Archive for اکتوبر, 2007

اے خدا!

Posted on 23/10/2007. Filed under: سیاست, شعروادب |

پروین شاکر مرحومہ کی ایک نظم جو انہوں نے ١٩٨٧ء میں لکھی ہے لیکن یہ آج بھی برمحل ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٢٠ سال گزرنے کے باوجود ان میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ زمانہ بدل گیا، چہرے بدل گئے لیکن حالات جوں کے توں موجود ہیں۔
نظم ملاحظہ فرمائیے۔

٦ ستمبر ١٩٨٧ء کے لئے ایک دعا

اے خدا!
میرے پیارے سپاہی کی تلوار میں زنگ لگنے لگا ہے
اذانوں سے پہلے جو بیدار ہوتے تھے
اب دن چڑھے تک
چھپر کھٹ سے نیچے اترتے نہیں
دھوپ اگر سخت ہو جائے
بارش ذرا تیز ہو جائے تو
یہ جواں سال
گھر سے نکلتے نہیں
سرحدوں کے نگہبان اب کرسیوں کے طلب گار ہیں
اپنے آقا کے دربار میں
جنبش چشم و ابرو کی پیہم تلاوت میں مصروف ہیں
سر خمیدہ ہیں
شانے بھی آگے کو نکلے ہوئے
بس نصابِ تملق کی تکمیل میں منہمک!
میرا دل رو پڑا ہے
اے خدا!
میرے پیارے وطن پر یہ کیسی گھڑی ہے
تراشے ہوئے جسم
آسائشوں میں پڑے
اپنی رعنائیاں کھو رہے ہیں
ذہن کی ساری یکسوئی مفقود ہے
اہل طبل و علم
اہل جاہ و حشم بن رہے ہیں
اور اس بات پر
دیکھتی ہوں کہ مغرور ہیں!
اے خدا!
میرے پیارے سپاہی کو سرحد کا رستہ دکھا
عشق اموال و حبِ مناصب سے باہر نکال
اس کے ہاتھوں میں
بھولی ہوئی تیغ پھر سے تمھا!

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

میرے عہد کا بچہ

Posted on 22/10/2007. Filed under: شعروادب |

میرے عہد کا بچہ
شاید ۔۔۔ تو بھی ہے سچا
مگر ۔۔۔ میرے پاس آ تو سہی
تُو مجھے کچھ بتا تو سہی
یہ کیسی تیری ادا ہے؟
تُو کیوں سب سے جدا ہے؟
یہ تیرا اندازِ جفا کیوں ہے؟
تُو سب سے خفا کیوں ہے؟
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ممتا کی چھاؤں میں ۔۔۔
ترے ماتھے پہ بوسہ دے کے
بھر لوں تجھے بانہوں میں
تجھے دور بہت آہوں سے
لے جاؤن گی ان راہوں سے
تُو نے کیوں کیا ہے فراموش؟
ہے آج بھی ممتا کی وہی آغوش
باپ کی شفقت بھی وہی
بہن، بھائی کی محبت بھی وہی
میرے بچے!
بہت ہی اچھے!
کیا تُو چاہتا ہے ۔۔۔۔؟
اپنے لئے، اپنا مرتب کردہ نصابِ حیات
بے شک! تجھے اجازت ہے
مگر ۔۔۔۔ تُو پڑھ!
فقط، میرا مرتب کیا ہوا پہلا باب
جس میں خدا کے نام کے بعد
اس کے سب احکام کے بعد
صداقت، امانت کے
شجاعت اور شرافت کے
سبق جب ازبر کر لے گا
سب کے دلوں میں تُو گھر کر لے گا
ضمیر فروشوں کے لئے، وطن فروشوں کے لئے
تُو عذاب بن جائے گا
ایسا شباب بن جائے گا
تُو محبتوں کی مالا، تُو عزتوں کا رکھوالا
تُو میرے خواب کی یوں تعبیر بن جائے گا
عزم و عمل کی تصویر بن جائے گا
تُو سیکھ جائے گا طریق سکندری کے
اور ۔۔۔۔ اسرار سارے قلندری کے
پھر۔۔۔۔تُو نکھر جائے گا، بےحد سنور جائے گا
ہر غریب ۔۔۔ ہو گا تیرا حبیب
مسکین و ضعیف سارے
ہوں گے قریب تمھارے
تُو یوں ۔۔۔۔ خود کو سنبھال لے گا
اندر کی سب تاریکیوں کو اُجال دے گا
تو ایسا کمال دے گا
میرا جمال دے گا
تُو ایسی مثال ہو گا
رُت لازوال ہو گا

غلام فاطمہ شاہ ۔ ڈیرہ غازی خان

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

کھر کی کھری کھری باتیں

Posted on 22/10/2007. Filed under: سیاست |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اسرائیلی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ ہیک

Posted on 21/10/2007. Filed under: ٹیکنالوجی |

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ ہیک کر لی گئی ہے۔ہیکروں نے اہم قانون سازوں کے عہدے تبدیل کر دیئے ہیں۔پولیس میں واقعہ کی رپورٹ درج کرادی گئی ہے۔مشرق وسطیٰ کے خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی نیسیٹ نامی سرکاری ویب سائٹ ہیک کر لی گئی ہے اور وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور سابق وزیر خارجہ اوراہم ہرچسن سمیت دیگر وزرا کے ریکارڈ میں ”فراڈیا“ اور ”جلد جیل جانے والے “ جیسے الفاظ شامل کردیے گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد قانون دانوں کے نام اور کوائف بھی مسخ کردیے گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد نیسیٹ حکام نے پولیس میں شکایت درج کرادی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو آج کل کرپشن کے تحقیقاتی عمل سے گزرنے کے بعد شدید دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

بے نظیر کی واپسی، دھماکے اور کارٹون

Posted on 20/10/2007. Filed under: سیاست |

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو جو ٨ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد پاکستان واپس پہنچی ہیں، ان کی واپسی کے دس گھنٹے بعد ہی ان کی ریلی جو ایئرپورٹ سے مزار قائد کی طرف بڑھ رہی تھی پر دو خوفناک بم حملوں میں کم از کم ١٤٠ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ٥٠٠ کے قریب زخمی بتائے جا رہے ہیں۔
 بینظیر بھٹو نے ان حملوں کا ذمہ دار ضیاء الحق کے حامیوں کو قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے ان کے شوہر جناب آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ شدت پسندوں کو خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کے پیچھے موجود ان لوگوں کو پاور سمجھتے ہیں جو انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح چلا رہے ہیں اور ان میں کچھ سابق آرمی آفیسر ہیں اور کچھ حاضر انٹیلیجنس آفیسر ہیں۔ میں انہیں اس کا الزام دیتا ہوں۔
یہ دھماکے کئے گئے یا کرائے گئے ان باتوں سے قطع نظر کہ ان دھماکوں کے ذمہ دار کون ہیں۔ میں نے مختلف اخبارات کے کارٹون اکھٹے کئے ہیں تاکہ کارٹوں کی زبانی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

روزنامہ جسارت

روزنامہ پاکستان

روزنامہ اوصاف

روزنامہ جنگ

Dawn

Pakistan Times

روزنامہ نوائے وقت

روزنامہ امت

روزنامہ خبریں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

Posted on 20/10/2007. Filed under: شعروادب |

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انسان کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے کہ عالم بدحواسی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

یہاں اک کھلونا ہے انسان کی ہستی
یہ بستی مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو جیون سے موت ہے سستی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا
مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

ساحرلدھیانوی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

جاوید احمد غامدی

Posted on 19/10/2007. Filed under: اسلام |

 

رکیئے! اسے پڑھنے سے پہلے “مربوط سلسلہِ ربط“ کو بمعہ تبصرہ جات کے پڑھ لیں تاکہ آپ کو اس تحریر کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو ۔۔۔ شکریہ

میں یہ جانتا تھا کہ یہاں یہ سوال ضرور اُٹھے گا۔ تبھی میں نے ( ) میں اسکا جواب بھی دیا کہ اللہ کرے یہ سلسلہ گمنام ہاتھوں کے جاری رہے۔ میرا اختلاف غامدی کے رویہ اور نقطہ نظر سے ہے۔ غامدی کی ذات اور علم سے نہیں۔ میں خود بھی ذاتی طور پر غامدی، ذاکرنائیک، اسرار احمد جیسے افراد سے اُُنکے چند معاملات پر متفق نہیں ہوں، جسکو متضاد نقطہ نظر کہا جاسکتا ہے، اختلاف بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اُن کا علم مجھ سے بہت زیادہ ہے۔ میں اُنکے پاسوں برابر بھی نہیں۔ غامدی کو میں نے پی-ٹی-وی پر سنا تو اُسکے ہر پروگرام میں ایک مسئلہ محسوس ہوا۔ سوال چاہے روشن خیالی کا ہوتا ہے یا پاکستان کی اسلامی، تہذیبی روایات کی پاسداری کا ہوتا ہے تو غامدی صاحب بات کو بالکل ٹھیک اور خوبصورت انداز میں لے کر چل پڑتے ہیں۔ جب اُنکی بات peak پر جا پہنچتی ہے تو ٹھیک جا رہی ہوتی ہے۔ جونہی peak نیچے آنا شروع ہوتی ہے تو وہ ایسی بات کر جاتے ہیں جو روشن خیال ہو۔ جب کہ وہاں اُنکے وہ ایک یا دو جملے مکمل جانبدار ہوتے ہیں۔ یوں سننے والا اُس بات میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور غامدی کا یہ انداز عام سامعین کی سمت کو غلط سمت پر لے جاسکتا ہے۔ خاصے لوگوں کو confusion کا شکار بھی کر دیتے ہیں۔ علم رکھنے والا جانبدار نہیں ہوتا، نہ ہی ابہام پیدا کرتا ہے۔ بلکہ وہ غلط فہمیاں دور کرتا ہے۔ اگر غامدی صاحب کو علمی حوالے سے دیکھا جائے۔ اُنکی علمی قابلیت دیکھی جائے تو میں اُسکا برملا اقرار کرتا ہوں کہ وُہ ایک علمی شخصیت ہیں مگر وُہ اپنے اس انداز جانبداری کے باعث قابل مستند نہیں رہے۔ جبکہ اُنکے قریبی دوستوں اور احباب میں سے بیشتر اپنے اپنے شعبہ کے مستند نام ہے۔ غامدی صاحب پر میں کبھی بھی اپنی رائے نہ دیتا مگر سوال کیا گیا تو جواب دینا ضروری محسوس کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم کے طوسل سے میں غامدی صاحب سے یہ درخواست کروں گا کہ وُہ صرف اُن چند جملوں سے اپنی اہمیت کو متاثر نہ کرے۔ اُنکی بات یہی ہوتی ہے کہ تعصب سے ہٹ کر رہو، مثبت انداز سے سوچو مگر اُنکے وہی چند جملے جو ذہن بدلتے ہیں وُہ اُنکی تمام گفتگو کو نفی کردیتے ہیں۔ اب رہی بات مربوط سلسلہ ربط میں غامدی کا تذکرہ کیوں ہوا? اور وہ بھی اقبال کے ساتھ؛ میں نے غامدی کو اقبال نہیں کہا۔ اس سلسلہ کو اُنھوں نے جاری رکھا ہے۔ وہ اقبال نہیں میلہ تو لگنا تھا۔ تو وہ غامدی نے لگا دیا۔ اشفاق احمد اور واصف علی واصف میں بڑا فرق تھا۔ سوچ کا فرق ایک بات ہوتی ہے۔ دونوں کے عمل میں بڑا فرق تھا۔ غامدی کو سلسلے کی ایک کڑی کہا ہے۔ جو سلسلہ چل رہا ہے۔ کبھی کبھی نااہل جانشین بھی ہوجاتا ہے۔ اب غامدی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اہل ہے یا نااہل۔ اہلیت غامدی میں ہے۔ بس وہ صحیح سمت پر رہتے ہوئے غلطturn کر کےexpose ہوگئے ہیں۔ جیو پر میں نے اُنکو جتنا سنا اُس پر وُہ mistakes بہت کم کرتے ہیں۔ زیادہ تر پروگرامز ٹھیک رہتے ہیں۔ مگر ptv کے تقریبا” ہر پروگرام میں مسئلہ ہوتا ہے۔ بس غامدی کو سلسلے کی کڑی کہا جاسکتا ہے؛ جو سلسلہ چلا آرہا ہے۔ سلسلہ نہیں ہے وہ۔ بادشاہوں میں بھی نااہل کو مورد الزام ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور تاریخ میں برے الفاظ میں ہی یاد رکھا جاتا ہے۔ غامدی کو تاریخ میں کہیں جلال الدین اکبر نہ کہا جائے۔ قابلیت ہے۔ مگر direction غلط ہے۔ نوٹ: یہ تمام میری ذاتی رائے ہے، ہوسکتا ہے کہ میں بہت سو کی نگاہوں میں غلط ہوں۔ میں نے کسی کی بات نہیں کہی۔ اپنی بات بیان کی۔ جو میں نے محسوس کیا وُہ لکھا۔ میں غامدی کو اتنا جانتا ہوں کہ وُہ ٹیلیویژن پر آتا ہے۔ اس سے زیادہ میں اُسکا تعارف نہیں جانتا۔(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 13 so far )

حکمرانی نقشہ

Posted on 18/10/2007. Filed under: پاکستان, سیاست |

محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد کے ساتھ ہی میرے ذہن میں مستقبل کی پاکستانی حکومت کا نقشہ ابھر رہا ہے جو کچھ یوں بنتا ہے۔

صدر۔ جنرل سے مسٹر بننے والے پرویز مشرف، ہمیشہ کی طرح ملک کے طاقتور ترین صدر
وزیراعظم۔ ڈیل کے تحت واضع ہے کہ وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو ہی ہوں گی، ایک بے اختیار وزیراعظم
چیف آف آرمی سٹاف۔ ملک کے دوسرے طاقتور ‘پرویز‘، اشفاق پرویز کیانی
سندھ۔ پر پی پی پی اور ایم کیو ایم کا قبضہ
سرحد۔ مولویوں کے حوالے
پنجاب۔ میں چوہدریوں کا راج
بلوچستان۔ کی حالت کے پیش نظر اس کا اللہ حافظ

یہ ہے اگلے الیکشن کے بعد بننے والی ‘قومی‘ حکومت کا نقشہ جس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں اور آگے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس لئے ہم اور آپ آج ہی مصلٰی (جائے نماز) سنبھال لیں اور دعا کریں کہ اللہ پاکستان کی خیر کرے اور اسے ہر آنے والی مصیبتوں سے بچائے ۔۔۔ آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

اج تے ہوگئی بھٹو بھٹو

Posted on 18/10/2007. Filed under: سیاست |

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو آٹھ برس کی خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے کے بعد پاکستان واپس پہنچی ہیں۔اس دوران پاکستانی بلاگ پر لکھی گئیں ان کی شان میں چند تحریریں پیشِ خدمت ہیں۔

وڈیو کہانی
ادھّی وردی پالئی ساڈی بی بی نے
طاقتور حکمرانوں کی جبری رخصت
بے نظیر بھٹو کا انداز تکلم
مفادات کی جنگ
دو ٹھگوں کی کہانی
چند سیاسی لطیفے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
سیاسی قتلوں کی تاریخ
حیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو
پاکستانی سیاست کے چمچے‘ لوٹے اور خوشامدی کلچر
بہترین مفاد میں

 

نوٹ۔ بے نظیر بھٹو کی واپسی کی تازہ ترین اپڈیٹ یہاں ملاحظہ کیجیئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تھیم خود بنائیں

Posted on 17/10/2007. Filed under: ٹیکنالوجی, بلاگ اور بلاگرز |

جی جناب، بالکل اب آپ اپنے بلاگ کے لئے ورڈ پریس ‘بلاگ تھیم‘ خود Generate کر سکتے ہیں۔ Widgets اور Tags کی خوبیوں کے ساتھ صرف چند سیکنڈوں میں تھیم تیار کی جا سکتی ہے۔
دو کالمی، تین کالمی، بلاگ نیم، سائیڈ بار کی چوڑائی، مینو لےآؤٹ، بیک گراؤنڈ، کلر، فانٹ غرض سب کچھ اب آپ کی دسترس میں، جیسے چاہیں جس طرح چاہیں، اُسی طرح تھیم کی سیٹنگ کر لیں۔

تھیم بنانے کے لئے یہاں کلک کیجیئے، اپنی تھیم اور تجربے سے ضرور آگاہ کیجیئے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر اگلے‌ تحاریر»

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...