Archive for اکتوبر, 2007

ایس ایم ایس بدعا

Posted on 31/10/2007. Filed under: موبائیل زون |

‘‘ اللہ سے دعا‘‘

جو مجھے بھول جائے

اس کا موبائیل ٹوٹ جائے

چارجر جل جائے

اس کی سم بلاک ہو جائے

اس کا ایس ایم ایس کام نہ کرے

اسے لوکل کال پر رومنگ پڑے

مس کال کرے تو موبائیل ہینگ ہو جائے

سافٹویئر اڑ جائے

ڈسپلے ڈم ہو جائے

ہمیشہ کارڈ ڈالتا رہے

اور کارڈ بھی جلدی ختم ہو جائے ۔۔۔۔۔! (آمین)۔

 

 

مزید ایس ایم ایس کے لئے یہاں کلک کیجیئے

Advertisements
Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

بندر کے ہاتھ میں ماچس اور۔۔۔

Posted on 31/10/2007. Filed under: طنز و مزاح |

کارٹون ۔۔۔ مزمل اقبال

اخبار ۔۔۔ معلوم نہیں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

میاں عبدالباری

Posted on 30/10/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

تحریک پاکستان کے سرفروش اور کفن بردوش رہنما میاں عبدالباری مرحوم جب انگریز گورنر کی برطرفی کے مطالبہ کے سلسلے میں ١٩٤٩ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں کراچی گئے۔ میاں صاحب نے جب وزیراعظم کے سامنے جب اپنا نقطہ نظر بیان کیا تو لیاقت مرحوم نے سب سے پہلے انہیں خان ممدوٹ اور حمید نظامی کے اشاروں پر رقص کرنے کا طعنہ دیا۔ جب یہ وار خالی گیا تو لیاقت علی خان نے میاں صاحب کو سیدھا سادھا مولوی سمجھ انہیں ان کے موقف سے ہٹانے کے لئے گورنری، وزارت اور سفارت جیسی مقناطیسی پیشکش کی لیکن اس مرد قلندر نے ایک لمحہ تامل کے بغیر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور لیاقت علی خان کو غضبناک لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا۔

خان صاحب ۔۔۔۔ آپ ایک درویش سے اس کی درویشی چھین لینا چاہتے ہیں باری بکاؤ مال نہیں ہے اور آپ باری کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی آمرانہ چلن بدلیں اور جماعت کو اپنی زرخرید لونڈی بنانے کی بجائے جمہوری اصولوں کے مطابق اس کو قوت حاکمہ کا درجہ دیں اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ باری آپ کے راستے سے خودبخود ہٹ جائے گا۔

نوٹ۔ اس وقت آپ مسلم لیگ کے صوبائی صدر تھے۔

افسوس پاکستان میں جمہوری اصولوں کی سربلندی اور اسلامی قوانین کے نفاظ کا خواب دیکھنے والے میاں عبدالباری ٢٨ اکتوبر ١٩٦٨ء کو ایک ایسی دنیا میں چلے گئے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔

اس وقت کی موجودہ سیاسی جماعتوں کو دیکھیں تو ١٩٤٩ء سے ٢٠٠٧ء تک کچھ نہیں بدلا، وہی آمرانہ چال چلن، وہی سیاسی ہتھکنڈے۔ وہی نورا کشتی۔ آج آمریت کی گود میں بیٹھ کر جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے سامنے کوئی دیوار نہیں ہے کاش ہر سیاسی جماعت میں میاں عبدالباری ہوتا جو ان آمریت پسندوں کو للکارتا مگر

وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیئے

ڈھونڈا تھا آسمان نے جنہیں خاک چھان کر

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

کون ہوں میں؟

Posted on 29/10/2007. Filed under: شعروادب |

مجھے نہیں خبر ۔۔۔۔
کون ہوں میں ۔۔۔۔؟
کیا میں چودھویں کا چاند ہوں
یا ۔۔۔ اماوس کی رات!
میں عشق کا عین ہوں
یا ہوں فراق کی بات!
قہقوں کی کوئی گھڑی!
یا اشکوں کی اک لڑی
کوئی حسیں سا خواب!
یا اک مستقل عذاب
کوئی بند کتاب ہوں
یا ۔۔۔ بولتا ہوا پہلا باب ہوں!
آہ و بکا کرتی تصویر ہوں
یا رنگوں کی ڈھلتی تحریر ہوں!
میں سراسر اندھیرا ہوں
یا ۔۔۔ پیکر سویرا ہوں!
کوئی ہے جو میرا پتہ لا دے
مجھے، مجھ تک پہنچا دے

غلام فاطمہ شاہ ۔ ڈیرہ غازی خان

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

گونگوں کا شہر

Posted on 29/10/2007. Filed under: شعروادب |

 کچھ نہ پوچھو کہ یہ شہر گونگوں کا ہے
لوگ سن کر بھی یاں کچھ نہیں بولتے
دیکھتے ہیں مگر لب نہیں کھولتے
ان کو ڈر ہے یہی، وہ جو بولے کبھی
ان کی آواز بھی
ان صداؤں میں شامل کہی جائے گی
ہم نے گر کچھ کہا (ان کو ڈر ہے یہی)
نام ان کے تبھی
ان گواہوں کی فہرست میں خودبخود
لکھ لئے جائیں گے
جو کہ حق کی گواہی میں مارے گئے
سچ کی دیوی کے چرنوں پہ وارے گئے
اس لئے لوگ یاں سچ نہیں بولتے
دیکھ کر بھی زبانیں نہیں کھولتے
ہم کہ اس شہر میں
زہر امروز پی کر
اگر چپ رہے
کل ہماری نسوں میں یہی زہر
آگ بن کر اتر جائے گا
پھر یہ آتش فشاں
خامشی کے نشاں
کون جانے کہ کب پھٹ پڑیں
کون لیکن سنے ہم اگر کچھ کہیں
اس لئے چپ رہیں
کچھ نہ بولیں کہ یہ شہر بہروں کا ہے
کچھ نہ پوچھیں کہ یہ شہر گونگوں کا ہے

عائشہ نگہت

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اور لائن کٹ گئی

Posted on 27/10/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

ایک پاکستانی اخبار ‘نوائے وقت‘ روزانہ ایک ایک دن گن کر ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم من حیث القوم انتہائی بے حسی کا شکار ہیں، کیونکہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے ہالینڈ کی نسبت پاکستان کو ترجیح دی اور دن رات انتھک محنت کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت کا نام دیا۔ انہیں ان کی ناقابل فراموش خدمات کے صلے میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ نوائے وقت کے مطابق آج ان کی بے قدری کو ١٣٤٢ دن ہو گئے ہیں۔

کچھ دن پہلے مولانا کوثر نیازی مرحوم کی کتاب ‘اور لائن کٹ گئی‘ میرے مطالعے میں رہی، اسی کتاب کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیئے۔

ڈاکٹر قدیر نے وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو فون پر اطلاع دی کہ وہ ہالینڈ واپس نہیں جا رہے بلکہ پاکستان ہی میں رہ کر یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ لگائیں گے۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، انہوں نے میز پر اپنے مخصوص انداز میں مکہ مارت ہوئے کہا۔۔ ”I WILL SEE THE HINDU BUSTARDS NOW”

بھٹو کی بیٹی کا یہ بیان پڑھیئے کہ

اقتدار میں آ کر عالمی ایٹمی ایجنسی کو ڈاکٹر قدیر تک رسائی دوں گی۔

مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ یہ اسی بھٹو کی بیٹی کے الفاظ ہیں جس کا چہرہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رضا مندی کا سن کر خوشی سے دمک اٹھا تھا۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم ‘اور لائن کٹ گئی‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

میرا یقین ہے کہ کوئی بیرونی قوت کتنی ہی بااثر کیوں نہ ہو حالات پیدا کرنے کی اہل نہیں ہوتی، حالات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ بیرونی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے ماتحت ان سے فائدے اٹھاتی ہیں۔

آج ایک بار پھر ‘مفاہمت‘ کے ذریعے ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں جس سے  بیرونی قوتیں کھل کھیل کر اپنے اپنے مفادات کے تحت فائدے اٹھا سکیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

اے امریکہ، اے امریکہ

Posted on 26/10/2007. Filed under: شعروادب |

کیوں ہے تو اسلام کا دشمن، کیوں ہے درپے امت مسلم
کیوں مطلوب ہوئی ہے تجھ کو، میرے وطن پہ خون کی رم جھم

پڑے گا خون ہمارا مہنگا
اے امریکہ، اے امریکہ

جرعے تیری ‘ایڈ‘ کے ہیں، ملکوں کے حق میں زہر پیالے
تیرے فاسد خون سے، جسم نوع انسانی پہ چھالے

تیری محبت کا پھل پھیکا
اے امریکہ، اے امریکہ

کہتے ہیں آزادی ملت، شیندوا ہیں تیرے ڈالر
سبق پڑھائے جو صیہونی، تو کرتا ہے اس کو ازبر

مت بن اسرائیل کا کھونٹا
اے امریکہ، اے امریکہ

پیٹا ہے تو ڈھول ہمیشہ حفظ حقوق انسانی کا
نسل کشی ہو گر مسلم کی، چھٹ جاتا ہے ڈول کا چوبہ

ہو جاتا ہے تجھ کو سکتہ
اے امریکہ، اے امریکہ

دہشت گرد و جنگجو مسلم، نام ہمارے تو نے رکھے
ٹکسال پرانی باطل کی ہے جس میں ڈھلے ہیں یہ نئے سکے

اب نہ چلے گا تیرا سکہ
اے امریکہ، اے امریکہ

ہم غازی بن کر اٹھے ہیں، تو لاکھ کہے جا دہشت گرد
گلزار بنائیں گے دنیا، کر دیں گے آتش باطل سرد

تو ہے ان سراب ہم دریا
اے امریکہ، اے امریکہ

مادے کی تو ریت پر قائم، ہم روحانی بنیادوں پر
تو ہے لٹو چھلکے پر، ہم رس اور گودے کے خوگر

تو ہے پتھر ہم ہیں تارا
اے امریکہ، اے امریکہ

کیا دبدبہ تیری قوت کا، کیا تیرے عزائم کا دم خم
گر جذبہ ایمان پیدا ہو، ہر فرد ہمارا ایٹم بم

یہ ہے خالق کل کا وعدہ
اے امریکہ، اے امریکہ

مت بھول کہ تو ہے لاوارث، وارث ہے ہمارا رب علٰی
ہے تل ابیب کا تو بردہ، ہم شاہ طیبہ کا ترکہ

تیری جبین پر غیر کا ٹیکہ
اے امریکہ، اے امریکہ

اک دیو استبداد ہے اس کے پیچھے شعلے برساتا
یہ نظام نو کا منصوبہ ہے کالا دھوئیں کا پردہ

ہم ہیں حقیقت، تو ہے دھوکا
اے امریکہ، اے امریکہ

لالہ صحرائی
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ٹو ان ون

Posted on 26/10/2007. Filed under: بلاگ اور بلاگرز |

کچھ کہے، لکھے بغیر تین لنک حاضر ہیں، دیکھیئے اور فیصلہ کیجیئے۔

اردو تعلیم

شیعہ شناشی

پاکستانی بلاگ کا لنک ” آئیے ماتم کریں

مکی بھائی کہاں ہیں آپ؟

 

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو پکارے ہائے گل میں چلاؤں ہائے دل

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

پی ٹی سی ایل کی نئی پالیسی

Posted on 25/10/2007. Filed under: ٹیکنالوجی |

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق ملک بھر میں پی ٹی سی ایل نے چودہ سو روپے یا اس سے زائد اوسط ماہانہ بل والے ٹیلیفون کنکشنز پر جواب دینے والی (آنسرنگ ) مشینیں لگا دی ہیں۔اس سے جس ٹیلیفون پر کال کی گئی ہو تو کال مصروف ہونے کی صورت میں مشین آگاہ کرے گی کہ صارف جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کال کا بل کال کرنے والے صارف کو ادا کرنا پڑے گا۔ اس طرح کال وصول نہ کرنے کی صورت میں بھی صارف کو بل ادا کرنا پڑے گا۔

پی ٹی سی ایل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ٹیلیفون صارفین کی رضامندی حاصل کئے بغیر یہ جواب دینے والی مشینیں لگا دی ہیں جس کا مقصد  پی ٹی سی ایل کی آمدنی میں غیرقانونی طور پر کئی گنا اضافہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی پی ٹی سی ایل ملک بھر میں ‌ڈائل اپ کالز کا دورانیہ کم کر کے 15 منٹ کرنے کا فیصلہ لیا ہوا ہے جس کے تحت انٹرنیٹ صارفین کو اب 15 منٹ کی کال چارج ہو گی اور فی کال چارجز 2.1 روپے ہوں گے۔ پی ٹی سی ایل کی نج کاری کے بعد نئی انتظامیہ صارفین کے لئے مسلسل تکیف دہ فیصلے کر رہی ہے۔ پی ٹی اے کو ان فیصلوں کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ پی ٹی سی ایل کے ان فیصلوں سے ٹیلیفون کے عام صارفین  پر غیرضروری اور غیرقانونی بوجھ  پڑ  رہا  ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

مثبت انداز

Posted on 24/10/2007. Filed under: رسم و رواج |

مثبت رویہ ہی مثبت انداز ہوتا ہے۔ جو ہمیں مثبت سوچ عطا کرتا ہے۔ مثبت انداز سے دیکھیئے تو ہمارا ہر قدم نیکی بھی ہے۔ نیکی نیک عمل ہے، کسی کی خدمت کرنا، ضرورتمند کی حاجت روی کردینا، صرف بات سن لینا بھی نیکی ہے، مسکراہٹ سےکسی کو دیکھ لینا بھی ایک اچھا عمل ہے۔ یہ بات ہماری سوچ پر منحصر ہےکہ ہم کس عمل کو کیا ٹھہراتے ہیں۔ایک معاملہ بظاہر اچھا ہوتا ہے، کچھ بظاہر بُرے تو نظر آتے ہیں مگر اُن میں بھی اچھائی کا پہلو ہی ہوتا ہے۔
ہمیں مثبت رویےسمجھنےمیں دقت نہیں ہوتی، اگر جاننےکی کوشش کریں۔ ”حقیقت کےقریب رہیں گےتو ہر عمل کی حقیقت آشکار ہوگی"۔ حقیقت سے فرار اندھیرے کی تلاش میں راہ فرار ہے۔ “جس میں بھٹکنا ہی بھٹکنا ہے۔ مثبت انداز کیا ہے؟ مثبت انداز یہ نہیں کہ ہر چیز کو ایک زاویہ سے دیکھو۔ مثبت انداز یہ بھی ہے کہ ہر معاملہ کو حقیقت سے بھی دیکھنے کی کوشش کریں، مفاد کی مقدار کو count کبھی نہ کریں۔ نماز پڑھ لینا ایک عمل ہے، نیک عمل۔ مگر نمازیں گنی (تعداد شمار) نہیں جاتیں۔ اگر شمار کرنےکیroutine بنا لے تو کچھ نہ کچھ ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے بظاہر کچھ اثر انداز نہ ہو، تاثیر متاثر ہو سکتی ہے جو کوئی مثبت انداز نہیں۔ یونہی کہتے ہیں نیکی جتاؤ مت، روپیہ گننے سےکم لگتا ہے۔ گننا عمل ہی ایسا ہے جو گنگنانا لگتا ہے۔ جس سے شمار کی مقدار روز بروز کم محسوس ہوتی ہے اور ہم ذہنی طور depress (ذہنی تناؤ) ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
ہم کسی سے وعدہ کرتے ہیں، وعدہ کو آخری لمحے تک نبھانا، قول پر قائم رہنا، باوجود اِس عمل کے دوران کئی کٹھن آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑے اور اُف تک نہ کہی، بس صبر کے ساتھ اپنی بات کو پورا کرنےکی سعی کرنا۔ تو وعدہ کی تکمیل ہمیں ثابت قدم انسان تو بناتی ہی ہے۔ ہمارا یقین بھی اللہ کی ذات پر متزلزل نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ مستحکم رہتا ہے۔اس تمام مرحلہ کہ دوران اللہ کی ذات کا ساتھ اور خاص کرم ہمارے ساتھ رہتا ہے۔

کچھ لوگ ہمیں استعمال کرتے ہیں اور ہم جانتے نہیں، مگر کبھی ہم جانتےہوئے، خود کو استعمال کرواتے ہیں مگر استعمال کرنے والا یہ نہیں جانتا۔ استعمال ہو جانا اور کر جانا تو ایک جانب کی بات ہوئی۔ مگر خود سے کر کے ہو جانا ایک اور طرح کی بات ہے۔ ایک کا نام مفاد ہے، ایک مفاد پہ مفاد ہوتا ہے، اور ایک کا نام مفاد کے نام پر خلوص ہوتا ہے، اور ایک کا نام مفاد کے نام پر خلوص دے دینا۔ مگر کہیں خلوص دے کر مفاد لے لینا بھی ہوتا ہے۔ بس انجانے میں رکھنا مفاد کی بات تو ہے، مگر خود کو انجان پیش کر کےمفاد دے دینا اور خلوص کے نام پر قربانی کا نظریہ پیش کرنا دراصل خدمت انسانیت ہے۔ جو اللہ اور اُسکےرسول کی قربت کا ذریعہ ہے۔

کچھ افراد ہمیں نادان جان کر سمجھتے ہیں کہ وُہ ہم سےفائدہ اُٹھا رہے ہیں، ہم کہتے ہیں کوئی فائدہ اُٹھاتا ہے تو اُٹھا لے بلکہ اُسکی ذات کا بھلا ہوتا ہے تو یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے۔

عید کا دِن مثبت روز ہوتا ہے۔ اِس روز انسان اپنا رویہ، انداز اور سوچ مثبت ترین رکھتا ہے۔ وُہ ذہنی آسودگی اور قلبی سکون کی کیفیات محسوس بھی کرتا ہے۔ عید کےروز کسی سےملتے وقت صرف ایک روز  کے لئے تمام کدورتیں اور نفرتیں جب نکال ڈالتے ہیں تو وُہ مثبت کیفیات کا اثر صرف وہی انسان جان سکتا ہے جو اختلافات وقتی طور پر ہی سہی، بھلا تو دیتا ہے۔
والدین کا رویہ اپنی اُولاد سے ہمیشہ مثبت ہوتا ہے۔ والدین کا پیار ایک مثبت عمل، اسی طرح بچہ کی شدید ترین غلطی پر سرزنش مثبت عمل تو نہیں مگر مثبت نتیجہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کوئی پیارا شخص مسلسل غلطی دہراتا ہی جائےاور بات سمجھنے کی کوشش نہ کرے تو پیار کرنے والا وہ بات اپنے منفی رویہ و عمل سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی کی اصلاح کی خاطر بوجھ و سمجھ رکھتے ہوئے غلط اور منفی رویہ اختیار کر لینا۔ نتائج سے با پرواہ ہو کر بھی، خود کو ظالم دُنیا کی نگاہ میں ثابت کرنا۔ کوتاہ اندیش کو مظلوم کردینا، حقیقتاً شدید ترین منفی عمل ہے۔ چونکہ وہ عمل احساس غفلت، احساس ندامت اور اصلا ح کی غرض سے کیا گیا ہے۔ تو وہ عمل منفی ہوتے ہوئے بھی مثبت سوچ اور مثبت خیال کے لئے مثبت ہے۔ دراصل وہ معاملہ کئی افراد، نسلوں کے لئے درس بھی ہے۔ تاکہ آئیندہ ایسی کوتاہی وجود پذیر دوبارہ نہ ہوسکی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ ہمیں سمجھانے کے لئے کوئی منفی رویہ اختیار کرتا ہے۔ ہم منفی عمل کو مثبت انداز میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بلکہ اُسکو مزید منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور برسوں کی دوریاں خود ساختہ شدید اختلافات کے باعث پیدا کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے والدین ہم سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اور خطرناک غلطی  پر مار بھی پڑتی ہے۔ مخلص دوست ہم  سے محبت کرتے ہیں، اپنی جان نثار بھی کرتے ہیں مگر ہماری ضدی بےرُخی پر وُہ ہمیں نفرت کرکے بتلاتے ہیں کہ یہ اچھی چیز نہیں ہوتی۔ اور ہم ترجمہ آستین کے سانپ کا کر لیتے ہیں۔ جبکہ اُسکی نفرت ہمیں محبت ہی سکھا رہی ہوتی ہے۔
کہتے ہیں جیسی سوچ ویسا خیال ہوتا ہے۔ مثبت سوچ والا انسان تعمیری انسان ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اچھائی کی تلاش کرنی چاہیے۔ یہ ہماری ترقی کی شاہراہ کی شہ رگ ہے۔
مثبت انداز ہے کیا؟ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں، علم پھیلانےسےاضافہ ہوتا ہے، دولت ضرورتوں (ذاتی ضرورت، ضرورتمند کی بے لوث مدد) پر خرچ کرنے سے بڑھتی ہے، محبت نفرتوں کو مٹانے سے قائم رہتی ہے۔ اختلافات کو آپس میں discuss کر لینا مناسب ہوتا ہے ورنہ غلط فہمیاں ہی رہتی ہیں، مل کر بیٹھ کر بانٹ کر کھانا چاہیے۔ مثبت سوچ یہ ہےکہ  ”اللہ کی مصلحت اسی میں ہے“ ، برے وقت میں حالات خراب کہنے کی بجائے ”اللہ کی جانب سے آزمائش ہے اور اللہ اس آزمائش میں سرخرو فرمائے“  کسی کو مورد الزام  ٹھہرانے کی بجائے اللہ  کی ذات پر بھروسہ کرنا۔ کسی سےبدلہ یا انتقام لینے کی بجائے ترقی کی سوچ رکھنا اعلٰی ظرفی ہے۔ مثبت رویہ یہ ہے کہ کسی کو بری یا شک کی نگاہ سے نہ دیکھنا، بلکہ  ہر اِک کو اچھی رائے اور اعتماد کی فضاء مہیا کرنا۔ ”فلاں یہ کہہ رہا تھا“ ایک منفی رویہ ہے، ہر گھریلو اور تعلق کے جھگڑے کی بنیاد یہی جملہ ہوتا ہے۔ ”ہمیشہ اپنی بات پیش کریں۔“
بغض، حسد، کدورت، کینہ، نفرت میں بربادی ہی بربادی ہے۔ مگر رشک ایک خوشگوار تمنا ہے۔ آگ لگانے کی بجائے، گلشن میں پھول کا کھلنا اور خوشبو کا معطر ہونا ہے۔ بس ہماری منفعت مثبت ہونا ہے منفیت میں سوائے راکھ کےکچھ نہیں۔
ایک معاملہ مثبت تنقید بھی ہوتا ہے۔ تنقید ہونا جائز ہے مگر جس پر تنقید کی جائے تو اُسکی ذات سے نفرت نہ کی جائے۔ اُسکےطریقہ کار یا بات سے اختلاف بہت سو کا ہوسکتا ہے۔ یونہی ہمارے اختلاف علمی بنیادوں پر، عملی رویوں سے، مذہبی مسائل پر، مسلکی معاملات کی بناء پر ہوسکتے ہیں۔ مگر اِن تمام افراد کا احترام لازم ہے۔ کیونکہ یہ تمام مذہبی و علمی افراد ہمارے لئے قابل احترام شخصیات ہوتی ہیں۔ اختلاف اپنی جگہ، احترام اپنی جگہ ضروری ہوتا ہے۔ کسی پر تنقید ضرور کریں مگر بے بنیاد الزام تراشی، غلیظ کیچڑ مت کسی پر اُچھالیں۔ اگر کسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو رائے کا اظہار ضرور کیجیئے مگر respect کےدامن کو ہرگز مت چھوڑیئے۔ والدین ہمارے لئے قابل احترام ہوتے ہیں۔ ہم اکثر اُنکی پالیسیوں، حکمت عملی سے اختلاف ضرور رکھتے ہیں۔ اُن کےساتھ اختلاف کا اظہار ہم مکمل احترام کے ساتھ کرتے ہیں مگر اُنکی ذات کے بارے میں نفرت کا پہلو بھی نہیں رکھتے۔ اِسی طرح تمام علماءکرام کا احترام  بھی ہمیں کرنا چاہیے۔ مجھے واصف صاحب کا ایک جملہ کچھ یوں یاد آن پڑا ”برے کی برائی سے نفرت کرو، ذات سےمت کرو۔“
مثبت اور منفی سوچ  ہے کیا؟ تعمیری اور تخریبی عمل اور اُنکے پہلو۔ ایک شخص سے اُسکے رشتہ داروں نے اُسکی جائیداد اور مال دھوکہ سے چھین لیا۔ تو وُہ اگر اسکو اللہ  پر چھوڑ  کر یا درگزر کر کے اپنی ایک نئی محنت کا آغاز کرتا ہے اور انتقام کا جذبہ نہیں رکھتا۔ تواللہ اُسکو اور عطاء کر دیتا ہے، مثبت سوچ۔ اللہ اُسکو اتنا عطاء کر دیتا ہے کہ چھیننے والا پھر اُسکا محتاج  ہی رہتا ہے۔ اور پھر بھی وُہ چھیننے والےکی مدد ہی کرتا ہے مگر اُس کی ذات پراعتماد نہیں کرتا۔ مگر انتقام کا جذبہ منفی عمل ہے یہ نفرت کی جنگ وُہ اپنی اُولاد کو بھی وراثت میں منتقل کر دیتا ہے۔ اور یوں وُہ خاندان آپس کے جھگڑوں میں اُلجھا رہتا ہے اور ترقی کی راہ میں یہ رکاوٹ حائل رہتی ہے۔ یوں صرف تباہی ہی تباہی ہے۔ شاہین اور کرگس (گدھ) دونوں بلند پرواز ہیں۔ شاہین کی خوبی اُسکی نگاہ کی کوئی حد نہ ہونا ہے۔ وُہ راستے اور منزلیں explore کرتا ہے۔ اُسکی منزل آگے ہی آگے بڑھنا ہے۔ اُسکی منزل چھوٹی اور معمولی بات پر جھگڑا نہ پیدا کرنا ہے اور نہ ہی اُلجھنا۔ اُسکا مقصد مزید سے مزید آگے بڑھتے ہوئے ترقی ہی ترقی کرنا ہے۔ کرگس کی خامی یہ ہے کہ اُسکی نگاہ ہمیشہ زمین پر موجود مردار پر ہے۔ اُسکی توجہ پرواز کی بلندی نہیں۔ مردار کا گوشت ہے۔ یہی ہمارے مثبت اور منفی رویوں، اعمال، خیالات، پہلوؤں اور سوچ کا فرق ہے۔
ہمیں اپنے کردار کو اچھے سے اچھا بنانےکی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسروں کو دیکھ کر اُن سے ہمیں اچھی باتیں اور معاملات کو سیکھنا اور عمل کرنا چاہیے نہ کہ دوسروں کو دیکھ کر اُنکے کردار و عمل میں صرف خامیاں ہی تلاش کریں، کردار کی الزام تراشیاں کریں۔ کسی کو منفی نگاہ سے دیکھنا گھٹیا ترین عمل ہے۔ تخلیق کار کا منفی عمل اپنے دماغ کو بڑا دماغ سمجھنا ہے۔ میرے بڑےکہتے ہیں ”ہر باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُسکی اُولاد میں اُسکی تمام خوبیاں موجود ہوں، مگر خامی کوئی نہیں۔“
Negative Apporach یہ ہے کہ منفی معاملات کونہ جاننا Positive Approach یہ ہے کہ منفی معاملات سے آگاہی ضرور ہو۔ مگر منفی معاملات کا حصہ نہ بنیں۔ ہم کسی کو برائی سے تب تک روک نہیں سکتے، بچاؤ کے لئے سمجھا نہیں سکتے جب تک اُس کو ہم جانتے نہ ہوں۔ ورنہ وُہ کتاب کی تھیوری تو ہوسکتی ہے، مگر practicle نہیں۔ وقت کےساتھ زمانہ بدلتا ہے، ادوار بدلتے ہیں اور ضرورتِ اشیاء بدلتی ہیں۔ یوں ہمیں بھی ان منفی معاملات سے آگاہ ضرور ہونا چاہیے۔ کیسے جانے گے ہمیں کوئی دھوکہ دیتا ہے۔ تو دھوکہ سے بچنا کیسے ہیں۔ کسی کی بات کے پیچھےکیا چال ہے، کیا جھانسہ ہے۔ تو اِس کے لئے بہت زیادہ positive ہونا بھی خطرناک ہوتا ہے۔ دُنیا میں زندہ رہنے کے لئے ہمیں منفی معاملات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ بہت زیادہ positive رہنا بھی اپنےساتھ ظلم ہے۔ مراد کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل، کوئی عمل کرنے سے پہلے اُسکے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں، حالات و واقعات کا جائزہ لےلینا ضروری ہوتا ہے۔ ہر ایک پر اعتماد  بھی تو نہیں کیا جاتا۔ کچھ لوگ عمر بھر کے لئے قابل اعتماد ہوتے ہیں اور کچھ لمحہ بھر کے لئے بھی قابل اعتماد نہیں ہوتے۔
ایک بات مثبت اور منفی سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ اور وُہ ہے غیرجانبداری۔ اصل بات optimistic اور pessmistic سے ہٹ کر حقیقت کے ساتھ رہنا ہے۔ چلیئے آخر میں ایک کہانی ہی سن لیجیئے:
ایک دفعہ ایک شخص اپنے بھائیوں سے ناراض ہوگیا اور اُنکی مالی و کاروباری معاونت چھوڑ دینے کا ارادہ کرنے لگا۔ بھائیوں نے پیغام بھیجا کہ وُہ اس سے ملنے آ رہے ہیں۔ وُہ شخص جان گیا کہ وُہ اُس کو منانے آئیں گے۔ مگر وُہ راضی نہ تھا اُنکے رویہ کے باعث، اُس شخص کے بیٹے نے اپنی ماں سے درخواست کی کہ “امی جان میں تو ابا جان کو براہ راست کہنےکی جرآت نہیں کر سکتا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کے اِس ناراضگی سے ہمیں مالی فوائد حاصل ہوں گے۔ مگر وُہ فوائد ہی کیا جب رشتے ہی ختم ہوں، رشتوں کی جگہ نفرتیں ہوں۔ کل ہم  بھی ملزم ٹھہریں گے کہ اپنے ابا جان کو سمجھایا  کیوں نہیں۔ بیشک اُن کا موقف درست ہے۔ یہ  بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اُنکے تمام خدشات اپنی جگہ بجا اور درست۔ اب تایا ابو جان، چچا جان تشریف لا رہے ہیں۔ تو اباجان کو کہیّے کہ اُنکے بیٹے کی آرزو  ہے کہ وُہ ناراضگی اپنی ختم کر کے اپنے بھائیوں کےساتھ بخوشی راضی ہوجائیں“۔ جب یہ بات والدہ کے طوسل سے اُس والد محترم تک پہنچی ”آپ کا بیٹا آپ سے یہ درخواست آپکی اُولاد کو کی گئی نصیحت کےمطابق کرتا ہے۔ بہن، بھائیوں کا خیال رکھو، اُنکے ساتھ اتفاق اور اتحاد سے رہو، اُنکی باتوں کو درگزر کرو۔ اُسکی نہایت ہی مئودبانہ درخواست ہے کہ آپ (اباجان) بھی اپنے بھائیوں سے راضی ہو جائیں۔“ تو یہ جان کر اُس والد کو بڑی خوشی ہوئی اور پھر سے وُہ خاندان تمام اختلافات بھلا کر یکجا ہوگیا۔ یہاں پر بیٹا اطاعت فرمانبرداری کرتے ہوئے یہ موقف بھی اختیار کر سکتا تھا کہ میرے اباجان ہر حال درست ہیں اور وہ بھی ایک مثبت عمل شمار ہوتا۔ مگر یہاں اُس نےایک مشیر کا فرض بھی بخوبی ادا کیا۔ (فرخ)

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...