بے قیمت ہے خون یہاں پر مہنگا لیکن پانی ہے
ہر صبح سیلاب بکف ہے شام ہر اک طوفانی ہے
کتنی سرکش کتنی رسوا اب نسلِ انسانی ہے
صد افسوس کہ بھول گئے ہیں باتیں ہم قرآن کی
کیسے اب ہم سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

درسِ محبت دینے والے انسانوں کا نام نہیں
سورج جیسی صبح نہیں ہے تاروں جیسی شام نہیں
کون سا گھر ہے ارضِ وطن کا جس میں اب کہرام نہیں
یاد کسی کو پیارے نبی کا آج کوئی پیغام نہیں
بھول گئے ہاں بھول گئے ہیں باتیں ہم ایمان کی
اپنے ہاتھوں کھول رہے ہیں راہیں ہم زندان کی

دیکھو شہیدو! اپنی اولادوں کی حق تلفی دیکھو!
حسرت دیکھو ،نفرت دیکھو لاشیں تم گرتے دیکھو
آزادی کے تحفے میں عزت کی پامالی دیکھو
آنکھیں بند کر کے تم دختر کی عزت لٹتے دیکھو
کیوں لگائی تھی اے پیارو! تم نے بازی جان کی
کس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

دست دعا پر حرف دعا پر خون کے آنسو گرتے ہیں
چہروں چہروں خوف کے نغمے لکھنے والے لکھتے ہیں
دل میں بسا کر امن کی خواہش شہروں شہروں پھرتے ہیں
رہبر پھر بھی رہزن بن کر ہر رستے پر ملتے ہیں
مسلم ہوکر مان رہے ہیں باتیں سب شیطان کی
پس منظر میں رکھ دیں ہم نے باتیں رب رحمن کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی

بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا ہے بازار یہاں
بغض، عداوت اور جلن کا سب کے سر پہ بار یہاں
بوڑھی لگتی ہے مروت نفرت کا ہر وار جواں
بیتے پل بس یادیں ہیں اب ایسے دن اور رات کہاں
ایسا لگتا ہے سپاہ اتری ہے یاں خاقان کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی

دین، عقیدے اور مذہب کے نام پہ لاشیں گرتی ہیں
مائیں اپنے ٹکڑوں کے ٹکڑوں کو لے کر پھرتی ہیں
امیدوں کی کلیاں اس گلشن میں اب کم کھلتی ہیں
روحیں نخوت کی یاں خوشیوں کے جسموں سے چڑتی ہیں
انسانوں کی اِس بستی میں ہے کمی انسان کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی

بولو شہیدو! کہو شہیدو! کیوں بنایا پاکستان
نعرہ یہ تم نے کیوں لگایا”لے کے رہیں گے پاکستان“
اپنی جنت اپنا گھر ہی کہلائے گا پاکستان
ایک ہی دھن تھی پاکستان، پاکستان، پاکستان
وطن میں بسنے والوں نے اِس کی تباہی ٹھان لی
کیسے تم کو سیر کرائیں تمھارے پاکستان کی

پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد

 

 

لاؤڈ اسپیکر۔۔۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسین۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

“بنیاد پرست“ پر محترم ساجد صاحب کا تبصرہ

Posted on 20/07/2007. Filed under: پاکستان, اسلام, بلاگ اور بلاگرز, رسم و رواج, سیاست |

سعودیہ، مدنیہ منورہ میں مقیم محترم ساجد صاحب نے “بنیاد پرست“ پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے۔ جسے میں قارئین کی سہولت کے لئے یہاں پوسٹ کر رہا ہوں تاکہ ان کے تجربے، مشاہدے اور خیالات سے آگاہی ہو سکے۔ نبیل بھائی ان سے پہلے بھی اپنا بلاگ بنانے کا کہہ چکے ہیں، مگر وہ شاید کسی مجبوری کی وجہ سے کرنے سے قاصر ہیں، یہاں میں انہیں آفر کرنا چاہوں گا کہ وہ اگر مزید کسی موضع پر لکھنا چاہیں تو پاکستانی بلاگ کے صفحات ان کے لئے حاضر ہیں۔

 

 

ساجد بھائی کا تبصرہ آخر یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ دوسروں کے مذہب پر لعن طعن کر کے ہی ہم اپنی مسلمانی کا اظہار کرسکتے ہیں؟ جس طرح سے مسلمانوں میں سبھی لوگ برے نہیں اسی طرح کسی بھی مذہب کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے ماننے والے برے ہیں یا متعصب ہیں ایک نہایت نا معقول رویہ ہے اور اسلامی تعلیمات اور نبی پاک (علیہ صلوۃ والسلام) کے ارشادات کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی۔ ہمارا یہی وہ رویہ ہے جس کو اختیار کر کے ہم نے پوری دنیا کو اپنا دشمن بنا رکھا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودیت اور عیسائیت بھی اسلام کی طرح سے آسمانی مذاہب ہیں اور اللہ کے پاک پیغمبروں کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچے۔ اسلام کے آ جانے کے بعد اگرچہ ان مذاہب کی شریعت پر عمل کی ضرورت نہیں لیکن ان پر انگلی اٹھانا بھی مناسب نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم اس کو عیسائیت کہتے ہیں جو آج کل یورپ ، امریکہ ، افریقہ کے ممالک اور آسٹریلیا میں عیسائیت کے نام پر اور اسرائیل میں یہودیت کے نام پر رائج ہے تو مجھے کہنے دیجئیے کہ ان دونوں نظاموں کا عیسائیت اور یہودیت سے دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ بُش اینڈ کمپنی اور اسرائیل خونخواری اور بربریت کا بد ترین مظاہرہ کر کے اپنے تئیں عیسائیت اور یہودیت کی جو خدمت کر رہے ہیں اُس کی ان دونوں مذاہب میں نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی ان مذاہب کی تعلیم۔ یہ شیطان ملعون کے نظریات کی پیروی ہے اللہ اور اس کے انبیاء کا بھیجا ہوا دین ہرگز نہیں۔ اور جب یہ لوگ عیسائیت اور یہودیت کی اصلی تعلیمات پر عمل ہی نہیں کرتے تو ان کے قبیح اعمال کی وجہ سے ان دونوں آسمانی مذاہب کو بدنام کرنا بھی مناسب نہیں۔ اب آئیے اسلام کی طرف جو سراسر امن اور سلامتی کا دین ہے۔ تاریخ دیکھئیے کہ مسلمانوں نے تلوار اس صورت میں اٹھائی جب ان پر لڑائی مسلط کی گئی۔ اگرچہ کچھ مسلمان فاتحین آپ کو ایسے بھی ملیں گے کہ جنہوں نے صرف اقتدار کے حصول یا مال و زر کی طلب میں مسلمان یا غیر مسلم ممالک کو زیر و زبر کیا لیکن اس کا اسلام سے تعلق نہیں جوڑا جا سکتا۔بالکل ویسے ہی جیسا میں درج بالا سطور میں اسرائیل اور بش کمپنی کی خونخواری پر مبنی کرتوتوں پر عرض کر چکا ہوں اسی طرح سے ان کے عمل کو بھی اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ اسلام اس طرز عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئیے اگر کوئی غیر مسلم، دہشت گردی یا تشدد کا تعلق اسلام سے جوڑ کر سب مسلمانوں کو مؤرد الزام ٹھہراتا ہے وہ بالکل بکواس کرتا ہے۔ اور جو کلمہ گو تشدد، دہشت گردی اور لا قانونیت کو اپنے تئیں احیائے اسلام کے لئیے جائز سمجھتا ہے اس کے اس عمل کو ہمیں قظعی رد کر دینا چاہئیے۔ وہ نہ صرف ایک مسلم معاشرے میں فساد کا سبب بنتا ہے بلکہ اللہ کے اس دین کو بد نام کرنے کا باعث بھی بنتاہے۔ اس کے اس پر تشدد عمل کو بہانہ بنا کر غیر مسلموں کو نہ صرف ہمارے دین پر انگلی اٹھانے کا موقع ملتا ہے بلکہ اس تشدد کے نتیجے میں بہت سارے بے گناہ بھی اپنی جان سے جاتے ہیں۔ اور اس تشدد کو جہاد کا نام دینا تو اور بھی غلط ہے۔ مزید یہ کہ جہاد صرف تلوار ہی سے نہیں کیا جاتا۔ فی الوقت بھی ہمارے پاکستان کو اس تلواری اور کلاشنکوفی جہاد کی نہیں تعلیمی اور حِرفی جہاد کی شدید ضرورت ہے۔ ساتھیو ، ہاں ہمیں ایک بنیاد پرست مسلمان ہونا چاہئیے۔ لیکن وہ کون سی بنیاد ہے کہ جس پر ہم ایک مسلم معاشرے کی پر شکوہ عمارت کھڑی کر سکتے ہیں؟ وہ بنیاد ہمارے رب نے اپنے پاک پیغمبر پر حضرت جبریل کے ذریعے اتاری گئی وحی کے اولین لفظ “اقراء“ کی شکل میں بہت وضاحت سے بیان فرما دی۔ نبی پاک (علیہ صلوۃ والسلام) کی پوری تبلیغ اور دعوت حق اسی لفظ “اقراء“ کی بہترین عملی تفسیر ہے۔ یہاں تک کہ غیر مسلم جنگی قیدیوں کے لئیے بھی یہ رعایت دی گئی کہ جو قیدی ایک مسلمان کو پڑھنا لکھنا سکھائے گا اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ حضرات ، یہ ہے وہ بنیاد پرستی جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنانا چاہئیے اور اس پر فخر کرنا چاہئیے۔ کیوں کہ یہ ہمارے دین “وحی“ کی بنیاد ہے۔ یہ ہمارے پیارے نبی کا طریقہ ہے۔ اور ایک مسلمان سے زیادہ روشن خیال کون ہو سکتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (علیہ صلوۃ والسلام) تک تمام انبیائے کرام پر ایمان۔ سابقہ آسمانی مذاہب اور شارعین کا احترام۔ اور ان کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام۔ دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک۔ بلا تفریق مذہب تمام نوع انسانی کو ایک باپ (آدم) کی اولاد جانتے ہوئے ان سے محبت کرنا۔ یہ سب روشن خیالی نہیں تو کیا ہے؟ مغرب کی نام نہاد این – جی -اوز اور روشن خیالی کی علمبردار تنظیمیں کیا ایسی ایک بھی مثال پیش کر سکتی ہیں۔ ان کی تان اپنے مفادات کے لئیے مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے سے شروع ہوتی ہے اور اپنے آقاؤں سے مال بٹورنے پر ٹوٹتی ہے۔ یہی ان کی جہالت ہے جو دنیا کا امن برباد کئیے ہوئے ہے۔ ان کا منافقانہ رویہ اور دوہرا معیار آج نہ صرف مسلم ممالک بلکہ پوری دنیا کے لئیے درد سر بنتا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کو سطحی باتوں سے آگے بڑھنا چاہئیے۔ معاملات کو تشدد کا رنگ دینے سے پہلے سوچنا چاہئیے کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ اور اگر ہم اسی طرح جذباتیت کا مظاہرہ کرتے رہے تو یہ سازشی ہمیں ایک دوسرے سے لڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانیں دیں گے۔ عراق میں جب ایک دن میں سو دو سو مسلمان اپنی جان سے جاتے ہیں تو کون شمار کرتا ہے کہ ان میں سے کتنے بنیاد پرست تھے اور کتنے بے بنیاد؟ کتنے شیعہ تھے اور کتنے سنی؟ کتنے کرد تھے اور کتنے عرب؟ کتنے پانچ وقت کے نمازی تھے اور کتن
کلبوں میں ڈانس کرنے والے؟ خونخوار بھیڑیوں کا کام ہے خونخواری اور تہذیبوں کی بربادی اور وہ اپنا کام کئیے جا رہے ہیں۔ ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ خونخواری افغانستان میں ہو یا عراق میں، لبنان میں ہو یا فلسطین میں، چاڈ میں ہو یا دارفور میں، سوڈان میں ہو یا ایتھوپیا میں ، صومالیہ میں ہو یا گھانا میں۔ اور اب ان کا نیا نشانہ اسلام آباد ہے۔ اس لئیے فی الوقت ہم کو ایک دوسرے کے ذاتی کردار اور اس کے اندر موجود اسلام کے تناسب کے تجزیات کی بجائے اپنی بقا کی فکر کرنا چاہئیے۔ اجمل صاحب ، سچی بات کہوں تو یہ کہنا پڑے گا کہ میں آج کل سعودیہ میں مقیم ہوں اور یہاں صرف مسلم ممالک سے ہی نہیں غیر مسلم ممالک کے لوگ بھی حج اور عمرہ کا شرف حاصل کرنے کے لئیے آتے ہیں۔ چونکہ میں مدینہ منورہ میں رہایش پذیر ہوں اس لئیے کافی زیادہ ممالک کے معتمرین اور حجاج کرام سے ملاقات رہتی ہے۔ اور اپنے معلومات میں اضافے کے ٹھرک کے ہاتھوں مجبور مَیں مختلف ممالک کے لوگوں کی عادات کا غور سے مشاہدہ کرتا ہوں۔ مَیں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ مغرب بقول آپ کے (بے حیاچمک) کے ماحول سے یہاں آتے ہیں ان کا رویہ اور انداز اپنے دیسی ممالک کے جدی پشتی اور ثقہ بند مسلمانوں سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے روز مرہ کے معاملات میں شامل صرف جھوٹ کے عنصر کا ہی ان سے مقابلہ کریں تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ان کے اندر وہ اچھی صفات جو ایک مسلمان کا خاصہ ہیں ہم سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ نہ تو ان صفات پر غرور کرتے ہیں اور نہ ہی بات بات پر ہماری طرح اپنی مسلمانی کے بلند بانگ دعوے کر کے اپنی ان صفات کا توا لگاتے ہیں۔ اگر مغرب کی “بے حیا“ چمک کا وجود اتنا ہی پر اثر ہے تو یہ فارمولا ان پر کیوں فٹ نہیں آتا؟ ابھی پچھلے ہی حج پر یہاں منیٰ میں افغانی حجاج نے رات کو قریب میں لیٹے ہوئے حجاج کے کمبل چوری کئیے اور اگلے دن یہ خبر اخبارات میں آئی۔اور شرمندگی کی بات یہ تھی کہ ان میں سے اکثر کے پاس پاکستان کے جعلی پاسپورٹ تھے۔ کیا ساری برائیاں مغرب کی بے حیائی میں ہیں؟ نہیں محترم ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ چھپے رستم ہیں۔ یہاں اپنے اکثر لوگ حرم شریف کے اندر بھی آنکھیں سینکنے سے باز نہیں آتے حالانکہ یہ پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور بھارتی ان سے کم “بے حیا“ ماحول سے تشریف لاتے ہیں۔ محترم ،ضرورت ہے تو ہمیں اپنے معاشرے کو سدھارنے کی دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے کی نہیں۔ اگر ہمارے لوگوں کی (بقول آپ کے) عقلیں ماؤف ہو گئیں ہیں تو کیا آپ اس کی وجہ بتائیں گے کہ کیوں ایسا ہوا؟ وہ دین سے دور ہیں تو کیوں ہیں؟ وہ کون سے ذاتی مفادات ہیں جو دین پر عمل کرنے سے روکتے ہیں؟ ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ ہمارے اندر منافقت کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں۔ اور ہم ایسے اڑیل ٹٹو کی مانند ہو چکے ہیں جس کو جتنے بھی ڈنڈے پڑیں وہ ٹس سے مس نہیں ہونے والا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

کی مصیبت اے

Posted on 19/07/2007. Filed under: سیاست, طنز و مزاح |

تصویر دیکھ کر بتائیں، کہ صدر مشرف کیوں پریشان ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...