بے نظیر بھٹو کا انداز تکلم

Posted on 27/09/2007. Filed under: سیاست |

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جانشین اور ان کی بیٹی دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کی افتاد طبع میں چار باتیں واضح ہیں۔
١۔ وہ اپنی کامیابی تو اپنے پلے باندھے رہتی ہیں مگر اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا دوش دوسروں کو دیتی ہیں۔
٢۔ وہ ہمیشہ اپنے استحقاق کا تحفظ تو خوب کرتی ہیں مگر انہیں اپنی استعدادی حقیقت محل نظر نہیں آتی۔
٣۔ انہیں قانون اور جمہوریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں مگر وہ اپنے آپ کو انہیں دو عوام کا مربی سمجھتی رہتی ہیں۔
٤۔ اقتدار انہیں بے حد عزیز ہے، اس کے لئے وہ کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں۔
بے نظیر صاحبہ کے بیانات اور انداز تکلم کا بے نظیر مشرف ڈیل زیرو فیصد سے نوے فیصد تک کا جائزہ لے لیں، اس وقفے میں انہوں امریکہ سے آشیرباد حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب جب ڈیل ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو محترمہ نے امریکہ کے سامنے ایک نیا کارڈ پھینکا کہ “ میری حکومت قائم ہونے کی صورت میں، میں عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی یعنی آئی اے ای اے کو تفتیش کے لیے ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی دے دوں گی“
ایسے بیانات سے محترمہ امیج مزید خراب ہو رہا ہے بلکہ اب تو ان کے ووٹر بھی سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ آخر محترمہ امریکہ سے کس قسم کا رشتہ بنانا چاہ رہی ہیں کیونکہ اس طرح کے رشتوں کا تعلق صرف مفادات کی ہڈی تک ہوتا ہے، آج ایک طرف سے ہڈی پڑ رہی تو چچوڑنے والوں کا ہجوم ادھر دکھائی دے رہا ہے، جیسے ہی ہڈی ختم ہوئی ہجوم تتر بتر ہو جائے اور جہاں ہڈی نظر آئی اس طرف کا رخ کرے گا۔ یہی ہوتا آ رہا ہے، یہی ہو رہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔

 

Advertisements

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

5 Responses to “بے نظیر بھٹو کا انداز تکلم”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

frishta koi bee nahin hai, is galt fahmee main na raheeay ga.

zara batayeeay konsee party hai jispay yeah chaar point apply nahain hotay?

محترمہ کی بات اگر امریکہ میں سنی جاتی ہے تو اس کی وجہ محترمہ کے پاس ووٹ بینک کا ہونا ہے. تھنک ٹینکس ان کی بات سننے نہیں آتے وہ پاکستانی عوام کی نمائندہ سیاسی جماعت کی لیڈر کی بات سننے آتے ہیں.

محترمہ کی مشرف سے ڈیل اگر ہوجاتی تو ملک موجودہ سیاسی بحران کا شکار نہ ہوتا اور مشرف کی وردی بھی اتر جاتی.

ڈاکٹر قدیر خان تک آئی ای اے ای کو رسائی دینے میں کوئی برائی نہیں. آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آپ کا ملک ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے عالمی برادری کے تئیں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے حوالے سے ایک کمٹمنٹ رکھتا ہے. جسے پورا کرنا ہمارے لئے ازبس ضروری ہے.

محترمہ پہلے کئی بات اخباری بیانات میں اپنے پہلے دور حکومت میں خراب گورنینس پر عوام سے معافی مانگ چکی ہیں.

آپ کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دیگر پاکستانی سیاستدانوں کی طرح محترمہ نے مشرف دور میں کبھی نان ایشوز پر سیاست نہیں کی. نہ ہی دیگر پاکستانی سیاستدانوں کی طرح ان کی سیاست مشرف دشمنی کے گرد گھومتی ہے. ان کے پاس موثر پلان ہیں اور وہ یہی پلان مشرف اور امریکہ کو پیش کرتی ہیں اور ایسا کرنے کا انہیں حق پاکستانی عوام نے دیا ہے جو انہیں لاکھوں کی تعداد میں ووٹ دیتے ہیں.

آج اگر وہ امریکہ میں تقریر کرتی ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ان کے پاس موثر پلان ہے. ان کے پاس ایک واضح فارن پالیسی ہے ایک جامع منشور ہے. وہ مشرف حکومت کی اقتصادی اصلاحات کو جاری رکھنے کی بات کرتی ہیں. اور دو بار پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی خاتون سے آپ کبھی یہ امید نہیں کرسکتے کہ اس سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کوئی خطرہ ہوگا.

محترمہ کا اندازہ کلام مدبرانہ نہیں سیاسی ہے. وہ اپنے مخاطبیں بیرونی طاقتیں، فوج، پاکستانی عوام کو اپنا پلان آف ایکشن بتارہی ہیں. جمہوری معاشروں میں اسے الیکشن مہموں کا حصہ سمجھا جاتا ہے.

Nice to read this. Let u read about Benazir and Qadeer on this post as well. http://www.chowrangi.com/benazir-and-qadeer.html

نعمان نے فرمایا

محترمہ پہلے کئی بات اخباری بیانات میں اپنے پہلے دور حکومت میں خراب گورنینس پر عوام سے معافی مانگ چکی ہیں.

افسوس صد افسوس اس سوچ پر۔

ہمارے پیارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جا سکتا ۔ (الحدیث)

آئیے ذرا اس فرمان کی روشنی میں اپنے ایمان کا جائزہ لیں کہ دوبار تو ہم پہلے ہی دونوں بلکہ کئی لٹیرے سیاستدانوں کے ہاتھوں لُٹ چکے ہیں۔ اور اب جبکہ ان کے پاس کوئی ایشو نہیں رہا تو بجائے شرمندہ و نادم ہوکر عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے ، محترمہ نئے دوپٹے اور محترم نئے بالوں کے ساتھ عوام کے سامنے جلوہ گر ہوکر کمال ڈھٹائی سے فرماتے ہیں
“ہم اپنی سابقہ غلطیاں تسلیم کرتے ہیں، معافی مانگتے ہیں“ اور آئندہ سے لوٹ مار کرنے کے لیے پھر سے ہمیں موقع دیجئے۔

اور میرے نعمان بھائی جیسے سادہ لوح عوام پھر سے انہی کی جھولیوں میں بیٹھنے کے لیے بےتاب و بےقرار نظر آتے ہیں۔

آخر کب تک ہم انہیں سانپوں کے ہاتھوں ڈسے جاتے رہیں گے ؟؟؟؟؟؟

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: