بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے

Posted on 06/10/2007. Filed under: شعروادب |

رانا سعید دوشی کی یہ غزل آجکل کے حالات کی کیا خوب عکاسی کر رہی ہے، پڑھیئے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجئے۔

 کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا
مجھے بتایا ہوا ہے میری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا
میرا یہ خون میرے دوستوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا

Advertisements

Make a Comment

اجمل کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

4 Responses to “بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

آپ نے یہ سٹائل شیٹ اپنائی ۔ مبارک ہو

آج کے روزنامہ جنگ میں‌ عطاء الحق قاسمی صاحب کے مضمون میں‌ یہ غزل پڑھی تھی اور بہت پسند آئی تھی۔ بہت ہی عمدہ اور نہایت مہارت سے کہی گئی یہ غزل حالات کی عکاس ہے۔

بہت عمدہ ہے۔

خیر مبارک ۔۔۔۔ بہت شکریہ اجمل صاحب


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: