“بنیاد پرست“ پر محترم ساجد صاحب کا تبصرہ

Posted on 20/07/2007. Filed under: پاکستان, اسلام, بلاگ اور بلاگرز, رسم و رواج, سیاست |

سعودیہ، مدنیہ منورہ میں مقیم محترم ساجد صاحب نے “بنیاد پرست“ پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے۔ جسے میں قارئین کی سہولت کے لئے یہاں پوسٹ کر رہا ہوں تاکہ ان کے تجربے، مشاہدے اور خیالات سے آگاہی ہو سکے۔ نبیل بھائی ان سے پہلے بھی اپنا بلاگ بنانے کا کہہ چکے ہیں، مگر وہ شاید کسی مجبوری کی وجہ سے کرنے سے قاصر ہیں، یہاں میں انہیں آفر کرنا چاہوں گا کہ وہ اگر مزید کسی موضع پر لکھنا چاہیں تو پاکستانی بلاگ کے صفحات ان کے لئے حاضر ہیں۔

 

 

ساجد بھائی کا تبصرہ آخر یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ دوسروں کے مذہب پر لعن طعن کر کے ہی ہم اپنی مسلمانی کا اظہار کرسکتے ہیں؟ جس طرح سے مسلمانوں میں سبھی لوگ برے نہیں اسی طرح کسی بھی مذہب کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے ماننے والے برے ہیں یا متعصب ہیں ایک نہایت نا معقول رویہ ہے اور اسلامی تعلیمات اور نبی پاک (علیہ صلوۃ والسلام) کے ارشادات کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی۔ ہمارا یہی وہ رویہ ہے جس کو اختیار کر کے ہم نے پوری دنیا کو اپنا دشمن بنا رکھا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودیت اور عیسائیت بھی اسلام کی طرح سے آسمانی مذاہب ہیں اور اللہ کے پاک پیغمبروں کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچے۔ اسلام کے آ جانے کے بعد اگرچہ ان مذاہب کی شریعت پر عمل کی ضرورت نہیں لیکن ان پر انگلی اٹھانا بھی مناسب نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم اس کو عیسائیت کہتے ہیں جو آج کل یورپ ، امریکہ ، افریقہ کے ممالک اور آسٹریلیا میں عیسائیت کے نام پر اور اسرائیل میں یہودیت کے نام پر رائج ہے تو مجھے کہنے دیجئیے کہ ان دونوں نظاموں کا عیسائیت اور یہودیت سے دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ بُش اینڈ کمپنی اور اسرائیل خونخواری اور بربریت کا بد ترین مظاہرہ کر کے اپنے تئیں عیسائیت اور یہودیت کی جو خدمت کر رہے ہیں اُس کی ان دونوں مذاہب میں نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی ان مذاہب کی تعلیم۔ یہ شیطان ملعون کے نظریات کی پیروی ہے اللہ اور اس کے انبیاء کا بھیجا ہوا دین ہرگز نہیں۔ اور جب یہ لوگ عیسائیت اور یہودیت کی اصلی تعلیمات پر عمل ہی نہیں کرتے تو ان کے قبیح اعمال کی وجہ سے ان دونوں آسمانی مذاہب کو بدنام کرنا بھی مناسب نہیں۔ اب آئیے اسلام کی طرف جو سراسر امن اور سلامتی کا دین ہے۔ تاریخ دیکھئیے کہ مسلمانوں نے تلوار اس صورت میں اٹھائی جب ان پر لڑائی مسلط کی گئی۔ اگرچہ کچھ مسلمان فاتحین آپ کو ایسے بھی ملیں گے کہ جنہوں نے صرف اقتدار کے حصول یا مال و زر کی طلب میں مسلمان یا غیر مسلم ممالک کو زیر و زبر کیا لیکن اس کا اسلام سے تعلق نہیں جوڑا جا سکتا۔بالکل ویسے ہی جیسا میں درج بالا سطور میں اسرائیل اور بش کمپنی کی خونخواری پر مبنی کرتوتوں پر عرض کر چکا ہوں اسی طرح سے ان کے عمل کو بھی اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ اسلام اس طرز عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئیے اگر کوئی غیر مسلم، دہشت گردی یا تشدد کا تعلق اسلام سے جوڑ کر سب مسلمانوں کو مؤرد الزام ٹھہراتا ہے وہ بالکل بکواس کرتا ہے۔ اور جو کلمہ گو تشدد، دہشت گردی اور لا قانونیت کو اپنے تئیں احیائے اسلام کے لئیے جائز سمجھتا ہے اس کے اس عمل کو ہمیں قظعی رد کر دینا چاہئیے۔ وہ نہ صرف ایک مسلم معاشرے میں فساد کا سبب بنتا ہے بلکہ اللہ کے اس دین کو بد نام کرنے کا باعث بھی بنتاہے۔ اس کے اس پر تشدد عمل کو بہانہ بنا کر غیر مسلموں کو نہ صرف ہمارے دین پر انگلی اٹھانے کا موقع ملتا ہے بلکہ اس تشدد کے نتیجے میں بہت سارے بے گناہ بھی اپنی جان سے جاتے ہیں۔ اور اس تشدد کو جہاد کا نام دینا تو اور بھی غلط ہے۔ مزید یہ کہ جہاد صرف تلوار ہی سے نہیں کیا جاتا۔ فی الوقت بھی ہمارے پاکستان کو اس تلواری اور کلاشنکوفی جہاد کی نہیں تعلیمی اور حِرفی جہاد کی شدید ضرورت ہے۔ ساتھیو ، ہاں ہمیں ایک بنیاد پرست مسلمان ہونا چاہئیے۔ لیکن وہ کون سی بنیاد ہے کہ جس پر ہم ایک مسلم معاشرے کی پر شکوہ عمارت کھڑی کر سکتے ہیں؟ وہ بنیاد ہمارے رب نے اپنے پاک پیغمبر پر حضرت جبریل کے ذریعے اتاری گئی وحی کے اولین لفظ “اقراء“ کی شکل میں بہت وضاحت سے بیان فرما دی۔ نبی پاک (علیہ صلوۃ والسلام) کی پوری تبلیغ اور دعوت حق اسی لفظ “اقراء“ کی بہترین عملی تفسیر ہے۔ یہاں تک کہ غیر مسلم جنگی قیدیوں کے لئیے بھی یہ رعایت دی گئی کہ جو قیدی ایک مسلمان کو پڑھنا لکھنا سکھائے گا اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ حضرات ، یہ ہے وہ بنیاد پرستی جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنانا چاہئیے اور اس پر فخر کرنا چاہئیے۔ کیوں کہ یہ ہمارے دین “وحی“ کی بنیاد ہے۔ یہ ہمارے پیارے نبی کا طریقہ ہے۔ اور ایک مسلمان سے زیادہ روشن خیال کون ہو سکتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (علیہ صلوۃ والسلام) تک تمام انبیائے کرام پر ایمان۔ سابقہ آسمانی مذاہب اور شارعین کا احترام۔ اور ان کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام۔ دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک۔ بلا تفریق مذہب تمام نوع انسانی کو ایک باپ (آدم) کی اولاد جانتے ہوئے ان سے محبت کرنا۔ یہ سب روشن خیالی نہیں تو کیا ہے؟ مغرب کی نام نہاد این – جی -اوز اور روشن خیالی کی علمبردار تنظیمیں کیا ایسی ایک بھی مثال پیش کر سکتی ہیں۔ ان کی تان اپنے مفادات کے لئیے مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے سے شروع ہوتی ہے اور اپنے آقاؤں سے مال بٹورنے پر ٹوٹتی ہے۔ یہی ان کی جہالت ہے جو دنیا کا امن برباد کئیے ہوئے ہے۔ ان کا منافقانہ رویہ اور دوہرا معیار آج نہ صرف مسلم ممالک بلکہ پوری دنیا کے لئیے درد سر بنتا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کو سطحی باتوں سے آگے بڑھنا چاہئیے۔ معاملات کو تشدد کا رنگ دینے سے پہلے سوچنا چاہئیے کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ اور اگر ہم اسی طرح جذباتیت کا مظاہرہ کرتے رہے تو یہ سازشی ہمیں ایک دوسرے سے لڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانیں دیں گے۔ عراق میں جب ایک دن میں سو دو سو مسلمان اپنی جان سے جاتے ہیں تو کون شمار کرتا ہے کہ ان میں سے کتنے بنیاد پرست تھے اور کتنے بے بنیاد؟ کتنے شیعہ تھے اور کتنے سنی؟ کتنے کرد تھے اور کتنے عرب؟ کتنے پانچ وقت کے نمازی تھے اور کتن
کلبوں میں ڈانس کرنے والے؟ خونخوار بھیڑیوں کا کام ہے خونخواری اور تہذیبوں کی بربادی اور وہ اپنا کام کئیے جا رہے ہیں۔ ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ خونخواری افغانستان میں ہو یا عراق میں، لبنان میں ہو یا فلسطین میں، چاڈ میں ہو یا دارفور میں، سوڈان میں ہو یا ایتھوپیا میں ، صومالیہ میں ہو یا گھانا میں۔ اور اب ان کا نیا نشانہ اسلام آباد ہے۔ اس لئیے فی الوقت ہم کو ایک دوسرے کے ذاتی کردار اور اس کے اندر موجود اسلام کے تناسب کے تجزیات کی بجائے اپنی بقا کی فکر کرنا چاہئیے۔ اجمل صاحب ، سچی بات کہوں تو یہ کہنا پڑے گا کہ میں آج کل سعودیہ میں مقیم ہوں اور یہاں صرف مسلم ممالک سے ہی نہیں غیر مسلم ممالک کے لوگ بھی حج اور عمرہ کا شرف حاصل کرنے کے لئیے آتے ہیں۔ چونکہ میں مدینہ منورہ میں رہایش پذیر ہوں اس لئیے کافی زیادہ ممالک کے معتمرین اور حجاج کرام سے ملاقات رہتی ہے۔ اور اپنے معلومات میں اضافے کے ٹھرک کے ہاتھوں مجبور مَیں مختلف ممالک کے لوگوں کی عادات کا غور سے مشاہدہ کرتا ہوں۔ مَیں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ مغرب بقول آپ کے (بے حیاچمک) کے ماحول سے یہاں آتے ہیں ان کا رویہ اور انداز اپنے دیسی ممالک کے جدی پشتی اور ثقہ بند مسلمانوں سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے روز مرہ کے معاملات میں شامل صرف جھوٹ کے عنصر کا ہی ان سے مقابلہ کریں تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ان کے اندر وہ اچھی صفات جو ایک مسلمان کا خاصہ ہیں ہم سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ نہ تو ان صفات پر غرور کرتے ہیں اور نہ ہی بات بات پر ہماری طرح اپنی مسلمانی کے بلند بانگ دعوے کر کے اپنی ان صفات کا توا لگاتے ہیں۔ اگر مغرب کی “بے حیا“ چمک کا وجود اتنا ہی پر اثر ہے تو یہ فارمولا ان پر کیوں فٹ نہیں آتا؟ ابھی پچھلے ہی حج پر یہاں منیٰ میں افغانی حجاج نے رات کو قریب میں لیٹے ہوئے حجاج کے کمبل چوری کئیے اور اگلے دن یہ خبر اخبارات میں آئی۔اور شرمندگی کی بات یہ تھی کہ ان میں سے اکثر کے پاس پاکستان کے جعلی پاسپورٹ تھے۔ کیا ساری برائیاں مغرب کی بے حیائی میں ہیں؟ نہیں محترم ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ چھپے رستم ہیں۔ یہاں اپنے اکثر لوگ حرم شریف کے اندر بھی آنکھیں سینکنے سے باز نہیں آتے حالانکہ یہ پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور بھارتی ان سے کم “بے حیا“ ماحول سے تشریف لاتے ہیں۔ محترم ،ضرورت ہے تو ہمیں اپنے معاشرے کو سدھارنے کی دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے کی نہیں۔ اگر ہمارے لوگوں کی (بقول آپ کے) عقلیں ماؤف ہو گئیں ہیں تو کیا آپ اس کی وجہ بتائیں گے کہ کیوں ایسا ہوا؟ وہ دین سے دور ہیں تو کیوں ہیں؟ وہ کون سے ذاتی مفادات ہیں جو دین پر عمل کرنے سے روکتے ہیں؟ ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ ہمارے اندر منافقت کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں۔ اور ہم ایسے اڑیل ٹٹو کی مانند ہو چکے ہیں جس کو جتنے بھی ڈنڈے پڑیں وہ ٹس سے مس نہیں ہونے والا۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

4 Responses to ““بنیاد پرست“ پر محترم ساجد صاحب کا تبصرہ”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

پڑهنے اور سر دهننے تک تو یه خیالات بہت اچهے هیں مگر عملی دنیا میں جب کوئی اپ کے گهر پر حمله کر دے اور اپ یه دعا کرتے رهیں که خدا کرے ان کی توپوں میں کیڑے پڑییں ـ
آپ کے خیالات اہلسنت سلسله قادیان والوں سے بہت ملتے هیں ــ

محترم خاور صاحب ، میں نے عرض کیا ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے دفاع میں ہی تلوار اُٹھائی ہے۔ اور اپنے گھر (ملک) کی حفاظت کرنا میرے نزدیک ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ آپ کو میرے خیالات پر سر دھننے کی قطعی ضرورت نہیں ہے صرف ان کو اس معیار پر پرکھنے کی ضرورت جو ہمارے دین نے ایک تمدنی زندگی کے لئیے ہمارے لئیے تجویز کیا ہے۔ تاریخ کے ان ورقوں کو کنگھالنے کی ضرورت ہے جن پر ہمارے اجداد کے سنہری دور کی یادیں رقم ہیں۔ ان واقعات کو جاننے کی ضرورت ہے جب شہروں کے شہر ایک بھی تیر چلائے بغیر فتح ہوئے۔ جب بادشاہوں اور ان کی رعایا نے برضا و رغبت اسلام کے دامن کو تھاما ۔ اس وقت ہمارے اجداد کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہ تھا کہ سلطنتوں کو مطیع کر لیا۔ ذرا ان کامیابیوں کے اسباب جاننے کے لئیے تحقیق کا در اپنے اوپر وا کیجئیے۔بہت سارے راز آپ پر منکشف ہوں گے۔ اور آپ کے ذہن میں موجود بہت سارے سوالات کا جواب آپ کو مل جائے گا۔ میں نے عرض کیا نا کہ ہمارا سب سے بڑا المیہ تحقیق اور تعلیم کی کمی ہے۔ اور یہ بتانا کوئی راز کی بات نہیں کہ تعلیم کسی بھی دور کا سب سے بڑا ہتھیار رہا ہے ۔
محترم ، کوئی ہمارے گھر پر حملہ کرے تو ہمیں اس کو دندان شکن جواب دینے کے لئیے ہمیشہ تیار رہنا چاہئیے۔ لیکن اس حقیقت سے تو آپ کو بھی مفر نہ ہو گا کہ جس سے حملے کا خطرہ ہے اس کو جواب دینا تو دور کی بات اس کے جدید ہتھیار ہمیں اتنی مہلت بھی نہیں دیتے کہ اس کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعا بھی ہم کر سکیں۔ اور گھر کا تو پوچھئیے مت ہم نے فرقہ بازیوں اور گروہی عصبیت کی بدولت خود ہی اس کا ستیا ناس کر رکھا ہے۔ ہمارے اوپر حملہ ہوتا ہے تو ہماری دینی غیرت صرف ایک دن کے لئیے گہری نیند سے جاگتی ہے اور اپنے اسی تباہ شدہ گھر میں مزید توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ اور کچھ لوگوں کو اگلے جہان پہنچا کر پھر سے کسی اگلے حملے تک کے لئیے خواب خرگوش میں چلی جاتی ہے۔
محترم ، ہمارا دین ہمیں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئیے ہمہ وقت تیار رہنے کا درس دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی تبھی ممکن ہے جب ہم اس کی طرف عملی قدم بڑھائیں گے اور اس ملک میں ایک بہترین دفاعی نظام قائم کرنے کے لئیے اپنے نوجوانوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی بجائے قلم دیں گے ۔ جہاد کے نام پر ان کو اپنوں ہی کے قتل پر نہیں اکسائیں گے۔ ان کو خود کش حملوں کی ترغیب نہیں دیں گے۔ اگر ہم یہ سب نہیں کریں گے تو شاید (میرے منہ میں خاک) یہ گھر ہی نہ بچا پائیں گے ہم۔ اور شاید پھر ہم میں سے کوئی ان کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد دعا دینے کے لئیے بھی زندہ نہ رہے۔
آپ کے تبصرے کے آخری جملے نے نہ صرف مجھے حیران کیا ہے بلکہ آپ کی ذہنی جھنجھلاہٹ کا عکس بھی اس میں دکھائی دے رہا ہے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔

محترم پاکستانی صاحب ، عزت افزائی کا شکریہ۔
میرا ای میل کا پتہ آپ کے پاس پہنچ چکا ہے اگر آپ مجھے اسی پر اپنا ای میل کا پتہ ارسال فرما دیں تو نوازش ہو گی۔

بھائ صاحب آپ کیوں ہم کو جاگا رہے ہو- کیوں کے جاگتا تو وہ ہے جو سو رہا ہو اور ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو نہیں رہے–
سونے کی اداکاری کر رہے ہیں-


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: