مربوط سلسلہِ ربط

Posted on 16/10/2007. Filed under: اسلام, تاریخ, عشق ومعرفت |

خدا کی کائنات حُسن کائنات ہے۔ آپ غور کرتے چلے جائیں آپکو جواب ملتے ہی چلے جائیں گے۔ آپ تھک جائیں گے مگرسوال آپکی نگاہوں کے سامنے خود بخود حل ہو رہے ہوں گے۔ یہ خدا کا ایسا مربوط ربط ہے کہ جس میں رابطے ہی رابطےنظر آتے ہیں۔
انسان کےجسم سے لےکر پانی کے بہاؤ تک دارالحکومتوں سے لے کر اللہ  کے ولیوں تک مستقل مربوط ایسا نظام نظر آتا ہے جس میں ذرہ ذرہ رابطے میں ربط ہی پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہر ربط میں مناسب مرکز ہے۔
اِنسانی جسم میں خون پیدا ہوتا ہے۔ جسم کےخلیوں تک خون کا مستقل بہاؤ ہوتا ہے۔ سانس لیتے ہیں ہوا پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ جسم کےخلیوں میں موجود خون کی صفائی و تازگی کا عمل سر انجام ہوتا ہے۔ خوراک کھاتے ہیں ایک ایک خلیہ کو یہ خوراک قوت مہیا کرتی ہے خون کا حصہ بنتی ہے۔ گردے سےفضلہ بھی بنتا ہے۔ ہمارے جسم میں سات گلینڈز بھی اپنے اپنے حصہ کا مخصوص کردار و فعل سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے جسم کے بنیادی مراکز وُہ  سات گلینڈز  کے اعضاء ہیں۔
پانی دریاؤں سے سمندروں میں اپنے مخصوص راستوں سے ہوتا ہوا گرتا ہے۔ کبھی خیال کیا کہ کنواں میں پانی کیسے آیا۔ زمین میں ہر جگہ تو پانی موجود نہیں۔ دراصل یہ قدرتی کارخیزوں کا ایک سلسلہ سا ہی  ہے۔ سمندر میں بھی سمندر ہے۔ زمین میں (زمین کی سطح کےنیچے) بھی دریا، ندی ، نالے ہمارے جسم کی شریانوں اور وریدوں کی ہی طرح بہہ رہے ہیں۔ مثل مشہور ہے ”پیاسا کنواں کے پاس آتا ہے۔“ غور کیجئیے”کنواں پیاسے کے پاس آتا ہے۔“ زمین کے اندر پانی بہہ رہا ہے۔ یہ پانی اسی طرح بہہ رہا ہے جیسےہمارے جسم کی رگوں میں خون بہہ رہا ہے۔ اگر کنواں کی کھدائی بڑی رگوں میں ہوتی ہے تو کنواں پانی سے بھرا رہتا ہے۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔ یہ پانی ہماری شریانوں تک جاتا ہے۔ کبھی غور کیا۔ گندہ  پانی بھی صاف پانی کا حصہ بن جاتا ہے۔ زمین کے نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ تو سمندر کے پانی کےنیچے ایک اور زمین ہے۔ آتش فشاں کا لاوہ بھی تو زمین کے اندر کی نہروں سے ہی جوالا مُکھی کےدامن تک پہنچ کر اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ انسانی جسم کے بے شمار نظاموں کی طرح mix-up نہیں ہوتے۔ مربوطیت قائم رہتی ہے۔
گائے کا دودھ دینے کا عمل کتنا مربوط ہے۔ خون بھی بہہ رہا ہے، چارہ ہضم بھی ہورہا ہے، پھیپھڑے اور گردے بھی اپنا فعل سرانجام دے رہے ہیں، دودھ دینےکا عمل بھی جاری ہے۔ مگر کبھی کوئی چیز آپس میں ملی نہیں۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے۔
تمام شہر مرکزی شہروں سےصرف ربط ہی نہیں ہوتے، مرکزی شہر تمام شہروں کو رابطے میں رکھتے ہیں۔ دارالحکومت ایک ربط کے ذریعے ملک بھر میں اتحاد اور اتفاق کا ربط پیدا کرتا ہے۔ دِل کمزور ہو جائے تو جسم متاثر ہوتا ہے۔ مرکز کے حالات خراب ہوں تو ملک کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اِن مرکزوں کے بھی مرکز ہوتے ہیں۔ جو خطوں کےمراکز کہلاتے ہیں۔ یہاں پر خدا  کا نظام ہے خطوں کے مرکز بدلتے رہتے ہیں کبھی مگدھ کی ریاست مرکز تھی تو کبھی نندا(١) اور پھر دِلی مرکز رہا، مدینہ سے دمشق اور پھر بغداد بنا عظیم مرکز، لندن، ماسکو اور واشنگٹن مرکز رہ چکے، ثمرقند، غزنی، کابل اور استنبول ماضی کا حصہ کا بن چکے، نیا مرکز بھی تو کوئی  ہے کوئی نیا دارالحکومت۔
آپ پاکستان کے نقشہ کو دیکھئیے ہمارے سیاسی مفکر یورپی یونین کی طرز کا ایک وفاقی اتحاد سوچ رہے ہیں۔ کبھی وہ ثقافتی و لسانی مماثلت کی بناء پرسارک کو دیکھتے ہیں اور کبھی ملی و دینی حوالے سےعرب یونین کو سوچتے ہیں، خاموش قوموں کے بغض اور اشخاصیات کے لالچ اقتدار میں کر جاتے ہیں۔ وُہ غلط سوچتے ہیں وہ بیچ میں کچھ بھول جاتے ہیں۔ تاریخ کا جغرافیہ صحیح سمجھ نہیں پاتے۔ اسلام اس خطہ میں مغرب سےآیا تھا مشرق سےنہیں۔ ہندوستان کا سنہری دور مغل دور کہلاتا ہے۔ مستحکم سلطنتیں وسط ایشیاء سےآئی تھیں۔ ہم بیچ کے بےساحل ممالک کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔ اِن خطوں کے جغرافیہ سے ہمارے خطہ کا جو ربط ہے۔ وُہ ایسا مربوط ربط ہے کہ یہ کسی اور خطہ سےمنسلک رہ کر مضبوط نہیں ہوسکتے۔ ان سات ستان (قازقستان، کرغیزستان، اُزبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان) ممالک کی مضبوطی صرف اور صرف پاکستان کی مضبوطی میں ہے۔ ہمیں سیاسی طور پر اِس جانب سوچنا ہوگا۔ یہ بیچ کا وُہ راستہ ہے جس کا تاج ہمیشہ اللہ کی جانب سے ہمیشہ ہمارے سر پر رہےگا۔ بس ہمیں یہاں سوچ کر ایک جلد مضبوط فیصلہ کرنا ہے۔ اِن تمام قوموں کی ایک قومیت ہیں اور مشترکہ قومیت پاکستان ہے اور پاکستان سےمراد اِسلام ہے۔
انبیاء کا سلسلہ چلا۔ اللہ کہتا ہے کہ اُس نے ہر خطہ میں اپنے پیغمبر بھیجے۔ یہ اللہ کا بڑا ہی systematic نظام تھا۔ ہم برصغیر کی تاریخ کو دیکھ لیں تو ہم پر اللہ کی یہ بات کھل جائےگی۔ (آرٹیکل کےاختتام تک بات کو مختلف حوالوں سےسمجھنےکی کوشش کیجیئےگا۔ یہاں صرف اولیاءکرام کا تذکرہ نہیں بلکہ کئی پہلو ہیں جن کو تحریر نہیں کر رہا مگر وہ اس میں موجود ہیں۔) مکہ اور مدینہ سے اسلام بغداد تک جا پہنچا، مرکز بدلا، علم کا گہوارہ  بنا، اُولیاءکرام کی آمد ہوئی۔ حضرت علی کی اُولاد کے ایک بڑے حصہ نے حالات کے باعث خراسان و ہرات ہجرت کیں اور پھر سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ برصغیر پر حملہ آور ہونا اور پھر یہاں خاموشی سےسکونت اختیار کر جانا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے اُولیاءکرام کو برصغیر بھیجا ہر علاقے کےلیئے ایک بڑے ولی اللہ مقرر ہیں ایک انگریز مورخ نےکہا تھا ہندوستان پر کوئی شخص حکومت نہیں کر رہا ایک قبر کر رہی ہے اور وہ مزار شیخ الہند خواجہ معین الدین چشتی کا ہے۔ اسی طرح لاہور میں داتا گنج بخش یہ بڑے نام ہیں۔آپ اُولیا کی تواریخ پڑھیئے تو آپ جانیں گے کہ ہر ولی اللہ نے ہر ولی اللہ کو کوئی نہ کوئی نامزدگی و علاقہ سپرد کیا۔ (ایک مادی حکومت ہے جو بادشاہوں کی ہوا کرتی ہے اور اُولیاء کی یہ روحانی حکومت ہوتی ہے۔) اور یہ سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مربوط نظام ہے کہ ہمارے لیئے راہیں کھلتی ہیں۔
آج کچھ متعصب لوگ لاہور کو ایک عیاش شہر سمجھتے ہیں۔ تقسیم در تقسیم، نظریہ پاکستان پر چند متعصب افراد نے جواب میں لاہور شہر پر جو غلیظ کیچڑ اُچھالا اُنکے لیئےبھی جواب ہے۔
لاہور شہر کے بارہ دروازے ہیں۔ ہر دروازہ کے احاطہ میں کم از کم ایک تکیہ (Rest House) موجود ہے۔ جس کےساتھ اکھاڑی، بیٹھکیں منسلک تھی۔ اِن تکیوں کے میزبان اللہ والے ہوا کرتےتھے۔ یہ سلسلہ کئی صدیاں چلا اب تکییّ ویران ہیں دروازے بھی ویران ہیں۔ اِس شہر میں اُولیاءکرام تشریف لاتے تھے اور اِسکو مسکن بنا لیتے۔ شاہ حسین زنجانی پھر شاہ اسمعیل انکے بعد حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ایک سلسلہِ ربط ہے۔ جو آج تک رُکا نہیں۔ غور کیجئیے شاہ حسین زنجانی کی جس روز وفات ہوئی اُس سےاگلے روز حضرت علی ہجویری اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق لاہور پہنچے تو جنازہ آ رہا تھا۔ آپ شاہ حسین زنجانی کےجنازہ میں شریک ہوئے۔ آپ دونوں پیر بھائی تھے۔
یہ سلسلوں کے ربط سمجھنے کی بات ہے یہ کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ معاملات چلے آ رہے ہیں۔ ہر بڑا بزرگ اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق حکم دیےگئے علاقےمیں قیام پذیر ہوتا ہے۔ بری امام نے چکوال سے اسلام آباد کو اپنا مرکز ِمسکن بنا لیا۔ تخلیق پاکستان کے دوران لاہور شہر میں ادیبوں کا ایک مسکن چل پڑا اور یہ میلا کبھی روحانیت کی صورت میں اور کبھی دینی معاملات کےحوالے سے بڑھتا ہے، اکثر اس میلے میں ادبی رنگ غالب ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبال قدرت اللہ شہاب، واصف علی واصف، اشفاق احمد اور آج غامدی اپنے اپنے رنگ میں محفلیں سجھائے ہوئے ہیں اور یہ محفلیں اس شہر کے اختتام تک جاری رہنی چاہیں۔ اللہ  کرے یہ محفلیں گمنام افراد سے جاری رہے (نامور نام دوسروں کو خوش رکھنےکی خاطر، بات گول رکھتے ہیں۔)
یہ اللہ کے پیدا کردہ سلسلے بڑے ہی نرالے ہوتے ہیں۔ اِن میں بڑا ہی ربط ہوتا ہے۔ اللہ نےہماری تربیت کس طرح کرنی ہے، کون نامزد ہے ہم نہیں جانتے، یہ اُسکےسلسلے ہیں بس وہی جانتا ہے۔
دیکھئیے لاہور شہر کےتکیوّں کا سلسلہ رُکا تو ادیبوں کا اور اللہ والوں کا یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جو شہر لاہور تک محدود نہیں رہا۔ پوری دُنیا کےلیئے یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔
قرآن میں اللہ نےجگہ جگہ اپنےمربوط سلسلہِ ربط کا واضح ذکر کیا۔ گائے سے دودھ  پیدا ہونے کا تذکرہ جو قرآن میں بیان ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ ایک مربوط سلسلہ کا واضح اظہار ہے۔ موسموں کا بدلنا، سورج، چاند کا مقررہ وقت پر حرکت کرنا۔ پہاڑوں ، دریائوں، سمندروں، نباتات، حیوانات اور حیات کے سلسلے اللہ کی قدرت ہی کےمظہر ہیں۔
ہم بس سلسلوں کی کڑیا ں ہیں۔ اپنے اپنے حصہ کا کام کرتے ہیں اور پھر اِس دُنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایک پیدائشی معذور بچہ ہمارے لیئے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ اُس بچے کے ذریعے ہمیں محبت کرنا سکھاتا ہے۔ اُس بچے کی موت ہماری زندگی بدل دیتی ہے۔ وُہ ہمیں انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ وُہ ذریعہ بنتا ہے۔ کہ ہم اللہ اور اُسکے رسول سے محبت، عشق کی صورت میں کرنا سیکھیں۔
بس آپ کائنات کے سلسلوں پر غور کیجئیےگتھیاں سلجھنا شروع ہو جائیں گی۔ آپ یہ جان  پائیں گے کہ زندگی کا اقرار لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ  میں ہے۔ اپنے آپکو اللہ  کی رضا  کے تابع کر لینا۔ اللہ سے راضی ہوجانا۔ ہم اللہ سے راضی تو اللہ ہم سے راضی ہے۔ یہی اصل میں ہمارا مربوط سلسلہِ ربط ہے۔

(١) مگدھ: یہ ہندوستان کی شمالی ریاست کا علاقہ ہے۔
(٢) نندا: سکندر اعظم کے حملہ کے بعد ہندوستان کا دارلحکومت، موجودہ راولپنڈی ڈویژن کا ضلع چکوال کٹاس راج اسی دور سےمتعلق ہے۔

(فرخ)

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

6 Responses to “مربوط سلسلہِ ربط”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

فرخ صاحب نے اچھا مضمون لکھا ہے ۔ ہم تک پہنچانے کا شکریہ ۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے جو سلسلے بنائے ہیں ان کو پوری سائنسی ترقی اب تک مکمل طور پر نہیں سمجھ سکی ۔
فرخ صاحب نے جاوید احمد غامدی کو علامہ محمد اقبال کے مقابلے پر نجانے کیوں کھڑا کر دیا جبکہ دونوں کی سوچیں مختلف ہیں ۔

اجمل صاحب نے لکھا ہے کہ
”’فرخ صاحب نے جاوید احمد غامدی کو علامہ محمد اقبال کے مقابلے پر نجانے کیوں کھڑا کر دیا جبکہ دونوں کی سوچیں مختلف ہیں”’
شکریہ اجمل صاحب، جب سے میں نے یہ کالم پوسٹ کیا ہے آپ کی طرح میں بھی یہی سوچ رہا ہوں، اور مجھے پورا یقین تھا کہ یہاں یہ سوال آپ لازمی اٹھائیں گے، اس لئے میں نے جناب فرخ صاحب کو میل کر دی ہے تاکہ وہ اس کا کچھ تسلی طلب جواب عنایت کر سکیں۔

میں یہ جانتا تھا کہ یہ سوال ضرور اُٹھے گا۔ تبھی میں نے ( ) میں اسکا جواب بھی دیا کہ اللہ کرے یہ سلسلہ گمنام ہاتھوں کے جاری رہے۔ میرا اختلاف غامدی کے رویہ اور نقطہ نظر سے ہے۔ غامدی کی ذات اور علم سے نہیں۔ میں خود بھی ذاتی طور پر غامدی، ذاکرنائیک، اسرار احمد جیسے افراد سے اُُنکے چند معاملات پر متفق نہیں ہوں؛ جسکو متضاد نقطہ نظر کہا جاسکتا ہے، اختلاف بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اُن کا علم مجھ سے بہت زیادہ ہے۔ میں اُنکے پاسوں برابر بھی نہیں۔
غامدی کو میں نے پی-ٹی-وی پر سنا تو اُسکے ہر پروگرام میں ایک مسئلہ محسوس ہوا۔ سوال چاہے روشن خیالی کا ہوتا ہے یا پاکستان کی اسلامی، تہذیبی روایات کی پاسداری کا ہوتا ہے تو غامدی صاحب بات کو بالکل ٹھیک اور خوبصورت انداز میں لے کر چل پڑتے ہیں۔ جب اُنکی بات peakپر جا پہنچتی ہے تو ٹھیک جا رہی ہوتی ہے۔ جونہی peak نیچے آنا شروع ہوتی ہے تو وہ ایسی بات کر جاتے ہیں جو روشن خیال ہو۔ جب کہ وہاں اُنکے وہ ایک یا دو جملے مکمل جانبدار ہوتے ہیں۔ یوں سننے والا اُس بات میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور غامدی کا یہ انداز عام سامعین کی سمت کو غلط سمت پر لے جاسکتا ہے۔ خاصے لوگوں کو confusionکا شکار بھی کردیتے ہیں۔ علم رکھنے والا جانبدار نہیں ہوتا، نہ ہی ابہام پیدا کرتا ہے۔ بلکہ وہ غلط فہمیاں دور کرتا ہے۔
اگر غامدی صاحب کو علمی حوالے سے دیکھا جائے۔ اُنکی علمی قابلیت دیکھی جائے تو میں اُسکا برملا اقرار کرتا ہوں کہ وُہ ایک علمی شخصیت ہیں مگر وُہ اپنے اس انداز جانبداری کے باعث قابل مستند نہیں رہے۔ جبکہ اُنکے قریبی دوستوں اور احباب میں سے بیشتر اپنے اپنے شعبہ کے مستند نام ہے۔ غامدی صاحب پر میں کبھی بھی اپنی رائے نہ دیتا مگر سوال کیا گیا تو جواب دینا ضروری محسوس کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کے طوسل سے میں غامدی صاحب سے یہ درخواست کروں گا کہ وُہ صرف اُن چند جملوں سے اپنی اہمیت کو متاثر نہ کرے۔ اُنکی بات یہی ہوتی ہے کہ تعصب سے ہٹ کر رہو، مثبت انداز سے سوچو مگر اُنکے وہی چند جملے جو ذہن بدلتے ہیں وُہ اُنکی تمام گفتگو کو نفی کردیتے ہیں۔
اب رہی بات مربوط سلسلہ ربط میں غامدی کا تذکرہ کیوں ہوا? اور وہ بھی اقبال کے ساتھ؛ میں نے غامدی کو اقبال نہیں کہا۔ اس سلسلہ کو اُنھوں نے جاری رکھا ہے۔ وہ اقبال نہیں میلہ تو لگنا تھا۔ تو وہ غامدی نے لگا دیا۔ اشفاق احمد اور واصف علی واصف میں بڑا فرق تھا۔ سوچ کا فرق ایک بات ہوتی ہے۔ دونوں کے عمل میں بڑا فرق تھا۔ غامدی کو سلسلے کی ایک کڑی کہا ہے۔ جو سلسلہ چل رہاہے۔ کبھی کبھی نااہل جانشین بھی ہوجاتا ہے۔ اب غامدی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اہل ہے یا نااہل۔ اہلیت غامدی میں ہے۔ بس وہ صحیح سمت پر رہتے ہوئے غلطturnکر کےexpose ہوگئے ہیں۔ جیو پر میں نے اُنکو جتنا سنا اُس پر وُہ mistakesبہت کم کرتے ہیں۔ زیادہ تر پروگرامز ٹھیک رہتے ہیں۔ مگر ptv کے تقریبا” ہر پروگرام میں مسئلہ ہوتا ہے۔
بس غامدی کو سلسلے کی کڑی کہا جاسکتا ہے؛ جو سلسلہ چلا آرہا ہے۔ سلسلہ نہیں ہے وہ۔ بادشاہوں میں بھی نااہل کو مورد الزام ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور تاریخ میں برے الفاظ میں ہی یاد رکھا جاتا ہے۔
غامدی کو تاریخ میں کہیں جلال الدین اکبر نہ کہا جائے۔ قابلیت ہے۔ مگر directionغلط ہے۔
نوٹ: یہ تمام میری ذاتی رائے ہے؛ ہوسکتا ہے کہ میں بہت سو کی نگاہوں میں غلط ہوں۔ میں نے کسی کی بات نہیں کہی۔ اپنی بات بیان کی۔ جو میں نے محسوس کیا وُہ لکھا۔ میں غامدی کو اتنا جانتا ہوں کہ وُہ ٹیلیویژن پر آتا ہے۔ اس سے زیادہ میں اُسکا تعارف نہیں جانتا۔

خوب، فرخ بھائی تفصیلی جواب کے لئے شکریہ

فرخ نور ۔۔ بہت عمدہ مضمون لکھا ہے میری طرف سے مبارکباد ۔۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز کی خوشی ہے وہ یہ کہ آپ نے جس رویہ کے فروغ کی شروعات کی ہے اس وقت ہمیں وہی درکار ہے ۔۔۔ سنجیدہ و مثبت اختلاف اور بغض‌ و عناد کا جو واضح فرق ہونا چاہیے وہ آپ کی تحریر میں‌نظر آتا ہے ۔۔امید ہے مستقبل قریب میں مزید مضامین پڑھنے کو ملیں‌گے۔


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: