اک بات محبت کی ۔ 2

Posted on 27/07/2007. Filed under: پاکستان, شعروادب |

اک بات محبت کی 2

خوش ذوق شاعر محمد ممتاز راشد کے تازہ مجموعہ کلام  "اِک بات محبت کی" سے منتخب شدہ چند مزید غزلیں ملاحظہ فرمائیے.

دُوسرا (آخری) حصہ

—————————–

اب  بھی  ہے  سوالات  کا  معیار  سلامت

اب بھی ہیں ترے شہر میں خوددار سلامت

 

برسے ہیں مرے صحن میں افلاس کے پتھر

صد شُکر کہ ہے شیشہ کردار سلامت

 

طوفان کا چہرہ نہ کبھی مجھ سے چھپے گا

جب تک ہے مرا روزنِ دیوار سلامت

 

یہ بات الگ ہے نہ ملا گلشنِ منزل

ہم آئے ہیں صحراؤں سے ہر بار سلامت

 

ہر شاخ چمن زار کی شاداب رہے گی

جب تک ہے مرا جذبہ ایثار سلامت

 

یہ رنگِ مکافات بھی کیا خُوب ہے راشد

اشراف ہیں مجروح ، غلط کار سلامت

——————–

 

خیر اور شر کو تولنے سے نہ رُک

عدل کے حق میں بولنے سے نہ رُک

 

وُسعتِ فِکر  اسی  سے  آئے  گی

ذہن کی گَِرہیں کھولنے سے نہ رُک

 

اَک نہ اَک دن ضرور چمکیں گے

لفظ موتی ہیں ، رولنے سے نہ رُک

 

چُپ ضروری ہے گر ، تو رہ خاموش

بولنا ہو ، تو بولنے سے نہ رُک

 

میرے کانوں میں خوش نوا بُلبُل

صبح دم شہد گھولنے سے نہ رُک

 

ظُلمتِ شب کا زور ہے راشد

پھر بھی رستہ ٹٹولنے سے نہ رُک

——————–

 

ہمارے دل کو غموں سے نڈھال رکھتے ہیں

یہ آپ خُوب ہمارا خیال رکھتے ہیں

 

یہ اور بات کبھی پُوچھتے نہیں اُن سے

وگرنہ ذہن میں لاکھوں سوال رکھتے ہیں

 

ہمیں مُلال  نہیں  بے وفا زمانے کا

تری جفاؤں کا لیکن  مُلال رکھتے ہیں

 

ہمیں عزیز ہیں جیسے بھی ہیں حریف اپنے

وہ  حوصلے  تو ہمارے  بحال  رکھتے  ہیں

 

شعور اُن کو نہیں رسم و راہِ  دُنیا  کا

فریب دینے میں لیکن کمال رکھتے ہیں

 

ہمیں خبر ہے کہ کیا ہیں تقاضے غیرت کے

اِسی لئیے تو لہو  میں  اُبال  رکھتے  ہیں

 

گِلہ جو ہو گا کوئی تُجھ سے ، تو برملا ہو گا

غُلام  ہیں  مگر  اتنی  مجا ل رکھتے  ہیں

 

غزل پہ اُن سے کوئی گفتگو کرے کیسے

حسِ لطیف  کو  جو  پائمال  رکھتے  ہیں

 

ہمیں تو اُن کا زیادہ  خیال  ہے  راشد

جو دوسروں کا زیادہ خیال  رکھتے  ہیں

——————–

 

پہنچنا  ہو  جن  کو  بروقت  اپنی منزل  پر

سفر میں کب وہ کسی کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

 

عجب نہیں کوئی عِرفاں ہمیں بھی مل جائے

کسی درخت سے ہم بھی لپٹ کے دیکھتے ہیں

 

وہ  کیا  بنائیں  گے  دُنیا  میں  اپنا  مُستقبل

جو اپنے حال کو ماضی سے کٹ کر دیکھتے ہیں

 

لکھا  ہوا  ہے  جہاں  "لا تفرقو"  راشد

ہم اس کتاب کو فرقوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

——————–

 

بچھا دیتے ہو انگارے ، کبھی پُر خار کرتے ہو

مری منزل کا رستہ کِس لئیے دُشوار کرتے ہو

 

محبت کس طرح کی ہے ، یہ نفرت ہے تو کیسی ہے

نہ مُجھ  سے  دُور جاتے ہو  نہ آنکھیں  چار  کرتے  ہو

 

تُمہاری زندگی کی مشکلیں مَیں نے سمیٹی ہیں

قیامت ہے کہ تم پھر بھی مُجھی پر وار کرتے ہو

 

عجب انداز ہے جاناں تُمہاری کج ادائی کا

عجب تیور سے اپنے پیار کا اظہار کرتے ہو

 

کہاں جا کر جھکاتے ہو جبیں معلُوم ہے سب کو

اگرچہ خود کو تُم ظاہر سدا خوددار کرتے ہو

 

حواری  جمع کرتے  ہو ، لُٹاتے ہو  کبھی  دولت

یہ کن بیساکھیوں پر خود کو تُم معیار کرتے ہو 

 

اُسے دیتے ہو  دستارِ  فضیلت جو  ہے  بے  توقیر

جسے کچھ حق نہیں حاصل اُسے حقدار کرتے ہو

 

میں ہوں پہلے ہی اک ذرہ مجھے تُم کیا گھٹاؤ گے

یہ  جتنی کوششیں  کرتے ہو تُم بے کار  کرتے  ہو

——————–

 

اپنے پندار کے زینے سے اُترنا سیکھو

ہار کر ہار کو تسلیم بھی کرنا سیکھو

 

کیا ضروری ہے کہ بس بننا سنورنا سیکھو

دوستو! سیلِ حوادث سے گزرنا سیکھو

 

غرضِ احوال پہ کیوں اتنے ہوئے ہو برہم

کوئی وعدہ نہ کرو ، بات تو کرنا سیکھو

 

دُوسروں پر ہی بھروسے کی روش کیا معنی

اپنے  ہر  کام کا  خود  فیصلہ  کرنا  سیکھو

 

مسئلے زیست کے ہر چند بہت مشکل ہیں

ان مسائل پر مگر غور تو کرنا سیکھو

 

موت سے کس کو مفر ہر مگر اے ہم نفسو!

زندہ رہنا ہے تو پھر شان سے مرنا سیکھو

 

ڈوب جاؤ بھی جو راشد کبھی تاریکی میں

تازہ سورج کی طرح پھر سے ابھرنا سیکھو

——————–

 

جہاں پھرا ہُوں اکیلا بھی ، مارامارا بھی

اُسی نگر نے دیا ہے مُجھے سہارا بھی

 

تعلقات  نبھانے  میں  زندگی  گزری

انہی میں جیتا ، انہی بازیوں میں ہارا بھی

 

اسی چمن میں گزاریں گے روز و شب اپنے

کہ اس چمن کی رگوں میں ہے خوں ہمارا بھی

 

سحر کا نُور پہن کر ہی تُم چلے آؤ

کہ اب تو ڈوب چُکا صبح کا ستارا بھی

 

ہمیشہ اُس کو بُلاتا ہوں میں سحر کہہ کر

یہی ہے  نام  یہی اُس  کا  استعارہ  بھی

 

گئی بدن سے نہ اک دھوپ کی تپش راشد

بہت سا وقت گھنی چھاؤں میں گزارا بھی

——————–

 

ہر شام اضطراب  میں رکھتا ہے  دیر  تک

سینے میں یہ جو حسرتِ ماضی کا شور ہے

 

کِس قلعے کی فصیلیں گرانے لگے ہیں لوگ

کس شہرِ ناتواں کی تباہی کا شور ہے

 

فرعونیت بھی کم  نہیں اُس  کے  مزاج  میں

بستی میں جس کے عجز کی خوبی کا شور ہے

 

کوئی  بھی  شور  بوجھ  نہ  ہو گا مزاج  پر

جب تک وہ حضرت آپ کی مرضی کا شور ہے

 

ماحول جِس کے دم سے ہے اتنا کھِلا کھِلا

خوشبو نہیں ، وہ رات کی رانی کا شور ہے

 

طے کر نہیں سکا  ابھی  راشد یہ نا خُدا

لہروں کا شور ہے کہ یہ کشتی کا شور ہے

——————–

 

نظر  تیغِ بلا سے  ہٹ  نہ  جائے

رہو چوکس کہ گردن کٹ نہ جائے

 

جنوں کی دھوپ میں شدت نہ ہو گی

خرد کا ابر جب تک چھٹ نہ جائے

 

جواں ہونے لگے ہیں گھر کے بچے

کہیں اب گھر کا آنگن بٹ نہ جائے

 

دھماکوں جیسی خبریں مل رہی ہیں

کہیں راشد کلیجہ پھٹ نہ جائے

——————–

خیر اندیش

ساجد

 

 

 

 

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: