مفادات کی جنگ

Posted on 28/07/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

پاکستانی سیاستدان بھی عجیب قسم کے مفادات سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اب یہی دیکھ لیں کہ
محترمہ بے نظیر بھٹو جو کل تک صدر پرویز مشرف کو آمر، ڈکٹیٹر جیسے خطاب سے نوازتی تھیں، جو اب تک جمہوریت کا رونا رو رہی تھیں۔
اور صدر پرویز مشرف کے بقول کہ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں لٹیرے ہیں اور اب وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔
آج ملک کے بہترین مفاد میں ابوظہبی میں خلفیہ زاہد کے محل ’قصرِمشرف‘ میں بیٹھ کر سارے گلے شکوے دور کر رہے ہیں۔ ان نئے بننے والے تعلقات نے مسلم لیگی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ چوہدری برادران بے چین ہیں۔ بی بی کے زخم خوردہ کراچی کنگ اس ملاقات کو خوش آئیند قرار دے رہے ہیں۔
لیکن ۔۔۔ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کی انائیں اور ضمیر آخر کس چیز کے بنے ہوئے ہیں؟ وہ کونسی انائیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں، وہ کون سے زریں اور بہترین اصول ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور الزامات لگاتے ہیں۔
لیکن جب کسی بہترین مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سینکڑوں بازو ان کی گردنوں میں حائل ہونے کےلئے بے تاب ہوتے ہیں اور اس سارے تماشے کے باوجود ان کے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دماغوں پر کوئی خراش آتی ہے۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

4 Responses to “مفادات کی جنگ”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں”

اسلام علیکم
احمد بھائی پہلے تو پاکستانی بلاگ پر آپ کو خوش آمدید۔ دوسرا مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔

جناب ، یہ پاکستانی سیاستدان کسی اصول اور قاعدے کے پابند ہوتے تو یہ مُلک بار بار آمریت کے شکنجے میں کیوں جاتا۔ ان کو سیاستدان کہنا بجائے خود سیاستدانوں کے لئیے ایک گالی ہے۔ یہ دراصل مداری ہیں۔ اپنے مفادات کے لئیے یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں حتی کہ پاکستان کا سودا بھی۔ ضمیر؟۔۔۔۔کون سا ضمیر؟ یہ کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ خبردار کبھی ان کے سامنے ضمیر کا نام لیا تو۔ ان کی دوستی تو خوشامد ، دغابازی اور لوٹ مار سے ہے۔ یہ وہ کھوٹے سکے ہیں جو بانی پاکستان سے بھی اپنے لئیے اسی لفظ کے ساتھ ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔
لگتا ہے چوہدری برادران کے لئیے مکافات عمل کا وقت نزدیک آ رہا ہے۔ یہ جس مصلحت کے تحت ہر حاکم وقت کا ساتھ دیتے رہے ہیں اس سے پردہ ہٹنے کو ہے۔ ورنہ جو اپنی پارٹی میں ہی “اتفاق“ نہ رکھ سکے وہ ملک کو چلانے کی کیا اہلیت رکھتے ہوں گے۔
عمر شریف نے ایک مزاحیہ ڈرامے میں کہا تھا کہ “ہمارا مکینک کام کراچی میں سیکھتا ہے اور کرتا جدہ میں ہے( یہ اس کی مہارت کا ثبوت ہے)۔ ڈاکٹر لاہور میں پڑھ کر بنتا ہے اور جاب امریکا میں کرتا ہے ۔ لیکن یہ سیاستدان ایسا طبقہ ہے جو ادھر ہی کام سیکھتا ہے اور یہیں پر اس کو آزما کر اس قوم کا بیڑا غرق کرتا ہے“۔
ان لوگوں کی سیاست کا اصل رنگ اس وقت نظر آتا ہے جب یہ لوگ ملک سے باہر تشریف لے جاتے ہیں اور سرکاری خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر اڑاتے ہیں۔ اور تو اور عمرہ جیسے نیک عمل کے لئیے بھی سرکاری خزانہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ ان کی لمبی گاڑیاں اور کر و فر دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ اس قوم کے نمائیندے ہیں جس کا بال بال قرضے میں پھنسا ہوا ہے ، جس کی آزادی دوسروں کے پاس گروی پڑی ہے۔ ایک ایماندار تنخواہ دار پاکستانی ساری زندگی کی کمائی سے ایک گھر بھی نہیں بنا سکتا اور ان کا سرے محل ملکہ برطانیہ کے محل کی ٹکر کا نہ جانے کیسے بن گیا۔بابُو جی جدہ میں تشریف لائے شاہی مہمان بن کر لیکن اپنے ساتھ پاکستان سے نوکروں کا ایک غول بھی لے کر آئے کہ جس کی تنخواہ بابُو جی کو ہی ادا کرنا تھی۔ ہم یہاں جھک مارتے ہیں ۔ ایک دن کام سے ناغہ ہو جائے یا دفتر سے چھٹی ہو جائے تو پورا مہینہ افسوس لگا رہتا ہے کہ بجٹ کو کیسے سیٹ رکھیں۔ لیکن یہ شہزادگان نہ جانے کہاں سے قارون کا خزانہ لاتے ہیں۔ کہ پردیس میں بھی ٹھاٹھ سے رہتے ہیں ۔ ہر دوسرے دن لندن ، دبئی ، امریکا کا طواف بھی کرتے ہیں۔
یہی ہیں وہ سوالات جو آج ہر پاکستانی کے دماغ میں طوفان برپا کئیے ہوئے ہیں۔ کوئی میری طرح سے منہ پھٹ ہو تو بول دیتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ ایک انجانے خوف میں مبتلا ہیں اور دل ہی دل میں کڑھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی آمر نے اقتدار سنبھالا تو پاکستانی عوام کی اکثریت نے خاموشی سے اسے قبول کر لیا یا کم از کم اس کے مخالفت نہیں کی صرف یہ سوچ کر کہ شاید یہ آدمی ہی ان کے دکھوں کا کچھ مداوا کر سکے۔ لیکن مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاستدان اپنی روش سے اور آمر اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہے۔ کباڑا ہو رہا ہے تو عوام کا۔ بے کار اور بے روز گار نوجوان اپنے خاندان کا سہارا بننے کی بجائے دہشت گردوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ مایوسی کی زندگی سے اکتا کر خود کش حملوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے ہر خود کش حملے کے پیچھے صرف جذبہ ہی کار فرما نہیں ہوتا اس کا بڑا مہیج وہ مال بھی ہوتا ہے جو اس بے روزگار کے ورثاء کو دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف تھما کر اس کی دھاک بٹھائی جاتی ہے اور طاقت کے ذریعے اپنا حق چھیننے کا فلسفہ سنا کر اس کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔
امریکہ نے پاکستان کو کروڑوں اربوں ڈالر دئیے۔ کس لئیے؟ دہشت گردی سے لڑنے کے لئیے!
لیکن دئیے کس کو ؟ کیا مجھے؟ کیا آپ کو؟ کیا ان ڈالروں سے دہشت گردی رک سکتی ہے؟ نہیں نا؟! یہ رقم دی اس نے اپنے خونیں مقاصد کے حصول کے لئیے۔ اس رقم سے صرف ایک ہی طبقہ نوازا جاتا ہے اور یہی طبقہ کل کو جب امریکہ کی نظر میں کھٹکے گا تو پھر سے ایک اور کھیل کھیلا جائے گا۔القاعدہ اگر جنگ افغانستان کے مجاہدین کا ہی دوسرا نام ہے تو اس کو بنایا کس نے؟ اس کو اسلحہ اور پیسہ کس نے دیا؟ اس کی پشت پناہی کس نے کی؟ پھر جب ان کی ضرورت نہ رہی کہ روس ٹوٹ چکا تھا تو ان کو دہشت گرد کا نام کس نے دیا؟ اسامہ بن لادن کبھی امریکا کا منظور نظر تھا تو آج اس میں کیڑے کیوں پڑ گئے؟ اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہی القاعدہ والا کھیل امریکہ دوبارہ سے نہیں کھیلے گا کہ جب اس کو آج نوازے جانے والوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں چلی گئی تو میں عرض کروں کہ میں موضوع سے ہٹا نہیں ہوں صرف یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ آج ہم جس تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں اس کا سبب امریکہ سے زیادہ ہمارے سیاستدانوں اور جرنیلوں کی نا اہلی اور کم عقلی ہے۔ آج کی جس فرنٹ لائن پر ہم اترا رہے ہیں اور ڈالر سمیٹ رہے ہیں یہ جب اپنا اصل رنگ دکھائے گی تو ایک اور خونیں باب کا اضافہ کرے گی ہماری مختصر سی تاریخ میں۔ اور اس کے ذمہ دار جنرل صاحب تو ہوں گے ہی وہ سیاستدان بھی ہوں گے جو آج بھی سودے بازیوں میں مشغول ہیں۔ استحکام پاکستان تو دور کی بات بقائے پاکستان کے لئیے بھی یہ لوگ کچھ نہیں کر رہے۔ آج بھی ان کے پیش نظر مالی مفادات اور ممکنہ لوٹ مار میں حصے کا تناسب ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی سے لڑنے کے لئیے ایک ڈالر بھی نہیں چاہئیے۔ اور جس کو ہم دہشت گردی کہتے ہیں اس کے اسباب بھی ہم نے خود ہی پیدا کئیے ہیں اس لئیے اس کا حل بھی ہمیں ہی ڈھونڈنا ہے امریکا کو نہیں۔ اعداد و شمار جمع کیجئیے ان علاقوں کا کہ جہاں کے نوجوانوں کی اکثریت ان شدت پسندانہ کارروائیوں میں حصہ لیتی ہے۔ اور پھر دیکھئیے کہ ان علاقوں میں پچھلے ساٹھ سالوں میں ترقی ، تعلیم ، سہولیات کی فراہمی ، وڈیرہ شاہی کے خاتمے ، صحت ، ذرائع آمد و رفت کی دستیابی ، کا رخانوں اور صنعتوں کے قیام کے لئیے کیا کوششیں کی گئیں ہیں۔ نتیجہ چند منٹوں میں آپ کے سامنے ہو گا ۔ جنرل صاحب کو امریکا سے الجھنے کی ضرورت نہیں اس کو صرف اتنا کہہ دیں کہ تم میری امداد صرف 10 فیصد کر دو لیکن مجھے یہ امداد بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں سہولیات اور ضروریات کی ترقی پر خرچ کرنے دو۔ اپنی پرانی صنعتی مشینیں ہمیں دے دو۔ پرانے چھاپہ خانے ہمیں دے دو۔ کتابیں سستی کرنے کے لئیے جدید ٹکنالوجی دو۔اور اپنے جاسوس طیارے ، ہیلی کاپٹر اور میزائل واپس لے جاؤ۔ آپ یقین کیجئیے کہ کشت و خوں کے بغیر امن قائم ہو جائے گا۔ اور خود کش حملہ آور پیدا نہیں ہوں گے۔
اگر میری یہ تحریر کسی سیاستدان یا ان کے ورکرز کی نظر سے گزرے تو میری گزارش ہے کہ خدا را اب ہوش کے ناخن لیجئیے ۔ اس ملک کے مسائل کا از سر نو جائزہ لیجئیے اور امریکا کی خوشنودی کی بجائے اپنے عوام کی بھلائی کے لئیے کام کیجئیے۔اور اپنے من پسند لیڈروں کو بھی اس پر مجبور کریں۔

آپ نے کبھی محاورہ نہیں سنا ۔ چور کا ساتھی چور نہیں تو گرہ کٹ ؟


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: