Archive for ستمبر, 2007

وقت نہیں !!!!

Posted on 29/09/2007. Filed under: شعروادب |

ہر خوشی ہے لوگوں کے دامن میں
پر اک ہنسی کے لئے وقت نہیں
دن رات دوڑتی دنیا میں
زندگی کے لئے ہی وقت نہیں

ماں کی لوری کا احساس تو ہے
پر ماں کو ماں کہنے کا وقت نہیں
سارے رشتوں کو تو ہم مار چکے
ان انہیں دفنانے کا بھی وقت نہیں

سارے نام موبائیل میں ہیں
پر دوستی کے لئے وقت نہیں
غیروں کی کیا بات کریں
جب اپنوں کے لئے ہی وقت نہیں

آنکھوں میں ہے نیند بندھی
پر سونے کے لئے وقت نہیں
دل ہے غموں سے بھرا ہوا
پر رونے کا بھی وقت نہیں

پیسوں کی دوڑ میں ایسے دوڑے
کہ تھکنے کا بھی وقت نہیں
پرائے احساسوں کی کیا قدر کریں
جب اپنے سپنوں کے لئے ہی وقت نہیں

تو ہی بتا اے زندگی
اس زندگی کا کیا ہو گا
کہ ہر پل مرنے والوں کو
جینے کے لئے بھی وقت نہیں

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

احمدی نژاد اور لی بولنگر کے درمیان خطابی مکالمہ

Posted on 28/09/2007. Filed under: دنیا بھر سے, عالم اسلام |

Columbia University

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی میں خطاب کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں کولمبیا یونیورسٹی کے صدر لی بولنگر اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے درمیان ایک تاریخی خطابی مکالمہ سننے کو ملا جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے صدر لی بولنگر

میں مسلمان ملک کے صدر کو دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سب سے بڑا مرتکب قرار دیتا ہوں کیونکہ آپ کے دور میں لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا اورشہری اور سیاسی آزادی پر قدغن لگایا جا رہا  ہے، سچ بولنے کی پاداش میں عوام پابند سلاسل ہیں، طلبا کے خلاف آپریشن جاری ہے اور علما کرام، صحافیوں اور وکلا پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ آپ میں وہ تمام خامیاں موجود ہیں جو کسی ڈکٹیٹر میں پائی جاتی ہیں۔ بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے، خواتین اور ہم جنس پرست خصوصی طور پر آپ کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ دسمبر2005Ø¡ میں آپ نے اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ہولوکاسٹ کی تردید کرتے ہوئے اُسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا، حالانکہ ہولوکاسٹ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی دستاویزی حقیقت ہے اور اِس کو جھوٹ قرار دے کر آپ نہ صرف تاریخ کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ انسانیت کی بھی توہین کررہے ہیں۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی آپ نے دو ہفتے قبل ایک تباہ کن بیان دیا کہ اِسے صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہیے۔ اس بات کے بھی دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ ایرانی حکومت لبنان میں اسرائیل سے برسر پیکار حزب اللہ کی مالی معاونت کر رہی ہے اور اسے ایران ہی نے 1980Ø¡ میں قائم کیا تھا اور اس تنظیم کا قیام حماس اور اسلامی جہاد نامی فلسطینی تنظیموں کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق حزب اللہ کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں Ø%

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

بے نظیر بھٹو کا انداز تکلم

Posted on 27/09/2007. Filed under: سیاست |

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جانشین اور ان کی بیٹی دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کی افتاد طبع میں چار باتیں واضح ہیں۔
١۔ وہ اپنی کامیابی تو اپنے پلے باندھے رہتی ہیں مگر اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا دوش دوسروں کو دیتی ہیں۔
٢۔ وہ ہمیشہ اپنے استحقاق کا تحفظ تو خوب کرتی ہیں مگر انہیں اپنی استعدادی حقیقت محل نظر نہیں آتی۔
٣۔ انہیں قانون اور جمہوریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں مگر وہ اپنے آپ کو انہیں دو عوام کا مربی سمجھتی رہتی ہیں۔
٤۔ اقتدار انہیں بے حد عزیز ہے، اس کے لئے وہ کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں۔
بے نظیر صاحبہ کے بیانات اور انداز تکلم کا بے نظیر مشرف ڈیل زیرو فیصد سے نوے فیصد تک کا جائزہ لے لیں، اس وقفے میں انہوں امریکہ سے آشیرباد حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب جب ڈیل ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو محترمہ نے امریکہ کے سامنے ایک نیا کارڈ پھینکا کہ “ میری حکومت قائم ہونے کی صورت میں، میں عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی یعنی آئی اے ای اے کو تفتیش کے لیے ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی دے دوں گی“
ایسے بیانات سے محترمہ امیج مزید خراب ہو رہا ہے بلکہ اب تو ان کے ووٹر بھی سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ آخر محترمہ امریکہ سے کس قسم کا رشتہ بنانا چاہ رہی ہیں کیونکہ اس طرح کے رشتوں کا تعلق صرف مفادات کی ہڈی تک ہوتا ہے، آج ایک طرف سے ہڈی پڑ رہی تو چچوڑنے والوں کا ہجوم ادھر دکھائی دے رہا ہے، جیسے ہی ہڈی ختم ہوئی ہجوم تتر بتر ہو جائے اور جہاں ہڈی نظر آئی اس طرف کا رخ کرے گا۔ یہی ہوتا آ رہا ہے، یہی ہو رہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

ڈر

Posted on 25/09/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ” اس سے دڑو جو تم سے ڈرتا ہے”

ہمیشہ جاہل عالم سے، بے وقوف عاقل سے، نااہل قابل سے اور کم چور محنتی سے ڈرتا ہے اور ہر وقت اسے نقصان پہنچانے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے خوفزدہ بلی کی طرح اپنے سے بہتر کو نقصان پہنچانے کے لئے کاری ضرب لگانے کی کوشش کرتا ہے اس دوران وہ اخلاقیات و اقدار کو پامال کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتا۔

آجکل ہمارے ملک میں اسی ڈر کا بہت عمل دخل ہے۔ سیاستدان مشرف سے، مشرف سیاستدانوں سے اور عوام مہنگائی سے ڈر رہے ہیں۔

اسی ڈر نے عدالت کے حکم کے باوجود نواز شریف کو ملک بدر کر دیا۔

اسی ڈر کی وجہ مشرف بے نظیر ڈیل نوے فیصد سے واپسی زیرہ پر آ گئی۔

اسی ڈر نے مشرف کو ایک بار پھر چوہدری برادران کا سہارہ لینا پڑا۔

اسی ڈر کی وجہ سے سیاسی گرفتاریاں عمل میں آ رہی ہیں۔

اسی ڈر کی وجہ سے مشرف کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ صدارتی الیکشن کے بعد وردی اتاریں گے۔

یہی ڈر ہر محب وطن پاکستانی کے ذہن میں چھایا ہوا ہے جو پاکستان کی موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں نجانے ڈر اور خوف کے سائے کب ہمارا پیچا چھوڑیں گے اور کب ہم بے خطر اور آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

سا رے گا ما پا SA RE GA MA PA

Posted on 23/09/2007. Filed under: پاکستان |

آج رات زی ٹی وی پر زی ٹی وی کے پروگرام سا رے گا ما پا چیلنج 2007 (Sa Re Ga Ma Pa Challenge 2007) کا ایک سپیشل شو دکھایا گیا جس میں کرینہ کپور (Kareena Kapoor) گیسٹ تھیں، اسی پروگرام کے ذریعے کرینہ کی نئی فلم ‘‘Jab We Met‘‘ کو بھی promote  کیا گیا اور ساتھ ہی لگے ہاتھوں کرینہ کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔
سا رے گا ما پا چیلنج ٢٠٠٧ پروگرام جوں جوں اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اس میں thrill اور tension  کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت اس میں چار گلوکاروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے
١۔ امانت علی
٢۔ انیک
٣۔ راجہ حسن
٤۔ پونم
یاد رہے کہ امانت علی کا تعلق پاکستان سے ہے جو گلوکاری کے میدان میں انڈیا میں اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہیں اور پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل نمبر ون کی پوزیشن لئے ہوئے ہیں۔
اس وقت دیکھا جائے تو اصل مقابلہ پاکستان کے امانت علی اور انڈیا کے انیک کے درمیان ہی ہے اور اگلے پرگراموں میں یہ مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے اس وقت انہیں آپ کے ووٹ کی اشد ضرورت ہے، انہیں ووٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔

پروگرام کی چند تصویری جھلکیاں
 

اسی حوالے سے ایک پوسٹ .  ہیرو ہنڈا سا رے گا ما پا چیلنج

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عام آدمی

Posted on 21/09/2007. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست, طنز و مزاح |

ابے او عام آدمی کیوں صبح صبح چیخ رہے ہو آرام سے بات نہیں کر سکتے کیا؟

میں چیخ نہیں رہا جناب، آج ایک ماہ بعد آپ سے ملنے آیا، اسی لئے پوچھ رہا ہوں کہ آپ بجلی کا بل کیسے دیتے ہیں اگر دیتے ہیں تو گھر کا خرچہ کیسے چلاتے ہیں؟

میرا گزارہ ہو جاتا ہے میں تمھاری طرح عام آدمی نہیں ہوں۔

آلو کس بھاؤ خریدتے ہیں؟ پھر وہی عام انسانوں جیسی چھوٹی بات، آلو بھی خرید لیتے ہیں۔

گھر کا خرچہ؟

تمہیں صبح صبح کیا ہو گیا ہے؟ انسان اتنے دنوں بعد ملتا ہے تو ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتا ہے، اپنی خیریت سے آگاہ کرتا ہے، ملکی حالات پر بات کرتا ہے، تم نے آتے ہی عام آدمی جیسے سوالات شروع کر دئیے۔

کیا کروں جناب، نہ حال احوال کا ہوش ہے، نہ ملک سے دلچسپی بس پریشانی کھائے جا رہی کہ بجلی کا بل کیسے ادا کروں گا اگر وہ دے دوں تو گھر کی دال روٹی کا کیا ہو گا، روٹی کھائی تو بچوں کی فیس، ماہ رمضان ہے حکومت نے عام استعمال کی اشیاء کو سستا کرنے کا اعلان کیا ہے مگر بازار جاؤ تو ٹماٹر، آلو، گھی، چینی، آٹا غرض ہر چیز کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں، سحری کریں تو افطاری کے لئے کچھ نہیں ہوتا، افطاری کر لیں تو سحری کے لئے کچھ نہیں بچتا، آگے عید آ رہی ہے بچوں کے کپڑے اور جوتے خریدنے ہیں پریشانی ہی پریشانی ہے، ایسے حالات میں کسی بات کا کہاں ہوش رہتا ہے۔

تمہیں پتہ ہے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کی تاریخ دے دی ہے اور خیر سے ہمارے صدر مشرف صاحب ایک بار پھر صدر بننے جا رہے ہیں۔

میری بلا سے صدر مشرف بنے یا مولانا فضل الرحمٰن مجھے اس سے کیا فرق پڑے گا، کیا اس سے میری آمدنی میں اضافہ ہو جائے گا یا خوردنوش کی اشیاء سستی ہو جائیں گی؟

ہٹ عام آدمی، جاہل، گنوار!!! تم نے آج کا اخبار پڑھا ہے؟

نہیں، کیوں؟

امریکہ افغانستان اور عراق میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے؟

تو کیا کروں؟

مقابلہ کرو!!!

ٹماٹر میں خرید نہیں سکتا امریکہ کا مقابلہ کیسے کروں۔

دیکھ لینا ایک دن امریکہ تباہ ہو کر رہے گا۔

اس سے میرا بجلی کا بل ادا ہو جائے گا یا معاف کر دیا جائے گا؟

عام آدمی واقعی گھٹیا سوچ کے مالک ہوتے ہیں اور تم بھی ٹہرے ایک عام آدمی! میں تاریخ بدلنے کی بشارت دے رہا ہوں اور تم اپنی دال روٹی میں پڑے ہو، اپنے اندر ایک عظیم قوم والی خصوصیات پیدا کرو۔

عظیم قوم میں کیا خصوصیات ہوتی ہیں؟

ان کے اردے بلند اور کردار مضبوط ہوتے ہیں اور وہ دشمن کے آگے جھکنے سے انکار کر دیتی ہیں۔

عظیم قوم روٹی بھی کھاتی ہیں؟

وہ تو ہر کوئی کھاتا ہے۔

عظیم قومیں وہی بنتی ہیں جو مسائل میں نہیں جھکڑی ہوتیں، میں بجلی کا بل ادا کرتا ہوں تو بچوں کی فیس نہیں بچتی، فیس دیتا ہوں تو گھر کی دال روٹی کی فکر کھائے جاتی ہے، میری کمر روز بروز بڑھتی مہنگائی نے جھکا دی ہے، آپ دشمن کے آگے نہ جھکنے کی بات کرتے ہیں، مجھ سے تو سیدھے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔

یہ سب تمھارے لیڈروں کا قصور ہے جو اس ملک کو لوٹ رہے ہیں۔

جو لیٹرے ہیں انہیں پکڑا جائے میری جیب پر کیوں ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے؟

تم نے انہیں ووٹ جو دئیے تھے؟

کہاں دئیے جناب! بس ایک بھٹو کو ووٹ دیا تھا اسے پھانسی پر چڑھا دیا گیا اس کے بعد ووٹ دینے سے توبہ کر لی، ساری عمر مہنگائی سے لڑتے گزری مجھے تو ووٹ کا ہوش ہی نہیں رہا، میرے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں کہ لیٹرے کون ہیں اور کون نہیں؟

تو اتنے وزرائے اعظم کہاں سے آئے، تمھارے جیسے دوسرے عام آدمیوں نے انہیں ووٹ دئیے ہوں گے؟

اللہ جانے کہاں سے آئے کیونکہ بھٹو کے بعد تو اقتدار کا فیصلہ کبھی ووٹروں نے کیا ہی نہیں۔

سب لیٹرے ہیں۔

میں مان لیتا ہوں سب لیٹرے ہیں مگر مجھے سزا کیوں مل رہی ہے؟

تمہیں کیا سزا مل رہی ہے؟

کوئی ایک سزا ہو تو کہوں! میں اپنے آئینی حقوق لے نہیں سکتا کیونکہ رشوت دینے کی مجھ میں سکت نہیں ہے، میں کسی ناظم کی مدد نہیں مانگ سکتا کیونکہ وہ میرے ووٹ سے بنا ہی نہیں، میں لازمی اشیائے ضرورت کے روز بروز بڑھتے ہوئے نرخوں پر اجتجاج نہیں کر سکتا کیونکہ حکومت الیکشن میں مصروف ہے، سیاستدان مشرف فوفیا میں مبتلا ہیں وہ سپریم کورٹ کی نہیں مانتے مجھ غریب کی کیا سنیں گے۔ میرا بچہ قتل ہو جائے تو میں قاتلوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ میرے پاس پولیس اور عدالت کا خرچ نہیں، میں بس میں کھڑے ہو کر سفر کرتا ہوں کیونکہ سیٹ چھین لینے کی مجھ میں طاقت نہیں، یہ سب کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے، جن لیڈروں کے جرائم آپ بتا رہے ہیں ان کا کیا بگڑا؟ سبھی آزادی سے اندرون و بیرون ملک مزے کر رہے ہیں اور میں آزاد ہوتے ہوئے بھی ایک قیدی کی زندگی گزار رہا ہوں، اؤ! ٹائم ہو گیا آج آخری تاریخ ہے مجھے بجلی کا بل ادا کرنا ہے، اگر آج ادا نہ ہوا تو میرے گھر کا بجلی کا میٹر کاٹ دیا جائے گا پھر واپڈا کے دھکے کھانے پڑیں گے میرے پاس تو کوئی سفارش بھی نہیں، اچھا اللہ حافظ پھر ملیں گے۔

اللہ حافظ عام آدمی بشرط زندگی پھر ملاقات ہو گی۔

 

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تونسہ بیراج Taunsa Barrage

Posted on 18/09/2007. Filed under: ڈیرہ نامہ |

پاکستان میں بیشمار بیراج ہیں، جن میں چند مشہور جناح بیراج، چشمہ بیراج، گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج شامل ہیں۔ تونسہ بیراج کالا باغ ہیڈ ورکس سے ٨٠ کلو میٹر جنوب کی طرف دریائے سندھ پر واقع ہے جو کوٹ ادو شہر سے ١٨ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ پاکستان کا پندرھواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے۔ اس کی تعمیر پر ساڑھے بارہ کروڑ روپے صرف ہوئے تھے، اس سے دو نہریں نکالی گئی جن میں سے ایک نہر مظفر گڑھ اور دوسری ڈیرہ غازی خان کو سیراب کرتی ہے۔ بلوچستان کی خشک سالی دور کرنے کے لئے تونسہ بیراج سے ابھی حال ہی میں سوا تین ارب روپے کی لاگت سے ٥٠٠ کلومیٹر طویل ‘کچھی کینال‘ نامی ایک اور نہر نکالی گئی۔ جس سے سات لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے۔
تونسہ بیراج سے نکالی گئی ان نہروں سے نہ صرف لاکھوں ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے بلکہ کئی دوسرے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی تکمیل سے ڈیرہ غازی خان تک جانے کے لئے خشکی کا راستہ نکل آیا اور پختہ سڑک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان کا دوسرے حصوں سے براہ راست تعلق قائم ہو گیا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی خوش قسمتی ہے کہ تونسہ بیراج جیسا عظیم الشان منصوبہ ١٩٥٨ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ پل کے نیچے پانی بڑی تند و تیزی سے رواں دواں ہے۔ پل کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے، دوسرے کئی افادی اور تفریحی مقامات بھی موجود ہیں۔ دریائے سندھ پر اس وقت تک جتنے پل تعمیر ہوئے ہیں ان سب میں سے عظیم الشان پل تونسہ بیراج ہے۔
تونسہ بیراج کا کام ١٩٥٤ء کو شروع ہوا اور ١٩٥٨ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا، افتتاح ١٩٥٩ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم نے کیا تھا۔ پل پر فٹ پاتھ (دونوں سائیڈوں پر) چھ چھ فٹ ہے۔ سڑک کی چوڑائی ٢٢ فٹ ہے۔
ڈیرہ غازی خان محکمہ انہار کے (ریٹائرڈ) سرکل ہیڈ ڈرافسٹمیں خان خدا بخش خان کے مطابق تونسہ بیراج کے نقشہ جات اور ڈیزائن کی تیاری میں تقریبا پانچ برس کے عرصہ تک میں نے بیراج کے مختلف حصے اور ریگولیٹر کے نقشے ڈیزائن انجیئر آئی اے خالق اور ڈائریکٹر محی الدین خان کی سرپرستی میں تیار کئے تھے جبکہ میرے ساتھ سب انجیئر یعقوب خان مرحوم اور ہیڈ ڈرافسٹمیں بشیر حسین شاہ مرحوم بھی میرے ساتھ کام کرتے تھے۔ مجھے اس کارکردگی کے صلے میں ١٩٥٩ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے بیراج کی افتتاحی تقریب میں میڈل سے نوازا اور ایک ایک میڈل سب انجیئر اور ہیڈ ڈرافسٹمین کو بھی عطا کیا گیا جبکہ پہلا میڈل پی ایس ای لنک (بمقام بلوکی) ١٩٥٣ء کو منسٹر آف ایریگیشن سردار محمد خان لغاری کے دور حکومت میں عطا کیا گیا تھا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پاکستان اور سعودی حکمران

Posted on 14/09/2007. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست |

کنگ سود

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف دس ستمبر کو وطن پہنچنے پر توقع کے مطابق ایئر پورٹ ہی سے سعودی عرب روانہ کر دیے گئے۔ چند ہفتے قبل عدالتِ عظمٰی کے فیصلہ کے بعد نواز شریف نے پاکستان واپس آنے کا اعلان کیا تھا۔
مشکلات کا شکار مشرف حکومت نے خود کو ایک اور سیاسی بحران میں پا کر سعودی حکومت سے رابطہ کیا۔ ابتدائی طور پر سعودی ردِ عمل زیادہ واضح نہیں تھا۔ لیکن ستمبر کے پہلے ہفتے میں سعودی ترجمان کے بیان اور پھر پرنس مقرن اور سعد حریری کی پاکستان آمد سے آئندہ واقعات کا رُخ بڑی حد تک طے ہو گیا۔ بلکہ سعودی مداخلت کے پسِ پردہ کارفرما بین الاقوامی جادوگر کی شناخت بھی مشکل نہ رہی۔
پاکستانی عوام کا عمومی سیاسی رویہ حقائق کی بجائے جذباتیت سے عبارت ہے۔ لیکن سعودی عرب کے بارے میں تو یہ جذباتیت مذہبی عقیدت کو جا پہنچتی ہے۔ حالانکہ اس تعلق کی تاریخ مذہبی رشتے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
سنہ انیس سو دس میں سلطنتِ عثمانیہ کے جنوب مشرقی کونے میں ایک لق و دق صحرا تھا۔ خلیج فارس اور بحیرہ قلزم کے درمیان واقع اس خطے پر دو حکومتیں قائم تھیں۔ نجد کا حاکم ابنِ سعود انگریزوں کا حامی تھا جب کہ حجاز کا حکمران شریفِ مکہ عثمانی ترکوں کا اتحادی تھا۔
پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کو شکست ہوئی اورخلافت کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ حجاز کے حاکم شریفِ مکہ کی کیا حیثیت تھی۔ حجاز پر ابنِ سعود نے قبضہ کر لیا۔
سنہ انیس سو بتیس میں حجاز اور نجد کو ملا کر سعودی عرب نامی ملک کا اعلان کر دیا گیا۔اس مملکت کے قیام میں مقامی سمجھوتہ عبدالوہاب کے پیروکار مذہبی پیشواؤں سے تھا اور سیاسی سرپرستی برطانیہ بہادر کی تھی۔ سنہ انیس سو تینتیس میں ابنِ سعود نے امریکی کمپنی آرامکو کو ساٹھ برس کے لیے سعودی عرب میں تیل کی تلاش پر اجارہ داری سونپی۔ تفصیل کا یارا نہیں، عبدالعزیز ابنِ سعود کی شخصی اور سیاسی قامت جاننا ہو تو چرچل کی خود نوشت کے متعلقہ حصے پڑھ لیں۔
ہندوستانی مسلمان تحریک خلافت کی دُنیا میں بستے تھے۔ ترکی خلیفہ کے ساتھی شریفِ مکہ کی شکست پر بہت جزبز ہوئے۔ عبدالوہاب کے پیروکاروں نے مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کر دیں تو بےچینی اور بڑھی۔ بالآخر خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز روانہ کیا گیا۔
وفد میں دیگر افراد کے علاوہ نامور صحافی ظفر علی خاں بھی شامل تھے۔ جنہوں نے ارکانِ وفد کی مخالفت کے باوجود ابنِ سعود سے تنہائی میں ملاقات کی اور واپس آ کر خلافت وفد سے الگ رپورٹ پیش کی۔ دو جملے ملاحظہ ہوں۔’خالص دینی زاویۂ نگاہ سے عبدالعزیز ابنِ سعود میرے نزدیک دنیائے اسلام کا بہترین فرد ہے ۔۔۔ وہ ایک روشن ضمیر مدبر، الوالعزم جرنیل، خدا کا سپاہی، معاملہ فہم حکمران، پُرجوش مذہبی مبلغ اور قوم کا سچا خادم ہے۔‘
اس رپورٹ کے بعد مسلمانانِ ہند میں پھوٹ پڑ گئی۔ خلافت کمیٹی اور مجلسِ احرار پنجاب کے راستے الگ ہوگئے۔ مولانا ظفر علی خاں نے نیلی پوش تنظیم بنا لی۔ مولانا داؤد غزنوی کے خانوادے کی آلِ سعود سے یاد اللہ کے ڈانڈے بھی اسی مناقشے سے ملتے ہیں۔
ابن سعود کی کھلی حمایت پر مؤرخ رئیس احمد جعفری کے مطابق، ظفر علی خان کو بھاری معاوضہ ملا۔ اسی رقم کی تقسیم پر جھگڑے میں مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک نے زمیندار سے الگ ہوکر سنہ انیس سو ستائیس میں ’روزنامہ انقلاب‘ نکالا تھا۔
سنہ انیس سو اڑتالیس میں سعودی عرب جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا۔ جیسے تھرپارکر میں جاگیردار مزارعوں سے مونچھ ٹیکس وصول کرتے ہیں، جدہ بندرگاہ پر حاجیوں سے چھ سو پچاس روپیہ فی کس حج ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔
سعودی عرب کی مسکین اور پسماندہ حکومت کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ یہی حج ٹیکس تھا۔ پچاس کی دہائی میں تیل کی آمدنی شروع ہوئی تو حج ٹیکس بھی ختم ہوا۔
سنہ انیس اکہتر میں پاکستان تقسیم ہو گیا۔ پٹ سن کی کھڑی فصل کو دسمبر انیس سو اکہتر کا پالا مار گیا۔ اب نہ بانس کے پتوں کی ٹوکری تھی، نہ بانس کی بنی ماچس۔ کاغذ کے ٹکڑے پہ موم جما کر گندھک کا بلبلہ رکھا جاتا تھا۔ کئی برس اس موم لگی تیلی سے روشنی کرتے رہے ۔ تجارت کا خسارہ بڑھنے لگا۔
سرگودھا، پسنی اور سوات میں ماؤں کے بچے ابھی باقی تھے۔ یہی تجارت کی جنس ٹھہری۔ عرب کے صحراؤں میں تیل نکلنے سے دولت کا چشمہ پھوٹ بہا تھا۔ ہمارے میٹرک فیل ہزاروں کی تعداد میں کام آئے۔ پیسہ وافر، سیاسی حقوق زیرو، قانون نامعلوم، محمد دین اور دین محمد دونوں خوش۔
سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں سعودی عرب کی کھلی مداخلت بھی شروع ہوئی۔ شاہ فیصل کی سیاسی بصیرت کا تقاضا تھا کہ پاکستان سے آنے والے ہزاروں نیم تعلیم یافتہ مزدوروں کو درہم و دینار کے علاوہ نظامِ اسلام کی افیون مفت بانٹی جائے۔
خدشہ یہ تھا کہ پاکستان میں تو عوام ووٹ کا حق مانگتے ہیں۔ وکیل بات بات پہ سڑکوں پہ آجاتے ہیں۔ صحافی سینہ تان کر حکومت مخالف اداریے لکھتا ہے۔ بچیاں یونیورسٹیوں میں تعلیم پاتی ہیں۔ عورتیں دفاتر میں کام کرتی اور سڑکوں پہ کار چلاتی ہیں۔ ایک بوڑھی عورت ایوب خان کے مقابلے میں انتخاب لڑتی ہے۔
مال روڈ پہ سلطانہ پشاوری سرِشام رقص کناں ہوتی ہے۔ لاہور میں حبیب جالب نظم لکھتا ہے تو سکھر میں شیخ ایاز ظلم کرنے والوں کی خبر لیتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ سستے پاکستانی مزدوروں کے ساتھ جمہوریت اور جدیدیت جیسی برائیاں بھی سعودی عرب میں چلی آئیں۔
پاکستان کا مسکین مزدور ٹھیک ہے لیکن پاکستان کا زندہ سیاسی ڈھانچہ اور کھلکھلاتا معاشرتی نظام درست نہیں۔ انہیں اُٹنگے پاجامے، داڑھی، لٹکواں لبادے اور منکوحہ حجاب کی خوراک درکار ہے۔ یہ مرگِ مفاجات پاکستانی غریبوں نے جاپانی ٹیپ ریکارڈر اور کھجوروں کے ہمراہ برداشت کی۔
فروری سنہ انیس سو چوہتر میں لاہور کی اسلامی کانفرنس کا میلہ بنگلہ دیش تسلیم کرنے کے لیے سجایا گیا تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات کا تقاضا تھا کہ پاکستان ’بنگلہ دیش نامنظور‘ کے بےمعنی جھگڑے میں الجھنے کی بجائے مستقبل کی فکر کرے۔
چنانچہ کوئی پچپن ملکوں کے سربراہ پاکستان پہنچے۔ اسلامی دنیا کا راگ بار بار الاپا گیا۔ بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ، شالامار میں شیخ مجیب اور سٹیڈیم میں کرنل قذافی۔ اس بارات کا دولہا شاہ فیصل تھا۔ جمیل الدین عالی کے ترانے ایسے بلند آہنگ تھے کہ کسی نے پاکستانی خیمے میں گھستے عربی اونٹ کو دیکھا ہی نہیں۔
ہفت روزہ اکانومسٹ نے فروری سنہ انیس سو چوہتر میں لکھا کہ ’سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔‘
ربوہ کے ریلوے سٹیشن پہ نشتر میڈیکل کالج کے طابعلموں کا جھگڑا تو کہیں تین ماہ بعد ہوا۔ خادمِ حرمین شریفین کا حکم واضح تھا۔ دستور میں پہلی ترمیم کے ذریعے پاکستانی ریاست نے احکامِ الٰہی کی تشریح کا بیڑہ اُٹھا لیا۔
سنہ انیس سو ستتر میں بھٹو صاحب کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک پاکستان کا داخلی سیاسی تنازعہ تھا۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ریاض الخطیب تھے۔ بھٹو صاحب نے اُنہیں پاکستان کے داخلی سیاسی مکالمے میں ثالث بنایا۔ اُن کے اپنے ملک میں نہ حزبِ اقتدار نہ حزبِ اختلاف۔ بھٹو صاحب مذہب کے نام پر خطرناک کھیل کھیل رہے تھے۔
افغانستان میں روسی فوجیں اُتر آئیں۔ ضیاءالحق معاملہ فہم تاجر تھا۔ طے پایا کہ امریکہ افغانستان کے بھاڑ میں جو ڈالر جھونکے گا، سعودی عرب اس میں برابر کا حصہ ڈالے گا۔ پاکستانی مذہبی مدرسوں کو افغان جہاد میں اہم کردار دیا گیا تھا۔
سعودی عرب نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اپنے پسندیدہ فرقے کو دل کھول کر پیسہ دیا۔ سنہ انیس سو ستتر میں پاکستان میں مذہبی مدرسوں کی تعداد پانچ سو سے کم تھی۔ آج پاکستان میں مدرسوں کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے جن کی اکثریت اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔
ضیاءالحق کی موت کے بعد بےنظیر وزیر اعظم ہوئیں تو قدامت پسند سعودی حلقوں کی بےچینی قابلِ دید تھی۔ بےنظیر نے خود بیان کیا ہے کہ سنہ انیس سو نواسی میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اسامہ بن لادن مالی اعانت کر رہے تھے، بلکہ اسامہ نے تو انہیں ہلاک کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔
اسامہ کی سعودی حکومت سے مخاصمت تو پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر شروع ہوئی۔ سنہ انیس سو نواسی میں تو وہ سعودی ہیرو تھے۔ اکتوبر انیس سو چھیانوے میں بےنظیر کا تختہ الٹنے کی کوشش میں بھی عورت دشمن بین الاقوامی مذہبی حلقے ملوث تھے۔
سنہ انیس سو نوے سے دو ہزار دو تک پاکستان میں فرقہ ورانہ قتل وغارت میں محتاط اندازے کے مطابق پانچ سے چھ ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ باخبر حلقوں کے مطابق فرقہ وارانہ خونریزی کے اس کھیل میں شیعہ ایران اور سنی سعودی عرب نے پاکستان کو میدانِ جنگ بنا رکھا تھا۔
یہ لڑائی گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعات کے بعد ہی دھیمی پڑ سکی۔ اس دوران پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے کل تین ملک تھے۔ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد پاکستان ہی نے اپنی پالیسی نہیں بدلی، سعودی حکومت نے بھی یہی کیا۔
پاکستانی حکومت اور نواز شریف میں معاہدہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھا، لیکن قانون سے قطع نظر، اس میں نواز شریف بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنی پاکستانی اور سعودی حکومتیں۔ نواز شریف نے مانا ہے کہ انہوں نے سعودی حکومت کی ماورائے قانون مداخلت تسلیم کی تھی۔
ان دنوں تو لاہور اور ملتان کے بازاروں میں ان کے حامی کھکھلا کر کہتے تھے کہ نواز شریف کو مدینے والے نے اپنے گھر بلایا ہے۔ تب سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے سعودی عرب جانا نواز شریف کی مجبوری تھی۔ اب وطن واپس آنے کی کوشش سیاسی حالات کا تقاضا ہے، لیکن اس بیچ حکومت کی مجبوری آن پڑی ہے کہ انہیں ایک پھر مدینے والا بلا لے۔
یہ سعودی مداخلت کا گلا کرنے کا مقام نہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس بار کس کس کو بلایا گیا ہے۔ فی الحال تو نواز شریف جدے بیٹھے ہیں۔

بحوالہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

زندگی کیا ہے؟

Posted on 13/09/2007. Filed under: اسلام, تاریخ, رسم و رواج |

زندگی کیا ہےعموماً یہ سوال ہم اپنےآپ سےکرتے ہیں اور پھر اِسکےکسی خاص تسلی بخش جواب کی تلاش میں بظاہر اُلجھ سے ہی جاتے ہیں۔ کوئی اِسکو سفر، کوئی عمل تو کوئی کچھ اور ناموں سےنوازتا ہے۔ زندگی عمل کا ہی نام ہے، جب مسلسل عمل میں ٹھہراؤ آ جائے تو انقلاب برپا ہو کر ایک نئی زندگی کےعمل آغاز ہوتا ہے اور اگر مسلسل عمل میں رکاوٹ آ جائے تو بیزاری رونما ہو جاتی ہے، جو اختتام بھی ہوسکتی ہے۔
زندگی کےتین مراحل ہیں: دُنیاوی زندگی کی حیاتی، قبر کی زندگی کا دور اور آخروی زندگی، قبر اور آخروی زندگی ہماری دُنیاوی زندگی کےاعمال پر depend کرتی ہے۔ تبھی اس زندگی کو حیات کہتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں ہمارے اپنے اپنے نظریات اور ایک اللہ کا فرمان ”اعمال کے مطابق فیصلہ ہوگا“۔ اعمال کیا ہیں؟” دوسروں کےساتھ برتا گیا رویہّ، اعمال یہ بھی ہے اللہ کےاحکام کےساتھ اختیار کیا گیا عمل“۔
دُنیاوی زندگی میں ہم اللہ کی تلاش بھی کرتے ہیں اور اللہ کہتا ہے کہ میں شہ رگ سے بھی قریب ہوں تو پھر اللہ کو قربت میں ہی تلاش کرنےکی کوشش کریں۔ اللہ کی تلاش انسانیت کی فلاح کےنتیجےمیں ہے۔ اللہ کے بندوں سے محبت کرے اللہ سے تلاش کی منزل مل جائےگی۔ ہم روزمرہ میں” جس سےمحبت کرتے ہیں تو اُسکی محبت سے بھی محبت کرتے ہیں۔ اللہ اپنی مخلوق سےمحبت کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں بھی اللہ کی مخلوق سے محبت کرنی چاہیے“۔ ہماری یہ محبت ہمیں اللہ سے قریب کر دے گی۔ دُنیا کے نزدیک ہماری زندگی گھاٹا ہوگی، نقصان تصور ہوگی۔ جب اُس ذات کی جانب سے ہمیں فیض، رازِ حقیقت نصیب ہو پاتا ہے۔ تو پھر ہمارا وجود عِلم (انجام معلوم) ہونےکے باوجود اللہ کی راہ میں سرِخم تسلیم ہوتا ہے۔ اذیتیں، مصائب برداشت کرلینا، آزمائشوں کےکٹھن راہ سےگزرنا اِس محبت کا ایک حصہ ہوتا ہے۔
اکثر سوال اُٹھاتے ہیں، اُلجھتے ہیں مگر جواب نہ تو اکثر ہمیں واضحتاً سلجھائی دیتا ہےاور نہ ہی سجھائی۔ اللہ والےسب کچھ جانتے ہوئے بھی تکالیف کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔ واقعہ کربلا میں کیوں پیاروں کےساتھ ایسا ہوا، امام ابو حنیفہ کو قید میں کیوں ڈالا گیا۔ کچھ باتیں اللہ کی مشیت ہوتی ہیں۔ اُن پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اللہ والےجانتے ہوئے اللہ کے فیصلے کو خاموشی سے بخوشی تسلیم کر تے ہیں۔ وُہ راہ خاموش ضرور ہوتی ہے مگر وُہ خود ایک زندگی ہوتی ہے۔ ہماری زندگیوں کےلئے اِک رہنمائی پیش کرتی ہیں۔
انبیاءعلیہ السلام کی زندگی اسطرح کی خاموشی کا حصّہ رہی ہے۔ حضرت موسٰی، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت یوسف بظاہر تو تکالیف کا شکار اور آزمائشوں کا حصّہ رہےمگر یہ سب ہمارے سامنے ہیں کہ یہ مشیت الٰہی تھا۔ مجدد الف ثانی کا اکبر کےدور میں قید میں ڈال دیا جانا اور پھر قید سےنکال دیا جانا اللہ کی خاص منشاء تھی۔ حضرت یحیی، حضرت عیسٰی بھی اللہ کی خاص مشیت کا حصّہ بنی، واقعہ کربلا بھی یہی ہے۔ (ذرا غور کیجئیے، کتنا کچھ اِس بات میں پنہاں ہے) ابھی اِس منشاء کا ظاہر ہونا باقی ہے۔ اِن کا ایک پہلو اُجاگر کیا گیا ہے۔ باقی بے شمار اعلیٰ پہلو اجاگر ہو کر نمایاں ہونا باقی ہیں۔
مکّہ کی تکالیف اللہ کی حکمت سے تھیں، جو مدینہ کی زندگی کا باعث بنی۔ بس یہ اللہ کےمعاملات ہیں۔ جو عیاں ہونا باقی ہیں۔ بس ہماری حدود تک ہمیں فہم عطاء کر دیا جاتا ہے۔

زندگی تکالیف کا نام نہیں بندوں سےمحبت کا عمل ہے

جب ہمیں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے تو ہمیں اللہ کےسواء کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ہر رنگ میں اللہ کا رنگ ہی محسوس ہوتا ہے۔ تب ہمارے لئے کوئی بات نفع یا گھاٹا نہیں ہوتی۔ بس ایک ہی شے پیشِ نظر ہوتی ہے  “ اللہ کی محبت“ اور اللہ نے اپنی محبت کا طریقہ بتا دیا۔” اللہ سےمحبت اللہ کےرسول سےمحبت، اللہ اور اُسکے رسول کی خوشنودی اللہ کی مخلوق سےمحبت “۔ یہی ہماری زندگی کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ”محبت سےمراد اللہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ یہی ہماری زندگی اور یہی ہماری زندگی کا حاصل“۔
جسکو اللہ سےقربت حاصل ہوجائے، وُہ اُس قربت کو لوگوں سے چھپاتا ہے۔ ایک ملامتی فقیر نے اپنی موج میں آکر بیان کیا، ”نبی کے لئے نبوت کا اظہار لازم  ہےاور ولی کے لئے ولائیت چھپانا ملزوم“(١)۔
حوالہ جات: (١) فرمائش مرتبہ اعجاز الحق صفحہ٥٥

(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا۔ اس کا تمام تر سہرا اور کریڈٹ عام مسلمانوں کو جاتا ہے جو آج بھی عقیدہ ختم نبوت پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

سلام ہے ختم نبوت کے ان پروانوں پر

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہذا اب ٥ جولائی ١٩٧٧ کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا۔

حصہ اول ابتدائیہ

١۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
(١) یہ آرڈیننس قدیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود موثر ہوں گے۔

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم
٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات ٢٩٨۔ب اور ٢٩٨۔ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیراتپاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں، دفعہ ٢٩٨ الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی ۔۔۔
٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال
(١) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔
(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے یا۔
(د) اپنی عبادت گاہ کو ‘مسجد‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

(٢) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔

٢٩٨۔قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ٩٩، الف میں، ذیلی دفعہ (١) میں
(الف) الفاظ اور سکتہ ‘اس طبقہ کے‘ کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جا کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف ‘٢٩٨۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف‘ یا دفعہ ٢٩٨۔ب یا دفعہ ٢٩٨۔ج‘ شامل کر دئیے جائیں گے۔ یعنی ۔۔

 

8 7 6 5 4 3 2 1
ایضاً تین سال کےلئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً ایضاً بعض مقدس شخصیات کےلئے مخصوص القاب، اوصاف اور خطابات وغیرہ کا نا جائز استعمال ٢٩٨۔ب
ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ٢٩٨۔ج

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...