اور لائن کٹ گئی

Posted on 27/10/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

ایک پاکستانی اخبار ‘نوائے وقت‘ روزانہ ایک ایک دن گن کر ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم من حیث القوم انتہائی بے حسی کا شکار ہیں، کیونکہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے ہالینڈ کی نسبت پاکستان کو ترجیح دی اور دن رات انتھک محنت کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت کا نام دیا۔ انہیں ان کی ناقابل فراموش خدمات کے صلے میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ نوائے وقت کے مطابق آج ان کی بے قدری کو ١٣٤٢ دن ہو گئے ہیں۔

کچھ دن پہلے مولانا کوثر نیازی مرحوم کی کتاب ‘اور لائن کٹ گئی‘ میرے مطالعے میں رہی، اسی کتاب کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیئے۔

ڈاکٹر قدیر نے وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو فون پر اطلاع دی کہ وہ ہالینڈ واپس نہیں جا رہے بلکہ پاکستان ہی میں رہ کر یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ لگائیں گے۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، انہوں نے میز پر اپنے مخصوص انداز میں مکہ مارت ہوئے کہا۔۔ ”I WILL SEE THE HINDU BUSTARDS NOW”

بھٹو کی بیٹی کا یہ بیان پڑھیئے کہ

اقتدار میں آ کر عالمی ایٹمی ایجنسی کو ڈاکٹر قدیر تک رسائی دوں گی۔

مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ یہ اسی بھٹو کی بیٹی کے الفاظ ہیں جس کا چہرہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رضا مندی کا سن کر خوشی سے دمک اٹھا تھا۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم ‘اور لائن کٹ گئی‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

میرا یقین ہے کہ کوئی بیرونی قوت کتنی ہی بااثر کیوں نہ ہو حالات پیدا کرنے کی اہل نہیں ہوتی، حالات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ بیرونی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے ماتحت ان سے فائدے اٹھاتی ہیں۔

آج ایک بار پھر ‘مفاہمت‘ کے ذریعے ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں جس سے  بیرونی قوتیں کھل کھیل کر اپنے اپنے مفادات کے تحت فائدے اٹھا سکیں۔

Make a Comment

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

6 Responses to “اور لائن کٹ گئی”

RSS Feed for Pakistani Comments RSS Feed

کرسی کیلیے سالا کچہ بہی کرے گا۔

میرا پاکستان’s last blog post..گھروں سے دوریاں اچھی نہیں ہوتیں

میرے خیال کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کرسی سے محبت تو کرتے تھے لیکن دل میں صیہونی اور ان کے دوستوں سے نفرت کرتے تھے ۔ لیکن بینظیر کرسی کیلئے اپنے بھائی کو قربان کیا اور ماں کو لاتعلق کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو قوم کو تباہ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن بینظیر کو قوم کی کوئی پرواہ نہیں وہ اس کی خیرخواہ ہے جو اسے کرسی دِلا دے ۔ بینظیر غیروں کو خوش کرنے کیلئے قبائلیوں مار مار کر ختم کرنا چاہتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے ایک منصوبہ 1974ء میں سوچا تھا ۔ اس منصوبہ کی پلاننگ ٹیم کا سربراہ مجھے بنایا گیا حالانکہ میں سیاسی لحاظ سے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا مخالف تھا ۔ حیات محمد شیر پاؤ کے قتل کی وجہ سے یہ منصوبہ التواء میں پڑ گیا ۔ 1976ء کے شروع میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے مجھے ایڈوائزر بنا کر لیبیا بھیج دیا اور 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہو گئی ۔

اجمل’s last blog post..ضروری اطلاع

ارے بھائی !

سارے جہاں سے اچھا پاکستان ہمارا ! جہاں ہر وقت کسی نہ کسی کی لائن کی کٹتی رہتی ہے ! کیا بھٹو ، کیا نواز شریف اور کیا جناب عبدالقدیر خان

ضمنا :
اللہ آپ کو جزائے خیر دے آپ نے عیدمبارک کا پیغام دیا تھا لیکن میں نے آج ہی دیکھ لیا سو آپ کا شکریہ ادا کئے دیتے ہیں اور آپ کو بھی گزشتہ عبدمبارک

Dr qadeer kay barah main jazbaatee ansar buhut hai aur deegar batoon ko nazar andaaz kar diyya jata hai. Yahan http://oraclesyndicate.twoday.net/stories/4167731/ Dr Samar Mubarak mand ka aik interview jis main aur batoon kay alawa yeah du batain hain;
Pakistan kay atomic programme kee ibtedaa 50 or 60 kee dahaee main hoi jab mutaadad afraad ko beroonay mulk tarbiyyat kay leeay bheja gia….aaj kal kay kui senior scientist usee dor may tarbiyyat pa kay aaay.
Pakistan kay atomic programme main 15 kay qareeb shobay involve thay aur Dr Qadeer siraf aik shobay kay incharge thay lekin Dr Qadir nay apnay aap ko saaray kaam ka credit denay kee koshish kee jo haqeeqat kay barkhilaaf hai.

اسلام علیکم
جناب پاکستانی
دل کے پپولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ نہ جائے گھر کے چراغ سے
شکریہ

شعیب خالق’s last blog post..بلوچ تاریخ کا پہلا حصہ


Where's The Comment Form?

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

%d bloggers like this: